ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    449
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. جناب سعیدی صاحب سب سے پہلے آپ نے لکھا کہ : حضرت عمار کو صحابی قتل نہیں کریں گے باغی قتل کریں گے ۔ اور پھر اپنی ہی پیش کردہ روایت کو پسِ پشت کیا ، کیوں ؟ پھر آپ نے تین قاتل بنائے ، پھر دو بنا رہے ، اور وہ بات نہیں مان رہے جو قاتل خود بول بول کر کہ رہا ہے کہ ہاں میں حضرت عمار کا قاتل ہوں ۔ جناب ابوالغادیہ خود مان چکا ہے کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر کو ایسے ایسے قتل کیا ۔ میں حیران ہوں کہ آپ کس طرح حق بات کو ناحق چھپانے کی کوشش میں ہیں ۔ جس میں آپ قیامت تک کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ فیضی صاحب کی پیش کردہ روایت (159) بالکل صحیح ہے مگر اس میں دونوں میں کسی ایک نے اقرار نہیں کیا کہ میں قاتل ہوں ۔ پھر آپ دونوں میں سے کس کے سر پر ہاتھ رکھیں گے ؟ فیضی صاحب کی کتاب صفحہ (888) والی روایت البدیہ والنہایہ کی ہے اور اس کی فیضی صاحب نے تصدیق نہیں کی ہے ۔ دوسرےابن جوی نے حضرت عمار کے الفاظ جو سنیں وہ دھرائے ہیں اور اُن الفاظ کو دھرانے سے ابن جویں قاتل ثابت نہیں ہو سکتا ، کیونکہ حضرت عمار دوران جنگ بار بار اعلان کرتے تھے کہ " اُس ذات کی قسم جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے ہم ( علی کا گروہ) حق پر ہیں اور وہ ( معاویہ کا گروہ ) ضلالت و گمراہی پر ہیں ۔ " اور بھی بہت کچھ فرماتے تھے ۔ لہذا محترم سیعدی صاحب ایک تو روایت کی تصدیق نہیں ہے ۔ دوسرے ابن جویں حضرت عمار کے الفاظ دھرانے سے ہر گز قاتل نہیں ثابت ہوتا اس روایت کی موجودگی میں جس میں ابوالغادیہ اپنے قاتل ہونے کا خود اقرار کر رہا ہو ۔ پھر جناب سعیدی صاحب صاحب کتاب جناب فیضی صاحب جن کی کتاب کا آپ حوالہ دے رہے ہیں انہوں نے مختلف جگہوں پر ابوالغادیہ کو کو ہی قاتلِ عمار لکھا ہے ۔ جب صاحب کتاب نے خود تصریح فرما دی کہ قاتل ابوالغادیہ ہی ہے تو ان کی باقی لکھی ہی روایات کا خود انہیں کے پاس سے رد آ گیا ۔ جناب سعیدی صاحب اب میں آپ کی خدمت میں مکمل واقعہ پیش کرتا ہوں کہ اصل قاتل ابو الغادیہ ہے ۔ کریم آقاﷺ کی بیعت کی اور عقبہ کا خطبہ سنا اور اس میں سے خود خون اور مال کے حرام ہونے پر روایت پیش کی ، حضرت عمار کو کوبھی خود ہی قتل کیا اور خود ہی اسی روایت کے سبب اور فرمان مصطفیٰﷺ کہ : عمار کا قاتل اور مال لوٹنے والا جہنم جائے گا ، جہنم گیا ۔ مکمل واقعہ جو ہوا آپ بھی پڑھیں اور اھل فورم بھی پڑھیں ۔ شکریہ
  2. جناب سعیدی صاحب آپ بات کوکیوں غلط رنگ دیتے ہیں میں نے سوال کیا تھا کہ کیا اک خلیفہِ راشد یا خلیفہِ عادل اک صحابی رسولﷺکے قاتل کو مدینہ کا حاکم یا گورنر بنا سکتا ہے ؟؟؟ آپ نے لکھا کہ حضرت علی نے محمد بن ابو بکر کو کیوں بنایا ؟ میں نے عرض کیا ہے کہ وہ عثمان کے قاتل نہیں ہیں اور یہ ثابت ہے ۔ انہوں نے سیدنا عثمان کی داڑھی مبارک پکڑی تھی جسے حضرت عثمان کے شرم دلانے پر وہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔اور یہی ان کا گناہ تھا ۔ مگر اس کےعوض بھی معاویہ نے ان کو بے گناہ قتل کرا کر ان کی لاش کی بے حرمتی کرائی ۔ لہذا میرا سوال وہی ہے کہ آپ کے بقول معاویہ خلیفہِ عادل تھا تو بتائیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اک عادل یا راشد خلیفہِ مروان جیسے قاتل اور ظالم کو حکمران بنا سکتا ہے ؟؟؟ آپ کنھی بھی دوٹوک جواب نہیں لکھتے ہمیشہ بات کو الجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جناب سعیدی صاحب اس میں کونسی میں نے مشکل بات لکھی ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی ۔ مروان قاتل اور ظالم تھا اور معاویہ نے حاکم مدینہ بنایا اس پر آپ کی حضرت علی کے بارے کوئی بھی دلیل کارگر ثابت اس لیے نہیں ہو گی کہ وہ تو ہیں ہی خلیفہِ راشد مسئلہ تو امیر معاویہ کا ہے جس کو آپ بھی خلیفہِ راشد یا عادل ثابت فرمانا چاہتے ہیں ۔ لہذا اب پھر پوچھتا ہوں کہ کیا اک عادل اور راشد خلیفہ اک قاتل کو مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟ اس کا جواب لکھیں ۔ -------------------------- ا
  3. سعیدی صاحب کیا بچوں جیسی باتیں لکھ رہے ہیں : آل طلحہ کی FIR مجھے پیش کرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے اس لیے کہ حضرت طلحہؓ حضرت علیؓ کے خلاف جنگ لڑنے آئے تھے ۔ اور ان کے اپنے لشکر میں موجود بنواُمیہ کے مروان نے تیر مار کر اُن کو قتل کیا ۔ اور انہیں کے حمایتی معاویہ بن ابوسفیان نے اس قاتل کو مدینہ کا حاکم بنا کر ممبر رسولﷺ پر بٹھایا لہذا قاتل اور مقتول دونوں انہیں کے لشکر کے تھے ، لہذا ہوش کے ناخن لیں ۔ آپ کے حواس کام نہیں کر رہے ۔ آپ کو بار بار لکھا ہے کہ جنگ جمل والوں اور صفین والوں کا حضرت علی سے قصاص طلب کرنا غلط تھا ۔ اس کا ثبوت بھی امام قرطبی سے کتاب کی شکل میں پیش کر چکا مگر آپ چند جملے لکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ لیں جی FIR ہو گئی ہے ۔ او اللہ کے بندے اس کے ثبوت پر کتابیں پیش کیوں نہیں کرتے کہ کب حضرت علی کے سامنے قصاص عثمان کا مقدمہ درج ہوا ۔ اب آپ کے حوالوں کے ثبوت کی کتابیں میں تو پیش کرنے کا ذمہ دار ہرگز نہیں ہوں ۔ آپ ثبوت پیش کریں یا امام اھل سنت امام قرطبی کی یہ بات مان لیں : سعدی صاحب آپ کے لکھ دینے کی کوئی اہمیت ہے اور نہ کوئی حقیقت لکھے ہوئے کوثابت کیا جاتا ہے جیسے یہ میں ثابت کر چکا ہوں ۔ آپ بھی میرے دوست کوشش کریں اور ایسا کوئی ثبوت کتاب کی شکل میں پیش فرمائیں اور ثابت کریں کہ ہے FIR کی نقل ۔ اب فلاں نے کہا اور فلاں نے کہا سے آپ کی جعلی FIR ہر گز نہیں مانی جا سکتی ۔ اور یہی حقیقت اور سچ ہے کہ حضرت علی سے خون عثمان سے ان لوگوں کا مطالبہ درست نہیں بالکل غلط تھا ۔ میں آپ کے ثبوت کی کتابوں کا منتظر رہوں گا اور دیکھو گا -------------------------------
