Sign in to follow this  
Followers 0
غیاث

عورت کی دیت پرڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا مؤقف

162 posts in this topic

bismillah.gif

 

jazak_allah.gif Saeedi Sab,Allah apko lambi umar de take istara se ham jeso Khata karo ki Islah karte rahen Ameen

 

 

بھولے بادشاہو ذرا جھل کےآؤ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

غیاث منہاجی جی!!مفتی اقتدار سے اپنی جان چھڑانے لے لئے اب آئیں بائیں شائیں نہ کرو۔قبلہ سعیدی صاحب نے جب آپ لوگوں کا پول کھولا اور آپ کو کوئی جواب نہیں آرہا اب اسی طرح کی باتیں تم لوگوں کو زیبا نہیں دیتیں۔تسلیم کرنے کے سوا تم لوگوں کے پاس اور چارہ بھی کوئی نہیں کہ تیسرا گمرا طاہرالقادی ہی ہے۔سعیدی صاحب نے آپ لوگوں سے پوچھا ہے کہ مفتی اقتدار نے ہمارے جن اکابر کے خلاف زبان اندازی کی ہے کیا تم ان اکابر کے لئے ایسی ہی زبان چلانا پسند کرتے ہو؟؟؟جواب ندارد

 

حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کی عبارت میں احتمال قبلہ سعیدی صاحب نے ثابت کیا اور ’’اذ جا الاحتمال بطل الاستدلال‘‘جہاں احتمال آجائے استدلال باطل ہو جاتا ہے کے تحت یہ عبارت بھی آپ کے موقف کو ثابت نہ کر سکی۔باقی الاصم اور ابن علیہ کی عبارت کو جواب تو قبلہ سعیدی صاحب ہی دیں گے۔اور چوری نالے سینہ زوری کا مصرعہ تم لوگوں کو زیبا نہیں دیتا کیوں کہ تم نے ہمارا ابھی بہت سا قرض اتارنا ہے۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

پریشان نہیں ہونا ۔ امام فخرالدین رازی کی مکمل عبارت کیبعدلکھوں گا۔

آدھی عبارت پر گزارہ نہ چلاؤ۔ علامہ ذرا مسئلہ ثامنہ بھی پڑھو۔

امام صاحب فرماتے ہیں

مذہب اکثر الفقہاء ان دیۃ المراءۃ نصف دیت الرجل وقال اصم وابن عطیہ دیتہا مثل دیت الرجل۔ حجۃ الفقہاء ان علی و عمر وبن مسعودقضوا بذالک۔ ولان المرائۃ فی المیراث والشہادت علی النصف من الرجل فکذلک وحجۃ الاصم وابن عطیۃ قولہ تعالی من قتل مؤمنا خطاء فتحریر رقبۃ مؤمنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اہلہ واجمعوا ان ہذہ الایۃ دخل فیھا الرجل والمرءاۃ فوجب ان یکون الحکم ثابتا بالسویۃ واللہ اعلم۔

اکثر فقہاء کا مذہب عورت کی دیت آدہی ہونیکا ہے اور اصم اورابن عطیہ نےکہا کہ اسکی دیت مرد کے مثل ہے۔ فقہاء کی حجت علی ، عمروابن مسعود کے اقوال جو گزر چکے۔ اور چونکہ عورت کاحصہ میراث اور شہادت میں مرد سے آدھاہے پس یہ بھی اس طرح ہے۔ جبکہ اصم اورابن عطیہ کی دلیل اللہ تعالی کا قول ہے۔ اور اسپر اجماع ہے کہ اس آیت میں مرد وعورت دونوں داخل ہیں۔ لہذا واجب ہے کہ دونوں کی برابری کاحکم ثابت ہو۔

 

یہاں آپکا ابن علیہ اور ابن عظیہ والا معالہ بھی صاف ہوا۔

جو آپ نے کہا کہ امام صاحب نے انکو خوارج میں شامل کیا یہ بھی آپ کی اختراع ہے۔

وگرنہ امام صاحب وجمہور الخوارج کی جگہ الگ سے من الخوارج یاھو الخوارج ذکر کرتے۔ جمہور الخوارج سے مراد خارجیوں کی اکثریت ہے۔ اصم انسے الگ ہیں اسی لیے پہلے اسکا ذکر کر کے وکا اضافہ کیا۔ نیز جہاں مؤقف کی وضاحت تھی وہاں اسکو رد یا جانا لازم تھا وہاں رد نہیں کیا ۔

