ghulamahmed17

Under Observation
  • Content count

    297
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

Posts posted by ghulamahmed17


  1. Quote

    اسے کہتے ہیں جاہل اعظم جو سیدھی اور عام فہم بات سمجھنے سے بھی قاصر ہے

    میں نے پوچھا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کہنا

    جائز ہے 

    یا

    ناجائز ہے ۔

    قادری سلطانی صاحب اس  کا جواب لکھ دیں پلیز

    میں جاہل ہوں تو آپ مجھے آگاہ فرما کر

    میری راہنمائی فرما دیں پلیز

     

    -------------------


  2. Quote

    بات سمجھ نہیں آتی تو لکھنا چھوڑ دو۔ جھوٹ بول کر کیوں لعنت کے حق دار بنتے ہو۔ ایک کتاب ایک موضوع پر لکھی گئی ، اس میں  اقوال کےکفر اور عدم کفر کی بات ہے تو اس میں جو مذکور ہوا وہ کفر ہی ہوگا،یہ جاہلانہ اصول کس کتاب میں لکھا ہے۔ کیا موضوعات کی کتاب میں صحیح یا ضعیف حدیث کا ذکر کرنے سے وہ حدیث بھی موضوع شمار ہوگی؟ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!!!۔

     

    جھوٹا اور لعنت کا حق دار کون کہاں ثابت ہوا سب کے علم میں ہے 

    آپ لوگوں کے مقدر میں ایل بیت کا بغض لکھ دیا گیا ہے ۔

    روز اک جہالت کرتے ہو پھر اس کی جھوٹی اور من گھڑت تاویلں پیش کرتے ہو ۔

    کتاب  دیکھو اور پڑھو

    69645219_1104567129735385_5006056452486332416_n.jpg.03db7db7c2a09bc2644f725df2041258.jpg

     

     بتاؤ اب  علیہ السلام اس  کتاب جس کا نام ہی " کفریہ کلمات کے بارے سوال"ہے  کیوں شامل کیا گیا ۔

    چلیں وجہ  بتائیں  ؟

    کیا آپ کو امام حسین علیہ السلام پر کوئی 

    اعتراض ہے یا  درست اور جائز کلمہ ہے ؟

    دوٹوک لکھیں ؟

    ---------------------------

    Quote

    Screenshot_2019-09-16-15-13-42.png

    Quote

    کتاب اس لئے لکھی گئی تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ عام بولے جانے والے کلمات میں کیا کفر ھے اور کیا نہیں ھے

     پھر تو جناب آپ نے تصدیق فرما دی کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کہنا کلمہ کفر ہے َ واہ  جی واہ


  3. میں  نے لکھا تھا جناب سعید ی صاحب آپ جھوٹ بول رہے ہیں ، حافظ ابن حجر عسقلانی نے 

     تهذيب التهذيب میں 

    (کان شدید التشیع)

    کا قول نہیں  کیا ہے ۔

    باربار لکھا کہ یہ محض الزام ہے جس کی تصدیق ابن حجر نے تقریب میں کی ہے

    مگر آپ اور قادری سلطانی صاحب نہیں مانیں 

    اب سٹام پیپر والے صاحب جی نظر نہیں آ رہے ۔

       جناب سعیدی صاحب  آپ کا اعتراض ختم ہو چکا ، اگر آپ سمجھتے ہیں

    تو پھر اب آپ محدثین اور ان علمائے کرام  کو پیش فرمائیں گے

    جنہوں نے اس حدیث کا انکار کیا یا ضیف کا حکم لگایا 

    اس لیے کہ آپ دونوں  دوست بہت بری طرح جھوٹے ثابت ہوئے ہیں 

    امید ہے کہ اب آپ مذید کوئی ایسی غلطی نہیں دھرائیں گے ۔

    -------------------------------------


  4. بہت دنوں سے میں جناب سعیدی صاحب اور جناب قادری 

    سلطانی صاحب اس اس حدیث میں اوپر کے حصے میں کیے گئے

    ترجمہ کی روشنی میں لفظ مولا کا معنی پوچھ رہا تھا مگر

    میرے دونوں محترم دوست اپنے اندر کا سچ نہیں اُگل رہے تھے ۔ کبھی اک بہانہ

    اور کبھی دوسرا ڈرامہ

    مگر اک بریلوی مفتی جناب مفتی وسیم اکرم القادری صاحب

    نے ناصبیت کے گلے پر حیدری تلوار یوں چلائی کہ

     

    Picture1hhy.thumb.png.622f5de9daa2a065065e7afee2339ded.png

     

     

     ذہن میں خیال آئے گا کہ کیا واقعی مفتی وسیم اکرم القادری صاحب 

    اک بریلوی عالمِ دین اور مفتی ہیں ۔

    میں  آپ سب دوستوں کو یوٹیوب کے اس کے اس ویڈیو پر لیے چلتا ہوں جس میں

    مفتی  وسیم اکرم القادری صاحب امام احمد رضا خان بریلوی کی تعلیمات کے بارے

     درس دے رہے ہیں ، ان  کے اور بھی بے شمار ویڈیو موجود ہیں ۔

     

    تعلیمات اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی از مفتی وسیم اکرم القادری

     

     

    ---------------------

     

    مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ۔

    جس کا میں آقا ہوں ، اس کا علی آقا ہے ۔

     

    تو     اسکے    ذکر کو ادنی نہ سمجھ اے منکر....
    علی تو وہ ہے جو ہاتھ سے خیبر اکھاڑ دیتا ہے
    -----------------------------

     

     


  5.  

