ghulamahmed17

Members
  • Content count

    158
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Posts posted by ghulamahmed17


  1. Quote


    کوئی اور فضیلت مانے یا نہ مانے کوئی لیکن ان کی یہ فضیلت کافی ہے کے نبی پاک صلی الله علیہ وآکہ وسلم کے صحابی ہیں۔۔۔

    اور ابن تیمیہ کی یہ بات بلکل غلط ہے۔۔۔ 

    صابی تو یہ بھی تھے 
    عبدالرحمن بن عدیسؓ
    : یہ اصحاب بیعت شجرہ میں سے ہیں اور قرطبی کے بقول مصر میں حضرت عثمان ؓکے خلاف بغاوت کرنے والو ں کے لیڈر تھے یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کو قتل کر ڈالا .
    ﴿استیعاب ۲: ۳۸۳؛ 
     اور صحابی تو یہ بھی ہیں 

     الدارقُطنی کہتے ہیں
    أَبُو الغَادِيَة، يَسَار بْن سَبع، لَهُ صُحْبَة، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّارَ بْن يَاسِر، رَحِمَهُ اللهُ، بِصِفِّين.

    ابوالغادیہ یَسار بن سَبع صحابی تھا، اس نے نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث بھی روایت کی ہے، وہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل تھا جنگِ صِفِّین میں۔

    (موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني: 2/ 724/ 3938

     ابن عبدالبر (م463ھ) لکھتے ہیں

    أَبُو الغَادِيَة الجُهَنِي. أَدْرَكَ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ غُلَامٌ، وَلَهُ سَمَاع مِنَ النَّبِيّ ﷺ، وَهُوَ قَاتِلُ عَمّارَ بْن يَاسِر.

    ابوالغادیہ الجُہَنی ، اس نے نبی اکرم ص کو پایا ہے جبکہ یہ نوجوان تھا، اور اس نے نبی پاک ص سے حدیث کی سماعت بھی کی ہے، اور یہ عمار بن یاسرؓ کا قاتل ہے۔

    (الاستيعاب لابن عبد البر: 4/ 1725/ 3113)

    الذہبی (م748ھ) لکھتے ہیں

    أَبُو الغَادِيَة الجُهَني: يَسَار بْن سَبُع، لَهُ صُحْبَة، وَهُوَ قَاتِلُ عَمَّار.

    ابوالغادیہ الجُہَنی یَسار بن سَبع صحابی تھا، اور وہ عمار کا قاتل تھا۔

    (المقتنى في سرد الكنى لِلذهبي: 2/ 3/ 4885)

     

     

     

    Picture1.png


  2. : وہابیہ کا چہیتا امام ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، ج 4 ص 400 میں اقرار کرتاہے


    وطائفة وضعوا لمعاوية فضائل ورووا أحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كلها كذب


    لوگوں کی ایک جماعت نے معاویہ کے فضائل گھڑے اور اس سلسلے میں رسول اللہﷺ  سے احادیث بیان کردیں جن میں سے سب جھوٹی ہیں ۔
    کیا ابنِ تیمیہ کی یہ بات درست ہے؟

    1 person likes this

  3. صحیح بخاری حدیث# 2812
    حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلِعَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:‏‏‏‏ ائْتِيَا أَبَا سَعِيدٍفَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ فَأَتَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فمر بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسَحَ عَنْ رَأْسِهِ الْغُبَارَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ ""وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"". 
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے اور ( اپنے صاحبزادے ) علی بن عبداللہ سے فرمایا تم دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان سے احادیث نبوی سنو۔ چنانچہ ہم حاضر ہوئے ‘ اس وقت ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے ( رضاعی ) بھائی کے ساتھ باغ میں تھے اور باغ کو پانی دے رہے تھے ‘ جب آپ نے ہمیں دیکھا تو ( ہمارے پاس ) تشریف لائے اور ( چادر اوڑھ کر ) گوٹ مار کر بیٹھ گئے ‘ اس کے بعد بیان فرمایا ہم مسجد نبوی کی اینٹیں ( ہجرت نبوی کے بعد تعمیر مسجد کیلئے ) ایک ایک کر کے ڈھو رہے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں لا رہے تھے ‘ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گزرے اور ان کے سر سے غبار کو صاف کیا پھر فرمایا افسوس! عمارؓ کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی ( اطاعت کی ) طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے..

    ----------------


    ملا علی قاری فرماتے ہیں
    واستدل به على أحقية خلافة علي، وكون معاوية باغياً لقوله عليه الصلاة والسلام: ويحك يا عمار يقتلك الفئة الباغية(شرح مسند ابی حنیفہ اقتدوا بعد ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما جلد ا ص245)
    (حدیث عمار) سے استدلال کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اور معاویہ  عنہ باغی ہیں۔
    ---------------

    امام الزرکشی فرماتے ہیں
    قال الزركشي وهذا الحديث احتج به الرافعي لإطلاق العلماء بأن معاوية ومن معه كانوا باغين ولا خلاف أن عمار كان مع علي رضي الله عنه وقتله أصحاب معاوية.(توضیح الافکار لمعانی تنقیح الانظار جلد 2 ص257 تحت مسالۃ 63 معرفہ الصحابہ)
    ترجمہ: اس حدیث کا اطلاق علماء نے اس پر کیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور جو ان کے ساتھ تھےسب باغی تھے اور یہ اس کے خلاف نہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور معاویہ  کے ساتھیوں نے ان کو قتل کیا۔
    -----------------