یہ وہابیوں دیوبندیوں والے کام چھوڑو سیدھی سیدھی بات کیا کرو۔ چوری نہ کیا کرو۔

چوری نالے سینہ زوری۔

جناب غیاث صاحب

 

آپ نے امام رازی کا ابوبکر الاصم کے متعلق مؤقف پیش نہیں

 

کیا۔ امام رازی نے اکثرفقہاء اسلام کے مقابل الاصم اور اُس

 

کے شاگرد ابن علیہ کے استدلال کے الفاظ بھی ذکر کئے ھیں۔

 

کیا یہ اُس کی تو ثیق ھو گئی؟

 

آپ کو اور آپ کے بڑے کو یہی مغالطہ لے گیا۔ آپ کو

 

اس مسئلہ دیت سے پہلے والے مسئلہ میں ابوبکر الاصم

 

کو جمہور خوارج کے ساتھ لکھنے سے میرا استدلال اچھا

 

نہ لگا توکوئی بات نہیں۔

 

لیجئے امام رازی نے سورۃ الدھر کی آیت نمبر ۸ کے تحت لکھا:۔۔۔

 

المسئلۃ الاولیٰ:

 

لم یذکر احد من اکابر المعتزلۃ کابی بکر الاصم ۔۔۔

 

یہ بات اکابر معتزلہ مثلاً ابوبکرالاصم ۔۔۔ میں

 

سے کسی نے ذکر نہ کی۔

 

فرمائیے طاھرالقادری کے بزرگ ابوبکر الاصم کا مذھب

 

امام رازی نے معتزلہ لکھا ھے یا نہیں؟

 

فرمائیں آدھے جملہ سے گزارا ھو جائے گا یا پورا چاھیئے؟

 

اوراَب بتاؤ کہ چوری اور سینہ زوری کون کر رھا ھے؟

 

جناب اپنی قبر صاف کرو،اُس میں تنہا جاؤ گے،

 

اور گمراہ معتزلہ کی پیروی چھوڑدو۔

 

اللہ حق قبول کرنے کی توفیق دے۔آمین۔

 

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

التیجانی صاحب یکطرفہ مؤقف پرجب رائے دی جائیگی توجھکاؤ کاگمان ہوگا۔

اسی لیے سخت جملےبھی لکھنے پڑے۔ اگر برا لگا ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

آپ کے سوالوں کے جواب دونگا مگر صبر سے چلیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

غیاث منہاجی جی!!مفتی اقتدار سے اپنی جان چھڑانے لے لئے اب آئیں بائیں شائیں نہ کرو۔قبلہ سعیدی صاحب نے جب آپ لوگوں کا پول کھولا اور آپ کو کوئی جواب نہیں آرہا اب اسی طرح کی باتیں تم لوگوں کو زیبا نہیں دیتیں۔تسلیم کرنے کے سوا تم لوگوں کے پاس اور چارہ بھی کوئی نہیں کہ تیسرا گمرا طاہرالقادی ہی ہے۔سعیدی صاحب نے آپ لوگوں سے پوچھا ہے کہ مفتی اقتدار نے ہمارے جن اکابر کے خلاف زبان اندازی کی ہے کیا تم ان اکابر کے لئے ایسی ہی زبان چلانا پسند کرتے ہو؟؟؟جواب ندارد

 

 

چشتی جی تھوڑا صبر نال آؤ۔

سعیدی صاحب نے آپ لوگوں سے پوچھا ہے کہ مفتی اقتدار نے ہمارے جن اکابر کے خلاف زبان اندازی کی ہے کیا تم ان اکابر کے لئے ایسی ہی زبان چلانا پسند کرتے ہو؟؟؟جواب ندارد

 

کسی کے غلط عقائد یا غلط باتوں سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اکابر کےبارے ہم کیسی زبان استعامل کرتے ہیں آپ دیکھ چکے۔

