Jump to content
IslamiMehfil

بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات


Recommended Posts

ابھی کچھ دنوں پہلے ایک اردو فورم پر بی بی سی اردو سے ڈاکٹرمبارک علی کا آرٹیکل "بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات" پڑھا۔ موصوف کی علمی خیانت اور اس فورم کے کچھ ممبران کی بکواس برداشت نہ ہوئی اس لئے فورم جوائن کرکے جوابات بھی دئیے۔ پھر آگے سے ایک دیوبندی ممبر نے بحث شروع کی جس کے جواب میں میری طرف کئے گئے کئی سوالات کا جواب موصول نہ ہوا۔ وہاں دیوبندیوں کے پرانے "ملنگ" بھی ملے، ابھی تک ویسے ہی ہیں البتہ گالی گلوچ پہلے کی طرح نہیں کی۔ خیر اس بحث کا خاتمہ تو کیا ہونا تھا، فورم کے ممبران نے خود ہی فرمائش کردی کہ بجائے دیوبندی ممبر سے سوالات کے جوابات کی امید کرنے کے، ڈاکٹرمبارک علی کے آرٹیکل پر بات کی جائے۔ میں نے سوچا یہاں بھی نقل کردوں کہ ڈاکٹرمبارک علی جیسے مبصرین کی علمی اوقات بھی واضح ہوجائے۔

 

پہلے ڈاکٹرمبارک علی کا آرٹیکل پیش کرتا ہوں پھر اس کا جواب؛

 

بی بی سی

 

برصغیر میں بریلوی اور دیوبند مسالک میں اختلافات کا سلسلہ تو کئی دہائی پرانا ہے مگر ان میں شدت پاکستان کے قیام کے بعد دیکھی گئی ہے۔

 

دونوں مسالک کی بنیاد ہندوستان میں پڑی یعنی دیوبند اور رائے بریلی میں۔

 

تاریخی مطالعے کے مطابق بریلوی مسلک کے لوگوں نے انگریز حکومت کے خلاف جہاد سے انکار کیا اور آج بھی اس کو جاری رکھا ہوا ہے۔

نامور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے دس سال بعد دیوبند مدرسہ کا قیام عمل میں آیا، جس کا یہ مقصد تھا کہ چونکہ اب مغلوں کی حکومت نہیں رہی لہذا یہاں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا جائے اور اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا جائے۔

 

’یہ احیائے اسلام کے حامی لوگ تھے، جن کا خیال تھا کہ اسلام میں کافی رسومات داخل ہوگئی ہیں جنہیں نکال کر خالص اسلامی رسومات اور تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ دیوبند کے اس نظریے نے بڑی مقبولیت حاصل کی اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر مسلم ممالک سے بھی یہاں طالب علم آنے لگے تھے۔‘

 

ڈاکٹر مبارک علی بتاتے ہیں کہ بریلوی فرقہ بہت بعد میں سامنے آیا۔ ’احمد رضا خان بریلوی جو رائے بریلی سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے انیس سو بیس کے قریب یہ مکتبہ فکر قائم کیا، جن کا یہ موقف تھا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بہت ساری رسومات چونکہ مسلمانوں نے اختیار کرلی ہیں لہذا اب انہیں نکالنا نہیں چاہیے۔ ان رسومات میں مزاروں کی زیارت، منتیں ماننا، نذرو نیاز، فاتحہ خوانی، اور موسیقی شامل تھیں جنہیں دیوبندی نہیں مانتے تھے۔‘

 

بقول ڈاکٹر مبارک علی کے اس وقت دیوبند مسلک کے لوگوں کا تعلق دیہات اور نچلے طبقے سے تھا جبکہ بریلوی مسلک کے لوگ شہروں اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

 

برصغیر کی تاریخ اور مذہبی علما کے سیاسی کردار کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ دیوبندی اور بریلوی ایک دوسرے سے ضرور شدید اختلافات رکھتے تھے مگر انگریزوں کے دور حکومت میں قتل و غارت یا اس بنیاد پر ایک دوسرے کو جان سے مارنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ’یہ شدت پسندی پاکستان بننے کے کئی سال بعد آئی ہے جس میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ورنہ انگریزوں کے دور میں یہ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بھی دیتے تھے، ایک دوسری مساجد میں نہیں جاتے یا ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘

 

ڈاکٹر مبارک علی کا خیال ہے کہ علاقائی پس منظر بھی اس بارے میں اہمیت رکھتا ہے، ان کے مطابق پاکستان میں خیبر پختون خواہ میں کافی لوگ دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں یہاں کے لوگ مدرسوں میں پڑھنے جایا کرتے تھے اس کے بعد انہوں نے اسی طرز کے مدرسے یہاں بھی تعمیر کیے۔

 

’یہ پہاڑی اور خشک علاقہ ہے ان کی زندگی میں رنگینی زیادہ نہیں اس لیے انہیں دیوبند نظریہ فکر زیادہ پسند آیا۔ اس کے برعکس بریلوی مسلک میں زندگی کے آثار ہیں۔ وہ نعت خوانی بھی کرتے ہیں ہر تہوار پر خصوصی کھانا پکاتے ہیں اور عرس منایا جاتا ہے۔ دیوبندیوں میں کلچرل پہلو بلکل بھی نہیں اور نہ کوئی رنگینی ہے۔ اس وجہ سے بریلویوں میں ذہنی لحاظ سے زیادہ وسعت ہے جبکہ دیوبند زیادہ تنگ نظر ہیں۔‘

 

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق تحریک جہاد جو تحریک محمدیہ بھی کہلاتی ہے کے بانی سید احمد شہید جب حج کرنے سعودی عرب گئے تھے تو وہاں وہ بھی وہابی تحریک سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے سرحد میں اسلامی حکومت قائم کرنے بھی کوشش کی تھی وہ بھی وھابی نقطہ نظر کے حامی تھی اور کسی بھی رسم کو نہیں مانتے تھے ان کا علاقے میں کافی اثر رسوخ تھا اور لوگ ان سے متاثر تھے۔

 

دیگر کئی دانشوروں اور مصنفوں کی طرح ڈاکٹر مبارک علی کی بھی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ بقول ان کے انیس سو ستر کی دہائی میں جب سعودی عرب میں تیل کی پیداوار کے بعد دولت کی ریل پیل ہوئی تو وھابی اسلام پاکستان میں شدت کے ساتھ آیا ہے۔

 

’بریلیوں کو باہر سے کوئی سرپرستی نہیں ملی۔ اس کے برعکس دیوبندیوں اور وھابیوں کو سعودی سرپرستی ملی۔ ان کے مدرسوں اور علما کے پاس پیسہ اور اس کے ساتھ ان کی اہلحدیث تحریک کی بہت زیادہ سرپرستی ہوئی، جس سے دیوبندی مالی اور سیاسی لحاظ سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے اس مقابلے میں بریلوی تحریک سرپرستی نے ملنے کی وجہ سے طاقتور نہیں ہوسکی۔‘

 

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق افغان جہاد کی بھی دیوبندیوں نے حمایت کی اور حصہ لیا مگر بریلویوں نے اس کی حمایت نہیں کی۔

 

جب متحدہ ہندوستان میں یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہندوستان کو دارالحرب کہنا چاہیے یا دارالاسلام تو بریلوی اس بات کے حامی تھے کہ چونکہ یہاں انہیں مذہبی آزادی ہے لہذا ہندوستان دارالحرب نہیں ہیں۔ اس لیے نہ تو یہاں سے ہجرت کرنا چاہیے اور نہ ہی انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ موجودہ وقت بھی بریلوی کسی جہادی تحریک میں شامل نہیں۔

  • Like 2
Link to post
Share on other sites

دونوں مسالک کی بنیاد ہندوستان میں پڑی یعنی دیوبند اور رائے بریلی میں۔

 

سب سے پہلی بات تو یہ کہ "بریلوی" کوئی مسلک نہیں، یہ ایک نسبت ہے جو مخالفین کی طرف سے ہی دی گئی جس کی بنا پر آج عوام کو یہ مغالطہ دیا جاتا ہے کہ "بریلوی" ایک نئی اور فرقہ ناجیہ اہلسنت و الجماعت سے علیحدہ ایک جماعت ہے۔ مخالفین کے اس پروپیگنڈا کی اولین وجہ امامِ اہلسنت مجّددِ دین و ملّت الشاہ احمد رضاخاں قادری رضی اللہ عنہ کی دنیائے اسلام میں بےپناہ مقبولیت ہی رہی۔ اعلٰیحضرت رضی اللہ عنہ کی بدمذہبوں، دین کے اہزنوں اور گستاخانِ رسولﷺ کے غیراسلامی افکارونظریات کی سرکوبی کے ردّعمل کے طور پر محض ضد اور عناد کی بنا پر مخالفین نے انہیں اور ان کے ہم مسلک علما و مشائخ کو "بریلوی" کا نام دیا تاکہ ناواقف عوام کو یہ باور کراسکیں کہ دوسرے باطل فرقوں کی طرح یہ بھی ایک نیا فرقہ ہے جو سرزمینِ ہند میں پیدا ہوا اور اس سے پہلے اس فرقے کے افکارونظریات کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ولاحول ولاقوۃ الاباللہ!