  4. جناب سعیدی صاحب لگتا ہے لفظ ٹھنڈے پڑنے سے آگے پیچھے اصل لفظ آپ کع نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اس لیے میں نے اصل الفاظ پر اب نشان لگا دیا ہے لہذا جناب سعیدی صاحب پھر سے پڑھیں کہ ابو الغادیہ صحابی رسولﷺ ہی عمار بن یاسر کا اصل قاتل ہے ۔ قتل کا لفظ اک دفعہ نہیں بہت دفعہ موجود ہے ، اب قتل کے بھی کوئی نئے معنیٰ نہ تلاش کرنے لگ جائیے گا پلیز ۔ پڑھییے
  5. جناب سعیدی صاحب میں ہمیشہ آپ کا جواب پڑھ کر حیران ہو جاتا ہوں اور ساتھ ہی پریشان بھی ۔ آپ اگر یہ مکمل بغور ایک بار پڑھ لیتے تو شاید آپ کو اوپر لکھا ہوا نہ لکھنا پرتا ۔ پڑھیے تو ذرا جناب
  6. ابن کثیر جس کا اپنا رجحان ناصبیت کی طرف تھا اس کے دوسرے قول کو ترجیح دینے سے کیا مروان بے گناہ ثابت ہو جاتا ہے ؟ ایسے اقوال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی جبتکہ آپ سند سے ثابت نہ کریں ۔آپ ہر پوسٹ پر ہی ضعیف و کمزور حوالہ جات لکھ کر وقت گزاری کر رہے ہیں ۔ ہرگز یہ مروان کی بےگناہی کا کوئی ثبوت نہیں ہے جو آپ پیش فرما رہے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت علی نے محمد بن ابوبکر کو مصر کا گورنر بنا کر بھیجا حالانکہ حضرت نائلہ نے حضرت علی کے سامنےاُسے قاتلانِ عثمان کا شریکِ کار نامزد کیا تھا۔اس کلیہ کے ہوتے ہوئے آپ حضرت علی کو خلیفہ راشد کس منہ سے ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں؟ سعیدی صاحب میں نہیں سمجھتا تھا کہ آپ فتح مکہ کے طلقاء کے مقابلہ میں خلیفہِ راشد سیدنا علیؓ پر اتنا بڑا الزام لگائیں گے ۔ آپ نے تو کمال ہی کر دیا ہے ۔ وہ خلیفہِ راشد جس نے خلافت کو زینت بخشی ، وہ خلیفہِ راسد حق جس کے ساتھ تھا اور قرآن جس کے ساتھ تھا وہ اتنا ظالم بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عثمان کے قاتل کو گورنر بھی بنا سکتا ہے ۔ یہ آپ کی بہت بڑی ہمت ہے جناب اب آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ محمد بن ابو بکر کو حضرت عثمان کا صحیح اسناد کے ساتھ قاتل ثابت فرمائیں ۔ ہمت کیجیے جناب اور ثابت فرمائیں کہ محمد بن ابی بکر حضرت عثمان کا قاتل تھا اور حضرت علی نے قصاص لینے کی بجائے اک قاتل کو گورنر یا حاکم بنا دیا ۔ مجھے امید ہے کہ آپ اپنے لگائے گئے الزام کو اھل سنت کی کتابیں پیش فرما کر ثابت فرمائیں گے ۔ -----------------------------------
  7. ہر سب کچھ ہو چکا تو اس جناب پھر مجھے حضرت علیؓ سے قصاص طلب کرنے کو ہرگز غلط نہیں کہنا چاہیے ، مگر اس ایف آئی آر کے اندارج پر حوالہ جات کی کتابیں پیش فرما دیں ، بالک میں اس کو پڑھنا چاہوں گا ۔ اور دیکھو گا کہ اھل سنت کے کن کن عملماء نے اس مقدمہِ عدالت کی توثیق کی ہے ۔ اور جہاں تک آپ نے اھل حدیث محدث کا لکھا کہ اھل حدیث کے سامنے پیش کیے جائیں محترم آپ سراسر غلط کہ رہے ہیں ۔ حضرت عثمان غنی کے قصاص پر کوئی اھل اھل حدیث ، دیوبندی اور بریلوی اختلاف نہیں ہے کہ ان کے حوالہ جات اور کتابیں پیش نہیں کی جا سکتی ۔ مگر جناب آپ کتابیں پیش فرما دیں ۔ میں منتظر ہوں کہ یہ مقدمہ کب پیش ہوا اور ایف آئی آر کاٹی گئی --------------------------------------
