Jump to content

کمیونٹی میں تلاش کریں

Showing results for tags 'bail aor gadha'.

  • ٹیگ میں سرچ کریں

    ایک سے زائد ٹیگ کاما کی مدد سے علیحدہ کیے جا سکتے ہیں۔
  • تحریر کرنے والا

مواد کی قسم


اسلامی محفل

  • اردو فورم
    • اردو ادب
    • فیضان اسلام
    • مناظرہ اور ردِ بدمذہب
    • سوال و درخواست
    • گفتگو فورم
    • میڈیا
    • اسلامی بہنیں
  • انگلش اور عربی فورمز
    • English Forums
    • المنتدی الاسلامی باللغۃ العربیہ
  • اسلامی محفل سے متعلق
    • معلومات اسلامی محفل
  • Arabic Forums

تتیجہ ڈھونڈیں...

وہ نتیجہ نکالیں جن میں یہ الفاظ ہوں


تاریخ اجراء

  • Start

    End


Last Updated

  • Start

    End


نمبرز کے حساب سے ترتیب دیں...

Joined

  • Start

    End


Group


AIM


MSN


Website URL


ICQ


Yahoo


Jabber


Skype


مقام


Interests


پیر

  1. امامُ الوہابیہ اسمٰعیل دہلوی نے سیدُ الانبیاء و المرسلین خاتم النبیین شفیع المذنبین آقا کریم علیہ التحیۃ و التسلیم کی شدید ترین گستاخی کی ہے اور (نماز میں) ان کے خیال مبارک کو اپنے گدھے اور بیل کی صورت کے خیال سے بھی کہیں درجے زیادہ بُرا مانا ہے اور رسول اللہ رحمۃ للعٰلمین ﷺ کا خیال آنے سے شرک ثابت ہو جانا مانا ہے۔ اب اساطین دیوبند کا حال دیکھیں:۔ نجدی نام نہاد مفتیوں نے نہ صرف ہر نماز میں رسول اللہ عالم ما کان وما یکون نبی پاک ﷺ کا خیال پاک آنا ضروری مانا ہے بلکہ اگر یہ خیال بر سبیل التعظیم و العبادۃ بھی آئے تو بھی نماز کے صحیح ہونے کا فتویٰ جاری کیا ہے اور دونوں صورتوں میں باز پرس و گرفت نہ ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ:۔ نجدی ہر نماز میں مشرک ہو جاتے ہیں (کیونکہ بقول مفتیانِ دارالعلوم دیوبند ہر نماز میں رسول اللہ ﷺ کا خیال آنا تو ضروری ہے جبکہ بقول امامُ الوہابیہ ایسی صورت میں شرک ثابت ہو جاتا ہے)۔ اور یہ کہ ایک ہی کام نجدیوں کے ہاں جائز و ضروری بھی ہوتا ہے (بقول مفتیانِ دارالعلوم دیوبند) جبکہ وہی کام عین شرک بھی (بقول امام الوہابیہ)!۔ اور یہ کہ نجدیوں کے عقیدہ کے مطابق مشرک سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا خیال نماز میں آنے سے بقول امام الوہابیہ وہ شخص مشرک قرار پاتا ہے جبکہ بقول مفتیانِ دارالعلوم دیوبند رسول اللہ ﷺ کا خیال پاک ہر نماز میں آنا جائز و ضروری ہے اور ایسے شخص سے کوئی باز پرس بھی نہیں ہوگی)۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجدیوں کی توحید اور عبادت کی قلعی بھی آخر کھل ہی گئی!۔ ہمیں مسکوت عنہ افعال بجا لانے پر بدعتی گردانتے پھرتے ہیں جبکہ خود ان کے ہاں شرک مسکوت عنہ ہے!!۔ تبلیغی جماعتیں بنا بنا کر لوگوں کو بظاہر دعوتِ نماز دیتے ہیں مگر درحقیقت خود اپنی نمازوں میں مشرک بن جاتے ہیں!!!۔ اور شرک کی مذمت اور شرک و مشرک سے بچنے پر نہایت ہی زیادہ زور دیتے ہیں تو سُنیوں کو زیادہ محتاط ہو جانا چاہیے کہ نہ ان نجدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھیں (حسب سابق) اور نہ انکی کسی کام میں مدد کریں (کیونکہ جب نجدی ہیں ہی مشرک تو کیا انکی نمازیں اور کیا دیگر اعمال!!!!َ)۔
×
×
  • Create New...