آپ کے ذمہ ایک قرض باقی تھا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

یاد کریں تلاش کریں ۔ پیچھے گزر چکا جبتک جواب نہ لائیں بیچ میں دخل اندازی نہیں کرنی،۔

مفتی صاحب اور اپنے کردار کاخود موازنہ کرلیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Edited by غیاث

Share this post


Link to post
Share on other sites

چشتی جی تھوڑا صبر نال آؤ۔

یاد کریں تلاش کریں ۔ پیچھے گزر چکا جبتک جواب نہ لائیں بیچ میں دخل اندازی نہیں کرنی،۔

جناب کی ایک زبردست تڑی دیکھ کر ہم بے جا ہنس دئیے۔محترم عرض ہے کہ مفتی اقتدار صاحب کو اپنا ہم عقائد سمجھ کر یہاں کس نے انکی کتاب کے سکین پوسٹ کئے؟؟؟

اگر آپ مفتی اقتدار صاحب کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہی ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ مفتی صاحب نے منہاجیوں پر جو فرینڈلی فائرنگ کی ہے ،اسے بھی تسلیم کرتے ہیں یا وہاں مفتی صاحب آپ کے لئے معتبر نہیں ہونگے؟؟جناب من!آپ نے مجھ فقیر سے جو پوچھا تھا اسکا جواب قبلہ سعیدی صاحب مد ظلہ العالی کی پوسٹ میں موجود ہے۔انکے ہوتے ہوئے میں خاموش ہی اچھا۔آپ بار بار جو ٹاپک میں جواب دینے کی بے جا کوشش کر رہے ہیں،کیوں نہ ایک ہی بار ہمیں اچھا سا جواب لکھ دیں؟؟؟؟

آپ کے جواب کا منتظر

Share this post


Link to post
Share on other sites

[/size]

جناب غیاث صاحب

 

آپ نے امام رازی کا ابوبکر الاصم کے متعلق مؤقف پیش نہیں

 

کیا۔ امام رازی نے اکثرفقہاء اسلام کے مقابل الاصم اور اُس

 

کے شاگرد ابن علیہ کے استدلال کے الفاظ بھی ذکر کئے ھیں۔

 

کیا یہ اُس کی تو ثیق ھو گئی؟

 

آپ کو اور آپ کے بڑے کو یہی مغالطہ لے گیا۔ آپ کو

 

اس مسئلہ دیت سے پہلے والے مسئلہ میں ابوبکر الاصم

 

کو جمہور خوارج کے ساتھ لکھنے سے میرا استدلال اچھا

 

نہ لگا توکوئی بات نہیں۔

 

لیجئے امام رازی نے سورۃ الدھر کی آیت نمبر ۸ کے تحت لکھا:۔۔۔

 

المسئلۃ الاولیٰ:

 

لم یذکر احد من اکابر المعتزلۃ کابی بکر الاصم ۔۔۔

 

یہ بات اکابر معتزلہ مثلاً ابوبکرالاصم ۔۔۔ میں

 

سے کسی نے ذکر نہ کی۔

 

فرمائیے طاھرالقادری کے بزرگ ابوبکر الاصم کا مذھب

 

امام رازی نے معتزلہ لکھا ھے یا نہیں؟

 

فرمائیں آدھے جملہ سے گزارا ھو جائے گا یا پورا چاھیئے؟

 

اوراَب بتاؤ کہ چوری اور سینہ زوری کون کر رھا ھے؟

 

جناب اپنی قبر صاف کرو،اُس میں تنہا جاؤ گے،

 

اور گمراہ معتزلہ کی پیروی چھوڑدو۔

 

 

علامہ جہاں کہیں جس بات کا ذکر ہو اسکو وہاں سے نقل کیا جاتا ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ جہاں کوئی امام کسی بات کی تردید نہ کرے اس سے مراد اسکا اس بات کو قبول کرنا ہوتا ہے یا رد کرنا۔

تمہاری عبارات ٹوٹی ہوئی آرہی ہیں جس سے پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

