Sunni_Hero

Members
  • Content count

    84
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

Sunni_Hero last won the day on April 14 2012

Sunni_Hero had the most liked content!

Community Reputation

5 Neutral

About Sunni_Hero

  • Rank
    Ajmeri Member

Contact Methods

  • ICQ
    0
  1. Allama faiz ahmed owaisi sb ki kitab isi mozo par aik aham tasneef hai is ka mutala kiya jaye .... http://www.islamieducation.com/ur/%DA%A9%D8%AA%D8%A8/koofi-la-yoofi/Page-12.html
  2. Munfi Ji , Dum daba ke bhaga kon hai yeh tu sab . ko nazar araha hai zara munazra check tu karoo aik hafta say zada hogya hai ,sajid khan ko hamare munazir ne chalange kya howa hai ... lakin woh tu jagah jagah mohn chpa raha hai ...aur abhi tak woh gayeb hai ... ... aur nasir noman jis ki aap dohai dai rahe hoo ... us nay tu bhari post main saeedi sb ki post ka jawab denay say muazrat kardi hai .. naiz ageh is ke sath kya horha hai yeh dekh kar tu deoband tu deoband ulmae deoband ki bhi ankhon main anso ajatay hain bechara kis tarah phansa hai ... naiz humari taraf say tumhare saray awam ke chando par palne wale aur mal batorne ki khatir gustakhyan karne wale aur gustakh ka diffah karne wale munazir ko challange hai woha ayen aur humare munziren say behas karain...chahye woh rab nawaz munfi ho ya tumhara mujrim e ahnaf wakeel shaitan hi kyon na ho
  3. تلخ سچائیاں کالم نگار: حامد میر روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی، 9اپریل2009ء میں معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب کا شایع شدہ کالم ’’تلخ سچائیاں‘‘ بغیر کسی تبصرے کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ سچائی ہمیشہ تلخ ہوتی ہے لیکن سچائیوں کا اعتراف کئے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ آج کی تلخ سچائی یہ ہے کہ امریکہ کے نئے صدر بارک اوبامہ پنٹاگون اور سی آئی اے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ اوبامہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جارج ڈبلیو بش کی پالیسیوں کو تبدیل کریں گے لیکن پنٹاگون اور سی آئی اے تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پنٹا گون اور سی آئی اے امریکہ کی چند بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اگر امریکی پالیسی بدلتی ہے اور دنیا میں امن قائم ہوتا ہے تو ان بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو شدید نقصان ہو گا لہٰذا یہ کمپنیاں دنیا میں کہںر نہ کہیں جنگ کی آگ بھڑکائے رکھنا چاہتی ہیں تاکہ انکا اسلحہ اور ڈرون طیارے فروخت ہوتے رہیں۔ حملے بند ہو گئے تو ڈرون طیارے بنانیوالی کمپنی کو 2/ارب ڈالر کا نقصان ہو جائے گا۔ گورے امریکیوں نے فوج میں بھرتی ہونا تقریباً چھوڑ دیا تھا لہٰذا پنٹاگون اور سی آئی اے نے ایک سیاہ امریکی کو صدر بنانے کا فیصلہ کیا اوبامہ کے صدر بننے کے بعد پہلے تین ماہ میں دس ہزار سے زائد سیاہ فام نوجوان امریکی فوج میں بھرتی ہو چکے ہیں اور اگلے چند سال کے دوران 70 فیصد سے زائد امریکی فوج سیاہ فاموں پر مشتمل ہو گی جو امریکہ کی بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے مفادات کی نگران بنی رہے گی۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیخلاف امریکہ کے ڈرون حملے بند نہیں ہونگے، بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہتا رہے گا اور سی آئی اے کے تفتیشی مراکز میں مسلمان قیدیوں کو ایڈز کے انجکشن لگانے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا کیونکہ اوبامہ کا سی آئی اے پر کوئی کنٹرول نظر نہیں آرہا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ریڈکراس کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ سی آئی اے کے خفیہ تفتیشی مراکز میں ڈاکٹروں کے ذریعے قیدیوں پر تشدد کیا جاتا ہے اوبامہ خود ہی سوچیں کہ ڈرون طیارے اور سی آئی اے امریکہ کے لئے مزید نفرت پیدا کریں گے یا محبت؟ امریکی ڈرون طیاروں کے ذریعے پاکستان میں لڑی جانے والی جنگ کو کوئی پاکستان کی جنگ نہیں کہے گا۔ خود کش حملوں میں ہزاروں پاکستانیوں کے مارے جانے کے باوجود یہ امریکہ کی جنگ کہلائے گی اور امریکہ کی اس جنگ پر تنقید کے جرم میں مجھ جیسے گستاخ، قلم کاروں کو لبرل فاشسٹ دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتے رہیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمیں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا آزاد خیال اور لبرل انگریزی اخبار ”میڈیا ٹیررسٹ“ کہتا ہے اور دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام جیسی مذہبی جماعت کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے حکم پر بھی ہمارے خلاف مظاہرے کئے جاتے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اچھا ہوتا کہ مولانا فضل الرحمن مجھ ناچیز کے خلاف مظاہرے کرانے کی بجائے امریکی ڈرون طیاروں کے خلاف کوئی مظاہرہ کراتے۔ انہیں میرے ایک کالم میں مولانا حسین احمد مدنی کے بارے میں ایک واقعے کے ذکر پر بہت تکلیف ہوئی اور ان کی جماعت مجھے قتل کی دھمکیاں دینے پر اتر آئی ، کاش کہ وہ اس قسم کا ردعمل اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والے قتل عام پر بھی دکھاتے۔ اس وقت تو مولانا صاحب لندن جا بیٹھے تھے اور پیچھے سے لال مسجد میں قتل عام شروع ہوگیا۔ مولانا کے چند ہزار ساتھی بھی باہر آجاتے تو یہ قتل عام رک سکتا تھا۔ میری ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ 1999ء میں امریکہ نے حملوں کی دھمکیاں دیں تو مولانا فضل الرحمن نے ان دھمکیوں کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا اور اس وقت میں نے ان کے حق میں کالم لکھے۔ بعض جلسوں میں خطاب کیلئے وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتے رہے معاملہ بگڑا جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے۔ مولانا فضل الرحمن نے مولانا حسین مدنی کے صاحبزادے اسعد مدنی کو اپریل 2001ء میں پاکستان بلایا۔ انہوں نے جامعہ خیرالمدارس ملتان میں کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف باتیں کیں جس پر انہیں پتھر مارے گئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں قربانی دینے والے شہید نہیں بلکہ صرف ہندوستان کے باغی ہیں۔ اس بیان پر تنقید میرا جرم ٹھہرا اور مولانا فضل الرحمن ناراض ہو گئے۔ افسوس کہ مولانا صاحب کو کشمیر میں شہید ہونے والوں کا مذاق اڑائے جانے پر تکلیف نہ ہوئی لیکن مولانا حسین احمد مدنی کے صاحبزادے پر تنقید انہیں بہت بری لگی۔ میں اس بحث کو طوالت نہیں دینا چاہتا کیونکہ مولانا فضل الرحمن اپنے مہربانوں کے ذریعے اپنا جواب ”جنگ“ مںر شائع کروا چکے ہیں لیکن وہ یہ توقع نہ رکھیں کہ قتل کی دھمکیوں سے مجھے مرعوب کر لیں گے، یہ کام تو جنرل پرویز مشرف بھی نہ کر سکا۔ مولانا کے ایک قریبی ساتھی محمد ریاض درانی نے ایک طویل خط مجھے بھیجا ہے انہوں نے طعنہ دیا ہے کہ آپ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پی سی او پر حلف اٹھا لیا تھا لیکن آئین پر حلف نہیں اٹھایا آپ نے اس اصولی بات پر ناراض ہو کر لڑاکی عورتوں کی طرح مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے بزرگوں کی بھی توہین کر دی۔ درانی صاحب گزارش ہے کہ جس پی سی او پر جسٹس افتخار نے حلف اٹھایا اس پی سی او کو آپ لوگوں نے سترہویں ترمیم کے تحت جائز قرار دلوایا۔ اگر جسٹس افتخار مجرم ہے تو آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟ محمد ریاض درانی نے بھی ڈاکٹر محمد جہانگیر تمیمی کی کتاب میں مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق واقعے کی صحت سے انکار کیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں اس واقعے کے راوی کلکتہ کے بیوپاری، اسماعیلی فرقے کے مرزا ابوالحسن اصفہانی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اصفہانی نہ سہی آپ کو آغا شورش کاشمیری پر تو اعتبار ہو گا۔ انکی کتاب ” فیضان اقبال“ پڑھ لیجئے جس میں آغا صاحب نے کچھ نیشنلسٹ علماء کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر آغا صاحب نے بھی غلط لکھا ہے تو درانی صاحب ثابت کر دیں میں غلطی تسلیم کر لوں گا۔ درانی صاحب نے چند سال قبل اپنے دستخطوں سے مولانا حسین احمد مدنی کے متعلق فرید الوحیدی کی کتاب مجھے عنایت کی تھی اس کتاب میں مولانا شبیر احمد عثمانی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی پر سخت تنقید کی گئی ہے کیونکہ یہ دونوں علماء مدنی صاحب کے ناقدین تھے۔ اس کتاب کے صفحہ 553 پر مفتی محمد شفیع کے ایک فتوے کا ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کیلئے مسلم لیگ میں شمولیت لازمی اور کانگریس میں شمولیت حرام ہے۔ اس کتاب میں مفتی صاحب کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی اس سے پتہ چلتا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی صرف کانگریس کے حامی مسلمانوں کے لئے محترم تھے پاکستان کے حامی مسلمان ان کے سخت خلاف تھے اور اسی لئے پاکستان بننے کے بعد مدنی صاحب نے پاکستان کو کبھی تسلیم نہ کیا۔ محمد ریاض درانی سے گزارش ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی کے ”خطبات صدارت“ بھی پڑھ لیں۔ مدنی صاحب نے پاکستان بننے کے بعد بھی قائد اعظم کے بارے میں جو زبان استعمال کی میں اسے دہرانا مناسب نہیں سمجھتا۔ آج پاکستان کا اصل مسئلہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے مخالفین کا دفاع نہیں بلکہ پاکستان کا دفاع ہے۔ پاکستان کو امریکہ نواز لبرل فاشسٹوں سے بھی خطرہ ہے اور مذہب کے نام لیوا انتہا پسندوں سے بھی خطرہ ہے۔ ایسے میں قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے۔
