Sign in to follow this  
Followers 0
غیاث

عورت کی دیت پرڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا مؤقف

162 posts in this topic

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

کچھ دنوں سے مصروفیات کی وجہ سے باقاعدہ وقت نہیں دے پارہا۔ اب عورت کی دیت پر شیخ الاسلام کا مؤقف بھی پیش کر رہا ہوں ۔ اس سے قبل عورت کی آدھی دیت کا مؤقف یہاں موجود ہے لہذا ضروری سمجھتا ہوں کہ دونوں طرف کے مؤقف کو سامنے رکھ کر بحث ہو۔ لہذا اس مؤقف کو بھی سنیں اس کےبعد اگر تسلی ہوجائے تو بہتر،نہیں تو ممکنہ دلائل پیش کر دونگا۔ کچھ دوست سمجھ رہے ہیں کہ میں بھاگ رہا ہوں تو ایسا قطعا نہیں بلکہ میلاد شریف کیبعدد انشاءاللہ اسی گفتگوکو ترتیب سےآگےبڑہاؤں گا۔ جومسائل بیان کیے ہیں انپرپہلے ہی چونکہ واضح مؤقف موجود ہےلہذا اسی مؤقف کو پہلے بیان کررہا ہوں۔ بحث کو بےجا طول سے بچانے کےلیے یہ موضوعات مختصرا پہلے بیان کر رہاہوں۔

 

Atten:Speeches of Gumrah is not allowed on this forum

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

عورت کی دیت پر میں یہ مکمل مؤقف لگا دیا ہے۔ اب دوست ایک دفعہ اس مؤقف کو غور سے سن لیں ۔اس کے بعد دوبارہ سےعلماء کے مؤقف کو پڑہیں ۔ اپنے اعتراضات کو دوبارہ مرتب کریں۔ اگر کوئی بھائی ان دلائل کو تحریری شکل دیدے تو آسانی ہو جائٰیگی۔ اس بارے میں علامہ مفتی اقتدار احمد خان نعیمی صاحب نے اپنی کتاب فتوی کی جلد نمبر چار میں بحث کی ہے۔ یہ کتاب آن لائن موجود نہیں۔ پہلے دو حصے آن لائن ایک ویب سائٹ پرموجود ہیں، اگلے حصے نہیں۔ نیز یہ بحث تحریری شکل میںچوہدری الطاف حسین کی کتاب قصاص ودیت جو سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہے، میں مختصرا موجود ہے۔اگر کسی بھائی کے پاس یہ کتب موجود ہوں تو انکی سکین کاپی لگا دیں۔ میرے پاس سکین کی سہولت نہیں۔ میں کوشش کرونگا کہ کسی کے تعاون سے سکین کرواسکوں۔

تمام دوستوں سےگزارش ہے کہ احتیاط کا دامن تھاما کریں۔ جب کوئی فریق بھی دوسرے کو برا بھلا کہے گا تو ماحول خراب ہوگا۔ یہاں اجارہ داری کی صورت بھی پائی جاتی ہے ایسے میں فریق مخالف کو فوری بین کردیا جاتاہے۔ جبکہ ایک فریق ہر طرح کی الزام تراشی کو اپنے لیے لازمی سمجھتا ہے علمی بحث کا یہ طریقہ غلط ہے۔ یہاں کچھ اعتراضات انتہائی ذاتی نوعیت کے بھی دیکھے ہیں اانکو کئی دفعہ ہٹانے کی گزارش کر چکا ہوں ۔ مگرایسے تمام کتب کے لنک ابھی تک موجود ہیں۔ وہ تمام بحثیں بھی اسی طرح موجود ہیں۔ جس کسی کو عقائد پر کچھ گفتگو اور بحث و تمحیص کرنی ہے تو کر لیں۔ کردار کشی کا طریقہ غلط ہے۔ بارہاعرض کر چکا ہوں کہ اگر ان باتوں کومنظر عام پر لایا گیا تو بد نامی ہوگی مگر اسکے باوجود چند لوگ ان مباحث کو اچھالنے کے حق میں ہیں۔ ایسی مباحث سرعام کرنے کی نہیں۔ انتظامیہ میں سے بھی صرف شریف رضا صاحب یا جنکو وہ جازت دیں وہ میرے ساتھ پرسنل میسیج ، ای میل یا فون پر رابطہ کرلیں۔

