Sign in to follow this  
Followers 0
SunniDefender

اللہ سے کشتی ؟ کیا ؟

24 posts in this topic

Posted (edited) · Report post

plz is swal ka jawab dain

Allah sy kushti ??

ye kaisy possible hy ??

43.jpg

P01-Title.jpg

P78-79.jpg

Edited by SunniDefender

Share this post


Link to post
Share on other sites

Barelvi kab tak yeh jhoot bolte rahen ge ke Fawaed-e-Fareedia unn ki kitab nahin....? Yeh kitab na siref barelvi hazrat ke akabreen main se aik peer-o-murshid ki hai bal'k barelvion ke nazdeek aitqadi masael yani aqeede per behtareen kitab hai.

 

Jis taraf thanvi ka apne mureed apne naam ka kalma parrhana per apni tareef kerna kufer tha issi tarah barelvion ka Nabi s.a.w. ke elawa auron ka kalma parrhna, parrhana aur doosri kufria baten kerna bhi kufer hai.

 

Allah hadayet de, Aameen.

post-1317-12797823623944.jpg

post-1317-12797823815031.jpg

post-1317-12797823922759.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

السلام علیکم

فوائد فریدیہ کے متعلق طفیل رضوی صاحب کی بے خبری معتبر نہیں ھے۔ اور ھمارے

مخالف نے شرف قادری صاحب کی بات بالکل صحیح نقل کی ھے البتہ مخالفین کی دھاندلی

یہ ھوتی ھے کہ فوائدِ فریدیہ کے حوالے نقل کرتے ھوئے

حضرت خواجہ غلام فرید کا اصل موقف نقل نہیں کرتے۔

آپ نے فوائدِ فریدیہ کے صفحہ نمبر اکہتر ۷۱ پر صاف لکھا ھے کہ

اُنہوں نے ذوق اور مستی کا کلام فرمایا ھے۔ صوفیائے کرام ان کو شطح کے نام سے

تعبیر کرتے ھیں۔

بعد کے صفحوں پر کئی بزرگوں کے مجذوبانہ "مستی کے کلام" درج ھیں

اور مستی کی حالت والا مرفوع القلم ھوتا ھے۔

فلاں رسول اللہ اب کسی کو کہنا کلمہ کفر ھے کیونکہ آپ(saw) خاتم النبیین ھیں۔

پھر نسبتِ تکلم قطعی طور پر ثابت نہیں بلکہ خبرِ واحد کا درجہ بھی نہیں رکھتی۔

پھر اسی حکایت میں متکلم کا غلبہ حال مستی یا ان کا رجوع بھی مل جاتا ھے۔

دعا گو

سعیدی

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

(bis)

بزرگوں کی شطحیات کے نظائر متشابہات میں بھی بعض اوقات مل جاتے ھیں

چنانچہ حدیث پاک میں ھے

ان السقط لیراغم ربہ (مشکوٰۃ،جنائز،دفن المیت،ثالث)۔

کچا گرا ھوا بچہ، اپنے رب سے لڑائی کرے گا۔

یہاں شارحین نے تاویل کی ورنہ رب سے کون لڑ سکتا ھے؟

ممکن ھے کہ مستی کے کلام کی مراد یہ ھو کہ

آج صبح میں نے اپنے رب سے ایسی دعا مانگی جس میں

رب کی قضاء کو اپنی دعا سے رد کرنے کی کوشش کی۔

(ah)

Edited by Saeedi
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Asslamoalaikum 2 all muslims,

جناب ٹی نار صاحب

 

میری کی متعدد تحریروں میں فوائد فریدیہ کی بابت پہلے لکھا جا چکا ھے

کسی کی بے خبری یا کسی کی تحریر سے میری بے خبری کو آپ غلط رنگ

نہ دیں۔

خواجہ صاحب نے فوائد فریدیہ میں منسوب واقعات کو تاویل سکر کے ساتھ قبول

کیا ھے۔آپ خواجہ صاحب سے حکایت نقل کرتے ھو تو خواجہ صاحب کی تاویل

بھی نقل کر دیا کرو،ورنہ یہ نقل میں خیانت ھوگی۔

تاویل سکر کے بغیر خواجہ صاحب ان باتوں کو درست نہیں مانتے۔ خواجہ صاحب

نے اُن منسوب حکایات کا محمل بتایا ھے۔

تذکرہ غوثیہ میں سکریات کا باب الگ ھوتا تو قاری کو ضرر نہ دیتا۔

فوائدالسالکین ۵۸۲ میں لکھی گئی جب جامع بابا فرید کی عمر دس بارہ سال بھی نہ تھی۔پھر اس میں ھے کہ میں اپنے شیخ قطب الدین کی وفات کے وقت موجود نہ تھا حالانکہ آپ کی وفات اپنے شیخ سے پہلے ھوئی ھے تو ملفوظات فوائد السالکین کی تاریخی حیثیت کی توثیق درکار ھے۔ ھر منسوب یا مشہور چیز معتبر نہیں ھوا کرتی۔ پس چشتی رسول اللہ کا اصل ماخذ ھی جھوٹا ھے۔ تو اس سے استناد کرنا بغیر کسی تاویل کے کیونکر صحیح ھو سکتا ھے؟