 

اس لئے میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ سب سے اپنوں اور بیگانوں کی تحریرات سے یہ واضح کردوں کہ بریلوی کوئی فرقہ نہیں بلکہ یہ وہی جماعت ہے جنہیں اہلسنت والجماعت ہونے کا شرف حاصل ہے۔

 

علما اہلسنت کی وضاحت؛

 

1۔ امام احمدرضاخان رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے حضرت علامہ مولانا مفتی اختررضاخاں الازہری مدظلہ عالیہ سے ایک انٹرویو کے دوران جب سوال کیا گیا کہ پاکستان میں بعض لوگ اپنے آپ کو بریلوی کہتے ہیں اور بعض اپنے آپ کو دیوبندی، کیا یہ اچھی بات ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ؛

 

"بریلوی کوئی مسلک نہیں۔ ہم مسلمان ہیں، اہلسنت والجماعت ہیں۔ ہمارا مسلک یہ ہے کہ ہم حضورﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں، حضورﷺ کے اصحاب کا ادب کرتے ہیں، حضورﷺ کے اہلبیت سے محبت کرتے ہیں، حضورﷺ کی امت کے اولیااللہ سے عقیدت رکھتے ہیں، فقہ میں امامِ اعظم ابوحنیفہ کے مقلد ہیں۔ ہم اپنے آپ کو بریلوی نہیں کہتے، ہمارے مخالف ہمیں بریلوی کہتے ہیں۔(ماہنامہ ضیائے حرم، لاہور، فروری 1988، ص 14)

 

مبلغِ اسلام حضرت علامہ سیّد محمد مدنی فرماتے ہیں؛

 

غور فرمائیے کہ فاضلِ بریلی کسی نئے مذہب کے بانی نہ تھے۔ از اول تا آخر مقّلد رہے، ان کی ہر تحریر کتاب و سنّت اور اجماع وقیاس کی صحیح ترجماں رہی۔ نیز صالحین وائمہ مجتہدین کے ارشادات اور مسلکِ اسلاف کو واضح طور پر پیش کرتی رہیں۔ وہ زندگی کے کسی گوشے میں ایک پل کے لئے سبیلِ مومنین صالحین سے نہیں ہٹے۔ اب اگر ایسے شخص کے ارشاداتِ حقانیہ اور توضیحات وتشریحات پر اعتماد کرنے والوں، انہیں سلف ِصالحین کی روش کے مطابق یقین کرنے والوں کو بریلوی کہہ دیا گیا تو کیا بریلویت وسنّیت کا بالکل مترادف المعنی نہیں قرار دیا گیا؟ اور بریلویت کا وجود فاضلِ بریلی کے وجود سے پہلے تسلیم نہیں کرلیا گیا؟(تقدیم، دورِ حاضر میں بریلوی اہلسنت کا علامتی نشان، ص 10-11)

 

3۔ ماہرِ رضویات پروفیسرڈاکٹرمسعود احمد مظہری اس بارے میں فرماتے ہیں کہ؛

 

"امام احمد رضا پر ایک الزام یہ ہے کہ وہ بریلوی فرقے کے بانی ہیں۔ اگر تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بریلوی کوئی فرقہ نہیں بلکہ سوادِ اعظم اہلسنت کے مسلکِ قدیم کو عرفِ عام میں بریلویت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ عرف بھی پاک وہند میں محدود ہے۔ اصل میں امام احمد رضا اور اس مسلکِ قدیم کے مخالفین نے اس کے بریلویت کے نام سے یاد کیا ہے اور بقول ابو یحییٰ امام خان نوشروی "یہ نام علما دیوبند کا دیا ہوا ہے"۔ ڈاکٹرجمال الدین (جامعہ حنفیہ، دہلی) نے بھی اپنے ایک تحقیقی مقالے میں یہی تحریر فرمایا ہے کہ یہ نام مخالفین کا دیا ہوا ہے۔(آئینہ رضویات، ص 300)

 

۔ آستانہ عالیہ شاہ آبادشریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ سیّد محمد فاروق القادری اسے جاہلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں؛

 

"اہلسنت و جماعت کو بریلوی کہنا کسی طرح درست نہیں۔ اگر آج جماعتِ اسلامی کے افراد کو مودودی پارٹی کہیئے یا مودودئیے کہنا اور تبلیغی جماعت کو الیاسی جماعت کہنا درست نہیں تو آخر ملک کے سوادِ اعظم کو بریلوی کہنا کس منطق کی رو سے درست ہے؟ تعجب ہے کہ خود اہلسنت کے بعض اصحاب کو بھی اس کا احساس نہیں اور وہ بڑے فخر سے اپنے آپ کو بریلوی کہہ کر متعارف کراتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بریلی یا دیوبند کی سرزمین سے نہیں پھوٹا۔ لہذا اس طرح کی تراکیب ونسبتیں اپنا عالمانہ نقطہ نظر سے فریقین کے لئے ایک جاہلانہ اقدام ہے۔(فاضلِ بریلی اور امورِ بدعت، ص 69)

 

اور کافی علما اہلسنت کے اقوال موجود ہیں لیکن سب کو یہاں پیش کرنا طوالت کا سبب ہوگا اس لئے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ اب ذرا مخالفین کی گواہیاں ملاحظہ ہوں۔

 

سلیمان ندوی لکھتے ہیں؛

 

تیسرا فریق وہ تھا جو شدّت کے ساتھ اپنی روش پر قائم رہا اور اپنے آپ کو اہلِ سنہ کہتا رہا۔ اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علما تھے۔(حیاتِ شبلی، ص 46)

 

ثنااللہ امرتسری نے 1938 میں یہ لکھتے ہیں:

 

اسّی سال پہلے قریباَ سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو آج کل بریلوی حنفی خیال کیا جاتا ہے۔(شمع توحید، ص 53)

 

3۔ اہلسنت کے خلاف لکھی جانے والی کتاب میں بھی یہی گواہی ہے؛

 

"یہ جماعت اپنی پیدائش اور نام اور برِصغیر کے فرقوں میں اپنی شکل وشباہت کے اعتبار سے اگرچہ نئی ہے لیکن افکار اور عقائد کے اعتبار سے قدیم اور پہلے کی ہے۔(احسان الٰہی ظہیر، البریلویۃ (عربی) ، ص 7)

 

یہ اور بات ہے کہ اس کتاب کے مترجم عطاالرحمٰن ثاقب نے ترجمہ میں ان الفاظ کو ہی ہضم کرڈالا جن کا معنی تھا "اہلسنت افکاروعقائد کے اعتبار سے قدیم ہیں"، لیکن عربی نسخے میں اصل عبارت دکھائی جاسکتی ہے۔ یہی احسان الٰہی ظہیر یہ بھی لکھتے ہیں؛

 

"ابتداَ میرا گمان تھا کہ یہ فرقہ پاک وہند سے باہر موجود نہیں ہوگا مگر یہ گمان زیادہ دیر قائم نہیں رہا۔ میں نے یہی عقائد مشرق کے آخری حصے سے مغرب کے آخری حصے تک اور افریقا سے ایشیا تک اسلامی ممالک میں دیکھے۔(البریلویۃ، ص 10)

 

مولوی مظہرحسین دیوبندی ماہنامہ "حق چاریار" میں سیّد محمد بن علوی مالکی کے بارے میں لکھتے ہیں؛

 

"ایک موقع پر جناب علوی مالکی نے ایک مجلس میں کہا؛ سیّدی علامہ مولانا احمد رضا خان فاضل بریلوی کو ہم ان کی تصنیفات اور تالیفات کے ذریعے جانتے ہیں۔ وہ اہلسنہ کے علامہ تھے۔ ان سے محبت کرنا سنّی ہونے کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا اہل بدعت کی نشانی ہے۔

 

اعلیٰحضرت کی ایک ہزار سے زائد کتب اور ان کی تعلیمات و تحریرات آج بھی موجود ہیں اور ان میں کتاب و سنت کے خلاف یا ان سے متضاد کوئی بات پیش نہیں کی جا سکی ہے بلکہ ان کے مخالفین نے بھی انہیں سچا عاشق رسول اور عالم حق تسلیم کیا ہے۔

 

تاریخی مطالعے کے مطابق بریلوی مسلک کے لوگوں نے انگریز حکومت کے خلاف جہاد سے انکار کیا اور آج بھی اس کو جاری رکھا ہوا ہے۔

 

اس ضمن میں تو کافی کچھ لکھا جا چکا۔ ہندوستان کو داراسلام کس کس نے کہا یہ بھی واضح کرچکے ہم۔ اعلٰحضرت کی تصنیفِ لطیف "اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام" آج تک چھپ رہی لیکن اس کا فقہی ردّ اب تک کسی سے ممکن نہ ہوا اور نہ قیامت تک ہوسکے گا۔ اس مسئلہ پر تحقیق پسند حضرات کو چاہئیے کہ مذکورہ کتاب کے ساتھ ساتھ "المحجة المؤتمنة في آية الممتحنة" کا بھی مطالعہ کرے۔

 

مزید یہ کہ اعلٰیحضرت ولادت ہوئی 1856 میں تقریباً سولہ سال بعد سنِ شعوروسنِ بلوغت کو پہنچے۔ اب ذرا بحوالہ کتب کوئی بتلائے کہ اس وقت دیوبندی اکابرین کہاں کس جگہ انگریزوں کے خلاف جہاد کر رہے تھے اور اعلٰیحضرت کا وہ فتوٰی کہاں ہے کہ جسے پڑھ کر علما دیوبند جہاد ترک کرکے روپوش ہوگئے تھے اور بہت سوں نے انگریز کی ملازمتیں اور نوکریاں قبول کرلیں تھیں؟