لہذاعبارات درست انداز میں لکھیں۔ ابوبکراصم کی بحث بھی آگے آئے گی۔

بار بار گمراہ اور معتزلی کی رٹ لگا کر بات مت کریں۔ جب تک مکمل

مؤقف نہیں آجاتااحتیاط کا مظاہرہ کریں۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب کی ایک زبردست تڑی دیکھ کر ہم بے جا ہنس دئیے۔محترم عرض ہے کہ مفتی اقتدار صاحب کو اپنا ہم عقائد سمجھ کر یہاں کس نے انکی کتاب کے سکین پوسٹ کئے؟؟؟

اگر آپ مفتی اقتدار صاحب کو اپنا ہم خیال سمجھتے ہی ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ مفتی صاحب نے منہاجیوں پر جو فرینڈلی فائرنگ کی ہے ،اسے بھی تسلیم کرتے ہیں یا وہاں مفتی صاحب آپ کے لئے معتبر نہیں ہونگے؟؟جناب من!آپ نے مجھ فقیر سے جو پوچھا تھا اسکا جواب قبلہ سعیدی صاحب مد ظلہ العالی کی پوسٹ میں موجود ہے۔انکے ہوتے ہوئے میں خاموش ہی اچھا۔آپ بار بار جو ٹاپک میں جواب دینے کی بے جا کوشش کر رہے ہیں،کیوں نہ ایک ہی بار ہمیں اچھا سا جواب لکھ دیں؟؟؟؟

آپ کے جواب کا منتظر

علامہ کس منطق کی بات کرتے ہو۔ میں اور بات کرتا ہوں تم کہیں اور لے جاتے ہو۔

تم نے بے نام کچھ صفحات لگائے تھے انکا حوالہ درکار تھا۔

نکمی بحث نہ کرو۔

فرینڈلی فائرنگ کئی مہربانوں کی طرف سے ہوئی۔ کس کس کی وضاحت کریں۔

میں اسکو فرینڈلی فائرنگ نہیں بلکہ انکے نزدیک جو تعبیر دین تھی اس

کے مطابق انکا مؤقف سمجھتاہوں۔ جو کچھ انہوں نے بیان کیا انکے نزدیک وہ درست تھا۔ اسکو غلط نہ کہنا انکے نزدیک غلط تھاسو انہوں نے ایسا کیا۔

باقی بات سعیدی صاحب سے چل رہی ہے اسے چلنے دو۔

Edited by غیاث

Share this post


Link to post
Share on other sites

Muhtaram Gayas Sahib aap kehtay hain Qadri sb ko aurat ki aadi diyat per koi eitraz nai jo k fiqh ki kitabon main qol majod hai un ko wo sar ankhon per rakhtay hain lekin bas unhon ne apni raye di hai,,,k Mard aur Aurat ki diyat yaksan hai.

Sawal ye hai Muhtaram kaya aap bata saktay hain k Qadri sb ko ye raye dainay ki zarorat kiyon Mehsos hoi...?

kaya doctor sb Ashab ur raye main se hain..?

Share this post


Link to post
Share on other sites

جہاں کہیں جس بات کا ذکر ہو اسکو وہاں سے نقل کیا جاتا ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ جہاں کوئی امام کسی بات کی تردید نہ کرے اس سے مراد اسکا اس بات کو قبول کرنا ہوتا ہے یا رد کرنا۔

۔ ابوبکراصم کی بحث بھی آگے آئے گی۔

[/center]

جناب جہاں جو بات لکھی ھو گی۔ وھیں سے ھی نقل ھوگی۔

 

امام رازی نے اکثر فقہاء اسلام کا قول تین صحابہ کرام سے

 

لکھا اور

 

اُس کے مقابلے پر الاصم اور ابن علیہ کا آیت کی تفسیربالرائے

 

پرمبنی قول آخر تک ذکر کیا۔

 

کیا اکثر فقہاء کے مقابلے والا قول ذکر کرنے کے بعد بھی تردید

 

کرنا لازمی تھی۔ کیا اکثر کے مقابل ذکر کر دینا

 

ھی کافی نہ تھا؟

 

کیا ابوبکرالاصم کو امام رازی نے اکابر معتزلہ میں سے لکھا

 

یا نہیں؟

 

کیا اب مختصر نتیجہ یہی نکلا کہ طاھرالقادری کا اِس مؤقف

 

