ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    406
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. جناب محترم سعیدی صاحب روافض کی کتابوں میں جس طرح مولیٰ علیؓ کو ظاہری خلافت میں خلیفہِ بلافصل مانا جاتا ہے ہم اہل سنت کا ہرگز ہرگز وہ عقیدہ نہیں ہے ہے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلیفہِ بلافصل مانتے ہوئے اگر مولا کا معنی دوست ، محبوب ، مددگار کی ہی طرح آقا یا کوئی اور معنیٰ کیا جائے تو کیا پھر وہ جائز ہے کہ نہیں محترم سعیدی صاحب آپ ناحق بھاگ رہے ہیں محترم اب جائز و ناجائز بتانا ہی پڑے گا ۔ آخر اس میں کون سی پریشانی آپ جناب کو درپیش ہے کہ آپ میتے محترم کتنے دن سے اک فقرہ نہیں لکھ پا رہے کہ جائز ہے ناجائز امید ہے آپ مہربانی فرمائیں گے اور دوٹوک لکھیں کہ جائز ہے ناجائز؟ -----------------------------
  2. ،جناب سلطانی قادری صاحب مختصراً حدیث صحیح ہے آپ کے انکار اور فضول اعتراضات کا کوئی جواز ہی باقی نہیں قادری سلطانی آپ لوگ ساری زندگی بھی لگا دیں تو بھی اس حدیث صحیح کو کسی بھی صورت ضعیف بھی قرار نہیں دے سکیں گے ، ان شاء اللہ
  3. جناب محترم قادری سلطانی صاحب مجھے آپ کے ان پیش کردہ معنی سے کوئی اختلاف نہیں ، میری آپ حضرات سے گذارش فقط اتنی ہے کہ لفظ مولا کے جو معنی آپ نے پیش فرمائے انہیں میں مولا کا اک معنی آقا بیان کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ -------------------
  4. قادری سلطانی صاحب اصل میں آپ کے اوسان جاتے رہے ہیں ، اگر آپ پوسٹیں پڑھنے کی زحمت فرماتے تو آپ کو یہ تکلیف پھر سے نہ کرنا پڑتی جناب قادری سلطانی صاحب اور جنابِ سعیدی صاحب اب محققِ اھل سنت محمد ابوزھرہ مصریؒ اور دیگر حوالہ جات کو حدیثِ صحیح سے ثابت کیا جاتا ہے ۔ پڑھیے جناب: عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! " ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا رسول اللہﷺ کو تم لوگوں کی موجودگی میں ممبروں پر بُرا بھلا کہا جا رہا ہے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! آپ کو کہاں برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا : کیا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اُن سے محبت کرنے والوں پر سب و شتم نہیں کیا جا رہا ؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ اُن سے محبت کرتے تھے " ۔ حدیثِ صحیح کتاب کا نام : سلسلہ احادیثِ صحیحہ / 5( اردو) مصنف کا نام : علامہ محمد ناصر الدین البانی حدیث کی سند ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط " (6/389/5828) ، و"المعجم الصغير" (199- هندية) : حدثنا محمد بن الحسين أبو حُصين القاضي: قال: حدثنا عون ابن سلام قال: حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُلَمي عن السُّدِّي عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! وقال الطبراني: ‏‏‏‏"لم يروه عن السدي إلا عيسى". ‏‏‏‏قلت: ومن طريقه أخرجه أبو يعلى في "مسنده " (12/444- 445) ، والطبراني أيضاً في "المعجم الكبير" (23/323/738) من طرق أخرى عن عيسى به . ‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد جيد، ورجاله كلهم ثقات، وفي السدي- واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن- كلام يسير لا يضر، وهو من رجال مسلم. وأما إعلال المعلق على "المسند " بقوله: ‏‏‏‏"رجاله ثقات إلا أنه- عندي- منقطع، ما علمت رواية لإسماعيل بن عبد الرحمن السدي عن أبي عبد الله الجدلي فيما اطلعت عليه. والله أعلم "! ‏‏‏‏قلت: وهذا من أسمج ما رأيت من كلامه؛ فإن السدي تابعي روى عن أنس في "صحيح مسلم "، ورأى جماعة من الصحابة مثل الحسن بن علي، وعبد الله بن عمر، وأبي سعيد، وأبي هريرة كما في "تهذيب المزي "، يضاف إلى ذلك أن السدي لم يرم بتدليس، فيُكتفى في مثله المعاصرة، كما هو مذهب جمهور الحفاظ الأئمة , فلعله جنح به القلم إلى مذهب الإمام البخاري في "صحيحه " الذي يشترط اللقاء وعدم الاكتفاء بالمعاصرة، وما أظنه يتبناه؛ وإلا انهار مئات التصحيحات والتحسينات التي قررها، ويغلب عليه التساهل في الكثير منها، وبخاصة