    محمد بن إسماعيل الأمير الصنعاني
    المتوفى: 1182ہجری
    وقال الإستاذ عبد القاهر البغدادي أجمع فقهاء الحجاز والعراق ممن تكلم في الحديث والرأي منهم مالك والشافعي وأبو حنيفة والأوزاعي والجمهور الأعظم من التكلمين أن عليا عليه السلام مصيب في قتاله لأهل صفين كما أصاب في قتاله أهل الجمل وأن الذين قاتلوه بغاة ظالمين له لحديث عمار واجمعوا على ذلك.(حوالہ ایضا)
    اس پر اجماع بتایا ہے کہ معاویہ باغی گروہ تھا۔

    ---------------

    ابن کثیر فرماتے ہیں

    أَخْبَرَ بِهِ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَنَّهُ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ وَبَانَ بِذَلِكَ أَنَّ عَلِيًّا مُحِقٌّ وَأَنَّ مُعَاوِيَةَ بَاغٍ(البدایہ والنھایہ جلد 7 ص266 باب مقتل عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ)
    ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ (عماررضی اللہ عنہ) کو باغی گروہ قتل کرے گا اس سے یہ ثابت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور معاویہ  باغی تھے۔
    -------------------------------

     علامہ شوکانی لکھتے ہیں
    ]قَوْلُهُ: (أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ) فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ عَلِيًّا وَمَنْ مَعَهُ هُمْ الْمُحِقُّونَ، وَمُعَاوِيَةَ وَمَنْ مَعَهُمْ هُمْ الْمُبْطِلُونَ، وَهَذَا أَمْرٌ لَا يَمْتَرِي فِيهِ مُنْصِفٌ وَلَا يَأْبَاهُ إلَّا مُكَابِرٌ مُتَعَسِّفٌ، وَكَفَى دَلِيلًا عَلَى ذَلِكَ الْحَدِيثُ. وَحَدِيثُ " يَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ(نیل الاوطار جلد 7 ص 59)
    ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان(اولاھما بالحق) اس میں دلیل ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور جو ان کے ساتھ تھے وہ حق پر تھے اور معاویہ  باطل پر تھے اور اس میں کسی بھی انصاف کرنے والے کے لئے کوئی شک نہیں ہے اور اس سے صرف ضدی اور ہٹ دھرم ہی انکار کرے گا۔
    -----------------------------

    امام آلوسی فرماتے ہیں

    الفئة الباغية كما أمرني الله تعالى- يعني بها معاوية ومن معه الباغي(تفسیر روح المعانی تحت آیت 5 سورہ الحجرات)
    ترجمہ: معاویہ  اور ان کے ساتھ باغی گروہ تھا۔
    ------------------------

    صدیق حسن خان القنوجی فرماتے ہیں
    لكان ذلك مفيدا للمطلوب ثم ليس معاوية ممن يصلح لمعارضة علي ولكنه أراد طلب الرياسة والدنيا بين قوم أغتام1 لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا فخادعهم بأنه طلب بدم عثمان(الدرر البھیۃ والروضہ الندیۃ کتاب الجھاد و السیر باب فضل جھاد جلد 2 ص 360)
    ترجمہ: معاویہ نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو تعرض کیا صرف ریاست اور دنیا کی طلب کے لئے اس کے پیچھے نہ معروف تھا اور نہ منکر کو روکنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بھانہ بنا کر سب کو دھوکا دیا تھا۔
    ----------------------


    علامہ عبدالکریم شہرستانی 
    اور اب پیش ِخدمت ہے اہل ِسنت کے نامور عالم ِدین علامہ عبدالکریم شہرستانی کو اپنی کتاب ملل و النحل، ج 1 ص 103 میں لکھتے ہیں:
    ولا نقول في حق معاوية وعمرو بن العاص الا أنهما بغيا على الامام الحق فقاتلهم مقاتلة أهل البغي وأما أهل النهروان فهم الشراة المارقون عن الدين بخبر النبي صلى الله عليه وسلم ولقد كان رضي الله عنه على الحق في جميع أحواله يدور الحق معه حيث دار
    ہم معاویہ اور عمروبن العاص کے متعلق کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے کہ انہوں نے امام برحق کے خلاف جنگ کی لہٰذا علی نے ان لوگوں کو باغی تصور کرتے ہوئے ان سے جنگ کی۔ 
    --------------------


    شاہ عبدالعزیز محدث دھلیؒ فرماتے ہیں کہ:

    کل اہلسنت  کا اجماع ہے اس بات پر کہ معاویہ بن ابوسفیان شروع امامتِ حضرت امیر رضی اللہ عنہ سے اس وقت کا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اُس کے سپرد کی باغیوں میں سے تھا کہ امامِ وقت کا مطیع نہ تھا، اور جب حضرت امام رضی اللہ عنہ نے اُس کے سپرد کر دی تو بادشاہوں میں سے تھا۔
    تحفہ اثنا عشر ص / 285
    ------------------------


  4.  