 

نامور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے دس سال بعد دیوبند مدرسہ کا قیام عمل میں آیا، جس کا یہ مقصد تھا کہ چونکہ اب مغلوں کی حکومت نہیں رہی لہذا یہاں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا جائے اور اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا جائے۔

 

ڈاکٹرمبارک علی غالباَ یہاں یہ موقف اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ فرقہ دیوبند بریلویت سے کافی پہلے وجود میں آیا اور آگے چل کر اسے واضح انداز میں بھی بیان کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ ان کی بےعلمی کی دلیل ہے۔

 

مدرسہ دیوبند کے وجود میں آنے سے پہلے اہلسنت والجماعت کے کئی مدارس ہندوستان میں موجود تھے۔ علما بدایوں کا مدرسہ قادریہ بدایوں دیوبند سے پہلے بھی موجود تھا۔ علامہ لطف اللہ کا دارالعلوم علی گڑھ، مولانا ہدایت جونپوری کا مدرسہ حںفیہ، رامپور میں مولانا ارشاد حسین نقشبندی کا مدرسہ، اجمیر شریف میں جامعہ معینیہ عثمانیہ اور دیگر بہت سے مدارس دارالعلوم دیوبند کے قیام سے پہلے موجود تھے جن میں سے کافی انگریز کے غلبے کے بعد نیست و نابود کردیئے گئے۔ اور ویسے بھی کسی مدرسہ کا پہلے سے وجود ہونا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں وگرنہ تو حضورِ اقدسﷺ کی ولادتِ باسعادت سے پہلے خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت تھے اور حضور اقدسﷺ نے بعد میں نزولِ اجلال فرمایا تو کیا بتوں کا نبیِ اکرم ﷺ سے پہلے موجود ہونا بت پرستوں کی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟

 

اور ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ انگریز 1857 کے غلبے کے بعد ایک طرف تو مسلم سلطنتِ دہلی سے مدارس کو تہہ وبالا کررہا تھا وہاں دوسری طرف سلطنتِ دہلی سے صرف 96 میل دور ہندوؤں کی مشہور و معروف قدیم بستی "دیوی بن" یا "دیبی بن" (زمانہ حال کا دیوبند) میں ایک نئے مدرسے کے قیام و اجرا سے بےخبر رہا اور اس مدرسہ کے قیام کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی؟ ہاں بعد میں لیفٹیننٹ گورنر سرجان ڈگلس، لفٹیننٹ گورنر مسٹر پامر، سرجیمز مسٹن وغیرہ سے تفتیشی معائنے ضرور کرائے گئے لیکن خدا ہی جانے کہ دارالعلوم دیوبند میں ایسے کون سے تہہ خانے تھے جہاں مجاہدین کی سرگرمیاں جاری تھیں جو اتنے معائنوں کے بعد بھی کسی انگریز تفتیشی آفیسرز کی آنکھوں سے اوجھل رہیں۔ غالباً اسکیم یہ رہی ہوگی کہ انگریز سے وظیفے، عطیے، چندے اور معاوضے لے لے کر انہیں اس قدر کنگال کردیں کہ وہ خود ہی ہندوستان چھوڑ کر بھاگ جائے اسی لئے اتنے تفتیشی معائنوں کے بعد بھی انگریز کے ہاتھ کچھ نہ لگا۔

 

لارڈ میکالے کے مرتبہ اصولوں کو دیکھیں تو کافی کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔ لارڈ میکالے کے اصول کے تحت؛

 

"ہمیں (انگریزوں کو) ایک ایسی جماعت بنانی چاہئیے جو ہم میں اور ہماری کڑوڑوں رعایا کے درمیان مترجم ہو اور یہ ایسی جماعت ہونی چاہئیے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر مذاق اور رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو۔ (مسلمانوں کا روشن مستقبل، ص 147، بحوالہ میجر باسو، ص 87)

 

اب آئیے سوانح قاسمی پر نظر ڈالیں تو تصویر کا یہ رخ اور واضح نظر آئے گا۔

 

"عربی کالج (دہلی) کی مشین میں جو کل پرزے ڈھالے جاتے تھے ان کے متعلق طے کیا گیا تھا کہ صورت وشکل کے اور بیرونی لوازم کے حساب سے تو وہ مولوی ہوں اور مذاق ورائے اور سمجھ کے اعتبار سے آزادی کے ساتھ حق کی تلاش کرنے والی جماعت ہو(سوانح قاسمی، ج ا، ص 97-96)

 

جبکہ یہ عربی کالج (دہلی) انگریزوں کی ہی سرپرستی میں تھا۔ اب انگریزوں کی سرپرستی میں "آزادی کے ساتھ حق کی تلاش کرنے والے" کیسے کیسے پرزے تیار کئے گئے ہونگے اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں لیکن بڑے اختصار سے واضح کرتے چلیں کہ اکابرِ دیوبند میں سے مسلمہ اور سرکردہ حضرات قاسم نانوتوی کے استادِ محترم مملوک علی اور مولوی احسن نانوتوی اور خود قاسم نانوتوی وغیرہ انگریزوں کے اسی عربی کالج دہلی کے تربیت یافتہ تھے۔ حتیٰ کہ سرسّید کی فرمائش پر گاڈ فری بگنس کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ مولوی احسن نانوتوی نے ہی کیا تھا۔(مولانا احسن نانوتوی، ص 77،25) (ارواحِ ثلاثہ، ص 301) (تذکرہ علما ہند، ص 210)

 

مزید سواںح قاسمی میں یہ بھی اقرار ہے کہ؛

 

"(مدرسہ دیوبند کے کارکنوں میں اکثریت ) ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پینشنز تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی ( حاشیہ سوانح قاسمی، ج 2، ص 247)

 

غالبا اسی طمانیت کی بنا پر انگریز کے غاصبانہ قبضے میں اس مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔

 

یہ احیائے اسلام کے حامی لوگ تھے، جن کا خیال تھا کہ اسلام میں کافی رسومات داخل ہوگئی ہیں جنہیں نکال کر خالص اسلامی رسومات اور تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ دیوبند کے اس نظریے نے بڑی مقبولیت حاصل کی اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر مسلم ممالک سے بھی یہاں طالب علم آنے لگے تھے

 

یہاں بھی ڈاکٹرمبارک علی نے اپنی کم علمی یا علمی خیانت کی بنا پر غلط بیانی کی ہے۔ علما دیوبند نے ابنِ عبدالوہاب نجدی کے پیرو اسماعیل دہلوی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے علاوہ سبھی کو بدعت اور مشرک قرار دینے کی جو مہم شروع کی تھی آج تک اسی روش پر چلتے ہوئے انہیں معمولات کو شرک اور بدعت قرار دیا جو کتاب و سنّت اور سلفِ صالحین سے ثابت ہیں۔ ان کا تفصیلی تذکرہ آگے کروں گا۔ رہی بات علما دیوبند کی مقبولیت کی تو اس بات کا تو خود علما دیوبند کو بھی اقرار ہے کہ ان کے اکابرین کی متنازع کتب پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بقول علامہ اقبال دیوبندیت کا سرچشمہ وہابیت ہی ہے اور اس کی گواہی خود دیوبندیوں کے گھر میں موجود ہے۔

 

اپنی جماعت کی مصلحت کے لئے حضورﷺ کے فضائل بیان کئے جائیں تاکہ اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے وہ دور ہو اور موقع بھی اچھا ہے کیونکہ اس وقت مختلف طبقات کے لوگ موجود ہیں۔(اشرف السوانح، حصہ 1، ص 76)

 

اسمعیل دہلوی کی تقویۃ الایمان کے ردّ میں علما نے بیشتر کتب لکھیں جن میں خود دہلوی خانوادے کے علما بھی شامل ہیں۔ خود اسمعیل دہلوی اپنی کتاب "تقویۃ الایمان" کے بارے میں اعتراف کرتے ہیں کہ؛

 

"میں نے یہ کتاب لکھی ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس میں بعض جگہ ذرا تیز الفاظ آگئے ہیں اور بعض جگہ تشّدد بھی ہوگیا ہے۔ ان وجوہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی اشاعت سے شورش ضرور ہوگی۔ گو کہ اس سے شورش ہوگی مگر توقع ہے کہ لڑبھڑ کر خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔(ارواحِ ثلاثہِ، ص 81)

 

اسماعیل دہلوی کی یہ توقع پوری ہوئی، اس سے مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا حتٰی کہ خون خرابا تک ہوا اور اب تک ہو رہا ہے۔ رہ گئی یہ توقع کہ لڑبھڑ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے، ایں خیال است و محال است و جنوں!

