ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    349
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. حوالہ:سوال/ عرض :-خلافتِ راشدہ کس کس کی خلافت ہے؟جواب/ ارشاد:- ابو بکرصدیق، عمرفاروق، عثمان غنی، مولیٰ علی، امام حسن، امیر معاویہ، عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہم کی خلافتِ راشدہ تھی اور اب سیدنا مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافتِ راشدہ ہو گی۔------------------ کیا صحیح ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان خلیفہِ رادش تھے ؟
  2. کیا فرماتے ہیں آپ اس ظالمانہ قتل پر ؟؟؟ -----------
  3. سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ممبروں پر گالیاں دینے کا بانی معاویہ بن ابوسفیان تھا ۔ ------------- سن 51 ہجری کے واقعات------------------------" امیر معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہمامعاویہ ابن ابی سفیانؓ نے 41 ہجری میں جب مغیرہ بن شعبہؓ کو والی کوفہ مقرر کیا تو مغیرہؓ کو بلا بھیجا ۔ حقِ تعالیٰ کیحمد وثنا کے بعد کہا: عاقل کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر علمس کا ایک شعراس مضمون کا پڑھ کر کہا کہ مرد عاقل بات کو بے کہے ہوئے سمجھ لیتا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ بہت سی باتیں تم کو سمجھاؤں، مگر اس ذکر کو چھوڑ دیتا ہوں کہ تمہاری بصیرت و دانائی پر مجھے بھروسا ہے کہ تم خوب جانتے ہو کن باتوں میں میری خوشنودی میری حکومت کی ترقی میری رعیت کی بہتری ہے ۔ ہاں ایک امر کا ذکر کیے بغیر میں نہیں رہ سکتا ، علیؓ کو گالی دینے میں اُن کی مزمت کرنے میں اور عثمانؓ کے لیے مغفرت و رحمت کرنے میں پھر اصحابِ علیؓ کی عیب جوئی میں اُن کو اپنے سے دور رکھنے اُن کی بات نہ سننے میں اس کے برخلاف شیعہ عثمانؓ کی ستائش کرنے میں اُن کے ساتھ مل کر رہنے میں آپن کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہ کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغیرہؓ نے سات برس چند مہینے معاویہؓ کی طرف سے حکومت کی ہے اور بڑے نیک سیرت امن و عافیت کے دل سے خواہش مند رہتے تھے مگر علیؓ کو بُرا کہنا ، اُن کی مذمت کرنا ، قاتلانِ عثمانؓ پر لعنت اُن کی عیب جوئی کرنا عثمانؓ کے لیے دُعائے رحمت و مغفرت اور اُن کے اصحاب کے لیے بے لوث ہونے کو ثابت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا ۔ " تاریخِ طبری ، جلد/4 ، حصہ اوّل ، ص / 82 معاویہ بن ابو سفیا کا یہ جملہ: " ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، " " علیؓ کو گالی دینا اور مذمت کرنا ، عثمانؓ کے لیے رحمت کی دُعا اور مغفرت مانگنا کبھی ترک نہیں کرنا " ۔ جمل من أنساب الأشراف المؤلف: أحمد بن يحي بن جابر البلاذري المحقق: سهيل زكار - رياض زركلي سنة النشر: 1417 - 1997' https://archive.org/stream/FP32796/05_32800#page/n251/mode/2up ----------------- مرآة الزمان في تواريخ الأعيان المؤلف: شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي» https://archive.org/stream/FP144301/07_144307#page/n222/mode/2up -------------- الكتاب: الكامل في التاريخ (ط. العلمية) المؤلف: علي بن محمد بن محمد ابن الأثير الجزري عز الدين أبو الحسن الناشر: دار الكتب العلمية https://archive.org/stream/WAQkamilt/kamilt03#page/n326/mode/2up --------------- عنوان الكتاب: الخطابة وإعداد الخطيب المؤلف: عبد الجليل عبده شلبي link https://archive.org/details/FP84363/page/n251 ------------------------------------------------- ان سب کتابوں میں موجود ہے ۔ أن مُعَاوِيَة بن أَبِي سُفْيَانَ لما ولي الْمُغِيرَة بن شُعْبَةَ الْكُوفَة فِي جمادى سنة إحدى وأربعين دعاه، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فإن لذي الحلم قبل الْيَوْم مَا تقرع العصا، وَقَدْ قَالَ المتلمس: لذي الحلم قبل الْيَوْم مَا تقرع العصا ... وما علم الإنسان إلا ليعلماوَقَدْ يجزي عنك الحكيم بغير التعليم، وَقَدْ أردت إيصاءك بأشياء كثيرة، فأنا تاركها اعتمادا عَلَى بصرك بِمَا يرضيني ويسعد سلطاني، ويصلح بِهِ رعيتي، ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، والعيب عَلَى أَصْحَاب علي، والإقصاء لَهُمْ، وترك الاستماع مِنْهُمْ ... تاريخ طبري‌ ،‌ ج5 ، ص253 باب سنه احدی و خمسین المؤلف: محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري (المتوفى: 310هـ)، (صلة تاريخ الطبري لعريب بن سعد القرطبي، المتوفى: 369هـ)، الناشر: دار التراث - بيروت، الطبعة: الثانية - 1387 هـ، عدد الأجزاء: 11 . https://archive.org/stream/WAQ17280/trm05#page/n251/mode/2up ------------ Urdu : Link https://archive.org/stream/Tareekh-e-Tabri-Urdu/Tareekh-e-Tabri-4-of-7#page/n81/mode/2up/ ------------------- 🍁🍁🍁🍁🍁 معاویہ کے دربار میں حضرت علیؓپر تبرا ہوتا تھا ۔مولانا اشرف علی دیوبندی کا اعتراف-----------------مولانا عبدالحی صاحب کو روک کر سبحان علی سے کہا کہ بتاؤ ! حضرت علیؓ کے دربار میں امیر معاویہ پر تبرا ہوتا تھا ؟ اس نے کہا کہ نہیں حضرت علیؓ کا دربار ہجو گوئی سے پاک تھا ۔ پھر پوچھا کہ : حضرت معاویہ کے یہاں حضرت علیؓ پر تبرا ہوتا تھا ؟ کہا : کہا کہ بے شک ہوتا تھا ۔ ------------------------- ارواحِ ثلاثہ ، صفحہ نمبر/ 101 --------------- امام غزالی مولیٰ علیؓ پر بنو اُمیہ کےسَب و شتم کے بارے لکھتے ہیں:" پھر تمام جمہوریوں کا اجماع ہے کہ ہزار مہینوں تک سیّدنا علیؓ پر ممبروں پر سب و شتم کیا گیا " ۔ مجموعہ رسائل الامام الغزالی ، صفحہ نمبر/ 484 سر العالمین وکشف مافی الدارین ،صفحہ نمبر/8 --------------------
  4. قادری سلطانی صاحب عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے ۔ ابھی نجانے آپ کے ساتھ کیا کیا ہو گا ۔ اس لیے بڑھکوں کا فائدہ نہیں ۔ سعیدی صاحب کر جواب لکھنے دیا کریں ۔ البانی والی حدیث پر اپنی جہالت یاد رکھنا کہ کس طرح میں نے آپ کی جہالت کا پردہ فاش کیا َ ----------------------
  5. قادری سلطانی صاحب میں آپ کی اس بات کو سوائے جہالت کے اور کیا کہ سکتا ہوں ، آپ جیسے دو تین جہلاء اگر مذید بریلوی مکتبہ فکر کو اس فورم پر مل جائیں تو کیا ہی بات ہے ۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ آپ کو پوسٹیں لگانے کا بہت شوق ہے مگر اس قدر جہالت پسند ہو کہ آپ کو البانی کی کتاب کے نام تک کا نہیں بتا ، جاہل مفتی قادری سلطانی صاحب کتاب کا نام ہی " سلسلہ احادیث صحیحیہ " ہے یعنی جس میں ساری کی ساری احادیث پر صحیح کا حکم ہے ۔ اب راویوں پر ہر حدیث کے نیچے جرح و تعدیل کی جاتی ہے اور ساتھ ہی جرح و تعدیل کے بعد حکم بھی لگا دیا جاتا ہے ۔ اب جرح و تعدیل کیا ہوتی ہے قادری سلطانی صاحب اپنی جہالت کا دروازہ بند کر کے پڑھیں ۔ اس کتاب میں موجود سب احادیث پر البانی کا صحیح حدیث کا حکم ہے ۔ مگر مبغضینِ اہل بیت کو یہ بات اس لیے سمجھ نہیں آتی کہ وہ بدبخت سچ کو جھوٹ میں بدلنے کی کوشش میں ہیں ۔ اب حرامیوں اور لعنیتوں مروانیوں کو آپ صرف اس لیے ضیف ثابت کرنے پر بضد ہو کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو سب سے پہلے کریم آقاﷺ کے پریشان کن خواب کی تعبیر ہادی و مہدی اور مجتہد معاویہ بن ابوسفیان پر جائے گی جس نے سب سے پہلے مروان لعنتی کو مدینہ کا گورنر بنا کر مسجدِ نبویﷺ میں ممبر رسولﷺ پر بٹھایا اور بندروں کو کریؐ آقاﷺ کے ممبر پر نچوایا ۔ علم جرح وتعدیل میں راویان ِحدیث کی عدالت وثقاہت اور ان کے مراتب پر بحث کی جاتی ہے جرح سے مراد روایانِ حدیث کے وہ عیوب بیان کرنا جن کی وجہ سے ان کی عدالت ساقط ہوجاتی ہے او ران کی روایت کردہ حدیث رد کر دی جاتی ہے تعدیل سے مراد روائ حدیث کے عادل ہونے کے بارے میں بتلانا اور حکم لگانا کہ وہ عادل یاضابط ہے ۔ اور آخری فیصلہ محدث یا محقق کے حکم کا ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیث پر البانی کا حکم حدیثِ صحیحیہ کا ہے ۔ مگر جناب قادری سلطانی صاحب آپ تو اس دھن میں ہو کہ اپنا ایمان جاتا ہے یا رہتا ہے کسی طرح بھی ہادی و مہدی اور مجتہد معاویہ بن ابوسفیان کو بچایا جائے اس کے لیے چاہے جتنی بھی جہالت کا اظہار کیوں نہ کرنا پڑے ۔ اب میں البانی کی اسی حدیث پر جس کو اس نے صحیح کہا کچھ اور محدثین و محققین اور کتابیں لگا رہا ہوں ان کو پڑھو اور اپنی اموی اندھی عقیدت پر ماتم کرو اور اپنی جہالت اور کم علمی و کم عقلی پر توجہ دو ، کہ آپ کس قدر ان پڑھ اور جاہل ہو ۔ سب حوالہ جات پر حکم اور اسناد پڑھو اور شرم سے ڈوب مرو جاہل مفتی ۔ قادری سلطانی صاحب پڑھتے جائیں اور اپنی جہالت دور کرتے جائیں ۔ قادری سلطانی صاحب پڑھتے جائیں اور اپنی جہالت دور کرتے جائیں ۔ قادری سلطانی صاحب پڑھتے جائیں اور اپنی جہالت دور کرتے جائیں ۔ قادری سلطانی صاحب پڑھتے جائیں اور اپنی جہالت دور کرتے جائیں ۔ قادری سلطانی صاحب پڑھتے جائیں اور اپنی جہالت دور کرتے جائیں ۔ قادری سلطانی اور نہیں تو اپنے اس بریلوی رضوی مترجم کو ہی پڑھ لیتے ۔ ------------------------------
  6. قادری سلطانی صاحب آپ کو پوسٹ لگانے کا شوق کمال ہے ۔ مگر جہالت اس کمال سے بھی چار قدم آگے ہیں ۔ او کم عقل انسان کتاب کا نام ہی پڑھ لیتے کہ البانی نے کس نام سے کتاب لکھی ہے ۔ اور نیچے آپ کو محقق کا حکم نظر نہیں آ رہا مگر آپ پھر بھی راوی پر بات کر رہے ہیں ۔ محققین و محدثین نے حدیث پر حکم کیا لگایا ہے ؟ اور آپ کیا جہلانہ باتیں کر رہے ہیں ۔ افسوس ہے آپ جیسے کم علم محققین و محدثین پر ۔ اور محدثین اور محق کا حکم چھوڑ دیں اور آپ کا حکم مان لیں ، ویسے کہاں کے آپ محقق اور محدث ہیں ؟ بغض اور جہالت نے آپ کی آنکھوں پر جہالت کی پٹی چڑھا کر رکھی ہے اس کا بندوبست فرمائیں اور حدیث حدیث صحیح ہے ۔ افسوس محبان بنو امیہ پر ----------------------------