میں ھمنوا ؤ پیشوا ابوبکرالاصم ھے

 

اگر ابوبکرالاصم معتزلہ ھے تو آپ کا قائد بھی ویسا ھوگا۔

 

اور

 

اگر ابوبکرالاصم معتزلہ میں سے نہیں تو آپ کا طاھرالقادری

 

بھی اس مسئلہ میں اھل سنت سے خارج نہ ھوگا۔

 

اب اگلی پوسٹ میں آپ ابوبکرالاصم کے معتزلی نہ ھونے پر

 

لکھیں گے اور میں جواب دوں گا۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Je janab hawalay k liye araz hay keh yeh kitab Khatra ke Ghanti hay,Musannaf Abu Daud Sadiq Sb.hain.Apnay baray main bhe araz kar don keh main Allama nahi hon,balkeh Deen ka talib e ilm hon.

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس ٹاپک پر ابھی بہت کچہ لکہنا باقی رہ گیا ہے۔ کچہ لوگ کاظمی صاحب کا بیان پوسٹ کر کے اپنے آپ کو بہت کچہ سمجنے لگے ہیں۔ مگر وہ تو کاظمی صاحب کی بات ہی نہی سمجہ سکتے۔ ہاں ان کے دل میں صرف اور صرف ڈاکٹر صاحب کی نفرت ہے اور تو کچھ نہیں۔

 

صرف احمد یار خان صاحب ہی نہیں عورت کی آدہی دیت نہیں مانتے تھے مگر اور بھی بھت سے ریفرنسز ہیں جو میں پوسٹ کروں گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کاظمی صاحب نے اپنی کتاب میں ان باتوں کو کیوں نیہں پیش کیا جو انکے موقف کے خلاف تھیں اور ان پر بحث نہ کی؟

 

کیا کم علمی تھی یا بے ایمانی؟

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

امین جی پہلے غیاث صاحب کو بات کر لینے دیجئے پھر آ پ بھی شوق پورا کر لیجئے گا،ابھی ہمارا ان پر بہت سا ادھار باقی ہے۔۔

اگر آپ کو بہت ہی گھمنڈ ہے تو برائے مہربانی اپنے گمراہ قائد کی وہ عبارتیں پیش کریں جنکا جواب قبلہ کاظمی کریم رضی اللہ عنہ نے نہیں دیا،انشااللہ ہم کاظمی کریم رضی اللہ عنہ کے آرٹیکل سے ہی وہی بات نکال کے آپ کو دکھائیں گے۔قبلہ کاظمی کریم کے جو آرٹیکل تھے،وہ اس وقت اخبارات میں چھپتے تھے،جنہیں اکٹھا کر کے ایک مضمون کی شکل دی گئی،اور اس مضمون میں احادیث واقوال ائمہ کی عربی عبارات کو نہ لکھا گیا،آپ کے شیخ کے پاس اسوقت تو کوئی دلیل نہ تھی،لیکن اگر ان کے پاس ابھی کوئی نئی دلیل آگئی ہے تو پیش کریں۔انشا اللہ جواب دیا جائے گا۔

لیکن یہاں ایک بات کر کے پھر غائب ہونے سے کام نہیں چلے گا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس ٹاپک پر ابھی بہت کچہ لکہنا باقی رہ گیا ہے۔ کچہ لوگ کاظمی صاحب کا بیان پوسٹ کر کے اپنے آپ کو بہت کچہ سمجنے لگے ہیں۔ مگر وہ تو کاظمی صاحب کی بات ہی نہی سمجہ سکتے۔ ہاں ان کے دل میں صرف اور صرف ڈاکٹر صاحب کی نفرت ہے اور تو کچھ نہیں۔

 

صرف احمد یار خان صاحب ہی نہیں عورت کی آدہی دیت نہیں مانتے تھے مگر اور بھی بھت سے ریفرنسز ہیں جو میں پوسٹ کروں گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کاظمی صاحب نے اپنی کتاب میں ان باتوں کو کیوں نیہں پیش کیا جو انکے موقف کے خلاف تھیں اور ان پر بحث نہ کی؟

 

