Jump to content

Search the Community

Showing results for tags 'رد دیوبندیت'.

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Urdu Forums
    • Urdu Literature
    • Faizan-e-Islam
    • Munazra & Radd-e-Badmazhab
    • Questions & Requests
    • General Discussion
    • Media
    • Islami Sisters
  • English & Arabic Forums
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • IslamiMehfil Team & Support
    • Islami Mehfil Specials
  • Arabic Forums

Find results in...

Find results that contain...


Date Created

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


Filter by number of...

Joined

  • Start

    End


Group


AIM


MSN


Website URL


ICQ


Yahoo


Jabber


Skype



Interests


Found 17 results

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کہ اہلحق اہلسنت والجماعت پر اکثر عید میلاد النبی منانے کی وجہ سے اعتراضات کۓ جاتے ہیں کہ یہ بدعت ہے کسی صحابی سے ثابت نہیں نبی ﷺ نے بھی نہیں منایا،تو آج کی اس پوسٹ میں ہم میلاد النبی قران و حدیث و آثار کی روشنی سے ثابت کریں گے۔ لیکن سب سے پہلے ہم میلاد کا مطلب بتاتے جاٸیں کہ میلاد کا مطلب ولادت ہے جو کہ مولد سے ہے۔ قران میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ”اللہ کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو“۔(سورة الضحی آیت نمبر 11) اس آیت میں اللہ نے اپنی نعمت کا چرچا کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ نے دوسری جگہ پر نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا ”(اے نبی ) ہم نے آپ کو رحمت بنا کر بھیجا“۔(سورة الانبیا آیت نمبر 107) ان آیات کو جمع کیا جاۓ تو پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کی آمد پر خوشیاں منانی چاہیں اور اس نعمت کو خوب بیان کرنا چاہیے۔ جیسا کہ قران سے یہ ثابت ہو چکا کہ نبی ﷺ کی آمد کا چرچا کرنا چاہیے تو اب ہم آجاتے ہیں احادیث کی طرف کہ کیا نبی ﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا اور صحابہ نے بھی ؟ تو بلکل نبی ﷺ نے بھی اپنا میلاد منایا اور صحابہ نے بھی منایا۔ ایک بار نبی ﷺ منبر پر تشریف لاۓ اور فرمایا ”اللہ نے مجھے اچھے لوگوں میں پیدا کیا اور مجھے بہتر گھر میں اور بہتر ذات میں پیدا کیا“۔ (جامع ترمذی حدیث نمبر 3608) اور امام ترمذی نے ایک حدیث پر پورا باب باندھا ”باب ماجا فی میلاد النبی“ اور پھر اس میں نبی ﷺ کی ولادت کی حدیث بیان کی۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ولادت اور اپنی صفات کو بیان کر کے خود بھی ذکر میلاد کیا۔ اب آتے ہیں صحابہ کرام کی طرف تو ایک بار کچھ صحابہ کرام ایک جگہ بیٹھے ہوۓ تھے تو نبی ﷺ تشریف لاۓ اور پوچھا تم کیا کر رہے ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ کی تعریف بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں ہدایت دی اور آپ کو بھیج کر ہم پر احسان فرمایا۔ (سنن نساٸی حدیث نمبر 5428) اس حدیث سے بھی واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی آمد کہ وجہ سے اللہ تعالی کا شکر ادا کر کے میلاد منایا۔ اب ہم آتے ہیں کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات بارہ ربیع الاول ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں رجع قول دو ربیع الاول کا ہے جیسا کہ امام سہیلی فرماتے ہیں ”نبی ﷺ کا وصال ربیع الاول کی دو،تیرہ یا چودہ تاریخ کو ہوا کیونکہ اسی پر امت کا اجماع ہے“۔ (الروض الانف جلد 4 صحفہ 654) اور بھی کٸ کتب میں یہی قول نقل کیا گیا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کی وفات 12 ربیع الاول نہیں ہے،لیکن پھر بھی اگر کوٸی کہے کہ نہیں 12 ربیع الاول ہی ہے،اور نبی ﷺ کی وفات والے دن خوشی منانا جاٸز نہیں تو فلحال ہم یہ مان لیتے ہیں کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات بھی 12 ربیع الاول ہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی میلاد کا انکار ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ نبی کے مرنے پر غم نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ وہ زندہ ہوتے ہیں۔