Tayyib Qadri

Members
  • Content count

    170
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    3

Tayyib Qadri last won the day on October 24 2015

Tayyib Qadri had the most liked content!

Community Reputation

11 Good

About Tayyib Qadri

  • Rank
    Ajmeri Member

Contact Methods

  • ICQ
    0
  1. وعلیکم السلام ۔ سکین تو نہیں ھیں مگر موبائل سے آپ کو تصاویر بنا کر بھیج رھا ھوں آپ کے مطلوبہ حوالہ کی۔ شائد آپ کے کام آ سکے۔
  2. Abdullah Bin Abbas Radiallaho Taala anho se rivayat hai ki Jab Rasoolallah Sallallaho alaihey wasallam Madiney Main Tashreef laye to Yahud ko dekha k Aasurey Ke Din ka Roza Rakhte hain aur Logo ne un se pucha ki Kyon rakte hain to unhoney kaha ki ye wo din hai Jab Alah taala ne Musa Alaihey Salam aur Banee Israeel ko firoun Par Galba (Victory) Diya Isliye Aaj hum Rozedar hain,Iski Taazaim ke Liye ,To Nabee Sallallaho alaihey wasallam ne farmaya hum tum se zyada dost hain aur Kareeb hain Musa Alaihey Salam ke,Phir Huqm Diya Aap Sallallaho alaihey wasallam Ne is (10 muharram) Roza ka...... کوئی عمل محض اس وجہ سے ناجائز نہیں هو سکتا کے اس میں یہودیوں یا عیسائیوں کی مماثلت هے. ایسا ہی اک اعتتاض تو پهر هندو بهی کرتے هیں کے هم بهی اپنے بتوں کا طواف کرتے هیں اور تم خانہ کعبہ کا. تو یہ محض ان دل کے کالوں کا بغض هے .
  3. وعلیکم السلاام بهائی اس لنک پر آپ اعلحضرت کی رد قادیانیت پر لکہی هوئی کتب پڑه اور ڈاونلوڈ کر سکتے هیں. http://www.islamimehfil.com/topic/19678-aqeeda-e-khatm-e-nabuwat-collection-of-books-and-booklets-volume2/
  4. السلام علیکم
  5. اس واقعہ سے حضرت عمر کا دور دیکهنا ..پهر دور سے حضرت ساریہ کو پکارنا ..اور اتنی دوری سے حضرت ساریہ کا سننا ثابت هے. چاهیں تو اشاروں سے اپنے کایا هی پلٹ دیں دنیا کی... یہ شان هے خدمت گاروں کی سرکار کا عالم کیا هو گا.
  6. شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کئی الہام اور آپ رضی اللہ عنہ کی کئی کرامات نقل کی ہیں، ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں: 1)'' ایک روز آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ مدینہ منورہ میں خطبۂ جمعہ پڑھ رہے تھے کہ یکایک بلند آواز سے دو مرتبہ یا تین مرتبہ فرمایا «يا سارية الجبل!» اور اس کے بعد پھر خطبہ شروع کردیا، تمام حاضرین کو حیرت تھی کہ یہ بے ربط جملہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی زبان مبارک سے کیسا نکلا، حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بے تکلفی زیادہ تھی، انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آج آپ نے خطبہ کے درمیان میں «یا سارية الحبل» کیوں فرمایا؟ تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ایک لشکر کا ذکر کیا جو عراق میں بمقام نہاوند جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول تھا، اس لشکر کے امیر حضرت ساریہ رحمہ اللہ تھے، فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ وہ پہاڑ کے پاس لڑ رہے ہیں اور دشمن کی فوج سامنے سے بھی آرہی ہے اور پیچھے سے بھی آرہی ہے جس کی ان لوگوں کو خبر نہیں، یہ دیکھ کر میرا دل قابو میں نہ رہا اور میں نے آواز دی کہ اے ساریہ اس پہاڑی سے مل جاؤ، تھوڑے دنوں بعد جب ساریہ کا قاصد آیا تو اس نے سارا واقعہ بیان کیا