    Quote

    download (2).png

    جناب سعیدی صاحب یہاں آپ اپنا فتویٰ پڑھ سکتے ہیں اس کا جواب عرض ہے ۔

    Picture43.thumb.png.da611c00a227736f175d828b7c2084ee.png

    Picture44.thumb.png.6265057b5ee9b73ea93c7f9597ef52a6.png

    Picture45.thumb.png.9c2fcf7800b9639bdc5a569a569dc800.png

    جناب سعیدی صاحب حضرت عمرؓ خود حضرت مولی علیؓ کو اپنا آقا،سردار کہہ رہے ہیں اور

     خود کو مولا علیؓ کا خادم،یا غلام سمجھ رہےہیں تو آپ   

     مولاي

     کا ترجمہ آقا کرنے پر تفضیلی کا فتویٰ لگا رہے ہیں کیوں ؟

    دوسری حدیث جس کا ترجمہ ڈاکٹر صاحب نے آقا کیا ہے اس پر بات اس

    کے بعد کر لیں گے ۔ میں نے بالکل سیدھی بات کی ہے اور آپ کی 

    پہلی پوسٹ کی پہلی حدیث مبارکہ کا جواب دیا ہے امید ہے آپ بھی اسی

    طرح سیدھا سا جواب دیں گے ۔

     

     


  5. Quote

    Waisay Ghulam Ahmed17 sab deviant ka matlab SHAITAN pehli bar he daikha hay,

     جی ہاں یہ مجھ سے غلطی ہوئی میں برملا اس کا اقرار

    کرتا ہوں پہلے بھی مجھ سے جہاں غلطی

    ہوئی میں نے اس کو مانا ہے لیکن شیطان کا لفظ آپ لوگ استعمال کر چکے ہیں ۔

    مجدد والی پوسٹ میں پہلا فقرہ پڑھیے

     


  6. Quote

     

    جناب منہاجی صاحب

    بدزبانی دلائل کی قائم مقام نہیں ہوتی۔آپ نے خود پوسٹ لگادی ہے

    جس میں آقا لکھنے  اور آقا ماننے کے الفاظ موجود ہیں۔

     

     

    الحمدللہ !ہم گالیاں نہیں دیتے۔ہم دلائل دیتے ہیں۔

     

     

     

    Quote

    الحمدللہ !ہم گالیاں نہیں دیتے۔ہم دلائل دیتے ہیں۔

    میں نے ان پوسٹوں میں سواے کچھ سخت الفاظ مثلاً جہالت وغیرہ کے کوئی غلط

    لفظ جو بد زبانی میں شمار ہو استعمال ہرگز نہیں کیا ۔ رہی بات آپ کے دلائل

    کےکی  تو وہ بھی دیکھ لیں اب کتنے پیارے اور اخلاق سے مزیّن 

    اور دل موہ لینے والے دلائل دیتے ہیں ۔

    03p.png.a95017ba7bf18fd8ae1e48a11ec94743.png

     

    5a81b7cf92ea8_download(8).png.0e53fda2f6d7512738afb0605fe023a2.png

    02p.png.a325b2387e4f2e373bb30d033fa4b3dc.png

     

     

    download.png.7eb5cbd4a4438630b5b94f0465e98ed1.png

     

    ماشاء اللہ اپنے خوبصورت دلائل کی اک بار پھر یاد تازہ کریں 

    آب کی آخری پوسٹ کا اب "مولیٰ بمعنیٰ آقا یا ماسٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے 

     حضرت عمرؓ کا حضرت علیؓ کو اپنا آقا ، غلام یا خادم کہنا یا مولیٰ کا معنیٰ ماستر

    یا آقا کرنا صحیح ہے کہ نہیں اور اگرصحیح نہیں تو پھر آپ کا فتویٰ سب کے

    لیے ایک ہی ہونا چاہیے باقی پوسٹ کل لگاؤں گا انشاء اللہ

    تب تک اپ اپنے اخلاق سے مزّین ماضی کے چند عظیم دلائل دیکھ لیں


  7. جناب سعیدی صاحب آپ کی پوسٹ کے ٹاپک پر آپ کی پہلی پوسٹ جہاں سے بات کا آغاز ہوا

    5a7ffc230c755_download(1).thumb.png.3192b464242af3e488e4cb63d31c81f4.png

     جناب آپ نے حضرت علیؓ  کو حضرت عمرؓ   کا  مولیٰ  " معنیٰ آقا یا ماسٹر کرنے پر طاہر القادری کو تفضیلی ثابت کرنا تھا ۔۔ کچھ پوسٹوں کے بعد نے آپ یہی معنیٰ کرنے والے کو رافضی وغیرہ تک کا فتویٰ بھی صادر فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔   تفضیلی ثابت کرنے کے بعد آپ کو طاہر القادری کو رافضی ثابت کرنا تھا ۔  طاہر القادری کو تفضیلی اور رافضی تو کیا ثابت کرنا  تھا اب آپ آپنی ہی پوسٹوں سے بھاگ بھاگ کر کبھی کوئی ڈرامہ کرتے ہیں اور کبھی کوئی  کہانی گھڑتے ہیں مثلاً ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے جس ترجمہ پر آپ نے  تفضیلیو رافضی کا فتویٰ لگایا وہ حدیث

    حدیث نمبر : 47

    عن عمر أنه قال : عليّ مولي من کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مولاه.

    عن سالم قيل لعمر : إنک تصنع بعليّ شيئا ما تصنعه بأحد من أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، قال : إنه مولاي.