  4. دیوبندی مذہب کے باطل عقائد عقیدہ :دیوبندی اکابر اشرف علی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ پھر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہوتو دریافت طلب یہ امر ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔ مطلب یہ کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کو پاگل ،جانوروں اور بچوں سے ملایا ۔ (بحوالہ :کتاب حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی ) عقیدہ :دیوبندی اکابر قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتا ہے کہ اگر بالغرض زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔ مطلب یہ کہ قاسم نانوتوی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین ماننے سے انکار کیا ۔ (بحوالہ :کتاب تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف :قاسم نانوتوی ) عقیدہ :دیوبندی اکابر مولوی خلیل احمد انبیٹھوی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔ فخر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔ مطلب یہ کہ سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم پاک سے شیطان وملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔(بحوالہ :کتاب :براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی ) عقیدہ :زناکے وسوسے سے اپنی بیوی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یاانہی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوں اپنی ہمت کو لگا دینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغر ق ہونے سے زیادہ برا ہے ۔ مطلب یہ کہ دیوبندی اکابر اسمعیل دہلوی نے نماز میں سرکار اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال مبارک کے آنے کو جانور وں کے خیالات میں ڈوبنے سے بدتر کہا ۔ (بحوالہ :کتاب صراطِ مستقیم صفحہ 169،اسلامی اکادمی اردو بازار لاھو رمصنف :مولوی اسمعیل دہلوی ) عقیدہ :دیوبندی اکابر اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے اپنے پیراشرف علی تھانوی کواپنے خواب اور بیداری کا واقعہ لکھا کہ وہ خوا ب میں کلمہ شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ِ نامی اسمِ گرامی کی جگہ اپنے پیر اشرف علی تھانوی کا نام لیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی جگہ لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ (معاذ اللہ )پڑھتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے پیر سے معلوم کرتاہے تو جواب میں اشرف علی تھانوی تو بہ و استغفار کا حکم دینے کے بجائے کہتا ہے ۔”اس واقعہ میں تسّلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ یعونہ تعالیٰ متبع سنّت ہے ۔ مطلب یہ کہ کلمہ کفر کو اشرف علی تھانوی صاحب نے عین اتباع سنت کہا ۔ (بحوالہ :کتاب :الا مداد صفحہ 35مطبع امداد المطا بع تھا نہ بھون انڈیا ،مصنف :اشرف علی تھانوی ) عقیدہ :دیوبندی مولوی حسین علی دیوبندی نے اپنی کتاب بلغۃ الحیران میںلکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پل صراط سے گررہے تھے میں نے انہیں بچایا ۔(معاذاللہ ) عقیدہ :دیوبندی اکابر مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ رسول کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔ (بحوالہ :کتاب:براہین قاطعہ ص55،مصنف :خلیل احمد انبیٹھوی ) عقیدہ :دیوبندی مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا علی رضی اللہ عنہ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ۔(بحوالہ :کتاب :تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ43مطبوعہ :میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی ) عقیدہ :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہئے ۔