 

دیوبندی عالم احمد رضا بجنوری اسی کتاب کی بابت لکھتے ہیں کہ؛

 

افسوس ہے کہ اس کتاب تقویۃ الایمان کی وجہ سے مسلمانانِ ہندوپاک جن کی تعداد بیس کڑوڑ سے زیادہ ہے اور تقریباً نوّے صد حںفی المسلک ہیں، دو گرہوں میں بٹ گئے۔ ایسے اختلافات کی نظیر دنیائے اسلام کے کسی خطے میں ایک امام ایک مسلک کے ماننے والوں میں موجود نہیں۔ (انوار الباری، ج 11، ص 107)

 

سرسّید احمد خاں جو عقائد کے اعتبار سے نیچریت کی طرف مائل تھے اس کتاب کے بارے میں حقیقت بیان کرتے ہیں کہ؛

 

جن چودہ کتابوں کا ذکر ڈاکٹر ہنڑ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ان میں سے ساتویں کتاب تقویۃ الایمان ہے چناچہ اس کتاب کا انگریز ترجمہ رائل ایشیاٹک سوسائٹی (لندن) کے رسالے جلد 12، 1825 میں چھپا۔(مقالاتِ سرسّید، ج 9، ص 17cool.gif

 

ابھی اسماعیل دہلوی کی تقویۃالایمان کی لگائی ہوئی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تھی کہ مولوی قاسم نانوتوی نے تحذیرالناس لکھی۔ اس مذموم کتاب کو کتنی مقبولیت ملی اس کے گواہی خود اشرف تھانوی دیتے ہیں؛

 

"جس وقت مولانا نانوتوی صاحب نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھر میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبد الحئی کے۔"(الافاضات الیومیہ، ج 4، ملفوظ 927)

 

اس سب کے بعد بھی اسے "مقبولیت" قرار دینا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

 

ڈاکٹر مبارک علی بتاتے ہیں کہ بریلوی فرقہ بہت بعد میں سامنے آیا۔ ’احمد رضا خان بریلوی جو رائے بریلی سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے انیس سو بیس کے قریب یہ مکتبہ فکر قائم کیا، جن کا یہ موقف تھا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بہت ساری رسومات چونکہ مسلمانوں نے اختیار کرلی ہیں لہذا اب انہیں نکالنا نہیں چاہیے۔ ان رسومات میں مزاروں کی زیارت، منتیں ماننا، نذرو نیاز، فاتحہ خوانی، اور موسیقی شامل تھیں جنہیں دیوبندی نہیں مانتے تھے۔‘

 

ڈاکٹرمبارک علی حسبِ سابق یہاں بھی اپنی علمیت کا بھرپور مظاہر kرتے ہوئے اعلیٰحضرت پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے یہ مکتبہ فکر 1920 میں قائم کیا۔ لیکن حقیقت میں اول تو اعلٰیحضرت نے کسی نئے مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی ہی نہیں۔ خود معتمد دیوبندی مورخ شیخ محمد اکرام ایم اے کہتے ہیں کہ؛(ان کی اس تصنیف کا حوالہ جامعہ بنوریہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے)

 

انہوں (اعلٰیحضرت) نے نہایت شدّت سے قدیم حنفی طریقوں کی حمایت کی۔

﴿موج کوثر: ص: 70﴾

 

دوئم اگر اس سے دارالعلوم منظرِاسلام کا قیام بھی مراد لی جائے تو بھی یہ تاریخ صحیح نہیں کہ دارالعلوم منظرِاسلام کی بنیاد 1904 میں رکھی گئی۔ 1920 تک تو اعلٰیحضرت شیخ ہدایت اللہ بن محمد بن محمد سعید السنی مہاجر مدنی، شیخ موسٰی علی الشامی الازہری اور حافظ کتب الحرم سیّد اسمعیل خلیل مکّی جیسے جیّد علما کرام کی جانب سے "امام الائمہ المجّدد الھندہ الامہ، خاتم الفقہا والمحدثین" جیسے عالی مرتب القابات سے نوازے جاچکے تھے۔

 

یہ بھی ڈاکٹرمبارک علی صاحب کی خام خیالی ہے کہ یہ تمام معمولات ہندوستان میں‌ رہتے ہوئے مسلمانوں نے اختیار کئے ورنہ اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ معمولات تو سلفِ صالحین سے تواتر سے ثابت ہیں۔ ان معمولات کے جواز کی تفصیل میں تو فی الحال نہیں جایا جاسکتا کہ اس میں ہر موضوع تفصیلی گفتگو کا متقاضی ہے۔ لیکن یہاں یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان میں سے اکثر معمولات کے جواز کا ثبوت علما دیوبند کی کتب میں بھی موجود ہے جیسا کہ مزارات کی زیارت، نذرونیاز، فاتحہ خوانی وغیرہ۔ البتہ موسیقی کے بارے میں ڈاکٹرصاحب نے پھر غلط بیانی سے کام لیا ہے کیونکہ اعلٰیحضرت نے فتاوٰی رضویہ میں موسیقی کے حرام ہونے پر فتوٰی دیا ہے چاہے وہ قوالی میں ہو یا گانے بجانے میں۔ ہاں 11 اپریل 2002 کو آغاز اخبار میں سابقہ گلوکار اور حال تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن جنید جمشید کا یہ بیان ان سرخیوں کے ساتھ شائع ہوا تھا۔

 

"موسیقی کو حرام نہیں کہا، نغمے گاؤں گا۔ جنید جمشید۔

اسلام کی روح کے مطابق موسیقی پر کام کرکے دکھاؤں گا، پریس کانفرنس سے خطاب"

 

اسی خبر میں دیوبندیوں کے مشہور عالم تقی عثمانی کا قول بھی نقل کیا ہے کہ؛

 

اسلام بھی موسیقی کی اجازت دیتا ہے لیکن اسلام نے موسیقی کے لئے ایک حد مقرر کردی ہےـ

 

اب یہ تو دیوبندی علما یا ڈاکٹرمبارک ہی بتلائیں گے کہ اسلام میں کس قسم کی موسیقی جائز ہے اور کون سی ناجائز۔

 

برصغیر کی تاریخ اور مذہبی علما کے سیاسی کردار کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ دیوبندی اور بریلوی ایک دوسرے سے ضرور شدید اختلافات رکھتے تھے مگر انگریزوں کے دور حکومت میں قتل و غارت یا اس بنیاد پر ایک دوسرے کو جان سے مارنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ’یہ شدت پسندی پاکستان بننے کے کئی سال بعد آئی ہے جس میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ورنہ انگریزوں کے دور میں یہ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بھی دیتے تھے، ایک دوسری مساجد میں نہیں جاتے یا ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے۔

 

اب بار بار ڈاکٹرمبارک علی کی علمیت پر گفتگو کرنے میں تو ہمیں شرم آرہی ہے لیکن انہیں یقیناً اس کم علمی کے باوجود بھی اس موضوع پر خود کو کچھ لکھنے کا اہل سمجھنے میں شرم نہیں آئی ہوگی۔

 

صرف تقویۃ الایمان کے بارے میں ہی ہم بتلا چکے کہ اس تصنیفِ رذیل کے موجب مسلمانانِ ہند میں کیسا انتشار پیدا ہوا تھا جو اب تک جاری ہے اور جس شدّت میں کمی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

 

رہی بات دونوں فریقین کا ایک دوسرے کی تکفیر کرنا تو اہلسنت و الجماعت پر تکفیر کے فتوے تو آجکل کہ یہ دو دو ٹکّے کے مفتی لگاتے ہیں ورنہ اکابرینِ دیوبند میں سے کسی نے بھی اہلسنت و الجماعت (بریلوی) کی تکفیر نہیں کی۔

 

ایک شخص نے (اشرف علی تھانوی) سے پوچھا، ہم بریلی والوں کے پیچھے نماز پڑھیں تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ فرمایا ہاں، ہم ان کو کافر نہیں کہتے اگرچہ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔(قصص الاکابر، ص 99)

 

ہاں ہماری طرف سے جن علما پر تکفیر کی گئی وہ آج بھی قائم ہے کیونکہ جنہوں نے وہ گستاخیاں کی وہ تو رجوع یا اپنا موقف ثابت کئے بغیر فوت ہوگئے۔

 

ڈاکٹر مبارک علی کا خیال ہے کہ علاقائی پس منظر بھی اس بارے میں اہمیت رکھتا ہے، ان کے مطابق پاکستان میں خیبر پختون خواہ میں کافی لوگ دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں یہاں کے لوگ مدرسوں میں پڑھنے جایا کرتے تھے اس کے بعد انہوں نے اسی طرز کے مدرسے یہاں بھی تعمیر کیے۔

 

’یہ پہاڑی اور خشک علاقہ ہے ان کی زندگی میں رنگینی زیادہ نہیں اس لیے انہیں دیوبند نظریہ فکر زیادہ پسند آیا۔ اس کے برعکس بریلوی مسلک میں زندگی کے آثار ہیں۔ وہ نعت خوانی بھی کرتے ہیں ہر تہوار پر خصوصی کھانا پکاتے ہیں اور عرس منایا جاتا ہے۔ دیوبندیوں میں کلچرل پہلو بلکل بھی نہیں اور نہ کوئی رنگینی ہے۔ اس وجہ سے بریلویوں میں ذہنی لحاظ سے زیادہ وسعت ہے جبکہ دیوبند زیادہ تنگ نظر ہیں۔‘

 