  8. جناب سعیدی صاحب اپنی روایات کی حالت دیکھ لیں ، ابوالغادیہ جو اصل قتل ہے اس کا مکمل قصہ ابن سعد سے پڑھیں کہ کیسے اس نے حضرت عمار کو قتل کیا ۔ پھر اک نظر اپنی روایت پر ڈالیں ۔ اس کی حالت محققین کے نزدیک کیا ہے وہ میں ابھی بیان نہیں کرتا مگر جناب اپنی روایات کا اندزہ لگا لیں ۔ میری روایات جن پر تین تین محدثین کا حکم موجود ہوتا ہے کہ حدیث صحیح ہے آپ اس کا بھی بڑی بےدردی سے رد فرما دیتے ہیں ۔ پلیز پڑھیے جناب سعیدی صاحب اپنی روایت پر بھی نظر فرما لیں ۔ میں زیادہ اب کی لکھو ۔ آپ کی تیسری روایت کی حالت بھی انہیں کی سی ہے اس میں واقدی ہے اور بھی بہت کچھ غلط ہے ۔ پلیز جناب محترم سعیدی صاحب اگر آپ کے پاس ابوالغادیہ کو بے گناہ ثابت کرنے پر کوئی درست روایت ہے تو آپ بخوشی پیش فرما سکتے ہیں ۔ ورنہ آپ میری پیش کردہ صحیح روایات کو مان لیں ۔ ---------------------------------
  9. جناب سعیدی صاحب حضرت علیؓ سے معاویہ بن ابوسفیان کا قصاص طلب کرنا بالکل غلط تھا ۔ بلکہ اھل شام کو خونِ عثمان کا بدلہ کہ کر دھوکا دیا ۔ آپ اوپر پڑھ سکتے ہیں ۔ ------------------------------
  10. مہربانی فرماتے ہوئے جنابِ محترم سعیدی صاحب اپنی پیش کردہ روایات پر کسی محدث یا محقق کا حکم پیش فرما دیں کہ یہ روایات صحیح ہیں ۔ شکریہ ---------------------------
  11. جناب میں نے کسی جگہ نہیں لکھا کہ فلاں عالم دین کا حوالہ نہ دیا جائے ، میرے کہنے کا مطلب یہ لیا جائے کہ امام احمد رضا بریلویؒ سے لے کر ڈاکٹر طاہر القادری تک علماء کی کتابوں میں بہت سی ضعیف ، موضوع اور باطل روایات درج ہیں اور ایسا تقریباً تمام بڑے عالم کی کتاب میں ہو جاتا ہے مگر میرے لیے حجت وہی بات ہو گی جو درست ہو گی ، چاہے وہ ڈاکٹر طاہر القادری ہوں یا امام احمد رضا ۔
  12. سلطابی صاحب بار بار عرض کیا ہے کہ میں آپ کی کسی بھی بات کا جواب اس لیے دینے کا پابند نہیں ہوں کہ میری آپ سے نہیں سعیدی صاحب سے بات ہو رہی ہے ، میں آپ کو جواب دوں گا تو پھر آپ جواب لکھیں گے جو کہ مناسب نہیں ، آپ مہربانی فرمائیں جو بھی سوال ہو سیعیدی صاحب کو کہا کریں وہ اپنے جواب میں اس سوال کا مطالبہ کریں ، امید ہے آپ غور فرمائیں گے ۔ ----------------------------------
  13. میں جانتا سعیدی صاحب آپ سیدھی بات کا کبھی سیدھا جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے میں نے حوالہ میں اوپر امام جلال الدین سیوطی کی کتاب کا حوالہ لگا رکھا ہے ، آپ طبری کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔ میں دس بار اس سوال کا جواب مانگ چکا ہوں مگر آپ ہر بار ٹال مٹول فرماتے ہیں ۔ چلیں میں اس کو کسی دوسرے وقت کے لیے آپ کے سر قرض کے طور پر چھوڑتا ہوں ۔ آپ نے لکھا کہ عادل اور راشد پر بات کی جائے ۔ کتنی کتابوں میں لکھا پڑا ہے کہ مروان نے حضرت ظلحہؓ کو قتل کیا ۔ اب جس بندے نے عشرہ مشرہ صحابی رسولﷺ کو قتل کیا تھا اس کو عادل اور راشد معاویہ نے مدینہ کا حاکم بنا کر ممبر رسولﷺ پر بیٹھا دیا ۔ جناب سعیدی صاحب کیا اک عادل اور راشد خلیفہ کسی قاتل اور ظالم کو مدینہ کا گورنر بناتا ہے ؟ چلیں اگر آپ پہلے عادل اور راشد پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ثابت فرمائیں کہ اک عادل و راشد خلیفہ اک قاتل اور ظالم کو مدینہ کا حاکم بنا سکتا ہے ؟ --------------------------
  14. حضرت علیؓ کے خلاف ہتیار اُتھانے والے ظالم اور باغی ہیں یہ میں تین محدثیں سے صحیح ثابت کر چکا ، اب آپ مانیں یا نہ مانیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب مجھے کہیں ثابت کرنا ہوا تو میں مزید اھل سنت کے حوالہ جات سے ثابت کر لوں گا ، اس وقت مجھے اس روایت پر مزید حوالہ جاے کی ضرورت نہیں ۔ جناب سعیدی صاحب جب آپ حوالہ جات پر چھلانگیں لگاتے گزرے گے تو پھر اسی طرح ہی ہوتا ہے ، میں بار بار عرض کر چکا ہوں جو میرے سوالات ہوں ان کا جواب لکھا کریں مگر آپ خود ہی سوال کرتے ہیں اور خود ہی جواب لکھتے ہیں ۔ان کا میرے سوال کے جواب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، آپ نے لکھا کہ جناب سعیدی صاحب اگر آپ مکمل بات پڑھتے تو جواب دیتے اس لیے اب دوبارہ پڑھیں ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اگر سارے بیٹے بھی جمل میں ہوتے تو بھی اس سے قصاص کا مطالبہ درست نہ ہوتا ، میں نے جو امام قرطبی کا حوالہ اوپر لگایا تھا پھر لگا رہا ہوں اس میں کیا لکھا ہے اب بغور پڑھیں کیا حضرت عثمان غنی کے بیٹوں میں سے کسی ایک نے بھی قصاص کا مقدمہ عدالت میں کیا ؟؟؟ لہذا ثابت ہوا کہ جمل والوں اور صفین والوں کا حضرت علیؓ سے قصاص کا طلب کرنا ہی غلط تھا ۔ آپ مکمل حوالہ پڑھ کر جواب لکھیں ۔
  15. آپ کا یہ جواب میرے صحیح حوالہ جات کا رد نہیں کر رہا ۔ جناب سعیدی صاحب اگر آپ سمجھے ہیں کہ ابوالغادیہ قاتل عمار نہیں ہے تو آپ کو ثابت فرمانا ہو گا ، یا صحیح روایت سے میرے صحیح حوالہ کا رد کیجے ۔ آپ کی ان باتوں کا میرے صحیح حوالہ جاتک کے لیے حیثیت و اہمیت نہیں رکھتا ۔ آپ کس قدر بے بسی کے ساتھ محدث اھل سنت امام کبیر امام مسلم کی بات کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ جناب سعیدی صاحب کیا امام مسلم ضعیف ثابت ہو چکے ہیں ذرا جواب تو عنایت فرمائیں ۔
  16. اس سے مجھے تو جواب نہیں ملا ڈئیر سعیدی صاحب
  17. جناب محترم سعیدی صاحب میں جب بھی حوالہ لگاتا ہوں تو اسے مخصوص کرنے کے لیے نشان لگاتا ہے ۔ آپ نے جو ان ناموں کی طرف اشارہ کیا ہے یہ درست نہیں ہیں ۔ میں مختصراً لکھتا ہوں کہ آپ نے لکھا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت عمار کو باغی قتل کریں گے صحابی نہیں تو جناب میں نے صحیح حوالہ جات سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عمار کا قاتل ابو غادیہ جھنی تھا اور وہ صحابی رسولﷺ تھا ۔ طبقات میں سے میں نے صرف ایک ہی حوالہ پر نشان لگایا جس پر آپ نے اعتراض اٹھایا کہ ابوالغادیہ مزنی ہے یا جھنی ہے تو اس کا جواب میں نے مختصراً ابن حجر عسقلانی کے قلم سے لکھ دیا ہے ۔ اب میں نے صحیح حوالہ جات سے ثابت کر دیا کہ عمار کا قاتل ابوالغادیہ ہی ہے اور صحابی رسولﷺ بھی ہے ۔ اختلاف رائے ہمیشہ سے ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ لیکن اگر آپ بضد ہیں کہ قاتل ابوالغادیہ نہیں کوئی دوسرا فرد ہے تو اس کا آپ کتاب کی شکل میں ثبوت لگائیں گے اگر مجھ سے رد ممکن ہوا تو میں کروں گا ورنہ پھر آپ کی بات درست تسلیم ہو گی ۔ اسی طرح صحابیت پر بھی اگر اختلاف ہے تو وہ بھی کتابیں لگا دیں ۔ پھر جس طرف ثقہ اور جمہور علماء ہوں گے وہی سچ اور وہی حق ہو گا ۔ --------------------------------
  18. سعدی صاحب کو لکھنے دیں ، آپ صرف دیکھا کریے اور پڑھا کریں ۔ سعیدی صاحب کو جواب دینے دیا کریں پلیز ۔ ---------------------------
  19. لیں جی جناب سعیدی صاحب ثابت ہو گیا کہ صحابی رسولﷺ ابو الغادیہ ہی نے حضرت عمارؓ کو قتل کر کے شہید کیا ۔ اور یوں یہ صحابی رسولﷺ کریم آقاﷺ کے فرمان کے مطابق سیدھا اور ڈائرکٹ جہنم گیا ۔ ---------------------- اب محترم سعیدی صاحب آپ یہ بتائیں کہ یہ کونسا باغی گروہ تھا جس کو حضرت عمارؓ جنت کی طرف اور وہ باغی گروہ حضرت عمارؓ کو جہنم بلا رہا تھا ؟ اس جہنم کی طرف بلانے والے باغیوں کا گروہ واضح فرمائیں ---------------------------------
  20. یہاں امام جلال الدین سیوطیؒ خود امام حاکم کی روایت کو صحیح بتا کر کر اس غیبی خبر اور معجزہ مصطفیﷺ کو اپنی میں لکھ رہے ہیں ۔ امام حاکم کی تصدیق تو صاحب کتاب اور اھل سنت کا اتنا بڑا امام کررہا ہے اور محترم آپ کیا کر رہے ہیں ؟ ------------------------------------------------------------------ اگر آپ اب بھی کریم آقﷺ کے معجزہ اور غیبی خبر کا انکار فرمائیں گے تو پھر میں علیؓ پر ہتیار اُٹھانے والے کے بارے میں اس لفظ ظالم کے بارے مذید علمائے اھل سنت کی کتابیں بھی دکھا سکتا ہوں مگر یہ میں نے آپ کو صرف اس روایت اور معزہِ مصطفیﷺ کی حقانیت پیش کی ہے ۔ ورنہ اس روایت کو آپ مانیں یا مانیں اس ٹاپک پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس ٹاپک پر آپ کی پوسٹ کا جواب میں بعد میں لکھتا ہوں ----------------------------------------- جناب سعیدی صاحب میں نے کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کا قصاص طلب ہی نہیں کیا جا سکتا بلکہ لکھا کہ جمل والوں اور صفین والوں کا یوں حضرت علیؓ سے قصاص طلب کرنا غلط تھا جس طریقہ سے وہ قصاص طلب کر رہے تھے ۔ اگر حضرت علیؓ کے سامنے بحثیتِ خلفہِ راشد عدالت میں مقدمہ دائر کیا جاتا اور معاویہ اور اہل شام خلیفہِ راشد کی بیعت کر تے تو پھر یہ قصاص لینا سیدنا علیؓکے ذمہ تھا ۔ ---------------------------------------------------------
