Jump to content
IslamiMehfil

Qadeem Hukumrano Ki Huzoor Ki Wiladat Mubark Ki Khushkhabriyan


Recommended Posts

عہدِ قدیم کے حکمرانوں کی ولادتِ مبارکہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خوشخبریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔ والصلٰوۃ والسلام علٰی رسولھ الکریم۔۔۔۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتھ ومغفرتھ

 

عہدِ قدیم کے کئی مُلوک و سلاطین ایسے گزرے ہیں جنہوں نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی تشریف آوری سے قبل ہی رسول مُنتظرحضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوت پر ایمان لے آنے کا اعلان کیا۔ آخر تک مکمل پڑھ لینے کے بعد ان شآءاللہ ایمان کی حلاوت آپ یقینًا محسوس فرمائیں گے۔

 

1۔ الحرث الحمیری

حضرت علامہ سید محمود آلوسی اپنی کتاب بُلوغ العرب میں مملکتِ حمیر کے بادشاہ الحرث کے بارے تحریر فرماتے ہیں کہ اس کا عہدِ حکومت ایک سو پچیس سال رہا۔ اس نے اپنے اشعار میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا ذکرِ خیر بڑی عقیدت و محبت سے کیا ہے۔ اس کا ایک شعر ہے۔۔

 

و اَحمد اِسمھ یا لیتَ اَنی --------- اُعمر و بعد مبعثھ بعام

یعنی حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا اسمِ گرامی احمد ہے، کاش میری زندگی وفا کرے اور اُن کے مبعوث ہونے کے بعد مجھے فقط ایک سال زندہ رہنے کی مہلت میسر آجائے۔

 

2۔ تبع بن کلیکرب الحمیری

مملکتِ حمیر کے اِس بادشاہ کے بارے ہیں بھی مشہور ہے کہ یہ بھی اُن اہل ایمان میں سے ہے جنہوں نے رحمتِ عالم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی بعثت سے قبل ہی حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے دین کو قبول کیا اور حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی رسالت پر ایمان لائے۔

 

ابن عساکر نے اپنی کتاب التھذیب تاریخِ دمشق الکبیر میں یہ واقعہ نقل فرمایا ہے کہ۔۔۔ تبع، مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کی زیارت کرنے اور اس کو غلاف پہنانے کے بعد اپنے لشکر جرار سمیت یثرب (مدینہ) کی طرف روانہ ہوا۔ لشکر کے علاوہ اس کے ساتھ صاحب کمال علماء و حکماء کا بھی جمِ غفیر تھا، جو اُس نے مختلف علاقوں سے چُن چُن کر اکٹھے کیے تھے۔ یثرب پہنچ کر اس نے قیام کیا۔ ایک روز چارسَو علماء نے بادشاہ سے آکر گزارش کی کہ ہم اپنے شہروں کو چھوڑکر ایک طویل عرصے تک آپ کے ساتھ سفر کرتے رہے ہیں۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہم یہیں سکونت اختیار کریں، حتٰی کہ ہمیں موت آجائے۔ کیونکہ آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ کعبہ کی عزت اور اس شہر کا شرف اُس ہستی کی وجہ سے ہے جو یہاں ظہور پذیر ہوگی۔ اُن کا نام نامی "محمد" ہوگا۔ وہ حق کی امام ہوں گے۔ وہ صاحبِ قرآن، صاحبِ قبلہ اور صاحبِ لوآء و منبر ہوں گے۔ وہ یہ اعلان کریں گے "لا الٰھ الا اللہ"۔ اُن کی پیدائش مکہ میں ہوگی۔ انکی ہجرت گاہ یہ شہر بنے گا۔ پس خوشخبری ہے اُس کیلئے جو اُن کو پالے گا اور اُن پر ایمان لے آئے گا۔ ہماری یہ آرزو ہے کہ ہم اُن کی زیارت سے مشرف ہوں، یا ہماری نسلوں میں سے ہمارا کوئی بچہ اُن کے زمانے کو پالے اور اُن پر ایمان لے آئے۔۔۔