     

    یہ کیا بچوں جیسی حرکات کر رہے ہو اک حدیث کا بھی جواب دیا ہے آپ نے ؟

    بتائیں ، یہ ہر وقت بچوں کی طرح ٹاپک خراب کرتے رہتےہو۔  آپ نے لکھا کہ صحابی ہیں تو میں نے آپ کی بخاری کی حدیث دیکھائی کہ یہ بھی صحابی ہی 

    ہیں ۔ کیا اس حدیث میں صحابی نہیں  ہیں جن کو کریم آقاﷺ کے سامنے لایا جائے گا ۔

    غیب کے علم پر اعتراض وہابی کرتا ہے ، وہابیوں کو علم نہیں شاید کہ اس حدیث سے کریم آقاﷺ کا علم غیب ثابت ہو رہا ہے 

    اسی لیے تو وہ  دنیا میں اس حدیث کو بیان فرما گئے ، ان کے علم میں  تھا کہ کون کون  ان کے بعد ک گردنیں کاتیں گا اور کافر ہو جائے گا ۔

     اُن کو حضرت علیؓ کے بارے میں حضرت امام حسین کے بارے میں سب علم تھا ۔

    اور یہ بھی صحابی ہی ہوں گے جنہوں نے کریم آقاﷺ کے بعد  گردنیں کاٹی ، قتل عام کیا اور ظلم کیا ۔ مگر میں نے کسی کا نام نہیں لیا 

    آپ کو صرف بتایا کہ صحابی صحابی کی صرف گردان نہ پڑھا کرو ۔

    صحابی وہ ہی ہیں جنہوں نے کریم آقاﷺ اور خلفائے راشدیں کی پیروی کی ۔ 

     کریم آقاﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ:

    موضوع : مسلمان سے قتال کرنا (ایمان)
    2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ الإِنْصَاتِ لِلْعُلَمَاءِ)
    الحکم علی الحدیث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
     حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الوَدَاعِ: «اسْتَنْصِتِ النَّاسَ» فَقَالَ: «لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»...
    صحیح بخاری : کتاب: علم کے بیان میں (باب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ض... )
    مترجم: ١. شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)
     حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے فرمایا: "لوگوں کو خاموش کراؤ۔" اس کے بعد آپ نے فرمایا: "اے لوگو! میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں مار کے، پھر کافر نہ بن جانا۔"


  6. Quote

     

    قاسم علی صاحب

    آپ نے (علیہ السلام)  کے متعلق جھوٹ بولا ھے، الیاس قادری صاحب نے اسے منع کیا ھے، کفر نہیں کہا۔ آپ بتائیں کہ کتاب میں کس جگہ اسے کفر لکھا ھے؟

     

     

    سعیدی صاحب 

    جناب سعیدی صاحب  پہلے بات کو سمجھ لیا کیجے پھر جواب لکھا کیجیے ۔

    پہلے آپ بتائیں   اہل بیت کے ناموں کے ساتھ علیہ السلام سے بعض علماء حضرات

    کو مسئلہ کیا درپیش ہے  کہ لکھا جائیں یا نہ لکھا جائے  ؟

    دوسری بات : 

    میں اک  جملہ لکھتا ہوں  اس کو پڑھیں :

    " غیر نبی و ملک کے نام کے ساتھ  علیہ السلام نہیں لکھنا چاہیے "
     اس میں کفریہ کلمہ کونسا ہے ؟

    جناب سعیدی صاحب  اب یہ پڑھیں :

    کتاب کا نام :              کفریہ کلمات کے بارے سوال و جواب

    پھر کتاب کے ٹائٹل پیج پر لکھا ہے کہ :

    حرام الفاظ اور کفریہ کلمات کے متلق علم سیکھنا ضروری ہے ۔

    جناب سعیدی صاحب اب اس جملہ میں     :    " غیر نبی و ملک کے نام کے ساتھ  علیہ السلام نہیں لکھنا چاہیے "

    کونسا کفریہ کلمہ ہے جو " علیہ السلام " کو  کفریہ کلمات کی اس کتاب میں سوال و جواب میں شامل کیا گیا  ؟

    امید ہے کہ آپ ایمانداری سے جواب لکھیں گے ۔

     اپ کا دوسرے سوال کا جواب میں  آپکا جواب آنے کے بعد لکھو  گا ،

    -----------------------

     


  7. اعتراض
    ابو مخنف میرے نزدیک غیر معتبر ھے مگر آپ تو اُسے بہت معتبر مانتے ہیں۔ اس لئے اُس کی بات مجھ پر نہیں بلکہ آپ پر حجت ھے۔
    جواب
    سعیدی صاحب جو آپ کے نزدیک غیر معتبر ہے آپ اس کی بات پر یقین کیسے کریں گے؟
    اور جان سعیدی صاحب آپ اصل واقعہ  کی طرف بالکل توجہ نہیں فرما رہے کہ  امیر معاویہ کے گورنر  اور خود امیر معاویہ حضرت علی کو قاتلیں عثمان میں سمجھتے تھے اور اسی بہانے ان کو گورنر صاحبان گالیاں دیتے تھے اور یہ سب بحکم معاویہ ہی ہوتا تھا ۔ 
    اصل نقطہ پر دھیان دیں 

    وكان معاوية وعماله يدعون لعثمان في الخطبة يوم الجمعة، ويسبون علياً، ويقعون فيه، ولما كان المغيرة متولي الكوفة، كان يفعل ذلك طاعة لمعاوية، فكان يقوم حجر وجماعة معه، فيردون عليه سبّه لعليٍ رضي الله عنه، وكان المغيرة يتجاوز عنهم، فلما ولي زياد، دعا لعثمان وسب علياً، وما كانوا يذكرون علياً باسمه، وإنما كانوا يسمونه بأبي تراب، وكانت هذه الكنية أحب الكنى إِلى علي، لأن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناه بها، فقام حجر وقال: كما كان يقول من الثناء على علي، فغضب زياد وأمسكه، وأوثقه بالحديد، وثلاثة عشر نفراً معه، وأرسلهم إِلى معاوية، فشفع في ستة منهم عشائِرهم، وبقي ثمانية، منهم: حجر، فأرسل معاوية من قتلهم بعذرا، وهي قرية بظاهر دمشق، رضي الله عنهم، وكان حجر من عظم الناس ديناً وصلاة، وأرسلت عائشة تتشفع في حجر، فلم يصل رسولها إِلا بعد قتله