  7. عقل کے ندھے کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ اس لیے آپ کو نظر نہیں آئے گا ۔ سب سے پہلے میں نے البانی سے اس حدیث کو صحیح ثابت کر چکا ہوں ۔ پھر مفتی وسیم اکرم القادری بریلوی نے اس البانی کی تصدیق کرتے ہوئے سب سے آخری حوالہ وہی البانی سے احادیث صحیحہ والا لکھا اور اس کی تصدیق کی پھر سید محمد امیر شاہ قادری گیلانی بریلوی نے اسناد کو خود صحیح لکھا ۔ جو لکھا اک اندھے کو بھی نظر آ جاتا ہے ۔ قادری سلطانی صاحب اس طرح تین محققین نے اس حدیث کی تصدیق کر دی اب آپ چار پیش کر کے یا کم از کم تین ہی پیش کر دیں میں اس کو ضیف مان لوں گا ۔ کیا نظر آنا بھی بند ہو گیا ہے ۔ اس کو میں آپ کی جہالت کہوں یاتعصب اور بغض اس کا فیصلہ قادری سلطانی صاحب آپ خود فرمائیں ۔ ---------------------------
  8. قادری سلطانی جھوٹ بولتے ہیں آپ میں نے جو احادیث پیش کیں وہ بنو امیہ کے بارے میں تھیں ۔ اور ان میں سے جو اسناد کے ساتھ پیش کیں ان پر محدثین اور محققین کا حکم لکھا ہے اگر جناب آپ اس کو نہیں مانتے تو کسی بھی محدث اور محقق کی کتاب آپ پیش کر کے اس کو ثابت کر دو کہ اس ایک نے حکم صحیح کا لکھا اور ان دو نے اس کو ضیف اور شاذ لکھا ۔ ہمت کرو اور ثابت کرو مگر یہ آپ کا لکھا ہوا تو میں کیا کوئی بھی یقین نہیں کرتا جب تک کتاب پیش نی کی جائے ۔ جوغلط بیانی آپ کر رہے ہیں کہ میری اسناد والی روایات کو آپ جناب نے ضیف ثابت کیا ہے تو یہ آپ کی غلط بیانی اور صریحاً جھوٹ ہے جو بار بار آپ بول رہے ہیں ۔ کوئی اک اسناد والی میری پیش کردہ روایت ضیف نہیں ہے ۔ سچے ہو تو ثابت کریں ۔ اور وہ روایت یہاں پیش کر کے اس کو ضیف ثابت کرو ۔ ---------------------------- ------------------------
  9. قادری سلطانی صاحب آپ لوگ جھوٹ بولتے ہیں ، کتابوں کی مکمل عبارات سادہ اہل سنت سے چھپاتے اور چوری کر کے اپنے مطلب کی بات عوام کے سامنے پیش کرتے ہو ۔ اسی لیے اھل سنت اب بریلویت سے بھاگ رہے ہیں ۔ اللہ کی قسم میں نے بھی انہیں باتوں کی وجہ سے اس بریلویت سے توبہ کی جو اپنے ہی اھل سنت سے سچی بات چھپاتے ہیں ۔ اب خوب غور کر لو اس سے پہلے میں آپ کی چوری ان سادہ لوگوں کے سامنے لے آوں شرح عقیدہ طحاویہ کی مکمل عبارت اور حوالہ پیش کر دو ۔ جب میں سچ سامنے لاوں گا تو آپ کہیں کہ نہیں رہیں گے ۔ تب تک کریم آقاﷺ کا یہ فرمان بار بار پڑھ لو ۔ قادری سلطانی صاحب حوالہ پیش کر کے اس آگ کی لگام سے بچ جاؤ ۔ ------------------------------------------
  10. جناب سعیدی صاحب آپ کے اعتراض کو بریلوی مفتی نے دیوار پر دے مارا ہے اور اس کو حدیث صحیح قرار دیا ہے ۔ اللہ سے ڈریں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا حیاء کریں ۔ آپ کا اعتراض حافظ ابن حجر عسقلانی نے یہ لکھ کر رد کر دیا ہے کہ ابو عبداللہ الجعدلی پر یہ الزام ہے ۔ اور جناب آپ اپنا یہ جملہ " (کان شدید التشیع) " حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول ثابت کرنے پر بڑی بُری طرح جھوٹے اور کذاب ثابت ہو چکے ہیں ۔ کتاب پیش نہ کرنے کی یہی اک وجہ تھی کہ میرے بار بار اصرار کے باوجود آپ لوگ کتابیں پیش نہیں کرتے اور سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے کتابیں نہیں رکھتے ۔ اور ان کو گمراہ کرتے ہو ۔ بریلویت کی تباہی کا سبب آپ حضرات کی یہی باتیں بن رہا ہے اور ہر اھل سنت اس سے متنفر ہو رہا ہے ۔ جناب سعیدی صاحب آپ کے ان اعتراضات کی اس وقت تک اک رتی بھی اہمیت نہیں ہے جب تک کہ آپ اس کو ثابت نہ کر دیں ۔ اور عقیدے باتوں سے ثابت نہیں ہوتے جب تک آپ جمہور اہل سنت کی کتابیں پیش نہ کریں ۔ لہذا اس حدیث کو ضیف یا غلط ثابت کرنے کے لی محقین ، محدثین اور علماء اکرام کی کتابیں دیکھانا ہو گی جس پر محققین و محدثین نے حکم لگایا ہو گا ۔ کہ ابو عبداللہ الجدلی غالی شیعہ تھا اور اس کی یہ روایت نہیں لی جائے گی ۔ اور اس طرح یہ جمہور کی بات ہو گی جس طرف جمہور ہوں گے عقیدے وہ ثابت ہوں گے ۔ محض اک دو بندوں کے لکھنے یا تصدیق سے بھی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ جمہور علماء اس کی تصدیق نہ کر دیں ۔ اور کتابیں کیسے پیش کی جاتی ہیں ایسے جیسے آپ یہ کتابیں بریلوی علماء اور محدثین و محققین اور علماء کی دیکھ رہے ہیں ۔ یہ کیا میں سو سو بار اک بات کو لکھتا ہوں اور آپ حضرات میں ہمت نہیں ہوتی کہ لوگوں کو کتاب دیکھا سکیں اس پر سو سو حلیے اور بہانے کیے جاتے ہیں افسوس ہے اس حیلہ سازی پر ۔ کتابیں پڑھیں اور اس روایت کو صحیح مانیں ورنہ آپ کتابیں پیش کریں اور حکم دیکھائیں کہ ابو عبداللہ الجدلی کی یہ روایت قابل قبول اور قابل حجت نہیں ہے ۔ اور یہاں یہ کتاب اس کے غالی شیعہ ہونے کی تصدیق کر رہی ہے ۔ کتاب نمبر:1 کتاب نمبر:2 کتاب نمبر:3 کتاب نمبر:4 کتاب نمبر:5 پنج تن پاک کے نام پر پانچ کتابوں کے حوالہ جات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  11. جناب سعیدی صاحب آپ پھر بارباروہی بات دھرا رہے ہیں ، آپ کا یہ لکھنا کہ " علی کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عثمان کے قاتلوں کو ھمارے سپرد کرے۔" آپ کتنے سادہ بنے ہوئے ہیں اور میری پانچ کتابوں کے حوالہ جات ہضم کر گئے صرف یہ لکھ کر کہ بغیر سند کے لکھی ہیں ۔ تو جناب آپ سند سے ثابت فرما دیں کہ معاویہ علیؓ کو قاتل نہیں سمجھتا تھا ، نہیں سمجھتا تو یہ قاتلین کو پناہ دینے اور حوالے کرنے کا مطالبہ کیوں ؟ جب کہ وہ خود قصاص عثمان کو بہانہ بنا کر خلیفہِ راشد کی بیعت کا انکار کر چکا تھا ۔ سند سے ثابت فرما دیں کہ وہ حضرت علیؓ کو قاتل نہیں سمجھتا تھا ۔ اور دوٹوک الفاظ میں لکھیں کہ کیا معاویہ کا حضرت علیؓ سے قصاص کا مطالبہ درست تھا یا غلط تھا ؟ -------------- ----------------------
  12. کتاب لگاؤ قادری سلطانی صاحب او یار اپنی ماری ہوئی بڑھک تو پوری کر ہی دو ۔ اب پچھلے 7 گھنٹے سے کتاب لینے گے تھے یہ کیا آتھا لائے ۔ شاباش کتاب لاو ۔ مرد بنو ، اور ہمت کرو ۔ ----------------
  13. سعیدی صاحب آخر ماجرا کیا ہے آپ لوگ ہمہشہ بات کو کئی معنی پہنا دیتے ہیں َ میں نے آپ سے صرف دو لفظوں میں پوچھا ہے کہ سوال: جناب سعیدی صاحب امیر معاویہ کی چلیں میں بات کو مذید آسان کرتا ہوں یہ خلافت امام حسن سے پہلے شروع ہوئی یا بعد میں شروع ہوئی ؟ چلیں اب صرف پہلے یا بعد میں لکھ دیں ۔ خلافت راشدہ عادلہ عامہ کب شروع ہوئی ؟؟؟ جب بھی شروع ہوئی وہ لکھ دیں ۔ -----------------------------
  14. قادری سلطانی صاحب مکمل کتاب کا ٹائٹل پیج اور حوالہ کا پیج لگائیں یہ کیا جاہلانہ کام کر رہے ہیں ۔ آپ نعرہ لگا کر گئے تھے کہ میں کتاب کا حوالہ لگا رہا ہے ۔ یہ حوالہ ہے ۔ یار اصل کتاب دیکھاؤ لوگوں کو یہ رنگ بازی نہ کرو ۔ شاباش چلیں کتاب پیش کریں ۔
