ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    452
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Everything posted by ghulamahmed17

  1. قادری سلطانی صاحب میں نے ایسے ہی نہیں لکھا تھا کہ اس فورم پر سب سے بڑی بڑی باتیں فقط آپ کرتے ہیں لیکن پلے کچھ بھی نہیں ہے ۔ قادری سلطانی صاحب آپ ہی ہمت کر کے لکھ دیں کہ اگر یہ قول ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ " تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں" ۔ ابن حجر عسقلانی کا ثابت نہ ہوا تو پھر آپ کیا کریں گے ۔ چلیں لکھ دیں ۔ ذرا سی بات ہے ۔ ----------------------------
  2. جناب سعیدی صاحب اللہ اور اللہ کے رسولﷺ گواہ ہیں اور جانتے ہیں کہ حق کیا ہے ۔ مجھے آج نہیں تو کل مرنا ہے اور ہر عمل کا مجھے جواب دینا پڑے گا ۔ آپ پڑھتے آئیں اور آخر میں فیصلہ کیجے گا کہ کیا حضرت حجر بن عدی واقعی باغی تھے ؟ اگر باغی تھے ، تو اس باغی نے امیر معاویہ کے آخری پیغام پر علیؓ پر لعنت کر کے اور گالیاں دے کر جان کیوں نہیں بچائی ؟ اور شریح بن ہانی نے اس باغی کے حق میں کیوں گواہی دی؟ اور کیا جو باغی اقرار کر رہا ہو کہ میں بیعت پر قائم ہوں پھر بھی اسے سزا دی جائے گی ؟ اگر باغی تھا بھی تو کیا حجر بن عدی جسے باغی کی سزا شریعت میں قتل تھی ؟ پڑھیے ۔ ابن خلدون لکھتا ہے کہ: " اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو جب معلوم ہوا کہ حجر مع چند لوگوں کے گرفتار ہو کر شام بھیجے گئے ہیں تو جنابِ موصوفہ نے عبدالرحمٰن بن الحرث کو امیر معاویہ کے پاس سفارش کے لیے روانہ کیا ۔ لیکن یہ لوگ اس وقت دمشق پہنچے جب کہ حجر مع ساتھیوں کے قتل ہو چکے تھے۔ عبدالرحمٰن نے امیر معاویہ سے کہا: " کیوں معاویہ حجر کے قتل کے وقت ابوسفیان کا حلم کہاں غائب ہو گیا تھا " ۔ امیر معاویہ نے جواب دیا: جہاں تم جیسے قوم کے حلیم غائب ہو گئے تھے اور مجھ کو اس امر پر ابنِ سمیہ(زیاد) نے آمادہ کیا تھا اسی وجہ سے میں حجر کے قتل پر تل گیا۔ اُم امؤمنین حضرت عائشہؓ کو حجر کے قتل کا مدتوں افسوس رہا " ۔ ابنِ خلدون پھر لکھتا ہے: لوگوں نے حجر کے قتل کے اسباب بیان کرتے ہوئے یوں بھی بیان کیا کہ: ایک مرتبہ زیاد نے جمعہ کے دن بہت بڑا خطبہ پڑھا جس سے نمازِ اوّل کا وقت جاتا رہا حجر کو یہ فعل ناگوار گذرا ، چلا کر بولے الصلوٰۃالصلوٰۃ زیاد کچھ متوجہ نہ ہوا تب انہوں نے نماز کے بےوقت ہونے کے ڈر سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھا کر زیاد کی طرف پھینکی اور نماز کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ ساتھ ہی حاضرین بھی اٹھے، زیاد نے یہ دیکھ کر ممبر سے اتر کر نماز پڑھی اور امیر معاویہ کو حجر کی بہت شد و مد سے شکایت لکھ کر بھیج دی۔ امیر معاویہ نے حکم بھیجا کہ حجر کو پابہ زنجیر گرفتار کر کے بھیج دو۔ پس زیاد نے سپاہیوں کو حجر کے گرفتار کرنے کو بھیجا، بالاآخر حجر مع ان لوگوں کے جنہوں نے حجر کی ہمدردی اور اعانت کی ۔ گرفتار کر کے امیر معاویہ کے پاس بھیج دئیے گئے ۔ امیر معاویہ نے حجر کے قتل کا حکم دیا ۔ حجر نے دورکعت نماز پڑھی اور حاضرین کو وصیت کی کہ: " میری بیڑیاں اور ہتھکڑی نہ اتارنا نہ میرے خون کو دھونا میں کل قیامت میں معاویہ سے اسی حالت میں ملوں گا " تاریخ ابنِ خلدون (حصہ دوم) خلافتِ معاویہ و آلِ مروان ،صفحہ نمبر / 491 ------------------ ------------------------------------------
  3. آج تقریباً چار پانچ دن آپ جان بوجھ کر یہ کھیل کھیل رہے ہیں ۔ جو حوالہ دیا جائے اگر اسی وقت اس کی کتاب پیش کر دی جائے تو یہ پریشانی نہ ہو شاید آپ کتاب اسی لیے پیش نہیں فرماتے چلیں سعیدی صاحب اگر آپ اس کو امام ابن حجر عسقلانیؒ کا قول ثابت نہ کر سکے تو پھر ؟ -------------------------------