عورت کی دیت پر رجوع کا سعیدی صحب نے کسی کے حوالے سے بیان کیا ہے ایسا بیان کرنیوالا حقائق سے بے خبر ہوگا۔ ابھی تک میری معلومات میں ایسا کچھ نہیں ۔ باقی جو الزامات ضرب حیدری کے حوالے سے ہیں اگر ضرب حیدری ،مطلع القمرین اور معترضہ کتب السیف الجلی علی منکر ولایت علی اورالقول الوثیق فی مناقب الصدیق کو سامنے رکھ کرکتب کا بغور مطالعہ کریں تو تمام حقیقت سب لوگوں پر آشکارا ہو جائیگی۔

Edited by Usman.Hussaini

Share this post


Link to post
Share on other sites

Kisi bhe gumrah ke videos ya website allow nahi.

ADMIN & MODS Tahir Ul Qadri ke ye videos is forum key rules kay against hay.Pls inhe remove ker dain. JAZAK ALLAH

 

Ghyas sab...Tahir ul Qadri ke Deet key issue per jahalat ko ulma e Haqq radd ker chukay hay.Is ka tafseeli jawab "Khtarey ke Ghanti" me mojood hay.

 

Ap videos share na karain ..balkay jo bhe Tahir sab ka moqif hay wo text me ,khasosan in ke kitabo se paish karain....shukriya

 

 

 

 

 

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

دیت کے مسئلہ پر جناب طاہر القادری صاحب کا رد

 

دیت المراۃ،از حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ

Deat-ul-Mira.pdf

Share this post


Link to post
Share on other sites

غیاث صاحب

 

وڈیو کلپس سے ھمارا وقت ضائع نہ کریں۔

 

آپ ان کے دلائل لکھیں تاکہ ھم آپ کے دلائل کی حقیقت

 

بے نقاب کریں۔

 

اورمجدد کا موضوع آپ کے جواب کا منتظر ھے ۔

 

میلاد شریف کے بعد پھر آپ گیارھویں شریف کی پناہ لیں گے

 

اوریہ پروگرام تو ھر ماہ ھوتے ھیں۔

 

آپ جس طرح باقی باتوں کو لکھنے کا وقت نکالتے ھیں تو

 

اسی طرح دیت وغیرہ مسائل جن میں آپ کے متجدد نے

 

جدت وتجدید کی ھے اُن پر آپ کا قلم ٹوٹ کیوں گیا ھے؟

 

آپ تو ایک نشست میں سترہ سوال لکھکر لائے تھے

 

اب میلاد شریف کی آڑ میں بھگوڑے نہ بنیں

 

اور مردِ میدان بن کر جواب دیں

 

تاکہ

 

آپ کے مجدد کی تجدید کا بھید کھولا جاسکے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Ghyas Sab Saeedi Sab ki bat me wazan he or Ap Behs ko Murasile ki sorat me pesh karen,or on sawalon ka Jawab bhi ap per Qarz he,Waqt nikale or behs ko Mukamil karen ya kam se kam ek resala Zaror likhen din me jazak_allah.gif

Share this post


Link to post
Share on other sites

غیاث صاحب

 

وڈیو کلپس سے ھمارا وقت ضائع نہ کریں۔

 

آپ ان کے دلائل لکھیں تاکہ ھم آپ کے دلائل کی حقیقت

 

بے نقاب کریں۔

 

