Jump to content
IslamiMehfil

Iqbalwarsipk

Members
  • Content Count

    12
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Iqbalwarsipk

  1. ان کی کہاوت جو اپنے مال اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللّٰہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللّٰہ وسعت والا علم والا ہے سورہ البقرہ آیت 261 ترجمہ کنزالایمان تفسیر خَزائنُ العرفان خواہ خرچ کرنا واجب ہو یا نفل تمام ابواب خیر کو عام ہے خواہ کسی طالب علم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا اموات کے ایصال ثواب کے لئے تیجہ دسویں بیسویں چالیسویں کے طریقہ پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ اگانے والاحقیقت میں اللّٰہ ہی ہےدانہ کی طرف اس کی نسبت مجازی ہے مسئلہ:اس سے معلوم ہ
  2. اِسمِ احمد ﷺ کو ہُونٹوں پہ سجا کرسونا یادِ طیبہ کو نِگاہوں میں بَسا کرسونا کیا خَبر خَاب میں آجائیں بُجھانے کیلئے تِشنگی اور بھی تُم اپنی بَڑھا کرسونا عاصِیوں پر وہ مِہربان صدا رِہتے ہیں اپنے جُرموں پہ نِگاہُوں کو جَما کر سونا عشرتِ وارثی تُم پہ بھی کرم ہُوگا ضرور آج تُم اپنے نصِیبوں کو جَگا کر سونا
  3. کل شام گھر کی جانب جاتے ہُوئے میری نِگاہ اِک شَجر پر پڑی شجر پہ چِند چڑیوں کوچہچاتے دیکھ کر اِک خوشگوار حیرت سے میرے قدم خودبَخود وَہاں رُک گئے چِڑیوں نے جُو مُجھے اپنے قریب آتے دِیکھا تُو پرواز کیلئے پَر تُولنے لگیں میں نے پکار کر رُکنے کی التجا کی اور اُنہیں بتایا کہ میں صیاد نہیں بلکہ خُود اُنکے حُسنِ دام میں مقید ایک پنچھی ہُوں جو اُنکی دید کیلئے ایک مُدت سے تڑپ رَہا ہے۔ اُنہوں نے آپس میں کُچھ صُلح مشورہ کیا اور اُسکے بعد اُن میں سے ایک پُختہ عُمر سمجھدار چِڑیا آگے آئی اور یُوں گُویا ہُوئی اگرچہ اب ہمیں اِنسانوں کا ذرہ بھر بھی بھروسہ نہیں لیکن تُمہارے لہجے کی یاسی
  4. آج کل حال ہے یہ قوم کے جوانوں کا کُچھ کو موبائیل کُچھ کو روگ مہ جبینوں کا گھر سے لے جایئں گھر پہ چُھوڑنے بھی خود آیئں کسقدر ہے خیال اِنہیں قوم کی حَسِینُوں کا پہلے اُلفت تھی کِتابوں سے مدرسوں سے اِنہیں اب گُزارہ نیٹ بِن ہوتا نہیں شَبِینُوں کا پہلے یہ کہتا تھا اََبّا مجھکو لاکہ دو قلم اَب یہ رَسیا ہوگیا ہے مائیکل کے گانوں کا پہلے اَبّا آئیڈیل تھے بِہنوں سے بھی پیار تھا اب یہ دیوانہ ہے بِلّوُ شَنوُ شبّوُ رانوں کا پہلے امّاں کے اِشارے پہ چلے آتے تھے یہ اب تو لگتا بند ہی ہے وال اِنکے کانوں کا پہلے گھر کے سامنے سے جو گُزر سکتے نہ تھے اب
  5. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم قارئین السلامُ علیکم چند دنوں سے ایک پوسٹ بنام اللہ کو خدا کہنا کیسا ؟ایک فورم پر حیرت انگیز طور پر بار بار پوسٹ کی گئی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اِسے ایسے خوفناک انداز میں تحریر کیا گیا کہ لوگ شائد سہم سے گئے اور اُنہیں ایسا لگا ہوگا کہ بھئی اپنا ایمان تو خطرے میں تھا اللہ بھلا کرے صاحب مضمون کا جنکی بدولت آتش پرستوں کیساتھ خاتمہ ہونے سے بچ گئے میں نے جب اِس پوسٹ کو پڑھا تو مجھے تشویش لاحق ہوئی کہ اس تحریر کولکھنے کا مقصد چاہے جو بھی رہا ہو لیکن ایک بات ضرور ہے کہ اس کالم میں علامہ اقبال سے لیکر شیخ سعدی علیہ الرحمہ تک اور بر صغیر ک
  6. آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم ۔ واللیل والضُحٰی ویلکم ویلکم ہو زمیں و زماں کے مختار تُم رب کی تخلیق میں ایک شاہکار تم رب کے محبوب تم رب کے دِلدار تم ہم گنہگاروں کے اک خریدار تم عاصیوں کی صدا ویلکم ویلکم۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم کل بھی روتا تھا ابلیس اور آج بھی اُس کے یاروں کا سینے میں گُھٹتا مے دَم بارھویں کی مَحافِل سجاتے ہُوئے مرحَبا کی مَچاتے ہیں جب دُھوم ہم نعرہ َٔمرحبا ویلکم ویلکم۔ ۔ آگئے مصطفٰے ویلکم ویلکم پُہنچے بُراق پہ جب کہ شاہِ