 

تبع سوچ میں پڑگیا، پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک سال حضور کی آمد کے انتظار میں یہیں ٹھہرے گا۔ ساتھ ہی اس نے حکم دیا کہ ان 400 علماء کیلئے 400 رہائشی مکانات تعمیر کیے جائیں۔ اس نے 400 کنیزیں خریدیں، اور انہیں آزاد کیا، پھر اُن کا نکاح ایک ایک عالم سے کردیا۔ اُنہیں زرِ کثیر بخشا تاکہ وہ یہاں کے اخراجات آسانی سے برداشت کرسکیں۔ اور ایک خط میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے خدمت میں عریضہ لکھا جسے سونے کے ساتھ سر بمہر کردیا، اور اُن علماء میں سب سے بڑے عالم کے سپرد کرکے التماس کی کہ اگر اس کو حضور کی زیارت نصیب ہو تو یہ عریضہ وہ خود بارگاہِ رسالت میں پیش کرے، ورنہ اپنی اولاد در اولاد کو وصیت کرتا جائے، اور جس کو وہ عہدِ سعید دیکھنا نصیب ہو اور زیارت کا شرف میسر آئے تو وہ میرا عریضہ حضور کی بارگاہ میں پیش کردے۔

 

تبع کی وفات کو پورے ایک ہزار سال گزرگئے تو حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ پھر جب حضور مدینے شریف کی طرف ہجرت کیلئے مکہ سے روانہ ہوچکے تو اہل مدینہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف (جو ہجرت کرکے مدینے پینچ چکے تھے) کے مشورے سے انصار کے قبیلے سے ایک قابل اعتبار شخص ابو لیلٰی کو رازداری کی تاکید کے ساتھ وہ خط دے کر حضور کی طرف روانہ کیا۔ اثنائے سفر حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام بنو سلیم کے ایک شخص کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ ابو لیلٰی وہاں پہنچا تو ہر غیب پر خبردار نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسے دیکھتے ہی پہچانا اور فرمایا ابو لیلٰی تم ہو؟ اس نے عرض کی جی ہاں۔۔ فرمایا تبع اول شاہ یمن کا خط تمہارے پاس ہے؟ یہ سن کر وہ حیران ہوگیا، اور سراپا حیرت بن کر پوچھنے لگا کہ آپ کون ہیں؟ آپ جادوگر تو نہیں؟ فرمایا کہ نہیں بلکہ محمد ہوں (علیہ الصلٰوۃ والسلام)۔ وہ خط پیش کرو۔ اس نے سمان کے اندر چھپایا ہوا خط بارگاہ رسالت میں پیش کیا جسکی مہر توڑ کر رفیق ہجرت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عریضہ بارگاہِ اقدس میں پڑھکر سنایا۔ عریضے کی اہم فقرے یوں تھے۔۔۔

 

"اے محمد۔۔۔! میں آپ پر اور آپ کی کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ تعالٰی آپ پر نازل فرمائے گا۔ میں نے حضور کا دین قبول کیا ہے اور آپ کی سنت پر عمل کروں گا۔ آپ کے رب اور کائنات کے رب پر ایمان لایا ہوں، اور جو احکام شریعت آپ اللہ کی طرف سے لائیں گے اُن پر یقین محکم رکھتا ہوں۔ اگر مجھے آپ کی زیارت نصیب ہو تو میری انتہائی خوشبختی ہوگی۔ اور اگر نصیب میں آپ کی زیارت نہ ہو تو بروزِ قیامت میری شفاعت ضرور فرمائیے گا اور مجھے فراموش نہ کیجئے گا۔ میں حضور کے اُن مطیع و فرمانبردار امتیوں میں سے ہوں جو حضور کی آمد سے قبل حضور پر ایمان لے آئے۔ "

 