اورمجدد کا موضوع آپ کے جواب کا منتظر ھے ۔

 

میلاد شریف کے بعد پھر آپ گیارھویں شریف کی پناہ لیں گے

 

اوریہ پروگرام تو ھر ماہ ھوتے ھیں۔

 

آپ جس طرح باقی باتوں کو لکھنے کا وقت نکالتے ھیں تو

 

اسی طرح دیت وغیرہ مسائل جن میں آپ کے متجدد نے

 

جدت وتجدید کی ھے اُن پر آپ کا قلم ٹوٹ کیوں گیا ھے؟

 

آپ تو ایک نشست میں سترہ سوال لکھکر لائے تھے

 

اب میلاد شریف کی آڑ میں بھگوڑے نہ بنیں

 

اور مردِ میدان بن کر جواب دیں

 

تاکہ

 

آپ کے مجدد کی تجدید کا بھید کھولا جاسکے۔

 

tittle12.jpg

 

tittle10.jpg

 

37010.jpg

 

 

 

211.jpg

 

310.jpg

 

414.jpg

 

610.jpg0

 

710.jpg

 

 

810.jpg

 

 

910.jpg

 

 

1010.jpg

 

 

1110.jpg

 

 

1210.jpg

 

 

1310.jpg

 

 

1410.jpg

 

 

1510.jpg

 

 

1610.jpg

 

 

1710.jpg

 

 

1810.jpg

 

 

1910.jpg

 

 

2010.jpg

 

 

pictur35.jpg

 

 

aqr1jh11.jpg

 

 

dfd10.jpg

 

 

pictur37.jpg

 

Edited by ghulamahmed17

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

کچھ چھٹیوں کیبعد دوبارہ حاضر خدمت ہوں۔ درمیان میں کچھ عرصہ غیر حاضری پر معذرت خواہ ہوں۔ تیرہ ربیع الاول سے باقاعدہ مراسلات لکھنے کا آغاز کرونگا۔

دونوں طرف کا علمی مؤقف سامنے آچکا ہے۔ یہ مختصر مؤقف ہے،اگر ضرورت محسوس کریں توتفصیی مؤقف بھی لگ جائیگا۔ مگر اسکی خاص ضرورت نہیں۔ اب سوکنوں کی طرح طعنہ بازی کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پہلے بھی کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ طعنہ بازی اور الزام تراشی سے گریز کریں۔ جب بات مکمل ہو جائیگی دونوں طرف کا مؤقف بالکل واضح ہو جائیگا اسکے بعد جو مؤقف سامنے آئیگا اسپر علماء کی جو آراء سامنے آئیں گی اس کے مطابق عمل کرلیجیے گا ۔

کسی میں علمی کمی کیوجہ سے اسے علمی یتیم نہیں کہا جاتا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ کہاں حکیم الامت نےعورت کی دیت مرد کے برابر کہی ہے یا عورت کی دیت مرد کی دیت کی طرح پوری ہے ؟ تو حکیم الامت کی اس عبارت پرغور فرمائیں کہ"جیساکہ مرد کی دیت ہے، اسی طرح عورت کی دیت ہے اسی کو یکسانیت کہتے ہیں"۔

اس عبارت سے عورت کی صراحتا آدھی دیت کہاں سے نکلتی ہے؟ ذرا آدھی دیت کا حکیم الامت کا واضح مؤقف سامنے لائیں۔ بیجا وضاحتوں سے کام نہ چلائیں۔ اگر حضرت حکیم الامت کامؤقف آدھی دیت کا ہے اور یہ ایک اختلافی پہلو تھا تو دیگر علماء کی طتح حکیم الامت نے اپنے مؤقف کی خود وضاحت کیوں نہ فرمائی ؟

 

کس کی بات تمہارے لیے حجت ہے کس کی نہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مفتی صاحب کا فتوی صرف انکا مؤقف نہیں بلکہ کئی علماء کے ،مؤقف کی وضاحت ہے۔ یہ فتوی مختصر تھا اس لیے یہ لگانے کا کہا تھا وگرنہ ساٹھ ستر صفحات میں مکمل وضاحت موجود ہے۔

دونوں طرف کا مؤقف سامنے آچکا ہے اس موضوع پر مزید دلائل کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ لہذا فریقین کی بحث کا خلاصہ مجدد رواں صدی والے دھاگے میں دوران بحث بیان کرونگا۔ اس دورون اگر کوئی اہم علمی نکتہ رہ گیا ہو تو سامنے لائیں وگرنہ اتناہی کافی ہے۔

آخری بات کہ غلام احمد صاحب نے بات کی معیار فتوی برابر کریں۔ اس بات کو گول کر کے آپ نے صرف یہ کہ دیا کہ کہ مفتی اقتدار صاحب کی بات کی جمہور اہل سنت میں کوئی وقعت نہیں۔ یہ کوئی جواب نہیں۔

غلام احمد صاحب ہو سکے توخطاب کااٹھارہواں حصہ لکھ کر لگا دیں۔

Edited by غیاث

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

(saw)

عورت کی دیت نصف ہی ہے۔قبلہ کاظمی کریم رحمہ اللہ کا طاہرالقادری کا بہت ہی عمدہ رد

 

mkalat3_158_01.JPG

mkalat3_158_02.JPG

mkalat3_159_01.JPG

mkalat3_159_02.JPG

mkalat3_160_01.JPG

mkalat3_160_02.JPG

mkalat3_161_01.JPG

mkalat3_161_02.JPG

mkalat3_162_01.JPG

mkalat3_162_02.JPG

mkalat3_163_01.JPG

mkalat3_163_02.JPG

mkalat3_164_01.JPG

mkalat3_164_02.JPG

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب غلام احمد!!آپ کو کیا کوئی خواب دکھائی دیا گیا ہے کہ میں بھاگ بھاگ کر لوگوں کے پاس جا رہا ہوں؟؟؟

 

ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج ہمارے پاس نہیں،انشا اللہ بہت جلد اقتدار نعیمی صاحب کے رد میں ایک فتویٰ پیش کروں گا جسمیں انکی گمراہیوں اور غلطیوں پر بحث ہو گی۔

مسئلہ کو ’’مسلعے‘‘ لکھنے والے شیخ فی الاسلام کے مرید اپنے شیخ صاحب کو مجتہد ثابت کر کے دکھائیں پھر بعد میں جا کر بے جا کی توجیحات پیش کریں۔کیا آپ طاہر صاحب کے استاذ قبلہ کاظمی کریم کی عبارت کو کچھ نہیں سمجھتے؟؟؟فضول میں ہمارا اور اپنا ٹائم برباد نہ کریں بلکہ کوئی ایسی بات پیش کریں جسکو جمہور تسلیم کرتے ہوں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب غلام احمد!!آپ کو کیا کوئی خواب دکھائی دیا گیا ہے کہ میں بھاگ بھاگ کر لوگوں کے پاس جا رہا ہوں؟؟؟

 

ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج ہمارے پاس نہیں،انشا اللہ بہت جلد اقتدار نعیمی صاحب کے رد میں ایک فتویٰ پیش کروں گا جسمیں انکی گمراہیوں اور غلطیوں پر بحث ہو گی۔

مسئلہ کو ’’مسلعے‘‘ لکھنے والے شیخ فی الاسلام کے مرید اپنے شیخ صاحب کو مجتہد ثابت کر کے دکھائیں پھر بعد میں جا کر بے جا کی توجیحات پیش کریں۔کیا آپ طاہر صاحب کے استاذ قبلہ کاظمی کریم کی عبارت کو کچھ نہیں سمجھتے؟؟؟فضول میں ہمارا اور اپنا ٹائم برباد نہ کریں بلکہ کوئی ایسی بات پیش کریں جسکو جمہور تسلیم کرتے ہوں

22240114.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

اللہ تعالی بہکے ہوؤں کو ہدایت دے۔

عبدالقادر صاحب تھوڑا سا عقل ودانش سے بھی کام لیں۔ہر کسی کی کچھ ذاتی مصروفیات یا مجبوریاں ہوتی ہیں جنکی وجہ سے بعض اوقات وقت دینا یا جواب دینا ممکن نہیں ہوسکتا۔ اس بات کو میں بیان کر چکا ہوں۔

حضور غزالی زماں کا مؤقف میں نے پہلے ہی مطالعہ کر لیا ہے۔ اس بات کا تقاضہ میں نے نہیں کیا تھا ۔ اسپر آپ نے بلاوجہ زحمت کی ہے۔ بعض جگہ وقت ضائع کرانیکا الزام تم پر زیادہ لاگو ہورہا ہے۔ کیونکہ بلاوجہ ایسی باتیں لانا جنکا تقاضہ ہی نہ ہو اس سے ضیاع وقت ہی ہوتا ہے۔

دونوں طرف کا مؤقف سامنے آچکا ہے اس موضوع پر مزید دلائل کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ لہذا فریقین کی بحث کا خلاصہ مجدد رواں صدی والے دھاگے میں دوران بحث بیان کرونگا۔ اس دورون اگر کوئی اہم علمی نکتہ رہ گیا ہو تو سامنے لائیں وگرنہ اتناہی کافی ہے۔

 

یہ بات لکھنے کا مقصد ضیاع وقت سے بچنا تھا۔

کس کی بات تمہارے لیے حجت ہے کس کی نہیں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ مفتی صاحب کا فتوی صرف انکا مؤقف نہیں بلکہ کئی علماء کے ،مؤقف کی وضاحت ہے۔ یہ فتوی مختصر تھا اس لیے یہ لگانے کا کہا تھا وگرنہ ساٹھ ستر صفحات میں مکمل وضاحت موجود ہے۔

ہم مفتی اقتدار احمد خان صاحب کیوجہ سےبالکل بھی دیت عورت مکمل ہونے کی بحث نہیں کر رہے۔بلکہ مفتی صاحب کا فتوی بطور دلائل نقل کیا تھا۔جسکا مطالعہ کرنا آپ کو گوارہ نہ ہوا۔مفتی صاحب نے ایک عالم ہونے کے ناطے جوکچھ بزرگوں کی تصانیف پر لکھا اسکے مطالعے کا موقعہ نہیں ملا انشاءللہ جلد مطالعہ کی کوشش کرونگا۔اگر کسی مؤقف پر انہوں نے کسی بزرگ سے علمی اختلاف کیا ہے تو اسکا علمی جواب دینا چاہیے ۔ کسی بھی عالم کو دوسرےعالم سے اختلاف اور اسکوتحریر و تقریر پر اعتراض ہو سکتا ہے اور اس اعتراض کو بیان کرناجرم نہیں ہوتا۔

مفتی صاحب کے بارے میں کسی مستند معتدل عالم کا فتوی ہونا چاہئیے۔ ہرایرے غیرے کافتوی لانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں بیجا فتووں سے غرض نہیں۔

اس عبارت سے عورت کی صراحتا آدھی دیت کہاں سے نکلتی ہے؟ ذرا آدھی دیت کا حکیم الامت کا واضح مؤقف سامنے لائیں۔ بیجا وضاحتوں سے کام نہ چلائیں۔ اگر حضرت حکیم الامت کامؤقف آدھی دیت کا ہے اور یہ ایک اختلافی پہلو تھا تو دیگر علماء کی طتح حکیم الامت نے اپنے مؤقف کی خود وضاحت کیوں نہ فرمائی ؟

 

یہاں میں نے بات کی تھی حکیم الامت علیہ الرحمہ کےآدھی دیت کے مؤقف کی اور آپ نے ایک بینام کتاب لگا دی کم از کم اس کتاب کا نام اور مصنف کانام تو لگا دیتے۔

دومرتبہ آپ ایسا کر چکے ہیں۔ یہ طریقہ غلط ہے اس طرح آپ خود کو بھی بچا رہے ہیں اور دوسرے عالم کو بھی پس پشت ڈال رہے ہیں۔

آپ کے نزدیک جمہور کا جو مفہوم ہو اسکی وضاحت کر دیجیے گا تاکہ ہمیں تمہاری جمہوریت کا بھی علم ہو جائے۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

کتاب مذکورہ میں جو جوابات دیے گئے ہیں انکی حقیقت واضح کیے دیتا ہوں تاکہ دماغی خلجان دور ہو۔

۱۔ مفتی صاحب نے جو یکساں لکھا اس سے مراد لازم ہونا ہے نہ کہ مقدار میں برابر ہونا۔

مفتی صاحب کا اجماع پر زور نقل کیا گیا مگر اس مؤقف پر مفتی صاحب کی کیارائے ہےاس بات کی وضاحت نہیں کہ مفتی صاحب کے نزدیک یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے یا متفق علیہ۔ کیونکہ مفتی صاحب یہاں صرف یکساں دیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ دیت کی یکسانی سے مفتی صاحب کی مراد ہے یہ دیگر علماء کی کتب سے واضح کیا جا رہا ہے۔

۲۔ مفتی صاحب نےصرف یکسانیت کی بات نہیں کی بلکہ دیگر کتب فقہ و تفسیر کی طرف رجوع کا کہا۔

جب ان کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو دونوں طر فکا مؤقف سامنے آتا ہے اسکے بعد صاحب تصنیف اپنی رائے دیتا۔ مفتی صاحب کی کیا رائے ہے وہ کس کی رائے پر ہیں اس بات کا بھی واضح پتہ لگانا ممکن نہیں ۔

۳۔ دسواں فائدہ کےتحت دیت وارثوں کوبطور میراث ملتی ہے لہذا یہ میراث کی طرح ہے۔ لہذا ثابت ہوا عورت کی دیت نصف ہے ۔

نہایت عجب استدلال ہے۔ بہت دور کی کوڑی لائے ۔ کو ئی اپنے عقل سے بھی سوچ لیا ہوتا کہ وراثت مرنے والے کا ترکہ ہوتی ہےجو زندہ میں تقسیم ہوتی ہے۔ دیت ادائیگی میں بالکل میراث کی طرح ہے اسکی تقسیم بھی ورثاء میں اسی ترتیب سے ہوگی۔ وراثت میں عورت کا حصہ ہرجگہ آدھا نہیں صرف اپنے برابر کے رشتے میں آدھا ہے۔ یہ حصہ مرنیوالے کو نہیں ملتا۔ بلکہ مرنیوالے کا مال زندوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

اگردیت کو میراث سے اس طرح قیاس کیا جائے تو کیا مرنے کیبعد عورت کا حصہ آدھا رہ جائے گا۔یعنی اس کا ملکیتی مال کم ہوجائے گا؟؟؟؟؟؟؟؟

اسکا جواب یقینا نفی میں ہے۔ تواس طرح دیت کو میراث سے قیاس کرنا سرے سے غلط ہے۔

چوتھا بھی بالکل یہی ہے۔

پانچویں جواب عرض ہے کہ جب مفتی صاحب کی رائے کوچھوڑ کرتم اجماع یا جمہو رکو اختیار کرو گے تویہاں کس نےمنع کیا ہے کہ لازمی برابر دیت کا قول اختیار کرو۔ انکے مؤقف کو خطا سمجھ لو اور جمہور کامؤقف اپنا کر تم اسی پر فتوی دو تمہیں کس نے مجبور کیا کہ تم لازمی دیت کی برابری کا فتوی دو۔

مصنف کتاب کی آخری بات نہایت غور طلب ہے کہ یہ تحریر ۱۴۰۹ھ میں لکھی گئی ۔ آج تیرہ ربیع الاول ۱۴۳۲ھ ہے۔ حاشیے پر وضاحتی تحریر شائع نہیں ہوئی۔ اگر کہیں سے ہوئی ہے تو ضرور آگاہ کریں۔ اگر یہی وضاحتی تحریر ہےتواسکی حقیقت واضح ہو چکی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب عالی زیادہ گرمی کی ضرورت نہیں۔تم صرف رد پر سارا زور لگا رہے ہو حق پرنہیں۔ حق جاننے کے لیے تھوڑا غور وفکر ضروری ہے جو آپ کی تحریروں میں نظر نہیں آتا۔ حضور شیخ الاسلام کی علماء میں کیا حیثیت ہے وہ ہم خوب جانتے ہیں۔ جن کو آپ جمہور کہتے ہیں انکی حقیقت اتنی ہے کہ انمیں سے اکثرحق سننے کوتیار نہیں۔ باقی باتیں آہستہ آہستہ منضر عام پر آئیں گی۔ آپ جن چالیس پچاس لوگوں کوجمہور کہتے ہیں ان سے جمہور نہیں بنتا۔ نہ ہی ان چالیس پچاس لوگوں کی مخالفت سے شیخ الاسلام کی شخصیت کو کوئی فرق پڑتا ہے۔ وہ ان چالیس پچاس کے محتاج نہیں ۔ اللہ تعالی نے انکو بہت عزت ومرتبہ سے نوازا ہے۔اس عزت کو کوئی چاہ کر بھی ختم نہیں کرسکتا۔

ضد اور ہٹ دھرمی کا علاج ہمارے پاس نہیں،انشا اللہ بہت جلد اقتدار نعیمی صاحب کے رد میں ایک فتویٰ پیش کروں گا جسمیں انکی گمراہیوں اور غلطیوں پر بحث ہو گی۔

درست فرمایا۔ اس کا علاج ہمارے پاس بھی نہیں۔ اللہ تعالی ہمیں ضد اور ہٹ دھرمی سےبچائے۔ مفتی صاحب سے جو غلطیاں ہوئیں انکو اللہ تعالی معاف فرمائے اور انکی نیک نیتوں اور نیک اعمال کا صلہ دے۔ وہ فتوی لانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر اس طرح کے فتوے لانے ہیں توعلامہ ابوداؤد صادق صاحب کافی مہارت رکھتے ہیں۔ مزید بھی کافی لوگ مل جا ئیں گے۔ پھر ایک فتوی حنیف قریشی صاحب کا حکیم الامت کیخلاف بھی ہے اور بھی کچھ لوگوں کے ہونگے انکا بھی جواب ڈھونڈنا پڑے گا بحث اسطرح بہت دور نکل جائیگی۔ لہذا جو جہاں ہے اسکو وہاں رہنے دو۔ ایک دوباتوں سے کوئی ناصبی نہیں بنتا۔ اب وہ باتیں صحیح بھی نہیں ہو سکتیں کیونکہ وہ پردہ فرماگئے۔ گڑے مردے اکھاڑنے کا فائدہ نہیں۔

ہربات فتوی سے نہیں کچھ اپنے عقل و شعور سے بھی حل نکال لیا کرو۔

مسئلہ کو ’’مسلعے‘‘ لکھنے والے شیخ فی الاسلام کے مرید اپنے شیخ صاحب کو مجتہد ثابت کر کے دکھائیں پھر بعد میں جا کر بے جا کی توجیحات پیش کریں۔

