ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    446
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

ghulamahmed17 last won the day on December 30 2018

ghulamahmed17 had the most liked content!

Community Reputation

-7 Poor

About ghulamahmed17

  • Rank
    Mureed of Molvi Tahir
  1. رضا عسقلانی صاحب میں نے آپ لوگوں کو بہت موقع و وقت دیا کہ شاید آپ دوستوں کو خوف خدا اور قبر کی شام یاد آ ہی جائے مگر آپ نے کسی بات پر دھیان نہیں دیا آپ کے خیال میں امام دار قطنی ، امام سلمی ، امام ذہبی ، امام ابن عبدالبر اور ابن کثیر جسے سب آئمہ و محدثین پاگل ہیں ، پھر شعیب الارناوط اور احمدمحمد شاکر جیسے محققین پاگل اور کم عقل ہیں ۔ مجھے سب سے زیادہ تعجب اس وقت ہوا جب آپ نے امام اھل سنت اور محدث کبیر الھیثمی کی تحقیق و حکم کو بھی لکھا کہ انہوں نے تسامح کھایا ہے ۔ میں آغاز میں ہی آپ کو جواب لکھ دیتا مگر میں آپ کے فنِ اسم الرجال کے علمی پہلو کو دیکھنا چاہتا ہے تھا کہ گہرائی کہاں تک ہے ؟ اور قادری سلطانی صاحب کے نعروں کی گونج کہاں تک سنائی دیتی ہے ۔ محترم رضا عسقلانی صاحب آپ نے جس بنیاد اور نقطہ پر ہر آئمہ اھل سنت اور ہر محدث و محقق کے حکم کو رد کیا اور تسامح قرار دیا آج میں آپ کی وہ بنیاد گرانے لگا ہوں اور وہ نقطہ مٹانے لگا ہوں ۔ اب یا تو اپنےیہ جملے ثابت کرنا یا اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اور ابوالغادیہ کو حضرت عمارؓ کا قاتل تسلیم کر لینا ۔ اور جن روایات پر محدثین و محققین کا " حدیثِ صحیح " "اسناد حسن " کا حکم مودجود ہے ان کو درست تسلیم کرنا اور امام ھیثمی کو روایت پر موجود تسامح کا حکم واپس لینا ۔ تو جناب سب سے پہلے آپ نے لکھا کہ : رضا عسقلانی صاحب آپ کا پہلاجملہ: " عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر اک مجہول راوی ہے جو قصہ بیان کرتا ہے " دوسرا جملہ : "عبدالاعلی بن عبداللہ بن عامر کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی نے نہیں کی " ابن حبان نےعبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ کو اپنی ثقات میں لکھ کر جہاں اس کے ثقہ ہونے کی تصدیق کی ہے اور امام اھل سنت اور محدث کبیر الھیثمی نے اس پر توثیق کی مہر لگائی ، شیعیب الارناوط ، احمد شاکر اور البانی جیسے محدثین و مھققین نے اس کی تصدیق کی کیا دیگر ایمہ اھل سنت اور محدثین نے بھی عبدِ الأعلَى بنِ عبدِ اللهِ بنِ عامرِ بنِ كريزٍ کے کسی وصف یا اوصاف کو بیان کیا ہے تو پڑھیے : کتاب : موسوعة رجال الكتب التسعة عبد الغفار سليمان البنداري | سيد كسروي حسون المرويات الموقوفة المسندة للخلفاء الراشدين الثلاثة الأول وبقية العشرة في التفسير جمع ودراسة وتخريج من أول القرآن الكريم إلى نهاية سورة طه - الرسالة العلمية كتاب المصاحف لابن أبي داود تذهيب تهذيب الكمال في أسماء الرجال محمد بن أحمد بن عثمان الذهبي أبو عبد الله شمس الدين تهذيب التهذيب أحمد بن علي بن محمد بن حجر العسقلاني تقريب التهذيب أحمد بن علي بن محمد بن حجر العسقلاني موسوعة الحديث الأسم : عبد الأعلى بن عبد الله بن عامر بن كريز بن ربيعة بن حبيب الشهرة : عبد الأعلى بن عبد الله القرشي , الكنيه: أبو عبد الرحمن النسب : البصري, القرشي, العبشمي الرتبة : صدوق حسن الحديث عاش في : البصرة رضا عسقلانی صاحب پھر آپ نے لکھا کہ : تو پڑھیے جناب اعلیٰ الكتاب: التاريخ الأوسط (مطبوع خطأ باسم التاريخ الصغير) المؤلف: محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله (المتوفى: 256هـ) 728 - حَدثنَا حرمي بن حَفْص