ما كان فيا من الرواة ممن لم يوثقهم أحد غير ابن حبان، وهو لا يشترط اللقاء! ‏‏‏‏ومحمد بن الحسين شيخ الطبراني؛ مما فات على صاحبنا الشيخ الأنصاري رحمه الله أن يترجم له في كتابه النافع: "بلغة القاصي والداني "، وقد ترجم له الخطيب (2/129) ترجمة حسنة، وأنه روى عنه جماعة من الحفاظ، وفاته الطبرانيُّ، ثم قال: ‏‏‏‏"وكان فهماً، صنف "المسند". وقال الدارقطني: كان ثقة. وقال إبراهيم بن إسحاق الصواف: أبو حصين صدوق، معروف بالطلب، ثقة. مات سنة (296) ". ‏‏‏‏ ‏‏‏‏هذا، وقد تابع السدي: أبو إسحاق وهو السبيعي؛ رواه فطر بن خليفة عنه عن أبي عبد الله الجدلي قال: ‏‏‏‏قالت أم سلمة: يا أبا عبد الله! أيسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فيكم؟ قلت: ومن يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ قالت: ... فذكره. ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "الكبير" (23/322/737) . ‏‏‏‏قلت: ورجاله ثقات؛ على الكلام المعروف في أبي إسحاق، وقد اختلف عليه في إسناده ومتنه، فرواه بعضه عنه بلفظ: ‏‏‏‏"من سب عليّاً فقد سبني، ومن سبني سبه الله ". ‏‏‏‏وهو بهذا اللفظ منكر، ولذلك أوردته في "الضعيفة" (2310) ، وخرجته هناك، وتعقبت من صححه، فليراجع في المجلد الخامس منه، وهو تحت الطبع، وسيكون بين أيدي القراء قريباً إن شاء الله تعالى، وقد طبع بحمد الله ومنته. ‏‏‏‏والأحاديث في حب النبي - صلى الله عليه وسلم - لعلي رضي الله عنه كثيرة جدّاً، أصحها حديث إعطائه الراية يوم خيبر، وقوله - صلى الله عليه وسلم -: ‏‏‏‏"لأعطين هذه الراية رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله ... ". ‏‏‏‏رواه جمع من الصحابة في "الصحيحين " وغيرهما، وقد خرجت بعضها فيما تقدم (3244) ، وفي " تخريج الطحاوية " (484/713) . * ------------------ قادری سلطانی صاحب میری پوسٹ باغی کے ٹاپک پر کب بحال فرمائیں گے ؟ یا میں پھر سے نئی لگاؤں ؟ ----------------------------
  5. ایسے الزامات کی حدیث صحیح کے سامنے کوئی اوقات نہیں ہوا کرتی ۔ سعیدی صاحب اللہ سے ڈریں اور خوف خدا کریں آپ کی کمال کی ہمت ہے کہ محض معاویہ جو کہ ممبر رسولﷺ پر مولی علیؓ کو گالیاں دینے کا بانی ہے اسے بچانے کے لیے حدیثِ صحیح کا انکار کرتے ہیں ۔ یہ شیعہ و رافضی کے بڑے فتوئے ہیں اہل سنت کے محدثین امام حاکم ، امام ععبدالرازاق اور امام نسائی اور حافظ جریر طبری جیسوں پر لگائے ہیں ان فتوؤں کا کیا حشر ہوا وہ زمانہ جانتا ہے ۔ آپ کے محقق اسلام حضرت مولانا محمد علی نقشبندی صاحب لکھتے ہیں کہ حافظ جریر طبری نے بذات خود دو مرتبہ معاویہ بن ابوسفیان پر لعنت کی ہے اور اس سے اس کی شیعت ثابت ہوتی ہے ۔ امام احمد رضا خان بریلوی نے حافظ جریر طبری کی تفسیر طبری کے بارے جو لکھا اور تعریفات کی ہیں آپ جانتے ہوں گے کیا امام اہل سنت حافظ جریر طبری معاویہ بن ابوسفیان پر دو بار لعنت کرنے کے باوجود آج بھی اہل سنت کا چمکتا ہوا ستارہ نہیں ہیں ؟ پھر اہل تشیع کے کتنے نام لکھو جو مسلم شریف میں روایات کے راوی ہیں ۔ لہذا حدیث صحیح کا انکار آپ چند لفظ لکھ کر کیسے کر سکتے ہیں ؟ یہ لیں حافظ جریر طبریؒ کا حوالہ بھی دیکھ لیں -------------------- حدیثِ صحیح کے انکار کے لیے اہل سنت کے محدثین پیش فرمائیں جنہوں نے اس کا انکار کیا ہو ، ورنہ اس حوالہ کو قبول فرمائیں جو اُم المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بالکل درست فرمایا ۔ -------------------------
  6. مجھے تو صرف ابھی یہ بتائیں کہ معاویہ خلیفہِ راشد تھا یا نہیں تھا ، امام احمد رضا نے اجتہادی خطاء کی یا درست لکھا ؟ جو جواب لکھنے والا ہے وہ آپ لکھیں گے تو پھر میں دیکھو گا اور دیکھاؤن گا محض لکھ کر نہیں کتابیں سامنے رکھ رکھ کر معاویہ بن ابوسفیان کیسے خلیفہِ راشد تھا ؟ -------------------------- حوالہ:سوال/ عرض :-خلافتِ راشدہ کس کس کی خلافت ہے؟جواب/ ارشاد:- ابو بکرصدیق، عمرفاروق، عثمان غنی، مولیٰ علی، امام حسن، امیر معاویہ، عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہم کی خلافتِ راشدہ تھی اور اب سیدنا مہدی رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافتِ راشدہ ہو گی۔------------------- ----------------- جناب محترم سعیدی ساحب یوں بھی نہ بوکھلا جائیں ، میں نے صرف یہ لکھا ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان کو خلیفہ راشد ثابت فرمائیں یا لکھیں یہ کتاب اور امام احمرضاخان کے یہ فتوئے جھوٹے اور من گھڑت ہیں ۔ اور پریشان نہ ہوں ۔ صرف یہی جواب لکھیں ۔ --------------------------------