(معاذ اللہ ) (بحوالہ :کتاب تقویۃ الایمان ص88:مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی ) عقیدہ :ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔(معاذاللہ ) (بحوالہ :کتاب تقویۃالایمان ص 13مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی ) عقیدہ :مولوی اسمعیل دہلوی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراءباندھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔(بحوالہ :کتاب :تقویۃ الایمان ص 53) عقیدہ :مولوی خلیل دیوبندی نے اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 52پر لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یومِ ولادت مناناکنھّا کے جنم دن منانے کی طرح ہے ۔(معاذ اللہ ) عقیدہ :مولوی خلیل دیوبندی اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 30پر لکھتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اردو زبان علماءدیوبند سے سیکھی ۔(معاذاللہ ) عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی فضل الرحمٰن کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خواب میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹایا ۔(معاذاللہ ) (بحوالہ :کتاب :الاضافات الیومیہ صفحہ 62/37مصنف :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی ) عقیدہ :انبیاءکرام اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتّی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ عمل اگر اُمتّی زیادہ کرلے تو نبی سے بڑھ جاتا ہے ۔(معاذاللہ ) (بحوالہ :کتاب :تحذیرالنّاس ص5،مصنف :مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی ) عقیدہ :لفظ رحمۃ للعالمین صفت خامہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں ہے اگر (کسی )دوسرے پر اس لفظ کو تباویل بول دیوے تو جائز ہے ۔ (بحوالہ :فتاوٰی رشید یہ جلد دوم ص 9،مولوی رشید گنگوہی دیوبندی ) عقیدہ :محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے ۔ (فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی ) عقیدہ :قبلہ و کعبہ کسی کو لکھنا جائز نہیں ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص265) عقیدہ :عیدین میں (عیدالفطر و عید الاضحی ) کو معائقہ کرنا (گلے ملنا )بد عت ہے ۔ (فتاوٰی رشیدیہ ص243) عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی اپنی فتاوٰی کی کتاب امداد الافتاوٰی جلد دوم صفحہ 29/28میں لکھتا ہے کہ شیعہ سنّی کا نکاح ہوسکتا ہے لہٰذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور محبت حلال ہے ۔ عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی اپنی فتاوٰی کی کتاب امدا د الفتاوٰی کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے ۔ عقیدہ :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کتاب الاضافات الیومیہ جلد 4ص139پر لکھتا ہے کہ شیعوں اور ہندوؤں کی لڑائی اسلام اور کفر کی لڑائی ہے شیعہ صاحبان کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے اسلئے اہلِ تعزیہ کی نصرت (مدد)کرنی چاہئے ۔آپ نے مولوی اسمعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں ملاحظہ کیں اس کتاب کے متعلق دیوبندی اکابر ین کیا لکھتے ہیں ملاحظہ کریں ۔ مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی اکابر اپنی فتاوٰی کی کتاب فتاوٰی رشید یہ میں تقویۃ الایمان کے بارے میں لکھتا ہے ۔ 1)....کتاب تقویۃ الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اسکارکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔ (فتاویٰ رشیدیہ ص351) 2)....جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے ۔ (فتاوٰی رشید یہ ص252،356) 3)....مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص252) عقیدہ :نذر و نیاز حرام ہے ۔ عقیدہ :پیر یا استاد کی برسی کرنا خلافِ سنّت و بدعت ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص461) عقیدہ :بروز ختم قرآن شریف مسجد میں روشنی کرنا بد عت ونا جائز ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص 460) عقیدہ :اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہئیے ۔(تقویۃ الایمان ص55) عقیدہ :اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے اور ہر انسان نقص و عیب اس کے لئے ممکن ہے ۔ عقیدہ :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کہ یمین اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دیوبندیوں کے نزدیک مشرک ہیں۔ عقیدہ :دیوبندیوں کے نزدیک یزید (امیر المومنین جنّتی اور بے قصور )ہے ۔ اصل اختلاف : اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک اور دیوبندیوں کا اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ اہلسنّت کھڑے ہوکر درود و سلام پڑھتے ،نذر و نیاز کرتے ہیں ،وسیلے کے قائل ہیں ،مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور دیوبندی اس تما م کارِخیر سے محروم ہیں بلکہ اصل اختلاف جس نے اُمت مسلمہ کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا وہ اکابر دیوبند یعنی دیو بندیوں کا پیشواؤں کی وہ کفر یہ عبارات ہیں جو ہم نے پیچھے تحریر کیں جن میں کھلم کھلا سرکارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرکے اسلام کی دجیاں بکھیری گئی ہیں ۔