اب ہم آجاتے ہیں احادیث کی طرف ان کی روشنی میں اس مسٸلے کو دیکھتے ہیں کہ کیا انبیا کی وفات پر سوگ منانا چاہیے یا نہیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے”جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے،اس کا درجہ اللہ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے،اس کی پانچ خصوصیات ہیں:اللہ نے اسی دن آدم کو پیدا کیا،اسی دن ان کو روۓ زمین پر اتارا،”اسی دن اللہ نے ان کو وفات دی“،اور اسی دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اللہ سے جو بھی مانگے اللہ عطا کرتا ہے جب تک کہ حرام چیز کا سوال نا کرۓ اور اسی دن قیامت آۓ گی۔۔۔۔۔“۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1084) تو جیسا کہ اس حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جمعہ کی فضیلت سب سے زیادہ ہے۔وجوہات میں بتایا کیونکہ اس دن ہی آدم پیدا ہوۓ اور اسی دن فوت ہوۓ۔ اگر تو نبی کے مرنے پر غمگین ہونا چاہیے تو نبی ﷺ نے یہاں پر یہ کیوں نہیں فرمایا کہ اس دن خوش ہونا ہی حرام ہے کیونکہ اس دن آدم فوت ہوۓ ؟ جبکہ نبی ﷺ نے تو فرمایا کہ اس کی فضیلت تو اللہ کے نزدیک دونوں عیدوں سے بھی زیادہ ہے،تو ثابت ہوا کہ نبی کے مرنے پر غمگین ہونا جاٸز نہیں کیونکہ وہ زندہ ہیں۔ اب آتے ہیں قران مجید کی طرف کہ قران مجید میں اس بارے میں کیا لکھا ہے سورة مریم آیت نمبر 24 میں حضرت عیسیٰ کا وہ خطاب لکھا گیا جو انہوں نے اپنی قوم سے کیا تھا وہ فرماتے ہیں ”اور سلامتی ہو مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مر جاٶں اور جس دن زندہ اٹھایا جاٶں“۔ اس آیت میں بھی حضرت عیسیٰ نے خود اس دن پر سلامتی کہی ہے جس دن ان کی وفات ہو جاۓ گی یعنی کہ عیسی علیہ السلام بھی جانتے تھے کہ نبی کے مرنے پر غم نہیں منایا جاتا کیونکہ وہ زندہ ہوتا ہے،اگر تو ان کے نزدیک نبی کے مرنے پر غمگین ہونا چاہیے تو وہ اپنے مرنے کے دن پر سلامتی کی دعا نہ کرتے۔ الحَمْدُ ِلله ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ نبی ﷺ کی تاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے ہی نہیں اور اگر مان بھی لی جاۓ تو اس دن غم کرنے کی یا سوگ منانے کی دلیل تو ملتی ہی نہیں بلکہ الٹا نبی کی وفات کے دن کو بھی فضیلت کا دن کہا گیا ہے۔ اب آتے ہیں ہم اس بات کی طرف کہ کیا میلاد النبی کو عید کا دن کہا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے بلکل کہا جا سکتا ہے کیونکہ عید کا مطلب ہے خوشی کا دن۔(فیروزاللغت) لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عیدیں صرف دو ہیں جو کہ غلط ہے نبی ﷺ نے تو جمعہ کے دن کو بھی عید کا دن کہا ہے۔ (ابن ماجہ حدیث نمبر 1098) اب آتے ہیں ہم اس بات کی طرف کہ کیا جشن میلاد پر جھنڈے لگانا جاٸز ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب ہے بلکل جاٸز ہے کیونکہ اللہ نے خود نبی ﷺ کی ولادت پر جھنڈے لگواۓ۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ”جب محمد ﷺ پیدا ہوۓ تو میرے سامنے سے تمام حجابات اٹھا دٸے گۓ اور میں نے تین جھنڈے دیکھے مشرق،مغرب اور کعبہ پر۔(نعمت الکبری صحفہ نمبر 122) (خصاٸل الکبری جلد 1 صحفہ نمبر 105) جیسا کہ ہم نے ثابت کر دیا کہ میلاد پر جھنڈے لگانا جاٸز ہے اب ہم آتے ہیں اس بات کی طرف کہ کیا لوگوں کو میلاد پر کھانا کھلانا جاٸز ہے۔تو نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا اسلام (یعنی اسلام کا حصہ) بہتر ہے تو آپ نے فرمایا تم کھانا کھلاٶ اور سلام کرو لوگوں کو۔ (بخاری حدیث نمبر 12) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کھانا کھلانے پر کی جانے والی فضول خرچی کی بجاۓ کسی غریب کو دے دیے جاٸیں وہ پیسے تو زیادہ ثواب ہو گا۔تو یہ بات بھی صحیح ہے کہ کسی غریب کو دے دیے جاٸیں لیکن اگر کوٸی کھانا کھلا دے تو وہ بھی باعث ثواب ہے جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کھانا کھلانا بہتر اسلام ہے۔اور کھانا کھلانا فضول خرچی نہیں ہے۔ اب ہم آتے ہیں کہ میلاد پر خوش ہونے سے اجر ملتا ہے یا نہیں تو اس کا جواب بخاری میں موجود ہے کہ ایک کافر کو میلاد منانے پر جہنم میں بھی انعام دیا جا رہا ہے تو جب ایک مسلمان میلاد منائے گا تو اس کا اجر تو بے حساب ہو گا،ابولہب جس کی تزلیل قران میں نازل ہو چکی ہے اس نے بھی جب نبی ﷺ کی ولادت کی خبر دینے والی غلام ثوبیہ کو نبی ﷺ کی ولادت کی خوشی میں جس انگلی کے اشارے سے آزاد کر دیا تھا۔اس انگلی سے اسے جہنم میں بھی پانی پلایا جاتا ہے۔ (بخاری حدیث نمبر 5101) اس حدیث کے تحت کٸ علما کا یہی کہنا ہے کہ اگر میلاد کی خوشی میں ایک کافر کا خوش ہونا اس کے لۓ اتنا فاٸدے مند ہے تو مسلمان کے لۓ کیا مقام ہو گا۔ اب ہم آتے ہیں آثار سے میلاد کے ثبوت کی طرف شاہ ولی اللہ محدث وہلوی لکھتے ہیں کہ مکہ والے میلاد کے دن نبی ﷺ کے مولد مبارک کی زیارت کرنے آتے اور نبی ﷺ پر درود شریف پڑھتے تھے۔اور نبی ﷺ کو عطا کردہ معجزات کا زکر کرتے تھے۔ (فیوض الحرمین صحفہ نمبر33) اور بھی کٸ محدثین نے لکھا ہے کہ میلاد منایا کرتے تھے مکہ والے۔ اس کے بعد ہم منکرین میلاد کے علما سے میلاد کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ دیوبندیوں کا حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتا ہے”میلاد منانا ہر جگہ تو بدعت ہے لیکن کالجز میں جاٸز بلکہ واجب ہے“۔ (ملفوظات حکیم الامت جلد 21 صحفہ نمبر 326) اور دوسری جگہ اشرف علی تھانوی کا قول نقل کیا گیا کہ ”میلاد منانا خیر و سعادت اور مستحب ہی ہے البتہ اس میں موجود منکرات کو ختم کر دینا چاہیے۔اور منکرات کی وجہ سے ایسے مستحب عمل کو ترک نہیں کرنا چاہیے“۔ (مجالیس حکیم الامت صحفہ نمبر 160) دوسرے دیوبندی علما کا کہنا بھی یہی ہے کہ ”نبی ﷺ کا میلاد منانا ہمارے نزدیک نہایت ہی پسندیدہ اور اعلی درجہ کا مستحب عمل ہے“۔ (عقاٸد علماۓ دیوبند صحفہ نمبر 246) غیر مقلد عالم کا کہنا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کے دن کے بارے میں بتا کر میلاد منایا“۔ (سیرت کے سچے موتی صحفہ نمبر 52) الحَمْدُ ِلله ہم نے قران و حدیث اور آثار کی روشنی میں اور ساتھ ہی منکرین کے علما سے بھی میلاد کو جاٸز اور مستحب ثابت کر دیا تو اب ان لوگوں کو چاہیے قران و حدیث کو چاہے نہ ہی مانیں(جیسا کہ ان کا کام ہے) لیکن اپنے مولویوں کی ہی مان لیں۔ تحقیق ازقلم:محمد ذوالقرنین الحفی الماتریدی البریلوی
  2. اسکین پیج نیچے موجود ہے پوری زریت دیوبندیت تو علم غیب کی منکر ہے کہ آقا علیہ السلام کو علم غیب نہیں تھا لیکن مولوی قاسم نانوتوی کے ایک تلامذہ مرید تھے انکو ایک لڑکے سے عشق ہوگیا پیار بھی اس قدر کہ اسی کے یاد میں کھوئے رہتے تھے ہمیشہ اسی کے یاد میں ایک دم نکمے ہوگئے تھے عاجز ہوکر حضرت نانوتوی کے خدمت میں پہنچا مؤدب عرض کیا کہ حضرت للہ میری اعئت فرما دئیجیے میں تنگ آگیا اور عاجز آچکا ہوں ایسی دعا فرمائیے کہ اس لڑکے کا خیال تک میرے قلب سے محو ہوجائے تو ہنس کر فرمایا کہ بس مولوی صاحب کیا تھک گئے بس جوش ختم ہوگیا میں نے عرض کیا کہ حضرت سارے کوموں سے بیکار ہوگیا نکما ہوگیا اب مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوسکتا خدا کے لئیے میری امداد فرمائیے فرمایا بہت اچھا بعد مغرب جب میں نماز سے فارغ ہو تو آپ موجود رہیں میں نماز مغرب پڑھ کر چھتہ کی مسجد میں بیٹھا رہا جب حضرت صلوۃ الاوابین سے فارغ ہوئے تو آواز دی مولوی صاحب مینے عرض کیا حضرت حاضر ہوں میں سامنے حاضر ہوا اور بیٹھ گیا فرمایا کہ ہاتھ لاؤ میں نے ہاتھ بڑھایا میرا ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر میری ہتھیلی کو اپنی ہتھیلی سے اس طرح رگڑا جیسے بان بٹے جاتے ہیں خدا کی قسم میں نے عیاناد دیکھا کہ میں عرش کے نیچے ہوں اور ہر چار طرف سے نور اور روشنی نے میرا احاطہ کرلیا ہے گویا میں دربار الہی میں حاضر ہوں میں اس وقت لرزاں اور ترساں تھا کہ ساری عمر مجھ پر یہ کپکپی اور خوف طاری نہ ہوا تھا میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور بالکل خودی سے گزر گیا حضرت برابر میری ہتھیلی پر اپنی ہتھیلی پھیررہے ہیں جب ہتھیلی پھیرنا بند فرمایا تو یہ حالت بھی فرد ہوگئی فرمایا جاؤ میں اٹھ کر چلا آپ حضرات سکیں خود ملاحظہ فرمائیں 📗ارواح ثلاثہ حکایت 250) عالم غیب پر اپنے اقتدار کے تسلط کا تو یہ حال بیان کیا جاتا ہے کہ جسے چاہا غیب دان بنا دیا لیکن محبوب کبریا صلی اللہ علیہ السلام کے حق میں بیک زبان سب متفق ہیں کہ کسی کو حرم سرائے غیب کا محرم بنانا تو بڑی بات ہے وہ خود غیب کی بات نہیں جانتے اور عرش کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ فرش بھی ان کی نگاہ سے اوجھل آپ ہی منصفی سے کہئے کہ کیا یہی شیوہ اسلام ہے اور تقاضائے کلمہ گوئی ہے؟