کیا کم علمی تھی یا بے ایمانی؟

بسم اللہ آپ لکھیں۔ آپ کے ساتھی تو شاید چُپ ھو گئے۔

 

اگر کاظمی صاحب کی تصنیف لگائی گئی ھے تو آپ بھی اپنے

 

پروفیسر طاھر القادری صاحب کی تصنیف لگا دیں اور پھر

 

آپ بھی خودکو بہت کچھ سمجھ لینا۔ مفتی احمدیار نعیمی کی

 

کوئی صریح عبارت

 

ھو تو پیش کریں ورنہ جب احتمال آجائے تو استدلال کیسے

 

قطعی ھوگا؟ جو ریفرنسزباقی ھوں اُن کو بھی دیکھ لینا کہ وہ

 

احتمال قاطع استدلال

 

کے قاعدہ کی زد میں تو نہیں آتے۔

 

اور ھاں اب ذرا یہ فرمائیں

 

کہ علامہ کاظمی نے آپ کے کونسے استدلالوں کا جواب نہیں دیا

 

ھے۔ آپ جواب دیں گے تو ھم ثابت کردیں گے کہ کون کم علم

 

اور کون بے ایمان ھے؟

 

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Assalam o alaikum

Mene ye deeyat per topic parha

mene yahi dekha k Ghulam Ahmed or Gayas Sahab bs Bat ko ghumare the or Kuch nhi.....

Saeedi Sahab,Chishti Qadri sahab Well Done.,,Or saeedi Sahab ki Bat k Jawab Gayas sahab se ban na parhe..

me daily check krta hn k gayas sahab koi dalail den pr gayas sahab gulam ahmed sahab to shayad kaho kho gaye.........

Share this post


Link to post
Share on other sites

Assalam o alaikum

Mene ye deeyat per topic parha

mene yahi dekha k Ghulam Ahmed or Gayas Sahab bs Bat ko ghumare the or Kuch nhi.....

Saeedi Sahab,Chishti Qadri sahab Well Done.,,Or saeedi Sahab ki Bat k Jawab Gayas sahab se ban na parhe..

me daily check krta hn k gayas sahab koi dalail den pr gayas sahab gulam ahmed sahab to shayad kaho kho gaye......

 

post-4743-0-41964900-1298945898.gif

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب غلام احمد صاحب،ہم تو کب سے غیاث صاحب کے علمی جواب کے منتظر ہیں،لیکن ابھی تک تو کوئی صورت نظر نہیں آرہی،آپ ہی کوشش کریں کہ آپ جواب دیے دیں۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ddd.gif

جناب غلام احمد صاحب

 

آپ بحث میں آ بھی جاتے ھیں اور ذمہ داری بھی بیچارے غیاث

 

پر ڈال دیتے ھیں۔ ستر سے زائد پوسٹس کے بعد اب آپ کو دیت

 

کا معنی،مفہوم،تعریف کی ضرورت پیش آرھی ھے۔ کیا اِس میں بھی

 

جناب کو ھم سے اختلاف ھے؟

 

آیتِ دیت کے نزول کا مقصد کیا تھا اورشان نزول کیا تھی؟ کیا اس

 

سے آپ کا مقصد حل ھوتا ھے تو پیش کریں اور جواب لیں۔

 

احادیث صحیحہ ابھی تک تو آپ نے کوئی پیش نہیں کیں۔ کوئی ھیں تو

 

پیش کرو۔اور انتظار کس بات کا ھے؟

 

آپ لوگ کتنی گھن گرج کے ساتھ آتے ھو۔ مگر بعد میں جو گرجتے

 

ھیں وہ برستے نہیں کا مصداق بن جاتے ھو۔

 

اھل سنت کا صدیوں کا اجتماع چھوڑ کر معتزلہ کے پیچھے چلتے ھو

 

اللہ کی پکڑ سے ڈرو۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس سے قبل میں نے دوطرفہ مؤقف پیش کیا تاکہ بیجا ضیاع وقت سے بچا جائے۔

 

مگریہ دیکھ کر نہایت افسوس ہوا کہ فریق مخالف حقائق جاننے سے زیادہ زچ

 

کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لہذا بحث کو بے جا طول دینے کی بجائے پہلے دوطرفہ

 

مؤقف کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تاکہ دوطرفہ مؤقف تمام دوستوں پر واضح ہو جائے۔

 

کوشش کرونگا کہ روزا نہ ایک پوسٹ ضرور کردوں۔ تاکہ جلد اس بحث کو

 

مکمل کر کے مجدد والے موضوع کو زیر بحث لاؤں۔ دوستوں سے گزارش ہے

 

کہ جہاں کہیں کسی جگہ گنجائش رہ جائے وہ پوائنٹ ظاہر کردیں۔ نکمے

 

سوالات سے پرہیز کریں۔

 

قتل خطاکی دیت خلاصہ بحث

اعوذ باللہ من ا لشیطن الرجیم

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

 

92. وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَئًا وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ

 

أَن يَصَّدَّقُواْ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مْؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ

 

مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّهِ وَكَانَ اللّهُ عَلِيمًا حَكیماO

 

92. اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر (بغیر قصد) غلطی سے،

 

اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور

 

خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں،

 

پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا

 

(ہی لازم) ہے، اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے

 

تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا

 

(بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام / باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے

 

روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہےo

 

دیت کا معنی

خون بہا۔ جو رقم قتل پرخون یا جان کے بدل کے طور پر وارثوں کو دیا جاتا ہے۔

نصف دیت کے حق میں دلائل

 

۱۔ قرآن مجید کی اس آیت میں دیت لازمی کی گئی۔

 

۲۔ دیت کایہاں مجمل بیان ہے۔ اسکی تفصیل احادیث میں ہے۔

 

۳۔ اس آیت کے عموم کوحدیث مبارکہ سےاور اقوال صحابہ سے خاص کیاگیا۔

 

۴۔ دیت قتل کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کا بدل ہے۔ جو مقتول کے ورثاء کومالی امداد کے لیے دیا جاتا ہے۔

 

 

مکمل دیت کے دلائل

۱۔ یہ آیت کریمہ لزوم کے لیے نہیں نازل ہوئی ،کیونکہ اس سے قبل دیت کاتصور اس معاشرے میں موجود تھا۔

 

۲۔ (۱)مجمل کے لیے شرط ہے کہ نیا ہوسننے والے کواس کی سمجھ نہ آئے۔

 

مجمل ایساا لفظ ہوتا ہے جو کثیر المعانی ہوجس سے سمجھنے والے کو سمجھ نہ آئے کہ کون سا معنی

 

لینا ہے اور کون سانہیں لینا۔

 

تیسری شرط یہ ہے کہ کہنے والا ظاہری معنی ہٹا کر شرعی معنی کیطرف لے جائے۔

 

لفظ دیت میں یہ تمام شرائط نہیں ۔ یہ پہلے بھی عرب معاشرے میں رائج تھا۔ اور جب مطلقا لفظ دیت

 

بولا جاتا اس سے مراد سو اونٹ لیے جاتے۔ لہذا یہم اپنے معنی و مفہوم میں واضح ہے۔

 

۳۔ قرآن مجید کے عام کو اخبار احاد اور اقوال صحابہ سے خاص نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ یہ احادیث و آثار

 

ضعیف بھی ہوں۔

 

۴۔ آخری تصور سرے سے غلط ہے۔ کیونکہ تعریفات میں اور تعبیرات و تشریحات میں ہر جگہ دیت سے

 

مراد خون بہا ، اور جان یا نفس کا بدل کہا گیا۔ مالی نقصان کا بدل قرار دینا غلط ہے۔

 

۵۔ اس آیت کریمہ میں قتل خطا پر تین سزائیں بیان ہوئیں دو میں عورت ومرد برابر جبکہ صرف

 

ایک میں نصف کیوں ؟

 

۶۔ قرآن مجید میں قتل کی پانچ مختلف سزائیں بیان ہوئیں۔ چار میں عورت برابر جبکہ صرف ایک

 

یعنی دیت میں عورت کےغلطی سے قتل پر عورت کی دیت نصف کیوں؟

 

مرحلہ بمرحلہ بحث کو جاری رکھنے کی کوشش کرونگا۔

 

کیڑے نکالنے کی بجائے یہ اختصار مکمل ہونے دیں۔

 

بقدر ضرورت جہاں وضاحت درکا ر ہو یا کوئی

 

نکتہ رہ گیا ہو تو بیان کردیں۔

Edited by غیاث

Share this post


Link to post
Share on other sites

post-5046-0-49317500-1299266404.jpg

 

سعیدی صاحب آپ کو پہلے سمجھایا تھا کہ کسی کو یا کسی کی نسبت کو نہ بگاڑو۔ نسبت پہ ہر کسی کو ناز ہوتا ہے۔

 

جس ہستی کیساتھ نسبت اور تعلق پر کئی عظیم ہستیاں ناز کرتی ہیں اس نسبت سے

 

ہمیں کوئی چڑ نہیں ہوتی صرف آپ کی اخلاقی حالت واضح ہوتی ہے۔۔

 

میں نے سمجھا تھا شاید یہ لکھنے کیبعد کچھ عقل و شعور کے دروازے کھلیں گے

 

مگر ہنوز دلی دور است؟؟؟؟؟؟

 

جب بندے کا اپنا دل دکھتا ہے تو اسے سمجھ آجاتی ہے مگر شاید ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Edited by غیاث

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب غیاث صاحب!

آپ نے آیات مبارکہ کے متعلق جو نکات بیان فرمائے ہیں،انکے متعلق ہمارے کچھ سوال ہیں،

۱۔کیا ان آیات کا معانی و مفہوم ہمارے اکابرین میں سے کسی نے ایسا پیش کیا ہے جو آپ کر رہے ہیں؟اگر ایسا ہے تو حوالہ درکار ہے؟؟

۲۔تمام امت مسلمہ میں کسی ایک اہلسنت مفسر کا صریح قول پیش کریں جس نے عورت کی دیت کو مرد کے برابر قرار دیا ہو۔

۳۔کیا کسی مسئلہ میں سواد اعظم کی پیروی کی جائےگی جو کہ اجماع کا درجہ رکھتا ہو یا ابن الاصم معتزلی اور انکے گمراہ پیروکاروں کی؟؟

۴۔اگر کسی اہلسنت مفسر و فقیہہ نے عورت کی نصف دیت کے متعلق اجماع سے انکار کیا ہو تو حوالہ دیں۔۔۔

 

آپ کیڑے نہ نکالیں بلکہ قبلہ سعیدی صاحب کی باتوں کا بھی ساتھ ساتھ جواب دیں،تا کہ یہ مسئلہ جلد ہی کسی فیصلہ تک پہنچے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

مزید براں آپ کے شیخ صاحب اپنی کتاب منافقت اور اسکی علامات میں لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اکثریت کبھی گمراہ نہیں ہو سکتی،کیوںکہ اہل اسلام کی اکثریتی جماعت پر خدا کی حفاظت کا ہاتھ رہتا ہے۔۔

 

مزید صفحہ ۳۴ پر لکھتے ہیں کہ

اللہ تعالی میری امت کو کبھی گمراہی پر اکٹھا نہ ہونے دے گا۔جماعت پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا ہاتھ ہے۔جو کوئی اس سے جدا ہو گا،دوزخ میں جائے گا۔۔

سکین پیجز حاضر خدمت ہیں۔اب بتایئے امت مسلمہ دیت کے مسئلہ میں کیا رائے رکھتی ہے؟؟اور اس سے جدا کون ہو رہا ہے؟؟اور اسکا ٹھکانہ کیا ہو گا؟؟؟

 

untitled.JPG

33.gif

34.gif

Share this post


Link to post
Share on other sites

غلام احمد صاحب!!

دماغ آپ استعمال کیجیئے۔۔آئیں بائیں شائیں نہ کیجئے بلکہ میری باتوں کا جواب دیجیئے۔آپ کے شیخ صاحب پر افضلیت کے مسئلہ پر بد میں بات ہوگی،پہلے یہ ٹاپک تو مکمل ہونے دیں۔۔۔اگر غیاث صاحب جواب نہیں دے سکتے تو آپ ہمت کیجئے۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.