جلدی میں غلطی ہوجاتی ہے بات کابتنگڑنہیں صرف کام سے غرض رکھو۔

مجتہد زماں تمہاری شرائط اجتہاد کیا ہیں؟؟مجتھد کیسے ثابت کرنا ہے۔ انمیں کونسی شرط اجتہاد کی کمی ہے ذرا اسکی وضاحت کردو ۔ انمیں جن شرائط کی کمی ہے وہ کس مجتہد اعظم نے بیان کی ہیں ذرا انکے نام بھی بیان کردینا تاکہ دور حاضر کے مجتہدین سے ہماری بھی واقفیت ہو۔ میرے ذہن میں گردش کردہ نام نہ لے دینا کوئی مشہور اور واقعی مجتہدین کی بات کرنا تاکہ ہمیں حقیقت حال کا علم ہو۔

مراءۃالمناجیح کی عبارت چیخ چیخ کر کہ رہی ہے کہ یہاں عورت کی دیت کی برابری کا ذکر ہورہا ہے۔

حکیم الامت پہلے بیان کر رہے ہیں کہ اسکی تقسیم میت کےورثاء میں ہوگی جس طرح وراثت کے حصے ہوتے ہیں۔اسکے بعد فرماتے ہیں کہ عورت مرد کی طرح ہے۔یہ بات آزاد مرد وعورت کی ہے۔

 

اگر اسکے بعد بھی آپ کا کاں چٹا ہو تو مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ اس معاملے پر مزید توجیہات کا کوئی مقصد نہیں۔ دیت کی باقی بحث دونوں طرف کاخلاصہ مرتب کرنے کیبعد ضرورت پڑنے پر پیش کرانگا۔

غلام احمد صاحب آخری حصہ مکمل لگا دیں۔اسمیں اجتہاد کی کچھ جہات کا ذکر ہے اسطرح انہیں بات واضح ہو جائٰیگی۔ ہمارا کام منوانا نہیں حق کو اچھے انداز میں بیان کرنا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

jazak_allah.gif BHAI APNE MUJE PER AEDTEMAD KYA LAKIN KYA,PER KYA FAREEQ SANI MUJE QABOOL KARAE GA BATORE HUKUM KE,YE BAT AP PEHLAY PHOCH LEN TO ACHA HE,BESHAK OSKE BAD AP LOG EK TOPIC CHUN LEN JO PHIL HAL YEHI BEHTAR HE ORAT KI DEET,OR AGAE BEHS KO BARE

Share this post


Link to post
Share on other sites

jazak_allah.gif BHAI APNE MUJE PER AEDTEMAD KYA LAKIN KYA,PER KYA FAREEQ SANI MUJE QABOOL KARAE GA BATORE HUKUM KE,YE BAT AP PEHLAY PHOCH LEN TO ACHA HE,BESHAK OSKE BAD AP LOG EK TOPIC CHUN LEN JO PHIL HAL YEHI BEHTAR HE ORAT KI DEET,OR AGAE BEHS KO BARE

 

التیجانی صاحب بزرگان دین نے جو دلائل پیش کر دیئے ہیں انسے بڑھکر دلائل کی گنجائش نہیں۔ اب اگر کہیں کسی مغالطے کی وضاحت درکار ہو تو اسپر بحث کیجا سکتی ہے۔ مزید دونوں طرف کا مؤقف اختصسار کیساتھ خلاصتامجدد کےدھاگے میں پیش کرونگا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

janab gayas shb ap ki be rabat baten aur dalil muje to lagta ha ap ko kud be nahi pata ap kis ches ka defa kar arhe hain mager cheln kaher "main na mano har" wali bat pa to kar band hain. dora mare mohtrm ap na start main dawa kia tha ka main Ahla Hazrat aur un ki kulafa ka fatwe layoun ga aur pata nahi kia kia hum kud be ap sa bohat umeeden laga behte tha mager

Bohat Shore Sunte tha pahlo main dil ka

jo chera to ik katra-e-koon be na nikla

ALLAH hum sub ko hedayt da .ameeeeeeeen

 

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.