    معاویہ اور اس کے گورنر جمعہ کے خطبوں میں معاویہ کے لئے دعائے خیر کیا کرتے تھے اور علیؓ  پر سب اور برا بھلا کرتے تھے، چنانچہ جب مغیرہ گورنر کوفہ بنا، تو وہ بھی معاویہ کی اطاعت کے چکر میں عثمان کے لئے دعائے خیر کرتا اور علیؓ  پر سب، چنانچہ حجر اور ان کے ساتھ ایک جماعت کھڑے ہوجاتی اور جو مغیرہ سب علی رض  کرتا تھا اس کے خلاف احتجاج کرتے جب مغیرہ وہاں سے گورنرشپ سے ہٹا تو اس کی جگہ زیاد بن ابیہ گورنر بنا اور وہ عثمان کا ذکر خیر کرتا اور علیؓ پر سب کرتا، اور امیر المومنین  کا نام علی نہ لیتے بلکہ ابو تراب کہا کرتے تھے، جو اگرچہ  علیؓ  کو سب سے زیادہ پسندیدہ کنیت لگتی تھی چونکہ رسول اللہق   نے وہ کنیت عطا کی تھی تو حجر کھڑے ہوئے اور وہی کہا جو وہ  علیؓ کی مدح میں کہا کرتے تھے، جس پر زیاد غضبناک ہوگیا اور حجر کو روکنا چاہا اور حجر اور ان کے تیرہ ساتھیوں کو گرفتاوی کا کہا چنانچہ ان تمام کو معاویہ کے پاس بھیج دیا گیا، جن میں سے چھ کے بارے میں ان کے قبائل نے سفارش کرکے چھڑوادیا اور باقی آٹھ جن میں حجر تھے ان کو معاویہ نے مقام عذرا جو دمشق کا ایک قریہ تھا وہاں قتل کروایا، اللہ ان تمام سے راضی ہو، اور حجر تمام لوگوں میں دین اور نماز کے معاملہ میں بلند ترین تھے، اور عائشہ نے حجر کی شفارش کے لئےایک قاصد کو بھیجا تھا جو حجر کے قتل کے بعد وہاں پہنچا۔

    حوالہ:  المختصر في أخبار البشر جلد ١ ص ١٨٦

    http://shamela.ws/browse.php/book-12715#page-174


    --------------------
    اعتراض
    شہادتوں کا لیٹر لے جانے والے حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب بھی شاھد تھے تو ان کی شہادت تو اسلامی قانون کے مطابق تھی

    جواب
    ابوداؤد میں حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ سے روایت ہے :
    " رسول اللہﷺ نے فیصلہ  ( یعنی عدالتی ضابطہ بیان فرمایا ہے) کہ:
    مقدمے کے فریقین دونوں حاکم کے روبرو بیٹھیں "
    کریم آقاﷺ نے مذید فرمایا :
    جب دونوں فریق تمہارے سامنے بیٹھ جائیں تو فیصلہ نہ کرو ۔ جب تک کہ دوسرے کی بات بھی نہ سن لو جس طرح تم نے پہلے کی بات سنی  ۔ "
    حضرت عمر فاروقؓ جو ہدایت نامہ اداب قضاء سے متلق حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو بھیجا تھا وہ معتدد کتب فقیہ میں منقول ہے اس میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں :
    "  تم لوگوں کی طرف متوجہ ہونے اور اپنا اجلاس منعقد کرنے میں مساوات قائم کرو ۔ تا کہ کمزور تمہارے عدل سے مایوس نہ ہو اور بڑے خاندان والا تم سے بے انصافی کی طمع نہ کرے ۔
    جناب سعیدی صاحب
    ملزمین کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں گواہیاں لینا ارشاداتِ نبویﷺ اور اسلامی اصول قضاء کے بالکل خلاف ہے ۔ اس پر شہادت کا ہی اطلاق نہیں کیا جا سکتا  جو اثباتِ جرم کی بنیاد بن سکے ۔ 
    پھر اسلامی قانونِ شہادت کے مطابق یہ بھی ضروری  اور بہت اہم ہے کہ ہر گواہ کی گواہی الگ الگ لی جائے تا کہ پہلے کی گواہی سے دوسرا متاثر نہ ہو ۔ اور ان کی شہادت میں اگر اختلاف ہو جو ملزم کے حق میں مفید ہو تو وہ اس فائدے سے محروم نہ ہو ۔
    لیکن جناب سعیدی صاحب زیاد کے سامنے  اصحاب کی گواہیاں جس طرح درج کی گئی وہ میں اوپر لکھ چکا ہوں ۔
    زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔
    میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں۔
    عناق ابن شرجیل ابن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو۔
    مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لیے قریش کے خاندان سے
    ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو۔
    چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق ابن طلحہ ابن عبید اللہ اور موسی ابن طلحہ
    اور اسماعیل ابن طلحہ اور منذر ابن زبیر اور عمارہ ابن عقبہ ابن ابی معیط ،
    عبد الرحمن ابن ہناد ، عمر ابن سعد ابن ابی وقاص ، عامر ابن سعود ابن امیہ ،
    محرز ابن ربیعہ ابن عبد العزی ابن عبد الشمس ،
    عبید اللہ ابن مسلم حضرمی ، عناق ابن وقاص حارثی نے دستخط کیے۔
    جناب سعیدی صاحب یہ سارے گواہ زیاد کے من پسند گواہ تھے ۔؎
    پھر زیاد کا یہ اک جملہ ہی  اسلامی قانوں شہادت کے سراسر خلاف ہونے کے لیے کافی ہے کہ :
    "  زیاد نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں۔"
    معین الحکام صفحہ نمبر/100 پر لکھا پڑا ہے کہ :
    " اگر ایک گواہ شہادت دے اور اس کی تفصیل بیان کرے پھر دوسرا گواہ کہے کہ میں اپنے ساتھی کی گواہی کے مثل گواہی دیتا ہوں تو دوسرے کی گواہی قبول نہ ہو گی ۔
    -----------------------------------
    اعتراض
    اور ان کی شہادتوں میں بھی( جمع جموع+ شتم معاویہ + دعوت الی حرب+ آل ابو طالب کو ھی حکمرانی کا حق ھے)  کے عناصر موجود ھیں بلکہ معاویہ کے عامل کا شہر سے اخراج بھی بیان شدہ ھے

    جناب محترم سعیدی صاحب
    حضرت حجر بن عدیؓ نے   جس عامل کو نکال باہر کیا تھا اس کا نام تو لکھ دیتے کہ اس کا نام کیا تھا ؟ کس شہر کا عامل تھا ؟ جبری اخراج کے بعد واپسی ہوئی کہ نہیں ؟حجر بن عدی تو خود کوفے میں چھپتے پھر رہے تھے ،  اگر کوفہ کے عامل کے اخراج کی بات ہے تو وہ اس وقت عمرو بن حریث تھے ۔ اور جو شہادتیں اور گواہیاں لکھی گئی اس میں خود عمرو بن حریث کی گواہی موجود ہے ، امید ہے کہ آپ عامل اور شہر کانام لکھیں گے  ۔
    جہاں تک اس میں سب و شتم کا مسئلہ ہے تو معاویہ کے گورنر پہل کرتے حجر بن عدی احتجا جاً اس کا جواب میں بولتے ۔
    کیونکہ بہت شروع میں حجر بن عدی اور ان کے کچھ ساتھی ایسا کرتے تھے تو حضرت علیؓ نے خود  حجر بن عدی کو بلا کر ایسی باتوں سے روک دیا تھا ۔
    لہذا مغیرہ اور ابن زیادہ کے دور  زمانہ میں   امیر معاویہ کے گورنر ہی حضرت علیؓ پر سب و شتم کرتے اور حجر بن عدی احتجاج کرتے ہوئے جواباً ایسی باتیں کرتے ۔
    -------------------------------------------
    اعتراض

    باغی کی تعریف بھی آپ اپنی من پسند پیش کریں اور اپنے اسی ابومخنف کی روایات کے مطابق پرکھ لیں۔ اس سب کے باوجود جنابِ حجر کا اپنی بیعت پر قائم رھنے کا دعوٰی کیا وزن رکھتا ھے؟  ہاں وہ تجدید بیعت کرتے تو اور بات ھوتی۔

    جواب :
    فقہائے اَحناف کے ہاں بغاوت کی تعریف
     فقہائے احناف میں سے ایک نمایاں نام علامہ ابن ہمام (م 861ھ) کا ہے۔ انہوں نے فتح القدیر میں بغاوت کی سب سے جامع تعریف کی ہے اور باغیوں کی مختلف اقسام بیان کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

    والباغی فی عرف الفقهاء : الخارج عن طاعة إمام الحق. والخارجون عن طاعته أربعة أصناف :

    أحدها : الخارجون بلا تأويل بمنعة وبلا منعة، يأخذون أموال الناس ويقتلونهم ويخيفون الطريق، وهم قطاع الطريق.

    والثاني : قوم کذلک إلا أنهم لا منعة لهم لکن لهم تأويل. فحکمهم حکم قطّاع الطريق. إن قتلوا قتلوا وصلبوا. وإن أخذوا مال المسلمين قطعت أيديهم وأرجلهم علي ما عرف.

    والثالث : قوم لهم منعة وحمية خرجوا عليه بتأويل يرون أنه علي باطل کفر أو معصية. يوجب قتاله بتأويلهم. وهؤلاء يسمون بالخوارج يستحلون دماء المسلمين وأموالهم ويسبون نساء هم ويکفرون أصحاب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم . وحکمهم عند جمهور الفقهاء وجمهور أهل الحديث حکم البغاة....

    والرابع : قوم مسلمون خرجوا علی إمام ولم يستبيحوا ما استباحه الخوارج، من دماء المسلمين وسبی ذراريهم وهم البغاة.

    ابن همام، فتح القدير، 5 : 334

    ’’فقہاء کے ہاں عرف عام میں آئین و قانون کے مطابق قائم ہونے والی حکومت کے نظم اور اتھارٹی کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے کو باغی (دہشت گرد) کہا جاتا ہے۔ حکومت وقت کے نظم کے خلاف بغاوت کرنے والوں کی چار قسمیں ہیں :

    ’’پہلی قسم ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو طاقت کے بل بوتے یا طاقت کے بغیر بلاتاویل حکومت کی اتھارٹی اور نظم سے خروج کرنے والے ہیں اور لوگوں کا مال لوٹتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں اور مسافروں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں، یہ لوگ راہزن ہیں۔

    ’’دوسری قسم ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس غلبہ پانے والی طاقت و قوت تو نہ ہو لیکن مسلح بغاوت کی غلط تاویل ہو، پس ان کا حکم بھی راہزنوں کی طرح ہے۔ اگر یہ قتل کریں تو بدلہ میں انہیں قتل کیا جائے اور پھانسی چڑھایا جائے اور اگر مسلمانوں کا مال لوٹیں تو ان پر شرعی حد جاری کی جائے۔

    ’’تیسری قسم کے باغی وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت و قوت اور جمعیت بھی ہو اور وہ کسی من مانی تاویل کی بناء پر حکومت کی اتھارٹی اور نظم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں اور ان کا یہ خیال ہو کہ حکومت باطل ہے اور کفر و معصیت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ان کی اس تاویل کے باوجود حکومت کا ان کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں پر خوارج کا اطلاق ہوتا ہے جو مسلمانوں کے قتل کو جائز اور ان کے اموال کو حلال قرار دیتے تھے اور مسلمانوں کی عورتوں کو قیدی بناتے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکفیر کرتے تھے۔ جمہور فقہاء اور ائمہ حدیث کے ہاں ان کا حکم بھی خوارج اور باغیوں کی طرح ہی ہے۔۔۔۔

    ’’چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے حکومتِوقت کے خلاف مسلح بغاوت تو کی لیکن ان چیزوں کو مباح نہ جانا جنہیں خوارج نے مباح قرار دیا تھا جیسے مسلمان کو قتل کرنا اور ان کی اولادوں کو قیدی بنانا وغیرہ۔ یہی لوگ باغی ہیں۔‘‘

    چلیں سعیدی صاحب میں نے تعریف لکھ دی ہے آپ جن چاروں اقسام  میں سے چاہیں حجر بن عدی کی بغاوت لکھ دیں اور پھر اسے ثابت کریں ۔
    ------------------------

    اعتراض

    اور اگر مخالف شہادت پر نقصان پہنچنے کی بات ھے تو قاضی شریح کا کسی نے کیا بگاڑا؟  اگر قاضی کی شہادت میں اس کا اپنا مشاھدہ تھا اور دوسروں کے مشاھدہ کی نفی نہیں تھی۔
    جواب
    جناب سعیدی صاحب قاضی شریح کا کوئی کسی نے کچھ نہیں بگاڑا تھا  ۔ مگر آپ کے  زیاد نے اس  شہادت نامے میں قاضی شریح کی  اپنی طرف سے جھوٹی گواہی درج کر کے امیر معاویہ کو روانہ کر دی تھی ۔ جس کی تردید خود قاضی شریح نے کی جو غیر جانب دار بندہ تھا ۔ اور پھر اس کے علم میں تھا کہ زیاد یہ ظلم عظیم کر رہا ہے اس لیے اس نے خود اپنی طرف سے لکھ کرانہیں لوگوں کو دیا  جو یہ جھوٹ کا پلندہ لے جا رہے تھے اور لکھا کہ:
    " حجر کا مال اور خون حرام ہے "
    -------------------------
    اعتراض:
    اخبارالطوال والے دینوری کو تنقیح المقال والے نے شیعہ لکھا ھے، اور جناب اس کی تردید کے گراؤنڈز پیش کریں۔

    جواب
    سعیدی صاحب حسب ضرورت میں ان کے  سنی ہونے کے ثبوت دے پیش کر دوں گا ۔
    ----------------------------
    اعتراض
    قاتلینِ عثمان پر لعنت کو حضرت علی پر لعنت و سب وشتم قرار دینے والے مہربانوں کا پتہ بھی چل گیا۔ اور حضرت علی پر معاویہ کی سب وشتم اور لعنت بھیجنے کی حقیقت بھی سامنے آ گئی

    جواب
    جناب سعیدی صاحب آپ کس نگر میں آباد ہیں جنابِ امیر معاویہ حضرت علیؓ کو   بھی قاتلین حضرت  عثمان غنیؓ میں شمار کرتے تھے ۔  ورنہ حضرت علیؓ سے قصاص کا مطالبہ ہی کیوں کرتے جو کہ سرا سر غلط تھا ۔بحثیت خلیفہِ وقت تو مطالبہ ہی نہیں کر رہے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ قاتلین عثمان ہمارے حوالے کیے جائیں یا انہیں قتل کیا جائے ۔ اصل میں یہ تو اک بہانہ تھا ۔
    پھر میں لکھ چکا ہوں کہ معاویہ کے گورنر حضرت علیؓ  کو گالیاں دیتے تھے اور لعنت کرتے تھے جس کے احتجاج میں حضرت حجر بن عدیؓ جواب دیتے تھے ۔

    مغیره بن شعبه و لعن و سب حضرت علیؓ 
    كان المغيرة بن شعبة أيام امارته على الكوفة كثيرا ما يتعرض لعلى في مجالسه وخطبه ويترحم على عثمان ويدعو له . 
    تاريخ ابن خلدون ، ج3 ص13 المؤلف: عبد الرحمن بن محمد بن محمد، ابن خلدون أبو زيد، ولي الدين الحضرمي الإشبيلي
     (المتوفى: 808هـ)، المحقق: خليل شحادة، الناشر: دار الفكر، 
    بيروت، الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م، عدد الأجزاء: ------------
    2
    لَمَّا بُويِعَ لِمُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ أَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ خُطَبَاءَ يَلْعَنُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ  
    السنة لابن أبي عاصم ج 2 ص 618 ش 1427
     المؤلف: أبو بكر بن أبي عاصم وهو أحمد بن عمرو بن الضحاك بن مخلد الشيباني
     (المتوفى: 287هـ)، المحقق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الأولى، 1400، عدد الأجزاء: 2. 
    ------------------------
    3
    ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ... 
    المعجم الكبير ج 3 ص 71 ش 2698
     المؤلف: سليمان بن أحمد بن أيوب بن مطير اللخمي الشامي، أبو القاسم الطبراني
     (المتوفى: 360هـ)، المحقق: حمدي بن عبد المجيد السلفي، دار النشر: مكتبة ابن تيمية - القاهرة، الطبعة: الثانية، عدد الأجزاء:25

    ---------------

    03.thumb.png.d78b176dc29c1ebc05d0479490e8f74f.png

     

    04.thumb.png.3f2b6689792492238aa9b7eb7a641ad8.png

     

    05.thumb.png.d9a3d87a8451e2987f605a9289c0bf6f.png

     

    2.thumb.png.d098dea9fe88d30717d8bfaeb8560f14.png

     

    06.thumb.png.a4a0567cd88f91d8a59ca26b146a6a1e.png


  8. Quote

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی صحابئ رسول صلی الله عليه وآلہ وسلم ہیں۔آپ کی ہمشیرہ حضور سید عالم صلی الله عليه وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ اور ہماری ماں ہیں۔حضور صلی الله عليه وآلہ وسلم کے کاتب ہیں

    قادری سلطانی صاحب

    کیا کتابت کرتے تھے ؟

     اور جہاں تک صحابی کی بات ہے تو جناب یہ بھی صحابی ہی تھے ۔

    71303828_2413537725535902_45362211838838


  9. قادری سلطانی صاحب آپ قلابازیوں پی قلابازیاں لگا رہے ہیں ۔

    پہلے آپ نے یہ پرزور اصرار کیا تھا پڑھیں 

     

    Quote

    حدیث کا من مانا ترجمہ پیش کرتے ہوۓ شرم کرو۔۔حدیث میں بنو امیہ کے الفاظ ہیں تو ہائی لائیٹ کرو ورنہ توبہ کرو 


    جب بنو امیہ کے الفاظ احادیث سے ثابت ہو گئے تو اب

    استثنی پر مدھانی ڈال دی اور لکھا کہ 

    Quote


    آپ میرے کئی سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہیں

    اسلیے باحوالہ جواب دیں استثناء کیسے ہے؟

     

    تو پڑھیں 

    حضرت ؑ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس لیے استثنی حاصل ہے کہ 

    وہ خلیفہِ راشد ہیں ۔

    وہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں 

     اور یہ بات احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔

     

    اسی طرح  سیدہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا   اور  حضرت  عمر بن ععبدالعیزؓ  کے بارے میں

    بے شمار احادیثِ صحیحہ  موجود ہیں ۔

    اس لیے  ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں ان کو ان جیسے باقی دیگر

    بنو امیہ کے وہ اصحاب جن کے بارے میں احادیث صحیحہ موجود ہیں ان کو ان احادیث سے

    مستثنی سمجھا جائے گا ۔

    اب ہر ایک احادیث میں پیش نہیں کر سکتا وہ آپ خود زحمت فرمائیں گے ۔

    ---------------------------------

     

     


  10. اب  آپ اتنے بھی بچے نہیں ہیں کہ آپ کو علم نہ ہوں کہ استثنیٰ کیسے حاصل ہے اگر 

    مذید تسلی کرنا ہے تو لفظ مولا کے معنیٰ آقا کے بارے 

    انبیاء کیسے مستثنیٰ ہیں وہ میں نے پوسٹ لگائی ہے وہاں سے پڑھ کر خود اخذ کر لیں 

     ابھی  اس وقت بنو امیہ کے بارے مذید پڑھیں ۔

    اگر  آپ استثنی   کا انکار کرتے ہیں تو کنزالعمال پر اور دیگر پر فتوی  لگا دیں ، میں بالکل انکار نہیں کروں گا ۔

    مگر اصل بات یہ ہے کہ اب آپ آئیں بائیں اور شائیں نہ کریں تو

    اور کیا کریں ۔

    یہ معاویہ رضا آپ سب محبان کو لے ڈوبے گا ۔

    44737939_1913344968701286_51175676805298


  11. Quote

     

    ابھی سند پر بھی بات ہو گی جناب 

    جناب سے پوچھا گیا ہے کہ کیا یہ حدیث مقید ہے باحوالہ جواب دیں

     

    قادری سلطانی صاحب ان احادیث سے  سیدنا عثمان غنیؓ ،  حضرت  سیدہ ام المؤمنین ، حضرت عمر بن عبدالعزیز کو استثنیٰ حاصل

       ہے ۔  اور  بنو امیہ کے جو باغی اور ظالم ہیں وہ سب  ان احادیث سے مراد ہیں ۔  

    قادری سلطانی صاحب اب اگر آپ اجازت دیں اور میری پوسٹیں ڈیلیٹ نی کرنے کا

    لکھیں تو میں باغیوں اور ظالموں کی نشان دہی کر دیتا ہوں ۔

    یہ آپ کی مرضی پر چھوڑا ۔

    باقی سند  درست ہے وہ کتاب سے ہی ثابت ہے ۔

    پھر کنزالعمال کی کتاب خاص کر

    بریلوی حضرات کے نزدیک با اعتماد کتاب ہے ۔

    -----------------------------------


  12.  

    Quote


    جناب سےگزارش ہے کہ اس حدیث کی پوری سند لکھ دیں

    الصواعق المحرقہ کے اگلے صفحات بھی پوسٹ کر دیں تا کہ اصلیت ظاہر ہو جاۓ کہ انہوں نے اس حدیث کا مصداق کس کو لیا ہے

     

     

     

    AlSawiquAllMuharriqa_0000.jp2&scale=2&ro

    AlSawiquAllMuharriqa_0605.jp2&scale=2&ro

     

    AlSawiquAllMuharriqa_0606.jp2&scale=2&ro

     

    قادری سلطانی صاحب  حدیث صحیح ہے ۔پڑھو لو

    اعتراض کا رد ہو گیا ہے

    جو سوئے حفظ کا اعتراض تھا اس پر بخاری اور ترمذی کی تصدیق آ چکی ہے ۔

     اور آپ کے مطالبہ پر اگلا صفحہ  لگا دیا ہے اور وہاں  یہ ثابت ہو گیا ہے کہ

    امیر معاویہ جس کو مجتہد اور ہادی مہدی تک کہا جاتا ہے انہوں نے

    اپنے بیٹے کی بیعت کفار  ہرقل اور قیصر کی سنت پر لی ہے ۔

    یہ کہ خلفائے راشدین کی سنت پر 

    --------------------------


  13. Quote

     

    جناب سےگزارش ہے کہ اس حدیث کی پوری سند لکھ دیں

    الصواعق المحرقہ کے اگلے صفحات بھی پوسٹ کر دیں تا کہ اصلیت ظاہر ہو جاۓ کہ انہوں نے اس حدیث کا مصداق کس کو لیا ہے 

     

     

    انسان کو کسی حالت میں بڑے بول نہیں بولنے چاہیے
     
    اور صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
     
    اب جو حوالہ پیش کر رہا ہوں وہ  اس حدیث کی کتاب کا ہے 
     
    جس سے فتاویٰ رضویہ  بھرا پڑا  ہے ہر دوسرا تیسرا فتوی  کنزالعمال کی احادیث سے
     
    استدلال کرتے ہوئے دیا گیا ہے ۔
     
    لہذا   اسناد پر زیادہ شور نہ کیا جائے ۔
     
     کسی بھی وقت سب کچھ ثابت ہو جائے گا ، ان شاء اللہ 
    اور پڑھیے 
     
     
    43422192_1913345115367938_48814843749245

  14.  میرا کام ہے آپ کے آپ کے خاندان کے ظالم اقو قاتل دیکھانا ، اور حدیث صحیحہ پیش کرنا

    اب قادری سلطانی صاحب اگر حق ماننا آپ کے

    مقدر میں نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔

    یہی کہ میں صحیح احادیث آپ کو پڑھاتا رہوں ۔

    کرم آقاﷺ کے فرمان مباری کی روشنی میں صاف صاف بنو امیہ کے بغض اورقاتل ہونے

    کی نشان دہی ہے ۔

    ---------------------------------------

    44790465_1913345285367921_22377628254748


  15.  