کہ ہم لوگ لڑائی میں مشغول تھے کہ یکایک یہ آواز آئی کہ «یا ساریۃ الجبل» اس آواز کو سن کر ہم لوگ پہاڑ سے مل گئے اور ہم کو فتح ملی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر جہاد کے لیے کسی دور دراز علاقے میں بھیجا تھا اور اس لشکر کا امیر ساریہ نامی ایک شخص کو مقرر کیا تھا … اپنے علاقے میں خطبہ دیتے ہوئے امیر عمر کی زبان سے یہ جملہ نکلا'' یا ساریة الجبل الجبل'' یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف کا خیال کرو ۔ اﷲ تعالیٰ نے عمر فاروق کی یہ آواز اس دور کے علاقے میں پہنچا دی اور لشکر نے اپنی حفاظت کا بندوبست کر لیا۔ یہ واقعہ سند کے اعتبار سے قابل قبول ہے دیکھئے سلسلة الصحیحہ حدیث 1110 فتاویٰ الجنہ الدائمہ رقم الفتویٰ 17021 مجموع فتاویٰ ابن عثیمین 311/4 وغیرہ حافظ صلاح الدین صاحب نے تفسیر''ا حسن البیان '' میں اسے قبول قرار دیا ہےہے
  7. The various attributes of Allah Ta�ala are magnified in the Ambiya (Prophets - alaihimus salaam), which explains why their conditions are so different. Some Prophets are Jamaali (manifesting Divine Mercy) while others are awe-inspiring. Some Prophets held royal positions while others were detached from the world. The Saints follow the footsteps of the Ambiya (alaihimus salaam). Hence, some Saints are in splendor while others lead an ascetic�s existence. Ghausul A�zam (radi Allahu anhu) was very wealthy while Hazrat Ibrahim Adham (radi Allahu anhu), after deserting his kingdom, lived austerely. Some Saints are always in the state of Jazb (when the consciousness is over whelmed by the Majesty of Allah) and other Saints are in the state of Jazb for a while. In this state of Jazb any rulings of the Shari�ah are not binding on them. Allah Taala says: "And Moosa (alaihis salaam) fell down unconsciousness". It is this very unconsciousness that the Awliya (Saints) inherit from Moosa (alaihis salaam). The women of Egypt, in a state of rapture, cut their fingers when they saw Yusuf�s (alaihis salaam) unique beauty. Nabi (sallal laahu alaihi wasallam) has mentioned, "Three types of people are exempted from the laws of Shari�ah - the children, the sleeping and the mentally retarded". The Majzoob falls in this Hadith. In that state of unconsciousness they utter the words like " Haqq" (I am the Truth) "Anallah" (I am Allah). At this stage the person has destroyed his ego and is oblivious of his self. Like the tree which said, "O Moosa, I am Allah", a person that says such words in a state of Jazb is not a transgressor. The true sign of a Majzoob is that he neither defies nor refutes the Shari�ah. In the condition of Jazb (ecstasy), if any unlawful word or action was manifested, he never instructs others in it. When someone rebukes him for his words or actions he accepts it without any debate. Ghausul A�zam (radi Allahu anhu) narrates: "A person mentioned to Hazrat Junaid Baghdadi (radi Allahu anhu) that a person in the state of Wajd (religious ecstasy) is like a spinning millstone. He does not eat or drink anything. Hazrat Junaid (radi Allahu anhu) asked about that person�s conditions during Salaah times. The enquirer answered that when the Mu�ezzin gives Azaan the person becomes calm and performs his Salaah respectfully. Hazrat Junaid (radi Allahu anhu) then declared that there is no problem, this type of Wajd (religious ecstasy) is a gift from Allah".
