Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'ذوالقرنین بریلوی'.

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Urdu Forums
    • Urdu Literature
    • Faizan-e-Islam
    • Munazra & Radd-e-Badmazhab
    • Questions & Requests
    • General Discussion
    • Media
    • Islami Sisters
  • English & Arabic Forums
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • IslamiMehfil Team & Support
    • Islami Mehfil Specials
  • Arabic Forums

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


AIM


MSN


Website URL


ICQ


Yahoo


Jabber


Skype



Interests


Found 2 results

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ اہلحق اہلسنت والجماعت پر اکثر عید میلاد النبی منانے کی وجہ سے اعتراضات کۓ جاتے ہیں کہ یہ بدعت ہے کسی صحابی سے ثابت نہیں نبی ﷺ نے بھی نہیں منایا،تو آج کی اس پوسٹ میں ہم میلاد النبی قران و حدیث و آثار کی روشنی سے ثابت کریں گے۔ لیکن سب سے پہلے ہم میلاد کا مطلب بتاتے جاٸیں کہ میلاد کا مطلب ولادت ہے جو کہ مولد سے ہے۔ قران میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ”اللہ کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو“۔(سورة الضحی آیت نمبر 11) اس آیت میں اللہ نے اپنی نعمت کا چرچا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ نے دوسری جگہ پر نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا ”(اے نبی ) ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا“۔(سورة الانبیا آیت نمبر 107) ان آیات کو جمع کیا جاۓ تو پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کی آمد پر خوشیاں منانی چاہیں اور اس نعمت کو خوب بیان کرنا چاہیے۔ جیسا کہ قران سے یہ ثابت ہو چکا کہ نبی ﷺ کی آمد کا چرچا کرنا چاہیے تو اب ہم آجاتے ہیں احادیث کی طرف کہ کیا نبی ﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا اور صحابہ نے بھی ؟ تو بلکل نبی ﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا اور صحابہ نے بھی منایا۔ ایک بار نبی ﷺ منبر پر تشریف لاۓ اور فرمایا ”اللہ نے مجھے اچھے لوگوں میں پیدا کیا اور مجھے بہتر گھر میں اور بہتر ذات میں پیدا کیا“۔ (جامع ترمذی حدیث نمبر 3608) اور امام ترمذی نے ایک حدیث پر پورا باب باندھا ”باب ماجا فی میلاد النبی“ اور پھر اس میں نبی ﷺ کی ولادت کی حدیث بیان کی۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ولادت اور اپنی صفات کو بیان کر کے خود بھی ذکر میلاد کیا۔ اب آتے ہیں صحابہ کرام کی طرف تو ایک بار کچھ صحابہ کرام ایک جگہ بیٹھے ہوۓ تھے تو نبی ﷺ تشریف لاۓ اور پوچھا تم کیا کر رہے ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کی تعریف بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور آپ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا۔ (سنن نساٸی حدیث نمبر 5428) اس حدیث سے بھی واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی آمد کہ وجہ سے اللہ تعالی کا شکر ادا کر کے میلاد منایا۔ اب ہم آتے ہیں کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات بارہ ربیع الاول ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں رجع قول دو ربیع الاول کا ہے جیسا کہ امام سہیلی فرماتے ہیں ”نبی ﷺ کا وصال ربیع الاول کی دو،تیرہ یا چودہ تاریخ کو ہوا کیونکہ اسی پر امت کا اجماع ہے“۔ (الروض الانف جلد 4 صحفہ 654) اور بھی کٸ کتب میں یہی قول نقل کیا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کی وفات 12 ربیع الاول نہیں ہے،لیکن پھر بھی اگر کوٸی کہے کہ نہیں 12 ربیع الاول ہی ہے،اور نبی ﷺ کی وفات والے دن خوشی منانا جاٸز نہیں تو فلحال ہم یہ مان لیتے ہیں کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات بھی 12 ربیع الاول ہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی میلاد کا انکار ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نبی کے مرنے پر غم نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ وہ زندہ ہوتے ہیں۔اب ہم آجاتے ہیں احادیث کی طرف ان کی روشنی میں اس مسٸلے کو دیکھتے ہیں کہ کیا انبیا کی وفات پر سوگ منانا چاہیے یا نہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے”جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے،اس کا درجہ اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے،اس کی پانچ خصوصیات ہیں:اللہ نے اسی دن آدم کو پیدا کیا،اسی دن ان کو روۓ زمین پر اتارا،”اسی دن اللہ نے ان کو وفات دی“،اور اسی دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اللہ سے جو بھی مانگے اللہ عطا کرتا ہے جب تک کہ حرام چیز کا سوال نا کرۓ اور اسی دن قیامت آۓ گی۔۔۔۔۔“۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1084) تو جیسا کہ اس حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جمعہ کی فضیلت سب سے زیادہ ہے۔وجوہات میں بتایا کیونکہ اس دن ہی آدم پیدا ہوۓ اور اسی دن فوت ہوۓ۔ اگر تو نبی کے مرنے پر غمگین ہونا چاہیے تو نبی ﷺ نے یہاں پر یہ کیوں نہیں فرمایا کہ اس دن خوش ہونا ہی حرام ہے کیونکہ اس دن آدم فوت ہوۓ ؟ جبکہ نبی ﷺ نے تو فرمایا کہ اس کی فضیلت تو اللہ کے نزدیک دونوں عیدوں سے بھی زیادہ ہے،تو ثابت ہوا کہ نبی کے مرنے پر غمگین ہونا جاٸز نہیں کیونکہ وہ زندہ ہیں۔ اب آتے ہیں قران مجید کی طرف کہ قران مجید میں اس بارے میں کیا لکھا ہے سورة مریم آیت نمبر 24 میں حضرت عیسیٰ کا وہ خطاب لکھا گیا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا وہ فرماتے ہیں ”اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مر جاٶں اور جس دن زندہ اٹھایا جاٶں“۔ اس آیت میں بھی حضرت عیسیٰ نے خود اس دن پر سلامتی کہی ہے جس دن ان کی وفات ہو جاۓ گی یعنی کہ عیسی علیہ السلام بھی جانتے تھے کہ نبی کے مرنے پر غم نہیں منایا جاتا کیونکہ وہ زندہ ہوتا ہے،اگر تو ان کے نزدیک نبی کے مرنے پر غمگین ہونا چاہیے تو وہ اپنے مرنے کے دن پر سلامتی کی دعا نہ کرتے۔ الحَمْدُ ِلله ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے ہی نہیں اور اگر مان بھی لی جاۓ تو اس دن غم کرنے کی یا سوگ منانے کی دلیل تو ملتی ہی نہیں بلکہ الٹا نبی کی وفات کے دن کو بھی فضیلت کا دن کہا گیا ہے۔ اب آتے ہیں ہم اس بات کی طرف کہ کیا میلاد النبی کو عید کا دن کہا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے بلکل کہا جا سکتا ہے کیونکہ عید کا مطلب ہے خوشی کا دن۔