  7. سیٹھ عبدالرزاق آج بُہت خُوش تھا اور خُوش کیوں نہ ہُوتا کہ آج اُسکی برسوں پرانی مُراد بَر آنے والی تھی ۔ وہ ایک ایسے قافلے میں شریک ہُونے جارہا تھا کہ جِس قافلے کی منزل حَرمِ پاک تھی۔ وہ کئی دِنوں سے اپنے رشتہ داروں سے مُلاقات کر رہا تھا اور ہر ایک آنے والے کو بتا رہا تھا کہ آخر اسکا بُلاوہ بھی دیارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آگیا ہے ، وہ اپنے شہر کا جانا مانا رَئیس تھا ایک مُدت سے دِیارِ حَرم کی زمین کو بوسہ دینے کی خُواہش اُسکے دِل میں مچل رہی تھی اور بِلاآخر آج وہ دِن آپُہنچا تھا کہ اُسے اِس مُبارک سفر کی سعادت حاصل ہُونے جارہی تھی۔ اور پھر وہ گھڑی بھی آپُہنچی کہ
  8. السلامُ علیکم میرے نام سے اکثر لوگ پہلی مرتبہ میں دھوکہ کھا جاتے ہیں جی ہاں سچ کہتا ہُوں عشرت چونکہ کامن نام ہے جو مرد اور خواتین دونوں ہی استعمال کرتے ہیں ابتدا میں اکثر ایسا بھی ہُوا کہ فرینڈ شپ کی درخواست آتی خُوب محبت کی پینگیں بڑھتیں لیکن جب سامنے والے کو معلوم ہوتا کہ ہم وہ نہیں جو وہ ہمیں سمجھ رہے تھے تو ایسا بھاگتے کہ پلٹ کہ ہی نہیں آتے اُس پر مستزاد یہ کہ ہم اکثر اپنی عمربھی پُوری بتادیتے تھے کہ جناب چالیس کے آس پاس ہیں سُو جنس چھپانا ہمیں پسند نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اب ہَم آپکو نہیں بتائیں گے کہ ہماری عُمر چالیس سے بھی اُوپر جانے کیلئے پر تول رہی ہے ویسے ہماری قس
  9. یہ 1984 کی بات ہے جب میں میٹرک کے ایگزام سے فارغ ہوکر اپنے مستقبل کی تیاری کر رھا تھا آنکھوں میں ہزار سپنے تھے دِل میں ترنگ تھی میں اکثر اپنے فیوچر کے بارے میں سوچا کرتا مجھے بس ایک ہی دُھن سوار تھی کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد لیکچرار بننا ہے مذہب سے قربت فقط اتنی تھی کہ پانچ وقت کی نماز پڑھ لیا کرتا تھا۔ اُنہی دِنوں ایک عجیب واقعہ پیش آیا اوربس زندگی بدل گئی میرے خاندان والوں کا عجب حال تھا بُغض اولیاءَاللہ میں حد سے بَڑھےہوئے تھے اولیاءَاللہ کو بُتوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اور اُنہیں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور فلمی گانوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تھا اور ہرہر معاملے میں مُتشدد تھے
  10. محترم قارئین السلامُ علیکم زندگی میں کُچھ واقعات ایسے پیش آتے ہیں جو تمام زندگی بُھلائے نہیں جاسکتے میری زندگی میں ایسے لاتعداد واقعات موجود ہیں جنہیں آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ آپکا اور میرا ایسا رشتہ ہے جو وقت گُزرنے کیساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جارہا ہے اور آپ کا حق ہے کہ آپ بھی اِن عجیب وغریب واقعات کو جانیں اور اُن رازوں کو سمجھیں جو قدرت ہیمں وقتاً فوقتاً سمجھانے کی کوشش کرتی ہے یہ سینکڑوں واقعات ہیں جِن میں سے چند آپ سے اپنے کالموں کے ذریعے بیان کر چُکا ہوں۔ آج بھی ایک ایسا ہی عجیب وغریب واقعہ آپکی خدمت میں پیش کر رہا ہوں جسکو پڑھ کر شائد آپ محو حیرت رہ جائیں گے۔
  11. شہلا حِیران و پریشان ایک شاہراہ پر کھڑی سوچ رہی تھی،کہ نجانے آج تمام شہر کے نوجوانوں کو کیا ہُوگیا ہے لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی شہر ہے جہاں شریر نوجوان آئے دِن کِسی دوشیزہ کی آبرو کو تار تار کر دِیا کرتے تھے جہاں تنہا عورت گھر سے نِکلتے ڈرتی تھی جہاں سَر شام خواتین اپنے گھروں میں دُبک کر بیٹھ جایا کرتی تھیں اور جہاں کِسی عورت کو ضرورت کے تِحت گھر سے نِکلنا بھی ہوتا تُو اسقدر چادروں کو خُود پر لپیٹ لیا کرتی کہ کوئی شناخت ہی نہیں کرپاتا کہ کِس عُمر کی اور کِس گھر کی خَاتون بازار سے گُزری ہے۔ مگر شہلا نے تو کوئی لِبادہ
×
×
  • Create New...