  15. جناب محرم سعیدی صاحب آپ کے پاس جواب نہیں تو نہ لکھیں لیکن بات اصول کی کریں ۔ آپ کا اعتراض تھا کہ حضرت علی قاتلینِ عثمان میں شامل نہیں میں نے ثابت کیا کہ انہیں قتل لکھا گیا ثبوت موجود ہیں َ اس کا جواب کہاں ہے ؟ میں نے حدیث صحیح سے ثابت کیا کہ حضرت حجر بن عدی امیر معاویہ کی بیعت پر تھے ؟ آپ نے بیعت کا انکار کہاں ثابت کیا ، دیکھا دیں َ پھر آپ نے فرمایا کہ حجر بن عدی نے بغاوت کی ؟ میں نے تعریف آپ کے سامنے دو دو بار رکھی اور کہا کہ جس قسم میں شامل ہیں وہ لکھ دیں ۔ جناب سعیدی صاحب آپ نے حجر بن عدی کو کس قسم کی بغاوت میں شامل کیا دیکھا دیں ۔ پھر آپ نے لکھا کہ لعنت والی راوی مجہول ہے ۔ مجہول تھا یا نہیں مگر میں نے نئی پانچ روایات آپ کے سامنے رکھی ہیں ۔ اوپر موجود ہیں ۔ آپ نے ان کے بارے اک لفظ نہیں لکھا ۔ آپ نے کیا وہ پانچوں روایات ردی کی ٹوکری میں پھینک دی ہیں ؟ کسی ایک بات کا آپ نے جواب نہیں لکھا ۔ جناب سعیدی صاحب اگر ترتیب سے جواب لکھیں گے تو ہی بات مذید آگے بڑھ سکتی ہے ۔ -------------------------------------
  16. جناب سعیدی صاحب کیا کر رہے ہیں میرے ایک بھی سوال کا آپ نے جواب کہیں ذکر تک نہیں کیا کیوں ؟ جناب آپ نے اعتراض کیا کہ امیر معاویہ علیؓ کو قاتلینِ عثمانؓ میں شامل نہیں سمجھتے تھے میں نے کتنے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ وہ حضرت علیؓ کو قاتلین عثمانؓ سمجھتے تھے اسی لیے امیر معاویہ کے گورنر ان پر لعنت اور سب و شتم کرتے تھے اور ان میں سے اب میں اک حوالہ لگاتا ہوں وہ پڑھ لیں اور ثابت فرمائیں کہ حضرت علیؓ کو قاتلینِ حضرت عثمان غنیؓ نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ محترم اس میں تاریخ کی اتبی طویل رام کہانی کی ضرورت ہی نہ تھی اب میں ایک اعتراض کا جواب لے لوں پھر آگے چلتے ہیں ۔ سب سے پہلے ثابت فرمائیں کہ کیا حضرت علیؓ قاتلیں عثمان غنیؓ میں شامل تھے ؟ جیسا کہ امیر معاویہ اور عمرو بن العاص سمجھتے تھے ۔ میں نے آپ کے سامنے حدیث صحیح سے ثابت کیا کہ حضرت حجر بن عدیؓ امیر معاویہ کی بیعت پر قائم تھے ، آپ نے تاریخ کا چارٹ بورڈ لکھ دیا ، محترم اس حدیث صحیح کو پڑھیں اور اس کے متلق جواب لکھیں ؟ پھر آپ نے حجر بن عدی کو بغاوت کی کسی قسم کے متلق اعتراض کیا ، میں نے پہلے بھی تعریف پیش کی پھر دوسری تعریف پیش کی اور لکھا کہ بتائیں حضرت حجر بن عدی نے کن ہتیاروں کے ساتھ کس میدان میں جنگ لڑی اور زیاد نے امیر معاویہ کو خط میں جھوٹ لکھا کہ ہم نے جنگ کے بعد ان کو گرفتار کیا ، اس تعریف کی روشنی میں حجر بن عدی کو باغی ثابت کریں َ آپ نے لعنت پر لکھا کہ رواوی مجہول ہے میں نے آپ کی خدمت میں چار پانچ نئے حوالہ جات پیش کر دئیے آپ نے ان میں سے کسی ایک کا ذکر تک نہیں کیا کیوں ؟ جناب سعیدی صاحب کیا میرا کام صرف آپ لوگوں کے اعتراضات کا جواب لکھنا ہی رہ گیا ہے ، مہربانی فرمائیں اصول کے مطابق چلیں ، لعنت والی روایات اوپر مودجود ہیں آپ ان میں سے کوئی ایک درست مان لیں اگر اعتراض ہے تو کریں میں اعتراض دور کروں یا نیا حوالہ پیش کروں گا ۔ پلیز ان سب باتوں کا ترتیب سے جواب لکھیں َ --------------------------
  17. قادری سلطانی صاحب چلیں آپ سے ابھی کتاب نہیں مانگتا ، میں خود ہی بوقت ضرورت لگا لوں گا ۔ ڈئیر قادری سلطانی صاحب آپ جو مجھے بار بار رافضی لکھ رہے ہیں میری جان رافضی کی تعریف تو لکھ دیں ۔ اور تعریف وہ لکھنا جو ثابت بھی کر سکو ۔ دوسرے میری جان شہزادے اب آپ فقط اتنا مذید بتا دیں کہ جناب امیر معاویہ خلیفہ تھے یا بادشاہ ؟ تیسرے اب میرے شہزادے کو کس حدیث کی سند چاہیے؟ بتائیں جناب ناراض نہ ہوں ۔ جبکہ میں نے بہت سی احادیث پیش کی ہیں ۔ اور جناب اب تینوں سوالوں کا مختصر جواب لکھ دیں ۔ شکریہ