  3. اس کتاب میں جتنے بھی حوالے دیئے گئے ہیں وہ سب قرآن وحدیث اور دیوبندی تبلیغی جماعت کے علماء ہی کی معتبر کتابوں کے حوالے ہی سے درج کئے گئے ہیں۔ پھر اس کے باوجود بھی انہی کی کتابوں سے ان کاکفر ثابت کیاگیا ہے اوراس کے علاوہ ان کے وہابی اورگستاخان رسول ﷺ ہونے کا ثبوت بھی پیش کیاگیا ہے۔ Izhaar e Haq radde deobandiyat.pdf
  4. فرقه وهابيه=اقسام واحكام وہابی اور دیوبندی جماعت کے چار طبقات اور ان کے احکام کا بیان طارق انور مصباحی فرقه وهابيه=اقسام واحكام.pdf
  5. دیوبندی وہ جاہل قوم ہے جو بولتی ہے پر سمجھتی نہیں آج کل دیوبندی دوسروں پر تو بھونکتے ہیں اور جب ان کے گھر کا گند دیکھا یا جاتا ہے تو دم دبا کر ایسے بھاگتے ہیں جیسے تھانوی۔۔۔۔۔۔ ایک جاہل دیوبندی کو دو لفظ نظر آگئے تو ایسے ہی بن گیا جیسے اندھے کے پاؤں ںکے نیچے بٹیر آگیا تو وہ شکاری بن گیا ۔ میں بجائے اس کو جواب دوں اور وہ طرح طرح کی لن ترانہاں کرے میں اس ہی کے گھر سے آئینہ دیکھا دیتا ہوں پھر دیکھنا کہ دیوبندی لایعنی تاویلات کی پٹاریاں کیسے لے کر آتے ہیں۔ تھانوی کے حوالے سے دربھنگی لکھتا ہیں کہ ” حفظ الایمان میں اس امر کو تسلیم کیا گیا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب باعطائے الہی حاصل ہے“.......... جبکہ دوسری طرف دیوبندی تھانوی کو کافر مشرک اور دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ” علم غیب غیر اللہ کے لئے ثابت کرنے والا مشرک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے... “ اب دیوبندی کو چاہئے کہ پہلے تھانوی کو تو جہنم سے نکالے پھر ہم سے بات کرے لیکن تھانوی دیوبندی اصولوں سے جہنم سے نہیں نکل سکتا دیوبندی جتنا مرضی زور لگا لیں ۔
  6. آپ حضرات نے اس پہلے والی قسط میں پڑھا اور دیکھا دیوبندیوں کے نزدیک بزرگوں کی قبروں سے کیسے کیسے فیوض و برکات حاصل ہوتے ہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے ہاں بھی اولیاء و مشائخ بعد از وفات بھی لوگوں کو اپنی قبروں سے نفع پہنچاتے ہیں اوراس پر ان کا اختیار بھی ہے کیونکہ شکایت ہونے پر نفع رسانی بند بھی کی جا سکتی ہے۔اب اسی طرح ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح قبروں اور مزاروں سےدستگیری و امدادبھی ہوتی ہے۔ اشرف علی تھانوی کہتا ہے ’’ جب اثر مزار شریف کا بیان آیاآپ(یعنی حاجی امداد اﷲ) نے فرمایاکہ میرے حضرت کا ایک جولاہا مرید تھا۔بعد انتقال حضرت کے مزار شریف پر عرض کیا کہ حضرت میں بہت پریشان اور روٹیوں کا محتاج ہوںکچھ دستگیری فرمائیے۔ حکم ہوا کہ تم کو ہمارے مزار سے دو آنے یاآدھ آنہ روز ملا کرے گا۔ایک مرتبہ میں زیارت مزارکو گیاوہ شخص بھی حاضر تھااس نے کل کیفیت بیان کر کے کہا کہ مجھے ہر روز وظیفہ مقررہ یہیں قبر سے ملا کرتا ہے۔(حاشیہ) قولہ وظیفہ مقررہ ۔اقوال یہ منجملہ کرامات کے ہے۔‘‘ امداد المشتاق: ص ۱۲۳، اسلامی کتب خانہ ، لاہور(اشرف علی تھانوی) تھانوی کی اس روایت اور بیان سے معلوم ہوا کہ ان حضرات کے نزدیک صاحب مزارسے اگر مشکل اور پریشانی عرض کر کے دستگیری کی درخواست کی جائے تو وہ دستگیری اور مددکرتے ہیں ۔جبکہ دیوبندیوں کے بقول کتاب و سنت کی روشنی میں ایسی چیزوں کے شرک ہونے میں کوئی شک نہیں مگر چونکہ بیان کرنے والے اپنے بزرگ ہیں ،جن کے مزار سے یہ دستگیری ہوئی وہ بزرگوں کے بھی حضرت ہیں اس لیئے یہاں پر یہ بات کرامت ہے۔ *انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔*
  7. نوٹ : تحریہ میں موجود حوالہ جات کا اسکین نیچے موجود ہے دیوبند مدرسہ میں کن کن لوگوں نے چندہ دیا سوانح قاسمی 📗صفحہ 317 پہ لکھتا ہے چندہ کی کوئی مقدار مقرر نہیں اور نہ خصوصیت مذہب ملت" اسی کے ساتھ ان ہی رودادوں میں چندہ دینے والوں کی فہرست میں دیکھ لئجیے اسلامی ناموں کے پہلو بہ پہلو منشی تلسی رام رام سہائے منشی ہردواری لال لالہ بیجناتھ پنڈت سری رام منشی موتی لال رام لال سیوارام سوار وغیرہ اسماء بھی مسلسل ملتے چلے جاتے ہیں سرسری نظر ڈال کر مثلاً چند نام جو سامنے آگئے وہ چن لئے گئے ہیں (یعنی نام تو بہت ہونگے جو نام سامنے آگئے وہ چن لئے گئے ہیں اب آپ حضرات دل پہ ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں جس مدرس کی بنیاد جس مدرسہ کو بنانے لئیے کافروں مشرکوں پیسوں کو استعمال کیا گیا ہو اس مدرسے کے پڑھنے والے کیسے ہونگے اور اس مدرسہ کے مولوی جس خیال کس ذہنیت کے ہونگے) اسی کتاب📗صفحہ 450 پہ لکھتا ہے کیا عجب ہے کہ جس کو ہندو صاحب اوتار کہتے ہیں اپنے زمانے کے نبی یا ولی