Jump to content

کمیونٹی میں تلاش کریں

Showing results for tags 'بعطا'.

  • ٹیگ میں سرچ کریں

    ایک سے زائد ٹیگ کاما کی مدد سے علیحدہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • تحریر کرنے والا

مواد کی قسم


اسلامی محفل

  • اردو فورم
    • اردو ادب
    • فیضان اسلام
    • مناظرہ اور ردِ بدمذہب
    • سوال و درخواست
    • گفتگو فورم
    • میڈیا
    • اسلامی بہنیں
  • انگلش اور عربی فورمز
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • اسلامی محفل سے متعلق
    • معلومات اسلامی محفل
  • Arabic Forums

تتیجہ ڈھونڈیں...

وہ نتیجہ نکالیں جن میں یہ الفاظ ہوں


تاریخ اجراء

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


نمبرز کے حساب سے ترتیب دیں...

Joined

  • Start

    End


Group


AIM


MSN


Website URL


ICQ


Yahoo


Jabber


Skype


مقام


Interests


پیر

  1. ایک وہابی اہل حدیث کا اعتراض ہے کہ ’’تم لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے جھوٹے خداؤں میں اختیارات باذن اللہ کی قید سے مقید نہیں مانتے تھے‘‘۔ مگر دیکھو کہ شاہ ولی اللہ نے فوز الکبیر میں ان مشرکوں کا ایسا عقیدہ بیان کیا ہے کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین باذن اللہ (یا اللہ کی عطا) کی قید لگا کر ہی اپنے الہوں کا اختیار مانتے تھے!! (ساتھ میں عربی و اردو دونوں متن لگا دیے ہیں)۔۔،۔ سیدی سعیدی صاحب نے واضح لکھا ہے اس لنک پر اور میں دوسری کئی کتابوں میں پڑھ چکا ہوں کہ مشرکین اپنے خود ساختہ معبودوں کا اختیار باذن اللہ نہیں مانتے تھے بلکہ من دون اللہ مانتے تھے:۔،۔ http://www.islamimehfil.com/topic/22597-%D8%AC%D9%86%D8%A7%D8%A8-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%EF%B7%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D8%B9%D9%88%D8%AA-%D8%AA%D9%88%D8%AD%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D8%B1%D8%A8-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D8%A7-%D8%B4%D8%B1%DA%A9/page-4#entry97745 برائے احسان جلد از جلد جواب دیجے کہ 1 شاہ ولی اللہ نے ایسا کیوں کہا ہے اور انکی مراد و مطلب اگر یہ نہیں ہے جو وہابی نے الزام لگایا ہے تو بھی سچ بات بتائیں۔۔،۔،۔ 2 وہابی باذن اللہ کا لفظ نہیں دکھا سکا اس عبارت میں، کیا اس میں موجود اللہ کی عطا کا اور باذن اللہ کا ایک ہی معنی و مفہوم و حکم ہے۔ 3 وہابی کا کہنا ہے کہ الفوز الکبیر میں لا یثبتون لاحد قدرۃ الممانعۃ اذ ابرم اللہ تعالی امرا مشرکین مکہ کسی کیلئے بھی ایسی قدرت کو ثابت نہیں کرتے تھے کہ اگر اللہ ایک فیصلہ کر لےتو وہ اللہ سے اختلاف اور جھگڑا کر سکتا ہےیوہابی کا کہنا ہے کہ مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے فیصلے کے بعد ان کے بتوں کو کوئی اختیار نہیں تو معلوم ہوا کہ فیصلے سے پہلے بھی وہ بتوں کا اختیار اللہ کی عطا سے ہی مانتے تھے، ورنہ اگر اللہ کی عطا سے نہیں مانتے تھے تو بعد از فیصلہ بھی بتوں کا اختیار مان جاتے۔ 4 وہابی کہتا ہے کہ ’’ شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ جیسے بادشاہ اپنے نائب کو بااختیار بنا کر بھیجتا ہے‘‘ تو ثابت ہوا کہ مشرکین اپنے خداوں میں باذن اللہ اور بعطا اللہ کی قید سے ہی اختارات مانتے تھے۔ 5 وہابی کا کہنا ہے کہ ’’شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ مشرک مانتے تھے کہا اللہ اپنے بعض بندوں کو خدائی صفات اور اختیارات عطا فرمائے ہے‘‘ تو ثابت ہوا کہ مشرکین اللہ کی عطا اور اللہ کے اذن سے ہی اپنے معبودوں کے خدائی اختیارات مانتے تھے۔ 6 وہابی کا کہنا ہے کہ ’’شاہ ولی اللہ نے لکھا کہ مشرکین کا ماننا تھا کہ تاکہ بادشاہ حقیقی کے دربار میں پذیرائی ہو‘‘ تو ثابت ہوا کہ مشرکین اپنے معبودوں کو حقیقی خدا بھی نہیں مانتے تھے اور اللہ کو ہی حقیقی خدا مانتے تھے۔
×
×
  • Create New...