  4. --------------------------- جناب محترم سعیدی صاحب میں کبھی بھی اور کسی بھی ٹاپک کر اپنا عقیدہ صاف، واضح اور دو ٹوک بیان نہیں کر رہے ، آپ کی کیا مجبوری ہے میں نہیں سمجھ پا رہا ۔ میں نے تین کتابیں پیش کی جس میں واضح اور دوٹوک الفاظ میں امیر معاویہ کو خلیفہِ راشد لکھا گیا ۔ میں نے سوال کیا تھا کہ کیا امیر معاویہ خلیفہ راشد ہیں ، جس کا جواب فقط اتنا تھا کہ ہاں خلیفہِ راشد ہیں ۔ یا نہیں خلیفہِ راشد نہیں حالانکہ کہ عقیدہ مراد کسی شے کی ایسی تصدیق ہے جس میں کوئی شک نہ ہو۔ مگر جناب آپ کبھی ایک تاویل پیش فرماتے ہیں کبھی دوسری جبکہ میں بار بار پوچھ رہا کہ کیا امیر معاویہ خلیفہِ راشد تھے یا نہیں ؟ آب آپ نے یہ جملہ میرے سامنے رکھ دیا کہ : " کیا (یعمل بالھدیٰ و دین الحق) سے آپ کو جواب نہ ملا تھا؟ " پہلے آپ نے لکھا کہ امیر معاویہ بارہ خلفاء عادل خلفاء میں شامل ہیں اور وہ بھی راشد ہی سمجھے جاتے ہیں ، کی طرح یا اس سے ملتے جلتے الفاظ استعمال کیے ۔ اور ساتھ ہی دوکتابوں الصواعقِ محرقہ اور تاریخ الخفاء کے نام لکھ ڈالے ۔ جناب محترم سیعدی صاحب عقائدِ اھل سنت خیالات سے نہیں بلکہ قرآن و احادیث صحیحہ ، اجماع یا جمہور اہل سنت کی آراء پر قائم ہیں ۔ میں آپ ہی کی لکھی ہوئی کتاب " تاریخ الخلفاء " آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں ۔ اس کے جتنے صفحات ہیں ان کو پڑھ لیں ، سوچ لیں اور کسی بھی ایک بات کو دوٹوک عقیدہ بنائیں اور لکھیں کہ میرا یہ عقیدہ ہے ۔ اور اس کتاب کے مترجم بھی بہت بڑے پکے اور سچے بریلوی ہیں آپ کو بات سمجھنے میں بھی آسانی ہو گی ۔ صفحہ نمبر/ 120 پر صاف اور دوٹوک لکھا ہے کہ: " حضرت علیؓ کے دور خلافت میں جنگِ صفین ( حکمین فی صفین ) کا واقعہ پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ موسوم (نامزد) کیا " آگے اسی صفحہ نمبر/120 پر لکھتے ہیں کہ : " اس طرح خلفائے راشدین کے بعد مندرجہ ذیل سات خلفاء ہوئے ہیں ۔ ( اُن سات خلفاء میں (1): خلیفہ امیر معاویہ (2):خلیفہ یزید (3): خلیفہ عبدالملک بن مروان (4): خلیفہ ولید بن عبدالملک (5):خلیفہ سلیمان بن عبدالملک (6): یزید بن عبدالملک (7) خلیفہ ہشام اس طرح کل تعداد گیارہ ہو گی، بارھویں خلیفہ ولید بن یزید بن عبدالملک ہے ۔ لیجے جناب سعیدی صاحب یہاں پر آپ کے 12 مسلسل خلفائے راشدین یا عادلین کی تعداد پوری ہوگی ۔ صفحہ نمبر/121 ------------------- پھر اسی صفحہ نمبر/ 121 کے آخر میں لکھا ہے کہ: بارہ خلفائے اسلام آغاز سے قیامت تک پھر صفحہ نمبر/ 122 پر لکھتے ہیں کہ: اور رسولﷺ کا یہ ارشاد کہ " ان بارہ خلفاء کی خلافت کے بعد پھر فتنہ و فساد ہو گا " اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ یہ فتنہ و فساد کا زمانہ خروج دجال سے قیامِ قیامت کا درمیانی زمانہ ہے " مصنف کا زاتی خیال لکھتے ہیں کہ : " لیکن میرا خیال یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے جن بارہ خلفاء کی بابت ارشاد فرمایا ہے ۔ وہ حضرات یہ ہیں ۔ چار خلفائے راشدین ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) اور امام حسنؓ ۔ (6): حضرت امیر معاویہؓ (7): حضرت ابن زبیرؓ (8) : حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ یہ جملہ آٹھ حضرات ہوئے ۔ (9): انہی خلفاء اثنا عشرہ میں خلیفۃ المہدی کو بھی شامل کرنا چاہیے ۔ (10): دسواں خلیفہ الطاہر کو شمار کرنا چاہیے ۔ (11) - (12) دو خلفائے منتظر " ۔ صفحہ نمبر/ 122 ------------------------- لیجیے جناب محترم سعیدی صاحب یہ بارہ وہ خلفائے راشد یا عادل ہیں جو مصنف کے ذاتی خیال سے بنائے گئے ہیں ۔ اہم نوٹ : مصنف نے صرف اک رائے کا اظہار کیا ہے ۔ اور اس رائے سے پہلے مصنف 12 خلفاء کی حدیث سے سے اصل مراد لکھ چکے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ : " اور رسولﷺ کا یہ ارشاد کہ " ان بارہ خلفاء کی خلافت کے بعد پھر فتنہ و فساد ہو گا " اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ یہ فتنہ و فساد کا زمانہ خروج دجال سے قیامِ قیامت کا درمیانی زمانہ ہے " --------------------------- جناب محترم سعیدی صاحب لیجے اب آپ کے پاس اپنے ہی حوالہ میں لگائی گئی کتاب سے تین قسم کے آپشن ہیں ان میں سے کسی ایک پر جناب امیر معاویہ کے خلیفہِ راشد ہونے بارے اپنا دوٹوک ، واضح عقیدہ لکھ دیں کہ : کیا امیر معاویہ مسلسل خلفائے راشدین و عادلین جن میں یزید بھی خلیفہِ راشد یا عادل ہے، کے ساتھ شامل ہیں ۔ یا وہ خلفائے راشدین و عادلین جو مصنف نے بارہ خلفاء کی حدیث کا مطلب و مراد لکھنے کے بعد اپنا ذاتی خیال ظاہر کیا ہے ؟ یا بقول امیر معاویہ " حضرت علیؓ کے دور خلافت میں جنگِ صفین ( حکمین فی صفین ) کا واقعہ پیش آیا اور امیر معاویہ نے اسی دن اپنے آپ کو خلیفہ موسوم (نامزد) کیا " صفحہ نمبر/120 ------------------------- جناب سعیدی صاحب اب امید ہے کہ تینوں میں کسی ایک آپشن میں سے امیر معاویہ کا خلیفہِ راشد یا خلیفہِ عادل ہونا واضح فرما دیں گے ۔ --------------------
  5. جناب سعیدی صاحب محترم آپ نے لکھا کہ ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں ۔ اب اس کو ثابت آپ نے کرنا تھا کہ ابن حجر عسقلانیؒ کا ابو عبداللہ الجدلی کے بارے (کان شدید التشیع) کا عقیدہ ہے ۔ لیکن میرے بار بار کے اصرار کے باوجود آپ کتاب سے ابن حجر کے یہ الفاظ نہیں دیکھا رہے اور مجھے کہتے ہیں کہ میں دیکھاؤں کیا آپ اصولی بات فرما رہے ہیں ، کتاب سے ابن حجر عسقلانیؒ کے یہ الفاظ دیکھانا اور ثابت کرنا آپ کے ذمہ ہے نہ کہ میرے
  6. حضرت حجر بن عدیؓ کے مقدمہ کی باقی شہادتیں جناب محترم سعیدی صاحب آپ بھی کمال کے عالم دین ہیں شہادتوں کو دیکھے پڑھے بغیر ہی باغی لکھ دیا باغی کے لیے باغی کا لفظ اہل سنت کی کتابوں سے ثابت کرنا پڑ گیا تو پھر کیا کریں گے؟ آپ دیکھائے گے تو ہم صحیح بات کا انکار نہیں کریں گے مگر پہلے شہادتیں پڑھ لیں ۔پھر شہادتوں پر اور شہادتوں پر کیے گئے معاویہ بن ابوسفیان کے حکم کو زیر بحث لاتے ہیں ۔ ----------------------
  7. جناب سعیدی صاحب بڑے افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ مجھے آپ کی کسی بھی بات پر یقین نہیں جب تک آپ ابن حجر عسقلانیؒ کے یہ الفاظ (کان شدید التشیع) ثابت نہیں کر دیتے کہ ابن حجر نے یہ الفاظ ابو عبداللہ الجدلی کے بارے میں کہے ہیں ۔ آپ کتاب لگا کر ابن حجر کے وہ الفاظ ثابت کریں ورنہ میں آپ کو جھٹلانے پر مجبور ہوں ۔ کیا وجہ ہے کہ آپ تہذیب التہذیب نہیں دیکھا رہے ؟ ------------
  8. استغفراللہ جھوٹی شہادتوں پر اک صحابی رسولﷺ کو قتل کرنے پر کتنے ثواب ملتے ہیں ، ایک یا دو صحابی رسولﷺ حضرت حجر بن عدیؓ کا ظلماً قتل کا واقعہ اور شہادتیں -------------- سن 51 ہجری کے واقعات ------------------------ " امیر معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما معاویہ ابن ابی سفیانؓ نے 41 ہجری میں جب مغیرہ بن شعبہؓ کو والی کوفہ مقرر کیا تو مغیرہؓ کو بلا بھیجا ۔ حقِ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد کہا: عاقل کو بار بار متنبہ کرنے کی ضرورت نہیں ، پھر علمس کا ایک شعراس مضمون کا پڑھ کر کہا کہ مرد عاقل بات کو بے کہے ہوئے سمجھ لیتا ہے ۔ میرا ارادہ تھا کہ بہت سی باتیں تم کو سمجھاؤں، مگر اس ذکر کو چھوڑ دیتا ہوں کہ تمہاری بصیرت و دانائی پر مجھے بھروسا ہے کہ تم خوب جانتے ہو کن باتوں میں میری خوشنودی میری حکومت کی ترقی میری رعیت کی بہتری ہے ۔ ہاں ایک امر کا ذکر کیے بغیر میں نہیں رہ سکتا ، علیؓ کو گالی دینے میں اُن کی مزمت کرنے میں اور عثمانؓ کے لیے مغفرت و رحمت کرنے میں پھر اصحابِ علیؓ کی عیب جوئی میں اُن کو اپنے سے دور رکھنے اُن کی بات نہ سننے میں اس کے برخلاف شیعہ عثمانؓ کی ستائش کرنے میں اُن کے ساتھ مل کر رہنے میں آپن کی بات مان لینے میں تم کو تامل نہ کرنا چاہیے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغیرہؓ نے سات برس چند مہینے معاویہؓ کی طرف سے حکومت کی ہے اور بڑے نیک سیرت امن و عافیت کے دل سے خواہش مند رہتے تھے مگر علیؓ کو بُرا کہنا ، اُن کی مذمت کرنا ، قاتلانِ عثمانؓ پر لعنت اُن کی عیب جوئی کرنا عثمانؓ کے لیے دُعائے رحمت و مغفرت اور اُن کے اصحاب کے لیے بے لوث ہونے کو ثابت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا ۔ " تاریخِ طبری ، جلد/4 ، حصہ اوّل ، ص / 82 معاویہ بن ابو سفیا کا یہ جملہ: " ولست تاركا إيصاءك بخصلة: لا تتحم عن شتم علي وذمه، والترحم عَلَى عُثْمَانَ والاستغفار لَهُ، علیؓ کو گالی دینا اور مذمت کرنا ، عثمانؓ کے لیے رحمت کی دُعا اور مغفرت مانگنا کبھی ترک نہیں کرنا ۔ جمل من أنساب الأشراف المؤلف: أحمد بن يحي بن جابر البلاذري المحقق: سهيل زكار - رياض زركلي سنة النشر: 1417 - 1997' https://archive.org/stream/FP32796/05_32800#page/n251/mode/2up ----------------- مرآة الزمان في تواريخ الأعيان المؤلف: شمس الدين أبو المظفر يوسف بن قِزْأُوغلي بن عبد الله المعروف بـ «سبط ابن الجوزي» https://archive.org/stream/FP144301/07_144307#page/n222/mode/2up -------------- الكتاب: الكامل في التاريخ (ط. العلمية) المؤلف: علي بن محمد بن محمد ابن الأثير الجزري عز الدين أبو الحسن الناشر: دار الكتب العلمية https://archive.org/stream/WAQkamilt/kamilt03#page/n326/mode/2up --------------- عنوان الكتاب: الخطابة وإعداد الخطيب المؤلف: عبد الجليل عبده شلبي link https://archive.org/details/FP84363/page/n251 ------------------------------------------------- ان سب کتابوں میں موجود ہے ۔ --------------------------------------- یہی بات(جب مغیرہ بن شعبہؓ مولیٰ علیؓ کو گالیاں دیتا اور لعنت کرتا تھا) حجر بن عدیؓ کہنے لگے تھے وہ تو نہیں بلکہ تم لوگوں کا خدا برا کرے اور لعنت کرے ۔ پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ اور کہتے تھے ۔ خدا عزووجل فرماتا ہے۔ " خدا کی راہ میں گواہی دے کر عدل و انصاف قائم کرو " میں (حجر بن عدیؓ) گواہی دیتا ہوں کہ: جن(علیؓ) لوگوں کی تم(مغیرہ بن شعبہ) مذمت کرتے ہو ۔ جن کو تم عیب لگاتے ہو وہی فضل و بزرگی کے سزا وار ہیں ۔ اور جن کا بے لوث ہونا تم ثابت کرتے ہو۔ جن کی ستائش گری کر رہے ہو ۔ یہی مذمت کے قابل ہیں ۔ مغیرہؓ یہ سن کر کہتے تھے اے حجرؓ میں تمہارا حاکم ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " حضرت حجر بن عدیؓ نے مغیرہ کے خطبہ کی مخالفت کیوں کی؟ -------------- یہی ہوتا رہا(یعنی مولیٰ علیؓ پر سب وشتم اسی طرح جاری رہا) یہاں تک مغیرہؓ نے اپنی امارت کے اخیر زمانہ میں خطبہ پرھا ۔ علیؓ و عثمانؓ کے باب میں جو بات ہمیشہ وہ کہا کرتے تھے ۔(یعنی حضرت علیؓ کو گالی دینے میں تامل نہ کرنا اور حضرت عثمانؓ کے لیے دعائے رحمت کرنا) اسی کو اس طور پر کہنے لگے ۔ خدا وندا عثمان بن عفانؓ پر رحم کر اُن سے در گزر کر عمل نیک کی انہیں جزا دے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اُن کے قاتلوں پر بدعا کی ، یہ سن کر حجر بن عدیؓ اُٹھ کھڑے ہوئے مغیرہؓ کی طرف دیکھ کر اس طرح اک نعریہ بلند کیا ۔ کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے سب نے سنا۔ کہا کسی شخص کے دھوکے میں تم آئے ہوئے اس بات کو نہیں سمجھ سکتے بڑھاپے کے سبب سے عقل جاتی رہی ہے ۔۔ اے شخص ہماری تنخواؤں اور عطیوں کے جاری جانے کا اب حکم دے دو ۔ تم نے ہمارے رزق کو بند کر رکھا ہے ۔ اس کا تمہیں کیا اختیار ہے ۔ تم سے بیشتر جو حکام گزرے ہیں انہوں نے کبھی اس بات کی طمع نہیں کی ۔ اس کے علاوہ تم نے امیر المؤمنیں(حضرت سیدنا علیؓ) کی مذمت اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ۔ تاریخِ طبری ، جلد / 4 ، حصہ اوّل ، ص /83 ------------------------ جناب حجر ابن عدی کے واقعہ کو طبری نے یوں نقل کیا ہے کہ : قیس ابن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی ابن فسیل اصحاب حجر کا سر کردہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے۔ زیاد نے اسے بلایا۔ جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ اے دشمن خدا، تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا۔ زیاد نے کہا ! کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟ صیفی نے کہا: جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں۔ زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے۔ صیفی نے کہا ! ہرگز نہیں، بلکہ وہ حسن اور حسین کے والد ہیں۔ لشکر کے سالار نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے ؟ صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کر دوں ؟ زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کر رہے ہو، میرا عصا لایا جائے۔ جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو ؟ صیفی نے دوبارہ کہا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے۔ یہ سن کر زیاد نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جب زیاد ظلم کر کے تھک گیا تو پھر صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا ! اگر میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دئیے جائیں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا، جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں۔ زیاد نے کہا تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا۔ صیفی نے کہا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہو گا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی۔ زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کر دیا۔ چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں زیاد نے حضرت حجر ابن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کیے۔ ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ نے اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ: میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر ابن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے۔ زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔ میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔ عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔ مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔ چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ، عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ، محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ، عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔ ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح ابن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی۔ قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے۔ شریح ابن ہانی حارثی کو جب علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کر دی ہے، میں دنیا و آخرت میں اس گواہی سے بری ہوں، پھر وہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل ابن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیاد نے حجر ابن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ، زکات دیتا ہے ، حج و عمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان و مال انتہائی محترم ہے۔ قیدیوں کو دمشق کے قریب مرج عذرا میں ٹھہرایا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کر دیا گیا۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں: حجر ابن عدی، شریک ابن شداد حضرمی، صیفی ابن فسیل شیبانی، قبیصہ ابن ضبیعہ عبسی، محرز ابن شہاب السعدی، کدام ابن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین۔ اس کے علاوہ عبد الرحمن ابن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کے پاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو۔ زیاد نے انہیں زندہ دفن کرا دیا۔ تاریخ طبری ۔ج 6 ص 155 ------------- http://islamport.com/w/tkh/Web/2893/1483.htm طبری نے بھی لکھا ہے کہ: أن معاوية بن أبي سفيان لما ولى المغيرة بن شعبة الكوفة في جمادى سنة 41 دعاه فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ... ولست تاركا إيصاءك بخصلة لا تتحم عن شتم على وذمه والترحم على عثمان والاستغفار له والعيب على أصحاب على والاقصاء لهم وترك الاستماع منهم ... . معاویہ نے جب سن 41 ہجری میں مغیرہ ابن شعبہ کو کوفہ کا والی و حاکم بنایا تو اسے حکم دیتے ہوئے کہا: ایک کام کو بالکل بھولنا نہیں ہے اور اسے زیادہ تاکید کے ساتھ انجام دینا ہے، اور وہ کام، علی پر لعنت کرنا اور اسے گالیاں دینا ہے اور اسکے مقابلے پر عثمان کا ذکر احترام سے کرنا اور ہمیشہ اسکے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور علی کے اصحاب کی برائیوں کو بیان کرو اور انکو جلا وطن کرنا اور انکی کوئی بھی بات نہ سننا۔ تاريخ طبري‌ ،‌ ج4 ، ص188 . ------------------------ معاویہ بن ابوسفیا نے مغیرہ کو کیا حکم دیا کہ حضرت حجر بن عدی ان کو ٹوکتے اور احتجاج کرتے واقعہ اور شہادتیں روسائے ارباع( حکومتی نمائندوں) کی گواہی زیادہ نے اس شہادت کو دیکھ کر کہا اس طرح کی شہادت تم سب لوگ دو ۔ سنو واللہ میں اس اجل رسیدہ احمق کی گردن کے قطع ہونے میں جہد بلیغ کروں گا ۔ باقی روسائے ارباع نے بھی ابوبردہ کی شہادت کے مثل گواہی دی ۔ اس کے بعد زیاد نے سب لوگوں کو بلایا اور اُن سے کہا کہ وہ روسائے ارباع کے مثل تم بھی شہادت دو ۔ باقی شہادتیں بعد میں پوسٹ میں لگائی جائیں گی ان شاء اللہ ----------------------------------------------
  9. سعیدی صاحب اگر میں نے آپ سے آپ کا دوٹوک موقف پوچھا ہے تو آپ لکھ دیں کیا آپ معاویہ بن ابوسفیان کو خلیفہِ عادل و راشد سمجھتے ہیں یا نہیں ۔ اس میں میں نے کون سا سائنس کا کوئی فارمولا پوچھ لیا ہے کہ آپ دوحرف لکھ کر بات ختم کرے ۔ پلیز وقت نہ ضائع کریں ----------------------
  10. جناب سعیدی صاحب کیا معاویہ بن ابوسفیان عادل و راشد خلیفہ تھا ؟ ---------------
  11. اچھا چلیں میں شہادتیں بھی ڈھونڈ لوں گا ، آپ فکر مند نہ ہوں مجھے پتہ ہےجو غلطی آپ کر چکے ہیں اس کو مذید نہیں بڑھانا چاہتے ۔ صرف یہ بتائیں کہ کیا شہادتوں کے ہوتے ہوئے اجہتاد کا دعویٰ درست تھا ؟ --------------------------
  12. جناب سعیدی صاحب آپ کی خدمت میں مولا کا معنیٰ اردو میں آقا اور انگلش میں ماسٹر پیش کیا گیا ۔ کیا اُن سب مترجمین نے کفر کیا ؟ محترم کیوں بار بار ایک ہی بات لکھتے ہو یا تو مولا کا معنی آقا مان لیں یا پھر مولا کا معنی آقا کرنے والوں پر حکم صادر فرما دیں ۔ آپ دونوں کام ایک ہی وقت میں کر رہے ہیں کیوں ؟ ---------------------------- --------------------
  13. محترم سعیدی صاحب چلیں مجھے ابن حجر عسقلانیؒ کے یہ الفاظ کتاب سے دیکھا دیں ۔ " ( تہذیب میں(کان شدید التشیع" باقی بات حافظؒ کے یہ الفاظ دیکھ کر کرتے ہیں ۔ -------------
  14. حافظ حجر عسقلانیؒ کا ابو عبداللہ الجدلی پر مکمل اعتراض پیش فرمائیں ۔ امید ہے کہ آپ کتاب پیش فرما دیں گے َ