دیوبندی ادارے آج بھی ان کفر یہ عبارات کو کتابوں میں شائع کرتے ہیں اس کی تردید بھی نہیں کرتے ،اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہتے ۔ ان میں دارالعلوم دیوبند ،تبلیغی جماعت ،جمعیت علماءاسلام ،جماعتِ اسلامی ،سپاہ صحابہ ،جمعیت علماءہند ،تنظیم اسلامی ،جیشِ محمد ،حزب المجاہدین وغیرہ تمام دیوبندی تنظیمیں ان باطل عقائد پر مشتمل ہیں جو اپنے آپ کو آج کل اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی دیوبند ی مکتبہ فکر کا لیبل لگا کر پیش کرتے ہیں یہ ان کے علماءکفریہ عبارات سے توبہ کرتے ہیں نہ یہ کہتے ہیں کہ ان عبارات کو لکھنے والے ہمارے اکابر ین نہیں ہیں بلکہ ان سب کو اپنا امام مجدّد اور حکیم الامت کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں ۔ اختلاف کا حل : اگرآج بھی دیوبندی اپنے ان بڑوں کی کفر یہ عبارات سے توبہ کرکے ان تمام کفر آمیز کتب سے بیزاری کا اظہار کرکے انہیں دریا برد کردیں تو اہلسنّت کا اعلان ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔ دیوبندی شاطروں کی چال : علماءدیوبند یا عوامِ دیوبند کبھی بھی اپنے ان عقائد کو آپ پر ظاہر نہیں کریں گے بلکہ ان عبارات کا زبان سے انکار بھی کریں گے تاکہ بھولی بھالی عوام کو دھوکہ دے سکیں یاد رکھئے زہر کھلانے والا کبھی بھی سامنے زہر نہیں دیگا ورنہ کوئی اسے نہیں کھائے گا اس کی چال یہ ہوتی ہے کہ مٹھائی کے اندر ڈال کر دیگا اور کہے گا کہ کھاؤ یہ مٹھائی ہے اس مٹھائی کو دیکھ کر قوم اسے کھائے گی ۔ آج دیوبندی یہ چال چل کر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نماز نماز کہہ کر لوگوں کو لے کر جاتے ہیں اس طرح انہوں نے لاکھوں لوگوں کو بد مذہب کردیا ،لاکھوں نوجوانوں کو مفتی بنادیا کہ وہ مسلمان پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں یہی وجہ ہے کہ آج گھر میں یہ ماڑ دھاڑ ہے اولاد والدین پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگاتی ہے خدارا !اپنی نوجوان نسل کا خیال رکھو ان کی تربیت کر و،انہیں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مائل کرو یہی فلاح و کامرانی کا راستہ ہے ۔ قرآن مجید کے ترجموں میں کفریہ عبارات (خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں) (1) القرآن :ولما یعلم اللّٰہ الذین جاھد وا منکم۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر142،پارہ 4) ترجمہ :حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ (فتح محمد جالندھری دیوبندی ) ترجمہ : حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیاہو۔ (اشرفعلی تھانوی دیوبندی) ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ کو (معاذ اللہ )بے خبر لکھا ہے جو کہ کفر ہے ۔ امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی اس کا ترجمہ اپنے ترجمہ قرآن کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ :اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔(امام اہلسنّت ) (2) القرآن :ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر المٰکرین ۔(سورہ انفال ،پارہ نمبر 9) ترجمہ :وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔(محمود الحسن دیوبندی ) ترجمہ :اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اوراللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔ (شاہ عبدالقادر ) ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ تعالیٰ کو مکرو فریب کرنے والا لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کفرنہیں ہے ؟ امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ :اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما تا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔ (امام ِ اہلسنّت) (3) القرآن :ووجدک ضالا فھدی ۔(سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7) ترجمہ :اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔(عبدالماجد دریا بادی دیوبندی ) ترجمہ :اور اللہ تعالیٰ نے آپکو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا ۔ (اشرف علی تھانوی دیوبندی ) ان دونوں دیوبندی مولویوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بے خبر اور بھٹکا ہوالکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یا فتہ ہوتا ہے ۔ امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا نصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ :اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تواپنی طرف راہ دی ۔ (4) القرآن :ان المنا فقین یخادعون اللّٰہ وھو خاد عھم ۔(سور ہ نساءآیت 142،پارہ 5) ترجمہ :منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دیگا ۔ (محمود الحسن دیوبندی ، شاہ عبدالقادر ) ان دونوں دیوبندیوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے والا لکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک اس طرح کی چیز وں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے ۔ امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محّدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔ ترجمہ:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے ماریگا ۔ آپ حضرات نے دیوبندیوں مولویوں کے تراجم کی جھلک ملاحظہ فرمائی آپ حضرات فیصلہ کریں کہ ان لوگوں نے قرآن مجید کے تراجم میں خیانت نہیں کی کیا ایسے لوگ اسلام کے چہرے کو منع نہیں کررہے ؟کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہوسکتی ہے ؟کیا ان لوگوں کے تراجم ہمیں پڑھنے چاہئیے ؟کیا ہم ان لوگوں سے کوئی اصلاحی کوششوں کی امید رکھیں ؟ نہیں ہرگز نہیں ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام سے دور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ۔
  5. ایک دیوبندی فاضل نے مولانا محمد احسن نانوتوی کے نام سے موصوف کی سوانح حیات لکھی جسے مکتبہ عثمانیہ کراچی پاکستان نے شائع کیا ہے اپنی کتاب میں مصنف نے اخبار انجمن پنجاب لاہور مجریہ 19 فروری 1875 کے حوالہ سے لکھا ہے کہ 13 جنوری 1875 بروز ایک شنبہ لیفٹینٹ گورنر کے ایک خفیہ معتمد انگریز مسمی پامر نے مدرسہ دیوبند کا معائنہ کیا معائنہ کی جو عبارت موصوف نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس کی یہ چند سطریں خاص طور سے پڑھنے کے قابل ہیں ۔ جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوں میں ہورہا ہے جو کام پرنسپل ہزاروں روپیہ ماہانہ تنخواہ لے کر کرتا ہے وہ یہاں ایک مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کررہا ہے یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدومعاون سرکار ہے ۔ (مولانا محمد احسن نانوتوی ص 217 مطبوعہ کتبہ عثمانیہ کراچی ) مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری خود انگریز کی یہ شھادت ہے کہ یہ مدرسہ خلاف سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممدر معاون سرکار ہے ، اب آپ ہی انصاف کیجیے کہ اس بیان کے سامنے اب افسانے کی کیا حقیقت ہے جس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ مدرسہ دیوبند انگریزی سامراج کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کا بہت بڑا اڈا تھا مدرسہ دیوبند کے قدیم کارکنوں کا انگریزوں کے ساتھ کس درجہ خیر خواہانہ اور نیاز مندانہ تعلق تھا اس کا اندازہ لگانے کے لیے خود قاری طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبندی کا تہلکہ آمیز بیان * (مدرسہ دیوبند کے کارکنوں میں اکثریت ) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پینشنز تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی ۔ ( حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 247 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) آگے چل کر انہی بزرگوں کے متلعق لکھا ہے کہ مدرسہ دیوبند میں ایک موقع پر جب انکوائری آئی تو اس وقت یہی حضرات آگے بڑھے اور اپنے سرکاری اعتماد کو سامنے رکھ کر مدرسہ کی طرف صفائی پیش کی جو کارگر ہوئی ۔ (حاشیہ سوانح قاسمی ج 2 ص 247 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) گھر کا راز دار ہونے کی حیثیت سے قاری طیب صاحب کا بیان جتنا باوزن ہوسکتا ہے وہ محتاج بیان ہے اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ جس مدرسہ کے چلانے والے انگریزوں کے وفا پیشہ نمک خوار ہوں اسے باغیانہ سرگرمیوں کا اڈہ نہ کہنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے یا نہیں ؟
