• Announcements

    • Sag-e-Attar

      IslamiMehfil Rules (Please Must Read, Before You Post Anything)   04/09/2017

        فورم کےعمومی قوانین آخری ترمیم: ۱۰ اپریل ۲۰۱۷ ۔۔۔عمومی فورم رول نمبر ۱۵ ایڈ کیا گیا ،جو نیچے آخر میںبولڈ فونٹ میں موجود ہے۔ فورم کی انتظامیہ کی طرف سے تمام ارکان کو خوش آمدید! پوسٹ ارسال کرنے سے پہلے تمام اراکین کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل قواعد و ضوابط کا مطالعہ کر لیں تا کہ مستقبل میں کسی قسم کا کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔ اگر کوئی پوسٹ یا ٹاپکس فورم رولز کے خلاف نظر آئے تو تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ رپورٹ کا بٹن استعمال کرکے انتظامیہ کی مدد کریں۔ ۱- اسلامی محفل ایک مکمل اسلامی سنی حنفی بریلوی مسلک سے منسلک فارم ہے جس میں کسی قسم کی غیر اسلامی و غیر اخلاقی پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
      کسی قسم کی غلط پوسٹ کسی ممبر کو فارم پر نظر آئے تو رپورٹ بٹن کو استعمال کر کے انتظامیہ کو اطلاع کریں۔ اپنی طرف سے کسی ممبر پر نقطہ چینی کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۲- اس فورم یا منتظمین کے متعلق کوئی شکوہ یا شکایت یا اعتراض واضح طور پر کسی بھی سیکشن میں بیان نہیں کرسکتے۔ اور شکوہ شکایت وغیرہ کرنے کیلئے ایڈمن سے براہ راست رابطہ کریں

      ۳- فورم میں دستخط استعمال کرنے کیلئے صرف ایک تصویر اور اس کی ازحد چوڑائی550پکسلز اور اونچائی145پکسلزسے زیادہ نہ ہو۔اور ساتھ میں کچھ لنکس کی اجازت ہے۔ سیگنیچر امیج میں یا لنکس میں کسی بد مذہب سائٹ کا لنک یا قابل اعتراض مواد پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں۔

      ۴- کسی جاری گفتگو کے دوران ایسے روابط ارسال کرنے سے پرہیز کریں جن کا گفتگو سے تعلق نہ ہو۔

      ۵- بحث برائے بحث سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کریں

      ۶۔ فورمز کی انتظامیہ آپ کو ہدایت کرتی ہے کہ براہ کرم کسی قسم کی ذاتی معلومات جیسے کہ اپنا پتا یا فون نمبر ارسال مت کریں جس سے تمام لوگوں کی اس تک رسائی ممکن ہو سکے۔ان معلومات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہر ممکن طور پر ، اگر آپ اپنی معلومات کا تبادلہ کسی دوسرے رکن کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو ذاتی پیغامات کا استعمال کریں۔ ۷۔ ٹاپک کے لئے مناسب ،موضوع سے متعلق ٹائٹل استعمال کریں۔  need answer,  jawab dejiye, please read it, must reply وغیرہ جیسے غیر موضوع ٹائٹل استعمال نہ کریں. ٹائٹل کی ایک بہتر مثال یہ ہے۔
      "A good example: "Help: I need "This" Book Scan
      "A bad example: "PLZZ HEEEEELP ۸۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام جہاں بھی استعمال کریں۔ درود شریف ضرور لکھیں۔ درود شریف والا ایموٹیکن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ (s.a.w) یا (pbuh) وغیرہ لکھنے کی اجازت نہیں۔ ۹۔ سنیوں کے آپسی اختلافات میں فورم کا *رجحان جمہور اور جید علماء کی طرف ہوگا۔ اس لئے ان موضوعات پر طویل بحث ممنوع ہے۔
      مثلاً...پیر کرم شاہ صاحب والا موضوع۔۔۔ اس جیسے موضوعات پر فورم کا رخ جید علماء اور جمہور علماء کی طرف ہوگا۔ دوسرا یعنی ویڈیو کا مسئلہ یا اسپیکر پر نمازوغیرہ کا مسئلہ(فروعی مسائل) ۔
      اس جیسے مسائل کو بنیاد کو بنا کر علماء کو برا بھلا کہنا ہرگز ممنوع ہےاور بلا وجہ بحث بھی ممنوع ہے۔ فروعی مسائل میں فورم کا رجحان بعض اوقات کسی عالم کی طرف یا بعض اوقات غیر جانبدار بھی ہوسکتا ہے۔