  15. چلیں قادری سلطانی صاحب نیچے موجود عربی الفاظ کا اوپر موجود مکمل حدیث کی روشنی میں مولا کا ترجمہ کریں ۔ قادری سلطانی صاحب کیا وجہ ہے کہ اوپر کی حدیث کے مطابق مولا کا معنی نہیں کر رہے ۔ یا مولا کی آقائیت اور سرداری کو مان جاو اخر اک دن ماننا ہی پڑے گا ۔ ان شاء اللہ ----------------------------------
  16. سوال لکھ اور مزہ لے
  17. چلیں قادری سلطانی صاحب نیچے موجود عربی الفاظ کا اوپر موجود مکمل حدیث کی روشنی میں مولا کا ترجمہ کریں ۔ چلیں قادری سلطانی صاحب آپ سیدنا علی علیہ السلام کی سرداری اور وارث ہونے ، سرپرست ہونے اور آقا ہونے سے کتنی دور تک اور کتنی دیر تک بھاگے گئے ۔ ---------------------------
  18. جہالت نہ پھلائیں اک بندہ بات کرے ، اور آپ شاید اس فورم کے سب سے بے دلیل بندے ہو ، جس کے پلے سوائے باتوں کے کچھ نہیں ہے ۔ جہالت کی انتہا ہوتی ہے کوئی ۔ جب شہادتٰں آپ لوگوں نے لکھی دی ہیں تو اب اجتہاد اور باقی سب باتوں کا کوئی تعلق نہیں رہا ۔ بہتر ہو گا کہ حضرت حجر بن عدیؓ کے قتل پر جو شہادتیں ہوئیں اور جن شہادتوں کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا وہ پیش کرو ۔ ہر بار اک نیا بلنڈر مارتے ہو ۔ اگر شہادتیں ہیں تو وہ لاو ۔
  19. پلیز محترم سعیدی صاحب وہ شہادتیں پیش فرمائیں جو آپ نے لکھی ۔ بقول آپ کے میں نے شہادتیں چھپائی تو ظاہر ہیں اگر میں نے چھپائی تو ان میں یقینا! بہت سچائی ہو گی ۔ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ وہ شہادتیں جو میں نے چھپائی تھیں آپ فورم پر پیش کر کے مجھے بے نقاب کر دیں ۔ اور فورم والوں کو بھی پتہ چلے کہ میں نے شہادتیں چھپائی تھیں اور آپ کے علم تھا کہ اس قتل پر شہادتیں ہوئیں تھیں تو جناب سعیدی صاحب پھر معاویہ بن ابوسفیان کے اجتہاد کا نعرہ کیوں لگایا تھا ؟ جس قتل پر شہادتیں موجود ہوں اور ان شہادتوں پر صحابی رسولﷺ کو قتل کر دیا جائے تو کیا اسے اجتہاد بھی کہتے ہیں ؟ امید ہے جہاں آپ وہ شہادتیں پیش فرمائیں گے وہی اجتہاد کا بلنڈر بھی واضح فرما دینا ۔ لیکن ہر حال میں شہادتیں آپ کو پیش فرمانا ہوں گی اب ان شہادتوں بغیر یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا ۔ اور اسے حل ہونا ہے ، ان شاء اللہ ------------------------------------
  20. جناب سعیدی صاحب آپ کے نو آٹھ پوائنٹس کی اہمیت اس وقت ختم ہو گی جب آپ نے لکھ دیا کہ حضرت حجر بن عدی کا قتل شہادتوں پر ہوا ۔ جناب جب کسی مقدمہ میں فیصلہ شہادتوں پر ہوا تو آپ اسے اجتہادی خطاء کیسے بنائیں گے ؟ اب آپ بات کو پلیز گول مول نہ کریں اور نہ دیت میں یکساں کا معنیٰ لازم کی طرح فرما کر بات کو الجھائیں ۔ جب آپ اپنے ہاتھوں سے تحریر فرما چکے کہ شہادتیں پیش کی گئی تو وہ یہاں پیش فرما دیں ۔ آپ سے جب بھی حوالہ اور ثبوت مانگا جاتا ہے آپ لوگ بات کو گول مول کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اصل ٹاپک وہی رہ جاتا ہے ۔ پلیز مہربانی فرمائیں اور حضرت حجر بن عدی کے خلاف جو شہادتٰں پیش کی گئی وہ یہاں پیش فرما دیں ۔ --------------------------------
  21. جناب سعیدی صاحب آپ لوگ پہلے فیصلہ کر لیں کہ مجھے آپ سے بات کرنا ہے یا قادری سلطانی صاحب سے قادری سلطانی صاحب آپ سب سے پہلے وہ سوال کر لیں جس کا آپ کو جواب نہیں ملا ؟ ------------------------------ جناب سعیدی صاحب آپ نے سارا سلسلہ شہادتوں پر ڈال دیا کہ حضرت حجر بن عدیؓ کا قتل شہادتوں پر ہوا ، پلیز شہادتیں پیش فرمائیں ۔ جب قتل ہی شہادتوں پر ہوا تو سارا قصہ ہی ختم ہو گیا ، اب دیکھتے ہیں کہ شہادت کیا کیا تھی ؟ -----------------
  22. قادری سلطانی جتنا بھاگ سکتے ہو ٹاپک سے بھاگو اب جو جھوٹ آپ بار بار بول کر لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنا چاہتے ہو اور ٹاپک سے بھاگنا چاہتے ہو تو لکھو میں نے تمہارے کس سوال کا جواب نہیں دیا ۔ میں نے آپ کے سارے سوالوں کے جواب دے دئیے ہیں ، آپ وہ سانپ سوال جس میں میں پھنس چکا ہوں لکھو ؟