تبع کا عریضہ سن کر رؤوف الرحیم آقا علیہ الصلٰوۃ السلام نے تین بار فرمایا کہ۔۔۔ مرحبا بالاخ الصالح۔۔۔ یعنی میں اپنے نیک بھائی کو مرحبا کہتا ہوں۔۔۔ پھر ابو لیلٰی کو حکم دیا کہ وہ واپس مدینے جائے اور وہاں لوگوں کو حضور کی آمد کے بارے میں آگاہی دے۔

 

(التہذیب تاریخ دمشق الکبیر لابن عساکر، جلد سوم، صفحہ 333-335۔)

 

تبع کے عریضے میں یہ اشعار بھی منقول ہیں۔۔

 

شہدتُ علٰی اَحمدَ اَنھ ---------- رسول من اللہ بارئی النسم

ولو مُد عمری الٰی عمرہ -------- لکنتُ وزیرًا لھ وابن عَم

وجاھدتُ بالسیف اعدائھ------- و فرجت عن صدرہ کل ھم

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد علیہ الصلٰوۃ والسلام اُس اللہ تعالٰی کے رسول ہیں جو تمام رُوحوں کا خالق ہے، اور اُن کی تشریف آوری تک اگر میری عُمر نے وفاء کی تو میں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا وزیر۔۔۔ اور چچا زاد بھائی کی طرح معاون و مددگار ثابت ہوں گا۔ اور میں تلوار کے ساتھ آپ کے دشمنوں سے جہاد کروں گا اور حضور کے سینے میں جو فکر و اندیشہ ہوگا اُسکو دور کروں گا۔

 

(سبل الہدٰی، جلد سوم، صفحہ 390-391----

السیرۃ النبویۃ لاحمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 326-327۔)

 

3۔ سیف بن ذی یزن الیمنی

یمن کے فرمانروا سیف بن ذی یزن کو بھی بعثتِ محمدیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا پوری طرح علم تھا۔ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی ولادتِ باسعادت کے دو سال بعد یمن پر اللہ تعالٰی نے جب سیف کو غلبہ عطا فرمایا تو اُس نے وہاں قابض اہل حبشہ کو یمن سے جلا وطن کردیا۔ اِس کامیابی پر قبائل عرب کے سرداروں اور شعراء کے کئی وفد سیف کو مبارکباد پیش کرنے کیلئے یمن حاضر ہوئے۔ اِنہی میں قریش مکہ کا بھی ایک وفد تھا، جس میں عبدالمطلب بن ہاشم، اُمیہ بن عبدِ شمس اور عبداللہ بن جدعان وغیرہ اکابرِ قریش شامل تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے جب سیف کو مبارکباد پیش کی تو اُس نے اُن سے اپنا تعارُف پیش کرنے کہا۔ آپ نے فرمایا میں عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مُناف ہوں۔ سیف نے کہا پھر تو تم ہمارے بھانجے ہو، مرحبا اور خوش آمدید! تمہارے لئے یہاں اُونٹنی بھی ہے اور کجاوہ بھی۔ خیمہ زن ہونے کیلئے کشادہ میدان بھی ہے اور ایسا بادشاہ بھی جس کی جُود و عطاء کی حد نہیں۔ میں نے تمہاری گفتگو سُنی اور تمہاری قریبی رشتہ داری کو پہچانا اور تمہارے وسیلہ کو قبول کیا۔ جب تک تم یہاں اِقامت گزیں رہوگے تمہاری ہر طرح عزت و تکریم کی جائے گی اور جب تم سفر کروگے تو تمہیں انعامات سے نوازا جائے گا۔ اب تم مہمان خانے میں تشریف لے جاٶ، وہاں تمہاری ہر طرح مہمان نوازی کی جائے گی۔

 

وہ ایک مہینہ وہاں ٹھہرے۔ سیف نہ اُنہیں واپس جانے کی اجازت دیتا اور نہ انہیں اپنی ملاقات کا موقع دیتا۔ پھر اچانک ایک روز علیحدگی میں اس نے حضرت عبدالمطلب کو بلایا اور انہیں اپنی مخصوص محفل میں شرف باریابی بخش کر۔۔

 