  7. جناب سعیدی صاحب یہ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کون کس سے بھاگ رہا ہے اور کون بوکھلا رہا ہے ؟ مولا کا معنی آقا کرنے پر اھل سنت سے خارج ، بدمذہب ، رافضی اور گمراہ لکھنے والے ایسے بوکھلائے کہ یہ بھی نہیں لکھ رہے کہ مولا کا معنیٰ دوسرے الفاظ محبوب ، دوست ، مددگار کی طرح آقا کرنا جائز ہے کہ نہیں ۔ محترم کہاں فتووں سے آپ بھاگے اب جائز و ناجائز لکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی ۔ گمراہ کن عقیدے پر یوں ہی ہوا کرتا ہے ۔ ---------------------------------
  8. جناب سیعدی صاحب آپ کی واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے قصہِ مختصر کہ مولا کا معنی محبوب ، دوست ، ذمہ دار ، غلام ، مالک کی طرح آقا کرنا جائز ہے یاکہ جائز نہیں --------------------------
  9. مجھے تو صرف ابھی یہ بتائیں کہ معاویہ خلیفہِ راشد تھا یا نہیں تھا ، امام احمد رضا نے اجتہادی خطاء کی یا درست لکھا ؟ جو جواب لکھنے والا ہے وہ آپ لکھیں گے تو پھر میں دیکھو گا اور دیکھاؤن گا محض لکھ کر نہیں کتابیں سامنے رکھ رکھ کر معاویہ بن ابوسفیان کیسے خلیفہِ راشد تھا ؟ --------------------------
  10. اس لیے کہ جہاں مولا کا لفظ استعمال ہوا ہے اس مقام کے مناسب جو معنی ہو گا وہ مراد ہو گا ۔ لہذا جس حدیث میں لفظ مولا آیا ہے وہ حدیث جس معنی کی مقتضی ہو گی وہ مراد لیے جائیں گے ۔ " سورۃ التحریم میں ھے کہ جبریل اور صالح المومنین() مولا ھیں ھمارے نبی کریم کے ۔ " یہاں مناسب ہے کہ معنی مدد مراد لیا جائے اور جہاں مولا کا لفظ تقاضا کرے کا وہاں معنی میں دیگر الفاظ دوست ،آقا محبوب ، ذمہ دار ، غلام مراد لیے جائیں گے ۔ جنابِ محترم سعیدی صاحب جیسے کہ کریم آقاﷺ نے فرمایا کہ : " وقال لزید:أنت أخونا ومولانا ۔ " " فرمایا کہ زید تم ہمارے بھائی اور مولی( غلام ) ہو ۔ " جہاں لفظ مولا جس معنی کا مقتضی ہو گا یا اس کے جو معنی مناسب ہو گا وہی مراد لیے جائیں گے ۔ اس لیے اہل سنت کے علماء کرام نے جہاں تقاضا اور ضرورت تھی وہاں مولا کا معنی آقا بھی مراد لیے جیسا کہ اوپر مولا کے معنی آقا کے حوالہ جات موجود ہیں ۔ جناب سعیدی صاحب امید ہے کہ اب آپ کی سمجھ میں مکمل بات آ جائے گی ۔ --------------------
  11. جناب محترم سعیدی صاحب آپنے اس عقیدہ کو تفاسیر و احادیث اور محدثین کی تشریحات سے ثابت کرنے کے لیے اہل سنت کی کتابوں سے حوالہ جات پیش فرما دیں ۔ ------------------ ثابت فرمائیں کہ معاویہ بن ابوسفیان کے دور میں کریم آقاﷺ کی کسی سنت کو تبدیل نہیں کیا گیا اور وہ خلیفہِ عادل ( خلیفہ راشد) تھے ۔ --------------------------
  12. جناب محترم سعیدی صاحب میں سب کا معنیٰ برا بھلا کہنا ، سب و شتم کرنا حدیث ِ صحیح سے ثابت کر چکا ہوں اور حوالہ جات لگا چکا ہوں ،۔ سَب کا معنی گالی دینا ، برا بھلا کہنا اردو و عربی کی تقریباً 5 ڈکشنریز پیش سے ثابت کر چکا ہوں ۔ جناب محترم سعیدی صاحب آپ تو حدیثِ صحیح سے ثابت کیا ہوا معنی بھی ماننے سے انکاری ہو رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ : " سب کا معنی تخطئہ " تو جناب اگر سَب کا معنی تخطئہ ہے تو آپ بھی ثابت فرما دیں ۔ اھل سنت کی کتابیں ، آڈیوز اور ویڈیوز پیش فرما دیں میں منتظر ہوں ۔ ------------------------
  13. جناب محترم سعیدی صاحب میرا اب نہیں ہمیشہ سے یہی موقف ہے اور جاہل سے جاہل اہل سنت کے علم میں ہے کہ کوئی غیر نبی انبیاء سے افضل نہیں ہو سکتا ۔ تعجب ہے کہ آپ جناب نے لکھا کہ اب میرا یہ موقف ہے اگر اس مسئلہ پر میں اتنی لمبی بحث میں پہلے کہیں بھی اس موقف کے خلاف موقف لکھ چکا ہوں تو جناب یہی پیش فرمائیں تاکہ کم از کم پہلے موقف سے رجوع کروں ، توبہ کروں اور اللہ کے حضور معافی مانگو ۔ جناب محترم سعیدی صاحب اتنے رخ بدلنے اور اتنی پرییشانی سے بہت بہتر ہے کہ اس بات کو مان لیں کہ جس طرح مولا کا معنیٰ محبوب ، دوست ، مددگار کیا جا سکتا ہے اسی طرح جب کسی حدیث میں مولا کا معنی آقا کر دیا جائے تو وہ بھی مانا جائے گا ، جائز ہو گا اور درست ہو گا اور بندہ نہ اہل سنت اے خارج نہ بد مذہب اور نہ گمراہ ہو گا ۔ اسی لیے تو میں اوپر اتنے ثبوت دے چکا ہوں اور اللہ کے کرم سے وہ سب لوگ اہل سنت تصور کیے جاتے ہیں ، مانے جاتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں ۔ بالکل کریم آقاﷺ انبیاء کے مولیٰ ہیں ۔ مگر حضرت علیؓ اس وجہ سے ان کے مولا نہیں ہے امید ہے آپ بات کو سمجھ جائیں گے کہ کیسے ؟ سوال : اگر مولیٰ بمعنی آقا لیا جائے تو حضور اکرمﷺ تو انبیاء علیہم السلام کے بھی آقا ہیں تو کیا سیدنا علیؓ تمام انبیاء کے بھی آقا ہوں گے ؟ جواب: کلام الہی ، کلام نبویﷺ اور کلام الناس مین بہت سے مقامات ایسے آتے ہیں جہاں کسی حکم کے الفاظ تو بظاہر عموم پر دلالت کرتے ہیں مگر ان کا معوی اطلاق سب کو شامل نہیں ہوتا ۔ اکثر جو کچھ لوگ اس حکم سے بوجہ مستثنیٰ ہوتے ہیں ۔ مثلاً بنی اسرائیل کی شان میں قران، عظیم میں ارشاد، باری تعالیٰ ہے کہ: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ سورۃ البقرۃ / 47 " میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی" اگر اس آیت کے ظاہری عموم کی طرح اس کے معنوی اطلاق کو بھی عام رکھا جائے تو بنی اسرائیل حضورِ اکرمﷺ اور آپﷺ کی اُمت پر افضلیت لازم آتی ہے ۔ جو کہ متعدد آیات قرآنی اور احادیثِ نبویہ کے خلاف ہیں ۔ اسی طرح قرآن پاک میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دُعا یوں آئی ہے : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لاَّ يَنبَغِي لأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ سورۃ /ص " اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو ، بےشک تو ہی وہاب ہے " ۔ ص/35 یہاں بھی اگر استثناد کے قاعدہ کو بلائے طاق رکھ دیا جائے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہمارے نبی کریمﷺ پر افضلیت لازم آتی ہے، جو کہ متعدد آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبویہﷺ کے خلاف ہے ۔ لہذا جب قانونِ استثناد کا لہاظ رکھا جائے گا توبنی اسرائیل کی فضیلت فقط اُن کے اپنے عالم کے مخصوص لوگوں پر ثابت ہو گی ۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا سے نبی کریمﷺ متعدد وجوہ کی بنا پر مستثنیٰ ہوں گے ۔ اسی طرح مولیٰ علیؓ کے مولیٰ المؤمنین ہونے سے انبیاء علیہم السلام مستثنیٰ ہو ں گے کیونکہ مولیٰ علی نبی نہیں ہیں اور کوئی غیر نبی انسان ، انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل نہیں ہو سکتا ۔ ----------------------------
  14. جنابِ محترم سعیدی صاحب آپ پہلے مجھے میری پیش کردہ اہل سنت کی کتابوں کے حوالہ جات اور حضرت اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث صحیح کی روشنی میں غور فرما کر بتائیں کہ معاویہ کا سَب ( بُرا بھلا کہنا ، گالی دینا ، سب و شتم ) ثابت ہوا کہ نہیں پھر اگلی بات بھی بتاتا ہوں ۔ ----------------------------------- ----------------------
  15. ہر فورم پر پہلے پوسٹ میں غلط الفاظ پر وارننگ دی جاتی ہے ، اگر بندہ اپنے الفاظ ثابت نہ کر پائے تو پھر انتہائی قدم پوسٹ کا ہٹانا ہوتا ہے ۔ مگر جناب آپ نے کیا کیا ؟ میں کوئی ایسی بات نہیں لکھنا چاہتا جس سے موحول خراب ہو اور بندہ بد اخلاقی تک پہنچ جائے ۔ قادری سلطانی صاحب آپ لوگوں کا یہ قدم انتہائی افسوس ناک ہے ۔ چلیں آپ حضرات نے اگر فورم کے اصول اور شرائظ و ضوابط میرے لیے نئے بنانا ہیں تو پلیز وہ لکھ دیں کہ کن شرائط پر آپ میری پوسٹ بحال کرتے ہیں یا میں " باغی " کے ٹاپک پر کیسے نیا ٹاپک شروع کروں ، جو بعد میں فورم سے ہٹایا نہ جائے ۔ -------------------------- جناب قادری سلطانی صاحب اور جناب سعیدی صاحب ، پہلے میں ثبوت کے طور پر اھل ست کی کتابیں اور حوالہ جات لگا رہا ہوں پھر ان کے اہم نقات اور ان حوالہ جات کی کتابوں پر حدیثِ صحیح پیش کر رہا ہوں ، امید ہے کہ آپ کی تسلی ہو جائے گی ۔ کتاب و حوالہ نمبر :1 ------------------------- کتاب و حوالہ نمبر: 2 --------------------------- کتاب و حوالہ نمبر :3 -------------------- حدیث صحیح کی کتاب کا حوالہ ----------------------- اہم نقات اور حدیث صحیحہ کی سند حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ کا حوالہ نمبر : ( 1 ) جناب محترم سلطانی قادری صاحب ابوزھرہ مصری لکھتے ہیں کہ : " بنو اُمیہ نے صرف اہل بیعت سے محبت کرنے والوں پر ہی ظلم و ستم نہیں کیا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبوں پر سب و شتم کا سلسلہ جاری کر دیا اس بدعت کے سربراہ معاویہ بن ابوسفیان ( رضی اللہ عنہ نہیں ہے ) تھے ۔ اور عوام اس روش کے خلاف تھی حتی کہ اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معاویہ کے پاس پیغام بھیجنا پڑا: " تم مسجد کے ممبروں پر بیٹھ کر خدا اور رسولﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہو اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان سے محبت کرنے والوں پر لعنت بھیج کر اصل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نا فرمانی کر رہے ہو " کتاب کا نام : امام اعظم مصنف کانام : محمد ابوزھرہ مصری مترجم کا نام : علامہ وارث نعیمی نوٹ : تقریباً یہی ترجمہ مترجم : سید رئیس احمد جعفری نے بھی کیا ہے ۔ ------------------------ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ کا حوالہ نمبر : ( 2) " تم ( معاویہ ) اپنے ممبروں سے علی بن ابی طالب اور ان کے محبان پر لعنت کرنے کے نتیجے میں دراصل خدا اور اس کے رسولﷺ پر لعنت کرتے ہو ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ اور اور اس کے رسولﷺ ان سے محبت کرتے ہیں ۔ لیکن اس ( معاویہ ) نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات پر دھیان نہ دیا " ۔ کتاب کا نام : العقد الفريد مصنف کا نام : ابن عبد ربه الأندلسي ---------------------- حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ کا حوالہ نمبر : ( 3 ) " اُم المؤمنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ کو اس مضمون پر مشتمل خط لکھا ۔ جب تم ممبر پر کھڑے ہو کر حضرت علیؓ اور ان کے احباب پر لعنت بھیجتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ اور رسولﷺ کو ملعون قرار دیتے ہو ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ نبی کریمﷺ کو چاہتے تھے " ۔ کتاب کا نام : انوار علی مصنف کا نام : سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ ------------------------ جناب قادری سلطانی صاحب اور جنابِ سعیدی صاحب اب محققِ اھل سنت محمد ابوزھرہ مصریؒ اور دیگر حوالہ جات کو حدیثِ صحیح سے ثابت کیا جاتا ہے ۔ پڑھیے جناب: عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! " ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا رسول اللہﷺ کو تم لوگوں کی موجودگی میں ممبروں پر بُرا بھلا کہا جا رہا ہے ؟ میں نے کہا سبحان اللہ ! آپ کو کہاں برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا : کیا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اُن سے محبت کرنے والوں پر سب و شتم نہیں کیا جا رہا ؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ اُن سے محبت کرتے تھے " ۔ حدیثِ صحیح کتاب کا نام : سلسلہ احادیثِ صحیحہ / 5( اردو) مصنف کا نام : علامہ محمد ناصر الدین البانی حدیث کی سند ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "المعجم الأوسط " (6/389/5828) ، و"المعجم الصغير" (199- هندية) : حدثنا محمد بن الحسين أبو حُصين القاضي: قال: حدثنا عون ابن سلام قال: حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُلَمي عن السُّدِّي عن أبي عبد الله الجدَلي قال: ‏‏‏‏قالت لي أم سلمة: أيُسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بينكم على المنابر؟! قلت: سبحان الله! وأنى يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟! قالت: ‏‏‏‏أليس يُسَبُّ علي بن أبي طالب ومن يحبه؟ وأشهد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كان يحبه! وقال الطبراني: ‏‏‏‏"لم يروه عن السدي إلا عيسى". ‏‏‏‏قلت: ومن طريقه أخرجه أبو يعلى في "مسنده " (12/444- 445) ، والطبراني أيضاً في "المعجم الكبير" (23/323/738) من طرق أخرى عن عيسى به . ‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد جيد، ورجاله كلهم ثقات، وفي السدي- واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن- كلام يسير لا يضر، وهو من رجال مسلم. وأما إعلال المعلق على "المسند " بقوله: ‏‏‏‏"رجاله ثقات إلا أنه- عندي- منقطع، ما علمت رواية لإسماعيل بن عبد الرحمن السدي عن أبي عبد الله الجدلي فيما اطلعت عليه. والله أعلم "! ‏‏‏‏قلت: وهذا من أسمج ما رأيت من كلامه؛ فإن السدي تابعي روى عن أنس في "صحيح مسلم "، ورأى جماعة من الصحابة مثل الحسن بن علي، وعبد الله بن عمر، وأبي سعيد، وأبي هريرة كما في "تهذيب المزي "، يضاف إلى ذلك أن السدي لم يرم بتدليس، فيُكتفى في مثله المعاصرة، كما هو مذهب جمهور الحفاظ الأئمة , فلعله جنح به القلم إلى مذهب الإمام البخاري في "صحيحه " الذي يشترط اللقاء وعدم الاكتفاء بالمعاصرة، وما أظنه يتبناه؛ وإلا انهار مئات التصحيحات والتحسينات التي قررها، ويغلب عليه التساهل في الكثير منها، وبخاصة ما كان فيا من الرواة ممن لم يوثقهم أحد غير ابن حبان، وهو لا يشترط اللقاء! ‏‏‏‏ومحمد بن الحسين شيخ الطبراني؛ مما فات على صاحبنا الشيخ الأنصاري رحمه الله أن يترجم له في كتابه النافع: "بلغة القاصي والداني "، وقد ترجم له الخطيب (2/129) ترجمة حسنة، وأنه روى عنه جماعة من الحفاظ، وفاته الطبرانيُّ، ثم قال: ‏‏‏‏"وكان فهماً، صنف "المسند". وقال الدارقطني: كان ثقة. وقال إبراهيم بن إسحاق الصواف: أبو حصين صدوق، معروف بالطلب، ثقة. مات سنة (296) ". ‏‏‏‏ ‏‏‏‏هذا، وقد تابع السدي: أبو إسحاق وهو السبيعي؛ رواه فطر بن خليفة عنه عن أبي عبد الله الجدلي قال: ‏‏‏‏قالت أم سلمة: يا أبا عبد الله! أيسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فيكم؟ قلت: ومن يسب رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ قالت: ... فذكره. ‏‏‏‏أخرجه الطبراني في "الكبير" (23/322/737) . ‏‏‏‏قلت: ورجاله ثقات؛ على الكلام المعروف في أبي إسحاق، وقد اختلف عليه في إسناده ومتنه، فرواه بعضه عنه بلفظ: ‏‏‏‏"من سب عليّاً فقد سبني، ومن سبني سبه الله ". ‏‏‏‏وهو بهذا اللفظ منكر، ولذلك أوردته في "الضعيفة" (2310) ، وخرجته هناك، وتعقبت من صححه، فليراجع في المجلد الخامس منه، وهو تحت الطبع، وسيكون بين أيدي القراء قريباً إن شاء الله تعالى، وقد طبع بحمد الله ومنته. ‏‏‏‏والأحاديث في حب النبي - صلى الله عليه وسلم - لعلي رضي الله عنه كثيرة جدّاً، أصحها حديث إعطائه الراية يوم خيبر، وقوله - صلى الله عليه وسلم -: ‏‏‏‏"لأعطين هذه الراية رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله ... ". ‏‏‏‏رواه جمع من الصحابة في "الصحيحين " وغيرهما، وقد خرجت بعضها فيما تقدم (3244) ، وفي " تخريج الطحاوية " (484/713) . * ------------------ امام ابو زھرہ مصری اور دیگر اہل سنت کے حوالہ جات حدیثِ صحیح سے ثابت لیجیے جناب قادری سلطانی صاحب اور جنابِ سعیدی صاحب اگر آپ اس حدیثِ صحیح کو غلط ثابت فرما سکتے ہیں تو ہمت کر دیکھیے ۔ ------------------------------------
  16. تمہاری کسی بھی فضول بات کا جواب نہیں دیا سکتا ، جناب محترم سعیدی صاحب کو ہی جواب دینا ہو گا -------------- شکریہ نوٹ : جناب محترم سعیدی صاحب آپ سے گذارش ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان کے باغی ہونے کی جو پوسٹ اور ٹاپک آپ نے ہٹایا ہے پلیز اسے فروم پر بحال کریں ۔ آپ تو اہل سنت کے سچے عقائد پر قائم ہیں اور ہر بات کے دفاع میں آپ کے فورم کے پاس دلیل ہوا کرتی ہے ؟ پھر میری پوسٹ اور ٹاپک کیوں ہٹایا گیا ہے ؟ پلیز مہربانی فرمائیں اور اسے بحال کریں۔ شکریہ ----------------