      ۱۰۔ غیر اخلاقی پوسٹ کرنے پر وارننگ یا بین کیا جا سکتا ہے۔

      ۱۱۔ کسی بھی عالم چاہے بد مذہبوں کا ہو ان کی بگاڑ کر تصویر شئیر کرنا منع ہے۔

      ۱۲۔ انگلش سیکشن کے علاوہ کسی بھی سیکشن میں انگلش پوسٹ کرنا منع ہے۔

      ۱۳۔ پوسٹ کو متعلقہ سیکشن میں کریں غیر متعلقہ سکیشن میں پوسٹ کرنے پر آپ کی پوسٹ کو موو (move) کر دیا جائے گا۔ ۱۴۔ عورتوں کی تصاویر ویڈیوز وغیرہ شئیر کرنا منع ہے۔ ۱۵۔ یہ فورم آپ کی سائیٹس کی تشہیر، بیک لنکنگ یا گوگل رینکنگ بڑھانے کے لئے نہیں ہے۔ جو بھی اسلامی مواد پوسٹ کریں اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے پوسٹ کریں۔ غیر متعلقہ لنکس ٹاپکس سے حذف کر دیے جائیں گے۔اگر کسی اسلامی سنی ویب سائیٹ کا لنک آپ پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممبرز مستفید ہوں، تو سنی سائیٹس کے متعلقہ سیکشن میں نیا ٹاپک ویب سائیٹ ٹائٹل ہیڈنگ کے ساتھ  پوسٹ کریں۔

        مناظرہ سیکشن کے قوانین

      ۱۔ تمام ممبرز (خصوصاً سُنی ممبرز) مناظرہ سیکشن میں غلط زُبان کا استعمال نہ کریں اور اَدب کے دائرے میں رہ کر اعتراض کریں یا جواب دیں۔ غلط زبان استعمال کرنے پر آپکی پوسٹ میں ترمیم یا پوسٹ کو ڈیلیٹ کیا جاسکتا ہے۔ اور بار بار کرنے پر وارن یا بین بھی کیا جا سکتا ہے۔

      ۲۔ اگر کسی ممبر کے ایک موضوع پر دو مختلف ٹاپکس نظر آئے تو ایک ٹاپک بغیر اطلاع کے لاک یا ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔

      ۳۔ جن موضوعات سے متعلق پہلے سے ٹاپکس موجود ہیں، اپنا سوال،اعتراض یا جواب اُسی ٹاپک میں پوسٹ کریں۔ اگر الگ سے ٹاپک بنا کر پوسٹ کیا تو آپکے ٹاپک کو بند، ضائع یا دوسرے ٹاپک کے ساتھ یکجا کیا جاسکتا ہے۔

      ۴۔ مناظرہ سیکشن بحث برائے بحث کیلئے نہیں ہے۔ اگر کوئی پوسٹ بحث برائے بحث یا موضوع سے ہٹ کر محسوس ہوئی تو بغیر اطلاع کئے ڈیلیٹ کر دی جائے گی۔ بار بار ایسا کرنے پر وارن کیا جا سکتا ہے۔اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔

      ۵۔ ایسی سائٹ جن کا تعلق بد مذہبوں سے ہو یا ان سائٹ پر بد مذہبوں کا کوئی مواد موجود ہو ان کی کسی بھی قسم کی تشہیر کسی پوسٹ میں ان کا لنک وغیرہ شئیر کرنا پوسٹ کرنا سخت منع ہے ۔خلاف ورزی پر پوسٹ ڈیلیٹ یا ایڈیٹ کی جاسکتی ہے۔

      ۶۔ بدمذہبوں کی ویڈیوز شئیر کرنا منع ہے اگر کسی اعتراض کا جواب درکار ہو تو اس ویڈیو کا سکرین شاٹ لے کر بد مذہبوں کی سائٹ کا لنک ریمو کر کے امیج کی صورت میں پوسٹ کریں۔

      کسی سنی عالم کی تضحیک سخت منع ہے۔

      ۷۔ اگر کو ئی اعترض بھی ہو جس میں سنی عالم کے خلاف غلط زبان استعمال کی گئی ہو تو اس میں سے غلط زبان کو ریمو کر کے اعتراض پوسٹ کیا جائے۔

      ۸۔ صرف وہی سائٹ شئیر کی جائیں جو سنیوں کی ہوں صلح کلی مکتب فکر کی سائٹ بھی شئیر کرنا منع ہے۔

      ۹۔ اسلامی محفل کے کسی بھی ٹیم ممبر یا سینئر ممبر سے بدتمیزی ناقابل برداشت ہوگی اور بین بھی کیا جاسکتا ہے۔ ٹیم ممبرز بھی حدود کے دائرے میں رہ کر جواب دینے کے مجاز ہیں۔

      ۱۰۔ انتظامیہ کا فیصلہ حتمی ہے۔ اگر آپ کو کسی نقطے پر اعتراض ہے تو مناظرہ سیکشن میں پوسٹنگ کرکے اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔ کسی بھی ممبر کو رولز کے خلاف کوئی پوسٹ نظر آئے تو فوراً رپورٹ کے بٹن سے ہمیں آگاہ کریں۔
         

Search the Community

Showing results for tags 'گمراہی'.