سیف نے کہا: اے عبدالمطلب! میں اپنا ایک راز آپکے سامنے اِفشاء کرنا چاہتا ہوں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اسے پوشیدہ رکھیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر کرنے کی اجازت دے۔ ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس کو ہم سب سے مَخفی رکھتے ہیں۔ اس میں آپ کیلئے ایک مخصوص فضیلت مرقوم ہے۔

 

عبدالمطلب: خدا تجھے خوش رکھےاور نیکی کی توفیق دے، وہ فضیلت کیا ہے؟

 

سیف: کہ جب تہامہ میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جس کے کندھوں کے درمیان ایک نشان ہوگا، وہ سارے عرب کا سردار ہوگا اور اُس کے وسیلے سے تمہیں بھی سارے عرب کی قِیادت روزِ قیامت تک نصیب ہوگی۔

 

عبدالمطلب: آپ اجازت دیں تو میں چاہوں گا کہ آپ اس بشارت کی تفصیل بیان کریں تاکہ میری خوشی میں اضافہ ہو۔

 

سیف: اُس بچے کی پیدائش کا زمانہ آگیا ہے یا وہ پیدا ہوچکا ہے۔ اپس کا نام نامی "محمد" ہے۔ اُس کے دونوں کندھوں کے درمیان نشان ہے۔ اس کے ماں باپ فوت ہوں گے اور اُس کے دادا اور چچا اُس کی کفالت کریں گے۔ وہ خداوندِ رحمٰن کی عبادت کرے گا اور شیطان کو ٹھکرادے گا۔ آگ کو بُجھادے گا، بتوں کو توڑے گا۔ اُس کی بات فیصلہ کُن ہوگی۔ اُس کا حُکم سراپا انصاف ہوگا۔

 

عبدالمطلب: تیرا ہمسایہ ہمیشہ باعزت رہے اور تو ہمیشہ سعادتمند رہے۔ تیری عمر لمبی ہو اور تیری حکومت ہمیشہ رہے۔ کیا تو مزید وضاحت کی زحمت گوارا کرے گا؟

 

سیف: اُس غلافوں والے گھر کی قسم! اے عبدالمطلب! تو اُس بچے کا دادا ہے۔ اِس میں ذرا جھوٹ نہیں۔

 

عبدالمطلب یہ سُن کر سجدے میں گر پڑے۔

 

سیف نے کہا: سر اُٹھائیے۔ آپ کا سینہ ٹھنڈا ہو۔ کیا آپ نے اُس چیز کو محسوس کیا جس کا میں نے آپ کے سامنے ذکر کیا؟

 

عبدالمطلب: بیشک میرا ایک بیٹا تھا جس پر میں فریفتہ تھا۔ میں نے اس کی شادی ایک عفت مآب خاتون سے کی۔ اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس کا نام میں نے محمد رکھا۔ اُس کا والد فوت ہو چکا۔ میں اور اس کا چچا اسکی کفالت کرتے ہیں۔ اس کے کندھوں کے درمیان ایک نشان ہے۔ اور اُس میں وہ تمام علامتیں ہیں جس کا تو نے ذکر کیا۔

 

سیف: پھر اُس بچے کی حفاظت کیا کرو۔ اور یہود سے محتاط رہا کرو کیونکہ وہ اس کے دشمن ہیں، لیکن اللہ انہیں کبھی اُس پر غالب ہونے نہیں دیگا۔ اور جو باتیں میں نے تم سے کہیں ہیں ان سے اپنے ساتھیوں کو آگاہ مت کرنا کہ کہیں وہ حسد نہ کرنے لگیں۔ اور اگر مجھے علم نہ ہوتا کہ عنقریب اُس کی بعثت سے قبل میں اس دارِ فانی سے رخصت ہوجاؤں گا تو میں اپنے گھڑ سوار دستوں اور پیادہ سپاہیوں کے ساتھ یہاں سے ترکِ سکونت کرکے یثرب (مدینہ) کو اپنا دارُالسلطنت بناتا، کیونکہ ہماری کتاب میں لکھا ہے کہ یثرب ہی میں اُن کا دین مستحکم ہوگا، اور وہاں کے لوگ آپ کے اَنصار ہونگے اور اسی شہر میں آپ کا مدفن ہوگا۔

