Raza11

Members
  • Content count

    417
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    8

Everything posted by Raza11

  1. مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃاللہ علیہ پرختم نبوت کے منکر ہونے کا الزام اور اس کی حقیقت .... ================================ (حافظ عبيدالله) جماعت مرزائیہ جس طرح قرآن وحدیث اور دوسرے بزرگان وصوفیاء کرام کی عبارات میں تحریف معنوی کرکے اپنی خود ساختہ نبوت ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے ، ایسے ہی حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک کتاب ’’تحذیر الناس ‘‘ کے مختلف مقامات سے ناتمام عبارات ماقبل ومابعد کے الفاظ حذف کرکے پیش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مولانا بھی اجراء نبوت کے قائل تھے حالانکہ مولانا اپنی اسی کتاب میں منکر ختم نبوت کو کافر ومرتد کہتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ مرزائیوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کا ایک گروہ بھی دانستہ یا نادانستہ اس بات پر مصر ہے کہ حضرت مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ اجراء نبوت کے قائل ہیں اور قادیانیوں نے انہی کی عبارات کو دلیل بناکر مرزا قادیانی کی نبوت کو ثابت کیا ہے، ہمارے خیال میں یہ حضرات مولانا نانوتویؒ کے ساتھ بغض کی وجہ سے ایسا کہتے ہیں کیونکہ مرزائی تو حضرت مجدد الف ثانیؒ، شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، ملا علی قاریؒ ، شیخ محی الدین ابن عربیؒ اور شیخ عبدالوہاب شعرانیؒ وغیرہم کی عبارات بھی اپنے حق میں پیش کرتے ہیں تو پھر صرف مولانا نانوتویؒ پر یہ غصہ اور ناراضگی کیوں کہ مرزائی صرف ان کی عبارات سے اپنا عقیدہ ثابت کرتے ہیں؟ اصل میں بہت سے لوگ قصور فہم کی وجہ سے مولانا کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہوئے اور کچھ لوگوں نے جان بوجھ کر مولانا کی کتاب کے مختلف مقامات سے ناتمام عبارتوں کے ٹکڑوں کو جوڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا جس سے سادہ لوح عوام تردد میں پڑگئے ، اللہ ہمیں عدل وانصاف کے ساتھ کام لینے کی توفیق دے۔ ہم سب سے پہلے مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی وہ عبارات پیش کرتے ہیں جن کے اندر صاف طور پر انہوں نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کا زمانہ آخری ہے ، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی نبی کے آنے کا احتمال نہیں ، جو اس کا قائل ہو اسے کافر سمجھتا ہوں وغیرہ، اس کے بعد ہم مولانا کی تحذیر الناس کی اس عبارت (یا عبارت کے ٹکڑوں) پر بات کریں گے جنہیں لے کر جماعت مرزائیہ اور ہمارے کچھ نا سمجھ مسلمان دوست بھی مولانا کے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہوئے ۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جواس میں تاویل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں --------------------------------------------- مولاناؒ لکھتے ہیں:۔ ’’ اپنا دین وایمان ہے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تاویل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں‘‘ ۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 144، مکتبہ قاسم العلوم ، کورنگی ، کراچی) واضح رہے کہ مولانا نانوتویؒ کی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘ کی کچھ عبارات پر ایک صاحب علم مولانا عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا کے سامنے چند اعتراضات واشکالات خطوط کی صورت میں پیش کے تھے جن کاجواب مولانا نانوتویؒ نے دیا ، مناظرہ عجیبہ اسی سلسلے کی خط وکتابت کا مجموعہ ہے ، اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’مناظرہ عجیبہ‘‘ گویا کہ ’’تحذیر الناس‘‘ کی شرح ہے جس میں حضرت نانوتوی ؒنے تحذیر الناس میں لکھی گئی عبارات کی تشریح اوروضاحت فرمادی ۔ مولانا نانوتویؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:۔ ’’حضرت خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی خاتمیت زمانی تو سب کے نزدیک مسلم ہے اور یہ بات بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ آپ اول المخلوقات ہیں…‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 9 ، مکتبہ قاسم العلوم ، کورنگی ، کراچی) لیجیے مولانا صاف لکھ رہے ہیں کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی خاتمیت زمانی یعنی آپ کا تمام انبیاء کے آخر میں مبعوث ہونا تو ایسی بات ہے جو سب کے نزدیک مسلم ہے ، اس میں تو کوئی کلام ہی نہیں ۔ خاتمیت زمانی سے انکارنہیں بلکہ منکروں کے لئے انکار کی گنجائش نہیں چھوڑی ---------------------------------------- ایک جگہ لکھتے ہیں:۔ ’’حاصل مطلب یہ ہے کہ خاتمیت زمانی سے مجھ کو انکار نہیں بلکہ یوں کہیے کہ منکروں کے لئے گنجائش انکار نہ چھوڑی ، افضلیت کا اقرار ہے بلکہ اقرار کرنے والوں کے پاؤں جما دیے ،اور نبیوں کی نبوت پر ایمان ہے ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے برابر کسی کو نہیں سمجھتا …‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 71، مکتبہ قاسم العلوم ، کورنگی ، کراچی) یہاں ایک بار پھر صاف لفظوں میں اقرار کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی خاتمیت زمانی سے مولانا کو انکار نہیں ، اسی طرح آپ آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو افضل الرسل سمجھتے ہیں اور آپ کے ہم مرتبہ کسی کو نہیں سمجھتے ۔ پھر مولانا عبدالعزیز صاحب کو جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ ’’آپ ہی فرمائیں تأخر زمانی اور خاتمیت عصر نبوت کو میں نے کب باطل کیا اور کہاں باطل کیا؟ مولانا میں نے خاتم کے وہی معنی رکھے جو اہل لغت سے منقول ہیں ، اہل زبان میں مشہور ہیں ‘‘ ۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 52) آگے چلنے سے پہلے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ’’تحذیر الناس‘‘ در اصل ایک سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا جس میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک اثر جس میں سات زمینوں اور ان کے انبیاء کا ذکر ہے اور جسے امام بیہقی وغیرہ نے صحیح کہا ہے (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی جلد 2 صفحہ 268 ، باب بدء الخلق، روایت نمبر 832 ،طبع مکتبۃ السوادی) کو درج کرکے اس کی آیت خاتم النبیین کے ساتھ تطبیق دریافت کی گئی تھی کہ آیا بیک وقت آیت اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس اثر پر عقیدہ رکھنا ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب تین طرح سے ممکن تھا : نمبر 1: آیت اور اس اثر میں تعارض ہے لہذا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس اثر کو غلط سمجھا جائے ۔ نمبر 2 : یہ اثر صحیح ہے ، پھر آیت کے ساتھ اس کی تطبیق یوں ہے کہ آیت میں آپe کی خاتمیت صرف ہماری اس زمین کے اعتبار سے بیان کی گئی ہے اور آپ صرف اس زمین کے خاتم النبیین ہیں ۔ نمبر 3 : آیت اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر دونوں کو تسلیم کرکے ایسی تطبیق دی جائے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی خاتمیت صرف اس زمین تک محدود نہ رہے بلکہ باقی زمینوں بلکہ ساری کائنات پر محیط ہو۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے پہلی یا دوسری صورت اختیار کی ، لیکن مولانا نانوتویؒ نے آیت اور اثر ابن عباسؓ دونوں کو صحیح قرار دے کر تیسرا جواب اختیار کیا ، مولانا کی ساری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم ہماری زمین کے اعتبار سے تو خاتم النبیین ہیں باعتبار خاتمیت مرتبی کے بھی اور باعتبار خاتمیت زمانی کے بھی ، لیکن آپ صلى الله عليه وسلم کی خاتمیت صرف اسی زمین تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کے بھی خاتم النبیین ہیں ، اور چونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں مزید چھ زمینوں اور ان میں ہونے والے نبیوں کا بھی ذکر ہے تو اگر بالفرض ہزار زمینیں بھی اور ہوتیں اور ان میں سلسلہ نبوت جاری ہوتا اور چونکہ ان کے انبیاء کے بارے میں یہ تصریح نہیں آئی کہ وہ آپ صلى الله عليه وسلم سے پہلے ہوئے یا بعد میں تو دونوں احتمال موجود ہیں پس اگر وہ انبیاء بھی آپ صلى الله عليه وسلم سے پہلے آئے تو ان کے لئے بھی آپ خاتم النبیین ہیں زمانے کے لحاظ سے بھی اور مرتبے کے لحاظ سے بھی اور اگر بالفرض (جی ہاں اگر فرض کیا جائے کہ) دوسری زمینوں کے انبیاء آپ کے ہم عصر یا بالفرض آپ کے بعد ہوں تو بھی آپ ان تمام نبیوں کے بھی خاتم ہوتے لیکن صرف ختم نبوت مرتبی اور ذاتی کے لحاظ سے۔ مرزائی مربیوں نے مولانا کی اس بات کو جو ختم نبوت مرتبی سے متعلق ہے سیاق وسباق سے کاٹ کر اس طرح پیش کیا کہ گویا یہ ختم نبوت زمانی سے متعلق ہے اور محض اتنے ہی حصے کو مولانا کا عقیدہ بتا کر دھوکہ دیا اور مولانا نے خاتمیت زمانی کے بارے میں جولکھا اسے یک سر ذکر نہ کیا گیا ۔ فائدہ: ختم نبوت زمانی کا مطلب ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم زمانہ کے لحاظ سے اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملنی اور نہ کسی نبی کا پیدا ہونا ممکن ہے ، یہ شان آپ صلى الله عليه وسلم کو اس وقت حاصل ہوئی جب تمام انبیاء یکے بعد دیگرے دنیا میں تشریف لاچکے اور سب سے آخرمیں آنحضرت صلى الله عليه وسلم کو مبعوث فرمایا گیا ، جبکہ ختم نبوت مرتبی کا یہ مطلب ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے نبوت کے تمام مراتب ختم ہیں اور آپ مرتبے کی لحاظ سے بھی تمام انبیاء سے آخر ہیں اور شان کے لحاظ سے اللہ کے آخری نبی ہیں ، ختم نبوت مرتبی تو آپ صلى الله عليه وسلم کو اس وقت بھی حاصل تھی جب ابھی حضرت آدم علیہ السلام خلعت نبوت سے سرفراز نہ ہوئے تھے، اس ختم نبوت مرتبی کے ہوتے ہوئے تمام انبیاء کرام یکے بعد دیگرے تشریف لاتے رہے ، معلوم ہوا کہ صرف ختم نبوت مرتبی اپنی ذات کے لحاظ سے اور نبیوں کو مانع نہیں ، لیکن عقیدے کے لئے صرف یہی ختم نبوت مرتبی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ختم نبوت زمانی کا اقرار بھی لازم ہے جیساکہ مولانا نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح کی ہے (جن میں سے کچھ حوالے پہلے بیان ہوئے اور چند آگے بیان ہوں گے) ۔ تو مولانا نانوتویؒ کے مطابق آیت خاتم النبیین سے ختم نبوت مرتبی اور ختم نبوت زمانی دونوں ثابت ہیں ، چاہے ختم نبوت مرتبی کو آیت کا مدلول مطابقی لیا جائے اور ختم نبوت زمانی کو اس کا مدلول التزامی ، یا دوسری صورت یہ کہ ختم نبوت کو عام اور مطلق رکھا جائے اور ختم نبوت زمانی ومرتبی (بلکہ ایک تیسری قسم ختم نبوت مکانی) کو بھی آیت خاتم النبیین کا مدلول مطابقی قرار دیا جائے، اور اس دوسری صورت کو مولانا نے اپنا مختار بتلایا ہے ، بہرحال دونوں صورتوں میں سے جو بھی اختیار کی جائے ختم نبوت زمانی کا اقرار دونوں میں موجود ہے اور ختم نبوت مرتبی اس کے علاوہ ایک اور فضیلت ہے ۔ خاتمیت زمانی کا منکر کافر ہے -------------------------------- مولانا نانوتویؒ لکھتے ہیں :۔ ’’ سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے ورنہ تسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے اور تصریحات نبوی مثل [انت منی بمنزلۃ ہارون لموسیٰ الا أنہ لا نبی بعدي اوکما قال] جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اسی پر اجماع بھی منعقد ہوگیا گو الفاظ مذکور بسند تواتر منقول نہ ہوں سو یہ عدمِ تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض ووتر وغیرہ ، باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں جیسا اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہوگا اب دیکھیے کہ اس صورت میں عطف بین الجملتین اور استدراک اور استثناء مذکور بھی بغایت درجہ چسپاں نظر آتا ہے اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے اور خاتمیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی‘‘۔ (تحذیر الناس ، صفحہ 12 و 13 ، دار الاشاعت کراچی) اس عبارت میں مولانا نے ختم نبوت زمانی کو نہ صرف یہ کہ منطقی دلیل ہی سے تسلیم کیا ہے بلکہ وہ فرماتے ہیں کہ ختم نبوت زمانی لفظ خاتم النبیین سے ثابت ہے جو قرآن میں موجود ہے اور حدیث شریف اور اجماع امت سے بھی ثابت ہے اور جس طرح فرائض وغیرہ کی رکعات کی تعداد کا منکر کافر ہے اسی طرح ختم نبوت زمانی کا منکر بھی کافر ہے ۔ اور مناظرہ عجیبہ میں ہے:۔ ’’بلکہ اس سے بڑھ کر لیجیے (تحذیر الناس کے) صفحہ نہم کی سطر دہم سے لیکر صفحہ دہم کی سطر ہفتم تک وہ تقریر لکھی ہے جس سے خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی اور خاتمیت مرتبی تینوں بدلالت مطابقی ثابت ہوجائیں اور اسی تقریر کو اپنا مختار بتایا ہے‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ، صفحہ 70 ، مکتبہ قاسم العلوم کراچی ) پھر یہ بھی لکھا:۔ ’’اگر خاتم کو مطلق رکھیے تو پھر خاتمیت مرتبی اور خاتمیت زمانی اور خاتمیت مکانی تینوں اس سے اسی طرح ثابت ہو جائیں گے جس طرح آیت ’’انما الخمر والمیسر والانصاب رجس من عمل الشیطان‘‘میں لفظ رجس سے نجاست معنوی اور نجاست ظاہری دونوں ثابت ہوتی ہیںاور اس ایک مفہوم کا انواع مختلفہ پر محمول ہونا ظاہر ہوتا ہے‘‘ ۔ (مناظرہ عجیبہ، صفحہ 53) اور آگے لکھا:۔ ’’بالجملہ جیسے اخبار قیام ِ زید وعمرو مخالف ومعارض قیام زید نہیں بلکہ مع شیء زائد اس کی تصدیق ہے ، ایسے ہی اس صورت میں میری تفسیر مع شیء زائد مصدقِ تفسیر مفسران گذشتہ ہوگی نہ مخالف اورمعارض‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ، صفحہ 53) پھر لکھا :۔ ’’ اور سنیے آپ خاتمیت زمانی کو معنی مجمع علیہ فرماتے ہیں اگر یہ مطلب ہے کہ خاتمیت زمانی مجمع علیہ ہے خاتم النبیین سے ماخوذ ہو یا کہیں اور سے تو اس میں انکار ہی کسے ہے، اور اگر یہ مطلب ہے کہ لفظ خاتم النبیین سے مراد ہونا مجمع علیہ ہے تو اس میں ہمارا کیا نقصان ہے جو یہ آپ پردہ میں آوازہ خرقِ اجماع کستے ہیں ، تحذیر (یعنی تحذیر الناس ۔ ناقل) کو غور سے دیکھا ہوتا تو اس میں خود موجود ہے کہ لفظ خاتم تینوں معنوں پر (یعنی خاتمیت زمانی، مرتبی اور مکانی ۔ ناقل) بدلالت مطابقی دلالت کرتا ہے اور اسی کو اپنا مختار قرار دیا تھا…‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ، صفحہ 115) معلو م ہوا کہ مولانا تو خاتمیت زمانی ومرتبی بلکہ مکانی کو بھی آیت خاتم النبیین سے ثابت فرمارہے ہیں ۔ اور یہ بیان فرمانا چاہ رہے ہیں کہ عام طور پر آیت خاتم النبیین سے صرف آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی ختم نبوت زمانی ہی ثابت کی جاتی ہے ،جبکہ میرے نزدیک اس آیت سے ختم نبوت مرتبی اور زمانی دونوں بلکہ ایک تیسری قسم ختم نبوت مکانی بھی ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ ہے وہ فرق جس سے کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ مولانا نے گذشتہ مفسرین کی تفسیر کے خلاف تفسیر کی ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا نے مفسرین سابقین کی تفسیر کو قبول کرتے ہوئے ختم نبوت مرتبی ومکانی کا ایک اضافی نکتہ بیان فرما یا ہے ۔ قارئین محترم! ہم نے شروع میں عرض کیا تھا کہ عدل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے اس کی تمام عبارات وبیانات کو پڑھا اور سمجھا جائے ، اگر اس نے اپنی کسی بات کی تشریح وتوضیح خود کی ہے تو اسے قبول کیا جائے ، یہ ہرگز انصاف نہیں کہ کسی کی بات کو سیاق وسباق سے کاٹ کر ، یا شرط کو جزا سے ، اور جزا کو شرط سے کاٹ کر، ایک فقرہ ایک صفحے سے لے کر اور دوسرا فقرہ کسی اور صفحے سے لے کر خود ایک عبارت ترتیب دے کر اس پر فتوی لگا دیا جائے ۔ انصاف تو یہ تھا کہ جب مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے خود فرمادیا کہ: ’’اپنا دین وایمان ہے کہ بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی اورنبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اسے کافر سمجھتا ہوں‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 144، مکتبہ قاسم العلوم ، کورنگی ، کراچی) تو پھر نہ کسی الزام کی گنجائش نظر آتی ہے اور نہ کسی اعتراض کی ۔ فیصلہ کن بات ------------------- جہاں تک میرے ان کرم فرماؤں کا تعلق ہے جو اپنے آپ کو "مجاہدین ختم نبوت" بھی کہتے ہیں اور پھر آنکھ بند کرکے مکھی پر مکھی مارتے ہوے یہ نعرے لگاتے ہیں کہ مولانا محمد قاسم نانوتوى رحمه الله ختم نبوت زمانی کے منکر تھے اور وہ اجراء نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ الله سے ڈریں، صرف اپنے مسلکی تعصب کی وجہ سے انصاف کا خون نہ کریں، اور مولانا کے یہ الفاظ پڑھیں : ’’اپنا دین وایمان ہے کہ بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی اورنبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اسے کافر سمجھتا ہوں‘‘۔ (مناظرہ عجیبہ ، صفحہ 144، مکتبہ قاسم العلوم ، کورنگی ، کراچی) ... جب خود مولانا نے واضح الفاظ میں اپنا عقیدہ بیان فرما دیا تو پھر آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کفر کے فتووں کی توپیں چلاتے جائیں؟ دنیا کا وہ کونسا مفتی ہے جو ایسے آدمی پر منکر ختم نبوت ہونے کا فتویٰ صادر کرے جو صاف اور واضح الفاظ میں اقرار کرے کہ ’’اپنا دین وایمان ہے کہ بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کسی اورنبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تأمل کرے اسے کافر سمجھتا ہوں‘‘؟؟ نیز مکتب دیوبند کے ہزاروں لاکھوں علماء و مفتیان کرام ہوے ، آج بھی ان کے دار الافتاء موجود ہیں، کیا کسی ایک مفتی یا کسی ایک عالم نے یہ فتویٰ دیا کہ "انحضرت صلى الله عليه وسلم کے بعد نبوت جاری ہے؟"؟ کیا علماء دیوبند منکر ختم نبوت کو کافر نہیں کہتے؟ کیا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نامی تنظیم اسی مکتب دیوبند سے منسلک نہیں؟ کیا علماء دیوبند کا رد قادیانیت پر لٹریچر موجود نہیں؟ تو پھر کتنی نہ انصافی ہے کہ بیک جنبش قلم لکھ دیا جائے کہ "مکتب دیوبند والے تو ختم نبوت کے منکر ہیں"؟؟؟؟ اعدلوا هو اقرب للتقوى . (حافظ عبيد اللہ۔
  2. گزارش ہے کہ یہ معلوم کرنا تھا کیا مولانا فضل الحق خیر آبادی رحمہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی پر جہاد کی تنسیخ کا فتوی دیا تھا ؟
  3. السلام علیکم گزارش ہے کہ حیات مسیح پر میری ایک قادیانی شخص گفتگو whattsapp group زیرے بحث ہے اس حوالے سے قادیانی شخص چند علماء کے اقوال پیش کیے ہے جس میں اس دلیل کے مطابق عیسی ابن مریم کا وفات پاچکے ہے آپ لوگ اس دلیل کی رد میں میری مدد کریں جزاکم اللہ
  4. اسلام میں قدم بوسی کا صحیح تصور اسلام کی رو سے کیا قدم بوسی سجدہ ہے؟ کیا قدم بوسی شرک ہے؟ اِس کے بارے میں اِسلامی تعلیمات کیا ہیں؟ لہٰذا اِس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ اگر بعض حالات میں کسی نے تقبیلِ رِجلین (قدم بوسی) کر بھی لی تو اس پر کیا حکمِ شرعی لاگو ہوگا۔ ذیل میں اس سے متعلقہ چند احادیث و آثار درج کیے جاتے ہیں: ١۔ زارع بن عامر – جو وفدِ عبد القیس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے – سے مروی ہے: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اﷲِصلی الله عليه وآله وسلم وَرِجْلَهُ. ”جب ہم مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو اپنی سواریوں سے کود کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس اور پاؤں مبارک کو چومنے لگے۔” اس حدیث کو صحاح ستہ میں سے سنن ابی داود (کتاب الادب، باب قبلۃ الجسد، ٤: ٣٥٧، رقم: ٥٢٢٥) میں روایت کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اسے امام بیہقی نے السنن الکبری (7: 102) میں اور امام طبرانی نے اپنی دو کتب المعجم الکبیر (٥: ٢٧٥، رقم: ٥٣١٣) اور المعجم الاوسط (1: 133، رقم: ۴۱۸) میں روایت کیا ہے۔ ٢۔ امام بخاری نے ”الادب المفرد” میں باب تقبيل الرِّجل قائم کیا ہے یعنی ”پاؤں کو بوسہ دینے کا بیان۔” اس باب کے اندر صفحہ نمبر ۳۳۹ پر حدیث نمبر ۹۷۵ کے تحت انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کو حضرت وازع بن عامر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: قَدِمْنَا فَقِيْلَ: ذَاکَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم. فَأَخَذْنَا بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ نُقَبِّلُهَا. ”ہم مدینہ حاضر ہوئے تو (ہمیں) کہا گیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھوں اور قدموں سے لپٹ گئے اور اُنہیں بوسہ دینے لگے۔” یہ الفاظ خاص مفہوم کے حامل ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے صرف ہاتھ مبارک پکڑنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ہاتھوں کے علاوہ پاؤں مبارک کو بھی بوسہ دینے کا عمل جاری رکھا درآں حالیکہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں مبارک پکڑ رکھے تھے۔ ٣۔ امام ترمذی نے اس مضمون پر ایک حدیث حضرت صفوان بن عسّال رضی اللہ عنہ سے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قومِ یہود کے بعض افراد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کرنے کے بعد اعلانیہ گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں: فَقَبَّلُوْا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ. وَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّکَ نَبِيٌّ. ”انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں مبارک کو بوسہ دیا، اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی ہیں۔” اس حدیث مبارکہ کو امام نسائی نے السنن (کتاب تحریم الدم، ۷: ۱۱۱، رقم: ۴۰۷۸) میں اور امام ابن ماجہ نے السنن (کتاب الادب، باب الرجل یقبّل ید الرجل، ٢: ١٢٢١، رقم: ٣٧٠٥) میں روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو الجامع میں دو جگہ روایت کیا ہے: پہلی بار ابواب الاستئذان والآداب میں باب فی قبلۃ الید والرجل (٥: ٧٧، رقم: ٢٧٣٣) میں اور دوسری بار ابواب التفسیر کے باب ومن سورۃ بنی اسرائیل (۵: ۳۰۵، رقم: ۳۱۴۴) میں۔ امام احمد بن حنبل نے المسند (۴: ۲۳۹، ۲۴۰) میں، امام حاکم نے المستدرک (۱: ۵۲، رقم: ۲۰) میں، امام طیالسی نے المسند (ص: ۱۶۰، رقم: ۱۱۶۴) میں اور امام مقدسی نے الاحادیث المختارہ (٨: ٢٩، رقم: ١٨) میں روایت کیا ہے۔ اتنے اجل محدثین کے اس حدیث کو روایت کرنے اور اس سے استشہاد کرنے کے باوجود بھی کوئی متعصب کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک یہودی کا فعل تھا، ہم اسے کس طرح لازمی شہادت کا درجہ دے سکتے ہیں۔ اس سوچ پر سوائے افسوس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ معترض کو یہودی کا عمل تو نظر آگیا مگر جس کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ بابرکت ہستی نظر نہیں آئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو تقبیل سے منع نہیں فرمایا تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ تقریری ہوا۔ ٤۔ علامہ ابن تیمیہ کے جلیل القدر شاگرد حافظ ابن کثیر سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ١٠١ کی تفسیر میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک بار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی بات پر خفا ہو کر جلال میں آگئے تو: فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضي الله عنه فَقَبَّلَ رِجْلَهُ وَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، رَضِيْنَا بِاﷲِ رَبًّا وَبِکَ نَبِيًّا وَبِالإِْسْلَامِ دِيْنًا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا فَاعْفُ عَنَّا عَفَا اﷲُ عَنْکَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّی رَضِيَ. ” حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چوم کر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ہم اﷲ تعالیٰ کے رب ہونے، آپ کے نبی ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور قرآن کے امام و راہنما ہونے پر راضی ہیں، ہمیں معاف فرما دیجئے۔ اﷲ تعالیٰ آپ سے مزید راضی ہو گا۔ پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل عرض کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راضی ہو گئے۔” اس روایت کو دیگر مفسرین نے بھی متعلقہ آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے اجل صحابی کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک چومنا اور خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انہیں منع نہ فرمانا کیا (معاذ اللہ)عقیدہ توحید کی خلاف ورزی تھا۔ ۵۔ امام مقری (م ۳۸۱ھ) اپنی کتاب تقبیل الید (ص: ۶۴، رقم: ۵) میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اعرابی بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور اس نے آکر عرض کیا: میں نے اسلام قبول کر لیا ہے لیکن میں کچھ مزید چاہتا ہوں تاکہ میرے یقین میں اضافہ ہوجائے۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دی تو اعرابی کے بلاوے پر ایک درخت اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام ہو۔ اس کے بعد طویل روایت ہے اور آخر میں اعرابی نے تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد عرض کیا: يا رسول الله! أئذن لي أن أقبل رأسك ورجلك. “اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کاسر اقدس اور قدم مبارک چوم لوں۔” اس کے بعد روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اعرابی کو اجازت مرحمت فرمائی۔ اور پھر اس اعرابی نے سجدہ کرنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ امام مقری کی روایت کردہ اس حدیث کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (۱۱: ۵۷) میں نقل کیا ہے۔ نیز علامہ مبارک پوری نے بھی تحفۃ الاحوذی (۷: ۴۳۷) میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔ یہ روایت بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قدم چومنے کی اجازت تو دی لیکن سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اگر قدم چومنا اور سجدہ کرنا برابر ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی ان کے مابین فرق نہ فرماتے اور دونوں سے منع فرما دیتے۔ یہاں تک آقاے نام دار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں مبارک چومے جانے پر چند احادیث کا حوالہ دیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قدم بوسی ہرگز کوئی شرکیہ عمل نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اپنی ذات اقدس کے لیے بھی کبھی اس کی اجازت نہ دیتے۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُنہیں اِس عمل سے نہ روکنا اور سکوت فرمانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اس کی اجازت نہ تھی؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا یہ عمل سنتِ تقریری نہ قرار پایا؟ اگر پاؤں چومنا نعوذ باﷲ سجدہ ہے تو کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کر رہے تھے؟ کیا (معاذ اﷲ) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – جو توحید کا پیغام عام کرنے اور شرک کے خاتمے کے لیے مبعوث ہوئے – خود شرک کے عمل کی اجازت دے رہے تھے؟ کاش! قدم بوسی پر اعتراض کرنے والے پہلے کچھ مطالعہ ہی کر لیتے۔ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ قدم بوسی صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص ہے۔ لہٰذا ذیل میں ہم اِس اَمر کا جائزہ لیتے ہیں کہ غیر انبیاء صالحین اور مشائخ عظام اور اکابر اسلام کی دست بوسی و قدم بوسی کی کیا حقیقت ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ علماے کرام اور مشائخ عظام کی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خدمت کی نسبت سے تعظیم و احترام بجا لانا منشاء اِسلام ہے۔ اِن کی تعظیم کو شرک کہنا باطل اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ کتب سیر و احادیث کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ اکابرین کی قدم بوسی ہمیشہ اہل محبت و ادب کا معمول رہی ہے۔ اِس سلسلے میں چند نظائر پیش خدمت ہیں: ١۔ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، وہ بیان کرتے ہیں: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُقَبِّلُ يَدَ الْعَبَّاسِ وَرِجْلَيْهِ وَيَقُوْلُ: يَا عَمِّ ارْضَ عَنِّي. ”میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے دیکھا اور آپ ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے: اے چچا! مجھ سے راضی ہوجائیں۔” اسے امام بخاری نے الادب المفرد (ص: ٣٣٩، رقم: ٩٧٦) میں، امام ذہبی نے سیر أعلام النبلاء (٢: ٩٤) میں، امام مزی نے تہذیب الکمال (١٣: ٢٤٠، رقم: ٢٩٠٥) میں اور امام مقری نے تقبیل الید (ص: ٧٦، رقم: ١٥) میں روایت کیا ہے۔ 2۔ آسمان علم کے روشن ستارے اور ہر مسلک و مکتبہ فکر کے متفقہ محدث امام بخاری نے بھی اپنی کتاب الأدب المفرد میں ہاتھ چومنے پر ایک پورا باب (نمبر ٤٤٤) قائم کیا ہے۔ امام بخاری نے باب تقبيل اليد میں ”ہاتھ چومنے” کے حوالے سے تین احادیث بیان کی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہی ہے کہ صحابہ کرام، حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارکہ کو چوما کرتے تھے؛ اور جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ چومتے تو اسی طرح تابعین، صحابہ کرام کے ہاتھ چومتے۔ ان احادیث کو ذکر کر کے امام بخاری آدابِ زندگی بتارہے ہیں کہ بزرگوں کی سنت یہ تھی کہ شیوخ اور اکابر کا ہاتھ چوما کرتے تھے۔ یہاں تک کہ امام بخاری نے دین میں اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کا الگ باب قائم کیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ امام بخاری اِس باب کے فوری بعد پاؤں چومنے کا باب – بَابُ تَقْبِيْلِ الرِّجْل – لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ امام بخاری نے کتاب الادب میں ان ابواب کو ترتیب دے کر یہ واضح کیا ہے کہ ان کے نزدیک ہاتھ چومنا اور قدم چومنا آداب میں سے ہے۔ اگر وہ اس عمل کو شرک یا سجدہ سمجھتے تو کبھی بھی آداب زندگی کے بیان پر مشتمل اپنی کتاب میں یہ ابواب قائم نہ کرتے اور نہ ہی ایسی احادیث لاتے۔ ٣۔ اسی طرح امام بخاری کے بعد امت مسلمہ کے نزدیک ثقہ ترین محدث امام مسلم کے شہر نیشاپور میں جب امام بخاری تشریف لائے اور امام مسلم ان کے پاس حاضر ہوئے تو اَئمہ کے اَحوال پر مبنی تمام کتب میں درج ہے کہ امام مسلم نے امام بخاری کا ماتھا چوما اور پھر ان سے اجازت مانگی کہ: دعني حتی أقبّل رجليک، يا أستاذ الأستاذين وسيد المحدّثين وطبيب الحديث في علله. ”اے استاذوں کے استاذ، سید المحدّثین اور عللِ حدیث کے طبیب! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے پاؤں کا بوسہ لے لوں۔” اِمام بخاری اور امام مسلم کا یہ واقعہ ابن نقطہ نے ‘التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن والمسانید (١: ٣٣)’میں، امام ذہبی نے ‘سیر اعلام النبلاء (١٢: ٤٣٢، ٤٣٦)’ میں، امام نووی نے ‘تذعیب الاسماء واللغات (١: ٨٨)’ میں، حافظ ابن حجر عسقلانی نے مقدمۃ فتح الباری (ص: ٤٨٨)’ میں اور برصغیر کے نام ور غیر مقلد نواب صدیق حسن قنوجی نے ‘الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ (ص: ٣٣٩)’ میں روایت کیا ہے۔ ٤۔ علامہ شروانی شافعی ‘حواشی (٤: ٨٤)’ میں لکھتے ہیں: قد تقرّر أنه يسنّ تقبيل يد الصالح بل ورجله. ”یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ صالح شخص کے ہاتھ اور پاؤں چومنا مسنون عمل ہے۔”
