Jump to content
IslamiMehfil

سچ کا متلاشی

Members
  • Content Count

    3
  • Joined

  • Last visited

Posts posted by سچ کا متلاشی

  1. On 6/11/2017 at 5:35 PM, Kilk-e-Raza said:

    شروع میں مقدمہ پڑھیے۔ اُس میں تفصیل موجود ہے۔۔ نیچے کچھ لفظ ہائلائیٹڈ ہیں۔۔

    Screenshot_0.png

    مفتی صاحب، صغیرہ گناہ کی دو اقسام بیاں کر رہے ہیں۔ دوسری قسم میں پھر دو نوعیتیں ہیں کہ جان بوجھ کر کیا یا غلطی سے ہوا۔ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کر جان بوجھ کر یا غلطی سے وہ ایک آن کیلئے بھی بدعقیدہ نہیں ہوسکتے۔ 

    وہابی انبیاء علیہ السلام کی وہ لغزش جو بھول کر ہوئیں، غلطی سے ہوئیں اُن کو بیان کر کے اور بنیاد بنا کر انبیاء کرام علیہ السلام کو گناہ گار بتانا چاہتے ہیں معاذ اللہ۔۔ کیونکہ بد بخت وہابیوں کی فظرت میں گستاخی شامل ہیں۔۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ اس کا رد کر رہے ہیں۔ اور جہاں اُن لغزشوں کا ذکر قرآن کریم و احادیث وغیرہ میں ہوا ہے۔ اُن کا جواب دے رہے ہیں۔

    مفتی خلیل احمد قادری برکاتی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔

    "نبی کی فطرت بہت ہی سلیم ہوتی ہے اور سلامت روی اس کا ایک ذاتی خاصہ ہوتا ہے اسی لیے جوباتیں خدا کو نا پسند ہوتی ہیں ان سے نبی کو نفرت ہوتی ہے اور اگر کوئی موقع پیغمبر کو ایسا پیش آجاتا ہے جو عام لوگوں کی لغزش کا مقام ہوتا ہے تو وہاں خدائی قدرت کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہو کر اسے بچالیتی ہے لہٰذا پیغمبر سے گناہ کبیرہ کا صادر ہونا ناممکن و محال ہے بلکہ ایسے افعال بھی ان سے سرزد نہیں ہوتے جو وجاہت اور مروت کے خلاف ہیں یا جو خلق کے لیے باعث نفرت ہوں۔

    نبی کے قصد و ارادہ سے گناہ صغیرہ کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں ہے خواہ قبل نبوت ہو یا بعد نبوت ۔ ہاں بھول چوک سے کوئی ایسا امر صادر ہو جائے تو اور بات ہے کہ آخر تو بشر ہیں مگر تبلیغی امور میں یہ بھی ممکن نہیں۔

    انبیاء کرام علیہم السلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں ان کا ذکر تلاوت قرآن اور قرآت حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل ان کا مالک ہے اور وہ اس کے پیارے بندے ۔ مولا کوشایاں ہے کہ وہ پانے محبوب بندوں کو جس عبادت سے اور جس طرح چاہے تعبیر فرمائے اور یہ اپنے رب کے لیے جس قدر چاہیں تواضع فرمائیں۔ دوسرا ان کلمات کو سند نہیں بنا سکتا ورنہ مردود بارگاہ ہوگا۔ بلاتشبیہ یوں خیال کرو کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو کسی غلطی پر تنبیہہ کرنے کے لیے نالائق کہہ دیا تو باپ کو اختیار تھا۔ اب کوئی دوسرا ان الفاظ کو سند بنا کر یہی الفاظ کہہ سکتا ہے؟ ہر گز نہیں اور اگر کہے گا تو سخت گستاخ سمجھا جائے گا؟ جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم السلام کی شان میں ایسے الفاظ بکنے والا کیونکر بارگاہ الٰہی سے مردود اور سخت عذاب جہنم کا مستحق نہ ہوگا؟ ایسی جگہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کا حسن ادب عطا فرمائے."

    مفتی قاسم قادری مدظلہ العالی کا یہ فتوی بھی قابل غور ہے۔

    bad_batin_wahabi.GIF

     

    مگر جناب گناہ تو گناہ ہی ہوتا ہے صغیرہ ہو یا کبیرہ باقی آپ مفتی صا حب کی عبارت سے کیا مطلب مراد لیتے ہیں وہ ایک الگ بحث ہے مگر کیا لفظ گناہ کو انبیاء کرام کے لیے استمعال کر نا غلط نہیں آپ کے نزدیک ؟؟ کیا آپ کو نہیں لگتا کے مفتی صاحب نے الفاظ کا چناو غلط کیا ہے؟؟ جواب ضرور دی جیے گا؟؟

  2. On 5/22/2018 at 5:31 PM, Saeedi said:

    شطحیات صوفیہ مستوں کاکلام ہیں ،مستی کی حالت کےکلام والا مرفوع القلم ہے۔ جس سے فرشتے کلام اُٹھاچکے ہیں،شیطان اُنہیں کے خلاف قلم چلاتا ہے۔

    تو جناب ایسے کلام کی شرح بیان کرنے کی کیا تک بنتی ہے ؟؟جیسے کہ اس پوسٹ میں دیکھا جا سکتا ہے کم سے کم شرح بیان کرنے والا تو حا لت جزب میں نہیں ہے؟؟ براے مہربانی جواب ضرور عنایت فرماییں

  3. لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آیی کے آخر سید ایوب علی صاحب کو یہ واقعہ بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟؟ اور اگر انہوں نے یہ واقعہ بیان کر ہی دیا تھا تو کتاب حیات اعلی حضرت میں یہ واقعہ مصنف نے درج ہی کیوں کیا؟؟ مز ید یہ کہ کیا واقعہ کتاب حیات اعلی حضرت مستند کتاب ہے؟؟ برایے مہربانی رہنمایی فرماییں

×
×
  • Create New...