وھابی بیچارے اپنی کفریات کا جواب نہیں دے پاتے تو ایسی منسوب شطحیات کی آڑ لیتے ھیں ۔

جناب والا!حالت مستی کا احتمال ھی کافی ھوتا ھے ،اُس وقت خاص کا ثبوت لازمی ھوتا،ملاحظہ فرمائیے ابوداؤد شریف۔ حدیث رفع القلم۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Asslamoalaikum 2 all muslims,

جناب تالی نینور صاحب

 

میری متعدد تحریروں میں فوائد فریدیہ کی بابت پہلے لکھا جا چکا ھے

کسی کی ان سے بے خبری یا کسی کی تحریر سے میری بے خبری کو آپ غلط رنگ

نہ دیں۔

خواجہ صاحب نے فوائد فریدیہ میں منسوب واقعات کو تاویل سکر کے ساتھ قبول

کیا ھے۔آپ خواجہ صاحب سے حکایت نقل کرتے ھو تو خواجہ صاحب کی تاویل

بھی نقل کر دیا کرو،ورنہ یہ نقل میں خیانت ھوگی۔ لا تقربوا الصلوٰۃ نقل کرنا اوروانتم سکارٰی چھوڑنا کوئی تحقیق نہیں بلکہ خیانت ھے۔

تاویل سکر کے بغیر خواجہ صاحب ان باتوں کو درست نہیں مانتے۔ خواجہ صاحب

نے اُن منسوب حکایات کا محمل بتایا ھے۔

تذکرہ غوثیہ میں ایسی باتوں کی سکریہ تاویل اورالگ باب ھوتا تو قاری کو ضرر نہ دیتا۔

فوائدالسالکین ۵۸۲ میں لکھی گئی جب جامع بابا فرید کی عمر دس بارہ سال بھی نہ تھی۔پھر اس میں ھے کہ میں اپنے شیخ قطب الدین کی وفات کے وقت موجود نہ تھا حالانکہ آپ کی وفات اپنے شیخ سے پہلے ھوئی ھے تو ملفوظات فوائد السالکین کی تاریخی حیثیت کی توثیق درکار ھے۔ ھر منسوب یا مشہور چیز معتبر نہیں ھوا کرتی۔ پس چشتی رسول اللہ کا اصل ماخذ ھی غیرمعتبر ھے۔ تو اس سے استناد کرنا بغیر کسی تاویل کے کیونکر صحیح ھو سکتا ھے؟

وھابی بیچارے اپنی کفریات کا جواب نہیں دے پاتے تو ایسی منسوب شطحیات کی آڑ لیتے ھیں ۔

جناب والا!حالت مستی کا احتمال ھی کافی ھوتا ھے ،اُس وقت خاص میں حالت سکر کا ثبوت دینا لازمی نہیں ھوتا،ملاحظہ فرمائیے ابوداؤد شریف۔ حدیث رفع القلم کے تحت حضرت علی اورحضرت عمر کی بحث ۔۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

درستی کا شکریہ۔ فوائد السالکین میں حضرت قطب الدین کی طرف منسوب ھے کہ میں اپنے شیخ کی وفات کے وقت موجود نہ تھا۔حضرت قطب الدین کی وفات اپنے شیخ کی حیات میں ھوئی ھے توفوائدالسالکین میں جو بیان منسوب ھے اُس سے پتہ چلتاھے کہ فوائدالسالکین کی نسبت حضرت کی طرف درست نہیں یا پھر کتاب میں بعض باتیں الحاقی ماننا لازم آتی ھیں۔ دیگرغیرمتعلقہ باتوں کا جواب بھی حاضر ھے

a.jpg

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

[quote 'talinenoor' date='27 July 2010 - 07:39 PM

,

چل مرے خامہ بسم اللہ

4.jpg

5.jpg

6.jpg

7.jpg

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

masha_allah.gifjazak_allah.gif HAZRAT SAEEDI SAB,BARE DIL KI KHOWASH HE KE AP KI QADAM BOSI KA SHARF HASIL HO,OR FAQEER KO AP SE SHARAH ASOOL SIKHNE KA KOI MUQA MU YASIR HO,JIS KHOBI SE AP URDU LOGHAT ME ASOOL KI TASHREEH FARMAT E HEN,SHAED HI APKA KOI MANAZIR SAMNE AE,ALLAH TAALA AP JESE ULOOMA KA SAYA HAM AHLE SUNAT PER HAMESHA RAKHE AMEEN.

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

من عادیٰ لی ولیا فقد اذنتھ بالحرب

جس نے میرے ولی سے دشمنی کی اس سے میرا اعلان جنگ ھے

14.jpg

13.jpg

12.jpg

11.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Asslamoalaikum 2 all muslims,

ٹیلینار جی !آپ نے رمضان المبارک کا سہارا لیا تھا تو مکمل لیتے ۔آپ نے خضرعلیہ السلام کا

معاملہ اٹھایا ھے، میں نے قرآن مجید سے دلیل دی تھی۔اُس کا جواب تو آپ دے نہ سکے اور حضرت

حکیم الامت مفتی احمدیارخاں کے بیٹے اقتدارکو دلیل بنایا۔ آپ کو معلوم ھو کہ مفتی اقتدار کو جمہور

اھل سنت معتبر نہیں مانتے ھیں اور وہ حجت نہیں ھے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.