  21. سعیدی صاحب کچھ خدا کا خوف کریں اس روایت کا حضرت علی سے حضرت عثمان کے قصاص کے مطا لبے سے دور دور کا تعلق نہیں ۔ لہذا حضرت علی سے قتل عثمان کا قصاص طلب کرنا ہی غلط تھا ۔ اگر روایت پیش فرما کر ثابت کرنا ہے تو ایسی روایت پیش فرمایں جس میں صاف ، واضح اور دوٹوک لکھا ہو کہ حضرت علیؓ سے ان لوگوں کا قصاص طلب کرنا درست یا جائز تھا ۔ حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ بھی قصاص لینے کو ہی آئے تھے کوئی حضرت علیؓ سے خلافت لینے نہیں آئے تھے اگر وہ قصاص کے مطالبے پر حق پر تھے تو چھوڑ کر کیوں چلے گئے ؟ بتائیے گا ضرور ؟ کریم آقاﷺ کو قتل عثمان اور قصاص عثمان کی سب خبر تھی اور انہیں معلوم تھا کہ زبیرؓ قتل عثمان کا مطالبہ لے کر جمل میں جائیں گے اسی لیے کریم آقاﷺ نے زبیرؓ کو فرمایا کہ اے زبیر تو علی کے خلاف خروج(بغاوت) کرے گا اور علی کے حق میں ظالم ہو گا ۔ جناب محترم سعیدی صاحب کیا حضرت زبیر اور حضرت طلحہ قتل عثمان کے لیے ہی نہیں گئے تھے کیا ؟ اسی لیے حضرت علی نے جمل میں زبیرؓ کو فرمایا تھا کہ کریم آقاﷺ نے فرمایا تھا کہ زبیر تو علی سے قتال و بغاوت کرے گا اور علی کے حق میں ظالم ہو گا ۔ اس کے بعد حضرت زبیر میدان جنگ میں ہی قصاص کا مطالبہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔ اب بتائیں کریم آقاﷺ نے تو جمل میں قصاص کا مطالبہ لے کر آنے والوں کو ظالم کہا ہے ۔ لہذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علی سے قصاص عثمان کا مطالبہ غلط تھا ۔ ------------------------------ ----------------------------------------
  22. جناب سعیدی صاحب آپ میرے سوال کا مکمل حلیہ بگاڑ کر من مرضی کا سوال بنا کر جواب لکھتے ہیں جو کہ بالکل غلط طریقہِ کار ہے۔ جناب سعیدی صاحب میں نے سوال کیا تھا کہ حضرت علیؓ سے حضرت عثمان کے قتل کا مطالبہ درست تھا یا غلط تھا ؟ یہ لوگ حضرت علی سے حضرت عثمان کا قصاص طلب ہی اس لیے کر رہے تھے کہ انہیں حضرت عثمان کے قتل میں ملوث جانتے تھے لہذا حضرت علی سے حضرت عثمان کا قصاص طلب کرنا 100 ٪ غلط تھا ۔ ------------------------------
  23. جناب محترم سعیدی صاحب آپ نے لکھا ہے۔ " حدیث میں ہے کہ عمار تجھے میرے صحابی قتل نہیں کریں گے بلکہ باغی گروہ قتل کرے گا ۔ " جناب محترم سعیدی صاحب یہ حدیث پیش کریں ۔ -------------------------
  24. جناب سعیدی صاحب میں نے آپ کے بارے کہیں نہیں لکھا کہ آپ نے حضرت علیؓ کی خلافت کے دوران امیر معاویہ کی خلافت کا لکھا ہے ۔ آپ اگر میرا سوال نہیں سمجھ پا رہے جبکہ میں نے کتاب آپ کے سامنے رکھی ہے ۔ آپ نے لکھا کہ حضرت حسن کے بعد امیر معاویہ خلیفہ بنیں میں نے عرض کیا اگر حضرت حسن کے بعد امیر معاویہ خلیفہ بنے تو یہ اس خلافت کا کیا کریں گے ؟ امیر معاویہ کی یہ خلافت کس قسم کی خلافت تھی جو وہ خود: " حضرت علیؓ کے دور خلافت میں صفین ( حکمین فی صفین " کا واقع پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ سے موسوم کیا " جناب محترم سعیدی صاحب پہلے بھی میرا سوال واضح اور دوٹوک تھا اور اب پھر لکھ دیا ہے ۔ یہ جو امیر معاویہ نے حضرت علیؓ کی خلافت کے دوران ہی خود کو خلیفہِ موسوم کیا مجھے اس کا جواب چاہیے کہ : کیا یہ بھی امیر معاویہ کی خلافتِ راشدہ ہی تھی ؟ بس اس کا جواب لکھ دیں کہ یہ خلافت کی کونسی قسم ہے ؟ ---------------------------