Jump to content

کمیونٹی میں تلاش کریں

Showing results for tags 'حرمت صحابہ'.

  • ٹیگ میں سرچ کریں

    ایک سے زائد ٹیگ کاما کی مدد سے علیحدہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • تحریر کرنے والا

مواد کی قسم


اسلامی محفل

  • اردو فورم
    • اردو ادب
    • فیضان اسلام
    • مناظرہ اور ردِ بدمذہب
    • سوال و درخواست
    • گفتگو فورم
    • میڈیا
    • اسلامی بہنیں
  • انگلش اور عربی فورمز
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • اسلامی محفل سے متعلق
    • معلومات اسلامی محفل
  • Arabic Forums

تتیجہ ڈھونڈیں...

وہ نتیجہ نکالیں جن میں یہ الفاظ ہوں


تاریخ اجراء

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


نمبرز کے حساب سے ترتیب دیں...

Joined

  • Start

    End


Group


AIM


MSN


Website URL


ICQ


Yahoo


Jabber


Skype


مقام


Interests


پیر

  1. صحابہ کرام کا ذکر ہو تو خاموش رہنا امام الائمہ حافظ عبدالرزاق بن ہمام صنعانی م211ھ رحمه الله فرماتے ہیں أخبرنا أبو علي إسماعيل، ثنا أحمد، ثنا عبد الرزاق، أنا معمر، عن ابن طاووس، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا ذكر أصحابي فأمسكوا، وإذا ذكر القدر فأمسكوا، وإذا ذكر النجوم فأمسكوا» ( كتاب الأمالي في آثار الصحابة لعبد الرزاق الصنعاني :- 51 ) ترجمہ :- طاؤوس بن کیسان ( تابعی ) رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو خاموش رہنا ، جب ستاروں کا ذکر ہو تو خاموش رہنا اور جب تقدیر کے مسئلے کا ذکر ہو تو خاموش رہنا ” میں ( راقم الحروف ) کہتا ہوں یہ سند صحیح ہے ماسوائے اس کے کہ یہ روایت مرسل ہے مگر امام طاوؤس بن کیسان رحمہ اللہ کی مراسیل عند الآئمۃ الحدیث کم از کم حسن درجہ کی ہوتی ہیں ﴿ مقدمة تحقيق المراسيل ص 7 ﴾ نیز یہ کہ اس حدیث کے کئی شواہد و متابعات بھی ہیں جو اس حدیث کو مزید تقویت دیتے ہیں درج ذیل کتب میں یہ حدیث مختلف اسانید سے مروی ہے ( كتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة 4/108 ) ( كتاب التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار 4/62 ) ( كتاب مساوئ الأخلاق للخرائطي ص350 ) ( كتاب المعجم الكبير للطبراني 2/96 ) ( كتاب شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة 1/142 ) ( كتاب المعجم الكبير للطبراني 10/198 ) ( كتاب القضاء والقدر - البيهقي ص291 ) ( كتاب الإبانة الكبرى - ابن بطة 3/239 ) ( كتاب أصول السنة لابن أبي زمنين ص266 ) ( كتاب الترغيب والترهيب لقوام السنة 1/367 ) ( كتاب مسند الحارث = بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث 2/748 ) ( ثلاثة مجالس من الأمالي 2/191 ) ( تاريخ جرجان :- 315 ) اس کے علاوہ بھی دیگر کتب احادیث میں یہ حدیث مختلف اسانید سے مذکور ہے سلفیوں کے محدث اعظم شیخ محمد ناصر الدین البانی نے بھی اس حدیث کی تحسین کی ہے ( كتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها 1/75 ) ھذا ما عندی والعلم عند الله خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
×
×
  • Create New...