یا نائب نبی ہوں اب میں پیش کرتا ہوں دیوبندی دھرم کے مجدد لعین الامت اشر فیلی لعنت اللہ کی اس عبارت کو پیش کرتا ہوں جس کو سننے کے بعد روح کانپ اٹھے کلیجہ منہ کو آجائے اور جس نے اتنی شدید اور بدترین گستاخی کی حضور سیدنا امی جان صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی شان میں کیا ہے کتاب کا نام ہے 📗معارف الاکابر صفحہ 458 (یہ جملہ قسم خدا کی اگر مجھے انکا مکروہ چہرہ گستاخیاں اسکا مسلک دکھانا مقصود نہ ہوتا تو میں کبھی نہیں لکھتا اور لکھنے سے پہلے میں ضرور کہوں گا دیوبندیوں کیا تم یہ جملہ اپنی ماں بہن بیٹی بیوی کے لئیے سن سکتے ہو اور اگر سن سکتے ہو تو تمہیں شرم آنی چاہیے اور تمہی خود پیشاب کرنا چاہئے اور اسی میں ڈوب کر مرجانا چاہیے) لکھتا ہے حضرت حکیم الامت نے فرمایا ہم نے دونوں قسم کے بزرگوں کو دیکھا ہے ان کو جن پر حب عقلی کا غلبہ نہ تھا اور اور زندگی نہ چاہتے تھے اور انکو بھی جنہیں حب عقلی کا غلبہ تھا اور زندہ رہنا چاہتے تھے ایک رات سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو خواب میں دیکھا انہوں نے ہم کو چھاتی سے لگالیا پس صبح کو ہی اچھے ہوگئے) معاذاللہ رب العالمین اب آپ تمام حضرات فیصلہ کریں جو حضرت خاتون جنت رصی اللہ عنہا کی شان میں اتنی بدترین خواب کو گڑھ کے لوگوں کو بیان کر سکتا ہے اس کی ذہنیت کو دیکھیں اب میں کہتا ہوں دیوبندیوں کیا تم اپنے ماں بہنوں بیٹیوں کے لئیے یہ جملہ برداشت کر سکتے ہو کہ تمہاری بہن کسی کے خواب میں جائے اور اس کے اپنے سینے سے لگا لے اور وہ صبح ٹھیک ہوجائے یہ جملہ تم برداشت کر سکتے ہیں بےشک تم کرسکتے ہو چونکہ تمہارا مسلک ہی ناپاک غلیظ ہے اب آؤ کتاب کا دوسرا حوالہ میں پیش کرتا ہوں📗 کتاب کا نام اصلاح انقلاب امت صفحہ 87 لکھنے ولا خود تھانوی ہے لکھتا ہے ایک صالح ذاکر کو مکشوف کشف ہوا کہ احفر کے گھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنے والی ہیں انہوں نے مجھ سے کہا میرا ذہن معا اس طرف مشتمل ہوا اس مناسبت سے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا حضور کا سن شریف پچاس سے زیادہ تھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بہت کم عمر تھیں وہی قصہ یہاں ہے) معاذاللہ رب العالمين کوئی بھنگی چمار زلیل سے بھی زلیل اپنے ماں کو خواب میں دیکھے گا تو کم سے کم یہ تعبیر نہیں کرےگا جو یہ مردود تھانوی نے کی اب دیکھیں یہی خواب یہی خواب 📗ملفوظات حکیم الامت جلد1 صفحہ 99 پہ لکھتا ہے میں نےایک یہ بھی خواب دیکھا تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میرے مکان میں تشریف لانے والی ہیں اس سے میں یہ تعبیر سمجھتا ہوں کہ جو نسبت عمر کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بوقت نکاح حضور کے ساتھ تھی وہی نسبت انکو ہے (معاذاللہ اللہ رب العالمین کوئی بھنگی چمار سے زیادہ زلیل انسان بھی ہو جیسے انکے یہاں ہوتا ہے تب بھی کم سے کم وہ یہ نہیں سوچے گا کہ مجھے ویسے ہی بیوی میلے گی جو میرے ماں کی عمر میرے باپ کے نکاح کے وقت تھی تو کیا اس پہ دلیل نہیں ہے فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے خواب کو اسنے گڑھا اور شیطانی خواب جب دیکھا جائے تو حضور فرماتے ہیں اس کو تم تھوک دو بائیں طرف توبہ کرو توبہ کرنے کے بعد اس کو تم کسی کو بیان مت کرو یہ حدیث پاک کا جملہ موجود ہے لیکن تھانوی اتنا بڑا لعین الامت تھا اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کی ہے رب العالمین سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان نجدی دیوبندیوں سے محفوظ فرمائے اپنے امن امان میں رکھے آمین سکرین ملاحظہ فرمائیں
  8. نوٹ : تحریر میں موجود حوالہ جات کا اسکین نیچے موجود ہے اب ہم قرآن عظیم کی طرف نظر کرتے ہیں یہ اللہ رب العزت وہ کلام ہے جسے پہاڑ پہ نازل کیا جاتا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتا اور میں پیش کرتا ہوں پاک کون ہے ناپاک کون ہے آسمان کی طرح بلند کون ہے میں تھانوی کا ایک ترجمہ پیش کرتا ہوں لن تنالوالبر : سورۃ آل عمران : آیت 142 اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾ (ترجمہ بیان القرآن (تھانوی : ہاں کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ جنت میں جا داخل ہوگے حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو اور نہ ان کو دیکھا جو ثابت قدم رہے۔ (142) سنیں اللہ تعالیٰ سمیع بصیر ہے اللہ تعالیٰ دل کے خطرات کو جانتا ہے لیکن تھانوی کا یہ عقیدہ ہے کہ نہیں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیا ہو اور نہ ان کو دیکھا جو ثابت قدم رہے یہ ہے تھانوی کا علم تحریف گھمن یہ ہے تمہارا مجدد جس نے جو ترجمہ کیا ہے اس ترجمہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے علم کے بھی قائل نہیں ہے اب آو گھمن جس حدیث شریف پہ تم نے اعتراض کیا ہے کہ اعلی حضرت نے ایسا ترجمہ کیا ہے ایسا ترجمہ نہیں کرنا چاہئیے تھا جو تمہیں کہنا تھا آپ نے اپنے بدنام زمانہ کتاب میں کہا اب آئیے میں دکھاتا ہوں مرزا قادیانی کے بعد مسلمہ کذاب کے بعد ایک پیدا ہورہا تھا لیکن اعلیحضرت نے ایسا نیزہ مارا وہ مرگیا لیکن آگے نہ بڑھ سکا میرے کہنے کا مطلب ہے نانوتوی نے تحذیر الناس میں ختم نبوت پہ ڈاکا ڈالا لیکن میرے رضا نے ایسا نیزہ مارا وہ وہیں دفن ہوگیا 📗کتاب کا نام ہے معارف الاکابرص232 تھانوی لکھتا ہے نانوتوی کے بارے میں یہ وہ قاسم نانوتوی ہے جس نے تحذیر الناس میں لکھا کہ سید عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی آجائے تو ختم نبوت میں کوئی فرق نہیں آئے گا چور دروازہ کھول رہا تھا اپنے لئے لیکن بازی مار لے گیا مرزا قادیانی تھانوی لکھتا ہے جس وقت آپ قطب عالم حضرت گنگوہی کے ہمراہ حج کو جارہے تھے ایک گروہ حضرت گنگوہی کے پاس آیا کہ ہم بھی آپ کے ہمراہ چلیں گے آپ نے پوچھا ذرادراہ بھی ہے انہوں نے کہا نہیں ایسے ہی توکل پر چلیں گے مولانا گنگوہی نے فرمایا بڑے آئے توکل کرنے والے جاؤ اپنا کام کرو حضرت نانوتوی سے اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دے دی راستے میں جو کچھ ملتا سب ان لوگوں کو دےدیتے ساتھیوں نے عرض کیا آپ تو سب ہی دےدیتے ہیں کچھ تو اپنے پاس رکھتے فرمایا(انما انا قاسم واللہ یعطی) گھمن تم تو اعتراض کررہے تھے اعلیحضرت نے ترجمہ غلط کیا جو نبی انما انا قاسم واللہ یعطی اللہ دیتا ہے میں ہی بانٹتا ہوں اپنے لئیے استعمال کررہے ہیں اس پورے حدیث کو نانوتوی نے اپنے اوپر فٹ کرلیا کس نے قاسم نانوتوی نے ساتھیوں نے جب عرض کیا آپ سب بانٹ دیتے ہو کچھ تو اپنے پاس رکھتے تو نانوتوی کہتا ہے انما انا قاسم واللہ یعطی یعنی اللہ تعالیٰ دیتا ہے نانوتوی بانٹتا ہے مولوی گھمن تم تو اعلیحضرت پہ ترجمہ کا اعتراض کررہے تھے جو تمہارا اعتراض باطل تھا لیکن تمہارا مولوی چور دروازہ کھول رہا تھا جو نبی اپنے لئیے لفظ استعمال کریں اسے تمہارا مولوی قاسم نانوتوی اپنے لئیے استعمال کررہا ہے مولوی گھمن یہ بتاؤ قرآن کے ترجمے میں کس نے تحریف کی اور حدیث کو خود اپنے اوپر کون لاگو کررہا ہے جو میرے کریم آقا اپنے لئیے فرمائیں اسے تمہارا مولوی اپنے لئیے فٹ کرے کون ہوا گستاخ کون ہوا تحریف کرنے والا ناظرین کرام آپ فیصلہ کریں یہ رضا کے نیزے کی مار ہے
  9. نوٹ : تحریہ میں موجود حوالہ جات کا اسکین نیچے موجود ہے 2 اعتراض نمبر 2الیاس گھمن کے اسی کتاب صفحہ 61 پہ الزام اعتراض رکھنے کی کوشش کی ہے کہ اعلیٰ حضرت کو علم نہیں تھا بغیر علم کے مجدد تھے یعنی بہترین عالم نہیں لیکن انکے ماننے والے بغیر علم کے لوگ انہیں امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ عنہم کا دعویٰ کرتے تھے اور یہ کہتے تھے میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس فتویٰ کے امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ دیکھتے تو یقیناً ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی تیں اور اس کے مؤلف کو اپنے اصحاب امام ابو یوسف اور امام محمد کے زمرے میں شمار فرماتے) یہ ہے تمہارا اعتراض گھمن مجھے حیرت ہے بقولِ تمہارے اعلیحضرت علیہ الرحمہ کے پاس علم ہی نہیں تھا اور انکے خلاف کتاب پہ کتاب لکھ رہے ہو اس کا مطلب ہے اعلیحضرت نے جو نیزہ مارا ہے اس کی تپش تمہیں برداشت نہیں ہوتی خیر یہ تو بات ہے میں ذرا تحقیقی جواب پیش کردوں اعلیحضرت کے علم لے تعلق سے صرف میں اتنا کہنا چاہتا ہوں پوری ذریت دیوبندیت کو چیلنج اعلیحضرت نے فتویٰ رضویہ شریف جلد ایک میں خطبہ لکھا ہے عربی میں ایسا خطبہ اپ کے پوری زریت میں کسی نے لکھا ہے تو دکھا دیں اگر لکھا ہے جس میں اعلیٰ حضرت نے 80 کتابوں کا حوالہ 80 کتابوں کے نام اعلیحضرت نے اس طرح سجا کر لکھا ہے اگر کوئی عاشق وہ خطبہ پڑھے گا ایک طرف اللہ عزوجل کے حمد بھی کرے گا محبوب دو عالم کے