یہ مذہب کا علاقائی پسِ منظر سے جوڑ ہمیں تو سمجھ نہیں آتا۔ ہم نے تو پنجاب، سندھ، بلوچستان، سارے پاکستان میں ہی عوام کو مدرسے جاتے دیکھا ہے۔ یہاں خیبر پختونخواہ کو کس وجہ سے نمایاں طور پر پیش کیا جارہا ہے اس کی وجہ تو ڈاکٹرمبارک ہی جانیں۔ اگر بات صرف زندگی میں رنگینی نہ ہونے کی ہے تو پاکستان کے بیشتر دیہات میں یہی معاملہ ہے۔ البتہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سود اور لواطت کی لعنت کے ساتھ ساتھ کم عمر لڑکیوں کی نکاح کے نام پر خرید و فروخت کرنے کے واقعات سب سے زیادہ خیبر پختونخواہ میں ہی ہوتے ہیں۔ اگر کسی تہوار پر کھانا پکوانا رنگینی ہے تو اس طرح تو ساری امّت ہی رنگین مزاج قرار پائے گی کہ شادی بیاہ، سالگرہ اور دیگر تقریبات میں کھانے کی ضیافت سبھی کا معمول ہے۔ اور رہی بات دیوبندی مسلک میں رنگینی کی تو جتنی رنگینی ہم نے اس مسلک میں دیکھی، قادیانیت کے سوا اور کہیں نہیں دیکھی۔ اس پر حوالہ جات جسے درکار ہوں مانگ لے کہ ایسے پبلک فورم پر بزرگ بھی ہوں اور خواتین بھی اور ان سب کے بیچ ہماری غیرت ہمیں ایسے فحش قصے بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق تحریک جہاد جو تحریک محمدیہ بھی کہلاتی ہے کے بانی سید احمد شہید جب حج کرنے سعودی عرب گئے تھے تو وہاں وہ بھی وہابی تحریک سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے سرحد میں اسلامی حکومت قائم کرنے بھی کوشش کی تھی وہ بھی وھابی نقطہ نظر کے حامی تھی اور کسی بھی رسم کو نہیں مانتے تھے ان کا علاقے میں کافی اثر رسوخ تھا اور لوگ ان سے متاثر تھے۔

 

چلئیے کہیں تو سچ کہا ڈاکٹرصاحب نے! یہ سچ ہے کہ ہندوستان میں افتراق بین المسلمین کی سب سے بڑی وجہ وہابیت ہی تھی اور اسے پھیلانے والے اسمعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی ہی تھے۔ ان کے جہاد کی اصلیت اور سرحد میں ان کا کیا اثرورسوخ تھا اس کی تفصیل ان کے سوانح نگاروں خوب لکھی ہے لیکن پہلے ذرا سید احمد کے علمی حالات پر نظر ڈالتے ہیں پھر آگے بڑھیں گے؛

 

"بزرگ سید بچپن میں اپنے غیر معمولی سکوت کی وجہ سے پرلے درجے کا غبی مشہور ہوگئے تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ اسے تعلیم دینا بےسود ہے۔ کبھی کچھ آئے جائے گا نہیں۔ میں ذہن کی طرف کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا، صرف اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سید کی بچپن میں کیا پوری جوانی میں بھی لکھنے پڑھنے کی طرف طبعیت رجوع نہ تھی۔(حیاتِ طیبہ، ص 37)

 

اسی کے آگے مزید لکھا ہے کہ:

 

"جب وہ ایک ایک جملے کو گھنٹوں جپے جاتا تھا تب کہیں کسی قدر یاد آتا تھا اور دوسرے دن تماشا یہ تھا کہ وہ بھی چوپٹ۔ جب یہ کیفیت ہوئی تو والدین اور میاں جی کو تنبیہہ پڑنے لگی اور گھر کی جھڑکی آنکھیں نکالنے سے گزر کر مار پیٹ تک نوبت پہنچ گئی۔ اسے سے بھی والدین کی آرزو پوری نہ ہوئی۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ قدرتی طور پر اس کے دماغ میں قفل لگ گیا ہے اور یہ کسی طرح کی تنبیہہ سے بھی نہیں پڑھ سکتا تو ناچار ہوکر پڑھنے سے اٹھا لیا۔(حیاتِ طیبہ، ص 137

 

"آپ نے تین سال کی طویل مدّت میں قرآنِ کریم کی چند سورتیں پڑھیں اور حرفِ ہجا لکھنے سیکھے۔"(مخزنِ احمدی، ص 12)

 

لیکن ان کے معتقدین کا کمال ہے کہ اپنے اس پیشوا کی جہالت کو سرکارِ ابد قرارﷺ کے معجزہ امّیت سے ملاتے ہیں۔ خیر یہ تو تھی اس مسلک کے پیشوا کی ذہنی کیفیت اور علمی حالات۔ اب جہاد کی اصلیت پر آئیے۔

 

سید احمد بریلوی کے بھانجے سید محمد علی لکھتے ہیں؛

 

"جب اندھیرا ہوگیا، اس وقت دیدبانوں نے عرض کیا کہ کچھ مشعلیں ہماری طرف آرہی ہیں۔ اسی گفتگو کے دوران کیا دیکھتے ہیں کہ ایک انگریز گھوڑے پر سوار مختلف قسم کے کھانے لے کر کشتی کے قریب کھڑا ہے اور پوچھتا ہے، پادری صاحب کہاں ہیں؟ سید صاحب نے کشتی سے جواب دیا کہ میں یہاں موجود ہوں، تشریف لائیے۔ انگریز فورا گھوڑے سے اترا اور اپنی ٹوپی سر سے اتار کر کشتی میں سید صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ مزاج پرسی کے بعد عرض کیا کہ میں نے اپنے نوکروں کو آپ کے قافلہ کی آمد کی اطلاع کے لئے متعین کر رکھا تھا۔ آج خبر ملی آپ مع قافلہ اس طرف آرہے ہیں۔ یہ خوشخبری سن کر میں نے کھانا تیار کیا اور خدمت میں حاضر ہوگیا۔ حضرت نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ فورا کھانا اپنے برتنوں میں لے کر قافلے میں تقسیم کردو۔ قریب دو گھڑی تک وہ انگریز حضور میں حاضر رہا۔(مخزنِ احمدی فارسی، ص 67)

 

سياسي مصلحت كي بنا پر سيد احمد صاحب نے اعلان كيا كه سركار انگريز سے همارا مقابله نهيں اور نه هميں اس سے كچھ مخاصمت هے ۔ هم صرف سكھوں سے اپنے بھائيوں كا انتقام ليں گے۔ يهي وجه تھي كه حكام انگلشيه بالكل باخبر نه هوئے اور نه ان كي تياري ميں مانع آئے۔﴿حيات طيبه، ص 260﴾

 

"سيد صاحب كا انگريزي سركار سے جهاد كرنے كا هر گز اراده نهيں تھا، وه اس وقت آزاد عمل داری كو اپنی هی عمل داري سمجھتے تھے۔ اس ميں شك نهيں كه سركار انگريز اس وقت سيد صاحب كے خلاف هوتی تو هندستان سے سيد صاحب كو كچھ بھی مدد نه ملتی، مگر سركار انگريزي اس وقت دل سے چاهتی تھی كه سكھوں كا زور كم هو۔"﴿حيات سيد احمد شهيد، ص 293﴾

 

"کلکتہ میں جب مولان اسمعیل صاحب نے جہاد کا وعظ فرمانا شروع کیا ہے اور سکھوں کے مظالم کی کیفیت پیش کی ہے تو ایک شخص نے دریافت کیا، آپ انگریزوں پر جہاد کا فتوٰی کیوں نہیں دیتے۔ آپ نے جواب دیا ان پر جہاد کسی طرح واجب نہیں ہے۔ ایک تو ان کی رعیت ہیں دوسرے ہمارے مذہبی ارکان کے ادا کرنے میں وہ ذرا بھی دست اندازی نہیں کرتے۔ ہمیں ان کی حکومت میں ہر طرح آزادی ہے بلکہ اگر ان پر کوئی حملہ آور ہو تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس سے لڑیں اور اپنی گورنمنٹ پر آنچ نہ آنے دیں۔(حیاتِ طیبہ، ص 324)

 

پہاڑی علاقے سے ہمیں مقالاتِ سرسید سے ایک پہاڑی قسم کا حوالہ یاد آگیا جو اسی پہاڑی قوم کے متعلق ہے۔

 

"یہ (پہاڑی) قوم مذہبی مخالفت میں نہایت سخت ہے۔ اس سبب سے اس قوم نے اخیر میں وہابیوں سے دغا کرکے سکھوں سے اتفاق کرلیا اور مولوی محمد اسماعیل اور سید احمد کو شہید کردیا۔(مقالاتِ سرسید، 9: 139۔140)

 

دیوبندی حضرات سید احمد کو تحریکِ آزادی کی بنیادی تحریک چلانے والا مردِ مجاہد بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن ارواحِ ثلاثہ میں کچھ اس طرح ہے؛

 

"سید صاحب نے پہلا جہاد مسمی یار محمد خاں حاکم یاغستان سے کیا تھا(ارواحِ ثلاثہ، ص 159۔160)

 

اسی صفحہ پر آگے سکھوں سے جہاد کی تفصیل بھی لکھی ہے جہاں سے یہ سید احمد صاحب غائب ہوگئے تھے کہ بقول انکے انہیں "اب غائب رہنے کا حکم ہوا ہے

 