  6. قاسم نانوتوی اور انگریز آفیسر اب انگریز کے خلاف دیوبندی اکابر کی افسانہ جہاد و بغاوت کی پوری رپورٹ الٹ دینے والی ایک سنسنی خیز کہانی سنیے سوانح قاسمی میں*مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک حاضر باش مولوی منصور علی خان کی زبانی یہ قصہ بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں*: کہ ایک دن مولانا نانوتوی کے ہمراہ میں*نانوتہ جارہاتھا کہ اثنائے راہ میں*مولانا کا حجام افتاں و خیزاں آتا ہوا ملا اور اس نے خبر دی کہ نانوتہ کے تھانیدار نے ایک عورت کے بھگانے کے الزام میں میرا چالان کردیا ہے خدارا مجھے بچائیے ۔ مولوی منصور علی خان کا بیان ہے کہ نانوتہ پہنچتے ہی مولانا نے اپنے مخصوص کارندہ منشی محمد سلیمان کو طلب کیا اور پر جلال آواز میں*فرمایا اس غریب کو تھانیدار نے بے قصور پکڑا ہے تم اس سے کہہ دو کہ یہ (حجام) ہمارا آدمی ہے اس کو چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچو گے اس کے ہاتھ ہتھکڑی ڈالو گے تو تمہارے ہاتھ میں*بھی ہتھکڑی پڑے گی ۔ ( سوانح قاسم ج 1 ص 321،322 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) لکھا ہے کہ منشی محمد سلیمان نے مولانانانوتوی کا حکم ہوبہوتھانیدار تک پہنچادیا تھانیدار نے جواب دیا کہ اب کیا ھوسکتا ھے روزنامچہ میں اس کا نام لکھ دیا گیا مولانا نانوتوی نے اس کے جواب پر حکم دیا کہ تھانیدار سے جا کر کہہ دو کہ اس کا نام روزنامچہ سے کاٹ دو منصورعلی خان کا بیان ہے کہ مولانا کا یہ حکم پاکر سراسیمگی کی حالت میں تھانیدار خود ان کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا حضرت نام نکالنا بڑا جرم ہے اگر نام اس کا نکالا تو میری نوکری جاتی رہے گی فرمایا اس کا نام ( روزنامچہ سے ) کاٹ دو تمہاری نوکری نہیں جائے گی۔( حاشیہ سوانح قاسمی ج 1 ص 323 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) واقعہ کا راوی کہتا ہے کہ مولانا کہ حکم کے مطابق تھانیدار نے حجام کو چھوڑ دیا اور تھانیدار تھانیدار ہی رہا مجھے اس واقعہ پر بجز اس کے اور کوئی تبصرہ نہیں کرنا ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی اگر انگریزی حکومت کے باغیوں میں تھے تو پولیس کا محکمہ اس قدر ان کے تابع فرمان کیوں تھا اور تھانیدار کو یہ دھمکی کہ اسے چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچوگے وہی دے سکتا ہے جسکی ساز ، باز اوپر مرکزی حکام سے ہو ۔
  7. اس گاڑھے دیوبندی پر صرف آپ کے چند مولویوں کی رائے کا اعتبار کیسے کیا جائے گا ۔ جبکہ ردزلزلہ اور ان کے احباب اورکئی علمائے دیوبند نے اس کی توثیق کی ہے ۔ ۔۔۔۔۔مولوی لاہوری نے خود تھوڑی اس کا رد کیا تھا جب کہ یہ مسئلہ تو 57 کا ہے ۔ نیز پھر رد زلزلہ کے مصنفین بھی مودودی اور منکر الحدیث ہوئے کہ ایک منکر الحدیث کی تصدیق کررہے ہیں وہ بھی دیوبندی نہیں بلکہ گاڑھے دیوبندی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر شبیر عثمانی جن کا بھتیجا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن پر تو اولین فرض تھا اس کا رد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نیز ان کا آپ نے پچھلی پوسٹ میں دفا ع بھی کیا ہے ان پر بھی علمائے دیوبند کے ایسے ہی فتوے ہیں ان کو بھی کیا مودودی مان لو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف سے دلائل و قرائن آپ کے خلاف ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے واضح ثبوت میں جس بندے کی توثیق بھی دیوبند کا دفاع کرنے والا کرے ۔ اسے منکر الحدیث مان لیا ۔۔۔۔۔ایسے تو کل تھانوی کو بھی مان لو گے اگر اپنی رائے کے مطابق اس سے کچھ حاصل نہ ہوا۔پھر انہوں نے کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے اور یہ 57 کے بعد آج کی کتاب میں اس کا منع کرنے کا کیا معنی ۔۔۔ اس وقت کیا علمائے دیوبند سوئے تھے ? اصل وجہ یہ ہے کہ اس وقت کتاب موجود تھی ۔اور سارے قرائن واضح تھے اب دیوبندیوں نے ان رسالہ جات کی مزید اشاعت ہی نہ ہونے دی تو ان کو کہنے کا مضبوط موقعہ مل گیا ایک بندہ دعوی کرے اس کا جواب 50 سال بعد دیا جائے نیز دفاع بھی ایک ثانوی درجے کے دیوبندی مولوی سے کرارہے ہو۔ نیز اس میں صرف دیوبندی مذہب کی عبارت کو حوالہ بنایا گیا ہے اور اس کا خود ہی جواب دیا گیاہے کیا سارے علمائے دیوبند اس جواب سے متفق ہیں تو جب 57 میں یہ اعتراض آیا تو اس وقت یا چلو اس کے ایک سال یا دو سال بعد بھی کیوں جواب نہ دیا گیا کیا لاہوری کی کتاب کو چھپانا تھا ۔۔ آپ دونوں صورتوں میں پھنس رہے ہیں یا تو لاہوری کو کافر مان کر دیوبند کا جنازہ نکال لو یا شبیر عثمانی اور عامر عثمانی پر فتوے لگاکر رد زلزلہ اور ان کے حواریین اور جن جن علمائے دیوبند نے عامر عثمانی کی توثیق کی ہے ان کو بھی منکر الحدیث کی حمایت کرنے والا بلفظ دیگر حامی منکر الحدیث مان لو ۔۔۔۔ ................ آگے کنواں پیچھے کھائی ........... پھر عجیب مضحکہ خیز بات یہ کہ اس کتاب کے مصنف سعید احمد قادری کون سے والے ہیں ۔۔ کیا دیوبندیوں نے نیا مولوی ایجاد کیا ہے۔۔ساری دنیا جانتی ہے رضاخانی مذہب کے مصنف سعید احمد قادری سنی ہوچکے ہیں اسلامی ایجوکیشن ڈاٹ کام میں ان کا بیان بھی موجود ہے ۔۔۔۔ اس سے تو مزید ضعف پیدا ہوگیا آپ کا جواب ہی مردود نا قابل علمائے دیوبند ہوگیا۔۔۔