ثناء بھی کرےگا اولیاء عظام کے ذکر بھی کرے گا ایسا خطبہ اعلیحضرت رضی اللہ عنہ نے فتویٰ رضویہ شریف جلد ایک میں لکھا ہے گھمن پڑھ لو گھمن یہ تمہارا اعتراض تھا گھمن اعلیحضرت نے جس طرف قلم چلایا ہے اس طرف اعلیحضرت کا کوئی ثانی نہیں ملتا تمنے اعتراض کیا کہ اعلیحضرت کے پاس علم نہیں تھا لیکن انکے لوگ امام ابو یوسف امام محمد کے برابری سمجھتے تھے لیکن تمہیں اپنے گھر کی خبر نہیں ہے مجمع میں انکے لوگ لواطت کرتے تھے خود گنگوہی نانوتوی بیچ مجمع میں سوکر ایک دوسرے کے ساتھ اپنے دل کے بھڑاس کو مٹاتے تھے یہ دونوں تمہارے ہی مولوی ہیں ان دونوں نے جو مجمع میں نہیں کیا وہ خواب میں کرلیا تذکرۃ الرشید جلد 2 میں رشید احمد کہتا ہے میں نے ایک بار خواب دیکھا تھا کہ مولوی قاس صاحب دلہن کی صورت میں ہیں میرا انسے نکاح ہوا ہے اور دونوں کو وہی فائدہ ایک دونوں سے ہوا جو شوہر بیوی سے ہوتا ہے) گھمن یہ دونوں تمہارے ہی مولوی ہے انہوں نے جو مجمع میں نہیں کیا وہ خواب میں کرلیا الیاس گھمن کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اعلی حضرت نے حدیث شریف میں چھیڑ چھاڑ کی اسی کتاب فرقہ بریلویت پاک ہند کا تحقیقی جائزہ میں عنوان دیتے ہیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ السلام میں عجب کارستانی صرف ایک مثال قرآن پاک کی طرح احادیث میں بھی احمد رضا نے یہ ہی کام کیا ہے ہم صرف یہاں پہ ایک مثال نقل کرتے ہیں یہ الیاس گھمن اعلیحضرت پہ اعتراض قائم کررہے ہیں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے انما انا قاسم واللہ یعطی ملفوظات مولوی احمد رضا جلد اول ص23 پر فاضل بریلوی نے اس حدیث کا یہ ترجمہ کیا میں بانٹنے والا ہوں اللہ عزوجل عطاء فرماتا ہے اور اسی ملفوظات جلد چہارم ص71 پر اسی حدیث کا جناب نے یہ یہ ترجمہ فرمایا انما انا قاسم واللہ یعطی جز اس نیست کہ میں ہی بانٹنے والا ہوں اللہ دیتا ہے 📗فرقہ بریلویت پاک ہند کا تحقیقی جائزہ ص185 الیاس گھمن نے یہ اعتراض کرنا چاہی ہے کہ اعلی حضرت نے قرآن مجید میں چھیڑ چھاڑ احادیث میں تحریف کی ہے اوراپنا مقصد اپنا منشا پانے کی کوشش کی ہے گھمن صاحب یہ آپ کا اعتراض ہے؟ لیکن آئیے دوستوں ہم دیکھتے ہیں پاک کون ہے غلیظ کون ہے دودھ کون ہے شراب کون ہے یہ تھا گھمن کا جاہلانہ اعتراض تھا
  10. نوٹ : تحریہ میں موجود حوالہ جات کا اسکین نیچے موجود ہے یہ ہے آپ کے تھانوی آپ کے مجدد کے کارنامے تھے ایک ایسا زمانہ آیا پوری امت کو مریض کردیا حوالہ نمبر تین لئجیے بچپن تو بچپن ہے 📗کتاب کا نام ہے مجالس حکیم الامت ص57 لکھنے والا مولانا مفتی شفیع ہے تھانوی کا خلیفہ ہے اس میں آپ کے تھانوی کیا لکھتے ہیں سنیں لکھتے ہیں فرمایا کہ میں نے اپنے لوگوں کو ممانعت کردی تھی کہ تصنیف کے کمرہ میں،جہاں میں تنہا ہوتا ہوں کسی نو عمر لڑکے کو نہ بھیجا کریں مجھے اپنے نفس پر اعتماد نہیں اسکا اثر یہ ہوا کہ خانقاہ کے سب لوگ لڑکوں سے پرہیز اور احتیاط کرنے لگے) تھانوی بڑھاپے کے زمانے میں اتنا رنگ باز تھا اسکو اپنے نفس پہ خود اعتماد نہیں تھاکہ سختی سے منع کردیا تھا کہ میرے کمرے میں کسی کو نہ بھیجا جائے یہ ہیں آپ کے تھانوی مجدد یہی نہیں آپ قاسم العلوم ولخیرات کو لے لئجیے کیا گل کھلاتے تھے کتاب کا نام📗 حکایت اولیاء عرف ارواح ثلاثہ حکایت نمبر ہے 304 لوطی محل میں کیا ہوتا ہے آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کیا فرماتے ہیں فرمایا کہ ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی کے مرید اور شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت گنگوہی نے حضرت نانوتوی سے محبت بھرے آمیز لہجہ میں فرمایا کہ یہاں ذرا لیٹ جاؤ حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے حضرت بھی اسی چارپائی پر لیٹ گئے اور مولانا کی طرف کو کروٹ لےکر اپنا ہاتھ انکے سینے پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے مولانا ہر چند فرماتے ہیں کہ میاں کیا کررہے ہو یہ لوگ کیا کہیں گے حضرت نے فرمایا لوگ کہیں تو کہنے دو) گھمن کسی پہ جاہلانہ اعتراضات کرنے سے پہلے اپنے گھر کی حقیقت بھی دیکھ لیا کرو مزید اسی ارواح ثلاثہ میں تمہارے قاسم العلوم ولخیرات کیا کرتے تھے آپ کے نانوتوی جی وہ سنیں یہ کہتے تھے کہ حافظ انوارالحق کے بیٹھک میں مجھ سے بلایا سب کرتب بھی دیکھے مولانا بچوں سے ہنستے بولتے بھی تھے اور جلال الدین صاحب زادہ مولانا محمود یاقوب صاحب اس وقت بلکل بچے تھے بڑی ہنسی کیا کرتے تھے کبھی ٹوپی اتارتے کبھی قمر بند کھول دیا کرتے تھے) گھمن آپ کے مولوی قمربند کیوں کھول دیتے تھے یہ آپ کے قطب الإرشاد قاسم العلوم ولخیرات ہیں تو مولوی صاحب اعلیحضرت پہ اعتراض کرنے سے پہلے اپنے لوطی محل کو دیکھ لیتے اس کو مد نظر رکھتے یہ ہوا آپ کے ایک اعتراض کا جواب