اور دوسری طرف اسمعیل دہلوی کے قتل (جسے وہابیہ شہادت قرار دیتی ہے) کی داستان بھی عجیب ہے۔ وہابیہ کہتے ہیں کہ اسمعیل دہلوی سرحد میں سکھوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اور ابھی کچھ عرصہ پہلے بالاکوٹ میں زلزلے کے حوالے سے یہ قصہ بھی مشہور کیا گیا کہ اتنے شدید زلزلے کے بعد بھی اسماعیل دہلوی کی قبر صحیح سلامت رہی۔ یاد رہے کہ یہ وہی وہابیہ ہیں جنہوں نے توحید کے نام پر جنّت البقیع اور جنّت المعلٰی میں اہلبیت و اصحابِ کرام کی قبور کو مسمار کیا۔ اوّل تو 1893 تک اسماعیل دہلوی کی اس قبر کا کوئی وجود ہی نہ تھا، 62 سال بعد خان عجب خان (نائب تحصیلدار) نے اندازوں کی بنیاد پر ایک جگہ نشان قائم کردیا، اس کی تفصیل غلام رسول مہر کی تصنیف "سید احمد شہید" میں پڑھی جاسکتی ہے۔ ایسی جعلی فرضی غیرثابت قبر اگر کسی اپنے کی نہ ہوتی تو وہابیہ خود ہی ابتک اسے بیعتِ رضوان والے درخت کی مثال دے کر نیست ونابود کرچکے ہوتے لیکن وہابیہ کہ یہاں لینے کے باٹ اور ہیں، دینے کے اور۔

 

ضلع ہزارہ کی تاریخ "تاریخِ ہزارہ" میں اسمعیل دہلوی کے قتل کی داستان یوں بیان کرتے ہیں کہ؛

 

جرگہ یوسف زئی کے پٹھان جو کہ سکھوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار تھے اور مولوی اسماعیل کے حامی ہوچکے تھے ان کے خاندانوں میں رواج تھا کہ یہ لوگ اپنی لڑکیوں کی شادی دیر سے کرتے تھے۔ مولوی اسماعیل نے خلیفہ سید احمد کو اس امر کی اطلاع دی تو خلیفہ صاحب نے ان پٹھانوں پر شرعی حکومت کا زور دے کر ان کی لڑکیوں میں بیس لڑکیاں اپنے پنجابی ہمرائیوں سے بیاہ لیں اور کچھ پٹھانوں کو راضی کرکے دو لڑکیوں کا نکاح خود کرلیا۔ اس معاملہ سے تمام یوسف زئی جرگہ میں مولوی اسماعیل اور سید احمد کے متعلق نفرت پھیل گئی اور ان لوگوں نے سید احمد کی بیعت توڑ دی اور اپنی لڑکیاں واپس لینےکا مطالبہ کیا۔ مولوی اسماعیل وغیرہ نے انکار کیا تو سید احمد اور مولوی اسماعیل نے ان پٹھانوں پر کفر کا فتوٰی دے کر ان سے جہاد کرنا فرض قرار دے دیا۔ ادھر پٹھانوں نے تنظیم قائم کرلی۔ ادھر پنجابیوں نے مقابلہ کیا بلاآخر پٹھان غالب ہوتے نظر آئے تو ایک روز خود مولوی اسماعیل پٹھانوں سے مقابلے کے لئے نکلا۔ ایک یوسف زئی پٹھان نے ایسی گولی چسپ کی کہ سب سے اول اسماعیل ہی کا خاتمہ کردیا اور وہ وہیں ختم ہوگیا۔ اس کے بعد پنجابی بھاگ گئے اور پٹھان کامیاب ہوئے۔ (تاریخِ ہزارہ، انوارِ صداقت ص 519، فریاد المسلمین، ج 2، ص 284)

 

اس کی تائید میں کئی حوالے اور بھی ہیں۔ اول تو سکھوں سے اس جہاد کا فائدہ بھی انگریز کو ہی پہنچا اور وہ پنجاب پر قابض ہوئے جب کہ سکھوں کے طاقتور رہتے ہوئے یہ ممکن نہ تھا۔ مزید اسماعیل دہلوی اور سید احمد صاحب کا نکتہ نظر بھی یہ تھا جو کہ ان کی مخالفت کرے وہ مشرک و مرتد اور واجب القتل ہے۔ سید احمد کو امیرالمومنین بنانے کے سلسلے میں اسماعیل دہلوی کا یہ خط کافی باتوں کو واضح کرتا ہے۔

 

"جو شخص آںجناب (سید احمد) کی امامت ابتدا ہی سے قبول نہ کرے یا قبول کرنے کے بعد اس سے انکار کرے، وہ ایسا باغی ہے کہ اس کا خون بہانا حلال ہے اور اس کا قتل کرنا کافروں کے قتل کی طرح عین جہاد ہے۔ اس کی ہتک کرنی فسادیوں کی ہتک کی طرح رب العباد کی عین مرضی ہے کیوںکہ ایسے لوگ احادیثِ متواترہ کے حکم سے کتّے کی چال چلنے والے ملعونینِ اشرار ہیں۔ اس معاملے میں عاجز کا یہی مسلک ہے لہذا اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کا جواب تلوار کی مار ہے نہ کے تحریروتقریر۔"(مکتوباتِ سید احمد، مکتوب 31)

 

یہی سب کچھ ابن عبدالوہاب نجدی نے حجازِ مقدس کی پاک سرزمین پر کیا تھا اور اسی کے ںظریات کو اسماعیل دہلوی نے برِصغیر میں فروغ دیا۔ سمجھ نہیں آتا کہ ان لوگوں نے روافض کے مسلک کو لیا یا خوارج کے۔ امامت کا مسئلہ روافض کا ہے، گناہِ کبیرہ کے مرتکب کا خون بہانا خوارج کا مسلک ہے۔ سید احمد کی امامت سے اختلاف کرنے والوں کو واجب القتل قرار دینے والوں چاہئیے تھا کہ اصحابِ کرام کے حالات کو دیکھتے جہاں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے مولٰی صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت نہ کی تھی لیکن پھر بھی ان دونوں حضرات سے کسی نے تعرض نہ کیا تھا۔

 

انہیں سید احمد کے متعلق مہدی ہونے کا دعوی بھی ملتا ہے۔

 

"شیخ ولایت علی صادقپوری نے دعوٰی کیا ہے کہ امام امیر (سید احمد) ہی مہدی موعود ہیں، وہ لڑائی میں شہید نہیں ہوئے بلکہ لوگوں کی نظروں سے چھپ گئے ہیں اور وہ اس عالم میں موجود ہیں۔"(حزبِ امام ولی اللہ دہلوی کی اجمالی تاریخ کا مقدمہ، ص 148 )

 

یہی وجہ تھی کہ جہاد کے نام پر مسلمانوں کا خون بہانے والی اس تحریک کا ردّ کیا گیا جس کا اعتراف کرتے ہوئے اسماعیل دہلوی کہتے ہیں؛

 

"معلوم ہوا کہ ہندوستان کے رہنے والے اکثر اسلام کے مدعی، جن میں عقلمند فضلا، مشائخ طریقت، مغرور امرا اور ان کے فاجر و فاسق پیرو بلکہ تمام شریرالنفس منافق اور بدخصلت فاسقوں نے دینِ محمد کو خیرباد کہہ کر کفروارتداد کا راستہ اختیار کرلیا ہے اور جہاد کی کوشش کرنے والوں پر طعن و تشنیع کی زبان کھول رکھی ہے۔"(مکتوباتِ سید احمد، مکتوب 30)

 

خیر اس جہاد کی تفصیل علی گڑھ کے سید مراد علی کی تصنیف "تاریخِ تناولیاں" میں پڑھی جاسکتی ہے۔ یہ جناب 1872 میں بہ سلسلہ ملازمت بلاکوٹ گئے اور وہاں بوڑھے افراد سے واقعات معلوم کرکے نقل کئے، یہ وہ وقت تھا جب اسماعیل دہلوی کے جہاد کو اکتالیس برس ہی ہوئے تھے۔

 

اسماعیل دہلوی کی اس تحریک کے خاتمے کا سبب کیا تھا ملاحظہ فرمائیں۔

 

"شرفا افاغنہ دوسری قوموں کے شرفا سے رشتے ناطے کرنا معیوب نہیں سمجھتے، مہاجرین اپنے ساتھ اہل وعیال تو لے نہیں گئے تھے۔ جب افغان علاقے میں مستقل طور پر رہنے لگے تو انکی شادی بیاہ افغانیوں میں ہوتا رہا۔ مگر امیرشہید (سید احمد) کے دعوٰی خلافت کی اشاعت کرنے والے ہندوستانی اپنی حاکمانہ قوت دکھا کر جبراً افغان لڑکیوں سے نکاح کرنے لگے۔"(حزبِ امام ولی اللہ دہلوی کی اجمالی تاریخ کا مقدمہ، ص 163-164)

 

اس کے ردِّ عمل میں جو کچھ ہوا اس کی تفصیل پڑھیئے۔

 