  17. جناب سعیدی صاحب آپ کی محترم نظر تو ٹھیک ہے یا محض وقت گزارنا چاہتے ہیں : یہ کیا ہے ؟ لگتا ہے آپ کے نزدیک کسی کتاب اور کسی حدیث صحیح سے کچھ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت ہوتی ہے ۔ معاویہ بن ابوسفیاں کی دی جانے والی گالیوں اور ممبروں پر سیدنا علیؓ کرائی جانے والی لعنت کا اس حدیثِ صحح سے کتنا بڑا اور ثبوت آپ کو چاہیے ، وہ بتا دیں َ تاکہ میں اس ثبوت کو تلاش کر کے لاوؤں۔ ویسے خوب مذاق کے مؤڑ میں آئیں ہیں جناب یہ بھی پڑھیں ۔ اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا خط بنام معاویہ اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا خط بنام معاویہ جناب محترم سعیدی صاحب اہل سنت کی کتابیں اور صحیح احادیث امام باڑہ سے کبھی نہیں ملا کرتی ۔ اس سے بڑا ثبوت کس قسم کا آخر آپ جناب کو چاہیے ؟ --------------------- نوٹ : جناب محترم سعیدی صاحب آپ سے گذارش ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان کے باغی ہونے کی جو پوسٹ اور ٹاپک آپ نے ہٹایا ہے پلیز اسے فروم پر بحال کریں ۔ آپ تو اہل سنت کے سچے عقائد پر قائم ہیں اور ہر بات کے دفاع میں آپ کے فورم کے پاس دلیل ہوا کرتی ہے ؟ پھر میری پوسٹ اور ٹاپک کیوں ہٹایا گیا ہے ؟ پلیز مہربانی فرمائیں اور اسے بحال کریں۔ شکریہ ----------------
  18. تو محترم سیعدی صاحب خلافتِ راشدہ تو امام حسن رضی اللہ عنہ پر ختم ہو چکی تھی ۔ پھر جنابِ معاویہ بن ابوسفیان خلیفہِ راشد عامہ کیسے ہوئے ؟ پلیز اتنی مختصر وضاحت سے آپ کی خافتِ راشدہ عامہ ثابت کیسے ہو گئی ہے ، ؟
  19. جناب محترم سعیدی صاحب بہت ہی افسوس کی بات ہے ،آپ ہر بار بات کو کسی نہ کسی طرح گول مول کر جاتے ہیں ۔ محترم کیا کسی مسئلہ پر عقیدے دو ، دو اور تین ، تین ہوا کرتے ہیں ۔ یا عقیدہ ایک ہی اٹل بات پر ہوتا ہے ۔ آپ نے صرف مولا کا معنی آقا کر نے اہل سنت سے خارج بد مذہب رافضی و گمراہ تک لکھا ۔ اب آپ فرماتے ہیں کہ فلاں نے خطاء کی جبکہ آپ کا فتوی ہونا چاہیے تھے کہ وہ اہل سنت سے خارج و گمراہ ہوا ، اسی طرح محترم آپ سید محمد امیر شاہ قادری کے صاف ، واضح اور صریح تحریر کو ٹال مٹول کا جامہ پہنا گئے ۔ اتنی لمبی بات نہیں ہے ، جس طرح آپ نے لکھا کہ حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمر فاروقؓ جنتی بوڑھوں کے سردار ہیں اور انبیا کرام کو استثناء حاصل ہے ، اسی طرح یہاں مولا کے معنیٰ آقا سے انبیاء کرام کو استثناء حاصل ہے ۔ جس طرح ابو بکرؓ و عمرؓ بوڑھوں کے سردار ہو کر انبیاء کرام کے سردار نہیں ہیں ۔ بالکل اسی طرح علیؓ بھی سب کے آقا ہو کر انبیاء کے آقا نہیں ہے ۔ اگر اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں تو پھر سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ کی اس تحریر کا مطب بتا دیں ۔ " ارشاد ہے " تو ( علیؓ) میرا خیلفہ ہے یعنی میرے بعد ہر مؤمن کا " یعنی آپؓ حضورﷺ کے خلیفہِ برحق ہیں ، ہر ایک مومن کے سردار ، امیر اور امام ہیں ۔ " -------------------------- اگر بات اب بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی تو پھر جناب محترم سیعدی صاحب مولا کا معنیٰ جس طرح دوست ، محبوب اور مدگار احادیث میں استعمال ہوتے ہیں ، اسی طرح آقا کا معنی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ، اگر اب بھی آپکی سمجھ میں بات نہیں آ رہی تو پلیز پھر دوٹوک عقیدہ لکھیں ، کیوں کہ عقیدہ ہمیشہ دوٹوک ہی ہوتا ہے فرمائیں کہ : مولا کا معنی آقا کرنے والا بد مذہب و گمراہ ہوتا ہے؟ یا اھل سنت ہے ۔ بس دو باتوں میں سے ایک پر اپنا عقیدہ دوٹوک لکھ دیں پلیز ۔ ------------------------- آپ مختصراً لکھیں ۔ اور بات ختم کریں کہ مولا کا معنی آقا کرنا اہل سنت جماعت کے نزدیک ----------------------------------