  11. نوٹ : تحریر میں موجود حوالوں کا اسکین نیچے موجود ہے میں اعتراضات جوابات پیش کرنے سے پہلے میں مجدد دیوبندیت اشرف تھانوی کی ایک تحقیق پیش کرتا ہوں جب تھانوی کی تحقیق اتنی زبردست ہے تو الیاس گھمن کی تحقیق کتنی زبردست ہوگی کتاب کا نام ہے 📗ملفوظات حکیم جلد 3 صفحہ 255 ملفوظ نمبر 410 تھانوی کہتا ہے ہمارے حضرت مولانا محمد یاقوب صاحب اس اعتقاد کی ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے ہے تو فحش مگر ہے بلکل چسپاں فرمایا کرتے تھے کہ عوام کے عقیدہ کی بلکل ایسی ہی حالت ہے کہ جیسے گدھے کا عضو مخصوص بڑھتا ہے تو بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور جب غائب ہوتو بالکل پتہ ہی نہیں تو اب یہ بات مثل آفتاب روشن ہے یہ کہ جب گھمن کا عقیدہ جوش اتنا بڑھ گیا انکا عقیدہ اتنا بڑھ گیا گدھے کی عوض تناسل کی طرح اور بڑھتے بڑھتے آیا اعلیحضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات پہ بھونکنا شروع کردیا اور جب گھٹے گا تو غائب ہوجائے گا کاش یہ دیوبندی اپنے گھر کا جائزہ لیتے تو امام اہلسنت پہ جاہلانہ اعتراضات نہیں کرتے 1 :الیاس گھمن کا اعتراض نمبر چار برس کی عمر میں ایک دن بڑا سا کرتہ پہنے باہر تشریف لائے تو چند بازاری طوائفوں کو دیکھ کر کرتے کا دامن چہرہ مبارک پر ڈال لیا یہ دیکھ کر ایک عورت بولی میاں صاحب زادے آنکھیں ڈھک لئیں اور ستر کھول دیا📗 فرقہ بریلویت پاک ہند کا جائزہ صفحہ 50 51 اب انکی ذہنیت دیکھیں لوگوں کو جو یہ تعثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بچپن سے ہی انکے معاملات ایسے تھے معاذاللہ رب العالمین یہ اس کے ذہن کی غلاظت ہے ایمان داری سے دیکھا جائے تو اس پہ کوئی اعتراض ہی نہیں کیونکہ اس وقت اعلیحضرت کی عمر شریف چار سال کی تھی چار سال کے بچے پہ دیوبندی بتائیں کیا شریعت کے کوئی حکم نافذ ہوتے ہیں لیکن انکو معلوم ہونا چاہیے جو شیشے کے گھر میں بیٹھ کر لوگوں کے گھروں میں پتھر پھینکا کرتے ہیں اور انکو خود انکے گھر کی خبر نہیں ہے انکی غلاظت انکی گندگی کو انشاء اللہ الرحمن پیش کرتا ہوں الیاس گھمن اگر تم اپنے لوطی محل کا جائزہ لیتے اپنے گھر کا مطالعہ کرتے تو ایسی جاہلانہ اعتراض نہ کرتے آئیے میں آپ کا آئینہ آپ کو دکھاتا ہوں یہ ہے 📗ملفوظات حکیم جلد 4ص 262 سنتے چلیں آپ کے تھانوی جی بچپن میں کیا گل کھلاتے تھے اعلیحضرت پہ بھونکنے والوں پہلے اپنے مجدد کو دیکھو تھانوی کہتا ہے میں ایک روز پیشاب کررہا تھا بھائی صاحب نے آکر میرے سر پہ پیشاب کرنا شروع کردیا ایک روز ایسا کہ بھائی پیشاب کررہے تھے میں نے انکے سر پر پیشاب کرنا شروع کردیا اتفاق سے اس وقت والد صاحب تشریف لے آئے فرمایا یہ کیا حرکت ہے) ایک واقعہ اور ملاحظہ فرمائیں ایک دفعہ مجھے کیا شرارت سوجھی کہ برسات کا زمانہ تھا مگر ایسا کہ کبھی برس گیا کبھی کھل گیا مگر چارپائیاں باہر ہی بچھتی تھیں جب برسنے لگا چارپائیاں اندر کرلیں جب کھل گیا باہر بچھالیں والدہ صاحبہ کا تو انتقال ہوچکا تھا بس والد صاحب ہم دونوں بھائی ہی مکان میں رہتے تھے تینوں کی چارپائیاں ملی ہوئی بچھتی تھیں ایک دن میں نے چپکے سے تینوں چارپائیوں کے پائے رسی سے خوب کس کے باندھ دی اب رات کو جو مینھ برسنا شروع ہوا تو والد صاحب جدھر سے بھی گھسیٹتے ہیں تینوں کی تینوں چارپائیاں ایک ساتھ گھسیٹتی چلی آتی ہیں رسیاں کھولتے ہیں تو کھلتی نہیں کیونکہ خوب کس کے باندھی گئی تھیں کاٹنا چاہا تو چاقو نہیں ملتا غرض بڑی پریشانی ہوئی اعر بڑی مشکل سے پائے کھل سکے اور چارپائیاں اندر لے سکیں اس میں اتنی دیر لگی کی خوب بھیگ گئے والد صاحب بڑے خفاہوئے کہ یہ کیاناماقول حرکت تھی
  12. فضائل اعمال ص125 مولوی زکریا کتا کمینہ تذکرۃ الخلیل ص89 خلیل امبیٹھوی کتے کے بھی برابر نہیں کتے سے بھی ذلیل ملفوظات حکیم الامت جلد 4 ص86 تھانوی کا اقرار میں خنزیر سے بدتر سمجھتا ہوں اکابر کا مقام تواضع ص193 دیوبند کا کالا کتا ارواح ثلاثہ ص118 دیوبندی کتے کی صورت
×
×
  • Create New...