 

وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے سیف نے قریش کے وفد کے ہر رُکن کو سو سو اونٹ، دس دس غلام، دس دس کنیزیں، دس دس رطل سونا اور چاندی، اور عنبر کا بھرا ہوا ایک برتن دیا، لیکن حضرت عبدالمطلب کو ہر چیز دس گنا زیادہ دی، اور رُخصت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال آنا اور مجھے اُس مولودِ مسعود کے حالات سے آگاہ کرنا۔ لیکن سال کے اختتام سے قبل ہی سیف بن ذی یزن وفات پاگیا۔

 

حضرت عبدالمطلب جب روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے دس گنا زیادہ انعام ملنے پر تم رشک نہ کرنا کیونکہ بہرحال یہ ساری چیزیں ختم ہونے والی ہیں۔ لیکن اگر رشک کرنا ہے تو اُس چیز پر کرو جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ پوچھا گیا وہ کیا چیز ہے؟ فرمایا کہ کچھ عرصے بعد اُس کا اعلان کیا جائے گا۔

 

(سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 335---

الوفاء باحوال مُصطفٰی لاِبن جوزی، جلد اول، صفحہ 125-128---

الروض الانف، صفحہ 161---)

 

4۔ قیصرِ روم ہرقل

ہرقل سلطنتِ رومہ کا بادشاہ تھا۔ اس نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی بعثتِ مبارکہ کا زمانہ پایا۔ ہجرت کے بعد حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی جانب سے بھیجے گئے مکتوبِ گرامی پڑھکر اس نے ادب و تکریم سے اُسے محفوط کرایا۔ لیکن سلطنت کی لالچ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لانے میں ہمیشہ اُس کے آڑے رہی۔۔۔ فتح الباری، جلد اول، صفحہ 88 میں ہے "اور تخت و تاج کے لالچ نے اُس کو ایسے حق کو قبول کرنے سے محروم کردیا جس کی حقانیت اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی تھی۔"

 

بہرحال اسکا یہ قول خصوصًا قابلِ ذکر ہے جو اُس نے بغرض تجارت آئے ہوئے رئیس مکہ ابو سفیان بن حرب سے ایک خصوصی ملاقات کے دوران کہا تھا کہ۔۔۔

 

میں جانتا تھا کہ ایسا نبی تشریف لانے والا ہے، لیکن میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ اگر میں یہ جانتا کہ میں اُن کیلئے مُخلص ہو سکتا ہوں تو میں اُن کی ملاقات کیلئے سفر کی زحمتیں برداشت کرتا، اور اگر میں اُن کی خدمت میں حاضر ہونے کی سعادت حاصل کرسکتا تو میں اُن کے قدموں کو دھو کر پیتا، لیکن محض ان کی محبت اور اُن کی قدر و منزلت کی خاطر، کسی مرتبہ اور حکومت کی طلب کیلئے نہیں۔

(ضیاء النبی، جلد اول، صفحہ 518، ضیاءالقرآن پبلیکیشنز)

 

جن کے واسطے سے یہ بشارتیں اور خوشخبریاں ہم تک پہنچیں وہ سربرآوردہ مفسرین، نامور محدثین، عالمی شہرت یافتہ مورخین، ادب و لغت کے مسلمہ ائمہ، صوفیاء اور فقہاء کا ایک مقدس گروہ تھا، جنہوں نے امت محمدیہ تک ان حقائق کو بڑی دیانتداری سے پہنچا دیا۔۔ کہ،

 

مبارک ہو وہ شہہ پردے سے باہر آنے والا ہے ------ گدائی کو زمانہ جس کے در پہ آنے والا ہے

 

اللہ تعالٰی کی اُن پر کروڑوں رحمتیں ہوں، اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

 

وصلی اللہ علٰی حبیبھ الکریم وعلٰی آلھ وصحبھ وبارک وسلم۔۔۔

Edited by Qaseem
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...