  8. یہ دیوبندیوں کا رسالہ ہی ہے ۔ پھر سہارنپور کا ایڈریس بھی ہے تجلی دیوبند سہارنپور ۔ سب جانتے ہیں دیوبند کے بعد دیوبندیوں کا زیادہ کام سہارنپور میں ہے۔ اور خلیل احمد سہارنپوری آپ کا مولوی جس کے شاگردوں کے امرد پسند ی کے قصے مشہور ہین نیز جس کی گستاخیوں پر علمائے حرمین شریفین کے فتوے ہیں ، وہ بھی یہیں کا ہے۔ کراچی کے ایجنٹ کا بھی ایڈریس اس میں ہے وہاں جاکر تصدیق بھی کرالیں ۔ اب رسالے کی حقیقت بھی میں بیان کروں۔۔۔۔۔۔۔یہ تو ایسا ہے جیسے ہندو کہیں گیتا کی حقیقت بیان کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس میں اتنا بڑا دعویٰ آپ کے مولوی خود کررہے ہیں ۔اور اس میں حوالہ ان کی کتاب کا بھی آپ کو مولوی دے رہے ہیں ۔۔پھر بھی اس سے اعراض کرنا۔۔ شکر ہے لاہوری کو آپ نے اپنا مولوی تو مانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے عثمانی سلسلے کے سارے مولوی اس میں موجود ہین عامر عثمانی زبیر عثمانی ۔ مولوی شیخ احمد۔رشید کوثر فاروقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔تجلی دیوبند اتنا واضح ہے ۔ جناب ان صفحات کو سہ بار پڑھ لیا ہے لیکن گستاخی تو ہزار بار پڑھنے سے بھی نہیں مٹے گی ۔ عجیب شے ہو ایک شخص کفر بک رہا ہے تمہارے مولوی خود اس پر جرح کررہے ہین اس کو تم اپنا جواب کہہ رہے ہو جب یہی تمہارے نزدیک جواب ہے کہ احمد لاہوری جیساکہ ان کے نزدیک اس عبارت سے معتبر نہیں ہے تو تم بھی کہدو کہ یہ حضور علیہ السلام کی شان میں بکواس کرنے والا ہمارا مولوی نہیں ہے۔ یا اگر ان رسالہ والوں سے اختلاف ہے تو پھر آپ ان کفریہ الفاظ کی تاویل کرو گے ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم دونوں صورتوں میں پھنس رہے ہیں ۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا ۔۔۔۔۔
  9. تھانوی کی عبارت کا مفہوم تو یہی ہے نا کان یہاں سے پکڑو یا وہاں سے بات ایک ہی ہے آپ بجائے اس کا جواب دینے کے اس موضوع کو بحث میں لا رہے جواب بھی آپ تاویلی صورت میں دینے سے رہے کہ آپ کو خود یہ عبارت ہضم نہیں ہورہی ۔ الفاظوں میں الجھانے کی کوشش مت کرو میں نے اوپر یہ نہیں لکھا کہ تھانوی نے لکھا ہے تھانوی صرف کہا نہیں بلکہ سائل کے قول کی تصدیق بھی کردی یہ تو اور بھرا جرم ہے سائل نے کہا ایسا ہوسکتا ہے تھانوی نے کہا انبیاء کے علاوہ سب کی شکل میں آسکتا ہے ۔ پھر تو فرشتوں کی صورت میں بھی آسکتا ہے ۔ تھانوی نے کسی کا استثنا نہیں کیا بلکہ ایک بہت بڑی گستاخی کی آپ تھانوی کے جواب سے مطمئن ہے نہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیوں اندھا دفاع کررہے ہیں مان کیوں نہیں لیتے اس نے گستاخی کی اتنا بڑا اور واضح ثبوت صرف کہا ہی نہیں بلکہ تصدیق بھی کررہا ہے۔حوالہ مطبوعات کے فرق سے الگ ہے ۔۔
  10. ماشاء اللہ جناب جواب بھی سائل ہی دے گا آپ کی اطلاع کے لئے ایک اور مطبوعہ کا عکس پیش ہے۔ غور سے دیکھیں لکھا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کوئی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے تو وہ حضور ہی ہوں گے ۔شیطان تو حضور کی شکل میں نہیں آسکتا ۔ تو فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرمایا، سے جواب دیا جارہا ہے اسی طرح نیچے بھی فرمایا سے جواب دیاگیا۔،پھر اس کے نیچے سائل نے پوچھا اگر صحابہ میں سے کسی کو خواب میں دیکھے ۔ مثلا حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ان حضرات کی صورت میں شیطان آسکتا ہے ۔ فرمایا مشہور قول پر سوائے انبیاء علیہم السلام کے سب کی شکل میں آسکتا ہے۔ یہ فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کو نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ ۔ کیا اتنی واضح عبارت جو بچہ بھی سمجھ لے کہ سوال کیا جواب کیا ہے ۔ اورآپ کو سمجھ نہیں آرہی یا اندھی تقلید میں آپ سے یہ عبارت ہضم نہیں ہورہی۔۔۔۔۔خیر اس حوالے بعد دیوبندیوں کا جواب کچھ بھی ہو لیکن آپ کے انداز سے تو واضح ہوگیا کہ آپ بھی تھانوی کے اس قول سے متفق نہیں ہیں کہ صحابہ کی شکل میں شیطان آسکتا ہے ۔اس لئے آپ کا اس جملہ میں تاویل کرنا منافقت پر مبنی ہوگا۔
  11. ماشاء اللہ اب میدان سے فرار پانے کی نئی ترکیبییں کررہے ہیں۔ پہلے کہا حوالہ نہیں ہے اب دوسرا بہانہ اور پھر تیسرا یہ کہ اب اتنی وضح بات کہ بعد بھی آپ لاہوری کی عبارت کی تاویل کریں گے لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم میں نے اس کا ٹائٹل بیج بھی دیا ہے اس میں ایڈریس بھی لکھا ہے واضح طور پر تجلی دیوبند لکھا ہے ۔ نیز دیوبندی مولویوں کے نام بھی ہیں ۔ اگر صرف عکس دیتا تو آپ کا اعتراض درست بھی ہوتا ۔