    Quote

    پہلے جو حدیث دی ہے اسکا جواب دے لو باقی باتیں ان شاء اللہ عزوجل بعد میں

    قادری سلطانی صاحب آپ دوھد پیتے معصوم سے بچے ہیں کہ

    پیر نصیر الدین نصیر صاحب کی کتاب کی حدیث میں

    کیا لکھا ہے  چلیں بچہ صاحب مین پڑھ

    کر آپ کو سمجھتا ہوں ۔

    کریم آقاﷺ  نے فرمایا کہ میرے بعد میرے

    اہل بیت کو قتل کیا جائے گا 

    اور سخت تشدد کا سامنا ہو گا ۔

    اور بے شک ہماری قوم سے بنو امیہ اور بنو مخزوم 

    ہمارے ساتھ بغض میں سخت ہیں ۔

     

    قادری سلطانی اس حدیث میں تو 

    کریم آقاﷺ نے صرف بنو امیہ کو

    ہلاک کرنے والا  کہا

    مگر اس حدیث

    میں دوٹوک واضح فرمایا

    کہ میرے بعد میرے اہل بیت کو قتل کیا

    جائے گا ۔ اور ہم سے بغض رکھنے میں 

    بنو امیہ 

    اور بنو مخزوم

     بہت سخت ہیں 

    یعنی کہ یہی میرے بعد میرے

    اہل بیت کو قتل کرے گا اور تشدد کرے گا ۔

     اب تو بنو امیہ پر مہر لگ گئی ہے 

    ڈئیر قادری سلطانی جی 

    --------------------------------


  16.  

    Quote

    قاسم میاں کیا اب آپ کو ہر چیز ہم ~شٹام پیپر~ پر لکھ کر دیں جو کہ ایک بار آپ کو بات سمجھ نہیں آتی؟؟سیدھی سی بات کا سیدھا سا ہم باربار جواب دے رہے ہیں لیکن آپ ہیں کہ ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں

    جناب سعیدی صاحب کا اعتراض
    اعتراض یہ ہے کہ یہ قول
    " ابن حجر عسقلانی نے راوی مذکور کا ثقہ ہونا ذکر کرنے کے باوجود ساتھ ساتھ

     تقریب میں (رمی بالتشیع) اور تہذیب میں(کان شدید التشیع)

    کے الفاظ بھی اس کے متعلق لکھے ہیں "

    جناب محترم سعیدی صاحب
    اب جواب پڑھیں
    اور (کان شدید التشیع)
    کو حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول
    ثابت کریں ۔
    -----------------

     

    705- "د ت ص - أبو عبد الله" الجدلي1 الكوفي

    اسمه عبد بن عبد وقيل عبد الرحمن بن عبد روى عن خزيمة بن ثابت

    وسلمان الفارسي ومعاوية وأبي مسعود الأنصاري وسليمان بن صرد

    وعائشة وأم سلمة وعنه أبو إسحاق السبيعي وإبراهيم النخعي قال أبو داود

    لم يسمع منه وعامر الشعبي ومعبد بن خالد الجدلي وسمرة بن عطية

    وعطاء بن السائب وعمرو بن ميمون الودي على خلاف فيه قال حرب بن إسماعيل
     قيل لأحمد بن حنبل أبو عبد الله الجدلي


     معروف قال نعم ووثقه


     وقال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ثقة


     قلت وذكره ابن حبان في الثقات


     وقال روى عنه الحكم بن عتيبة وقال العجلي بصري تابعي ثقة 
    وقال ابن سعد
     في الطبقة الأولى من أهل الكوفة اسمه عبد بن عبد بن عبد الله بن أبي العمر بن حبيب بن عائذ بن مالك بن واثلة بن عمرو بن رماح بن يشكر بن عدوان بن عمرو بن قيس عيلان بن مضر يستضعف في حديثه وكان شديد التشيع
     ويزعمون أنه على شرطة المختار فوجهه إلى بن الزبير في ثمان مائة من أهل الكوفة يمنعوا محمد بن الحنفية مما أراد به
    -------------------
    كتاب تهذيب التهذيب


    [ابن حجر العسقلاني]


    کتاب لنک


    https://al-maktaba.org/book/3310/5869
    ---------------------------
    جناب سعیدی صاحب میں نے بار بار عرض
    کیا کہ یہ الفاظ
    " (کان شدید التشیع) "
    حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے نہیں ہیں ، نہیں ہیں نہیں ہیں ۔

     حافظ ابن حجر عسقلانی جو بات
    " تقریب میں (رمی بالتشیع) "
     یعنی  الزام ہے درست اور سچی بات ہے 
    کہ یہ واقعی ہی الزام ہے ۔
    مگر آپ لوک کسی طور بھی ماننے کو تیار نہیں تھے ۔
    اگر یہ الزامات درست ہوتے تو البانی جیسا بندہ
    اس حدیث کو کبھی 
    حدیثِ صحیحہ نہ لکھتا ۔
    اللہ کا شکر ہے کہ میں نے آپ کے غلط اعتراض
    کا رد کر دیا ہے ۔ اب میری پیش کردہ حدیث
    کو حدیث صحیح مانیں 