ثَنَا مَرْثَدُ بْنُ عَامِرٍ سَمِعْتُ كُلْثُومَ بْنَ جَبْرٍ يَقُولُ كُنْتُ بِوَاسِطَ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ فَجَاءَ آذِنٌ فَقَالَ قَاتِلُ عَمَّارٍ بِالْبَابِ فَإِذَا هُوَ طَوِيلٌ فَقَالَ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْفَعُ أَهْلِي وَأَرِدُ عَلَيْهِمُ الْغَنَمَ فَذُكِرَ لَهُ عَمَّارٌ فَقَالَ كُنَّا نَعُدُّهُ حَنَّانًا حَتَّى سَمِعْتُهُ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ فَاسْتَقْبَلَنِي يَوْمَ صفّين فَقتلته ۔ 729 - حَدثنِي مُحَمَّد ثَنَا بن أبي عدي عَن بن عَوْنٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ كُنَّا بِوَاسِطَ عِنْدَ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامر فاستقى أَبُو غادية وقص الحَدِيث ---------------------- جناب رضا عسقلانی صاحب اگر امام بخاری بھی تسامح کھانے لگیں تو جناب اک نظر کرم امام مسلم کی طرف کر لینا ۔ امام مسلم لکھتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں : جناب رضا عسقلانی صاحب عین ممکن ہے کہ صحیحین کے اماموں نے تسامح کھایا ہو تو پھر جناب مُلا علی قاری الحنفیؒ کی بارگاہ میں جا کر پوچھنا کہ امام آپ نے کیا کھایا ہے آپ تو پکے حنفی تھے پھر ابوالغادیہ کو قاتل کیوں لکھ آئے ؟ جناب رضا عسقلانی صاحب ہو سکتا ہو مُلا علی قاری الحنفی آپ کو علامہ بدالدین عینی کے پاس بھیج دیں تو آپ جیسے ہی آگے بڑھیں گے موٹے حروف میں لکھا ہوگا کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ تھا ۔ جناب رضا عسقلانی صاحب یہاں تک تسلی ہو جائے تو بہت بہتر اگر نہ ہو تو باقی امام ، محدثین اور محققین بعد میں آپ کے سامنے لاوں گا ۔ بہت بہت شکریہ --------------------------------------
  2. جناب رضا عسقلانی صاحب : بہت افسوس کی بات ہے کہ آپ اپنے فورم پر اور اپنے لوگوں کے ایڈمن ہونے کا انتہائی ناجائز فائدہ اُٹھا رہے ہیں ۔ اب تو جن صاحب کا بہت پیارا نام محمد علی ہے جیسے لوگ بھی تشریف لا کر بد اخلاقی اور فضول کمنٹس لکھ رہے ہیں جو فرماتے ہیں کہ ہر باغی کافر ہوتا ہے اور جب جواب دیا جاتا ہے تو ایڈمن قادری سلطانی صاحب سے پورا ٹاپک ہی غائب کروا دیتے ہیں ۔ اب جب اس قدر جاہل لوگ پوسٹ پر فضول پوسٹ لگا نے لگیں تو سمجھتا ہوں کہ ایڈمن کیا چاہتا ہے ۔ میں مختصراً لکھتا ہوں کہ آپ نے جو اوپر سوالات اٹھائیں ہیں اگر اُن کا آپ معقول جواب دیتے تو میں بھی آپ کے جواب لکھتا مگر ایسا نہیں ہوا ۔ میں نے آپ سے بار بار پوچھا کہ کہ آپ میزان الاعتدال کی اس روایت پر موجود امام ذہبی کے قول کو کس طرح رد فرما رہے ہیں ۔ میں مکمل کتاب نہیں لگا رہا کہ کہیں جناب قادری سلطانی صاحب کو میری پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی زحمت نہ کرنا پڑے ۔ امام ذہبی کا اس روایت پر قول یہ تھا ۔ جناب رضا عسقلانی صاحب اس پر میں نے آپ سے سوال عرض کیا تھا کہ عسقلانی صاحب چلیں اس روایت کو میں بھی مان لیتا ہوں کہ درست نہیں مگر آپ روایت کے ساتھ امام ذہبی کا قول کیسے رد فرما سکتے ہیں جبکہ امام ذہبی کا اپنا قول کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمارؓ ہے اور اس کے ساتھ آپ نے امام دارِ قطنی کا قول بھی درج کیا کہ قاتل ابوالغادیہ ہے ۔ تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا : تو جناب رضا صاحب آپ نے یہ جواب لکھا :اور اس پر میں نے نہ صرف امام دار قطنی کے اس قول کو ان کی اپنی تصانیف سے ثابت کیا بلکہ ان کے شاگردِ خاص ابو عبدالراحمن السلمی کی کتاب" سؤالات السلمي للدارقطني " سے بھی ثابت کیا ۔ اور اس میں اس روی کا نام كلثوم بن جبر أبو محمد البصري بھی آپ جناب کی خدمت میں بحوالہ کتب پیش کیا ، اب بھی آپ ان کتب کے حوالہ جات میں جاکر پڑھ اور دیکھ سکتے ہیں ۔ پھرآپ جناب کی خدمت میں اس روی کی روایت کا صحیح اور حسن ہونا محققین و محدثین کی تصدیقاتت سے آپ کے سامنے رکھا ۔ اب ان تمام محدثین و محققین نے ان روایات کو " حدیث صحیح " اور " اسناد حسن " کیوں لکھا اس کی وجہ بھی آپ جناب کی خدمت میں كلثوم بن جبر أبو محمد البصري کی تصدیق رکھتا ہوں ، میرے پاس کافی کتب سے ان کی تصدیق موجود ہے مگر میں آپ کی خدمت میں چند ایک ضروری حوالہ جات رکھ دیتا ہوں ۔ پڑھیے ؛ جناب رضا عسقلانی صاحب " مسند احمد بن حنبل" کو کیوں ہر محقق اور محدث " حدیث صحیح اور اسناد حسن " لکھتا گیا اس کی وجہ کیا تھی اس کتاب کو بغور پڑھیں ۔ پڑھیے ؛ الكتاب : الجرح والتعديل مصدر الكتاب : موقع يعسوب [ ترقيم الكتاب موافق للمطبوع ] 926 - كلثوم بن جبر أبو محمد البصري والد ربيعة بن كلثوم روى عن ابى غادية مسلم بن يسار وسعيد بن جبير روى عنه عبد الله بن عون وحماد بن سلمة وعبد الوارث ومرثد بن عامر وابنه ربيعة بن كلثوم سمعت ابى يقول ذلك، نا عبد الرحمن انا عبد الله بن احمد بن محمد بن حنبل فيما كتب إلى قال سمعت ابى يقول كلثوم بن جبر ثقة، نا عبد الرحمن قال ذكره ابى عن اسحاق بن منصور عن يحيى بن معين انه قال كلثوم بن جبر ثقة. یہی پر میں مذید حوالہ پیش کرتا ہوں : بغية الرائد فى تحقيق مجمع الزوائد ومنبع الفوائد المؤلف: علي بن أبي بكر الهيثمي نور الدين المحقق: عبد الله الدرويش الناشر: دار الفكر رضا عسقلانی صاحب اب اس روایت جس کے پیش نظر آپ امام ذہبی کا قول کہ ابوالغادیہ ہی قاتلِ عمار ہے آپ نہیں مان رہے اسی روایت کے تحت ابوالغادیہ کا قاتل ہونا بھی پڑھ لیں اور اور باالخصوس اس جملہ کو کبھی نہ بھولنا کہ : قول:(( قتلہ ))۔ والمراد ابوالغادیہ جسنے عمارؓ کو قتل کیا۔ ابن کثیر کی پہلی کتاب کا ثبوت ابن کثیر کی کتاب کا دوسرا حوالہ: جناب رضا عسقلانی صاحب آپ کے سارے سوالات کے جوابات مکمل ہوئے ۔ شکریہ --------------------------------------
  3. ے جناب امام دارقطنی کے قول کا جواب ہو چکا آپ نے اس جواب نہیں دیا؟ امام ذہبی کے قول کا جواب دیا گیا جناب نے اس کا بھی جواب نہیں دیا؟؟ ابن کثیر اور ابن عبدالبر اندلسی کے قول کی دلیل ہے تو پیش فرما دیں ؟؟ کیونکہ بنا کسی صحیح دلیل کے کسی کو قاتل کہنا شرعا درست نہیں۔ علامہ سلمی نے اپنی بات نہیں کی بلکہ امام دارقطنی کا قول ہی ان سے روایت کیا ہے اس لئے ان کو الگ شمار کرنا درست نہیں۔ نورالدین طالب نے ذاتی کوئی بات نہیں بلکہ اس نے صرف حاشیہ سندھی تحقیق کر کے چھپوائی ہے۔ اس لئے خدا را تحقیق سے کام لیں ہمیں بتائیں شریعت میں قاتل ثابت کرنے کے لئے کتنے گواہ رکھے ہیں کیا آپ کے پاس صحیح سند سے عینی گواہ کی گواہی موجود ہے تو پیش کریں ورنہ ایسی بے دلیل اقوال کو شریعت خود تسلیم نہیں کرتی میاں۔ محترم رضا عسقلانی صاحب آپ کوئی محقق تو نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی آپ محدث ہیں کہ میں فقط آپ کی لکھی ہوئی بات کو اور فضول و من گھڑت جرح کو مان لوں ، کیا میں پاگل ہوں کہ بغیر کسی محقق اور محدث کی کتاب دیکھے آپ کی اس کاپی پیسٹ کو مان لوں جو کہ مختلف ناصبی فورمز سے اٹھا کر یہاں پیسٹ کی جا رہی ہے ۔ امام دارقطنی کی بات پوچھنا ہے تو امام ذہبی سے ہی پوچھ لیتے کہ آپ نے تو قاتل لکھا ہی تھا امام دار قطنی کا حوالہ کیوں اپنی کتاب میں لکھ دیا کہ امام دار قطنی فرماتے ہیں کہ ابوالغادیہ قاتل ہے ۔ پھر میں نے امام دار قطنی کی تین کتابیں لگائی ہیں کیا ان سے آپ کی تسلی نہیں ہوئی پھر عبدالرحمن السلمی جو کہ ان کے شاگرد ہیں ان کی کتاب جناب کے سامنے پڑی ہے ۔ راوی کا نام بھی موجود ہے روایات کا حوالہ بھی کتب میں درج ہے اور سب سے اہم بات کہ میں آتھ کتابوں سے ابوالغادیہ کو قاتل ثابت کر چکا ہوں ، ان شاءاللہ میں چند دنوں کے بعد اس مکمل پوسٹ کو مکمل حوالہ جات کے ساتھ اور آپ کی بحث کے ساتھ لگاؤں گا اگر یہاں تسلی نہ ہوئی تو وہاں ہمراہ نہ تمام ساتھیوں کے وہاں تشریف لے آنا وہاں مزید تسلی ہو جائے گی ان شاء اللہ ۔ پھر ابھی تو بات ہو رہی ہے حوالہ جات اور کتابیں آئیں گی اختتام پر میں پوچھو گا کہ آپ آخری حوالہ کی کتاب کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ پسند ہے کہ نہیں اس میں آپ کی پوری تحقیق لپیٹ دی جائے گی ان شاء اللہ آپ ہرگز فکر مند نہ ہوں ، ابھی تک آپ ایک بھی کتاب پیش کرنے میں ناکام ہیں ۔ نری باتوں سے کام نہ لیں مجھے کم از کم وہ کتابیں دیکھائیں جنہوں نے مسند احمد کی روایات کو ضیف ، موضوع یا باطل لکھا ہے ۔ میں بڑی شدت سے منتظر ہوں محترم ۔ شکریہ -----------------------------
  4. اب تک جن کتابوں سے ابوالغایہ کا قاتل ہونا ثابت کیا جا چکا ان کا مختصراً خلاصہ درج ذیل ہے ۔ أبو الغادية قَتَلَ عَمَّارَ (1): تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام المؤلف: الذهبي المجد الثانی / 330 المحقق: بشار عواد معروف حکم : إسناده حسن --------------------------- (2):مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: أحمد بن حنبل جلد/29 ، صفحہ/311 المحقق: شعيب الأرناؤوط وآخرون حکم : حدیثِ صحیح، و ھذا إسناده حسن ---------------------------- (3):مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: أحمد بن حنبل جلد/13، صفحہ/122 المحقق: أحمد محمد شاكر أبو الأشبال - حمزة الزين حکم : إسناده حسن ------------------------- (4): حاشية مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: نور الدين محمد عبد الهادي السندي الحنفی جلد/9 ، صفحہ/463 المحقق: نور الدين طالب الحنفی حکم : حاشیہ/وَكَانَ إذَا اسْتأْذن عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَيرَهُ يَقُوْلُ: قَاتِل عَمَّار بِالْبَاب -------------------------- (5):الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين المؤلف: مقبل بن هادي الوادعي جلد/2 ، صفحہ/ 86 المحقق: مقبل بن هادي الوادعي حکم : ھذا حدیثِ صحیح -------------------------------- (6):السلسلة الصحيحة المؤلف: محمد ناصرالدین البانی جلد/5 ، صفحہ/19-20 حکم : إسناده صحیح ------------------ (7):صحيح أخبار صفين والنهروان وعام الجماع المؤلف: فواز بن فرحان بن راضي الشمري جلد اول ، صفحہ /433-432 حکم : 432/ إسناده حسن، 433/ السلسلة الصحيحة(البانی) --------------------------- لجیے جناب رضا عسقلانی صاحب آج کا نیا حوالہ اور کتاب پڑھیں جس سے ابوالغادیہ کا قاتل ہونا دوٹوک الفاظ میں ثابت کر رہا ہوں۔ (8): سیدنا علی رضی اللہ عنہ المؤلف: علی محمد الصلابی صفحہ / 421-420 حکم : (1) الطبقات الکبریٰ/ اس کی سند صحیح ہے ۔(2):السلسلة الصحيحة (3): مسند احمد، اس کی سند حسن ہے ۔ ------------------------------------- جنابِ محترم رضا عسقلانی صاحب اس پہلے دارقطنی عبدالرحمٰن السمی امام نور الدين طالب الحنفی امام ذہبیؒ ابوالغادیہ کو قاتل قرار دے چکے ہیں ، اب ابنِ کثیر اور امام ابنِ عبدالبر نے بھی ابوالغادیہ کو قاتل قرار دیا ہے ۔ جو آپ پڑھ سکتے ہیں ۔ نوٹ : جناب رضا عسقلانی صاحب اختتام ہو گا تو ہرگز ہرگز کسی کسی ایسے کتاب یا محدث و محقق سے ابوالغادیہ کو قاتل ثابت نہیں کروں گا جس پر آپ اعتراض کر سکیں ۔ جب بات کا اختتام ہو گا تو آپ کو یہ گلہ اور اعتراض ہرگز نہیں ہو گا کہ حوالہ ،محدث و محقق یا کتاب آپ کی پسند کی نہیں ہے ۔ ان شاءاللہ ---------------------------------------------