  18. قادری سلطانی صاحب پلیز مہربانی فرمائیں اور مندرجہ بالا حوالہ پر کتاب پیش فرمائیں اور سعیدی صاحب کو مبارک باد دیں کہ جو وہ امیر معاویہ کو " خلافت راشدہ عادلہ عامہ " دلا رہے تھے اس کا سارا پول آپ نے بادشاہ کا حوالہ لگا کر کھول دیا ہے ۔ اب جب حوالہ کی اصل کتاب لگاؤ گے تو پھر جو ڈھول بجے گا اس کی آواز دور دور تک سنائی دے گی ۔ جناب محترم قادری سلطانی صاحب آپ نے جو سعیدی صاحب کا ڈھول بجایا ہے اور ان کی لکھی ہوئی بات کا جس خوب صورتی سے رد فرمایا ہے شاید میں بھی نہ کر پاتا ۔ لہذا پڑھیے جناب سعیدی صاحب نے کیا لکھا تھا ؟ قادری سلطانی صاحب جناب سعیدی صاحب نے یہ قول کیوں لکھا تھا اس لیے کہ وہ جناب امیر معاویہ کو خلیفہِ راشد ثابت فرما رہے تھے ، وہ کیسے ؟ وہ ایسے ------------------------------ چلیں جناب محترم قادری سلطانی صاحب اپنے پیش کردہ بادشاہ سلامت کے حوالہ پر کتاب پیش فرما کر اہل فورم کے سامنے اپنی بات کی تصدیق فرمائیں ۔ بے اصولی اور بے ڈھنگی باتوں سے وقت ضائع نہ فرمائیں ۔ کتاب لگا دیں ۔ شکریہ ---------------------------------
  19. جناب محترم قادری سلطانی صاحب اس حوالہ میں آپ خیانت اور بد دیانتی فرمارہے ہیں ۔ یہ اُصول کے بھی خلاف ہے ۔ آپ آصول کے مطابق چلیں اور خیانت و بددیانتی کے بغیر مکمل حوالہ پیش فرمائیں جس طرح میں آپ کے سر کے اوپر کتابیں رکھتا اور سامنے پیش کرتا ہوں ، بالکل ایسے ہی کتاب لائیں اور پیش فرمائیں ۔ پھر میں آپ کو آپ کی بددیانتی اور چوری دیکھاتا ہوں کہ آپ نے اپنی ہی جان پر کیا کیا مظالم ڈھائیں ہیں ۔ شاباش چلیں کتاب کے مکمل صفحات لگا دیں ۔ پھر آپ کو جواب لکھتا ہوں ۔ ----------------------------------
  20. قادری سلطانی صاحب 100 سال بھی لگے رہو تو میری اسناد کو غلط ثابت نہیں کر سکتے ۔ میں نے آپ سب کا پانی ناپا ہوا ہے ۔ اسی لیے کہا کہ سندیں ہاتھ میں پکڑ کر سیدھے گھر جانا ۔ آپ لوگ کے پاس کوئی چارہ نہیں رہتا آپ بچوں کی طرح چیکتے ہو اور پوستیں اور ٹاپک غائب کرتے ہو ۔
  21. حديث رقم 18579 - من كتاب مسند أحمد ابن حنبل - نص الحديث 18579 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ : رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ ، شَيْخًا كَبِيرًا آدَمَ ، طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ ، وَيَدُهُ تَرْعَدُ فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ ، وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ * مفہوم عبداللہ بن سلمہ نے فرمایا عمار کو دیکھا صفین کے روز بڑی عمر کے بزرگ تھے ہاتھ میں نیزہ تھا ساتھ میں رعشا تھا فرماتے تھے کہ اسکی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں حضور ﷺ کی معیت میں تین بار لڑا ہوں یہ چوتھی بار ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اسکی قسم یہ لوگ مجھے قتل کردیں اور لاشوں کو لٹکادیں تو پھر بھی میں جانتا ہوں کہ ہم ( علیؓ اور اسکا گروہ) حق پر ہیں اور وہ ( معاویہ اور اسکا گروہ) گمراہی (ضلالت) پر ہیں تخریج مزید التخريج 149724 - 35 ~ أحمد في المسند - حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - حديث رقم 18578 149721 - 35 ~ أحمد في المسند - حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - حديث رقم 18575 442026 - 34 ~ ابن حبان في صحيحه - ذِكْرُ الْبَيَانِ بِأَنَّ قِتَالَ عَمَّارٍ كَانَ بِالرَّايَةِ الَّتِي قَاتَلَ بِهَا مَعَ - حديث رقم 7205 524746 - 37 ~ الحاكم في المستدرك - ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حديث رقم 5697 524739 - 37 ~ الحاكم في المستدرك - ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حديث رقم 5690 524738 - 37 ~ الحاكم في المستدرك - ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حديث رقم 5689 524725 - 37 ~ الحاكم في المستدرك - ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حديث رقم 5676 524716 - 37 ~ الحاكم في المستدرك - ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حديث رقم 5667 65511 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3469 65509 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3467 65507 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3465 65506 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3464 65505 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3463 65504 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3462 65503 - 80002 ~ - وَفْدُ بَهْرَاءَ - حديث رقم 3461 19003 - 41 ~ الطيالسي في مسنده - عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ - حديث رقم 677 18997 - 41 ~ الطيالسي في مسنده - عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ - حديث رقم 671 564428 - 813 ~ أبو نعيم الأصبهاني في معرفة الصحابة - عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ حَلِيفُ بَنِي مَخْزُومٍ ، وَقِيلَ : هُوَ مَوْلَاهُمْ ، وَهُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ آدَدٍ ، وَقَالَ ابْنُ الْكَلْبِيِّ : هُوَ مِنْ عَبْسِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مَذْحِ - حديث رقم 4643 540556 - 85 ~ أبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ - حديث رقم 6227 540555 - 85 ~ أبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ - حديث رقم 6226 540554 - 85 ~ أبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ - حديث رقم 6225 534534 - 85 ~ أبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء - عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ - حديث رقم 456 534533 - 85 ~ أبو نعيم الأصبهاني في حلية الأولياء - عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ - حديث رقم 455 457652 - 39 ~ الطبراني في الأوسط - مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ - حديث رقم 7739 456574 - 39 ~ الطبراني في الأوسط - مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ - حديث رقم 6658
  22. اس حوالہ کی اسناد اس حوالہ کی اسناد مسٹر چلو پکڑو سندیں اور سنو منہ دھیان سیدھے گھر جانا ۔
  23. قادری سلطانی صاحب ہر بار اسناد کا مطالبہ تو آپ ایسے کرتے ہیں جیسے گورنر حکم فرماتے ہیں ۔ محترم آج تک کبھی کسی بھی بات پر اسناد پیش فرمائی ہیں ۔ محترم آپ تو کتاب پیش نہیں فرماتے مجھ سے بار بار اسناد کا مطالبہ کر دیتے ہیں آپ کیا تفاسیر میں ہر بات جھوٹی ہوتی ہے کیا ؟ پھر تفاسیر لکھی کیوں جاتی ہیں بولیے ؟ ----------------------------------
  24. ان تفسیر کے حوالہ جات پر کیا بولتی بند ہو گی ہے ۔ دونوں میں معاویہ بن ابوسفیان موجود ہے ۔ آپ نے بڑی بڑھک ماری دی کی تفاسیر کے حوالہ جات سے ثابت کرو ۔ چل یہ ہیں تفسیر کے حوالہ جات بولو؟ بھاگتے کیوں ہو ۔