"کابل میں قیام کے زمانے میں ہم نے اس فتنے کے متعلق کافی معلومات حاصل کرلیں۔ اس کی ابتدا خویشگی کے اس خاندان سے ہوئی جس کی لڑکی کا جبراً نکاح ہوا تھا۔ اس میں زیادہ رہنمائی کرنے والا خٹک کا خان تھا جس نے خویشگی کے خان سے صلح کرلی تھی ان ہر دو خونین کی باہمی پشتی عداوت تھی۔ جب خویشگی کے خان کی ایک لڑکی کا ایک ہندوستانی سے جبراً نکاح کیا گیا تو اس نے خان خٹک سے کہا کہ میں نے اب اپنا دعوٰی چھوڑ دیا ہے کہ اب سوال ننگِ افغان کا ہے۔ ہماری باہمی صلح ہے، تم میری امداد کرو۔ خان خٹک کی نوجوان لڑکی تھی، خان خٹک نے پیغام پہنچتے ہی اسی مجلس میں اپنی دوشیزہ لڑکی کو بلایا اور سرِدربار اس کے سر سے کپڑا اتار دیا اور کہا؛ آج سے تیری کوئی عزت باقی نہیں رہی جبتک افغان کی لڑکی کا انتقام نہیں لیا جاتا۔ تری عزت ہیچ محض ہے۔ اس کے بعد خان خٹک کی یہ لڑکی اس فتنے کے خاتمے تک ہموارِ ننگِ سر رہی۔ رات کو ایک جماعت کے ساتھ جاتی اور گاؤں میں عورتوں مردوں کو جمع کرکے پشتو میں ننگِ افغان کے متعلق لوگوں کو بھڑکاتی، دوسری رات دوسرے گاؤں جاتی۔ اس طرح تمام افغانی علاقے میں شورش منظّم کردی۔ اس پر ایک معین رات میں سب سرداروں کو قتل کردیا اور حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔"(حزبِ امام ولی اللہ دہلوی کی اجمالی تاریخی کا مقدمہ، ص 170)

 

ان سب گواہیوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اسماعیل دہلوی نے مسلمانوں میں انتشار پھیلا کر سید احمد کے ہمراہ جنگ صرف سکھوں اور مسلمانوں سے کیا اور اس کا فائدہ بھی انگریز کو ہی پہنچا۔

 

دیگر کئی دانشوروں اور مصنفوں کی طرح ڈاکٹر مبارک علی کی بھی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ بقول ان کے انیس سو ستر کی دہائی میں جب سعودی عرب میں تیل کی پیداوار کے بعد دولت کی ریل پیل ہوئی تو وھابی اسلام پاکستان میں شدت کے ساتھ آیا ہے۔

 

اس بات پر میں ڈاکٹرمبارک علی سے اتفاق کرتا ہوں۔ آج کے دیوبندی جتنا مرضی وہابیہ سے اپنی برات ظاہر کریں لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ دراصل ایک ہی ہیں اور اس کا ثبوت علما دیوبند کی تحریرات میں جا بجا ملتا ہے۔ یہ تو وہابیت کے نام سے کنارہ کشی اس لئے اختیار کی گئی کہ تقویۃالایمان کے بعد پاک وہند کے مسلمانوں میں وہابیت ایک گالی بن گئی تھی۔ ہم نے خود بزرگوں سے سنا کہ اس زمانے میں کسی سنّی مسجد میں کوئی وہابی گھستا تو اسے نہ صرف باہر نکال دیا جاتا بلکہ پوری مسجد کو پاک کرنے کے لئے دھویا جاتا تھا۔ وہابیت کی اس بدنامی کا اعتراف خود اشرف تھانوی کی سوانح سے ہم پیچھے پیش کرچکے۔ مزید خود کے وہابی ہونے کے اعتراف کے طور پر یہ پڑھیں۔ کانپور کی ایک مسجد میں اشرف تھانوی نیاز لانے والی عورتوں کو کہتے ہیں کہ؛

 

" بھائی یہاں وہابی رہتے ہیں۔ یہاں فاتحہ نیاز کےلئے کچھ نہ لایا کرو۔"(اشرف السوانح، ج 1، ص 45)

 

مزید مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ اعتراف بھی پڑھ لیں۔

 

"انہوں (مولانا خیرالدین) نے وہابیوں کو دو اصولی قسموں میں بانٹ دیا تھا۔ کہتے تھے کہ دو فرقے ہیں۔ ایک اسماعیلیہ دوسرا اسحاقیہ۔ وہ کہتے تھے کہ جب اسماعیلیہ غیرمقبول ہوگیا تو وہابیت نے اپنی اشاعت کے لئے راہ تقیہ اختیار کی اور حنفیت کی آڑ قائم کرکے اپنے دیگر عقائد کی اشاعت کرنے لگے۔(آزاد کی کہانی از عبدالرزاق ملیح آبادی، ص 173)

 

انہیں بگڑتے حالات میں دیوبندیوں نے اپنے مذہب کے بانی اول کے حوالے سے یہ تک لکھ دیا؛

 

"محمد بن عبدالوہاب نجدی چونکہ خیالاتِ باطلہ اور عقائدِ فاسد رکھتا تھا اس لئے اس نے اہلسنت و جماعت کا قتل و قتال کیا۔ وہ ایک ظالم و باغی خونخوار و فاسق شخص تھا۔(الشہاب الثاقب از مولوی حسین احمد، ص 20)

 

لیکن پھر جب سعودیوں نے اشاعتِ وہابیت کے لئے پڑو ڈالر کے دروازے کھولے تو دیوبندیوں نے ابن الوقتی کی مثال قائم کرتے ہوئے یہ فرمایا؛

 

"محمد بن عبدالوہاب کو لوگ وہابی کہتے ہیں، وہ اچھا آدمی تھا۔ سنا ہے کہ مذہبِ حنبلی رکھتا تھا اور عامل بالحدیث تھا، بدعت وشرک سے روکتا تھا۔"(فتاوٰی رشیدیہ، حصہ 3، ص 79)

 

مزید اپنے اکابر کے الشہاب الثاقب میں لکھے قول کی حالات بدلنے پر یہ توجیح کی؛

 

"الشہاب الثاقب کا اندازِ تحریر واقعی غیر محمود اور لائقِ اجتناب ہے بلکہ ہم وہابیوں کے اور بھی بزرگوں سے کہیں کہیں ازراہِ بشریت الفاظ و انداز کی ایسی لغزشیں ہوگئی ہیں۔ انہیں قابلِ اصلاح کہنا چاہئے۔(تجلّی دیوبند،1959، ص 84)

 

سعودیوں کی طرف سے نوازشات کا سلسلہ 1991 تک چلتا رہا، لیکن جب 1991 میں خلیجی جنگ ہوئی اور سعودیوں نے امریکی فوج کو ان کے تمام تر حرام لوازمات کے ساتھ حجازِ مقدس میں بلایا تو برِصغیر کے دیوبندیوں نے حمایت نہ کی۔ وہابیہ کی دوسری شاخ غیرمقلدین کو سعودیوں کی ساری خیرات اپنے حصے میں لانے کا اس بہتر موقع کیا میسر آنا تھا۔ انہوں نے عربوں کو یہ باور کرایا کہ دیوبندی نمک حلال نہیں کہ اتنی خیرات وصول کرنے کے بعد بھی وقت پر کام نہ آئے۔ پھر دیوبندیہ کے خلاف متعدد کتابیں لکھ کر سعودیہ بھجوائیں گئیں جس میں "القول البلیغ فی التحذیر من جماعۃ التبلیغ" قابلِ ذکر ہے جس میں دیوبندیوں کی تبلیغی جماعت کی خامیوں کو طشت ازبام کیا گیا جس کے نتیجے میں سعودیہ عربیہ میں تبلیغی جماعت پر آفیشل پابندی عائد کردی گئی۔ پھر "الدیوبندیہ تعریفھا، عقائدھا" میں علمائے دیوبند کو مشرک اور بدعتی قرار دے کر خود کو برِصغیر میں وہابیت کا اکلوتا سپوت ثابت کیا گیا۔

 

دارالعلوم دیوبند میں گرنے والی پڑوڈالر کی دھار رکی تو اکابرِ دیوبند نے بھی غیرمقلدین کے خلاف اپنی زبان وقلم کے تیور بدل دئیے اور غیرمقلدیت کو عصرِ حاضر کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیا گیا۔ اور یہ کھسیانی بلّی کھمبا نوچے والی حرکتیں پہلی بار نہ کی گئی تھیں۔ جب حسام الحرمین میں علمائے حقہ اہلسنّہ نے دیوبندیہ کے کفریہ عقائد کے خلاف فتاوٰی پر اپنی تصدیقات دیں تب بھی انہیں مغالطہ دینے کی خاطر علمائے دیوبند کی جانب سے ایسی ہی کوشش کی گئی اور "المہند" نامی کتاب لکھ کر اپنے تمام عقائد پر پردہ ڈال کر خود کو صحیح العقیدہ اہلسنت ثابت کرنے کی ناکام کوششیں ہوئی۔ اس "المہند" میں بھی اپنے اکابرین کے وہابیت پرست فتاوٰی کو چھپا کر وہابیت سے اپنی بیزاری ظاہر کی گئی۔ یہ تھی دیوبندیوں کی اپنے رضاعی بھائیوں سے خانہ جنگی کی مختصر داستان۔

 

بریلیوں کو باہر سے کوئی سرپرستی نہیں ملی۔ اس کے برعکس دیوبندیوں اور وھابیوں کو سعودی سرپرستی ملی۔ ان کے مدرسوں اور علما کے پاس پیسہ اور اس کے ساتھ ان کی اہلحدیث تحریک کی بہت زیادہ سرپرستی ہوئی، جس سے دیوبندی مالی اور سیاسی لحاظ سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے اس مقابلے میں بریلوی تحریک سرپرستی نے ملنے کی وجہ سے طاقتور نہیں ہوسکی۔

 