    امید ہے آپ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی بھی نئی غلطی نہیں کریں گے ۔
    ----------------------------
     

    Picture2asd.thumb.png.b3dae2be23b6a81d7cd0b5714022c57e.png

    ------------------------------

     


  17. Quote

     

    منہاجی میاں یہاں تمہاری من مانی نہیں چلے گی ۔۔تم پھنس چکے ہو ہر بات میں خود ہی پھنس جاتے ہو۔۔چلو کوئی شارح ہی بتا دو جسنے شرح میں یہ لکھا ہو مترجمین کو چھوڑ دو۔۔ذرا ہمت کرو

    سیدہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟؟

    اس سوال کا جواب بعد میں دینا پہلے حدیث کے معنی میں جو تحریف کی ہے اسکا جواب دو

     

    44719480_1913345102034606_82793299359070

     

    قادری سلطانی غور کرو


  18. اس لیے کہ اہل حدیث وہی ترجمہ کر رہے ہیں جو آج کا کوئی بھی ناصبی پسند نہیں کرتا 

    میں نے مختلف تراجم پڑھے سب سے زیادہ ڈنڈی بریلوی مترجمین نے ماری ہے ۔

    میں نے کچھ دن پہلے لفظ مولی کا ترجم دیکھا جو اھل حدیث نے

    کمال کا انصاف کیا ، حدیث کے مطابق جو اس کا معنی بنتا تھا وہی اردو ترجمہ کیا

    پھر میں نے بریلوی ترجمہ پڑھا

    ظالم بہت بڑی ڈنڈی مار گیا اور

    جہاں اردو ترجمہ لکھنا تھا وہاں وہی عربی لفظ لکھ گیا ۔

     اگر قادری سلطانی صاحب آپ  اس ترجمہ کو صحیح نہیں مانتے تو

    وہ خاندان قریش بتا دو جس نے اہل بیت اور محبان اہل بیت کا قتل عام کیا ؟

    اخر وہ کونسا خاندان ہے؟ کوئی تو ہے نا؟ یا کوئی بھی نہیں ،

    امید ہے آپ جواب لکھ دیں گے َ

    اور پلیز غصے میں کچھ غلط نہ لکھا کریں ۔ صبر اور تحمل سے کام لیں ۔

    ------------------------------

    ------------------------


  19. Quote

     

    وحیدالزمان وہابی کا ترجمہ پیش کر کے خود ہی اپنی طرف سے اس حدیث کا مصداق بنو امیہ کو بنانا ایک ظلم عظیم ہے قاسم میاں 

    ذرا اس حدیث کی مستند شرح بھی پیش کرو ورنہ اپنے من مانے معنی کرنے پر لعنت کے حقدار بنو

     

    Picture3.thumb.png.180bc2123804b5c527b15b0c65c79ae0.png

     

     

     

    قادر ی سلطانی صاحب

    اتنا بھی محب بنو امیہ نہ بنو ۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں

    ہے بنو امیہ سے جو مجھے ورثہ میں ملی ہو ۔

    یہ کریم آقاﷺ کا فرمان مبارک ہے اور اس سے

    مراد بنو امیہ نہیں تو دوسرا قریش کا کونسا خاندان ہے

    جس نے اہل بیت اور ؐجبان اہل بیت کا قتل عام کیا ؟

     اسی پر باز آجاو ، آپ لوگ اپنی جانوں پر کیوں ظلم عظیم کر ہے ہو ۔

    احادیث صحیحہ کا انکار صرف صرف آج کا بریلوی

    ہی کیوں کر رہا ۔

    اسی کو ہضم کرو ، ورنہ مجھے بنو امیہ کا مکمل شجرہ قرآن و تفاسیر سے 

    پیش کرنا پڑے گا ۔

    ----------------------


  20.  

     

     

    قاتل خاندان سے الگ رہنے کا حکم
    لمحہِ فکریہ !
    فرمانِ رسولﷺ
    کریم آقاﷺ
    نے صحابہ سے فرمایا کہ قریش کا یہ خاندان یعنی بنو امیہ
      لوگوں کو ہلاک کرے گا تمہارے لیے بہتر
    ہے ان سے
    الگ رہنا۔

    58968126_2181508088551638_87806869057977

     

    تم 7 محرم الحرام کو شہادت امام حسین علیہ السلام

    کے مہینے  اپنے بیٹوں  کا  نام   نبی کریمﷺ کے  بیٹے 

    کے قاتل یزید پلید کے باپ  کے نام

    پر " معاویہ رضا " رکھو ۔

    یہ اُمت خوب صلہ دے رہی ہے اپنے نبیﷺ

    کو اور ان کی آل کو ۔۔۔ 

    یوں ہی جاری رکھو قادر سلطانی صاحب

    -----------------------------------


  21. Quote

    جناب یہ قاسم منہاجی رافضی کی کسی بات پر اعتماد نہ کیجیے گا

     

     رافضی کی تعریف کر

     

    مفتی امجد علی اعظمی نے فقط لکھا کہ 

    انبیاء و ملائکہ کے علاوہ کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام

    لکھنا کہنا نہیں چاہئے“۔
     

    اور تیرے پیرو مرشد الیاس عطار نے اس کلمہ " علیہ السلام " کو

     ”کفریہ کلمات“ کتاب  میں لکھ مارا ۔

    اور ان محرم الحرام کی 7 کو پوتے کو معاویہ رضا   نام رکھ دیا ۔

     اب بتا میں رافضی ہو یا تم ناصبی ہو

     بننا پہلے کی طرح  ۔۔ نہ بننا اور جواب لکھنا کہ کیا

    سیدہ فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا

    امام حس علیہ السلام

    امام حسین علیہ السلام

    اور امت مسلمہ کے پیرو مرشد

    سیدنا امام علی علیہ السلام لکھنا کفریہ کلمات ہیں کیا ؟

    اس کا جواب تم جاہل پر ادھار رہے گا ۔

    ---------------------------