  23. لکھ دو کہ معاویہ بن ابوسفیان نے بےگناہ حجر بن عدیؓ کو قتل کیا ۔ اس کے علاوہ قادری سلطان آپ کے پاس بھاگنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ میں آپ کے غلط عقائد کو اک اک کر کے نگا کروں گا ۔ ان شاء اللہ وہ سوال جناب قادری سلطانی صاحب کہا چھپا کر لکھا ہے جس کا میں نے جواب نہیں لکھا ، یہ نہ لکھنے والوں میں شمار کن کا ہے سب لوگ دیکھ رہے ہیں ، پھر ہمت کر دیکھنا مگر میں آپ لوگوں کی وہ حالت کروں گا جو اک چور کی کی جاتی ہے ۔ ٹاپک پر آپ لوگ نہیں آو گے کیوں اس سے بہت سے نقاب الٹ جائیں گے ۔ لہذا پڑھو سیدنا حجر بن عدیؓ کو جب معاویہ بن ابوسفیان نے ظلماً قتل کرایا ، تو عبد الرحمن بن علي بن محمد بن علي بن الجوزي أبو الفرج نے حضرت حجر بن عدیؓ کا آخری پیغام جو انہوں نے وصیت کیا اپنی کتاب میں یوں لکھا کہ:قتل سے پہلے حضرت حجر بن عدیؓ نے دونفل ادا کیے اور کہا :بعد از وفات میری بیڑیاں نہ کھولنا میرا خون نہ دھونا کیونکہ میں میدانِ محشر میں اسی حال میں معاویہسے ملوں گا۔ یہ ابن الجوزی نے لکھا ہے پڑھنے والوں بھول نہیں جانا ۔ ہادی و مہدی کیا کیا ہدایت کے چراغ روشن کر گئے ۔🍁🍁🍁🍁 --------------------------
  24. ڈئیر قادری سلطانی صاحب او اللہ کے بندے اگر آپ جواب نہیں لکھ سکتے تو ٹاپک کو دوسرے ٹریک پر نہ چڑھائیں جو ٹاپک ہے اس پر تشریف لائیں ، اس ٹاپک میں معاویہ بن ابوسفیان کے اجتہاد کا دور دور تک ہمارے اہل سنت کے ہاں کہیں ذکر تک نہیں ۔ آپ لوگ شاہد 1400 سال میں پہلے محدثین ہوں گے جو معاویہ بن ابوسفیان کے اس قتلِ ناحق کو اجتہاد ثابت کرنا چاہتے ہو ں گے ۔ پلیز بغور پڑھیں ۔ اور اس کا جواب دیں جو اصل موضوع ہے ۔ امید ہے آپ جواب لکھ دیں گے ۔ شکریہ ------------------------ قادری سلطانی صاحب آپ کے اجتہاد کو ظلماً قتل میں نے نہیں لکھا ِ اوپر بڑی ہیڈنگ بغور پڑھیں آپ کو معاویہ بن ابوسفیان کے اجتہاد کی سمجھ آ جائے گی ۔ یہ خبر کریم آقاﷺ کے غیبی امور میں ہے ۔ آپ اسے اجتہاد ثابت کر رہے ہیں ۔ بہت ہی افسوس ہے ۔ ----------------- ----------------------
  25. او اللہ کے بندے کیوں تیرے ابھی سے طوطے اڑ رہے ۔ شیخ الاسلام شیخ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے حال ہی میں 21 رمضان کی رات معاویہ بن ابوسفیان کے اجتہاد اور مجتہد کے سارے نقاط واضح اور دوٹوک لفظوں میں بیان کر دئیے ہیں ۔ جنہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے مگر مختصراً اتنا عرض کروں گا کہ انہوں نے فرمایا: معاویہ کا اجتہاد غلط تھا ، اس غلط اجتہاد ہی کی وجہ سے معاویہ بن ابوسفیان اور اس کا گروہ باغی تھا ۔ نوٹ : جناب قادری سلطانی صاحب پھر ٹاپک کا نام حضرت حجر بن عدیؓ ہے نہ کہ ڈاکٹر طاہر القادری۔۔ اور نمبر 2 میں نے بریلویت سے توبہ ہی اسی اختلاف کی وجہ سے کی ہے ۔ میں ہرگز ہرگز شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی پوجا نہیں کرتا کہ ان سے غلطی اور خطا نہیں ہو سکتی ۔ وہ بھی امام احمد رضا خانؒ کی طرح انسان ہیں ۔ ان کے فتاویٰ میں موضوع اور باطل روایات سے استدلال کر کے فتوئے دئیے گئے ہیں اور ان سے خطائیں اور غلطیاں سرزد ہوئیں ہیں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے بھی ہو سکتی ہیں ۔ لہذا فتویٰ رضویہ کو ذہن میں رکھا کریں اور اصل موضوع جو ہے اس پر آئیں ، حضرت حجر بن عدیؓ کو معاویہ بن ابوسفیان نے ناحق کیوں قتل کیا ؟ سوال یہ ہے ، اور آپ کبھی چھلانگ لگا کر اک گلی میں جاتے ہیں کبھی دوسری میں ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں حضرت حجر بن عدیؓ کا قتل معاویہ بن ابوسفیان کی اجتہادی خطاء ہے تو محترم وہ ثابت فرمائیں ۔ نہ کہ آپ حیلے اور بہانے کریں ۔ ----------------------