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے مولا ہیں علی رضی اللہ عنہ اس کے مولا ہیں۔

    حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا (امتیازی) برتاؤ کرتے ہیں جو آپ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے (عموماً) نہیں کرتے! (اس پر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (جواباً) فرمایا : وہ (علی) تو میرے مولا (آقا) ہیں۔

    1. محب طبري، الرياض النضره في مناقب العشره، 3 : 128
    2. ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 45 : 178

    جناب سعیدی صاحب میں نے جب آپ کے اپنے گھر کی حدیث کا ترجمہ پیش کیا جس میں ماسٹر اور آقا ترجمہ کر کے  حضرت مولیٰ علیؓ کو سب  صحابہ اکرام کا آقا اور ماسٹر ہونا ثابت کیا گیا تو بجائے اس کو مان کر  شرمندہ اور اپنی جہالت و کم علمی کا اقرار کرنے کے آپ نے یہ پوسٹ لگائی 

     

    Quote

     

    اللہم وال من والاہ

    کا ترجمہ تم منہاجیوں کے نزدیک یہی ہوگا کہ

    اے اللہ تو  اس کو آقا مان جو اسے آقا مانے

     

     

    آپ کو یوں من گھڑت کہانی گھڑتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں ہوئی آپ ہرگز ایسی حرکت کبھی نہ کرتے اگر آپ سے کوئی پوچھنے والا ہوتا ۔ پھر اس فورم کے آپ کرتا دھرتا ہو آپ کی   جو مرضی ہو آپ کریں کونسا کسی نے آپ کو سچ بولنے اور لکھنے کا کہنا ہے

     "اللہم وال من والاہ" 

    اس کا ترجمہ آپ جب پوچھتے اگر طاہر القادری صاحب نے اس حدیث میں حضرت علیؓ کو سب صحابہ اکرام کا آقا یا ماسٹر کہا ہوتا  پہلی بات تو یہ ہے کہ طاہر القادری نے ایسا نہیں کہا کیونکہ ڈاکٹر صاحب جو ترجمہ کر رہے ہیں اور جس پر آپ علامہ بن کر اعتراض فرما رہے ہیں اس میں خود حضرت عمرؓ حضرت مولیٰ علیؓ کو اپنا مولیٰ  ،آقا یا ماسٹر مان    رہے ہیں  نہ کہ ڈاکٹر صاحب حضرت علیؓ کو سب صحابہ کا آقا یا ماسٹر کہہ یا لکھ رہے ہیں ، سب صحابہ اور انبیاء کا آقا یا ماسٹر آپ کے اعتراض سے بنتا ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس فقرے کے ترجمہ کا

     "اللہم وال من والاہ" 

     طاہر القادری سے بغض اور حسد ضرور کرو مگر اس قدر جہالت اپنے ہی فورم کے لوگوں کو مت دیکھاؤ اور کچھ ہوش کرو یہ پوسٹ اپنے فورم اسلامی ایجوکیشن فورم پر لگاؤ تاکہ وہ ہی تمہاری جہالت کو لگام دیں ۔تیرے پاس منہ چھُپانے اور سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں کبھی اجمال کی جنگ لڑتے ہو اور کبھی تفضیل کے جھنڈے لہراتے ہیں ان باتوں کا آپ کے عنوان اور آپ کی پہلی پوسٹ سے دور دور کا تعلق بھی نہیں ۔  سیدھی سی بات ہے کہ  آپ کا اعتراض تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے مولائی کا ترجمہ آقا یا ماسٹر کیوں کہا؟ کیا ہے اس لیے تفضیلی و رافضی ہیں ۔ میں نے آپ کے اپنے فورم سے مکمل حدیث مبارکہ پیش کردی اور وہ حدیث پیش کی جس میں حضرت عمرؓ حضرت علیؓ کو خود آقا نہیں کہہ رہے بلکہ حضرت علیؓ کو سب صحابہ اکرام کا آقا اور ماسٹر کہا گیا ہے ،اب آپ کر لیں جو کرنا ہے اُن کا ۔۔۔    اور مختصراً میں اتنا کہتا ہوں کہ چپ کر کے اپنے فرم والوں سے معذرت کر لیں۔  

    دیت والی بات بھی یاد رکھنا 


  8.  

    Quote

     

    جناب  سترہویں غلام احمد صاحب !۔

    آپ  پوسٹ پڑھیں تو سہی، اس کا جواب بھی اس میں موجود ہے۔

     

     

     

    جناب بالکل اس میں جواب نہیں ہے آپ اپنی پہلی پوسٹ کے مطابق جواب عنایت فرمائیں جس طرح آپ نے اپنی پوسٹ لگائی
    5a7c520b3deee_download(2).png.28d4e9b2f3371691cc989ed12c295647.png
     
    022.png.fdd5da2f2ade489a5034ab481f0e2a63.png
    جس طرح آپ جناب نے یہاں اپنے عظیم فتویٰ سے نوازا بالکل اسی طرح اسلامی ایجوکیشن فورم پر اپنا فتویٰ صادر فرمائیں
    999.png.3f690ed295b1487c7a6251b758af531f.png
     خطاء کے پردے میں نہ چھپے پوری ایک حدیثِ مبارکہ کا ترجمہ ہے پڑھیے اور اپنا خوب صورت پہلے کی طرح کھل کر فتویٰ دیں ۔ اس لیے یہ عام فورم نہیں ہے آپ کے اسی فورم کا حصہ ہے اور یہ خطاء آج کی نہیں 9  ،10 سال سے ہے ۔ اس لیے اپنا صاف اور واضع فتویٰ لگائیں 
    5a7c63850d6b8_Seerat-e-Halbiya-Volume6-UrduTranslationByShaykhMuhammadAslamQasmi_0000(1).jpg.7ace16feccf592955e5d4cf7009e771c.jpg

  9. Quote

     

    باقی  اس حدیث میں  جس نے  بھی مولاکاترجمہ آقا کیا وہ خطا کرگیا

    اور اس کے ترجمہ پر جو مفاسد لازم آتے ہیں اگر وہ ان کا بھی التزام کرتا ہے تو کافر یاگمراہ ہے