(فیروزاللغت) لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عیدیں صرف دو ہیں جو کہ غلط ہے نبی ﷺ نے تو جمعہ کے دن کو بھی عید کا دن کہا ہے۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1098) اب آتے ہیں ہم اس بات کی طرف کہ کیا جشن میلاد پر جھنڈے لگانا جاٸز ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے بلکل جاٸز ہے کیونکہ اللہ نے خود نبی ﷺ کی ولادت پر جھنڈے لگواۓ۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ”جب محمد ﷺ پیدا ہوۓ تو میرے سامنے سے تمام حجابات اٹھا دٸے گۓ اور میں نے تین جھنڈے دیکھے مشرق،مغرب اور کعبہ پر۔(نعمت الکبری صحفہ نمبر 122) (خصاٸل الکبری جلد 1 صحفہ نمبر 105) جیسا کہ ہم نے ثابت کر دیا کہ میلاد پر جھنڈے لگانا جاٸز ہے اب ہم آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا لوگوں کو میلاد پر کھانا کھلانا جاٸز ہے۔تو نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا اسلام (یعنی اسلام کا حصہ) بہتر ہے تو آپ نے فرمایا تم کھانا کھلاٶ اور سلام کرو لوگوں کو۔ (بخاری حدیث نمبر 12) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھانا کھلانے پر کی جانے والی فضول خرچی کی بجاۓ کسی غریب کو دے دیے جاٸیں وہ پیسے تو زیادہ ثواب ہو گا۔تو یہ بات بھی صحیح ہے کہ کسی غریب کو دے دیے جاٸیں لیکن اگر کوٸی کھانا کھلا دے تو وہ بھی باعث ثواب ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کھانا کھلانا بہتر اسلام ہے۔اور کھانا کھلانا فضول خرچی نہیں ہے۔ اب ہم آتے ہیں کہ میلاد پر خوش ہونے سے اجر ملتا ہے یا نہیں تو اس کا جواب بخاری میں موجود ہے کہ ایک کافر کو میلاد منانے پر جہنم میں بھی انعام دیا جا رہا ہے تو جب ایک مسلمان میلاد منائے گا تو اس کا اجر تو بے حساب ہو گا،ابولہب جس کی تزلیل قران میں نازل ہو چکی ہے اس نے بھی جب نبی ﷺ کی ولادت کی خبر دینے والی غلام ثوبیہ کو نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی میں جس انگلی کے اشارے سے آزاد کر دیا تھا۔اس انگلی سے اسے جہنم میں بھی پانی پلایا جاتا ہے۔ (بخاری حدیث نمبر 5101) اس حدیث کے تحت کٸ علما کا یہی کہنا ہے کہ اگر میلاد کی خوشی میں ایک کافر کا خوش ہونا اس کے لۓ اتنا فاٸدے مند ہے تو مسلمان کے لۓ کیا مقام ہو گا۔ اب ہم آتے ہیں آثار سے میلاد کے ثبوت کی طرف شاہ ولی اللہ محدث وہلوی لکھتے ہیں کہ مکہ والے میلاد کے دن نبی ﷺ کے مولد مبارک کی زیارت کرنے آتے اور نبی ﷺ پر درود شریف پڑھتے تھے۔اور نبی ﷺ کو عطا کردہ معجزات کا زکر کرتے تھے۔ (فیوض الحرمین صحفہ نمبر33) اور بھی کٸ محدثین نے لکھا ہے کہ میلاد منایا کرتے تھے مکہ والے۔ اس کے بعد ہم منکرین میلاد کے علما سے میلاد کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ دیوبندیوں کا حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتا ہے”میلاد منانا ہر جگہ تو بدعت ہے لیکن کالجز میں جاٸز بلکہ واجب ہے“۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 21 صحفہ نمبر 326) اور دوسری جگہ اشرف علی تھانوی کا قول نقل کیا گیا کہ ”میلاد منانا خیر و سعادت اور مستحب ہی ہے البتہ اس میں موجود منکرات کو ختم کر دینا چاہیے۔اور منکرات کی وجہ سے ایسے مستحب عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے“۔ (مجالیس حکیم الامت صحفہ نمبر 160) دوسرے دیوبندی علما کا کہنا بھی یہی ہے کہ ”نبی ﷺ کا میلاد منانا ہمارے نزدیک نہایت ہی پسندیدہ اور اعلی درجہ کا مستحب عمل ہے“۔ (عقاٸد علماۓ دیوبند صحفہ نمبر 246) غیر مقلد عالم کا کہنا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کے بارے میں بتا کر میلاد منایا“۔ (سیرت کے سچے موتی صحفہ نمبر 52) الحَمْدُ ِلله ہم نے قران و حدیث اور آثار کی روشنی میں اور ساتھ ہی منکرین کے علما سے بھی میلاد کو جاٸز اور مستحب ثابت کر دیا تو اب ان لوگوں کو چاہیے قران و حدیث کو چاہے نہ ہی مانیں(جیسا کہ ان کا کام ہے) لیکن اپنے مولویوں کی ہی مان لیں۔ تحقیق ازقلم:محمد ذوالقرنین الحفی الماتریدی البریلوی
  2. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ شیعوں نے اپنی ایک ویب ساٸیٹ پر ایک پوسٹ اپلوڈ کی جس میں علامہ غلام رسول سعیدیؒ کی شرح صحیح مسلم میں علامہ عینیؒ کے قول کو نقل کیا گیا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ”میں(عینی) کہتا ہوں کہ حضرت امیر معاویہؓ کی خطا کو اجتہادی خطا کیسے کہا جاۓ گا ؟ اور ان کے اجتہاد پر کیا دلیل ہے ؟ حالانکہ ان کو یہ حدیث پہنچ چکی تھی جس میں رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا ہے افسوس ابن سمیہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی،اور ابن سمیہ عمار بن یاسرؓ ہیں،اور ان کو حضرت معاویہ کے گروہ نے قتل کیا،کیا معاویہؓ برابر سرابر ہونے پر راضی نہیں ہیں کہ ان کو ایک اجر مل جاۓ“۔ (شرح صحیح مسلم جلد 7 صحفہ نمبر 791) اس قول کو لکھنے کے بعد شیعہ چیلنج کر رہے ہیں کہ ”کیا کوٸی اہل سنت اس اعتراض کا علمی جواب دے سکتا ہے ؟“ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ شیعہ مکار اور فریبی قوم ہیں،بس اپنے مطلب کی بات نکال کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔کوٸی شخص کم علمی میں شیعہ کی آدھی پوسٹ پڑھ کر یہ فتوے بازی نہ شروع کر دے کہ علامہ بدرالدین عینیؒ رافضی تھے وغیرہ وغیرہ۔ اب ہم ان کے اس چیلنج کے جواب کی طرف آتے ہیں کہ ان کے چیلنج کا منہ توڑ جواب اسی کتاب کے اگلے صحفے پر موجود ہے۔ پہلی بات ہی یہ ہے کہ علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے یہ قول ہی اس باب میں نقل کیا ہے کہ ”حضرت معاویہ پر علامہ عینی کے اعتراض کا جواب“ یعنی کہ علامہ غلام رسول سعیدیؒ اس جگہ ان کے اس اعتراض کا جواب لکھنے لگے ہیں،لیکن شیعہ نے اس سے اگلا صحفہ نہ ہی لگایا ہے نا ہی پڑھا ہو گا۔ علامہ غلام رسول سعیدیؒ علامہ عینیؒ کا یہ قول لکھ کر سب سے پہلے یہ کہتے ہیں حضرت علیؓ کی محبت برحق ہے اور ہمارے ایمان کا جُزو ہے،لیکن حضرت علیؓ کی محبت میں حضرت معاویہؓ پر غیظ و غضب کا اظہار کرنا اور ان کے فضاٸل اور ان کے اجر و ثواب کا انکار کرنا تشیع اور رفض کا دروازہ کھولنا ہے،اور راہِ اعتدال اور مسلک اہلسنت وجماعت سے تجاوز کرنا ہے۔ (شرح صحیح مسلم جلد 7 صحفہ نمبر 791) اس کے بعد علامہ غلام رسول سعیدیؒ،علامہ عینیؒ کے بارے میں کہتے ہیں اللہ تعالی علامہ بدالدین عینیؒ کی مغفرت فرماۓ(آمین) انہوں نے امیر معاویہؓ پر اعتراض کیا کہ حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کے موقف کا حق ہونا واضح ہو گیا تھا اور لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی رجوع نہیں کیا۔ اس کے بعد علامہ عینیؒ کے اعتراض کا جواب کچھ یوں بیان کرتے ہیں ”علامہ عینیؒ کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت عمارؓ کی شہادت پہلے تو حضرت معاویہ کے اجتہاد پر کوٸی اعتراض نہیں ہے،ہاں حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد حق ضرور واضح ہو گیا تھا لیکن حضرت امیر معاویہؓ کو یہاں بھی التباس اور اشتباہ ہو گیا،انہوں نے کہا کہ حضرت عمارؓ کی شہادت کا باعث حضرت علیؓ ہیں(جیسا کہ مسند احمد وغیرہ میں روایت موجود ہے)،اگر حضرت علیؓ،حضرت عثمانؓ کا قصاص لے لیتے تو جنگ کی نوبت نہ آتی اور نا ہی حضرت عمارؓ شہید ہوتے،حضرت معاویہؓ کی تاویل صحیح نہیں ہے لیکن یہ تاویل بھی ان کی اجتہادی خطا پر مبنی ہے“۔ (شرح صحیح مسلم جلد 7 صحفہ نمبر 792) اس جواب کے بعد علامہ غلام رسول سعیدیؒ یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ عمدة القاری کے شروع میں علامہ عینیؒ نے خود حضرت معاویہؓ کی اجتہادی خطا کا اعتراف کیا ہے وہ اس حدیث کہ ”عمارؓ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا عمار اس گروہ کو جنت کی طرف بلاۓ گا اور وہ لوگ عمارؓ کو دوزخ کی طرف بلاٸیں گے“(یاد رہے یہ جنت و جہنم کے زاٸد الفاظ بخاری کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں تھے لیکن بعد میں شامل کر دیے گۓ جو کہ میں اپنی پہلے والی پوسٹ میں ثابت کر چکا ہوں)اس حدیث پر اشکال ہوتا ہے کہ حضرت عمارؓ حضرت علیؓ کی طرف سے لڑے تھے اور ان کو حضرت امیر معاویہؓ کے گروہ نے قتل کیا تھا تو کیا حضرت معاویہؓ کا گروہ باغی اور دوزخ کی طرف دعوت دینے والا تھا ؟ اس کے جواب میں علامہ عینیؒ لکھتے ہیں کہ حضرت عمارؓ کو حضرت معاویہؓ کے گروہ نے قتل کیا تھا لیکن وہ خود مجتہد تھے اور ان کا گمان یہ تھا کہ وہ جنت کی دعوت دے رہے ہیں اور اس واقعے کے برعکس تھا اور اپنے ظن کی اتباع کرنے میں ان پر کوٸی ملامت نہیں ہے،اگر تم یہ کہو کہ جب مجتہد صحیح اجتہاد کرے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں اگر غلط اجتہاد کرے تو ایک اجر ملتا ہے تو یہاں کیا معاملہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اقناعی جواب دیا ہے اور صحابہ کے حق میں اس کے خلاف کہنا لاٸق نہیں ہے،کیونکہ اللہ نے صحابہ کی تعریف کی ہے اور ان کی فضیلت کی گواہی دی ہے، قران مجید میں ہے ”تم بہترین امت ہو“ مفسرین نے بیان کیا ہے اس سے مراد ”صحابہ“ ہیں۔ (شرح صحیح مسلم جلد 7 صحفہ نمبر 972) تو اس سے سب سے پہلے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیعہ کا چیلنج بلکل فضول اور جاہلانہ تھا اور ساتھ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علامہ بدرالدین عینیؒ حضرت امیر معاویہؓ پر طعن کرنے کے قاٸل نہیں تھے اور نا ہی ان کو جہنمی کہتے تھے بلکہ وہ خود حضرت امیر معاویہؓ کی تاویل کو اجتہادی خطا سمجھتے تھے،اور ان کی فضیلت کے قاٸل تھے۔لیکن ان کا اعتراض یہ تھا کہ حق واضح ہونے کے باوجود حضرت امیر معاویہؓ نے رجوع نہیں کیا اور پھر سے تاویل کی جو کہ صحیح نہیں تھی۔ شیعہ حضرات کو بھی چاہیے کہ علما کی بیان کردہ باتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور الٹے سیدھے فضول چیلنج کرنے کی بجاۓ حق کو قبول کرنے کی کوشش کریں۔ تحقیق ازقلم:محمد ذوالقرنین الحنفی البریلوی
×
×
  • Create New...