  5. بسم اﷲ الرحمن الرحیم 1۔ خاتم النبین صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” بے شک نبوت اور رسالت منقطع ہو چکی پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہوگا اور نہ نبی ۔ (ترمذی) 2۔ امین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہے کہ آقائے کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میں خاتم الانبیاءہوں اور میری مسجدا نبیاءکی مساجد کی آخری ہے“۔( کنز العمال) 3۔سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ حضور اقدس صلی ا ﷲ علیہ وسلم کا فرمان عالی نقل کرتے ہیں فرمایا” میں آخر الانبیاءہوں اور میری مسجد آخر المساجد ہے“(مسلم) 4۔ نبی کریم علیہ الصلوة التسلیم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اﷲعنہ کی وفات کے موقع پر ارشاد فرمایا” اگر ابراہیم زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا لیکن میرے بعدکوئی نبی نہیں۔ (بخاری) 5۔اور فرمایا اس کے جنت میں ايک دودھ پلانے والی کا انتظام ہے۔اگر وہ زندہ رہتا تو سچا نبی ہوتا۔(ابن ماجہ) 6۔عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے فرمایا رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب (رضی اﷲ عنہ) ہوتا“(ترمذی) 7۔سیدنا ابوہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم اجمعین نے سرکار عالم صلی اﷲ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ کو نبوت کب ملی تو فرمایا” جب آدم علیہ السلام ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے “ (یعنی ان میں ابھی روح نہیں روح پھونکی گئی تھی مرتبہ کہ اعتبار سے میں ا س وقت بھی اﷲ کا نبی تھا)۔ (ترمذی) 8۔سیدنا عرباض بن سارےہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” میں اﷲ کے نزديک اس وقت خاتم النبیین مقرر ہو چکا تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی گار ہے ہی کی شکل میں تھے“۔(ترمذی) 9۔فرمایا رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں پیدائش کے اعتبار سے تمام انبیاءسے اول ہوں اور بعثت کے اعتبار سے آخری ہوں۔ (یعنی میرا آخری نبی ہونا اسو قت مقرر ہو چکا تھا) (خضائص کبری) 10۔ حدیث معراج میں سید نا ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ”معراج کے موقع پر فرشتوں نے سیدنا جبرئیل امین علیہ الصلوة التسلیم سے دریافت کیا کہ آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ تو فرمایا”محمد“ صلی اﷲ علیہ وسلم کے رسول اور خاتم النبین ہیں“۔ (ترجمان السنہ از مولانا بدر عالم) 11۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” مجھے باقی انبیا ءپر چھ باتوں کی وجہ سے فضلیت دی گئی۔ ۱۔ مجھے جامع کلمات عطا کيے گئے۔ ۲۔ دشمن پر رعب اور دبدبہ کے ذریعے میری مدد کی گئی۔ ۳۔میرے لئے مال غنیمت حلال کیا گیا۔ ۴۔ میرے ليے تمام زمین کو پاک کر کے مسجد بنا دیا گیا۔ ۵۔ مجھے ساری مخلوق کی طرف بھیجا گیا۔ ۶۔ میرے بعد سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا۔ (بخاری ومسلم) 12۔سیدنا رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فرمایا ”( شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو نلا کر فرمایا) ”میں اورقیامت اس طرح ہیں جس طرح ےہ دونوں انگلیاں ملی ہوئی ہیں“ بتلانا يہ مقصود ہے کہ میرے بعد قیامت تو آئے گی لیکن کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ( بخاری) 13۔ سیدنا نعیم بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک عنقریب میری امت میں تیں (30) جھوٹے ہونگے ان میں سے ہر ايک کہے گا وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( منصف ابن ابی شیبہ) 14۔ سیدنا ابو ہر یرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دوگروہ آپس میں نہ لڑیں، دونوں میں بڑی جنگ ہو گی اور دونوں کا دعوی ايک ہو گا اور قیامت ا سوقت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال نہ ظاہر ہو جائیں ہر ايک کہے گا” میں ا ﷲ کا رسول ہوں“ ( بخاری) 15۔سیدنا ابو امامہ الباھلی سے مروی ہے کہ رسول ا کرم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا ”میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو“۔( ابن ماجہ) 16۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرور عالم صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا” بے شک میں ا ﷲکابندہ ہوں اور انبیاءکرام کا خاتم ہوں؟ ( مستدرک حاکم ۔مسند احمد) 17۔سیدنا ابو ہریرہ رضی ا ﷲعنہ فرماتے ہیں کہ رسول ا کرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہم (امت محمديہ علیہا الصلوة والسلام) اہل دنیا میں سب سے آخر میں آئے اور روز قیامت کے وہ اولین ہیں جن کا تمام مخلوقات میںسب سے پہلے حساب ہو گا۔(مسلم) 18۔سیدنا ضحاک بن نوفل رسول کریم علیہ الصلوة السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا”میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں“ (المعجم الکبیر للطبرانی) 19۔فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میں تمام رسولوں کا قائد ہو ں لیکن فخر نہیں کرتا اور تمام انبیاءکا ختم کرنے والا ہوں (یعنی نبوت ختم کرنے والا) مگر فخر نہیں کرتا اور میں پہلا شفاعت کرنےو لا ہوں اور مقبول شفاعت ہوں اور کوئی فخر نہیں کرتا“ (مسلم) 20۔سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ راوی ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة التسلیم نے فرمایا ” میری اور مجھ سے پہلے انبیا کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اس میں ہر طرح سے زیب و زنیت کی مگر ايک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی،لوگ عظیم الشان مکان کی تعمیر ديکھ کر حیرانی کا اظہار کریں اور کہیں کہ اس جگہ بھی اینٹ رکھ دی جاتی تا کہ تعمیر مکمل ہو جاتی۔ ختم الرسل نے فرمایا ”قیامت تک آنے والے انسانو! نبوت کے گھر کی وہ آخری اینٹ میں ہوں لہذا نبوت کا مکان مکمل ہو گیا“۔ (بخاری) 21۔ سیدنا ابو ہریرة رضی ا ﷲعنہ سے روایت ہے فرمایا” ہم سب س آخر والے روز قیامت مقدم ہوں گے اور ہم سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے حالانکہ پہلے والوں کو کتاب ہم سے پہلے دی گئی او رہمیں ان سب کے بعد“ ( مسلم) 22۔سیدنا جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا“ بے شک میرے کئی نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، ماحی ہوں یعنی اﷲ میرے ذرےعے کفر کو مٹا دے گا۔ اور حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہوں اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو“(مسلم) 23۔سیدنا محمد بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم علیہ الصلوة والتسلیم نے فرمایا” میرے پانچ نام ہیں: میں محمد ہوں، احمد ہوں، ماحی ہوں اور میرے ذريعے کفر کو مٹائے گا۔ حاشر ہوں لوگوں کا حشر میرے قدموں میں ہوگا اور عاقب ہو ں (یعنی میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا) (بخاری) 24۔ فرمایا خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”میرے بعد جو شخص دعوی نبوت کرےگا وہ دجال، کذاب ہوگا۔( ترمذی، ابو داؤد، مشکوة)۔ 25۔حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال تک سیدنا ابو ہریرة رضی اﷲ عنہ کے ساتھ رہا میں نے خو سنا کہ وہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ” نبی اسرائیل کی سیاست خود ان کے انبیاءکیا کرتے تھے جب کسی نبی کی وفات ہوجاتی تو اﷲ تعالی خود کسی دوسرے نبی کو ان کا خلیفہ بنا دیتا تھا۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ چار خلفاءہوں گے اور بہت ہونگے، صحابہ نے عرض کیا ان کے متعلق آپ کی حکم ديتے ہیں فرمایا ہر ايک کے بعد دوسرے کی بیعت پوری کرو، اور ان کے حق اطاعت کوپورا کرو، اس لئے کہ اﷲ تعالی ان کی رعیت کے متعلق ان سے سوال کرےگا۔(بخاری) 26۔سیدنا ابو ہریرة نے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام نے فرمایا ” نبی اسرائیل کا نظام حکومت ان کے انبیاءچلایا کرتے تھے جب کبھی ايک نبی رخصت ہوجاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا اور بے شک میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔( مصنف ابن ابی شیبہ) 27۔سیدنا سعد بن ابی وقاص رحمتہ اﷲ سے مروی ہے کہ ”غزوہ تبوک میں حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو مدینہ میں خواتین اور بچوں کے پاس چھوڑا تو عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ دیا تو فرمایا ! اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم میرے ساتھ ایسے ہو جیسے موسی علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔(مسلم) 28۔سیدنا ابوذر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا اے ابو ذر! انبیا ءمیں سب سے پہلے آدم علیہ السلام اور سب سے آخر میں محمد صلی ا ﷲعلیہ وسلم ہوں۔(فردوس ماثور دیلمی) 29۔ام کرز رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوة السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبوت ختم ہو گئی صرف مبشرات(سچے خواب) باقی رہ گئے۔(ابن ماجہ) 30۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے فرمایا! اے لوگو علامات نبوت میں سے صرف سچے خواب مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جسم کے رنگ کے مشابہ تھا ( مسلم) 31۔سیدنا جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے کندھے کے پاس کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت ديکھی جس کا رنگ جس کے رنگ کے مشابہ تھا ۔(مسلم) 32۔سیدنا علی رضی ا ﷲ عنہ سے مروی ايک طویل روایت ہے فرمایا”حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم آخری نبی ہیں“(ترمذی) 33۔سیدنا ابو ہریرة سے روایت ہے کہ رسول کریم علیہ الصلوة السلام نے فرمایا” میں سویا ہوا تھا میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اورمیرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے جو مجھے بہت بھاری لگے اور میں ان سے متفکر ہوا پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان کو پھونک مار کر اڑادوںمیں نے پھونک ماری تو وہ اڑگئے، میں نے اس خواب کی تعبیر يہ لی کہ میں دوکذابوں کے درمیان ہوں، ايک صاحب صنعا ءاور دوسرا صاحب یمامہ۔ (مسلم) 34۔سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ اےک حدیث کے آخر میں ہے” میں نے اسی کی تعمیر يہ لی کہ میرے بعد دو جھوٹے شخص کا ظہور ہوگا ايک ان میں سے صنعاءکا رہنے والا عنسی اور دوسرا یمامہ کا رہنے والا مسلمہ ہے۔ (مسلم) 35۔ سیدنا وھب بن منبہ سیدنا ابن عباس رضی اﷲ عنہ سے ايک حدیث کے ذیل میں روایت کرتے ہیں کہ ” حضرت نوح علیہ السلام کی امت کہے گی اے احمد صلی اﷲ علیہ وسلم آپ کو ےہ کیسے معلوم ہوا حالانکہ آپ علیہ السلام (آخری نبی) اور آپ کی امت امتوں میں آخری امت ہے “ (مستدرک حاکم) 36۔فرمایا ختم الرسل صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” میرے بعد کوئی نبی نہیں اورنہ تمہارے بعدکوئی امت ہے پس اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں قائم کرو، رمضان کے رورے رکھو، اور اپنے اولوالامر (اہل الرائے علمائ) کی اطاعت کرو پس اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ “ ( کنزالعمال) 37۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا” اے لوگو‘ بےشک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں ہے ، آگاہ روہوپس اپنے رب کی عبادت کرو، اور پانچ نمازں ادا کرو، اور رمضان کے روزے رکھو، اور صلی رحمی کرو، اور خوشدلی سے زکوة اداکرو، اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جو تمہارے امور کے والی ہیں اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔(ابو اؤد، ترمذی) 38۔سیدنا ثوبان رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا خاتم النبیین علیہ الصلوة التسلیم نے ”میری امت میں تیس جھوٹ پیدا ہونگے، ہر ايک کہے کا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں“ (ابو اؤد، ترمذی) 39۔فرمایا رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ” قیامت کے دن کسی نبی کے ہزاروں امتی ہونگے کسی کے ساتھ سینکڑوں کسی ساتھ چند اور کسی نبی کے ساتھ کوئی امتی نہ ہوگا۔جبکہ میری امت کا نظارہ قابل دید ہوگا میرے چاروں طرف تاحدنگاہ میری امت کا سیلاب ہوگا“ (بخاری ، مسلم،شکواة) 40۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے راویت ہے کہ اﷲ تعالی نے فرمایا ” میں نے آپ کی امت کو سب سے آخر میں بھیجا اور يہ حساب میں سب سے پہلے ہو گی اور آپ نبیوں میں سے سب پہلے پیدا کیا اور سب سے آخر میں بھیجا اور آپ کو فاتح یعنی دورہ نبوت شروع کرنے والا بنایا اور آپ ہی کو اس کا ختم کرنے والا بنایا“۔
  6. ایک غیر مقلد کا بیس رکعات تراویح پر اعتراض پڑھنے کو ملا، آگر حضرت ان اعتراضات کا جواب دے سکتا ہے تو مہربانی کرکے دے اس میں بعض اقوال دیوبند علماء کے ہے علمی لحاظ سے معترض کو جواب دیا جائے تو بھتر ہے 8 رکعت تراویح کے سنّت ہونے پر احناف کے گھر کی 15 گواہیاں 1- علامہ ابن الھمام الحنفی لکھتے ہیں: فَتَحْصُلُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ أَنَّ قِيَامَ رَمَضَانَ سُنَّةٌ إحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ فِي جَمَاعَةٍ ان سب کا حاصل یہ کہ قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعت مع وتر جماعت کے ساتھ سنّت ہے۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ ج1ص 486،485) 2- امام الطحاوی الحنفی لکھتے ہیں: لأنّ النبي عليه الصلٰوة والسلام لم يصلها عشرين،بل ثماني کیونکہ نبی ﷺ نے بیس رکعت نہیں پڑی بلکہ آٹھ ( رکعت پڑھی ہے۔ (حاشیہ الطحاویہ علی در المختار ج1ص 295) 3- علامہ ابن نجیم المصری الحنفی نے ابن الھمام حنفی سے بطور اقرار نقل کیا: فَإِذَنْ يَكُونُ الْمَسْنُونُ عَلَى أُصُولِ مَشَايِخِنَا ثَمَانِيَةٌ مِنْهَا وَالْمُسْتَحَبُّ اثْنَا عَشَرَ کہ ہمارے مشائخ کے اصول پر اس طرح ہے کہ آٹھ ( رکعت مسنون اور بارہ (12) رکعت مستحب ہو جاتی ہیں۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ج2ص 72) 4- ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں: فتحصل من هذا كله ان قيام رمضان سنة اِحدي عشرة بالوتر في جماعة فعله عليه الصلاة والسلام کہ ان سب کا حاصل (نتیجہ) یہ ہے کہ قیام رمضان (تراویح) گیارہ (11) رکعت مع وتر جماعت کے ساتھ سنّت ہے، یہ آپﷺ کا عمل ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ج3ص 345) 5۔ محمد احسن نانوتوی حنفی لکھتے ہیں: لأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يصلها عشرين بل ثمانياً کیونکہ نبی ﷺ نے بیس (20) رکعت نہیں پڑھی بلکہ آٹھ (رکعت پڑھی ہیں۔ (حاشیہ کنز الدقائق ص 36 حاشیہ:4) 6۔ عبدالشکور لکھنوی حنفی لکھتے ہیں: اگرچہ نبی ﷺ سے 8 رکعت تراویح مسنون ہے اور ایک ضعیف روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے 20 رکعت بھی مگر۔۔ (علم الفقہ ص 195، حاشیہ) 7۔ عبدالحئی لکھنوی حنفی لکھتے ہیں: کہ نبیﷺ نے تراویح دو طرح ادا کی ہے 1) 20 رکعتیں باجماعت لیکن اس کی سند ضعیف ہے، 2) 8 رکعتیں اور 3 وتر با جماعت۔۔( (فتاویٰ عبدالحئی ج1ص 332،331) 8- خلیل احمد سہارنپوری حنفی لکھتے ہیں: البتہ بعض علماء نے جیسے ابن ہمام نے آٹھ ( کو سنّت اور زائد کو مستحب لکھا ہے سو یہ قول قابلِ طعن کے نہیں۔ ایک اور جگہ سہانپوری صاحب لکھتے ہیں: اور سنتِ مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو اباتفاق ہے اگر خلاف (اختلاف) ہے تو بارہ( 12) میں ہے۔ (البراہین القاطعہ ص9،195) 9۔ محمد یوسف بنوری حنفی لکھتے ہیں: فلا بد من تسليم أنه صلى الله عليه وسلم صلّى التراويح ايضاً ثماني ركعات اس بات کو تسلیم کیئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ نبی ﷺ نے 8 رکعت تراویح بھی پڑھی ہے۔ (معارف السنن ج5ص 543) 10۔ مولانا یوسف لدھیانوی حنفی جابر رضی اللہ عنہ کی 11 رکعت والی روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس طرح آپﷺ کی رضامندی کی بنا پر یہ (11 رکعت ) سنّت ہوئی۔ (حیاۃ الصحابہ ج2 ص 165) 11- زکریا کاندھلوی دیوبندی حنفی لکھتے ہیں: “لاشك في أنّ تحديد التراويح في عشرين ركعة لم يثبت مرفوعا عن النبيّ صلى الله عليه وسلم بطريق صحيح على أصول المحدثين وماورد فيه من رواية ابن عباس رضي الله عنهمامتكلّم فيها على أصولهم یقیناً محدثین کے اصولوں کے مطابق 20 رکعت نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً ثابت نہیں بلکہ ابن عباس والی روایت محدثین کے اصولوں کے مطابق مجروح ہے۔ (أجز المسالک الی موطا امام مالک ج2ص 534) 12- شاہ ولی محدث دہلوی حنفی لکھتے ہیں: از فعل آنحضرت صلعم یازدہ رکعت ثابت شدہ و در قیام رمضان رسول اللہ ﷺ کے عمل سے اا رکعات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ (مصفیٰ شرح مؤطا ص 175) 13- احمد علی سہارنپوری حنفی لکھتے ہیں: فتحصل من هذا كله ان قيام رمضان سنة احدي عشة ركعة بالوتر فى جماعة ان سب کا حاصل یہ ہے کہ قیام رمضان 11 رکعت سنٗت ہے وتر کے ساتھ باجماعت۔ (حاشیہ بخاری شریف ج1ص 154) 14- حسن بن عمار الشرنبلالی حنفی لکھتے ہیں: وصلاتها بالجماعة سنة كفاية” لما ثبت أنه صلى الله عليه وسلم صلى بالجماعة إحدى عشر ركعة بالوتر اور اس کی باجماعت نماز سنّت کفایہ ہے کیونکہ یہ ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے جماعت کے ساتھ 11 رکعتیں مع وتر پڑھی ہیں۔ (مراقی الفلاح شرح نور الیضاح ص 159) 15- مولانا انور شاہ کشمیری حنفی لکھتے ہیں: ولا مناص من تسليم أن تراويحه كانت ثمانية ركعات ولم يثبت في رواية من الروايات أنه صلى التراويح والتهجد على حدة في رمضان اس بات کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چھٹکارہ نہیں کہ آپ ﷺ کی تراویح 8 رکعت تھی اور روایات میں سے کسی ایک روایت سے بھی یہ ثابت نہیں آپﷺ نے رمضان میں تراویح اور تہجد علیحدہ پڑھی ہوں۔ آگے چل کر لکھتے ہیں: وأما النبي – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فصح عنه ثمان ركعات، وأما عشرون ركعة فهو عنه بسند ضعيف وعلى ضعفه اتفاق رہے نبی ﷺ تو ان سے 8 رکعت ثابت ہے اور رہی 20 رکعت تو وہ آپ ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ (العرف الشذی ج2 ص 208)
  7. السلام علیکم گزارش ہے کہ ایک گروپ میں وہابی غیر مقلد سے مالک الدار کی حدیث بحث چھڑ گی ہے اس نے تحریر طور پر یہ جرح لیکھے ہے آپ لوگ اس سلسلے میں مدد کرے تاکے انکو جواب ارسال کیا جائے [22/04, 13:42] My U Fone: *وسیلے کے بارے مالک الدار والی روایت کی حقیقت* ====※====※====※=== *علماء سوء کی سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک اور کاوش* جیسا کہ واضحہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے فوت شدگان کا وسیلہ ڈالنا شرک ہے، اگر قرآن وسنت کا جائزہ لیا جائے تو صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ نہ کسی نبی ورسول علیہ الصلاۃ والسلام نے اللہ سے دُعا مانگتے ہوئے کبھی کسی کا وسیلہ ڈالا (قرآن کریم اور صحیح احادیث مبارکہ میں موجود انبیاء کرام علیہم السلام کی تمام دعائیں اس پر شاہد ہیں) اور نہ کہ صحابہ کرام نے کبھی کسی فوت شدہ (خواہ وہ ان کے اور ہمارے محبوب ترین نبیﷺ ہی کیوں نہ ہوں) کا وسیلہ ڈالا، بلکہ وہ تو حکم الٰہی کے مطابق صرف اللہ کی صفات یا اپنے نیک اعمال کا وسیلہ ڈالتے تھے۔ ہاں البتہ ان سے یہ ضرور ثابت ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ضرورت کے وقت آکر ان سے دُعا کراتے اور خود بھی دُعا کرتے تو اللہ تعالیٰ یہ دُعا فوری قبول فرما لیا کرتے تھے، (جیسے ایک بدوی صحابی کا معروف واقعہ ہے کہ انہوں نے جمعہ کے وقت آکر نبی کریمﷺ سے بارش کی دُعا کی درخواست کی تھی اور نبی کریمﷺ نے دُعا فرمائی تھی اور فوری بارش ہوگئی تھی، اور مکمل ہفتہ ہوتی رہی تھی اور پھر اگلے ہفتے اسی صحابی نے بارش رُکنے کی دُعا کی درخواست کی تھی ... *صحیح البخاری 933)* اور اس کا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم بھی دیا ہے۔ فرمان باری ہے: ﴿ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ﴾ ... سورة النساء: 64 *کہ ’’اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آ جاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔‘‘* صحیحین میں ہی سیدنا انس سے مروی ہے کہ سیدنا عمر کے دورِ خلافت میں جب قحط پڑ جاتا اور بارش نہ ہوتی تو عمر بن خطاب بجائے نبی کریمﷺ کی قبر مبارک پر جاکر یا دور ہی سے ان کا وسیلہ ڈالنے کے عمِ رسول سیدنا عباس بن عبد المطلب کو بلا کر ان سے بارش کی دُعا کی درخواست کرتے اور خود بھی دُعا کرتے «اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا » قال: فيسقون ... *صحيح البخاري: 1010* کہ ’’اے اللہ! ہم آپ سے (نبی کریمﷺ کی زندگی میں) ان کے وسیلے سے بارش کی دُعا مانگا کرتے تو آپ بارش برسا دیا کرتے تھے، تو اب ہم آپ سے آپ کے نبی کے چچا کے وسیلے سے دُعا کرتے ہیں کہ آپ ہم پر بارش برسا دیں، سیدنا انس فرماتے ہیں کہ پھر بارش ہو جایا کرتی تھی۔‘‘ اور یہ تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوتا، جو گویا تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے۔ لیکن افسوس در افسوس! حبِ رسول کے بلند بانگ دعوے کرنے والے کچھ حضرات قرآن کریم اور نبی کریمﷺ کے صریح احکامات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ضعیف احادیث کو توڑ موڑ کر اپنے نام نہاد وسیلے کے جواز کیلئے پیش کرنے کی سعی نا مشکور سر انجام دیتے ہیں جو کہ ہم سمجھتے ہیں کہ فرمان الٰہی ﴿ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُم وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ ﴾ ... سورة الأنعام: 121 *کہ ’’شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔‘‘* کے عین مصداق ہے۔ ان کی یہ دلیل اور اس کا جواب آگے پوسٹ کیا جاتا ہے: *جاری ہے* [22/04, 13:42] My U Fone: *وسیلے کے بارے مالک الدار والی روایت کی حقیقت* ====※====※====※==== *حصّہ سوم* حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث ابن مصنف ابن ابی شیبہ: 31993 میں ان الفاظ کے ساتھ موجود ہے: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك الدار ... وكان خازنَ عمر على الطعام ... قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر ، فجاء رجل إلى قبر النبيﷺ، فقال: يا رسول الله استسق لأمتك ، فإنهم قد هلكوا ، فأُتي الرجل في المنام ، فقيل له: إيت عمر فأقرئه السلام ، وأخبره أنكم مسقون، وقل له: عليك الكيس ، عليك الكيس ، فأتى عمرَ فأخبره ، فبكى عمر ثم قال: يا رب لا آلوا إلا ما عجزت عنه جبکہ امام بیہقی نے دلائل النبوۃ 7؍47 میں أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن مالك الدار کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس سند میں کئی خرابیاں ہیں: *نمبر1* اعمش معروف مدلّس ہیں، اور ان کا ابو صالح سے عنعنہ ہے، اور کہیں بھی سماع کی تصریح نہیں، گویا یہ روایت منقطع ہے، جیسا کہ اصولِ حدیث میں معروف ہے۔ *نمبر 2* حافظ ابن حجر نے اس روایت کے متعلّق کہا ہے (روى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار) گویا انہوں نے اس روایت کی سند کو ابو صالح السمان تک صحیح قرار دیا ہے، کامل سند کو صحیح قرار نہیں دیا، کیونکہ انہوں نے اپنی عادت کے مطابق مطلقا یہ نہیں کہا کہ یہ روایت صحیح ہے۔ اور ایسا علماء اس وقت کرتے ہیں جب ان کے سامنے بعض راویوں کے حالات واضح نہ ہوں، خصوصاً حافظ ابن حجر جو تراجم الرواۃ کے امام ہیں (جنہوں نے تراجم الرجال پر کئی عظیم الشان کتب تحریر کی ہیں)، وہ مالک الدار سے واقف نہیں، انہوں نے مالک الدار کے حالات اپنی کسی کتاب میں بیان نہیں کیے اور اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’تاریخ‘ میں اور امام ابن ابی حاتم نے ’جرح وتعدیل‘ میں کسی امام جرح وتعدیل سے مالک الدار کی توثیق نقل نہیں کی حالانکہ یہ دونوں ائمہ کرام اکثر راویوں کے حالات سے واقف ہیں۔ حافظ منذری ... جو متاخرین میں سے ہیں ... اپنی کتاب ’ترغیب وترہیب‘ 2 ؍ 29 میں مالک الدار کے متعلق فرماتے ہیں کہ میں انہیں نہیں جانتا۔ (خلاصہ یہ ہے کہ مالک الدار مجہول راوی ہے۔) *نمبر 3* اگر بالفرض ’مالک الدار‘ کو ثقہ ثبت فرض کر لیا جائے تب بھی مالک الدار اسے ایک (مجہول) شخص سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریمﷺ کی قبر پر آیا، اور علم اصول حدیث کے مطابق اس طرح بھی یہ حدیث منقطع بنتی ہے، کیونکہ اس میں قبر پر آنے والا شخص مجہول ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلّق ہے کہ قبر پر آنے والا شخص بلال بن حارث صحابی تھے تو یہ بالکل غلط ہے کیونکہ اس کی تصریح صرف سیف بن عمر سے مروی ہے جو بذاتِ خود غیر ثقہ راوی ہے، گویا اس روایت پر موجود دیگر کئی جرحوں میں سے ایک جرح سیف بن عمر کے حوالے سے بھی ہے۔ اور اگر علمائے جرح وتعدیل کے اقوال سیف بن عمر کے متعلّق جان لیے جائیں تو یہ ایک جرح ہی اس روایت کو ردّ کرنے کیلئے کافی ہے، جو حسبِ ذیل ہیں: قال الحافظ الذهبي في ميزان الاعتدال٣؍٣٥٣ في ترجمة سيف بن عمر: إن يحيى بن معين ، قال فيه: فِلسٌ خيرٌ منه ، وقال أبو داود: ليس بشيء ، وقال أبو حاتم: متروك ، وقال ابن حبان: اتهم بالزندقة ، وقال ابن عدي: عامة حديثه منكر ، وقال مكحول البيروتي: كان سيف يضع الحديث ، وقد اتهم بالزندقة. وقال ابن الجوزي في كتابه ، الضعفاء والمتروكين ٢؍٣٥ رقم: ١٥٩٤: سيف بن عمر الضبي، قال يحيى بن معين: ضعيف الحديث ، فِلسٌ خير منه ، وقال أبو حاتم الرازي: متروك الحديث ، وقال النسائي والدارقطني: ضعيف ، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الأثبات ، وقال إنه يضع الحديث. اھ. ومن أراد مراجعة سند سيف بن عمر ، فليراجع ، تاريخ الطبري ٢؍٥٠٨ والبداية والنهاية٧ ؍ ١٠٤ امام ابن حجر کی تصحیح پر امام البانی رحمہ اللہ اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا تعاقب امام البانی رحمہ اللہ نے ’توسل‘ ص132 میں کہا ہے: لا حجة فيها ، لأن مدارها على رجل لم يسمَّ فهو مجهول أيضا ، وتسميته بلالا في رواية سيف لا يساوي شيئا ، لأن سيفا هذا هو ابن عمر التميمي ، متفق على ضعفه عند المحدثين بل قال ابن حبان فيه : يروي الموضوعات عن الأثبات وقالوا : إنه كان يضع الحديث ، فمن كان هذا شأنه لا تُقبل روايته ولا كرامة لاسيما عند المخالفة .ا.هـ. کہ ’’اس روایت سے حجت نہیں لی جا سکتی، کیونکہ اس کا دار ومدار ایک ایسے آدمی پر ہے جس کا نام نہیں لیا گیا اور وہ مجہول بھی ہے، اور ’سیف‘ کی روایت میں اس کا نام بلال ہونے کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ یہ سیف بن عمر تمیمی ہے جس کے باتفاق المحدثین ضعیف راوی ہے، بلکہ ابن حبان نے تو اس متعلّق کہا ہے کہ ’’یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا، اور محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔‘‘ ایسے شخص کی تو عام روایت ہی قبول نہیں، کجا یہ ہے کہ صحیح حدیثوں کے بالمقابل اس کی روایت قبول کی جائے۔‘‘ شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے فتح الباری پر تعلیق 2؍575 میں حافظ ابن حجر کے اس کلام پر تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: هذا الأثر على فرض صحته كما قال الشارح ليس بحجة على جواز الاستسقاء بالنبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته لأن السائل مجهول ولأن عمل الصحابة رضي الله عنهم على خلافه وهم أعلم الناس بالشرع ولم يأت أحد منهم إلى قبره يسأله السقيا ولا غيرها بل عدل عمر عنه لما وقع الجدب إلى الاستسقاء بالعباس ولم يُنكر ذلك عليه أحد من الصحابة فعُلم أن ذلك هو الحق وأن ما فعله هذا الرجل منكر ووسيلة إلى الشرك بل قد جعله بعض أهل العلم من أنواع الشرك . وأما تسمية السائل في رواية سيف المذكور بلال بن الحارث ففي صحة ذلك نظر ، ولم يذكر الشارح سند سيف ، وعلى تقدير صحته عنه لا حجة فيه ، لأن عمل كبار الصحابة يخالفه وهم أعلم بالرسول وشريعته من غيرهم والله أعلم .ا.هـ. کہ اس روایت کو ابن حجر کے کہنے کے مطابق اگر بالفرض صحیح بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس میں نبی کریمﷺ سے وفات کے بعد بارش کی دُعا کا تقاضا کرنے کے جواز کی کوئی دلیل نہیں، کیونکہ نبی کریمﷺ کی قبر پر آکر سوال کرنے والا شخص مجہول ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بھی اس کے بالکل مخالف ہے، اور وہ سب سے زیادہ شریعت کو جاننے والے تھے، اور ان میں کبھی کوئی نہ نبی کریمﷺ کی قبر مبارک پر استسقاء کیلئے آیا نہ کسی اور کی قبر پر، بلکہ قحط کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس کے اُلٹ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے دُعا کرائی تھی اور اس کی مخالفت کسی صحابی نے نہیں کی، پس ثابت ہوا کہ یہی حق ہے، اور اس مجہول شخص کا عمل منکر اور وسیلۂ شرک ہے، بلکہ بعض علماء تو اسے شرک کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔ جہاں تک سیف مذکور کی روایت اس شخص کا نام بلال بن حارث (صحابی) ذکر کیا گیا ہے تو یہ صحیح نہیں، نہ ہی ابن حجر رحمہ اللہ نے ’سیف‘ کی سند ذکر کی ہے، اور اگر بالفرض اسے بھی صحیح تسلیم کر لیا جائے تب بھی اس روایت سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی کیونکہ کبار صحابہ (سیدنا عمر، ومعاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم وغیرہما) کا عمل اس کے مخالف ہے اوروہ نبی کریمﷺ اور ان کی شریعت کو دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے تھے۔ واللہ اعلم! *جاری ہے* [22/04, 13:42] My U Fone: *وسیلے کے بارے مالک الدار والی روایت کی حقیقت* ====※====※====※==== *حصّہ دوم* مشہور صوفی عالم علی جفری یہاں امام ابن حجر رحمہ اللہ کے حوالے سے بیان کرتا ہے کہ انہوں نے فتح الباری کی جلد دوم، کتاب الاستسقاء میں ذکر کیا ہے ... اور اسی طرح اس حدیث کو ائمہ بیہقی، حاکم اور ابن خزیمۃ نے صحیح سند سے روایت کیا ہے ... کہ أن بلال بن الحارث المزني ، وهو من أصحاب المصطفى، جاء إلى قبر رسول الله ، في سنة مقحطة في عهد عمر ، ووقف على القبر الشريف ، وقال يا رسول الله! استسق لأمتك ، فإنهم قد هلكوا ، فأُتي الرجل في المنام ، فقيل له: إيت عمر فأقرئه السلام ، وأخبره أنكم مسقون، وقل له: عليك الكيس ، عليك الكيس ، فأتى عمرَ فأخبره ، فبكى عمر ثم قال: يا رب لا آلوا إلا ما عجزت عنه کہ ’’بلال بن حارث مزنی جو صحابہ کرام میں سے ہیں زمانہ خلافتِ عمر میں قحط کے موقع پر نبی کریمﷺ کی قبر مبارک پر آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! اپنی امت کیلئے بارش کی دُعا کیجئے کیونکہ لوگ تو قحط کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں، تو انہیں رات خواب میں نبی کریمﷺ آئے اور کہا کہ عمر کے پاس جاؤ، انہیں میرا سلام کہو اور انہیں خبر دو کہ عنقریب بارش ہوگی اور انہیں کہو کہ ذمہ داری کا ثبوت دو، تو انہوں نے سیدنا عمر کے پاس آکر سارا ماجرہ سنایا تو وہ رو پڑے اور کہا کہ اے اللہ! میں تو کوئی کوتاہی نہیں کرتا الا یہ کہ میں عاجز آجاؤں۔‘‘ نمبر ایک یہ روایت مستدرک حاکم اور صحیح ابن خزیمہ بلکہ امام حاکم اور ابن خزیمہ کی کسی کتاب میں موجود نہیں، اور نہ ہی کسی نے ان دونوں میں سے کسی ایک سے اسے نقل کیا ہے۔ نمبر دو فتح الباری میں یہ الفاظ نہیں جو اس صوفی علی جفری نے نقل کیے ہیں، بلکہ وہاں موجود اصل الفاظ یہ ہیں: قال الحافظ ابن حجر رحمه الله: وروى ابن أبي شيبة بإسناد صحيح من رواية أبي صالح السمان عن مالك الدار ، وكان خازنَ عمر ، قال: أصاب الناسَ قحط في زمن عمر ، فجاء رجل إلى قبر النبيﷺ، فقال: يا رسول الله استسق لامتك فإنهم قد هلكوا ، فأُتي الرجل في المنام ، فقيل له: ائت عمر .. الحديث ، وقد روى سيف ، في الفتوح ، أن الذي رأى المنام المذكور ، هو بلال بن الحارث المزني ، أحد الصحابة. کہ ’’امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے ابو صالح السمان کی صحیح روایت سے مالک الدار سے روایت کیا ہے جو (یعنی مالک الدار) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے خازن تھے، کہ انہوں نے کہا کہ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط پڑ گیا تو ایک شخص نبی کریمﷺ کی قبر پر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اپنی امت کیلئے بارش کی دُعا کیجئے کہ وہ تو ہلاک ہوگئے، تو اس آدمی سے پاس (نبی کریمﷺ) خواب میں تشریف لائے، اور کہا کہ عمر کے پاس جاؤ ... الیٰ آخر الحدیث! (ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ) سیف نے ’فتوح‘ میں روایت کیا ہے کہ جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا وہ بلال بن حارث المزنی ایک صحابی تھے۔‘‘ *جاری ہے * [22/04, 13:42] My U Fone: *وسیلے کے بارے مالک الدار والی روایت کی حقیقت* ====※====※====※==== *چوتھا اور آخری حصّہ* *نمبر 4* اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابن حجر نے مالک الدار کے متعلّق کہا ہے کہ (له إدراك) کہ ’’انہوں نے نبی کریمﷺ کا زمانہ پایا ہے۔‘‘ تو واضح رہے کہ ابن حجر نے الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں مالک الدار کو تیسری قسم میں شمار کیا ہے، اور یہ قسم مخضرمین (جنہوں نے جاہلیت اور اسلام دونوں کا زمانہ پایا، لیکن انہوں نے نبی کریمﷺ کو نہیں دیکھا، خواہ وہ آپ کے زمانے میں مسلمان ہوگئے ہوں یا بعد میں مسلمان ہوئے ہوں) کے ساتھ خاص ہے۔ اور مخضرم حضرات اصول حدیث کے مطابق بالاتفاق صحابہ میں شمار نہیں کیے جاتے۔ *نمبر 5* اس روایت کے متن میں نکارت ہے۔ *نمبر 6* اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک بڑی علت یہ بھی ہے کہ نبی کریمﷺ کی قبر مبارک خلافتِ عمر میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں تھی، حتیٰ کہ بعد میں یزید بن الولید نے اسے مسجد نبوی میں شامل کر دیا تھا، تو خلافتِ عمر میں ایک غیر محرم شخص سیدۃ عائشہ کے حجرہ میں کیسے داخل ہو سکتا تھا؟؟؟ حافظ ابن کثیر کا اس حدیث کو بیان کرنا اور صحیح کہنا واضح رہے کہ امام ابن کثیر نے بھی اس حدیث کو امام بیہقی سے دلائل النبوۃ سے ذکر کیا ہے، لیکن اس روایت میں درج ذیل علل ہیں: 1. اعمش کا عنعنہ، اور اعمش مدلس ہیں، اور ابن کثیر کے نزدیک اعمش مدلسین کے دوسرے طبقہ میں شامل ہیں۔ در اصل امام ابن کثیر کے اس حدیث کو صحیح کہنے کی بنیادی وجہ ان کا طرزِ عمل: ’کبار مجہول تابعین کو ثقہ قرار دینا‘ ہے، جیسا کہ ان کا یہ طریقہ کار ان کی تفسیر میں معروف ہے۔ چونکہ مالک الدار مجہول ہیں، لہٰذا ان کا تاریخ وفات بھی معلوم نہیں۔ 2. ابو صالح السمان ... جن کا اصل نام ذکوان ہے ... کا مالک الدار سے سماع اور ادراک ثابت نہیں، کیونکہ مالک الدار کی تاریخ وفات کا علم نہیں، اور اس پر مستزاد کہ ابو صالح کا مالک سے عنعنہ ہے۔ سماع کی صراحت بھی نہیں۔ 3. یہ حدیث مشہور احادیث (سیدنا عمر ومعاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہم) کے خلاف ہے۔ *ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم*
  8. کوئی بھائی لینک دے بڑی مہربانی ہوں گئ یا کس نام سے موضوع بنا ہے وہ بتا دے
  9. گزارش ہے کہ وہابیوں نے اعلی حضرت کے کلام مصطفی جان رحمت پر ایک نیا اعتراض اٹھایا ہے آپ لوگوں جواب طلب ہے جزاکم اللہ
  10. الحمد للہ اویس نورانی صاحب نے آپنی بات سے رجوع کر لیا اور آپنی بات سے توبہ کرلی اب جبکہ انھوں نے آپنی بات سے رجوع کر لیا تو آیڈمن چاہے تو اس ٹوپک کو delete کردے یا پہر اس کا عنوان بدل دے جزاک اللہ 1506503534259.mp4
  11. السلام علیکم گزارش ہے گشتہ دنوں جمعیت علماء پاکستان نے ضمنی الیکشن NA 120 میں مسلم لیگ نوں کی حمایت کر کے آپنی اسلامی ساکھ کو نقصان پہنچایا کیونکہ اہل سنہ و الجماعہ مسلم لیگ نون کو غازی شھید ممتاز قادری کا قاتل سمجھتی ہے ، اسی سلسلہ میں آویس نورانی صاحب نے جو کے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی جنرل سکریٹری ہے ایک سوال و جواب کا سیشن کیا انٹر نیٹ پر جس پر ان سے براہ راست سوالات کے گئے اسی دوران حضرت نے بلاول بھٹو زرداری کا مندر جاکر پوجا پاٹ کرنا یا انکی رسومات میں شریک ہونے کو جائز قرار دیا اس ویڈیو میں انکی یہ بات شئیر کی جا رہی ہے یاد رہے ڈاکٹر طاہر القادری کو پادری کا لقب اس لئے دیا گیا کے وہ صاحب آپنے مساجد میں عیسائیوں اس بات کی اجازت دیتے ہے کے وہ آکر آپنی عبادات کر سکتے 1505802252540.mp4
  12. السلام علیکم گزارش یہ ہے کہ مجھے معلوم کرنا ہے کہ حضرت محمود آلوسی صاحب کا اصل مسلک کیا تھا اور کیا یہ حضرت اہل سنت والجماعہ کے لیے حجت ہے ؟ اور انکا اس فتوی پر اہل سنت والجماعہ کا کیا موقف ہے براہ کرم رہنمائی فرمائے جزاک اللہ
  13. 10303 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ثنا عَمْرٌو الْعَنْقَزِيُّ ثنا أَسْبَاطٌ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ أَبِي مَالِكٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَطِيبًا يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: يَا فُلانُ، اخْرُجْ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، يَا فُلانُ اخْرُجْ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ، فَأَخْرَجَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَفَضَحَهُمْ، وكان عمر ابن الْخَطَّابِ لَمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ يَوْمَئِذٍ لِحَاجَةٍ كَانَتْ، فَلَقِيَهُمْ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاخْتَبَأَ مِنْهُمُ اسْتِحْيَاءً أَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الصَّلاةَ، وَظَنَّ أَنَّ النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا، وَاخْتَبَئُوا هُمْ مِنْهُ، وَظَنُّوا أَنَّهُ عَلِمَ بِأَمْرِهِمْ، فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا النَّاسُ لَمْ يُصَلُّوا، فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: أَبْشِرْ يَا عُمَرَ، فَقَدْ فَضَحَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ فَهَذَا الْعَذَابُ الأَوَّلُ حِينَ أَخْرَجَهُمُ النَّبِيُّ- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنَ الْمَسْجِدِ، وَالْعَذَابُ الثَّانِي: عَذَابُ الْقَبْرِ. ج:6ص:1870 الكتاب: تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم المؤلف: أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس بن المنذر التميمي، الحنظلي، الرازي ابن أبي حاتم (المتوفى: 327هـ) المحقق: أسعد محمد الطيب الناشر: مكتبة نزار مصطفى الباز - المملكة العربية السعودية دیوبندیوں سوال یہ ہے کے حضور صل اللہ علیہ وسلم منافقین کا پتہ کیسے چلا نا وحی آئی نا جبریل علیہ السلام تشریف لائے لیکن پہر بھی آپ صل اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک نام لیکر انکو مسجد نبوی باہر نکال دیا
  14. https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1495390830528953&id=394065937328120 لیجئے جناب یہ پورا کلیپ ہے