    ورنہ خطا کامرتکب توہے ہی۔

    اور منہاجی تو ترجمہ کے ساتھ دیباچہ میں تصریح کرگیا۔

    اور اوپرنیچے دائیں بائیں کی بات کرنے والے ایک جگہ کااجمال دوسری جگہ

    کی تفصیل کے ساتھ ملاکرپڑھاجاتا ہے

     

    جناب سعیدی صاحب میں نے ابھی آپ کی پوسٹ سے پہلے پوسٹ لگائی ہے اس کے جواب سے  محترم آگاہ فرمائیں نوازش ہو گی ۔


  10. 88.png.8f9851e1ab761cb930b4790c00287174.pngسب سے پہلے ٹاپک تھا"سعیدی نام کا بندہ عالم یا جاہل" اس کے آپ لوگ وہاں سے جوتے اتار کر بھاگ نکلے ۔۔۔۔۔  پھر جناب لوگوں نے ٹاپک کا نام رکھا 

    " Lafz Aqaa ke Maana"

    وہاں سے جوتے تو جوتے کپڑے بھی چھوڑ کر جناب بھاگے ہیں اور پھر اب صاحبوں کو اس ٹاپک میں لگتا ہے پناہ مل جائے گی ۔۔۔   نہیں ملے گی انشاء اللہ بغضِ علیؓ والے کو خدا کی قسم کبھی پناہ نہیں ملے گی در بدر ہو گا ،ذلیل ہو گا اور خوار ہو گا مگر پناہ نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔   وہ جتنا مرضی ہے بھاگ لے ، وہ جتنا چاہے روپ بدل لے ہر گز ہر گز پناہ نہیں  ملے گی ۔۔۔۔۔     بھاگتے وقت آپ جانے یا انجانے میں میری پوسٹ بھی پیچھے ہی چھوڑ ائیں ہیں ۔ خیر کوئی بات نہیں  آپ نے اچھا کیا جو یہاں چلے آئے اب کچھ تفصیل سے بات  ہونا ممکن ہو پائیں گے اور انشاء اللہ " عورت کی دیت " سے بھی بدتر حالت ہو گی ۔

    مجھے فقط  سب سے پہلے اس سوال کا جواب دیں  ۔ میں  اصل بات سے کسی صورت نہیں باگھنے دوں گا

     

    • Quote
      • Ghulam Ahmed ap Mufti Ashraf Qadri Sahib ke bat ka jawab to na day saky aur na he ta qayamat day pao gay is liye siway taan karnay k tum log kuch bi nai kr saktay...Iss liye jaltay raho martay raho apnay e ghaiz main😂😂
    Quote

    Iss ka tarjama b kar do Minhaji sahib

     

    اللہم وال من والاہ

     

    022.png.fdd5da2f2ade489a5034ab481f0e2a63.png

    5a7c520b3deee_download(2).png.28d4e9b2f3371691cc989ed12c295647.png

    5a7c524627852_download(3).png.c44bff31d01c694cf212281c6919480a.png

    بس صرف اس کا جواب

    کیا اسلامی ایجوکیشن فورم اہل سنت کا ایک مستند فورم ہے

    یا

    تفضیلی اور رافضی فورم ہے

    999.thumb.png.7b1688e30ec70b4906800257d508e94e.png


  11.  

    یہ حق     یا        وہ  سچ

     

    1a.thumb.png.ac7778ffc3c46834920140a6486dd489.png

    2a.thumb.png.37bbd96657a33e0e5c28341704f4e66c.png

    3a.png

    لو جی اُردو معنیٰ کی حسرت بھی پوری کر لو ۔۔۔

     

    میرا خیال ہے کہ حضرت سید محمد امیر شاہ قادری گیلانیؒ  اھل سنت  ہی تھے جو عمر کے آخری ایام میں شاہ احمد نورانیؒ کے لیے دُعا فرما رہے

    یقیناً شاہ احمد نورانیؒ اک رافضی سے اپنے لیے دُعا نہیں کرا سکتے ۔۔۔  اگر اردو میں اور معنیٰ کی ضرورت ہوئی تو اور حسرت بھی پوری کی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


  12. Quote

     

    اللہم وال من والاہ

    کا ترجمہ تم منہاجیوں کے نزدیک یہی ہوگا کہ

    اے اللہ تو  اس کو آقا مان جو اسے آقا مانے

     

     

     

    Quote

    5a7abb3296653_download(2).png.fb3f8ee41c7b297cb400ded0b8d240a0.png

    ہاں جی سعیدی  صاحب آج آپ خود اپنے ہی فورم پر موجود حدیث شریف کے ترجمہ کی وجہ سے رافضی ثابت ہو رہے ہیں کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نہ آپ نے کب سے اپنے ہی فورم پر   صرف ڈاکٹر طاہر القادری کے حسد اور بغض کی وجہ سے اپنے ہی لوگوں کو کس قدر گمراہ کیا ہے ۔  اور اس گمراہی کا نشانہ صرف ڈاکٹر طاہر القادری ہی کی ذات نہیں رہی بلکہ آپ وہ بد نصیب اور بدبخت انسان ہیں جنہوں نے حضرت مولیٰ علیؓ کی ذات سے بھی لوگوں کو گمراہ کیا  

    دیت کے مسئلہ پر بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو گمراہ بناتے بناتے آپ خود گمراہ ثابت ہوئے تھے اس لیے کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے وہی کچھ کہا تھا جو حکیم الامت مفتی  احمد یار خان نعیمیؒ نے کہا تھا ۔ کیا میں درست کہہ رہا ہوں نا ؟

