Usman Razawi

Super Moderator
  • Content count

    2,726
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    69

Everything posted by Usman Razawi

  1. Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.1 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.2 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.3 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.4 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.5 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.6 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.7 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.8 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.9 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.10 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.11 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.12 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.13 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.14 Aqeeda-E-Khatm-E-Nabuwat (Collection Of Books And Booklets) - Volume.15
  2. Deobandi Wahabion Aor Modoodi Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf Ghair Muqallid Nam Nihad Ahlehadees Wahabion Ki Gustakhian - Scan Pages.pdf
  3. In English : http://www.islamimehfil.com/topic/21169-detailed-ruling-on-writing-saw-pbuh/ حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر کریم کے ساتھ جس طرح زبان سے درود شریف پڑھنے کا حکم ہےاللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہٖ ابدا (اے اللہ !آپ پر اورآپ کی آل اورآپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرما۔ت) درودشریف کی جگہ فقط صاد یا عم یا صلع یا صللم کہنا ہرگز کافی نہں بلکہ وہ الفاظ بے معنٰی ہیں اورفبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم۲؂میں داخل ،کہ ظالموں نے وہ بات جس کا انہیں حکم تھا ایک اورلفظ سے بدل ڈالی فانزلنا علی الذین ظلموا رجزاً من السماء بما کانوا یفسقون۳؂ (۲؂القرآن الکریم ۲/ ۵۹) (۳؂ القرآن الکریم ۲/ ۵۹ ) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکم کا۔ یونہی تحریر میں القلم احداللسانین(قلم دو زبانوں مین سے ایک ہے ۔ت) بلکہ فتاوٰی تاتارخانیہ سے منقول کہ اس میں اس پر نہایت سخت حکم فرمایا اور اسے معاذاللہ تخفیف شان نبوت بتایا۔ طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :یحافظ علی کتب الصلٰوۃ والسلام علی رسول اللہ ولا یسأم من تکرارہٖ وان لم یکن فی الاصل ویصلی بلسانہ ایضا،ویکرہ الرمز بالصلاۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذٰلک کلہ بکمالہٖ ، وفی بعض المواضع عن التتارخانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف وتخفیف الانبیاء علیم الصلٰوۃ والسلام کفر بلا شک ، ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصدہ والا فالظاھر انہ لیس بکفر ، نعم الاحتیاط فی الاحتراز عن الایھام والشبھۃ ۱؂اھ مختصراً۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود وسلام لکھنے کی محافظت کی جائے اور اس کی تکرار سے تنگ دل نہ ہواگرچہ اصل میں نہ ہو اوراپنی زبان سے بھی درود پڑھے ۔ درود یا رضی اللہ عنہ کی طرف لکھنے میں اشارہ کرنا مکروہ ہے بلکہ پورا لکھناچاہیے ۔ تاتارخانیہ کے بعض مقامات پر ہے کہ جس نے علیہ السلام ہمزہ اورمیم سے لکھا ، کافر ہوگیا کیونکہ یہ تخفیف ہے اورانبیاء کی تخفیف بغیر کسی شک کے کفر ہے ، اور یہ نقل صحیح ہے تو اس میں قصدکی قید ضرورہوگی ورنہ بظاہر یہ کفر نہیں ہے ، ہاں احتیاط ایہام اورشبہ سے بچنے میں ہے ۔(ت) (۱؂حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختارخطبۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۶) حضور پرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر کریم کے ساتھ جس طرح زبان سے درود شریف پڑھنے کا حکم ہےاللھم صل وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ ابدا (اے اللہ !آپ پر اورآپ کی آل اورآپ کے صحابہ پر ہمیشہ ہمیشہ درودوسلام اوربرکت نازل فرما۔ت) درودشریف کی جگہ فقط صاد یاصلعم کہنا ہرگز کافی نہں بلکہ وہ الفاظ بے معنٰی ہیں حرف(ص) لکھنا جائز نہیں نہ لوگوں کے نام پر نہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اسم کریم پر، لوگوں کے نام پر تو یوں نہیں کہ وہ اشارہ ودرود کا ہے اور غیر انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام پر بالاستقلال درود جائز نہیں اور نام اقدس پر یوں نہیں کہ وہاں پورے درود شریف کا حکم ہے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لکھے فقط ص یا صلم یا صلعم جو لوگ لکھتے ہیں سخت شنیع وممنوع ہے یہاں تک کہ تاتارخانیہ میں اس کو تخفیف شان اقدس ٹھہرایا والعیاذ باللہ تعالٰی [Fatawa Razawiya, Vol 30, Page 663] مسئلہ نمبر۸۴: ازشہر چاٹگام موضع چرباکلیہ مکان روشن علی مستری مرسلہ منشی محمد اسمٰعیل ۱۳شوال۱۳۳۰ھ کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ آنحضرت صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے جنازہ کی نماز کَے مرتبہ پڑھی گئی۔اور اول کس شخص نے پڑھائی تھی؟بینواتوجروا الجواب صلی اﷲ تعالٰی علٰی حبیبہ واٰلہ وبارک وسلم۔سائل کو جوابِ مسئلہ سے زیادہ نافع یہ بات ہے کہ درود شریف کی جگہ جو عوام و جہال صلعم یا ع یام یا ص یا صللم لکھا کرتے ہیں،محض مہمل و جہالت ہے،القلم احدی اللسانین(قلم دو۲ زبانوں میں سے ایک ہے۔ت) جیسے زبان سے درود شریف کے عوض یہ مہمل کلمات کہنا درود کو ادا نہ کرے گا یوں ہی ان مہملات کا لکھنا،درود لکھنے کاکام نہ دے گا، ایسی کوتاہ قلمی سخت محرومی ہے۔ میں خوف کرتاہوں کہ کہیں ایسے لوگفبدل الذین ظلموا قولاغیرالذی قیل لہم (تو ظالموں نے بدل ڈالی وُہ بات جو ان سے کہی گئی تھی ۔ت)میں نہ داخل ہوں ۔نام پاک کے ساتھ ہمیشہ پورا درود لکھا جائے صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم ۔ [Fatawa Razaviyyah, Vol 9, Page 314] مسئلہ نمبر ۴۴۴: از رام نگرضلع نینی تال عنایت اﷲ خان ڈپٹی پوسٹ ماسٹر ۲۶ ذیقعد ۱۳۱۲ھ قبلہ و کعبہ دارین ودام ظلکم! کلمہ طیبہ شریف جب ورد کرکے پڑھا جائے تو اس میں کلمہ پر جب نام نامی حضور اقدس (صلعم) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا آوے درود پڑھنا چاہئے یا ایک مرتبہ جبکہ جلسہ ختم کرے؟ بینوا توجروا۔ الجواب جوابِ مسئلہ سے پہلے ایک بہت ضروری مسئلہ معلوم کیجئے سوال میں نامِ پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ بجائے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (صلعم) لکھا ہے ۔یہ جہالت آج کل بہت جلد بازوں میں رائج ہے۔ کوئی صلعم لکھتا ہے کوئی عم کوئی ص، اور یہ سب بیہودہ و مکروہ و سخت ناپسند وموجب محرومی شدید ہے اس سے بہت سخت احتراز چاہیئے اگر تحریر میں ہزار جگہ نامِ پاک حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آئے ہر جگہ پورا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لکھا جائے ہرگز ہر گز کہیں صلعم وغیرہ نہ ہو علماء نے اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے یہاں تک کہ بعض کتابوں میں تو بہت اشد حکم لکھ دیا ہے۔علامہ طحطاوی حاشیہ دُرمختار میں فرماتے ہیں: ویکرہ الرمز بالصلٰوۃ والترضی بالکتابۃ بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ وفی بعض المواضع من التتار خانیۃ من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والمیم یکفر لانہ تخفیف و تخفیف الانبیاء کفربلاشک ولعلہ ان صح النقل فھو مقید بقصد والافالظاھر انہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفرابعد تسلیم کونہ مذھباً مختارا محلہ اذاکان اللزوم بَیّناً نعم الاحتیاط فی الاحتزار عن الایھام و الشبھۃ۔ (حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۶) صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی جگہ (ص ) وغیرہ اور رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی جگہ (رض) لکھنا مکروہ ہے بلکہ اسے کامل طور پر لکھا پڑھا جائے تاتار خانیہ میں بعض جگہ پر ہے جس نے درود و سلام ہمزہ (ء) اور میم (م) کے ساتھ لکھا اس نے کفر کیا کیونکہ یہ عمل تخفیف ہے اور انبیاء علیہم السلام کی بارگاہ میں یہ عمل بلا شبہ کفر ہے۔ اگر یہ قول صحت کے ساتھ منقول ہو تو یہ مقید ہوگا اس بات کے ساتھ کہ ایسا کرنے والا قصداً ایسا کرے ، ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ کافر نہیں باقی لزومِ کفر سے کفر اس وقت ثابت ہوگا جب اسے مذہب مختار تسلیم کیاجائے اور اس کا محل وُہ ہوتا ہے جہاں لزوم بیان شدہ اور ظاہر ہو البتہ احتیاط اس میں ہے کہ ایہام اور شبہ سے احتزار کیا جائے۔(ت اب جوابِ مسئلہ لیجئے نامِ پاک حضور پُرنور سیّد ودعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت وعیدوں میں گرفتار ، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ اگرایک ہی جلسہ میں چند بار نامِ پاک لیا یا سُنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مستحب ہے، بہت علما قولِ اول کی طرف گئے ہیں ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑ ا گنہگار ہُوا مجتبٰی ودُرمختار وغیرہما میں اس قول کو مختار واضح کہا۔ فی الدرالمختار اختلف فی وجوبھا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والمختار تکرار الوجوب کلماذکر ولو ا تحد المجلس فی الاصح (درمختار فصل واذا اراد الشروع الخ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/ ۷۸) دُرمختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرناواجب ہے یا نہیں اصح مذہب پر مختارقول یہی ہے کہ ہر بار درودوسلام واجب ہے اگر چہ مجلس ایک ہی ہو (ت دیگر علمانے بنظر آسانیِ امت قولِ دوم اختیار کیا ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ایک بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کرے گا زیادہ کے ترک سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم و فضلِ جسیم سے بیشک محروم رہا، کافی وقنیہ وغیرہما میں اسی قول کی تصحیح کی۔ فی ردالمحتار صححہ الزاھدی فی المجتبٰی لکن صحح فی الکافی وجوب الصلٰوۃ مرۃ فی کل مجلس کسجود التلاوۃ للحرج الا انہ یندب تکرار الصلٰوۃ فی المجلس الواحد بخلاف السجود وفی القنیۃ قیل یکفی المجلس مرۃ کسجدۃ التلاوۃ و بہ یفتی وقد جزم بھذا القول المحقق ابن الھمام فی زادالفقیر۔ (ردالمحتار فصل واذا ارادالشروع الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۳۸۱) ردالمحتار میں ہے کہ اسے زاہدی نے المجتبٰی میں صحیح قرار دیا ہے لیکن کافی میں ہر مجلس میں ایک ہی دفعہ درود کے وجوب کو صحیح کہا ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے تاکہ مشکل اور تنگی لازم نہ آئے، البتہ مجلس واحد میں تکرارِ درودمستحب ومندوب ہے بخلاف سجدہ تلاوت کے ۔قنیہ میں ہے ایک مجلس میں ایک ہی دفعہ درود پڑھنا کافی ہے جیسا کہ سجدہ تلاوت کا حکم ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ابن ہمام نے زادالفقیر میں اسی قول پر جزم کیاہے(ت) بہر حال مناسب یہی ہے کہ ہر بار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بالاتفاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں اور نہ کرنے میں بلا شبہ بڑے فضل سے محرومی اور ایک مذہب قوی پر گناہ ومعصیت عاقل کا کام نہیں کہ اُسے ترک کرے وباﷲ التوفیق۔ [Fatawa Razaviyyah, Vol 6, Page 220]
  4. Kalma-e-Haq-1.pdf Kalma-e-Haq-2.pdf Kalma-e-Haq-3.pdf Kalma-e-Haq-4.pdf Kalma-e-Haq-5.pdf Kalma-e-Haq-6.pdf Kalma-e-Haq-7.pdf Kalma-e-Haq-8.pdf Kalma-e-Haq-9.pdf Kalma-e-Haq - 10.pdf Kalma-e-Haq-11.pdf
  5. Excellence Of The Holy Quran.pdf
  6. ten questions answered regarding the mawlid.pdf Questions : 1. It is a known fact that our Prophet is the most superior of all the Prophets and Messengers (Alayhimus Salam) and also that he is the seal of all the Prophets (Alayhimus Salaam). He left no stone unturned in conveying the religion to us and rendering precious advice to us. If the "Eid-e-Milad-un-Nabi" was a divinely inspired act, then surely the Prophet would have commanded the Muslims to it, or at least, either he or his beloved Sahabah, Radi-Allahu anhum, would have practiced it. 2. Surah Miadah: we have perfected your religion ... so why do you Sunnis add to religion; don’t you believe this Quranic verse? 3. There’s a hadith in Tirmizi Shareef which says any Bid’ah in religion leads one astray, so why do you Sunnis add this Bid’ah of celebrating? 4. All this Milaad celebration is just a Bid’ah and innovation introduced by a modern day Indian called Ahmed Raza Khan. 5. How come Imam Abu Hanifa or Imam Bukhari didn’t celebrate milaad? 6. Is fixing date for milaad shareef permissible? 7. Celebrating the birth is a way of the Christians for Jesus, why do you Sunnis light up your houses and put decorations like the Christians? 8. You shouldn’t celebrate Milaad on 12 Rabi ul Awal as that’s the date the Prophet (SalAllahu alaih wasalam) passed away. 9. The contemporary form of Eid-e-Milad-un-Nabee apart from being a manifestation of Bid’ah also encompasses other evils such as the intermingling of sexes, usage of musical instruments and many other such evils. The most abhorring and shocking evils in these functions are the acts of shirk that take place. With hollow claims of "Hubbe-Rasul" (love for Rasulullah) entreaties and supplications are made to beings other than Allah, namely to Ambiyaa alaihimus-salaam. 10. I turn my lights off and some of my friends keep lights off on 12 Rabi ul awal because we believe it has no significance to our lives – how will celebrating the Milaad help us in this life and the hereafter?
  7. Arabic : http://books.nafseislam.com/authors.php?id=618&auth=ahmad-bin-zaini-dahlan-makki Urdu : Al-Durar-Us-Sanniyah Fi Radd-e-Alal Wahabiyah.pdf Different Print : http://www.islamimehfil.com/index.php?app=core&module=attach&section=attach&attach_id=63118
  8. Fiqah-e-Hanafi Aor Sihah-e-Sitta.pdf
  9. By : Aashiq-e-Alahazrat Muhtram Khaleel Ahmad Rana Imam Ahmad Raza Ulama-e-Shaam Ki Nazar Main.pdf Imam Ahmad Raza Ulama-e-Arab Ki Nazar Main.pdf Imam Ahmad Raza Ulama-e-Misr Ki Nazar Main.pdf
  10. Imam Ahmad Raza Aor Ahya-e-Deen.pdf
  11. Ftawa Razawiya Ki Infiradi Khusoosiyaat.pdf
  12. Imam Ahmad Raza Ki Nasaih.pdf
  13. Imam Ahmad Raza Ki Baseerat O Istiqamat.pdf
  14. Zikr-e-Raza.pdf
  15. WaAlaikumussalam , Dhoodh k rishtay ki wja say jin say nikah haram hota hay , un ki tafseel jannay k leay yeh topic dekheay : http://www.islamimehfil.com/topic/21244-dhoodh-k-rsihta-ka-bayan/
  16. Bahar-e-Shariat Hissa 7 Pages 36-42 : http://www.trueislam.info/BooksLibrary/UrduBooks/BahareShariat/Part07/index.htm قسم نہم :رضاعت اس کا بیان مفصل آئے گا۔ دودھ کے رشتہ کا بیان مسئلہ ۱: بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے ليے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو ۲ برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح (1) ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔ مسئلہ ۲: مدّت پوری ہونے کے بعد بطورعلاج بھی دودھ پینا یا پلانا جائز نہیں۔ (2) (درمختار) مسئلہ ۳: رضاع (یعنی دودھ کا رشتہ) عورت کا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے، مرد یا جانور کا دودھ پینے سے ثابت نہیں اور دودھ پینے سے مراد یہی معروف طریقہ نہیں بلکہ اگر حلق (3)یا ناک میں ٹپکایا گیا جب بھی یہی حکم ہے اور تھوڑا پیا یا زیادہ بہرحال حرمت ثابت ہوگی، جبکہ اندر پہنچ جانا معلوم ہو اور اگر چھاتی مونھ میں لی مگر یہ نہیں معلوم کہ دودھ پیا تو حرمت ثابت نہیں۔ (4) (ہدایہ، جوہرہ وغیرہما) مسئلہ ۴: عورت کا دودھ اگر حقنہ سے(5) اندر پہنچایا گیا یا کان میں ٹپکایا گیا یا پیشاب کے مقام سے پہنچایا گیا یا پیٹ یادماغ میں زخم تھا اس میں ڈالا کہ اندر پہنچ گیا تو ان صورتوں میں رضاع نہیں۔ (6) (جوہرہ) مسئلہ ۵: کوآری یا بڑھیا کا دودھ پیا بلکہ مردہ عورت کا دودھ پیا، جب بھی رضاعت ثابت ہے۔ (7) (درمختار) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔نکاح کاحرام ہونا۔ 2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۸۹ . 3۔۔۔۔۔۔گلا۔ 4۔۔۔۔۔۔''الہدایۃ''،کتاب الرضاع ،ج۱،ص۲۱۷. و''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۴،وغیرہما. 5۔۔۔۔۔۔یعنی پیچھے کے مقام سے بطور علاج۔ 6۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۴. 7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۹ . مگرنو برس سے چھوٹی لڑکی کا دودھ پیا تو رضاع نہیں۔ (1) (جوہرہ) مسئلہ ۶: عورت نے بچہ کے مونھ میں چھاتی دی اور یہ بات لوگوں کو معلوم ہے مگر اب کہتی ہے کہ اس وقت میرے دودھ نہ تھا اور کسی اور ذریعہ سے بھی معلوم نہیں ہوسکتا کہ دودھ تھا یا نہیں تو اس کا کہنا مان لیا جائے گا۔ (2) (ردالمحتار) مسئلہ ۷: بچہ کو دودھ پينا چھڑا دیا گیا ہے مگر اُس کو کسی عورت نے دودھ پلا دیا ،اگر ڈھائی برس کے اندر ہے تو رضاع ثابت ورنہ نہیں۔ (3) (عالمگیری) مسئلہ ۸: عورت کو طلاق دے دی اس نے اپنے بچہ کو دو ۲ برس کے بعد تک دودھ پلایا تو دو ۲ برس کے بعد کی اُجرت کا مطالبہ نہیں کرسکتی یعنی لڑکے کا باپ اُجرت دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور دو ۲ برس تک کی اُجرت اس سے جبراً لی جا سکتی ہے۔ (4) (عالمگیری) مسئلہ ۹: دو ۲ برس کے اندر بچہ کاباپ اس کی ماں کو دودھ چھڑانے پر مجبور نہیں کرسکتا اور اس کے بعد کرسکتا ہے۔ (5) (ردالمحتار) مسئلہ ۱۰: عورتوں کو چاہيے کہ بلاضرورت ہر بچہ کو دودھ نہ پلا دیا کریں اور پلائیں تو خود بھی یاد رکھیں اور لوگوں سے یہ بات کہہ بھی دیں، عورت کو بغیر اجازت شوہر کسی بچہ کو دودھ پلانا مکروہ ہے، البتہ اگر اس کے ہلاک کا اندیشہ ہے تو کراہت نہیں۔ (6) (ردالمحتار) مگر میعادکے اندر رضاعت بہر صورت ثابت۔(7) مسئلہ ۱۱: بچہ نے جس عورت کا دودھ پیا وہ اس بچہ کی ماں ہو جائے گی اور اس کا شوہر (جس کا یہ دودھ ہے یعنی اُس کی وطی سے بچہ پیدا ہوا جس سے عورت کو دودھ اترا) اس دودھ پینے والے بچہ کا باپ ہو جائے گا اور اس عورت کی تمام اولادیں اس کے بھائی بہن خواہ اسی شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے، اس کے دودھ پینے سے پہلے کی ہیں یا بعد کی یا ساتھ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷. 2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۲. 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۲۔۳۴۳. 4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۴۳. 5۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۱. 6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۹۲. 7۔۔۔۔۔۔ یعنی ڈھائی سال یا اس سے کم عمرکے بچے کو دودھ پلایا تو حرمت رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔ کی اور عورت کے بھائی، ماموں اور اس کی بہن خالہ۔ يوہيں اس شوہرکی اولادیں اس کے بھائی بہن اور اُس کے بھائی اس کے چچا اور اُس کی بہنیں، اس کی پھوپیاں خواہ شوہر کی یہ اولادیں اسی عورت سے ہوں یا دوسری سے۔ يوہيں ہر ایک کے باپ ،ماں اس کے دادا دادی، نانا ،نانی۔ (1) (عالمگیری) مسئلہ ۱۲: مرد نے عورت سے جماع کیا اوراس سے اولاد نہیں ہوئی مگر دودھ اتر آیا تو جو بچہ یہ دودھ پيے گا، عورت اس کی ماں ہو جائے گی مگر شوہر اس کا باپ نہیں، لہٰذا شوہر کی اولاد جو دوسری بی بی سے ہے اس سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے۔ (2) (جوہرہ) مسئلہ ۱۳: پہلے شوہر سے عورت کی اولاد ہوئی اور دودھ موجود تھا کہ دوسرے سے نکاح ہوا اور کسی بچہ نے دودھ پیا، توپہلا شوہر اس کا باپ ہوگا دوسرا نہیں اور جب دوسرے شوہر سے اولاد ہوگئی تو اب پہلے شوہر کا دودھ نہیں بلکہ دوسرے کا ہے اورجب تک دوسرے سے اولاد نہ ہوئی اگرچہ حمل ہو پہلے ہی شوہر کا دودھ ہے دوسرے کا نہیں۔ (3) (جوہرہ) مسئلہ ۱۴: مولیٰ نے کنیز سے وطی کی اور اولاد پیدا ہوئی ،تو جو بچہ اس کنیز کا دودھ پيے گا یہ اس کی ماں ہوگی اور مولیٰ اس کا باپ۔ (4) (درمختار) مسئلہ ۱۵: جو نسب میں حرام ہے رضاع (5)میں بھی حرام مگر بھائی یا بہن کی ماں کہ یہ نسب میں حرام ہے کہ وہ یااس کی ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ (6)اور دونوں حرام اور رضاع میں حرمت کی کوئی وجہ نہیں، لہٰذا حرام نہیں اور اس کی تین صورتیں ہیں۔ رضاعی بھائی کی رضاعی ماں یا رضاعی بھائی کی حقیقی ماں یا حقیقی بھائی کی رضاعی ماں۔ يوہيں بیٹے یا بیٹی کی بہن یا دادی کہ نسب میں پہلی صورت میں بیٹی ہوگی یا ربیبہ(7) اور دوسری صورت میں ماں ہوگی یا باپ کی موطؤہ۔ يوہيں چچایا پھوپی کی ماں یا ماموں یا خالہ کی ماں کہ نسب میں دادی نانی ہو گی اور رضاع میں حرام نہیں اور ان میں بھی وہی تین صورتیں ہیں۔ (8) (عالمگیری، درمختار) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع، ج۱،ص۳۴۳. 2۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۵. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۵. 5۔۔۔۔۔۔دودھ کارشتہ۔ 6۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ عورت جس سے باپ نے صحبت کی ہو۔ 7۔۔۔۔۔۔سوتیلی بیٹی۔ 8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۳. و''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۳۔۳۹۶. مسئلہ ۱۶: حقیقی بھائی کی رضاعی بہن یا رضاعی بھائی کی حقیقی بہن یا رضاعی بھائی کی رضاعی بہن سے نکاح جائزہے اور بھائی کی بہن سے نسب میں بھی ایک صورت جواز کی ہے، یعنی سوتیلے بھائی کی بہن جو دوسرے باپ سے ہو۔ (1) (درمختار) مسئلہ ۱۷: ایک عورت کا دو بچوں نے دودھ پیا اور ان میں ایک لڑکا، ایک لڑکی ہے تو یہ بھائی بہن ہیں اور نکاح حرام اگرچہ دونوں نے ایک وقت میں نہ پیا ہو بلکہ دونوں میں برسوں کا فاصلہ ہو اگرچہ ایک کے وقت میں ایک شوہر کا دودھ تھااوردوسرے کے وقت میں دوسرے کا۔ (2) (درمختار) مسئلہ ۱۸: دودھ پینے والی لڑکی کا نکاح پلانے والی کے بیٹوں، پوتوں سے نہیں ہوسکتا، کہ یہ ان کی بہن یا پھوپی ہے۔ (3) (درمختار) مسئلہ ۱۹: جس عورت سے زنا کیا اور بچہ پیدا ہوا، اس عورت کا دودھ جس لڑکی نے پیا وہ زانی پر حرا م ہے۔ (4) (جوہرہ) مسئلہ ۲۰: پانی یا دوا میں عورت کا دودھ ملا کر پلایا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر تو رضاع ہے مغلوب ہے تو نہیں۔ يوہيں اگر بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میں ملا کر دیا تو اگر یہ دودھ غالب ہے تو رضاع نہیں ورنہ ہے اور دو عورتوں کا دودھ ملا کر پلایا تو جس کا زیادہ ہے اس سے رضاع ثابت ہے اور دونوں برابر ہوں تو دونوں سے۔ اور ایک روایت یہ ہے کہ بہرحال دونوں سے رضاع ثابت ہے۔ (5) (جوہرہ) مسئلہ ۲۱: کھانے میں عورت کا دودھ ملا کر دیا، اگر وہ پتلی چیز پینے کے قابل ہے اور دودھ غالب یا برابر ہے تو رضاع ثابت، ورنہ نہیں اور اگر پتلی چیز نہیں ہے تو مطلقاً ثابت نہیں۔ (6) (ردالمحتار) مسئلہ ۲۲: دودھ کا پنیر یا کھویا بنا کر بچہ کو کھلایا تو رضاع نہیں۔(7) (درمختار) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۳۹۸. 2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق، ص۳۹۹. 4۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۵. 5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۶،۳۷. 6۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۱. 7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۱. مسئلہ ۲۳: خنثے مشکل کو دودھ اترا اُسے بچہ کو پلایا ،تو اگر اُس کا عورت ہونا معلوم ہوا تو رضاع ہے اور مرد ہونا معلوم ہوا تو نہیں اور کچھ معلوم نہ ہوا تو اگر عورتیں کہیں اس کا دودھ مثلِ عورت کے دودھ کے ہے تو رضاع ہے ورنہ نہیں۔ (1) (جوہرہ) مسئلہ ۲۴: کسی کی دو عورتیں ہیں بڑی نے چھوٹی کو جو شیر خوار (2) ہے دودھ پلا دیا تودونوں اس پر ہمیشہ کو حرام ہوگئیں بشرطیکہ بڑی کے ساتھ وطی کر چکا ہو اور وطی نہ کی ہو تو دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بڑی کو طلاق دے دی ہے اور طلاق کے بعد اس نے دودھ پلایا تو بڑی ہمیشہ کو حرام ہوگئی اور چھوٹی بدستور نکاح میں ہے۔ دوم یہ کہ طلاق نہیں دی ہے اور دودھ پلا دیا تو دونوں کا نکاح فسخ ہوگيا مگر چھوٹی سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور بڑی سے وطی کی ہو تو پورا مہر پائے گی اور وطی نہ کی ہو تو کچھ نہ ملے گا مگر جب کہ دودھ پلانے پر مجبور کی گئی یا سوتی تھی سوتے میں چھوٹی نے دودھ پی لیا یا مجنونہ تھی حالتِ جنون میں دودھ پلا دیا یا اس کا دودھ کسی اور نے چھوٹی کے حلق میں ٹپکا دیا تو ان صورتوں میں نصف مہر بڑی بھی پائے گی اور چھوٹی کو نصف مہر ملے گا پھر اگر بڑی نے نکاح فسخ کرنے کے ارادہ سے پلایا تو شوہر یہ نصف مہر کہ چھوٹی کو دے گا، بڑی سے وصول کرسکتا ہے ۔ يوہيں اُس سے وصول کر سکتا ہے جس نے چھوٹی کے حلق میں دودھ ٹپکا دیا بلکہ اُس سے تو چھوٹی اور بڑی دونوں کا نصف نصف مہر وصول کرسکتا ہے جب کہ اُس کا مقصد نکاح فاسد کر دینا ہو اور اگر نکاح فاسد کرنا مقصود نہ ہو تو کسی صورت میں کسی سے نہیں لے سکتا اور اگر یہ خیال کر کے دودھ پلایا ہے، کہ بھوکی ہے ہلاک ہو جائے گی تو اس صورت میں بھی رجوع نہیں۔ عورت کہتی ہے کہ فاسدکرنے کے ارادہ سے نہ پلایا تھا تو حلف(3) کے ساتھ اس کا قول مان لیا جائے۔ (4) (جوہرہ، درمختار، ردالمحتار) مسئلہ ۲۵: بڑی نے چھوٹی کو بھوکی جان کر دودھ پلا دیا بعد کو معلوم ہوا کہ بھوکی نہ تھی، تو یہ نہ کہا جائے گا کہ فاسد کرنے کے ارادہ سے پلایا۔ (5) (جوہرہ) مسئلہ ۲۶: رضاع کے ثبوت کے ليے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں عادل گواہ ہوں اگرچہ وہ عورت خود دودھ پلانے والی ہو، فقط عورتوں کی شہادت سے ثبوت نہ ہوگا مگر بہتر یہ ہے کہ عورتوں کے کہنے سے بھی جدائی کرلے۔ (6) (جوہرہ) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷. 2 ۔۔۔۔۔۔دودھ پیتی۔ 3۔۔۔۔۔۔قسم۔ 4 ۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۷،۳۸. و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۲۔۴۰۵. 5۔۔۔۔۔۔''الجوھرۃ النیرۃ''،کتاب الرضاع،الجزء الثانی،ص۳۸. 6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق. مسئلہ ۲۷: رضاع کے ثبوت کے ليے عورت کے دعویٰ کرنے کی کچھ ضرورت نہیں مگر تفریق قاضی کے حکم سے ہوگی یا متارکہ سے مدخولہ میں کہنے کی ضرورت ہے، مثلاً یہ کہے کہ میں نے تجھے جدا کیا یا چھوڑا اور غیر مدخولہ میں محض اس سے علیحدہ ہوجانا کافی ہے۔ (1) (ردالمحتار) مسئلہ ۲۸: کسی عورت سے نکاح کیا اور ایک عورت نے آکر کہا، میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اگر شوہر یا دونوں اس کے کہنے کو سچ سمجھتے ہوں تو نکاح فاسد ہے اور وطی نہ کی ہو تو مہر کچھ نہیں اور اگر دونوں اس کی بات جھوٹی سمجھتے ہوں تو بہتر جدائی ہے اگر وہ عورت عادلہ ہے، پھر اگر وطی نہ ہوئی ہو تو مرد کو افضل یہ ہے کہ نصف مہر دے اور عورت کو افضل یہ ہے کہ نہ لے اور وطی ہوئی ہو تو افضل یہ ہے کہ پورا مہر دے اور نان نفقہ بھی اور عورت کو افضل یہ ہے کہ مہر مثل اور مہر مقرر شدہ میں جو کم ہے وہ لے اور اگر عورت کو جدا نہ کرے جب بھی حرج نہیں۔ يوہيں تصدیق کی اور شوہر نے تکذیب تو نکاح فاسد نہیں مگرزوجہ شوہر سے حلف لے سکتی ہے اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو تفریق کر دی جائے۔ (2) (عالمگیری) مسئلہ ۲۹: عورت کے پاس دو عادل نے شہادت دی اورشوہر منکر ہے(3) مگر قاضی کے پاس شہادت نہیں گزری، پھر یہ گواہ مر گئے یا غائب ہوگئے تو عورت کو اس کے پاس رہنا جائز نہیں۔ (4) (درمختار) مسئلہ ۳۰: صرف دو عورتوں نے قاضی کے پاس رضاع کی شہادت دی اور قاضی نے تفریق کا حکم دے دیا تو یہ حکم نافذ نہ ہوگا۔ (5) (درمختار) مسئلہ ۳۱: کسی عورت کی نسبت کہا کہ یہ میری دودھ شریک بہن ہے پھر اس اقرار سے پِھرگیا (6) اس کا کہنا مان لیا جائے اور اگر اقرار کے ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے، سچی ہے، صحیح ہے ، حق وہی ہے جو میں نے کہہ دیا تو اب اقرار سے پھر نہیں سکتا اور اگر اس عورت سے نکاح کر چکا تھا، اب اس قسم کا اقرار کرتا ہے تو جدائی کر دی جائے اور اگر عورت اقرار کر کے پھر گئی اگرچہ اقرار پر اصرار کیا اور ثابت رہی ہو تو اس کا قول بھی مان لیا جائے۔ دونوں اقرار کر کے پھر گئے جب بھی یہی ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۰. 2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الرضاع،ج۱،ص۳۴۷. 3۔۔۔۔۔۔انکارکرتاہے۔ 4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۰. 5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۴۱۱. 6۔۔۔۔۔۔یعنی مکرگیا۔ حکام ہیں۔ (1) (درمختار) مسئلہ ۳۲: مرد نے اپنی عورت کی چھاتی چوسی (2) تو نکاح میں کوئی نقصان نہ آیا اگرچہ دودھ مونھ میں آگیا بلکہ حلق سے اتر گیا۔ (3) (درمختار) ۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۰۶۔۴۰۸. 2۔۔۔۔۔۔اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمن ''فتاوی رضویہ'' ج۲۳ص۳۷۷پرفرماتے ہیں:''اگرعورت شیردار(دودھ والی)ہوتو ایسا چوسنا نہ چاہیے جس سے دودھ حلق میں چلاجائے اوراگرمنہ میں آجائے اورحلق میں نہ جانے دے تومضائقہ(حرج)نہیں کہ شیرزن (عورت کادودھ پینا) حرام ہے''۔...عِلْمِیہ 3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب الرضاع،ج۴،ص۴۱۱.
  17. Download In Pdf Format : http://www.nafseislam.com/en/Literature/Urdu/Books/HaqKiTalash/HaqKiTalash.pdf Read Online : http://www.nafseislam.com/en/Literature/Urdu/Books/HaqKiTalash/HaqKiTalash.htm Read Online : http://library.faizaneattar.net/Books/index.php?id=509 Download Exe Format : http://library.faizaneattar.net/download.php?id=509