  15. (إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ) [Surat Al-Ma'idah 55] اس آیت مبارکہ کو اہل تشیع فرقہ اثنا عشریہ سب سے قوی طورپر حضرت علی کرم اللہ وجھہ کہ امامت کی دلیل لیتے ہے اور انکی حجت ہے کے ولی سب آگئے ہے تصرف میں ،امام اور خلیفہ کے مترادف معنوں ، اور اس آیت کو حصر کردیا گیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت پر جیسا کے آیت میں آیا ہے "ويؤتون الزكاة وهم راكعون" اولا یہ مبارک آیت نازل ہوئی حضرت عبادة بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں جیسا کے حدیث شریف میں آیا ہے حدثنا هناد بن السري قال، حدثنا يونس بن بكير قال، حدثنا ابن إسحاق قال، حدثني والدي إسحاق بن يسار، عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت قال: لما حاربت بنو م رسولَ الله صلى الله عليه وسلم، مشى عبادة بن الصامت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم= وكان أحد بني عوف بن الخزرج= فخلعهم إلى رسول الله، (72) وتبرأ إلى الله وإلى رسوله من حِلفهم، وقال: أتولى الله ورسوله والمؤمنين، وأبرأ من حِلف الكفار ووَلايتهم! ففيه نـزلت: " إنما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا الذين يقيمون الصلاة ويؤتون الزكاة وهم راكعون "= لقول عبادةَ: " أتولى الله ورسوله والذين آمنوا "، وتبرئه من بني قينقاع ووَلايتهم= إلى قوله: فَإِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْغَالِبُونَ ترجمہ: ہمیں ھناد بن السری نے کھا ،ہمیں یونس بن بکیر نے کھا ہمیں ابن اسحاق نے کھا مجھے میرے والد اسحاق بن یسار نے عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنو قینقاع سے جنگ ہوئی عبادة بن الصامت رسول الله صل الله عليه وسلم کی طرف چل نکلے اور وہ بنی عوف بن الخزرج میں سے ایک تھے پہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ لئے انکو چھوڑ دیا اور انکے حلف سے نکل گئے اور کھا میں نے اللہ اور اس کے رسول اور مؤمنون کو ولی مقرر کرلیا ہے اور کفار کے حلف اور انکی ولایت سے خود آزاد کرتا ہوں پہر اس پر یہ آیت نازل ہوئی إنما وليكم الله و رسوله و الذين آمنوا الذين يقيون الصلاة ويؤتون الزكاة و هم راكعون ، عبادة بن الصامت کے اس قول پر کے میں اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ولی بناتا ہوں اور بنی قینقاع سے اور انکی ولایت سے آزاد ہوتا ہوں یہاں تک کے کے دوسری آیت فإن حزب الله هم الغالبون ، دوم ؛یہ دلیل کے اس آیت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان ولایت بیان کی گئی ( بصیغہ حصر میں ) خود آپنے مذہب اثناء عشریہ پر تنقاض ہے کیونکہ اس طرح سے وہ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ پر منحصر کردیتے اور باقی آئمہ کو اسے خارج کردیتے ہے اور آگر وہ یہ کھے کے یہ حصر فقط اس وقت تک تھا یعنی کے آپکی امامت کے وقت آپ کے بعد نہیں تو وہ اہل السنہ والجماعہ سے متفق ہو پائے گئے یعنی اسے پہلے امامت انکی نہیں سمجھی جائے گئی کیونکہ جب بعد میں حصر نہیں تو پہلے بھی نہیں حصر انکے آپنے زمانے میں ہے، سوم؛ اللہ تعالی کسی ایسی چیز کی تعریف بیان نہیں کرتا انسان پر ماسواء اس کے وہ اللہ کو پسند ہو اور پہر وہ واجب ہوتی یا پہر مستحب سمجھی جاتی ہے ، نماز کے دوران صدقہ کرنا مستحب نہیں پوری ملت کے علماء اس پر متفق ہے آگر یہ بات مستحب ہوتی سرکارے دو عالم صل اللہ علیہ وسلم پہل کرتے اور اس پر دوسروں کو بھی کھتے اور بار بار دہراتے اس طرح سے دوران نماز کام کرنا شروع ہو جاتا اور سائل کو دینا کہیں نہیں جاتا لیکن اس طرح سے نماز باطل ہوجاتی کیونکہ نماز کے دوران توجہ ہٹ جاتی اور سائل کی طرف چلی جاتی چھارم ؛اور انکا یہ کھنا کے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رکوع کی حالت میں آپنی انگھوٹی اتار کر دی اصل کے خلاف ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فقیر تھے جن پر زکات واجب نہیں تھی ، زکات کے لئے صاحب نصاب ہونا لازمی ہے اور اس پر پورا سال گزرے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان میں نہیں تھے ۔ پانچواں ؛انکا کھنا کے إنما وليكم الله سے مراد امارت ہے تو یہ اللہ کے شان کے مطابقت نہیں کیونکہ یہ اللہ کے قول سے متفق نہیں ہو پاتا اللہ تعالی فرماتا ہے کہ إنما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا یہاں اللہ شان کی متولی کی نہیں آپنے بندوں پر اور وہ ان پر امیر ہے یہاں ولی سے مراد محبت ہے نا کے امارت ہے کیونکہ آگر مراد امارت ہوتی پہر اس امارت دیگر مخلوق کیونکہ حصہ دیا جاتا اس طرح تلیث کا تصور قائم ہوجاتا ہے ۔
  16. جزاک اللہ شیخ رضا آپ نے مدلل جوابات ارسال کے ہے ، ایک التماس ہے کہ انکا ترجمہ بھی کردیں کیونکہ یہاں پر اکثر قاریں عربی سے نا بلد ہے
  17. -‏حدثنا ‏ ‏أبو سلمة يحيى بن خلف ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عبد الأعلى ‏ ‏عن ‏ ‏محمد بن إسحق ‏ ‏عن ‏ ‏عبد الله بن أبي بكر ‏ ‏عن ‏ ‏عمرة ‏ ‏عن ‏ ‏عائشة ‏ ‏و عن ‏ ‏عبد الرحمن بن القاسم ‏ ‏عن ‏ ‏أبيه ‏ ‏عن ‏ ‏عائشة ‏ ‏قالت ‏ ‏لقد نزلت آية الرجم ورضاعة الكبير عشرا ولقد كان في صحيفة تحت سريري فلما مات رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏وتشاغلنا بموته دخل ‏ ‏داجن ‏ ‏فأكلها. گزارش ہے کہ اس حدیث کے متعلق معلوم کرنا ہے کیا اس کی سند صحیح ہے ؟؟ اہل تشیع کھتے ہے بکری صحیفہ کھاگئی اس لئے قرآن نعوذ باللہ نا مکمل ہے
  18. انما اعمال بنيات میرا بس اتنا جواب پے آپ کے لئے
  19. اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی رحمہ اﷲ علیہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمہ اﷲ علیہ، پیر شیر محمد صاحب شرقپوری رحمہ اﷲ علیہ، خواجہ غلام فرید صاحب رحمہ اﷲ علیہ، قبلہ مولوی احمد سعید شاہصاح کاظمی رحمہ اﷲ علیہ کے فتاوی جات اکابر علماءدیوبند رحمہم اﷲ تعالی کے بارے میں بسم ﷲ الرحمن الرحیم بخدمت اقدس حضر ت الشیخ مفتی اعظم پاکستان مولانا منظور احمد صاحب فیضی مہتم ومفتی جامعہ فیضیہ رضیہ کچہری روڈ احمد پور شرقیہ ضلع بہالپور سوال: علماء دیوبند کو اہل سنت کہنا صحیح ہے یا نہیں کیا پیر مہر علی شاہ رحمہ اﷲ علیہ گولڑوی نے فتوی دیا ہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں اور پیر شیر محمد شرقپوری رحمہ اﷲ علیہ نے ان حضرات کو نوری وجود تسلیم کیا ہے خواجہ غلام فرید رحمہ اﷲعلیہ نے اکابر دیوبند کو اولیا اﷲ ہیں شمار کیا ہے اور اعلی حضرت بریلوی رحمہ اﷲ علیہ کے دوفتوی ہیں ايک کافر کہا ہے اور دوسرے میں مسلمان کہا ہے۔ فون:234353 المسفتی عبدالنبی رضوی فیضی مدینہ منورہ باب مجید سعودی عرب= ص ب9888 جواب: علما ءد یوبند کے متعلق جو فتوی سیدی مہر علی شاہ رحمہ اﷲ علیہ نے دیا ہے کہ علماء دیوبند اہل سنت کا عظیم فرقہ ہیں یا پیر شرقپوری رحمہ اﷲعلیہ نے ان حضرات کے نوری وجود ہونے کو تسلیم کیا ہے یا خواجہ غلام فرید نے اکابرین دیوبندمولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی محمد قاسم نانوتوی کے ولی کامل ہونے کا فتوی مقابیس المجالس میں دیا ہے واقعی ان بزرگان دین کی کتابوں میں يہ فتاوی جات مسطور ہیں اور صحيح ہیں باقی سیدی اعلی حضرت فاضل بریلوی کا فتوی کفر لاعلمی کی بنا پر تھا۔ جب علماء دیوبند کی کتب المہند وغیرہ جیسی کتابیں منظر عام پر آئیں تو اعلی حضرت فاضل بریلوی نے اپنے فتوی کفر سے رجوع فرما کر تمہید الایمان اور سبحان السبوح وغیرہ میں صاف الفاظ میں لکھ دیا کہ حشا ﷲ حشا ﷲ ہزار بار حشاﷲ میں ہرگز ان علما ءدیوبند کی تکفیر نہیں کرتا یعنی مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی خلیل احمد انمیٹھوی اور مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ کوتو مسلمان ہی جانتا ہوں اور مولوی اسماعیل دہلوی پر بھی کفر کا فتوی نہیں دیتا۔ يہ اعلی حضرت بریلوی کا وہ آخری فتوی ہے جس پر مہر حق ثبت کرتے ہوئے سیدی و سندی قبلہ مولوی احمد سعید صاحب کاظمی رحمہ اﷲ علیہ نے الحق المبین میں فتوی دیا ہے کہ ہمارے اکابرین علماء بریلوی نے کبھی بھی علماء دیوبند کو نہ کافر کہا اور نہ کسی کتاب میں کافر لکھا ہے بلکہ ہم ان کو سنی علماء مانتے ہیں
  20. کروں مدحتِ اھل دل رضا ،، پڑے اس بلا میں میری بلا ،،، میں گدا ھوں اپنے حیبیب کا ، میرا دین پارہ ناں

  21. کچھ عبارتیں یہاں فارسی زبان میں ہے ، باقی عربی لغت میں ہے اور آسان ہے ایک راوی کے متعلق بیان ہے جسے ثقہ میں گنا جاتا ہے اسماء رجال میں محمد بن الفضل عارم آگر آپ اس شخصیت کے متعلق ہی دریافت کرنا چاہتے تو آپ کو با آسانی جواب مل جائے گا اور آگر آپ کا مقصد عبارتوں کا ترجمہ ہے تو اس میں کچھ وقت لگئے گا
  22. گزارش ہے ایک اہل حدیث وہابی مولوی نے امیر المؤمنين حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق چند اعتراضات آٹھے ہے انکے اعتراضات کے متعلق مجھے جوابات درکار ہے آپ لوگ رہنمائی فرمائے جزاکم اللہ خلافت و ملوکیت صحیح احادیث کی روشنی میں: ١. سیاست قرآن: دین خدا کو دنیا کے عوض مت بیچو ٢.قومی خزانے میں لوٹ مار کس نے شروع کی؟ ٣. حق کا باغی کون؟ ٤. قصاص عثمان(رض) کا کیا ہوا؟ ٥. سنت رسول(ص) کس نے تبدیل کی؟ ٦.حضرت عمار یاسر(رض) کی شہادت ٧. حضرت ابو موسیٰ اشعری(رض) کے ساتھ دھوکہ و مکر کس نے کیا؟ ٨. خدا کے حلال کردہ حج تمتتع کو حرام کس نے کیا؟ ٩. نماز عید کے خطبے کا وقت کس نے تبدیل کیا؟ ١٠. کس نے اسلام کی روح حریت کو کچلا؟ ١١. شخصی حکومت بنا کر عقیدہ توحید کا انکار کس نے کیا؟ ١٢.عالم اسلام میں امیر المومنین(ع) پر لعنت کس نے کروائی؟ ١٣. کیا معاویہ کی شان میں ایک بھی صحیح حدیث ملتی ہے؟ ١٤. جھوٹی حدیثیں کیوں گھڑی گئیں؟ ١٥. ١٦. پہلی تاویل باطل کس نے کی؟ ١٧. امام حسن(ع) کو زہر کیوں دلوایا؟ ١٨. صلح حسن(ع) کی شرائط کی پاسداری کیوں نہ کی گئی؟ ١٩. یزید کی ولی عہدی کے لیے کیا ہتھکنڈے استعمال کئے گئے؟ ٢٠. حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر(رض) کی پر اسرار شہادت ٢١. شہادت حسن(ع) پر معاویہ کا اظہار مسرت ٢٢. راہب اصحاب محمّد(ص)، حضرت حجر بن عدی(رض) کی شہادت کیسے ہوئی؟ ٢٣. اوقات نماز کی حدود کس نے توڑیں؟ ٢٤. زنا پر گواہیاں قائم کر کے زیاد کو اپنا بھائی کس نے بنایا؟ ٢٥. درباری علماء کے کارنامے ٢٦. اگر دین کا مکمل بیان قرآن میں آ چکا ہے مگر احکام کی وضاحت کے لیے سنّت رسول کی طرف رہنمائ کی گئی ہے تو کن احکام دین کے لیے سیرت علی(ع) و حسین(ع) کی ضرورت ہے؟ نوٹ: وقت کی محدودیت کے باعث کچھ مزید جرائم جیسے حضرت محمّد ابن ابی بکر(رض) کی میّت کو کفن و دفن کے بجاۓ آگ لگانے اور حضرت ابن عمر(رض) اور دوسرے صحابہ(رض) کو رشوت بھجوانے کا تذکرہ اس ویڈیو میں نہیں ہو سکا_