    اور آج مولیٰ کے معنیٰ پر بھی ڈاکٹر طاہر القادری کو لوگوں کی نظر میں گمراہ کرتے کرتے آپ خود گمراہ ثابت ہو چکے ہو ۔ کیا میں صحیح کہہ رہا ہوں نا ؟

    توبہ کر لو اور حق کی طرف لوٹ جاؤ ڈاکٹر طاہر القادری کی علمی حثیت کو چیلنج کرنا چھوڑ دو ۔ خدا کی اس زمین پر وہ اللہ کا بندہِ خاص ہے  اس لیے کہ اس سے اختلاف کرنے والے ، گالیاں دینے والے سب ایک ایک کر کے  نگے ہو رہے ہیں ۔۔۔

    www islamimehfil. com

    پر لگائی گئی اپنی پوسٹوں کا موازنہ اپنے ہی فورم پر موجود اپنے ہی لوگوں کیطرف سے لگائی گئی اس پوسٹ سے موازنہ کر کے اپنے ہی لوگوں کو بتائیں کہ سچ اور حق کہاں پر ہے ۔ رافضی آپ ہیں یا رافضی اسلامی ایجوکیشن فورم والے ہیں ۔  جناب محترم سعیدی صاحب آج صرف سچ اور حق بولنے اور لکھنے کے سوا آپ کے پاس کوئی چارہ نہیں  ۔۔۔۔    لیجیے اک بار اس حدیث، مبارکہ کا پھر مطالعہ فرمائیں اور اپنی سابقہ پوسٹوں سے مِلائیں اور اپنے ہی لوگوں کو سچ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Sunan Tirmidhi

    November 20, 2009/0 Comments/in Hadith's Jirah wal Tadi'l

     

    Shu‘bah relates it from Salmah bin Kuhayl: I heard it from Abu Tufayl that Abu Sarihah or Zayd bin Arqam (Shu‘bah has doubts about the narrator) — relates that the Prophet (Peace Be Upon Him) said: One who has me as his master has Ali as his master. [Sunan Tirmidhi Volume 005, Page No. 833, Hadith Number 3713] — Abu Isa Tirmidhi said: This hadith is Hassan – Sahih (i.e Handsome and Sound) — Shu‘bah has related the tradition from Maymum Abu Abdullah, who related it on the authority of Zayd bin Arqam and he has related it from the Holy Prophet (Peace Be Upon Him)

     


  13.  جناب سعیدی صاحب آپ نے جس طرح ٹاپک " عورت کی دیت" میں لفظ "یکساں" کا معنیٰ کیا تھا آج  بھی بالکل اُسی طرح لفظ مولیٰ کا معنیٰ کر رہے ہیں ۔  دیکھیں آپ اپنی پوسٹ میں کیا کر رہے ہیں ۔   

     

    Quote

     

    اللہم وال من والاہ

    کا ترجمہ تم منہاجیوں کے نزدیک یہی ہوگا کہ

    اے اللہ تو  اس کو آقا مان جو اسے آقا مانے

     

     

     

    88.png.8f9851e1ab761cb930b4790c00287174.png

    5a7ab20cbde28_Master01.thumb.png.2477420faf0e5a6cff5c0c92c45b3961.png

    5a7ab24cce143_Master02.png.19281d85d2feabf7bb086aa7376c6eb1.png

    Master03.thumb.png.e151dd655c68669df3ed570bc4799a82.png

     

    WWW.islamieducation.com

      پر موجود لنک جہاں پر یہ حدیث مبارکہ اسی طرح  پڑھی اور دیکھی جا سکتی ہے ۔   اس    فورم پر موجود لوگوں کےسامنے لا إله إلا الله محمد رسول الله  

     پڑھ کر کہتا ہوں کہ یہی سچ ہے میں اپنی طرف سے نہیں  کہہ رہا یہ نیچے وہ حدیث مبارکہ ہے  جس کا ترجمہ آپ پڑھ سکتے ہیں 

    Sunan Tirmidhi

    November 20, 2009/0 Comments/in Hadith's Jirah wal Tadi'l

     

    Shu‘bah relates it from Salmah bin Kuhayl: I heard it from Abu Tufayl that Abu Sarihah or Zayd bin Arqam (Shu‘bah has doubts about the narrator) — relates that the Prophet (Peace Be Upon Him) said: One who has me as his master has Ali as his master. [Sunan Tirmidhi Volume 005, Page No. 833, Hadith Number 3713] — Abu Isa Tirmidhi said: This hadith is Hassan – Sahih (i.e Handsome and Sound) — Shu‘bah has related the tradition from Maymum Abu Abdullah, who related it on the authority of Zayd bin Arqam and he has related it from the Holy Prophet (Peace Be Upon Him)

    کلک کیجے اور لفظ مولیٰ کا معنیٰ ماسٹر خود پڑھیےlink :

    http://www.islamieducation.com/sunan-tirmidhi/


  14.  
    حدیث نمبر: 3235
     
    حدثنا حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هانئ ابو هانئ اليشكري، حدثنا جهضم بن عبد الله، عن يحيى بن ابي كثير، عن زيد بن سلام، عن ابي سلام، عنعبد الرحمن بن عايش الحضرمي انه حدثه ، عن مالك بن يخامر السكسكي، عن معاذ بن جبل رضي الله عنه ، قال : احتبس عنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات غداة عن صلاة الصبح حتى كدنا نتراءى عين الشمس ، فخرج سريعا فثوب بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتجوز في صلاته ، فلما سلم دعا بصوته ، فقال لنا : " على مصافكم كما انتم " ، ثم انفتل إلينا ، ثم قال : " اما إني ساحدثكم ما حبسني عنكم الغداة اني قمت من الليل فتوضات وصليت ما قدر لي ، فنعست في صلاتي حتى استثقلت فإذا انا بربي تبارك وتعالى في احسن صورة ، فقال : يا محمد ، قلت : " لبيك رب " ، قال : فيم يختصم الملا الاعلى ؟ قلت : " لا ادري " ، قالها ثلاثا ، قال : " فرايته وضع كفه بين كتفي حتى وجدت برد انامله بين ثديي ، فتجلى لي كل شيء وعرفت " ، فقال : يا محمد ، قلت : " لبيك رب " ، قال : فيم يختصم الملا الاعلى ؟ قلت : " في الكفارات " ، قال : ما هن ؟ قلت : " مشي الاقدام إلى الجماعات ، والجلوس في المساجد بعد الصلوات ، وإسباغ الوضوء في المكروهات " ، قال : فيم ؟ قلت : " إطعام الطعام ، ولين الكلام ، والصلاة بالليل والناس نيام " ، قال : سل ، قلت : " اللهم إني اسالك فعل الخيرات ، وترك المنكرات ، وحب المساكين ، وان تغفر لي وترحمني ، وإذا اردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون ، اسالك حبك ، وحب من يحبك ، وحب عمل يقرب إلى حبك ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إنها حق فادرسوها ، ثم تعلموها " . قال ابو عيسى : هذا حديث حسن صحيح ، سالت محمد بن إسماعيل ، عن هذا الحديث ، فقال : هذا حديث حسن صحيح ، وقال : هذا اصح من حديث الوليد بن مسلم ، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، قال : حدثنا خالد بن اللجلاج ، حدثني عبد الرحمن بن عائش الحضرمي ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فذكر الحديث ، وهذا غير محفوظ ، هكذا ذكر الوليد في حديثه ، عن عبد الرحمن بن عايش ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وروى بشر بن بكر ، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر هذا الحديث بهذا الإسناد ، عن عبد الرحمن بن عائش ، عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا اصح ، وعبد الرحمن بن عائش لم يسمع من النبي صلى الله عليه وسلم .

    ´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے(حجرہ سے) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو (اپنے قریب) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، (تہجد کی) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا (اور پہچان گیا) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر (دوسری نماز کے انتظار میں) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں)؟ میں نے کہا: (محتاجوں اور ضرورت مندوں کو) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا: مانگو (اور مانگتے وقت کہو) کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ۔

     

    امام ترمذی کہتے ہیں: 
    ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، 
    ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔

     

    تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ۱۱۳۶۲) (صحیح)

     

    قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر العلو (119 / 80) ، الظلال (388)
    یہ اھلحدیث والوں ترجمہ ہے

  15.  جناب محمد علی صاحب یہ ایک وڈیو نہیں اس ویڈیو میں تین ویڈیوز ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  3 مختلف مواقع ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک جملہ غلطی سے نکل جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔  اگر غلطی سے جملہ زبان  سے نکل جائے تو اگلے لمحے انسان  جو کہنا چاہتا ہے وہ اصل جملہ ضرور دھرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اس کا احساس ہو جاتا ہے کہ میرے منہ سے غلط جملہ ادا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  بےشک وہ پھر اسی وقت اس جملے کی تردید نہ کرے سامع خود سمجھ جاتا ہے کہ خطیب سے جملہ غلطی سے ادا ہوا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اصل اور حقیقی جملہ اور عقیدہ بیان کیا ۔۔۔۔۔۔۔   لیکن تین مختلف مواقع پر مختلف سٹیجوں اور جگہوں پر مختلف سامیعین کے سامنےجوکچھ ایک ہی بار کہا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جائے کہ جس نے اس پر بات کرنی ہے کر لے میں ثابت کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اب بتائیں جو چیز ثابت کرنے کا کہا جائے وہ غلطی ہوتی ہے یا عقیدہ ،میں پھر کہہ رہا ہوں کہ جوبات ثابت کی جائے وہ غلطی ہوتی ہے یا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میں تیسری بار پھر کہتا ہوں کہ جو بات کسی دوسرے پر ثابت کی جائے وہ غلطی ہوتی ہے یا عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اوپر کی تین ویڈیوز میں سے  میں نے  شاہ صاحب کی ایک ویڈیو بنائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  پھر دوسری ملی پھر تیسری ملی اب میں نے تینوں میں سے مخصوص حصے کاٹ لیے اور ان تین حصوں کی ایک ویڈیو آپلوڈ کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اب اگر شاہ صاحب نے کہیں یہ کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے میرا ایسا جملہ بولنے کا کوئی اردہ نہیں تھا تو سمجھ لیں کہ شاہ صاحب جہاں پہلے بڑے بڑے جھوٹ بولتے ہیں اسی طرح یہ بھی جھوٹ بولولا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  کیوں کہ جو بات لوگوں میں ثابت کی جائے وہ غلطی ہوتی ہی نہیں بلہ عقیدہ ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   اب شاہ صاحب کو یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ تین مختلف تقاریر میں کہے گے تین مختلف جملے میرا عقیدہ تھا اب میں یہ عقیدہ چھوڑتا ہوں اور  اپنے اس جوبھی وہ فرنائیں اس عقیدے پر آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر شاہ صاحب اس کو غلطی کہ کر معافی مانگے یا توبہ وغیرہ کریں تو سمھنا چاہیے کہ یہی منافقت اور بہت سارے مُلاؤن میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اسی منافقت نے بیڑا غرق کیا ہے ہر چیز کا ۔۔ یہ ان لوگوں کا اصل حقیقی چہرہ ہے  