More search options

  • Search By Tags

    Type tags separated by commas.
  • Search By Author

Content Type


Forums

  • Urdu Forums
    • Urdu Literature
    • Faizan-e-Islam
    • Munazra & Radd-e-Badmazhab
    • Questions & Requests
    • General Discussion
    • Media
    • Islami Sisters
  • English & Arabic Forums
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • Arabic Forums
  • IslamiMehfil Team & Support
    • Islami Mehfil Specials

Calendars

  • Community Calendar

Found 2 results

  1. :یہ بات روز اول کی طرح روشن اور عیاں ہے کہ "دنیا میں انقلاب غور وفکر برپا کرنے کا سہرا دین اسلام کے سر ہے" اور مشاہدات زندگی کا نام سائنس ہے اور سب سے پہلے جواز سائنس کا نظریہ قرآن نے پیش کیا۔ اﷲ رب ذوالجلال قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ: ’’بے شک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کے بدل بدل کر جانے میں عمل والوں کے لئے نشانیاںہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہرحال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان و زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں‘‘ علوم سائنس کے پیشتر علوم قرآن سے پیداہوئے۔ اس کے علاوہ بے شمار علوم دین اسلام کے آنے سے وجود میں آئے۔ اس کا ثبوت قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ نظام فطرت میں غوروفکر کرنا اور جستجو حیات کرنا بھی عبادت ہے۔ نیز تخلیق انسانی کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرے اور بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان سائنس دانوں نے کائنات میں مشاہدات زندگی (علم سائنس) کو ضرورت انسانی نہیںبلکہ اسے مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا ہے اور جو بات بھی کہی ہے، نہایت پائیدار اور مذہب کے حوالے سے ناقابل تردید و تنقید کی ہے۔ سائنس قرآن کے سامنے ایک نقطہ کی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہ اس لئے کہ سائنس انسان کے معمولات کا مجموعہ ہے اور قرآن کریم جو کلام الٰہی ہے، اﷲ تعالیٰ کے علوم کا مظہر ہے۔ تمام علوم و فنون قرآن پاک میں ہیں۔ ہر خشک و تر اور چھوٹی بڑی ہر شے کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ تفسیر اتقان میں فرماتے ہیں: قال اﷲ تعالیٰ مافرطنافی الکتاب المبین یعنی ’’ہم نے کتاب میں کوئی کمی نہ فرمائی‘‘ وقال نزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شئی ’’اور نازل کی ہم نے آپ پر کتاب جو ہر شے کا بیان واضح ہے‘‘ قرآن ایک بحر بے کنار ہے۔ اس سے ہر ایک اپنی استعداد کے مطابق فیض حاصل کرتا ہے اور قرآن کے مقابلے میں سائنس کا علم ناقص ہے، جبکہ قرآن کامل ہے تو ناقص کو کامل پر فوقیت کیسے اور کیوں کردی جاسکتی ہے۔ اسے ہماری بدقسمتی کہئے یا قیامت کے قریب ہونے کی نشانی کہ انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں زندگی بسر کرنے والے جب نشہ اقتدار یا کسی دوسری بدمستی میں مست ہوتے ہیں تو یورپ کی مادی ترقیات سے مرعوب ہوکر آیات قرآنیہ کو سائنس کے مسائل اور جدید تحقیقات پر ڈھال دیا کرتے ہیں جن پر خود ماہرین سائنس کو پورا وثوق اور اطمینان ہے کہ شاید آئندہ چل کر ہماری یہ تحقیقات غلط ثابت ہوجائیں۔ عجب ماجرا ہے کہ استاد توشک اور تردّد میں ہے اور شاگرد یقین کی آخری منزل میں ہے۔ مقصد گویائی یہ ہے کہ آج ہماری نصابی کتب بھی انہی فرسودہ اور دقیانوسی خیالات سے پُر ہیں اور طلباء ایسی فضول باتیں پڑھ کر گمراہ اور دین سے دور ہورہے ہیں۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے کہ جہاں اور باتوں میں مشرق اور مغرب کا اختلاف ہے اور سب سے بڑا جھگڑا مذہب کا ہے تو یہ مسئلہ بھی خالص مذہبی نوعیت کا ہے اور ہمیں خالصتاً مشرقی مسلمان بن کر اپنی مذہبی کتاب کی روشنی میں اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ اس لئے کہ یہ خلیجیں اس قدر وسیع ہوچکی ہیں کہ اب ان کو پاٹنا ناممکن ہوگیا ہے اور اس بات کو تو ایک مغربی مفکر نے بہت پہلے کہہ دیا تھا: ’’مشرق مشرق ہے اور مغرب مغرب ہے اور یہ دونوں کبھی ایک نہیں ہوسکتے‘‘ اب ایک اور اہم مسئلہ مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہمارے ہاں علماء کرام کو سائنسی علوم کی ترویج و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ تو یہ الزام مذہبی علماء پر غلط اور بے بنیاد ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جہاں مذہب کے خلاف سائنس نے بات کی ہے تو مذہب کے پاسبانوں نے دین کی حفاظت کی ہے۔ مثلا حرکت زمین پرجب مذہب پر آنچ آئی تو علماء کرام نے ہی آواز اٹھائی۔ یعنی جب مذہب کو داغدار کرنے کی کوشش بلکہ مذموم سازش کی جاتی ہے تو علماء میدان میںآتے ہیں اور اصولاً بحیثیت مسلمان کے ہونا یہ چاہئے کہ سائنسی مسائل کا حل مذہب کے حوالے شے پیش کرنا چاہئے، بصورت دیگر گمراہی پھیلتی ہے۔ زمانہ قدیم کے حکماء اور علماء شروع سے متفقہ طور پر یہ مانتے آئے تھے کہ ہماری یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں، بالکل ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گھومتا ہے۔ مگر جدید سائنس نے جہاں اور بہت سے قدیم نظریات کو باطل کردیا وہاں قوی اور جدید ترین آلات رصد کے ذریعے یہ بات بھی ثابت کردی کہ سورج کی گردش اور زمین کے ساکن ہونے کا مسئلہ غلط تھا۔ اب معاملہ بالکل الٹ ہے یعنی اب علم الارض کے ماہر اور سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ زمین مع اپنے تمام متعلقات کے بڑی تیزی سے سورج کے گرد گھوم رہی ہے اور سورج ساکن ہے۔ قرآن پاک کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے سائنس اور علوم قدیم کی طرف کس قدر ترغیب دی ہے اور ان قوانین قدرت کو جو مظاہر فطرت ہیں، ان کی طرف کس قدر پرزور طریقے سے توجہ دلائی ہے۔ مسلمانوں نے بے شمار سائنس دان پیدا کئے ہیں جن کے علم کی روشنی سے یورپ بھی فیض یاب ہوا ہے۔ مذہبی سائنس کے حوالے سے ایک بات یہ بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ مسلمان سائنس دان مذہبی علوم کے بھی ماہر ہوتے تھے اور بیک وقت کئی کئی علوم پر سند تعلیم کئے جاچکے تھے اور آج بھی اسلامی سائنس کی روایات برقرار ہے، جبکہ یونانی سائنس (مغربی سائنس)ے اپنا دم توڑ چکی ہے اور اپنی روایات سے بہت دور جاچکی ہے۔ سائنس مسلمانوں کا موروثی فن ہے اور ہم نہایت فخریہ طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاتح عالم ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے علم کی بھی بڑی خدمت کی۔ سائنسی اور تحقیقی کارناموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کائنات کے سربستہ راز آشکارا کئے۔ عناصر قدرت پر حکمرانی کی۔ جب خدائے واحد کے ساتھ ان کا تعلق قائم ہوا تو یہ عقیدہ واضح ہوا کہ الہیات، فلسفہ، تصوف اور نفسیات کے علاوہ تاریخ، جغرافیہ، طب، ہیئت اور ریاضی جیسے تمام سائنسی علوم حضورﷺ کے غلاموں کے قدموں میں ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمانوں کی غفلت سے اغیار نے ان میں ترقی کرلی اور ان علوم سے مسلمانوں کا قلع تعلق کرلیا۔ ذراغور تو کیجئے کہ کتنی عجیب بات ہے کہ جدید سائنس اپنا رشتہ یونانی دور سے ملاتی ہے اور درمیان سے مسلمانوں کا ایک ہزار سالہ دور روز روشن میں غائب کردیا جاتا ہے۔ اگر آپ ایجادات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ارشیدس کی چرخی 1260) قبل مسیح) کے فورا بعد ہی گٹن برگ کے چھاپہ خانہ 1450)ئ) کا ذکر آتا ہے۔ متعصب مغربی مورخین نے دانستہ طور پر اسلامی ترقی کے ڈیڑھ ہزار سال غائب کردیئے۔ اب ایسی صورت حال میں جہاں سائنس اسلام کے خلاف بات کررہی تھی، ایک عظیم اسلامی مفکر، عاشق رسولﷺ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے سائنس کا ابطال فرمایا اور آپ نے حرکت زمین کے رد میں ایک سو پانچ دلیلیں دیں۔ سائنس دانوں نے صرف اتنا ہی نہیں کہ زمین کو محور گردش ثابت کرنا چاہا ہے بلکہ انہوں نے تو صاف طور سے آسمان کے وجود کا بھی انکار کیا ہے۔ بظاہر اس سادہ بیان میںعوام کو تو کوئی خرابی نظر نہیں آئی ہوگی لیکن اگر ذرا سا غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ سائنس دانوں کا نظریہ مذہب اسلام کی بنیاد پر ایک کاری ضرب ہے۔ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ اسلامی سائنس کے داعی تھے اور سائنسی نظریات کو مذہبی تناظر میں پرکھتے تھے۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ’’سائنس یوں مسلمان نہ ہوگی کہ اسلامی مسائل کو سائنس کے مطابق کرایا جائے یوں تو معاذ اﷲ اسلام نے سائنس قبول کی نہ کہ سائنس نے اسلام قبول کیا، وہ مسلمان ہوگی تو یوں کہ جتنے اسلامی مسائل سے اسے اختلاف ہے سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے، جابجا سائنس ہی کے اقوال سے مسئلہ اسلامی کا اثبات ہو، سائنس کا ابطال و اسکات ہو تو یوں سائنس قابو میں آئے گی۔ اصول سائنس تارعنکبوت ہیں۔ قرآن مجید اور اسلام کے اصول ربانی ہیں۔ اس لئے جو سائنسی مسئلہ قرآن و اسلام کے موافق ہوگا، وہ ہمارے لئے قابل عمل ہے جو اس کے خلاف ہوگا ہم اسے دیوار پر ماریں گے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ: ’’سائنس کو اصول اسلام کے تابع ہونا چاہئے نہ کہ غلط سائنس دانوں کے غلط اصولوں پر اسلام کو ڈھالا جائے‘‘ قرآن کریم نے فکر انسانی کو نہ صرف بدلہ بلکہ ان کے ذہنوں اور روحوں میں جو انقلاب پیدا کیا وہ آج تک زندہ تابندہ ہے اور ان شاء اﷲ تاحشر قائم و دائم رہے گا۔ قرآن کریم میں علوم کی ایک دنیا آباد ہے۔ جدید سائنس کی بنیادیں استوار کرنے والے مسلمان سائنس دانوں کی فہرست تو بہت طویل ہے تاہم مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔ جابر بن حیان،الکندی، الرازی، الفرغانی، ثابت بن قرہ، الفارابی، مسعودی، مالکرفی، البغدادی، ابن عیسٰی، الغزالی، ابن رشد، ابن الہیشم، بوعلی سینا، عمر خیام، خوارزمی، البیرونی۔ یہ ہمیشہ کا دستور ہے کہ زوال پذیر قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو رشک کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہیں اور پھر ان کے افراد کا عقیدہ بن جاتا ہے کہ وہ ان کے علم کو محفوظ کرلیں۔ اتنا ہی کافی ہے، ان سے آگے بڑھنا تو درکنار ان کی برابری بھی ناقابل تصور ہے۔ اس احساس کمتری کی نفسیات کے زیر اثر وہ اپنی تمام قوتیں صرف حفاظت میں صرف کرتی ہے۔ مگر امت مسلمہ کے اس زوال کے دور میں بھی رحمت ذوالجلال نے وقت کے ہر تھوڑے فاصلے پر کوئی نہ کوئی روشنی کا مینار نصب کئے رکھا اور یہ انہی مینارۂ نور کا طفیل ہے کہ امت مسلمہ ایک مرتبہ پھر زوال کے آخری کنارے کو عبور کرنے کے سرے پر ہے اور عروج کے میدان میں ان شاء اﷲ قدم رکھنا اب دور نہیں۔ وقت کی شاہراہ پر نصب روشنی کے ان میناروں میں سے ایک قریب ترین اور روشن مینارہ ’’احمد رضا خان‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ جس کی روشنی آج 70 سال کے فاصلے سے بھی ظلمتوں کا سینہ چیرتی ہوئی جویان حق کو عروج کی سرحدوں کی جانب رواں دواں رہنے میں معاون ہے۔ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے