Jump to content
اسلامی محفل
Sign in to follow this  
ghulam e murshid

Melad Par Aetraz

Recommended Posts

 

:unsure:koi is ka juwab dein(salam)

جشن ميلاد النبى كا حكم

الحمد للہ رب العالمين، والصلاۃ والسلام على نبينا محمد و آلہ و صحبہ اجمعين، و بعد:

سب تعريفيں اللہ رب العالمين كے ليے ہيں، اور ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے سب صحابہ كرام پر درود و سلام كے بعد:

كتاب و سنت ميں اللہ تعالى كى شريعت اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اتباع و پيروى اور دين اسلام ميں بدعات ايجاد كرنے سے باز رہنے كے بارہ جو كچھ وارد ہے وہ كسى پر مخفى نہيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{كہہ ديجئے اگر تم اللہ تعالى سے محبت كرنا چاہتے ہو تو پھر ميرى ( محمد صلى اللہ عليہ وسلم ) كى پيروى و اتباع كرو، اللہ تعالى تم سے محبت كرنے لگے گا، اور تمہارے گناہ معاف كر دے گا} آل عمران ( 31 ).

اور ايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{جو تمہارے رب كى طرف سے تمہارى طرف نازل ہوا ہے اس كى اتباع اور پيروى كرو، اور اللہ تعالى كو چھوڑ كر من گھڑت سرپرستوں كى اتباع و پيروى مت كرو، تم لوگ بہت ہى كم نصيحت پكڑتے ہو}الاعراف ( 3 ).

اور ايك مقام پر فرمان بارى تعالى كچھ اس طرح ہے:

{اور يہ كہ يہ دين ميرا راستہ ہے جو مستقيم ہے، سو اسى كى پيروى كرو، اور اسى پر چلو، اس كے علاوہ دوسرے راستوں كى پيروى مت كرو، وہ تمہيں اللہ كے راستہ سے جدا كرديں گے} الانعام ( 153 ).

اور حديث شريف ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" بلا شبہ سب سے سچى بات اللہ تعالى كى كتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدايت و راہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم كى ہے، اور سب سے برے امور اس دين ميں بدعات كى ايجاد ہے"

اور ايك دوسرى حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے بھى ہمارے اس دين ميں كوئى ايسا كام ايجاد كيا جو اس ميں سے نہيں تو وہ كام مردود ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2697 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1718 )

جارى ہےاور مسلم شريف ميں روايت ميں ہے كہ:

" جس نے بھى كوئى ايسا عمل كيا جس پر ہمارا حكم نہيں تو وہ عمل مردود ہے"

لوگوں نے جو بدعات آج ايجاد كرلى ہيں ان ميں ربيع الاول كے مہينہ ميں ميلاد النبى كا جشن بھى ہے ( جسے جشن آمد رسول بھى كہا جانے لگا ہے ) اور يہ جشن كئى اقسام و انواع ميں منايا جاتا ہے:

كچھ لوگ تو اسے صرف اجتماع تك محدود ركھتے ہيں ( يعنى وہ اس دن جمع ہو كر ) نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى پيدائش كا قصہ پڑھتے ہيں، يا پھر اس ميں اسى مناسبت سے تقارير ہوتى اور قصيدے پڑھے جاتے ہيں.

اور كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو كھانے تيار كرتے اور مٹھائى وغيرہ تقسيم كرتے ہيں.

اور ان ميں سے كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جو يہ جشن مساجد ميں مناتے ہيں، اور كچھ ايسے بھى ہيں جو اپنے گھروں ميں مناتے ہيں.

اور كچھ ايسے بھى ہيں جو اس جشن كو مذكورہ بالا اشياء تك ہى محدود نہيں ركھتے، بلكہ وہ اس اجتماع كو حرام كاموں پر مشتمل كر ديتے ہيں جس ميں مرد و زن كا اختلاط، اور رقص و سرور اور موسيقى كى محفليں سجائى جاتى ہيں، اور شركيہ اعمال بھى كيے جاتے ہيں، مثلا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب كرنا، اور انہيں پكارنا، اور دشمنوں پر نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے مدد مانگنا، وغيرہ اعمال شامل ہوتے ہيں.

جشن ميلاد النبى كى جتنى بھى انواع و اقسام ہيں، اور اسے منانے والوں كے مقاصدہ چاہيں جتنے بھى مختلف ہوں، بلاشك و شبہ يہ سب كچھ حرام اور بدعت اور دين اسلام ميں ايك نئى ايجاد ہے، جو فاطمى شيعوں نے دين اسلام اور مسلمانوں كے فساد كے ليے پہلے تينوں افضل دور گزر جانے كے بعد ايجاد كى.

جارى ہےاسے سب سے پہلے منانے والا اور ظاہر كرنے والا شخص اربل كا بادشاہ ملك مظفر ابو سعيد كوكپورى تھا، جس نے سب سے پہلے جشن ميلاد النبى چھٹى صدى كے آخر اور ساتويں صدى كے اوائل ميں منائى، جيسا كہ مورخوں مثلا ابن خلكان وغيرہ نے ذكر كيا ہے.

اور ابو شامہ كا كہنا ہے كہ:

موصل ميں اس جشن كو منانے والا سب سے پہلا شخص شيخ عمر بن محمد ملا ہے جو كہ مشہور صلحاء ميں سے تھا، اور صاحب اربل وغيرہ نے بھى اسى كى اقتدا كى.

حافظ ابن كثير رحمہ اللہ تعالى " البدايۃ والھايۃ" ميں ابو سعيد كوكپورى كے حالات زندگى ميں كہتے ہيں:

( اور يہ شخص ربيع الاول ميں ميلاد شريف منايا كرتا تھا، اور اس كا جشن بہت پرجوش طريقہ سے مناتا تھا،...

انہوں نے يہاں تك كہا كہ: بسط كا كہنا ہے كہ:

ملك مظفر كے كسى ايك جشن ميلاد النبى كے دسترخوان ميں حاضر ہونے والے ايك شخص نے بيان كيا كہ اس دستر خوان ( يعنى جشن ميلاد النبى كے كھانے ) ميں پانچ ہزار بھنے ہوئے بكرے، اور دس ہزار مرغياں، اور ايك لاكھ پيالياں، اور حلوى كے تيس تھال پكتے تھے..

اور پھر يہاں تك كہا كہ:

اور صوفياء كے ليے ظہر سے فجر تك محفل سماع كا انتظام كرتا اور اس ميں خود بھى ان كے ساتھ رقص كرتا اور ناچتا تھا.

ديكھيں: البدايۃ والنھايۃ ( 13 / 137 ).

اور " وفيات الاعيان " ميں ابن خلكان كہتے ہيں:

اور جب صفر كا شروع ہوتا تو وہ ان قبوں كو بيش قيمت اشياء سے مزين كرتے، اور ہر قبہ ميں مختلف قسم كے گروپ بيٹھ جاتے، ايك گروپ گانے والوں كا، اور ايك گروپ كھيل تماشہ كرنے والوں كا، ان قبوں ميں سے كوئى بھى قبہ خالى نہ رہنے ديتے، بلكہ اس ميں انہوں نے گروپ ترتيب ديے ہوتےتھے.

اور اس دوران لوگوں كے كام كاج بند ہوتے، اور صرف ان قبوں اور خيموں ميں جا كر گھومتے پھرنے كے علاوہ كوئى اور كام نہ كرتے...

اس كے بعد وہ يہاں تك كہتے ہيں:

اور جب جشن ميلاد ميں ايك يا دو روز باقى رہتے تو اونٹ، گائے، اور بكرياں وغيرہ كى بہت زيادہ تعداد باہر نكالتے جن كا وصف بيان سے باہر ہے، اور جتنے ڈھول، اور گانے بجانے، اور كھيل تماشے كے آلات اس كے پاس تھے وہ سب ان كے ساتھ لا كر انہيں ميدان ميں لے آتے...

جارى ہےاس كے بعد يہ كہتے ہيں:

اور جب ميلاد كى رات ہوتى تو قلعہ ميں نماز مغرب كے بعد محفل سماع منعقد كرتا.

ديكھيں: وفيات الاعيان لابن خلكان ( 3 / 274 ).

جشن ميلاد النبى كى ابتداء اور بدعت كا ايجاد اس طرح ہوا، يہ بہت دير بعد پيدا ہوئى اور اس كے ساتھ لہو لعب اور كھيل تماشہ اور مال و دولت اور قيمتى اوقات كا ضياع مل كر ايسى بدعت سامنے آئى جس كى اللہ تعالى نے كوئى دليل نازل نہيں فرمائى.

اور مسلمان شخص كو تو چاہيے كہ وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كا احياء كرے اور جتنى بھى بدعات ہيں انہيں ختم كرے، اور كسى بھى كام كو اس وقت تك سرانجام نہ دے جب تك اسے اس كے متعلق اللہ تعالى كا حكم معلوم نہ ہو.

جشن ميلاد النبى صلى الله عليه وسلم كا حكم:

جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم كئى ايك وجوہات كى بنا پر ممنوع اور مردود ہے:

اول:

كيونكہ يہ نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ميں سے ہے، اور نہ ہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خلفاء راشدين كى سنت ہے.

اور جو اس طرح كا كام ہو يعنى نہ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہو اور نہ ہى خلفاء راشدہ كى سنت تو وہ بدعت اور ممنوع ہے.

اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ميرى اور ميرے خلفاء راشدين مہديين كى سنت پر عمل پيرا رہو، كيونكہ ہر نيا كام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہى و ضلالت ہے"

اسے احمد ( 4 / 126 ) اور ترمذى نے حديث نمبر ( 2676 ) ميں روايت كيا ہے.

ميلاد كا جشن منانا بدعت اور دين ميں نيا كام ہے جو فاطمى شيعہ حضرات نے مسلمانوں كے دين كو خراب كرنے اور اس ميں فساد مچانے كے ليے پہلے تين افضل ادوار گزر جانے كے بعد ايجاد كيا، اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا قرب حاصل كرنے كے ليے ايسا كام كرے جو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نہ تو خود كيا اور نہ ہى اس كے كرنے كا حكم ديا ہو، اور نہ ہى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد خلفاء راشدين نے كيا ہو، تو اس كے كرنے كا نتيجہ يہ نكلتا اور اس سے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پر يہ تہمت لگتى ہے كہ ( نعوذ باللہ ) نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دين اسلام كو لوگوں كے ليے بيان نہيں كيا، اور ايسا فعل كرنے سے اللہ تعالى كے مندرجہ ذيل فرمان كى تكذيب بھى لازم آتى ہے:

جارى ہےفرمان بارى تعالى ہے:

{آج كے دن ميں نے تمہارے ليے تمہارے دين كو مكمل كر ديا ہے} المائدۃ ( 3 ).

كيونكہ وہ اس زيادہ كام كو دين ميں شامل سمجھتا ہےاور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے ہم تك نہيں پہنچايا.

دوم:

جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانے ميں نصارى ( عيسائيوں ) كے ساتھ مشابھت ہے، كيونكہ وہ بھى عيسى عليہ السلام كى ميلاد كا جشن مناتے ہيں، اور عيسائيوں سے مشابہت كرنا بہت شديد حرام ہے.

حديث شريف ميں بھى كفار كے ساتھ مشابہت اختيار كرنے سے منع كيا گيا اور ان كى مخالفت كا حكم ديا گيا ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا:

" جس نے بھى كسى قوم كے ساتھ مشابہت اختيار كى تو وہ انہى ميں سے ہے"

مسند احمد ( 2 / 50 ) سنن ابو داود ( 4 / 314 ).

اور ايك روايت ميں ہے:

" مشركوں كى مخالفت كرو"

صحيح مسلم شريف حديث ( 1 / 222 ) حديث نمبر ( 259 ).

اور خاص كر ان كے دينى شعائر اور علامات ميں تو مخالف ضرور ہونى چاہيے.

سوم:

جشن ميلاد النبى صلى اللہ عليہ وسلم منانا بدعت اور عيسائيوں كے ساتھ مشابہت تو ہے ہى، اور يہ دونوں كام حرام بھى ہيں، اور اس كے ساتھ ساتھ اسى طرح يہ غلو اور ان كى تعظيم ميں مبالغہ كا وسيلہ بھى ہے، حتى كہ يہ راہ اللہ تعالى كے علاوہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب كرنے اور مانگنے كى طرف بھى لے جاتا ہے، اور شركيہ قصيدے اور اشعار وغيرہ بنانے كا باعث بھى ہے، جس طرح قصيدہ بردہ وغيرہ بنائے گئے.

حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے تو ان كى مدح اور تعريف كرنے ميں غلو كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

" ميرى تعريف ميں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ كرو جس طرح نصارى نے عيسى بن مريم عليہ السلام كى تعريف ميں غلو سے كام ليا، ميں تو صرف اللہ تعالى كا بندہ ہوں، لھذا تم ( مجھے ) اللہ تعالى كا بندہ اور اس كا رسول كہا كرو"

صحيح بخارى ( 4 / 142 ) حديث نمبر ( 3445 )، ديكھيں فتح البارى ( 6 / 551 ).

يعنى تم ميرى مدح اور تعريف و تعظيم ميں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ كرو جس طرح عيسائيوں نے عيسى عليہ السلام كى مدح اور تعظيم ميں مبالغہ اور غلو سے كام ليا، حتى كہ انہوں نے اللہ تعالى كے علاوہ ان كى عبادت كرنا شروع كردى، حالانكہ اللہ تعالى نے انہيں ايسا كرنے سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

{اے اہل كتاب تم اپنے دين ميں غلو سے كام نہ لو، اور نہ ہى اللہ تعالى پر حق كے علاوہ كوئى اور بات كرو، مسيح عيسى بن مريم عليہ السلام تو صرف اور صرف اللہ تعالى كے رسول اور اس كے كلمہ ہيں، جسے اس نے مريم كى جانب ڈال ديا، اور وہ اس كى جانب سے روح ہيں} النساء ( 171 ).

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس خدشہ كے پيش نظر ہميں اس غلو سے روكا اور منع كيا تھا كہ كہيں ہميں بھى وہى كچھ نہ پہنچ جائے جو انہيں پہنچا تھا، اسى كے متعلق بيان كرتے ہوئے فرمايا:

" تم غلو اور مبالغہ كرنے سے بچو، كيونكہ تم سے پہلے لوگ بھى غلو اور مبالغہ كرنے كى بنا پر ہلاك ہو گئے تھے"

سنن نسائى شريف ( 5 / 268 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى حديث نمبر ( 2863 ) ميں

eh maine ek deobndi forum mein padha tha.

Edited by ghulam e murshid

Share this post


Link to post
Share on other sites

is article main aik bhi Quran Shareef ki aayat ya Hadees shareef pesh nhi ki gayi jissay meelad shareef ki mumanat sabit hoti ho

 

behrhal Shah Arbal (ra) ki shakhsiat per ungli uthayi gayi hay ..

 

 

Shah-e-Arbal k haalat jaannay k liy parhain

 

Ta'aruf Shah-e-Arbal:

 

 

http://library.faizaneattar.net/Books/index.php?id=496

 

 

Download:

 

 

http://library.faizaneattar.net/download.php?id=496

Share this post


Link to post
Share on other sites

:unsure:koi is ka juwab dein(salam)[/b][/color][/size]

جشن ميلاد النبى كا حكم

عید میلادالنبی صلی اللہ علییہ وسلم کا ثبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

 

از: مفتی احمدالقادری مصباحی

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہر مسرت ہر خوشی کی جان عیدمیلادالنبی

عید کیا ہے عید کی بھی شان عیدمیلادالنبی

ساعت اعلٰی و اکرم عید میلادالنبی

لمحہء انوار پیہم عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے یہ عظیم خوشی کا دن ہے۔ اسی دن محسن انسانیت، خاتم پیغمبراں، رحمت دو جہاں، انیس بیکراں، چارہ ساز درد منداں، آقائے کائنات، فخر موجودات، نبیء اکرم، نور مجسم، سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم خاکدان گیتی پر جلوہ گر ہوئے۔ آپ کی بعثت اتنی عظیم نعمت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی نعمت اور بڑی سے بڑی حکومت بھی نہیں کر سکتی۔ آپ قاسم نعمت ہیں، ساری عطائیں آپ کے صدقے میں ملتی ہیں۔ حدیث پاک میں ہے:

 

 

انما انا قاسم واللہ یعطی۔ میں بانٹتا ہوں اور اللہ دینا ہے۔ (بخاری و مسلم)

اللہ تعالٰی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بعثت پر اپنا احسان جتایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔

 

لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا۔

بےشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ انھیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن، سورۃ3 آیت164)

انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی ولادت کا دن سلامتی کا دن ہوتا ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 

وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا۔ (سورۃ19 آیت33)

دوسری جگہ حضرت یحیٰی علیہ السلام کے لئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے:

 

سلامتی ہے ان پر جس دن پیدا ہوئے۔ (قرآن کریم سورہ19 آیت15)

ہمارے سرکار تو امام الانبیاء و سیدالمرسلین اور ساری کائنات سے افضل نبی ہیں۔ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پھر آپ کا یوم میلاد کیوں نہ سلامتی اور خوشی کا دن ہوگا۔ بلکہ پیر کے دن روزہ رکھ کر اپنی ولادت کی خوشی تو خود سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے منائی اور ان کی اتباع، صحابہءکرام ، تابعین، تبع تابعین، اولیائے کاملین رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے آئے اور آج تک اہل محبت کرتے آ رہے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے:

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پیر اور جمعرات کو خیال کرکے روزہ رکھتے تھے۔ (ترمذی شریف)

دوسرے حدیث میں ہے:

 

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزے کا سبب پوچھا گیا، فرمایا اسی میں میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔ (مسلم شریف)

نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے وقت ابولہب کی لونڈی حضرت ثوبیہ (رضی اللہ تعالٰی عنہا) نے آکر ابولہب کو ولادت نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خبر دی۔ ابولہب سن کر اتنا خوش ہوا کہ انگلی سے اشارہ کرکے کہنے لگا، ثوبیہ! جا آج سے تو آزاد ہے۔ ابولہب جس کی مذمت میں پوری سورہ لہب نازل ہوئی ایسے بدبخت کافر کو میلاد نبی (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے موقع پر خوشی منانے کا کیا فائدہ حاصل ہوا امام بخاری کی زبانی سنئیے:

 

جب ابولہب مرا تو اس کے گھر والوں (میں حضرت عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ) نے اس کو خواب میں بہت برے حال میں دیکھا۔ پوچھا، کیا گزری ؟ ابولہب نے کہا تم سے علیحدہ ہو کر مجھے خیر نصیب نہیں ہوئی۔ ہاں مجھے (اس کلمے کی) انگلی سے پانی ملتا ہے جس سے میرے عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے کیوں کہ میں نے (اس انگلی کے اشارے سے) ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔

 

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (958ھ متوفی 1052ھ) جو اکبر اور جہانگیر بادشاہ کے زمانے کے عظیم محقق ہیں، ارشاد فرماتے ہیں:

اس واقعہ میں میلادشریف کرنے والوں کے لئے روشن دلیل ہے جو سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شب ولادت خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں۔ یعنی ابولہب جو کافر تھا، جب آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے اس کو انعام دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں محبت سے بھر پور ہو کر مال خرچ کرتا ہے اور میلاد شریف کرتا ہے۔ (مدارج النبوۃ دوم ص26)

 

نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالٰی کی طرف سے بہت بڑی رحمت بن کر دنیا میں تشریف لائے۔

 

وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین۔

اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔ (کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن سورۃ21، آیت107)

اور رحمت الٰہی پر خوشی منانے کا حکم تو قرآن مقدس نے ہمیں دیا ہے:

 

قل بفضل اللہ و برحمۃ فبذلک فلیفرحوا۔

تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں۔ ( کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن سورۃ10، آیت58 )

لٰہذا میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے موقع پر جتنی بھی جائز خوشی و مسرت اور جشن منایا جائے قرآن و حدیث کے منشا کے عین مطابق ہے بدعت سیئہ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایسا اچھا اور عمدہ طریقہ ہے جس پر ثواب کا وعدہ ہے۔ حدیث پاک میں ہے:

 

من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھامن بعدہ من غیران ینقص من اجورھم شئی۔

جو اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور ان کا ثواب بھی اسے ملے گا جو اس کے بعد اس نئے طریقے پر عمل کریں گے، اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی بھی نہ ہو گی۔ (مسلم شریف

Edited by Sag-e-Attar

Share this post


Link to post
Share on other sites

Bhai sahab kia in sab batoon ka Sahaba Ko nahi pata tha??????????

 

روایاتِ ولادت کے راوی صحابہ ھیں یا نہیں؟

 

جس محفل میں بھی کسی صحابی نے کوئی ایسی روایت

 

بیان کی وہ محفل میلاد کہی جا سکتی ھے یا نہیں؟

 

پیر کا روزہ صحابہ کرام رکھتے تھے یا نہیں؟ اگر

 

ھاں تو وہ کس کی یاد میں ھوتا تھا؟

 

کیا تم اُن لوگوں کو صحابہ مانتے ھو جو سرکار(saw) کے

 

میلاد سے جلتے تھے؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

روایاتِ ولادت کے راوی صحابہ ھیں یا نہیں؟

 

جس محفل میں بھی کسی صحابی نے کوئی ایسی روایت

 

بیان کی وہ محفل میلاد کہی جا سکتی ھے یا نہیں؟

 

پیر کا روزہ صحابہ کرام رکھتے تھے یا نہیں؟ اگر

 

ھاں تو وہ کس کی یاد میں ھوتا تھا؟

 

کیا تم اُن لوگوں کو صحابہ مانتے ھو جو سرکار(saw) کے

 

میلاد سے جلتے تھے؟

mera sawal yea hey k ravayat valadat mey iktelaf kio jab key ap sey zada un ko eshq ta Hazzrat Muhmmad sey............kis kisam ki ravayat bean ki jay?............. zikar Mustafa hota tha.......... ap bhi roza rakhleen na kisi ney mana kia hey kia....... yad ka tu pata nahi albata Sunnat Rasol hota hey :rolleyes:.............. apni akal per matam karen....... Sahabi bolty kis ko hain ap ap ko jawab khud mil jay ga..........

Edited by Usman Razawi
PBUH likhna mana hay

Share this post


Link to post
Share on other sites

mera sawal yea hey k ravayat valadat mey iktelaf kio jab key ap sey zada un ko eshq ta Hazzrat Muhmmad PBUH sey............kis kisam ki ravayat bean ki jay?............. zikar Mustafa hota tha.......... ap bhi roza rakhleen na kisi ney mana kia hey kia....... yad ka tu pata nahi albata Sunnat Rasol hota hey :rolleyes:.............. apni akal per matam karen....... Sahabi bolty kis ko hain ap ap ko jawab khud mil jay ga..........

 

اختلاف تاریخ وفات میں کیوں ھے؟ کیا صحابہ وفات کے منکر تھے؟

 

سرکار(saw) کی یاد میں ذکر(زبانی عبادت)روزہ(بدنی عبادت)خیرات

 

صدقات (مالی عبادت)کو روک کر آپ لوگ مناع للخیر بن چکے ھیں۔

 

سرکار(saw) کی میلاد سے شیطان کو تکلیف ھوئی اور سرکار(saw) کے

 

میلاد کی یاد سے قرن الشیطان کو تکلیف ھوتی ھے۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

اختلاف تاریخ وفات میں کیوں ھے؟ کیا صحابہ وفات کے منکر تھے؟

 

سرکار(saw) کی یاد میں ذکر(زبانی عبادت)روزہ(بدنی عبادت)خیرات

 

صدقات (مالی عبادت)کو روک کر آپ لوگ مناع للخیر بن چکے ھیں۔

 

سرکار(saw) کی میلاد سے شیطان کو تکلیف ھوئی اور سرکار(saw) کے

 

میلاد کی یاد سے قرن الشیطان کو تکلیف ھوتی ھے۔

 

 

Saeedi Bhai, in logon ko yeh b bataa dein k Milaad asal mein hai kiya? yeh LAFZ kya hai, is k ma'ana kya hain or yeh k Milaad mananay ko kaheen kisi ne mana'a b kya???? yeh bay-charay BHAIRR CHAAL chal rahey hain.

in se yeh b poocha jaey keh ye Chillay 3 roza, 10 roza, 40 roza ya saal saal bhar k, sahab-e-kiram se kahan saabit hein?? taqseem-e-asnaad ki taqreebaat, khidmaat-e-ulema-e-deband, deoband ka 100 salaa jashn, 150 salaa jash, hotelon mein Iftaar party / roza khushaee, 6 roza, 10 roza taraveeh, tarjumah k saath taraveeh waghera..

 

post-4514-12837541356972.jpg

Saeedi Bhai, ALLAH (azw) aap ki umr daraaz farmaey - aameen.

Edited by ghulam.e.ahmed

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
Sign in to follow this  

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...