  8. دیوبندیوں کے اک مجذوب کی کہانی..ارواح ثلاثہ سے
  9. میرے خیال میں اگر آپ اس پورےتهریڑ کا باغور مطالعہ کریں تو آپ کو وهابی کے هر اک اعتراض کا مفصل جواب مل جائے گا. ویسے کشمیر خان بهائی نے مختصر اور جامع طریقے سے اس کے جواب لکه دیے هیں .
  10. شکریہ سعد قادری بهائی
  11. جناب خلیل احمدی صاحب آپ کے پورے مضمون کا ایک ہی جواب ہے در حقیقت آپ خاتم النبیین ﷺ کا مفہوم درست نہیں سمجھ سکے ۔ خاتم النبیین ﷺ کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آ کر اس دروازہ کو بند کر دیا ہے جس دروازہ سے داخل ہو کر کوئی شخص نبی بنتا تھا اب کوئی بھی اس دروازے سے دوبارہ داخل نہیں ہو سکتا رہی بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تو ان کو نبی مکرم ﷺ سے قبل نبوت عطا ہو چکی اور وہ اس دروازہ سے داخل ہو چکے ہیں اور نبوت کے دروازہ سے جب وہ داخل ہو چکے ہیں اور زندہ ہیں انتقال نہیں فرمائے اوپر سے دروازہ بھی بند ہے اب اس سے مرزا غلام قادیانی یا دیگر مدعیان نبوت داخل نہیں ہو سکتے اور قرب قیامت میں وہی زندہ عیسی ابن مریم علیہ السلام جن کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا تو اپنی سابقہ عطا کردہ نبوت کے ساتھ زمین پر نازل ہوں گے ،اور چالیس سال یا اس اس سے کچھ زیادہ عمر مبارک زمین پر گزاریں گے آخر میں طبعی موت سے انتقال فرمائیں گے ۔ اب کوئی بے وقوف ہی ہو گا کہ جو یہ کہے عیسی ابن مریم جب آئیں گے تو ان کو نبوت عطا ہو گی اور پھر خاتم النبیین کا مفہوم ختم ہو گیا ؟ حالانکہ اس بے وقوف کو خاتم النبیین کا مفہوم ہی سمجھ نہیں آیا۔ فضیلت امت محمدیہ جناب پھر سوال تو یہ بھی ہو سکتا ہے بنی اسرائیل میں تو اللہ نے تین کتابیں نازل کیں ، صاحب شریعت نبی بھیجے اس کے علاوہ تمام نبی مستقل تھے تو امت محمدیہ کو صرف ایک کتاب اور ایک شریعت اور بقول قادیانی اگر نبوت ہے بھی تو وہ بھی صرف ظلی اور غیر مستقل ۔ بنی اسرائیل میں ایک وقت میں کئی نبی ہوتے تھے لیکن امت محمدیہ میں 1435 سالوں میں بقول قادیانی آیا بھی تو صرف ایک اور وہ بھی ظلی اور غیر مستقل بغیر کتاب اور شریعت کے ۔
  12. Kyun kay zayda tur ye riwayat aj kal wahabi ahlehadith hazraat paesh kartay hain tou munasib jana kay unko jawab unhi ki zuban main daye diya jaye..Hum ahlesunnat jub inhain tark e raffa yadeen main Hazrat Abdullah bin Masood wali riwayat paesh kartay hain tou ye wahan hazrat suffiyan sori ko mudalis sabit karnay ki koshish kartay hain. Lakin muain aap se bilkul itfaq karta hoon kay sunni ullama ki tahqiq ko hee yahan share karoon.
  13. Tawajah dilanay ka shukriya kashmir khan shb. JazakAllah
  14. Aslamualikum kashmir khan bhai main naye kuch arsa qabal Allama syed Muzaffar hussain shah shb. Ki taqreer sunni thi...jis main unho naye iss shair ko explain kiya tha...aur unho naye lafz baud ( paesh) kaha tha kay yahan lafz baud istamal hoa hai aue unho naue phir iss shair ka maatlab inhi alfaz main wazaih kiya tha .