  5. رضا عسقلانی صاحب جس اھل حدیث فورم سے آپ نے کاپی پیسٹ کیا وہ یہ ہے ۔ اور یہاں ساری روایات کو حافظ زبیر علی صاحب نے ضعیف نہیں کہا ۔ جس حدیث کو انہوں نے بنیاد بنایا وہ میں بعد میں آپ کو بتاؤں گا ۔ آپ نے پہلے بھی یہاں سے کاپی پیسٹ کیا اور اب ان کی پوری تحریر یہاں ڈال دی ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ مجھے کتاب کی اجازت بھی نہیں دے رہے اور خود پوری کی پوری اھل حدیث تحقیق سے ضیف ثابت فرما رہے ہیں ۔ اور انہیں کی اس فورم کی مکمل تحریر لگا دی ۔ اب میں افسوس ہی کر سکتا ہوں ۔ باقی حافظ زبیر صاحب نے قاتل کیوں کہا بعد میں کسی وقت دوں گا ۔ انشاء اللہ
  6. دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو۔۔۔۔ کہ کرامات کرو ہو --------------------- مجھے رضا عسقلانی صاحب کا جواب چاہیے آپ کی جہلانہ بڑھکوں کی کوئی اوقات نہیں ، فلاں کی کتاب نہ لگانا جیسی باتوں سے گریز فرمائیں ، سب کچھ سامنے آئے گا ، آپ کو خبر ہی نہیں کہ اختتام کس بات پر ہو گا لہذا صبر کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں ۔ میں نے حافظ زبیر علی صاحب کا جواب مانگا ہے اس کے بعد باقی کتابیں بھی آئیں گی اور مکمل قاتل بھی سامنے آئے گا ۔ تسامح کا نعرہ ملیامیٹ ہو جائے گا ۔ ان شاء اللہ ۔ عسقلانی صاحب کو حافظ زبیر علی زئی کی وضاحت فرما لینے دیں ۔ ------------------------------
  7. محترم قادری سلطانی صاحب لکھتے ہیں کہ : " اب اگر کسی بھی غیر مقلد سلفی دیوبابندی کا حوالہ دیا تو یہ آپ کی شکست سمجھی جاۓ گی کیوں کہ علماء اہلسنت میں سے آپ ابھی تک کوئی صحیح مستند حوالہ پیش نہیں کر سکے " جناب کمال کی بات کی ہے آپ نے ، میری ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی ، او میرے پیارے قادری سلطانی یہ نت نئے اصول کس دشت سے نکال لیتے ہیں آپ ، آپ کے اتنی دور سے بُلائے گئے محترم دوست عسقلانی صاحب لکھتے ہیں کہ: " زئی نے ساری روایات کو ضعیف قرار دیا ہے " ایک اور جگہ رضا عسقلانی صاحب لکھتے ہیں کہ : " آخری بات یہ ہے کہ شیعب الارنووط اور احمد شاکر یہ سلفی تھے اگر ان لوگوں نے اگر تحسین کی تو زبیر علی زئی نے جو خود سلفی تھا اس نے اسی روایت کی تضعیف کی ہے ۔" قادری سلطانی صاحب پہلے تو آپ اپنے ہی ہاتھوں سے لکھی ہوئی ان دونؤں بات کی تصدیق کریں گے کہ واقعی ہی زبیر زئی نے ابوالغادیہ کے قاتل ہونے کی سای کی ساری روایات کی تضیف کی ہے ۔ یا پھر محترم رضا عسقلانی صاحب نے بددیانی کی اور جھوٹ بول کر اپنی تحقیق کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنا چاہا اس لیے کہ: یہی اھل حدیث عالم دین حافظ زبیر علی زئی صاحب ابوالغادیہ کو حضرت عمار بن یاسرؓ کا جنگ صفین میں قاتل قرار دے چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ : خلاصہ حضرت عمارؓ حضرت علی ؓ کے لشکر میں تھے اور اُن کو سامنے شامی لشکر نے قتل کیا ۔ اور قتل کرنے والا ابوالغادیہ شامی تھا جو کہ امیر معاویہ کے لشکر میں تھا ۔ اور رضا عسقلانی صاحب کا قول یہ ہے کہ : " زئی نے ساری روایات کو ضعیف قرار دیا ہے " اب اگر زئی نے ابو الغادیہ کے قاتل ہونے کی ساری روایات کو ہی ضعیف قرار دیا ہے تو ابوالغادیہ کو قاتل کس روایت کی بنیاد پر قرار دہا ہے ؟ اب یا تو رضا عسقلانی صاحب نے کمال کا جھوٹ بولا اورلوگوں کو گمراہ کیا یا پھر اھل حدیث کے عالم دین حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اپنے اور تمام اھلِ حدیث پر ظلم کیا اور جھوٹ بولتے ہوئےیہ دوٹوک اعلان کیا کہ ابوالغادیہ شامی ہی حضرت عمارؓ کا قاتل ہے ۔جو کہ امیر معاویہ کے لشکر میں تھا ۔ اور یہی بات میں آپ کے جواب کے بعد اپنے اھل حدیث دوستوں سے بھی پوچھوں گا مگر آپ کے جواب سے پہلے میں ہر گز یہ بات سوشل میڈیا پر موجود دوستوں سے نہیں پوچھو گا تاوقتکہ آپ لوگ اس کا معقول جواب نہ لکھ دیں ۔ رضا عسقلانی صاحب اور جناب قادری سلطانی صاحب خوب غور غور سے دوتین بار اس کو سنیں تاکہ آپ کی مکمل تسلی ہو جائے َ -------------------- --------------------------- یاللعجب دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ تم قتل کرو ہو۔۔۔۔ کہ کرامات کرو ہو ---------------------
  8. جناب رضا عسقلانی صاحب جوں جوں میں کتابوں کے حوالہ جات لگا رہا ہوں آپ کا رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ میں نے آغاز میں عرض کیا کہ ابوالغادیہ کا قاتل ہونا ثابت ہے اور اس کے لیے چند ایک آئمہ اھل سنت کے حوالہ جات دئیے تو آپ نے ان کی مغفرت کی دُعا فرماتے ہوئے تسامح قرار دیا اور آپ نے لکھا کہ: " یہ اُن کا تسامح ہے ورنہ تحقیق کے میدان میں ایسی کوئی بات صحیح سند سے ثابت نہیں " آپ کی اس بات پر جب میں نے کتابوں سے صحیح اسناد سے ثابت کیا کہ بات ان کتابوں سے ثابت ہے اور ثابت بھی تحقیق کے میدان والے ہی کر رہے ہیں تو اب فرماتے ہیں کہ یہ لوگ تو سلفی ہیں اور میرے لیے حجت نہیں ۔ الٹا آپ نے مجھے کہا اور لکھا کہ یہ یزدید کو امیر المؤمنین مانتے ہیں کیا بھی مانوں گا ۔ محترم میرے نزدیک کافر ہے میں کافر کو امیرالمؤمنین کیوں مانوں گا ، یہ تو قدیم ناصبی کا نعرہ ہے اگر امیر المؤمنین کوئی مانے گا تو ضرور کوئی انہیں قدیمی نواصب کے آج کے یاروں میں مانے گا جو آج بھی یزید کو کافر کہنے سے گریزاں ہیں اور یزید کو ابو بکرؓ و عمرؓ کی سنت خلیفہ بنائے جانےاورثابت کرنے کی تگ و دو میں سرگرداں ہیں ۔ میرے نزدیک کو وہ لعنتی کافر و مردود ہے ۔ اور آپ جناب کے نزدیک وہ کس کی سنت پر خلیفہ بنا آپ بہتر جانتے ہوں گے ۔ میں تو پریشان ہوں کہ وہ روایات جن کی بنیاد پر آئمہ اھلِ سنت نے ابوالغادیہ کو قاتل قرار دیا ان کو آج کے محققین صحیح و حسن مان رہے ہیں اور وہابی اور اھل حدیث ان کی اسناد کو صحیح و حسن لکھ رہے ہیں تو آج کا اھل سنت کا دعویٰ دار کس بنیاد پر ان آئمہ اھل سنت کے ابوالغادیہ کو قاتل کرنے دینے کو تسامح قرار دے رہے ہیں ؟ آخر ایسا کیوں ہیں ؟ ہر صحابی جنتی جنتی کا نعرہ تو سپاہ صحابہ والوں کا ہوا کرتا تھا یا وہابی نواصب کا تھا یا ابن ملجم جیسے قاتل کو بھی اجتہاد قرار دے کر اک ثواب دینے والوں کا تھا مگر آج آپ کو کیا ہوا کہ اک قاتل جو اس باغی گروہ میں تھا جو بقول کریم آقاﷺ کے آگ اور جہنم کی طرف بلانے والا اور باغی گروہ تھا ۔ وہ باغی گروہ تو لشکرِ حیدرِ کو پہلے ہی جہنم کی طرف بلا رہا تھا مگر عمارؓ تو انہیں خلیفہِ راشد کی اطاعت اور جنت کی طرف بلا ر تھے ۔ اور اسی دعوت ِ جنت دینے کے جرم میں ان کو قتل کر دیا گیا ۔ جناب رضا عسقلانی صاحب آپ اس قاتل کو قاتل ماننے سے بھی انکاری ہیں آخر کیوں ؟ قادری سلطانی صاحب آپ کو بار بار کہ رہا ہوں کہ مجھے بھی غیر اخلاقی حرکات پر مجبور نہ کریں اور بہتر یہی ہے کہ زبان کو کنٹرول میں رکھیں اپنے گھر کا ناجائز فائدہ مت اُٹھائیں ۔ آپ فرما چکے ہیں تو فرماتے آئیں ، میں اس سے آپ کو کب روک رہا ہوں ۔ آپ کتنی کتابیں لوگوں کو دیکھا چکے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔ اسی طرح فرماتے آئیں ۔ پہلےپیش کی گئی کتابوں کا خلاصہ : أبو الغادية قَتَلَ عَمَّارَ (1): تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام المؤلف: الذهبي المجد الثانی / 330 المحقق: بشار عواد معروف حکم : إسناده حسن --------------------------- (2):مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: أحمد بن حنبل جلد/29 ، صفحہ/311 المحقق: شعيب الأرناؤوط وآخرون حکم : حدیثِ صحیح، و ھذا إسناده حسن ---------------------------- (3):مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: أحمد بن حنبل جلد/13، صفحہ/122 المحقق: أحمد محمد شاكر أبو الأشبال - حمزة الزين حکم : إسناده حسن ------------------------- (4): حاشية مسند الإمام أحمد بن حنبل المؤلف: نور الدين محمد عبد الهادي السندي الحنفی جلد/9 ، صفحہ/463 المحقق: نور الدين طالب الحنفی حکم : حاشیہ/وَكَانَ إذَا اسْتأْذن عَلَى مُعَاوِيَةَ وَغَيرَهُ يَقُوْلُ: قَاتِل عَمَّار بِالْبَاب -------------------------- (5):الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين المؤلف: مقبل بن هادي الوادعي جلد/2 ، صفحہ/ 86 المحقق: مقبل بن هادي الوادعي حکم : ھذا حدیثِ صحیح -------------------------------- آج میں دو کتابیں مذید آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس میں ابوالغادیہ کو قاتل قرار دینے والی روایات کو صحیح اور حسن لکھا گیا ہے ۔ آج کی نئی پہلی کتاب وھذا اسناد صحیح رجالہ ثقات رجال مسلم قلت ( میں البانی کہتا ہوں) اسناد صحیح ہیں ۔ ----------------- آج کی دوسری کتاب اسنادہ حسن رضا عسقلانی صاحب غور فرمائیے ! نمبر3: مسند احمد حاشیہ المسند للسندی اور صحیح البانی ------------------------------- جناب محترم رضا عسقلانی صاحب آج سات کتابوں سے ابوالغادیہ کا قاتل ہونا ثابت ہو چکا جس کے بارے آپ نے اک جملہ تحریر فرمایا تھا کہ : " یہ اُن کا تسامح ہے ورنہ تحقیق کے میدان میں ایسی کوئی بات صحیح سند سے ثابت نہیں " شکریہ ---------------------------------
  9. ان باتوں کی کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ آپ بھاگنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ورنہ اھل سنت میں سوائے اھل تشیع کی کتابوں اور حوالوں کے ہر مسلک کے حوالہ جات دئیے اور قبول کیے جاتے ہیں اور موصوف رضا عسقلانی نے کی ہر دوسری تیسری سطر میں وہابی اور اھل حدیث علماء کے حوالہجات موجود ہیں ۔ ابھی ابھی محترم زبیر علی زئی کا حوالہ خود ہی دے کر خود ہی بھاگ چکے ہیں ۔ میٹھا میٹھا ہڑپ ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو ۔ واہ کیا بات ہے آپ کی حجت کی ۔ مجھے آپ کی حجت کو نہیں روایت کو صحیح ثابت کرنا اور ابوالغادیہ کو بحثیت قاتل عمارؓ سامنے لانا ہے ۔ میرے نزیک صرف اہل تشیع کا حوالہ حجت نہیں ۔ قادری سلطانی اور رضا عسقلانی صاحبان و حضرت 4 کتابوں سے روایت ثابت کر چکا باقی کا انتظار رکھو ۔ کوئی بات بے اصولی نہیں کروں گا ۔ اور آپ دوستوں کی اک اک پوسٹ اور حوالہ میرے پاس محفوظ ہے آپ کے سارے قاعدے اور اصول کسی بھی وقت اس کو فیس بک پر شئیر کر کے آپ سے لوگوں میں بات کی جا سکتی ہے اور حق کا فیصلہ ہو جائے گا ۔ مجھے کتابوں کی ترتیب یاد ہے میں کوئی کتاب دوبارہ نہیں لگاؤں گا ۔ جو جو رضا عسقلانی صاحب کو پیش کی جا چکی وہ دوبارہ نہیں لگیں گی ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ جناب قادری سلطانی صاحب بہتر ہے کہ زبان کو کنٹرول میں رکھو اور جس جس کو بلانا ہے بلا لاو ۔ پہلے آپ کو چین کو سفر کرنا پڑا یہ تو رائیگاں جائے گا ہی نئے سفر کے لیے رختِ سفر باند رکھو ۔ یہ تو قاسم علی نے ابوالغادیہ کو قاتل ثابت کرنا ہی کرنا ہے ، ان شاء اللہ اور ان شاء اللہ آخر میں مولیٰ علی علیہ السلام کا اسی فورم پر اسی مسئلہ پر جھنڈا لہرانا ہی لہرانا ہے ۔ اخلاق سے چلو گے تو بہت اخلاق سے چلو گا اور اگر غلط رویہ اپناؤ گے تو اپنا ہی ڈھول بجواؤ گے لہذا خود کو کنٹرول میں رکھیے اور نئی کتاب کے منتظر رہیں ۔ پانچویں کتاب سے ثابت کرو گا ۔ ان شاء اللہ
  10. پہلے عسقلانی صاحب زبیر زئی کے حوالہ کا جواب دیں وہ بھی دیکھا دوں گا جو آپ دیکھنا نہیں چاہتے ۔ ان شاء اللہ کیا زبیر علی زئی کے حوالہ کے مطابق ابوالغادیہ کو قاتل مانتے ہیں یا نہیں ؟ --------------------------
  11. جناب رضا عسقلانی صاحب محترم یہ کاٹے لگانے کا کام اک چار پانچ سال کا بچہ بھی کر سکتا ہے یہ آپ کا سب سے بڑا تحقیقی کارنامہ ہے ، او بھائی میں چار کتابوں سے اس روایت کا صحیح اور حسن ہونا ثابت کر چکا جو کہ آپ کے لیے ان میں سے کوئی بھی حجت نہیں ، امام دارقطنی آپ کے لیے حجت نہیں ، عبدالرحمٰن اسلمی آپ کے لیے حجت نہیں وہابی و اھل حدیث محققین جن کی تحقیق پورے عالم اسلام میں تسلیم شدہ ہے وہ آپ کے لیے حجت نہیں ، ابھی تک ایک بھی کتاب سے اس روایت پر حکم دیکھانے سے آپ بےبس و مجبور ہیں ۔ یہ وہابی اور سلفی کے حوالے اوپر کس نے لکھ رہے ہیں وہ اپنی تحریر پڑھیں پلیز ، زبیر زئی ، ارشاد اثری کی تحریر کی اہمیت اوپر کس نے لکھ رکھی ہے ۔ یہ آپ کو شاید یاد نہ رہا ہو مگر میں اس فضول گفتگو میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ اس سے پہلے کہ میں نئی کتاب لگاؤں کیا آپ مجھے بتانا پسند فرمائیں گے کہ حافظ زبیر علی زئی صاحب کا آپ نے جو یہ حوالہ لگایا ہے اس حوالہ کے مطابق آپ یہ مان چکے ہیں کہ امیر معاویہ کے باغی گروہ میں سے قاتل ابوالغادیہ ہی تھا ۔ مگر آپ رضا عسقلانی صاحب کو روایت میں سے جہنم جانے والی بات پر اعتراض ہے ۔ آپ کے جواب کے بعد میں پھر مذید کتابیں پیش کروں گا ۔ اگر آپ ابوالغادیہ کو قاتل تسلیم کرچکے ہوں تو پھر میں مختلف حوالہ جات جہنم والی روایت کے بارے میں لگاؤں گا ۔ آپ پہلے بتائیں اور وضاحت کر دیں کہ زبیر علی زئی کے حوالہ کے مطابق آپ ابوالغادیہ کو قاتل مانتے ہیں یا اس کا بھی انکار فرماتے ہیں کیوں کہ یہ حوالہ آپ خود اپنے مبارک ہاتھوں سے لگا چکے ہیں ۔ --------------------------------
  12. مقبل بن هادي الوادعي کون ؟ مقبل بن هادي الوادعي کی کتاب تحقیق و حکم
  13. اُمید کی جاتی ہے کہ جناب محترم رضا عسقلانی صاحب اس روایت پر پر محدثین و محققین کی آراء کا رد کتب اھلِ سنت کی روشنی میں ہی پیش فرمائیں گے ۔ ------------------------------------------------
  14. باقی جو بھی قاتل ہونے کی باتیں ہیں سب ضعیف و موضوع روایت کی بنیاد پر بنے ہوئے ہیں اس لئے جن ائمہ نے بنا کسی تحقیق سے حضرت ابوالغادیہ کو قاتل کہا یہ ان کا تسامح ہے ورنہ تحقیق کے میدان میں ایسی کوئی بات صحیح سند سے ثابت نہیں۔ اللہ عزوجل ائمہ حدیث کی مغفرت فرمائے۔ حدیثِ صحیح -------------- اُردو ترجمہ میں پڑھیے -------------------------- حدیثِ صحیح ---------------------------------------- قادری سلطانی صاحب کو اک بڑی بڑھک لگاتے ہوئے پڑھیے ۔
  15. ہر وقت فضول بڑھکیں مارنے سے بہت بہتر ہوتا کہ آپ جناب امام دارِ قطنی کے قول کو ضعیف ثابت کر کے پھر لوگوں کے سامنے خوب نعرے بازی کرتے ۔ ----------------------------