ظاہر ہے جب ہماری طرف سے وہابیت کا ہمیشہ ہی ردّ کیا گیا تو پھر ہمیں ان سے کیا ملنا تھا سوائے مخالفت کے۔ لیکن رضائے الٰہی کے خواہشمندوں کو وہابیت کی نوازشات کے حصول کی تمنا کبھی تھی ہی نہیں اسی لئے مدرسہ منظرِ اسلام کے سنگِ بنیاد رکھتے ہوئے ہی اعلٰیحضرت نے اعلان فرمادیا کہ اس ماہ کے اخراجات میں خود ادا کروں گا۔ جبکہ دوسری طرف علمائے دیوبند کو لکڑ پتھر سب ہضم تھا جنہوں نے نہ انگریز کا مال چھوڑا، نہ وہابیوں کا اور نہ ہندوؤں کا۔ سوانح قاسمی میں دارالعلوم دیوبند کے چندہ دینے والوں کچھ ہندؤوں کے نام موجود ہیں، جس کا جی چاہے دیکھ سکتا ہے۔

 

لیکن اس کے برعکس دارالعلوم منظرِاسلام کے اربابِ انتظام کو بین الاقوامی گداگری کا فن نہیں آتا تھا اس لئے دارالعلوم منظرِاسلام ظاہری نمائشی شہرت سے دور رہا۔ اس سب کے باوجود بھی اللہ عزوجل اور اسکے رسول سرورکونینﷺ کے فضل سے دارالعلوم منظرِاسلام کسی اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار بنے بغیر بھی آج اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ دینی علمی عروج و کمال کے ساتھ موجود ہے۔

 

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق افغان جہاد کی بھی دیوبندیوں نے حمایت کی اور حصہ لیا مگر بریلویوں نے اس کی حمایت نہیں کی۔

 

افغان جہاد کے معاملے پر تو دنیا جانتی ہے کہ کس طرح امریکی ایجنسیوں کے ہاتھوں بک کر کن ملاؤں نے سنّی عوام کی اولادوں کو ورغلا کر جہاد پر بھیج کر اپنی اولادوں کو بجائے جہاد کے، اعلٰی تعلیم کے لئے امریکہ اور برطانیہ بھجوا دیا۔

 

ہم سے جہادِ افغانستان کی بابت سوال کرنے والوں سے کوئی یہ پوچھے کہ سید احمد گیلانی، مولانا نبی محمدی اور صبغت اللہ مجددی جو افغان جہاد کی فرنٹ لائن پر تھے، کون تھے؟ جہاد افغانستان میں15 نومبر1987ء کو خوست کے مقام پر شہید ہونے والے انجمن طلبہ اسلام قائدآباد ضلع خوشاب کے کارکن محمد یونس شہید کے جذبہ شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ شہادت سے قبل ہی دیواروں پر اپنا نام محمد یونس شہید لکھا کرتا تھا۔

 

ہمارے مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف یہ کہ افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف لڑلی جانے والی جنگ کو جہاد قرار دیا بلکہ نائن الیون کے بعد جب امریکہ اور اس کے غلاموں نے افغانستان میں قائم ملا محمد عمر کی اسلامی حکومت کے خلاف حملے کے منصوبے بنانے شروع کئے اور طالبان حکومت پر اقتصادی پابندیاں لگائیں تو یہ مولانا شاہ احمد نورانی ہی تھے کہ جنہوں نے جنرل حمید گل اور مولانا سمیع الحق کو تمام مکاتب فکر کے علما کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے پر مجبور کیا۔ اور پھر طالبان حکومت کی حمایت میں دفاع افغان کونسل کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنا کر طالبان کے حق میں بڑی بڑی ریلیوں' جلسوں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا۔

 

الجزیرہ کی یہ رپورٹ بھی دیکھنے لائق ہے۔

 

http://www.megaupload.com/?d=SGWF8GPT

 

جب متحدہ ہندوستان میں یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہندوستان کو دارالحرب کہنا چاہیے یا دارالاسلام تو بریلوی اس بات کے حامی تھے کہ چونکہ یہاں انہیں مذہبی آزادی ہے لہذا ہندوستان دارالحرب نہیں ہیں۔ اس لیے نہ تو یہاں سے ہجرت کرنا چاہیے اور نہ ہی انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ موجودہ وقت بھی بریلوی کسی جہادی تحریک میں شامل نہیں۔

 

اعلیٰحضرت کا ہندوستان کے دارالاسلام یا دارالحرب ہونے پر فتوٰی عین حنفی مذہب کے مطابق ہے اور یہی وجہ ہے کہ اعلیٰحضرت پر "اعلام الاعلام بان ہندوستان دارالاسلام" پر اعتراضات تو کئے جاتے ہیں لیکن آج تک علمی دلائل سے اس تصنیف کا ردّ کسی سے ممکن نہ ہوا۔ اگر مسلمانوں کو واقعی ہندوستان میں مذہبی آزادی نہ تھی تو کوئی ڈاکٹرمبارک علی سے یہ بھی پوچھے کہ پھر اسی ہندوستان میں دیوبندیوں نے ایک دارالعلوم کی بنیاد کیسے رکھی؟ تاریخ کی کسی بھی کتاب میں یہ بات نہیں لے گی کہ مسلمانانِ ہند پر مذہبی پابندیاں عائد کی گئی۔ مسلمنانِ ہند اعلانیہ طور پر تمام معمولاتِ دین پر عمل کرتے رہے۔

 

رہ گئی بات جہاد کی تو اس تفصیل ہم نے پہلے بھی پیش کی اور اس پوسٹ میں بھی کافی کچھ لکھ چکے اس لئے اس موضوع پر مزید کچھ لکھنا بلا وجہ بات کو طویل کرنے کے مترادف ہوگا۔

 

ہمیں ڈاکٹرمبارک علی سے کسی جواب کی نہ تمنا ہے اور نہ امید۔ ہاں اگر ہم سے بتقاضہ بشریت کوئی نکتہ رہ گیا ہو تو برائے کرم نشاندہی کرکے ہمیں شکریہ کا موقع دیں۔

 

الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے

دے آدمی کو موت پر یہ بد ادا نہ دے

 

 

نوٹ: یہاں میں خلیل رانا صاحب، سعیدی صاحب اور اسلامی محفل کے دیگر بھائیوں کا مشکور ہوں کہ علمائے کرام اور انہی بھائیوں کے توسل سے یہ سب کچھ لکھ پایا۔

 

اصل ٹاپک یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔

 

بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات

  • Like 3
Link to post
Share on other sites

(salam)

 

(ma)(ma)

 

 

@ Sybarite Bhai main ne apki behas dekhi doosray forum pe bhai Mashallah main khushamad nahin karta lekin Achi cheez ki tareef zaroor karta hoon aap ne bohot Achi aur umdah ilmi behas ki aur Batil ki bolti band kar di aur apki baton se hi dikhai deta hai ke Allah ne apko kafi Ilam diya hai .

Allah Paak apke Ilam mein aur Izafa Farmaye aur Hamesha Haq ki tableegh karnay ki tofeeq aat farmaye . :)

 

 

 

(ja)

 

Link to post
Share on other sites
  • 3 years later...

صاھب ۔Sybarire

 

،انوار الباری،

مقالاتِ سرسّید

(حزبِ امام ولی اللہ دہلوی کی اجمالی تاریخ کا مقدمہ

مکتوباتِ سید احمد، مکتوب

کے جن حوالوں سے وہابیوں کے نام نہاد جہاد کی نقاب کشائی کی ہے ۔اگر ان کے سکین آپ کے پاس یا کسی سنی بھائی کے پاس ہوں تو یہاں آپ لوڈ کر دیجیے ۔جزاک اللہ خیرا،

 

،

Link to post
Share on other sites

اس ڈاکٹر مبارک علی کا ایک لطیفہ سن لیں۔
اس کی ایک کتاب جس میں بک ریو ہیں اس کے، جو اس کے ہی اپنے کتابی سلسلے "سہ ماہی تاریخ" میں چھپ چکے تھے۔
اس کتاب میں ایک سکھ کی کتاب جو تیلیغی جماعت پر ہے، اس پر ریو ہے، جس میں تیلیغی جماعت کا تعارف و تعریف کی گی ہے۔
اس کے بعد ڈاکٹر باربرا مٹکاف کی دیوبند تحریک پر کتاب ہے اس پر اس کا ریو ہے، 

جس میں دیو بند کے کی ایسی ہی تعریف ہے جیسے آپ نے اوپر لکھی۔
اس کے بعد ایک ہندو سکالر ڈکٹر اوشیا سانیال کی کتاب ہے جو پی ایچ ڈی کا مکالہ ہے امام احمد رضا اور ان کی تحریک پر ۔اس میں جناب نے نہ تو کتاب پر تبصرہ کیا نہ ہی کوہی تعریف کی بات کی، جھوٹ اور فریب سے کام لیا، اور بدعات و منکرات کو اعلی حضرت کے سر دال دیا۔
جبکہ کے پہلی دونوں کتب پر تبصرہ بھی ہے اور ان کے مصنف پر بھی/
اس کے علاوہ بھی یہ جتنے دیوبندی، وہابی ہیں سارے کے سارے کسی نہ کسی بہانے اپنے کسی نہ کسی مولوی کی بات کر جاتے ہیں،

Edited by Obaid UL Mustafa
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...