  20. جناب سعیدی صاحب آپ نے لکھا کہ " آپ کے قائد نے جو تفصیل جاری کی ھے وہ ترجمہ کے اجمال کی وضاحت کر رھی ھے"۔ پلیز اس اجمال سے آپ جو نتیجہ اخذ فرما رہے ہیں اس کی وضاحت فرما دیں ۔ اور کیا وہ تفضیل آپ کو باقی حوالہ جات میں نظر نہیں آ رہی؟ الصواعق المحرقہ کا ترجمہ آپ کے سامنے موجود ہے جس میں ڈاکٹر صاحب کے ترجمہ سے کہیں زہادہ تفضیل موجود ہے ۔ جو یوں ہے ۔ یہ (علیؓ) تیرا آقا اور ہر مؤمن کا آقاہے ۔ اور جس کا یہ آقا نہیں وہ مومن ہی نہیں "۔" جبکہ سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ کا ترجمہ ڈاکٹر صاحب سے بہت پہلے سے موجود ہے اور وہ یہ ہے ۔ کریم آقاﷺ نے فرمایا : اے بریدہ جس کا میں آقا ہوں ، علی بھی اس کا آقا ہے ۔ " انوارِ علی سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ صفحہ نمبر / 143 ------------- اس کے بعد امیر محمد شاہ قادری گیلانیؒ سیدنا علیؓ کی خلافتِ ظاہر اور خلافتِ باطنی پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : " ارشاد ہے " تو میرا خیلفہ ہے یعنی میرے بعد ہر مؤمن کا " یعنی آپؓ حضورﷺ کے خلیفہِ برحق ہیں ، ہر ایک مومن کے سردار ، امیر اور امام ہیں ۔ سلسلہ ہائے طریقت میں کل اولیاءِ کرام کے آپؓ حضور نبی کریمﷺ کی طرف سے خلیفہِ برحق ہیں ۔ تقریباً تمام سلاسلِ طریقت آنجناب امام اولالیاء سیدنا و امامنا علی المرتضیٰؓ کی ہی وساطت سے حضور نبی الانبیاء جنابِ محمد رسول اللہﷺ تک منتہیٰ ہوتے ہیں ۔ اگر ادوار حکومت علی منہاج النبوت میں چار خلفاء ہیں ۔ اور آپ اس لہاظ سے خلیفہِ خلیفہِ چہارم ہیں مگر سلسلہ ولایت میں آپؓ خلیفہِ بِلافصل ہیں ۔ " انوارِ علیؓ سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ مکتبہِ فکر : بریلوی اھل سنت صفحہ نمبر / 61 ------------------- جناب سعیدی صاحب الصواعق المحرقہ کے ترجم میں سیدنا عمرؓ خو د سیدنا علیؓ کو اپنا آقا فرما رہے ہیں ۔ اس لیے کہ آپ نے فرمایا وہ مومن ہی نہیں جس کا علیؓ آقا نہیں ۔ اسی سے میں آپ کے انبیاء والے سوال کا جواب موجود ہے کہ انبیاء اکرام اس میں شامل نہیں ہیں ۔ کیو نکہ کوئی بھی غیر نبی کسی نبی سے کیسے ؟ اور کیوں کر افضل ہو سکتا ہے ۔ یہاں پر میں آپ کی خدمت میں سوال کرتا ہوں ۔ سوال : آپ نے پیچھے یہ حدیث پیش کر رکھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ جنت میں ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہیں تو جناب سعیدی صاحب کیا آپ انبیاء کے بھی سردار ہوں گے ؟ اگر شیخین اببیاء کے سردار نہیں ہو گے تو کیوں ؟ ----------------------
  21. جناب سعیدی صاحب نجانے آپ کو تحریر کی سمجھ آتی نہیں یا آپ خود کو سمجھ آنے دینا نہیں چاہتے ، میں اوپر کتنی کتابیں لگا چکا ہوں کہ معاویہ بن ابو سفیان نے سب و شتم اور لعنت کی رسم بد شروع کی اور وہی اس رسم بد کے بانی ہیں ۔ پھر میں نے لفظ سب کا معنیٰ بھی پیش کر دیا ۔ شتم اور لعن کا معنی بیان کرنے ضرورت نہیں ہے ۔ انہیں الفاظ سے معاویہ کے گورنر بھی سیدنا علیؓ پر سب و شتم اور لعن کرتے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معاویہ بن ابوسفیان نے ایسی کوئی رسم بد یا بری بدعت کا آگاز نہیں کیا بلکہ یہ الزام ہے تو اس کا لکھ دیں ۔ مذید وضاحت کے لیے میں آپ کے سامنے حدیث صحیح پیش کرتا ہوں اس میں آپ عربی الفاظ اور ترجمہ دونوں دیکھ لیں اور دیکھ لیں کہ اُم المؤمنیں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کیا فرما رہی اور کن الفاظ میں تصدیق فرمائی ۔ یہ بھی ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا ہی حوالہ و ثبوت ہے ۔ حدیث صحیح
  22. سوال خافت راشدہ کا پوچھا گیا تو تو جناب معاویہ بن ابوسفیان کا نام خلافتِ راشدہ کے ناموں میں لکھا گیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس مراد خلافتِ راشدہ عامہ ہے ۔ پلیز ذرا خلافت راشدہ عامہ کی وضاحت فرما دیں ۔ -----------------------
  23. کتاب و حدیث دیکھائے بغیر جواب مابگنا عجب تر نہیں تو اور کیا کہا جائے ۔
  24. ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بے شمار احادیث ہیں ، اب مجھے الہام تو نہیں ہونا کہ آپ کس حدیث کا ذکر فرما رہے ہیں پلیز کوئی کتاب ، کوئی حوالہ تو ہا گا آپ کے پا تو مہربانی کیجے لگا دیجیے ! -------------------------
  25. جناب سعیدی صاحب گویا کہ آپ اپنے ان جیسے تمام فتووں سے دستبردار ہوتے ہوئے یہ لکھ رہے ہیں کہ یہ تمام لوگ جنہوں نے مولا کا معنیٰ آقا کیا ان سے خطاء ہوئی مگر تفضیلی و رافضی و گمراہ نہیں ہیں ۔ -----------------------