     یہ ویڈیو میرا نہیں ہے کسی دوسرے نے یہ ویڈو آپلوڈ کیا ہے اور ان تین میں سے ایک ہے 


  16. کتنے خوب صورت نام رکھتے ہو تم لوگ مگر کتنے گندے اور جاہلانہ خیالات ہوتے ہیں تم لوگوں کے اسی وقت کسی کو منہاجی ،کسی کو شیعہ کا ٹائٹل دے دیتے ہو ۔ مگر جہالت  ،بغض اور حسد میں سب حدود  ایک ہی بار عبور کر جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   آپ کے پلے علم نام کی کوئی چیز ہے ہے ہی نہیں پگڑیاں باندھ لینا، قبے ،جبّے پہن لینا اور ہاتھوں میں عصا پکڑ لینے سے عالم نہیں بن جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہی حالت تم لوگوں کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   پھر مولی علیؓ سے تو تم لوگوں کو ویسے ہی بغض اور حسد ہے اس کی  نشاندھی اوپر کی گئی پوسٹ سے واضع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔    چلْو بھر پانی میں ڈوب مرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ہر وہ بندہ جو عالم ہو  جناب سعیدی اور تمہاری طرح جاہل نہ ہو وہ مولی کا ترجمہ

    Master 

    ہی کرے گا ۔۔۔۔۔۔  تم لوگوں کی طرح ناصبیت ظاہر نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

    حدیث ( من کنت مولاہ فعلی مولاہ 

    the Prophet (Peace Be Upon Him) said: One who has me as his master has Ali as his master.

    یہ پڑھ کر تم لوگوں کو موت کیوں پڑ جاتی ہے کل اھل بیت کو کیا منہ دیکھاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہی ناصبیت والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خدا کی قسم تم جیسے ناصبیوں سے یہ لوگ بہت اچھے ہیں جو کم از کم اس حدیث میں وہی ترجمہ کر رہے جو تم لوگ کو ڈستا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

     

    Picture8.thumb.png.d351e149f9856f556cf0425ede4c9bfa.png

    اب ڈوب مرو بے شرمو



  17.   آپ کے پاس سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں ہے ۔ اب آپ جو بھی لکھ رہے ہیں جو بھی کہہ رہے ہیں نری شرمندگی ہے

    ۔۔۔     چلیں محترم آپ بھی لکھیں کہ مفتی اعظم پاکستان اھل سنت سے خارج اب اور

    کسی دوسری دلیل کی بھی ضرورت ہے کیا ؟۔۔۔۔۔۔۔       چلیں شاباش لکھیں 

     


  18. Quote


    غلام احمد صاحب ہم آپ کی عادتوں سے پرانے واقف ہیں اسی لیے کہا تھا کہ بات دلیل سے کرنا لیکن عادت سے مجبور ہو کر آپ نے پھر وہی کاپی پیسٹ کر ڈالی۔۔کسی بھی صاحب عقل کے نزدیک یہ میرے سوال کا جواب نہیں

    Quote

     

     

      آپ کے پاس سوائے شرمندگی کے اور کچھ نہیں ہے ۔ اب آپ جو بھی لکھ رہے ہیں جو بھی کہہ رہے ہیں نری شرمندگی ہے ابھی تو دیکھوں میں آپ لوگوں سے کرتا کیا ہوں ، اب کہیں بھی بھاگنیں کا موقع نہیں دوں گا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔     چلیں محترم آپ بھی لکھیں کہ مفت اعظم پاکستان اھل سنت سے خارج اب اور

    کسی دوسری دلیل کی بھی ضرورت ہے کیا ؟۔۔۔۔۔۔۔       چلیں شاباش لکھیں 

     

     


  19.  

    Quote

    غلام احمد صاحب تلملانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔آپ کے قائد سے انکے اس فعل کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی علماء کا وفد ان سے ملنے گیا لیکن جناب اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے لیکن اس کے برعکس آپ خود ہی بتا دیں مفتی منیب صاحب سے کسی نے انکے اس کام کی وضاحت طلب کی ہے کیا؟؟خالی ہوا میں فائر مت کیجئے گا جواب دلیل سے دیجئیے گا اور خاص طور پر کاپی پیسٹ مت کیجئے گ

    ہائے

    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

       مفتی منیب الرحمن صاحب سے جا کر منت ترلہ کریں اور اس کا کوئی  جواب مانگےنا جی ۔۔۔۔۔۔۔اور انہیں کہیے کہ

    بے بسی یہ نہیں کہ بے بس ہیں ہم
    بات یہ ہے کہ بے بس کیا تم نے
    :اور آپ کے لیے عرض ہے کہ
     

     

    کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں
    نہ ہو بلا سے خریدار ، آؤ سچ بولیں

    سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
    یہی ہے موقع اظہار ، آؤ سچ بولیں

    ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
    بنامِ عظمت کردار ، آؤ سچ بولیں

    چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
    نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں


  20. s.png

    خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے 
    بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے 
    وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے 
    مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے 
    اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے 
    اے چارہ گرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے 
    منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے 

    مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے 
     

    کلک کرنے کے بعد فوٹو پر ڈبل کلک کیجیے اور اک خوب صورت نظارہ لیجیے