ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    335
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. قادری سلطانی صاحب آپ قلابازیوں پی قلابازیاں لگا رہے ہیں ۔ پہلے آپ نے یہ پرزور اصرار کیا تھا پڑھیں جب بنو امیہ کے الفاظ احادیث سے ثابت ہو گئے تو اب استثنی پر مدھانی ڈال دی اور لکھا کہ تو پڑھیں حضرت ؑ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس لیے استثنی حاصل ہے کہ وہ خلیفہِ راشد ہیں ۔ وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں اور یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ اسی طرح سیدہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عمر بن ععبدالعیزؓ کے بارے میں بے شمار احادیثِ صحیحہ موجود ہیں ۔ اس لیے ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کو ان جیسے باقی دیگر بنو امیہ کے وہ اصحاب جن کے بارے میں احادیث صحیحہ موجود ہیں ان کو ان احادیث سے مستثنی سمجھا جائے گا ۔ اب ہر ایک احادیث میں پیش نہیں کر سکتا وہ آپ خود زحمت فرمائیں گے ۔ ---------------------------------
  2. اب آپ اتنے بھی بچے نہیں ہیں کہ آپ کو علم نہ ہوں کہ استثنیٰ کیسے حاصل ہے اگر مذید تسلی کرنا ہے تو لفظ مولا کے معنیٰ آقا کے بارے انبیاء کیسے مستثنیٰ ہیں وہ میں نے پوسٹ لگائی ہے وہاں سے پڑھ کر خود اخذ کر لیں ابھی اس وقت بنو امیہ کے بارے مذید پڑھیں ۔ اگر آپ استثنی کا انکار کرتے ہیں تو کنزالعمال پر اور دیگر پر فتوی لگا دیں ، میں بالکل انکار نہیں کروں گا ۔ مگر اصل بات یہ ہے کہ اب آپ آئیں بائیں اور شائیں نہ کریں تو اور کیا کریں ۔ یہ معاویہ رضا آپ سب محبان کو لے ڈوبے گا ۔
  3. قادری سلطانی صاحب ان احادیث سے سیدنا عثمان غنیؓ ، حضرت سیدہ ام المؤمنین ، حضرت عمر بن عبدالعزیز کو استثنیٰ حاصل ہے ۔ اور بنو امیہ کے جو باغی اور ظالم ہیں وہ سب ان احادیث سے مراد ہیں ۔ قادری سلطانی صاحب اب اگر آپ اجازت دیں اور میری پوسٹیں ڈیلیٹ نی کرنے کا لکھیں تو میں باغیوں اور ظالموں کی نشان دہی کر دیتا ہوں ۔ یہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ۔ باقی سند درست ہے وہ کتاب سے ہی ثابت ہے ۔ پھر کنزالعمال کی کتاب خاص کر بریلوی حضرات کے نزدیک با اعتماد کتاب ہے ۔ -----------------------------------
  4. قادری سلطانی صاحب حدیث صحیح ہے ۔پڑھو لو اعتراض کا رد ہو گیا ہے جو سوئے حفظ کا اعتراض تھا اس پر بخاری اور ترمذی کی تصدیق آ چکی ہے ۔ اور آپ کے مطالبہ پر اگلا صفحہ لگا دیا ہے اور وہاں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ امیر معاویہ جس کو مجتہد اور ہادی مہدی تک کہا جاتا ہے انہوں نے اپنے بیٹے کی بیعت کفار ہرقل اور قیصر کی سنت پر لی ہے ۔ یہ کہ خلفائے راشدین کی سنت پر --------------------------
  5. انسان کو کسی حالت میں بڑے بول نہیں بولنے چاہیے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ اب جو حوالہ پیش کر رہا ہوں وہ اس حدیث کی کتاب کا ہے جس سے فتاویٰ رضویہ بھرا پڑا ہے ہر دوسرا تیسرا فتوی کنزالعمال کی احادیث سے استدلال کرتے ہوئے دیا گیا ہے ۔ لہذا اسناد پر زیادہ شور نہ کیا جائے ۔ کسی بھی وقت سب کچھ ثابت ہو جائے گا ، ان شاء اللہ اور پڑھیے
  6. میرا کام ہے آپ کے آپ کے خاندان کے ظالم اقو قاتل دیکھانا ، اور حدیث صحیحہ پیش کرنا اب قادری سلطانی صاحب اگر حق ماننا آپ کے مقدر میں نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ یہی کہ میں صحیح احادیث آپ کو پڑھاتا رہوں ۔ کرم آقاﷺ کے فرمان مباری کی روشنی میں صاف صاف بنو امیہ کے بغض اورقاتل ہونے کی نشان دہی ہے ۔ ---------------------------------------
  7. قادری سلطانی صاحب آپ دوھد پیتے معصوم سے بچے ہیں کہ پیر نصیر الدین نصیر صاحب کی کتاب کی حدیث میں کیا لکھا ہے چلیں بچہ صاحب مین پڑھ کر آپ کو سمجھتا ہوں ۔ کریم آقاﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرے اہل بیت کو قتل کیا جائے گا اور سخت تشدد کا سامنا ہو گا ۔ اور بے شک ہماری قوم سے بنو امیہ اور بنو مخزوم ہمارے ساتھ بغض میں سخت ہیں ۔ قادری سلطانی اس حدیث میں تو کریم آقاﷺ نے صرف بنو امیہ کو ہلاک کرنے والا کہا مگر اس حدیث میں دوٹوک واضح فرمایا کہ میرے بعد میرے اہل بیت کو قتل کیا جائے گا ۔ اور ہم سے بغض رکھنے میں بنو امیہ اور بنو مخزوم بہت سخت ہیں یعنی کہ یہی میرے بعد میرے اہل بیت کو قتل کرے گا اور تشدد کرے گا ۔ اب تو بنو امیہ پر مہر لگ گئی ہے ڈئیر قادری سلطانی جی --------------------------------
  8. جناب سعیدی صاحب کا اعتراض اعتراض یہ ہے کہ یہ قول " ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع) کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں " جناب محترم سعیدی صاحب اب جواب پڑھیں اور (کان شدید التشیع) کو حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول ثابت کریں ۔ ----------------- 705- "د ت ص - أبو عبد الله" الجدلي1 الكوفي اسمه عبد بن عبد وقيل عبد الرحمن بن عبد روى عن خزيمة بن ثابت وسلمان الفارسي ومعاوية وأبي مسعود الأنصاري وسليمان بن صرد وعائشة وأم سلمة وعنه أبو إسحاق السبيعي وإبراهيم النخعي قال أبو داود لم يسمع منه وعامر الشعبي ومعبد بن خالد الجدلي وسمرة بن عطية وعطاء بن السائب وعمرو بن ميمون الودي على خلاف فيه قال حرب بن إسماعيل قيل لأحمد بن حنبل أبو عبد الله الجدلي معروف قال نعم ووثقه وقال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ثقة قلت وذكره ابن حبان في الثقات وقال روى عنه الحكم بن عتيبة وقال العجلي بصري تابعي ثقة وقال ابن سعد في الطبقة الأولى من أهل الكوفة اسمه عبد بن عبد بن عبد الله بن أبي العمر بن حبيب بن عائذ بن مالك بن واثلة بن عمرو بن رماح بن يشكر بن عدوان بن عمرو بن قيس عيلان بن مضر يستضعف في حديثه وكان شديد التشيع ويزعمون أنه على شرطة المختار فوجهه إلى بن الزبير في ثمان مائة من أهل الكوفة يمنعوا محمد بن الحنفية مما أراد به ------------------- كتاب تهذيب التهذيب [ابن حجر العسقلاني] کتاب لنک https://al-maktaba.org/book/3310/5869 --------------------------- جناب سعیدی صاحب میں نے بار بار عرض کیا کہ یہ الفاظ " (کان شدید التشیع) " حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے نہیں ہیں ، نہیں ہیں نہیں ہیں ۔ حافظ ابن حجر عسقلانی جو بات " تقریب میں (رمی بالتشیع) " یعنی الزام ہے درست اور سچی بات ہے کہ یہ واقعی ہی الزام ہے ۔ مگر آپ لوک کسی طور بھی ماننے کو تیار نہیں تھے ۔ اگر یہ الزامات درست ہوتے تو البانی جیسا بندہ اس حدیث کو کبھی حدیثِ صحیحہ نہ لکھتا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آپ کے غلط اعتراض کا رد کر دیا ہے ۔ اب میری پیش کردہ حدیث کو حدیث صحیح مانیں امید ہے آپ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی بھی نئی غلطی نہیں کریں گے ۔ ---------------------------- ------------------------------
  9. قادری سلطانی غور کرو
  10. اس لیے کہ اہل حدیث وہی ترجمہ کر رہے ہیں جو آج کا کوئی بھی ناصبی پسند نہیں کرتا میں نے مختلف تراجم پڑھے سب سے زیادہ ڈنڈی بریلوی مترجمین نے ماری ہے ۔ میں نے کچھ دن پہلے لفظ مولی کا ترجم دیکھا جو اھل حدیث نے کمال کا انصاف کیا ، حدیث کے مطابق جو اس کا معنی بنتا تھا وہی اردو ترجمہ کیا پھر میں نے بریلوی ترجمہ پڑھا ظالم بہت بڑی ڈنڈی مار گیا اور جہاں اردو ترجمہ لکھنا تھا وہاں وہی عربی لفظ لکھ گیا ۔ اگر قادری سلطانی صاحب آپ اس ترجمہ کو صحیح نہیں مانتے تو وہ خاندان قریش بتا دو جس نے اہل بیت اور محبان اہل بیت کا قتل عام کیا ؟ اخر وہ کونسا خاندان ہے؟ کوئی تو ہے نا؟ یا کوئی بھی نہیں ، امید ہے آپ جواب لکھ دیں گے َ اور پلیز غصے میں کچھ غلط نہ لکھا کریں ۔ صبر اور تحمل سے کام لیں ۔ ------------------------------ ------------------------
  11. قادر ی سلطانی صاحب اتنا بھی محب بنو امیہ نہ بنو ۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بنو امیہ سے جو مجھے ورثہ میں ملی ہو ۔ یہ کریم آقاﷺ کا فرمان مبارک ہے اور اس سے مراد بنو امیہ نہیں تو دوسرا قریش کا کونسا خاندان ہے جس نے اہل بیت اور ؐجبان اہل بیت کا قتل عام کیا ؟ اسی پر باز آجاو ، آپ لوگ اپنی جانوں پر کیوں ظلم عظیم کر ہے ہو ۔ احادیث صحیحہ کا انکار صرف صرف آج کا بریلوی ہی کیوں کر رہا ۔ اسی کو ہضم کرو ، ورنہ مجھے بنو امیہ کا مکمل شجرہ قرآن و تفاسیر سے پیش کرنا پڑے گا ۔ ----------------------
  12. قاتل خاندان سے الگ رہنے کا حکملمحہِ فکریہ !فرمانِ رسولﷺکریم آقاﷺنے صحابہ سے فرمایا کہ قریش کا یہ خاندان یعنی بنو امیہ لوگوں کو ہلاک کرے گا تمہارے لیے بہتر ہے ان سے الگ رہنا۔ تم 7 محرم الحرام کو شہادت امام حسین علیہ السلام کے مہینے اپنے بیٹوں کا نام نبی کریمﷺ کے بیٹے کے قاتل یزید پلید کے باپ کے نام پر " معاویہ رضا " رکھو ۔ یہ اُمت خوب صلہ دے رہی ہے اپنے نبیﷺ کو اور ان کی آل کو ۔۔۔ یوں ہی جاری رکھو قادر سلطانی صاحب -----------------------------------
  13. میرے علم میں پہلے ہی تھا ۔ میں کئی سالوں سے تمہیں جانتا ہوں ۔
  14. رافضی کی تعریف کر مفتی امجد علی اعظمی نے فقط لکھا کہ انبیاء و ملائکہ کے علاوہ کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھنا کہنا نہیں چاہئے“۔ اور تیرے پیرو مرشد الیاس عطار نے اس کلمہ " علیہ السلام " کو ”کفریہ کلمات“ کتاب میں لکھ مارا ۔ اور ان محرم الحرام کی 7 کو پوتے کو معاویہ رضا نام رکھ دیا ۔ اب بتا میں رافضی ہو یا تم ناصبی ہو بننا پہلے کی طرح ۔۔ نہ بننا اور جواب لکھنا کہ کیا سیدہ فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا امام حس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام اور امت مسلمہ کے پیرو مرشد سیدنا امام علی علیہ السلام لکھنا کفریہ کلمات ہیں کیا ؟ اس کا جواب تم جاہل پر ادھار رہے گا ۔ ---------------------------
  15. اعتراض: آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے جواب جناب سعیدی صاحب یہ بھی میں نے خود ہی لکھا کہ : جناب سعیدی صاحب آپ نے اپنے مطلب بات لکھ دی کہ میں نے خود لکھا ، یہ بھی میں نے خود لکھا کہ بارہ افراد شہادت کے لیے ابن زیاد نے خود بلائے ۔ اور چار حکومتی رئیس تھے ۔ آپ کا پیش کردہ شہادتی بھی حکومتی رکن ہے ۔ اور جناب حجر بن عدیؓ کی بار بار دھرائی جانے والی بات آپ کو کہیں نظر نہیں آ رہی کہ : " جب وہ(حجر بن عدی) زیاد کے پاس سے بھیج دئیے گئے تو کہنے لگا قسم بخدا اگر امان نہ دہ ہوتی تو یہاں سے وہ ہل نہ سکتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کی جان نکال لی جاتی ۔قسم بخدا اس کی گردن کاٹنے کے لیے میرا جی لوٹ رہا ہے ۔ تو جنا سعیدی صاحب اس وقت حجر بن عدی نے کہا : " انہوں نے (حجر بن عدی) نے بلند آواز سے پکار کر کہا : بار الہا میں اپنی بیعت پر قائم ہوں نہ میں اسے چھوڑوں گا ۔ نہ چھوڑنا چاہتا ہوں یہ محض خدا و خلق خدا کی اطاعت کے لیے " جناب یہی بات حجر بن عدی نے امیر معاویہ کو پیغام میں کہی ، یہی بیعت پر قائم رہنے کی بات قتل سے پہلے کہی ۔ کیا کوئی باغی یوں بار بار اپنی بیعت پر قائم رہنے کی دہائی دیتا ہے وہ بھی حجر بن عدی جیسا جو کہ مولا علیؓ کا ساتھی اور محب ہو ۔ ------------------------- اعتراض: " آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ:۔ کہنے لگے ۔ خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔ کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ جواب سعیدی صاحب یہ روایت آپ کے سب سے ناپسندیدہ راوی ابو مخنف سے منقول ہے۔ اگر اس کی نہیں تو راوی پیش فرما دیں ۔ --------------------------------- اعتراض آپ نے خود ہی نقل کیا ہے کہ حجر بن عدی حکمرانی کا حق صرف آل ابوطالب کیلئے مانتا تھا،اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خلفاء ثلاثہ سے بھی بغاوت رکھتا تھا۔ جواب: جناب سعیدی صاحب بہت سے صحابہ کرام حضرت علیؓ کو خلیفہِ اول ہونے کا مانتے اور عقیدہ رکھتے تھے ۔ اور وہ بھی ہیں جبہوں نے کبھی بھی حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کو نہیں مانا ، نہ ہی بیعت کی کیا وہ باغی ٹہرائے جائیں گے ۔ یہاں تو حجر بن عدی خود بار بار کہ رہے ہین کہ مین بیعت پر قائم ہوں ۔اور نہ ہی توڑنا چاہتا ہوں ۔ اعتراض " شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے " جواب دینوری ہرگز شیعہ نہیں اہل سنت ہے اعتراض " شیعہ مؤرخ دینوری لکھتا ہے کہ اس نے صلح حسن پر امام حسن کو شرم دلائی تھی ،پھر امام حسین کے پاس گیا وہاں سے بھی جواب ملا۔پس وہ حسنین کریمین کی صلح کا بھی باغی تھا۔ " جواب جناب سعیدی صاحب لکھ امام حسن رضی اللہ عنہ کے بہت سے ساتھیوں نے صلح معاویہ پر اعتراضات کیے تھے ، مگر بعد میں حجر بن عدی نے بیعت کر لی تھی ، اور اہل بیعت ہرگز حجر بن عدی سے ناراض نہیں تھے ۔ ورنہ آج حجر بن عدی شہیدِ اہل بیت ہرگز نہ کہلاتا ،پھر ایسی باتوں سے بغاوت ثابت نہیں ہوتی ۔ باغی کی اک مکمل تعریف ہے جب تک کوئی بھی فسادی ڈاکو یا راہزن اس جامع مکمل تعریف پر پورا نہیں اترتا وہ ہرگزہرگز باغی نہیں کہلا سکتا ۔ اعتراض : "علی کی شتم و ذم نہ چھوڑنا کی روایت آپ نے جہاں سے لی ہے وہیں لوط بن یحییٰ کی شخصیت بطورراوی جلوہ گرہے،اور وہ جلا بھنا شیعہ ہے" ۔ جواب: میرے پاس معاویہ کی گالیوں کی صحیح روایات موجود ہیں آپ اس کی ہرگز فکر نہ کریں ۔ آپ کے اعتراضات ختم ہوئے ۔ -------------------------------- سب سے اہم ترین گواہی جو کہ شریح بن ہانی کی ہے انہوں نے کہا کہ : " حجر بن عدی کے باب میں میری شہادت یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے والوں میں ہیں ۔ ان کا خون بہانا اور مال لینا حرام ہے ، اب چاہو تو قتل کرو یا چھوڑ دو " ------------------------ جناب محترم سعیدی صاحب باغی کی مکمل اور جامع تعریف لکھیں ؟ جناب سعیدی صاحب کیا یہ شہادتیں اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق ہوئیں ؟ ---------------------------
  16. جناب سعیدی صاحب میں نے بالکل وہ قول آپ کی طرف منسوب نہیں کیا ۔ وہ عام روٹین میں لکھا کہ یہ آپ کے مسلسل خلفاء کی تعداد بارہ مکمل ہو گئی ۔ اگر مجھے یہ یقین ہوتا کہ آپ مسلسل خلفاء کی بات کر رہے تو پھر میں اسی کو زیر بحث لاتا ۔ جب بار بار کہنے کے باوجود آپ کے دوٹوک موقف سامنے نہیں آ رہا تھا تب ہی تو اتنا کچھ لکھنا پڑا۔ اب آپ کا دو ٹوک موقف آ گیا ہے کہ امیر معاویہ خلیفہ ہیں ۔ عادل ہیں اور قیامت تک کے عادل بارہ خلفاء میں شامل ہیں جناب سعیدی صاحب کیا میں نے آپ کا موقف صحیح سمجھا ؟ ------------------
  17. بہتر ہو گا کہ خود بھی اپنا خیال کریں اور مجھے بھی بداخلاقی پر مجبور نہ کریں ۔ انسان کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسی باتیں انسان ٹاپکس پر پوسٹیں لگا کر تب کرتا ہے اگر پلے کچھ نہ کچھ ہو ۔ امید ہے آپ غعر فرمائیں گے ۔ -------------------------------------
  18. قادری سلطانی صاحب میں نے ایسے ہی نہیں لکھا تھا کہ اس فورم پر سب سے بڑی بڑی باتیں فقط آپ کرتے ہیں لیکن پلے کچھ بھی نہیں ہے ۔ قادری سلطانی صاحب آپ ہی ہمت کر کے لکھ دیں کہ اگر یہ قول ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ " تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں" ۔ ابن حجر عسقلانی کا ثابت نہ ہوا تو پھر آپ کیا کریں گے ۔ چلیں لکھ دیں ۔ ذرا سی بات ہے ۔ ----------------------------
  19. جناب سعیدی صاحب اللہ اور اللہ کے رسولﷺ گواہ ہیں اور جانتے ہیں کہ حق کیا ہے ۔ مجھے آج نہیں تو کل مرنا ہے اور ہر عمل کا مجھے جواب دینا پڑے گا ۔ آپ پڑھتے آئیں اور آخر میں فیصلہ کیجے گا کہ کیا حضرت حجر بن عدی واقعی باغی تھے ؟ اگر باغی تھے ، تو اس باغی نے امیر معاویہ کے آخری پیغام پر علیؓ پر لعنت کر کے اور گالیاں دے کر جان کیوں نہیں بچائی ؟ اور شریح بن ہانی نے اس باغی کے حق میں کیوں گواہی دی؟ اور کیا جو باغی اقرار کر رہا ہو کہ میں بیعت پر قائم ہوں پھر بھی اسے سزا دی جائے گی ؟ اگر باغی تھا بھی تو کیا حجر بن عدی جسے باغی کی سزا شریعت میں قتل تھی ؟ پڑھیے ۔ ابن خلدون لکھتا ہے کہ: " اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو جب معلوم ہوا کہ حجر مع چند لوگوں کے گرفتار ہو کر شام بھیجے گئے ہیں تو جنابِ موصوفہ نے عبدالرحمٰن بن الحرث کو امیر معاویہ کے پاس سفارش کے لیے روانہ کیا ۔ لیکن یہ لوگ اس وقت دمشق پہنچے جب کہ حجر مع ساتھیوں کے قتل ہو چکے تھے۔ عبدالرحمٰن نے امیر معاویہ سے کہا: " کیوں معاویہ حجر کے قتل کے وقت ابوسفیان کا حلم کہاں غائب ہو گیا تھا " ۔ امیر معاویہ نے جواب دیا: جہاں تم جیسے قوم کے حلیم غائب ہو گئے تھے اور مجھ کو اس امر پر ابنِ سمیہ(زیاد) نے آمادہ کیا تھا اسی وجہ سے میں حجر کے قتل پر تل گیا۔ اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو حجر کے قتل کا مدتوں افسوس رہا " ۔ ابنِ خلدون پھر لکھتا ہے: لوگوں نے حجر کے قتل کے اسباب بیان کرتے ہوئے یوں بھی بیان کیا کہ: ایک مرتبہ زیاد نے جمعہ کے دن بہت بڑا خطبہ پڑھا جس سے نمازِ اوّل کا وقت جاتا رہا حجر کو یہ فعل ناگوار گذرا ، چلا کر بولے الصلوٰۃالصلوٰۃ زیاد کچھ متوجہ نہ ہوا تب انہوں نے نماز کے بےوقت ہونے کے ڈر سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھا کر زیاد کی طرف پھینکی اور نماز کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ساتھ ہی حاضرین بھی اٹھے، زیاد نے یہ دیکھ کر ممبر سے اتر کر نماز پڑھی اور امیر معاویہ کو حجر کی بہت شد و مد سے شکایت لکھ کر بھیج دی۔ امیر معاویہ نے حکم بھیجا کہ حجر کو پابہ زنجیر گرفتار کر کے بھیج دو۔ پس زیاد نے سپاہیوں کو حجر کے گرفتار کرنے کو بھیجا، بالاآخر حجر مع ان لوگوں کے جنہوں نے حجر کی ہمدردی اور اعانت کی ۔ گرفتار کر کے امیر معاویہ کے پاس بھیج دئیے گئے ۔ امیر معاویہ نے حجر کے قتل کا حکم دیا ۔ حجر نے دورکعت نماز پڑھی اور حاضرین کو وصیت کی کہ: " میری بیڑیاں اور ہتھکڑی نہ اتارنا نہ میرے خون کو دھونا میں کل قیامت میں معاویہ سے اسی حالت میں ملوں گا " تاریخ ابنِ خلدون (حصہ دوم) خلافتِ معاویہ و آلِ مروان ،صفحہ نمبر / 491 ------------------ ------------------------------------------
  20. آج تقریباً چار پانچ دن آپ جان بوجھ کر یہ کھیل کھیل رہے ہیں ۔ جو حوالہ دیا جائے اگر اسی وقت اس کی کتاب پیش کر دی جائے تو یہ پریشانی نہ ہو شاید آپ کتاب اسی لیے پیش نہیں فرماتے چلیں سعیدی صاحب اگر آپ اس کو امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول ثابت نہ کر سکے تو پھر ؟ -------------------------------
  21. --------------------------- جناب محترم سعیدی صاحب میں کبھی بھی اور کسی بھی ٹاپک کر اپنا عقیدہ صاف، واضح اور دو ٹوک بیان نہیں کر رہے ، آپ کی کیا مجبوری ہے میں نہیں سمجھ پا رہا ۔ میں نے تین کتابیں پیش کی جس میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں امیر معاویہ کو خلیفہِ راشد لکھا گیا ۔ میں نے سوال کیا تھا کہ کیا امیر معاویہ خلیفہ راشد ہیں ، جس کا جواب فقط اتنا تھا کہ ہاں خلیفہِ راشد ہیں ۔ یا نہیں خلیفہِ راشد نہیں حالانکہ کہ عقیدہ مراد کسی شے کی ایسی تصدیق ہے جس میں کوئی شک نہ ہو۔ مگر جناب آپ کبھی ایک تاویل پیش فرماتے ہیں کبھی دوسری جبکہ میں بار بار پوچھ رہا کہ کیا امیر معاویہ خلیفہِ راشد تھے یا نہیں ؟ آب آپ نے یہ جملہ میرے سامنے رکھ دیا کہ : " کیا (یعمل بالھدیٰ و دین الحق) سے آپ کو جواب نہ ملا تھا؟ " پہلے آپ نے لکھا کہ امیر معاویہ بارہ خلفاء عادل خلفاء میں شامل ہیں اور وہ بھی راشد ہی سمجھے جاتے ہیں ، کی طرح یا اس سے ملتے جلتے الفاظ استعمال کیے ۔ اور ساتھ ہی دوکتابوں الصواعقِ محرقہ اور تاریخ الخفاء کے نام لکھ ڈالے ۔ جناب محترم سیعدی صاحب عقائدِ اھل سنت خیالات سے نہیں بلکہ قرآن و احادیث صحیحہ ، اجماع یا جمہور اہل سنت کی آراء پر قائم ہیں ۔ میں آپ ہی کی لکھی ہوئی کتاب " تاریخ الخلفاء " آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ اس کے جتنے صفحات ہیں ان کو پڑھ لیں ، سوچ لیں اور کسی بھی ایک بات کو دوٹوک عقیدہ بنائیں اور لکھیں کہ میرا یہ عقیدہ ہے ۔ اور اس کتاب کے مترجم بھی بہت بڑے پکے اور سچے بریلوی ہیں آپ کو بات سمجھنے میں بھی آسانی ہو گی ۔ صفحہ نمبر/ 120 پر صاف اور دوٹوک لکھا ہے کہ: " حضرت علیؓ کے دور خلافت میں جنگِ صفین ( حکمین فی صفین ) کا واقعہ پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ موسوم (نامزد) کیا " آگے اسی صفحہ نمبر/120 پر لکھتے ہیں کہ : " اس طرح خلفائے راشدین کے بعد مندرجہ ذیل سات خلفاء ہوئے ہیں ۔ ( اُن سات خلفاء میں (1): خلیفہ امیر معاویہ (2):خلیفہ یزید (3): خلیفہ عبدالملک بن مروان (4): خلیفہ ولید بن عبدالملک (5):خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (6): یزید بن عبدالملک (7) خلیفہ ہشام اس طرح کل تعداد گیارہ ہو گی، بارھویں خلیفہ ولید بن یزید بن عبدالملک ہے ۔ لیجے جناب سعیدی صاحب یہاں پر آپ کے 12 مسلسل خلفائے راشدین یا عادلین کی تعداد پوری ہوگی ۔ صفحہ نمبر/121 ------------------- پھر اسی صفحہ نمبر/ 121 کے آخر میں لکھا ہے کہ: بارہ خلفائے اسلام آغاز سے قیامت تک پھر صفحہ نمبر/ 122 پر لکھتے ہیں کہ: اور رسولﷺ کا یہ ارشاد کہ " ان بارہ خلفاء کی خلافت کے بعد پھر فتنہ و فساد ہو گا " اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ یہ فتنہ و فساد کا زمانہ خروج دجال سے قیامِ قیامت کا درمیانی زمانہ ہے " مصنف کا زاتی خیال لکھتے ہیں کہ : " لیکن میرا خیال یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے جن بارہ خلفاء کی بابت ارشاد فرمایا ہے ۔ وہ حضرات یہ ہیں ۔ چار خلفائے راشدین ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) اور امام حسنؓ ۔ (6): حضرت امیر معاویہؓ (7): حضرت ابن زبیرؓ (8) : حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ یہ جملہ آٹھ حضرات ہوئے ۔ (9): انہی خلفاء اثنا عشرہ میں خلیفۃ المہدی کو بھی شامل کرنا چاہیے ۔ (10): دسواں خلیفہ الطاہر کو شمار کرنا چاہیے ۔ (11) - (12) دو خلفائے منتظر " ۔ صفحہ نمبر/ 122 ------------------------- لیجیے جناب محترم سعیدی صاحب یہ بارہ وہ خلفائے راشد یا عادل ہیں جو مصنف کے ذاتی خیال سے بنائے گئے ہیں ۔ اہم نوٹ : مصنف نے صرف اک رائے کا اظہار کیا ہے ۔ اور اس رائے سے پہلے مصنف 12 خلفاء کی حدیث سے سے اصل مراد لکھ چکے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ : " اور رسولﷺ کا یہ ارشاد کہ " ان بارہ خلفاء کی خلافت کے بعد پھر فتنہ و فساد ہو گا " اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ یہ فتنہ و فساد کا زمانہ خروج دجال سے قیامِ قیامت کا درمیانی زمانہ ہے " --------------------------- جناب محترم سعیدی صاحب لیجے اب آپ کے پاس اپنے ہی حوالہ میں لگائی گئی کتاب سے تین قسم کے آپشن ہیں ان میں سے کسی ایک پر جناب امیر معاویہ کے خلیفہِ راشد ہونے بارے اپنا دوٹوک ، واضح عقیدہ لکھ دیں کہ : کیا امیر معاویہ مسلسل خلفائے راشدین و عادلین جن میں یزید بھی خلیفہِ راشد یا عادل ہے، کے ساتھ شامل ہیں ۔ یا وہ خلفائے راشدین و عادلین جو مصنف نے بارہ خلفاء کی حدیث کا مطلب و مراد لکھنے کے بعد اپنا ذاتی خیال ظاہر کیا ہے ؟ یا بقول امیر معاویہ " حضرت علیؓ کے دور خلافت میں جنگِ صفین ( حکمین فی صفین ) کا واقعہ پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ موسوم (نامزد) کیا " صفحہ نمبر/120 ------------------------- جناب سعیدی صاحب اب امید ہے کہ تینوں میں کسی ایک آپشن میں سے امیر معاویہ کا خلیفہِ راشد یا خلیفہِ عادل ہونا واضح فرما دیں گے ۔ --------------------
  22. جناب سعیدی صاحب محترم آپ نے لکھا کہ ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں ۔ اب اس کو ثابت آپ نے کرنا تھا کہ ابن حجر عسقلانیؒ کا ابو عبداللہ الجدلی کے بارے (کان شدید التشیع) کا عقیدہ ہے ۔ لیکن میرے بار بار کے اصرار کے باوجود آپ کتاب سے ابن حجر کے یہ الفاظ نہیں دیکھا رہے اور مجھے کہتے ہیں کہ میں دیکھاؤں کیا آپ اصولی بات فرما رہے ہیں ، کتاب سے ابن حجر عسقلانیؒ کے یہ الفاظ دیکھانا اور ثابت کرنا آپ کے ذمہ ہے نہ کہ میرے
  23. حضرت حجر بن عدیؓ کے مقدمہ کی باقی شہادتیں جناب محترم سعیدی صاحب آپ بھی کمال کے عالم دین ہیں شہادتوں کو دیکھے پڑھے بغیر ہی باغی لکھ دیا باغی کے لیے باغی کا لفظ اہل سنت کی کتابوں سے ثابت کرنا پڑ گیا تو پھر کیا کریں گے؟ آپ دیکھائے گے تو ہم صحیح بات کا انکار نہیں کریں گے مگر پہلے شہادتیں پڑھ لیں ۔پھر شہادتوں پر اور شہادتوں پر کیے گئے معاویہ بن ابوسفیان کے حکم کو زیر بحث لاتے ہیں ۔ ----------------------
  24. جناب سعیدی صاحب بڑے افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ مجھے آپ کی کسی بھی بات پر یقین نہیں جب تک آپ ابن حجر عسقلانیؒ کے یہ الفاظ (کان شدید التشیع) ثابت نہیں کر دیتے کہ ابن حجر نے یہ الفاظ ابو عبداللہ الجدلی کے بارے میں کہے ہیں ۔ آپ کتاب لگا کر ابن حجر کے وہ الفاظ ثابت کریں ورنہ میں آپ کو جھٹلانے پر مجبور ہوں ۔ کیا وجہ ہے کہ آپ تہذیب التہذیب نہیں دیکھا رہے ؟ ------------
  25. استغفراللہ جھوٹی شہادتوں پر اک صحابی رسولﷺ کو قتل کرنے پر کتنے ثواب ملتے ہیں ، ایک یا دو صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدیؓ کا ظلماً قتل کا واقعہ اور شہادتیں -------------- سن 51 ہجری کے واقعات ------------------------ " امیر معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما معاویہ ابن ابی سفیانؓ نے 41 ہجری میں جب مغیرہ بن شعبہؓ کو والی کوفہ مقرر کیا تو مغیرہؓ کو بلا بھیجا ۔ حقِ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد کہا: عاقل کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر علمس کا ایک شعراس مضمون کا پڑھ کر کہا کہ مرد عاقل بات کو بے کہے ہوئے سمجھ لیتا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ بہت سی باتیں تم کو سمجھاؤں، مگر اس ذکر کو چھوڑ دیتا ہوں کہ تمہاری بصیرت و دانائی پر مجھے بھروسا ہے کہ تم خوب جانتے ہو کن باتوں میں میری خوشنودی میری حکومت کی ترقی میری رعیت کی بہتری ہے ۔ ہاں ایک امر کا ذکر کیے بغیر میں نہیں رہ سکتا ، علیؓ کو گالی دینے میں اُن کی مزمت کرنے میں اور عثمانؓ کے لیے مغفرت و رحمت کرنے میں پھر اصحابِ علیؓ کی عیب جوئی میں اُن کو اپنے سے دور رکھنے اُن کی بات نہ سننے میں اس کے برخلاف شیعہ عثمانؓ کی ستائش کرنے میں اُن کے ساتھ مل کر رہنے میں آپن کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہ کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغیرہؓ نے سات برس چند مہینے معاویہؓ کی طرف سے حکومت کی ہے اور بڑے نیک سیرت امن و عافیت کے دل سے خواہش مند رہتے تھے مگر علیؓ کو بُرا کہنا ، اُن کی مذمت کرنا ، قاتلانِ عثمانؓ پر لعنت اُن کی عیب جوئی کرنا عثمانؓ کے لیے دُعائے رحمت و مغفرت اور اُن کے اصحاب کے لیے بے لوث ہونے کو ثابت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا ۔ " تاریخِ طبری ، جلد/4 ، حصہ اوّل ، ص / 82 معاویہ بن ابو سفیا کا یہ جملہ: " ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، علیؓ کو گالی دینا اور مذمت کرنا ، عثمانؓ کے لیے رحمت کی دُعا اور مغفرت مانگنا کبھی ترک نہیں کرنا ۔ جمل من أنساب الأشراف المؤلف: أحمد بن يحي بن جابر البلاذري المحقق: سهيل زكار - رياض زركلي سنة النشر: 1417 - 1997' https://archive.org/stream/FP32796/05_32800#page/n251/mode/2up ----------------- مرآة الزمان في تواريخ الأعيان المؤلف: شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي» https://archive.org/stream/FP144301/07_144307#page/n222/mode/2up -------------- الكتاب: الكامل في التاريخ (ط. العلمية) المؤلف: علي بن محمد بن محمد ابن الأثير الجزري عز الدين أبو الحسن الناشر: دار الكتب العلمية https://archive.org/stream/WAQkamilt/kamilt03#page/n326/mode/2up --------------- عنوان الكتاب: الخطابة وإعداد الخطيب المؤلف: عبد الجليل عبده شلبي link https://archive.org/details/FP84363/page/n251 ------------------------------------------------- ان سب کتابوں میں موجود ہے ۔ --------------------------------------- یہی بات(جب مغیرہ بن شعبہؓ مولیٰ علیؓ کو گالیاں دیتا اور لعنت کرتا تھا) حجر بن عدیؓ کہنے لگے تھے وہ تو نہیں بلکہ تم لوگوں کا خدا برا کرے اور لعنت کرے ۔ پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اور کہتے تھے ۔ خدا عزووجل فرماتا ہے۔ " خدا کی راہ میں گواہی دے کر عدل و انصاف قائم کرو " میں (حجر بن عدیؓ) گواہی دیتا ہوں کہ: جن(علیؓ) لوگوں کی تم(مغیرہ بن شعبہ) مذمت کرتے ہو ۔ جن کو تم عیب لگاتے ہو وہی فضل و بزرگی کے سزا وار ہیں ۔ اور جن کا بے لوث ہونا تم ثابت کرتے ہو۔ جن کی ستائش گری کر رہے ہو ۔ یہی مذمت کے قابل ہیں ۔ مغیرہؓ یہ سن کر کہتے تھے اے حجرؓ میں تمہارا حاکم ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " حضرت حجر بن عدیؓ نے مغیرہ کے خطبہ کی مخالفت کیوں کی؟ -------------- یہی ہوتا رہا(یعنی مولیٰ علیؓ پر سب وشتم اسی طرح جاری رہا) یہاں تک مغیرہؓ نے اپنی امارت کے اخیر زمانہ میں خطبہ پرھا ۔ علیؓ و عثمانؓ کے باب میں جو بات ہمیشہ وہ کہا کرتے تھے ۔(یعنی حضرت علیؓ کو گالی دینے میں تامل نہ کرنا اور حضرت عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت کرنا) اسی کو اس طور پر کہنے لگے ۔ خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی ، یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔ کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ کہا کسی شخص کے دھوکے میں تم آئے ہوئے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے بڑھاپے کے سبب سے عقل جاتی رہی ہے ۔۔ اے شخص ہماری تنخواؤں اور عطیوں کے جاری جانے کا اب حکم دے دو ۔ تم نے ہمارے رزق کو بند کر رکھا ہے ۔ اس کا تمہیں کیا اختیار ہے ۔ تم سے بیشتر جو حکام گزرے ہیں انہوں نے کبھی اس بات کی طمع نہیں کی ۔ اس کے علاوہ تم نے امیر المؤمنیں(حضرت سیدنا علیؓ) کی مذمت اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ۔ تاریخِ طبری ، جلد / 4 ، حصہ اوّل ، ص /83 ------------------------ جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو طبری نے یوں نقل کیا ہے کہ : قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔ زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟ صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔ صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔ لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟ صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟ زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔ جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟ صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔ یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔ زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔ ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔ زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔ میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔ عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔ مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔ چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ، عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ، محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ، عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔ ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔ قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔ شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے، میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ، حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔ قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں: حجر ابن عدی، شریک ابن شداد حضرمی، صیفی ابن فسیل شیبانی، قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی، محرز ابن شہاب السعدی، کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔ اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔ زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔ تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155 ------------- http://islamport.com/w/tkh/Web/2893/1483.htm طبری نے بھی لکھا ہے کہ: أن معاوية بن أبي سفيان لما ولى المغيرة بن شعبة الكوفة في جمادى سنة 41 دعاه فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ... ولست تاركا إيصاءك بخصلة لا تتحم عن شتم على وذمه والترحم على عثمان والاستغفار له والعيب على أصحاب على والاقصاء لهم وترك الاستماع منهم ... . معاویہ نے جب سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ کو کوفہ کا والی و حاکم بنایا تو اسے حکم دیتے ہوئے کہا: ایک کام کو بالکل بھولنا نہیں ہے اور اسے زیادہ تاکید کے ساتھ انجام دینا ہے، اور وہ کام، علی پر لعنت کرنا اور اسے گالیاں دینا ہے اور اسکے مقابلے پر عثمان کا ذکر احترام سے کرنا اور ہمیشہ اسکے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور علی کے اصحاب کی برائیوں کو بیان کرو اور انکو جلا وطن کرنا اور انکی کوئی بھی بات نہ سننا۔ تاريخ طبري‌ ،‌ ج4 ، ص188 . ------------------------ معاویہ بن ابوسفیا نے مغیرہ کو کیا حکم دیا کہ حضرت حجر بن عدی ان کو ٹوکتے اور احتجاج کرتے واقعہ اور شہادتیں روسائے ارباع( حکومتی نمائندوں) کی گواہی زیادہ نے اس شہادت کو دیکھ کر کہا اس طرح کی شہادت تم سب لوگ دو ۔ سنو واللہ میں اس اجل رسیدہ احمق کی گردن کے قطع ہونے میں جہد بلیغ کروں گا ۔ باقی روسائے ارباع نے بھی ابوبردہ کی شہادت کے مثل گواہی دی ۔ اس کے بعد زیاد نے سب لوگوں کو بلایا اور اُن سے کہا کہ وہ روسائے ارباع کے مثل تم بھی شہادت دو ۔ باقی شہادتیں بعد میں پوسٹ میں لگائی جائیں گی ان شاء اللہ ----------------------------------------------