Jump to content
IslamiMehfil

Shab-E-Milad Aur Ajaibat-E-Ilahiya


Recommended Posts

شب میلاد اور عجائبات الٰہیہ

 

ابھی رات کی تاریکی سارے عالم پر چھائی ہوئی ہے، کہ مشرقی اُفق پر صبح صادق کا اُجالا نمودار پوتا ہے، اور اس کی سہانی روشنی یہ اعلان کرنے لگتی ہے کہ شبِ دیجور کا طلسم ٹوٹنے والا ہے، جلد ہی آفتابِ عالم تاب طلوع ہوگا، اور سارا جہان اس کے انوار سے جگمگانے لگے گا۔ طویل ترین خشک سالی کے بعد جب ربُ العالمین جو اَرحمُ الراحمین ہے، بارانِ رحمت سے ہر تشنہ لب کو سیراب کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو پہلے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں سے اپنی رحمت کی خوشخبری سناتا ہے۔ فرماتا ہے:

 

وھو الذی یرسل الریٰح بُشرًا بین یدی رحمتھ۔۔۔

ترجمہ کنزالایمان: اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (الاعراف-57۔۔۔)

 

بعینھ اسی طرح مطلع نبوت و ہدایت پر آفتاب محمدی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے طلوع ہونے سے پہلے بشارتوں، پیشنگوئیوں، شہادتوں اور اعلاناتِ صادقہ کا سلسلہ شروع کردیا گیا، اور پے در پے ایسے واقعات ظہور پذیر ہونے لگے جو اس ابر رحمت کی آمد کی نوید سنا رہے تھے کہ جب وہ گھر کر آئے گا اور برسے گا تو انسانی زندگی کا کوئی مخصوص شعبہ ہی نہیں بلکہ اس کا ہر شعبہ اور ہر پہلو سیراب ہوگا۔

 

برستا نہیں دیکھ کر ابر رحمت ------ بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے

یعنی برسات تو بلا تخصیص ہر کسی پر برستی ہے، اس لئے، یارسول اللہ! ہم گنہگاروں کو بھی اپنی رحمت سے وافر حصہ عطا فرمائیے۔

 

1۔ سیدہ آمنہ کو خواب میں بشارت

جب حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا نور پاک سیدہ آمنہ بطن اطہر میں قرار پذیر ہوا تو وہاں بھی اُس کی شان نرالی تھی۔ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ، مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ میں حاملہ ہوگئی ہوں اور نہ مجھے کوئی بوجھ محسوس ہوا جو اِن حالات میں دوسری عورتوں کو ہوتا۔ مجھے صرف اتنا معلوم ہوا کہ میرے باری کے دن بند ہوگئے ہیں۔ ایک روز میں خواب اور بیداری کے مابین تھی کہ کسی نے میرے پاس آکر پوچھا اے آمنہ! تجھے علم ہوا ہے کہ تو حاملہ ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ اپس نے بتایا کہ تم حاملہ ہو، اور تیرے بطن میں اس اُمت کا سردار اور نبی تشریف فرما ہوا ہے۔۔۔۔۔ جس دن یہ واقعہ پیش آیا وہ سوموار کا دن تھا۔

 

(الوفاء لابن جوزی، جلد اول، صفحہ 88۔)

 

مبارک تجھے آمنہ ہو مبارک ----- ترے گھر شہنشاہ ابرار آئے

 

2۔ شام کے محلات کا روشن ہونا

سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ ایام حمل بڑے آرام سے گزرے اور جب وقت پورا ہوگیا تو وہی فرشتہ جس نے مجھے پہلے خوشخبری دی تھی وہ آیا اور اس نے آکر کہا کہ، یہ کہو کہ میں اللہ واحد سے اس بچے کیلئے ہرحاسد کے شر سے پناہ مانگی ہوں۔۔۔۔

 

مزید فرماتی ہیں کہ جس رات حضور کی ولادت ہوئی میں نے ایک ایسا نور دیکھا کہ جس کی روشنی سے شام کے محلات جگمگا اُٹھے، حتیٰ کہ میں ان کو دیکھ رہی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب حضور کی دلادت باسعادت ہوئی تو سیدہ آمنہ سے ایک ایسا نور نکلا جس نے سارے گھر کو بقعہ نور بنا دیا، اور ہر طرف نور ہی نور نظر آتا تھا۔۔۔۔

 

آمنہ تجھ کو مبارک شاہ کی میلاد ہو ----- تیرا آنگن نور بلکہ گھر کا گھر سب نور ہے

 

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کی والدہ الشفاء کی قسمت میں حضور کی دایہ بننے کی سعادت رقم تھی، وہ فرماتی ہیں کہ جب سیدہ آمنہ کے ہاں حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی ولادت ہوئی، میں نے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے اٹھایا، تو میں نے یہ آواز سُنی کہ، تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے۔۔۔ شفاء مزید فرماتی ہیں کہ، اس نور مجسم کے ظاہر ہونے سے میرے سامنے مشرق و مغرب میں روشنی پھیل گئی، حتیٰ کہ مَیں نے اس روشنی میں شام کے بعض محلات کو دیکھا۔

 

(ضیاء النبی، جلد دوم، صفحہ 28-29۔۔)

 

3۔ مشرق و مغرب کی سیر

شفاء فرماتی ہیں کہ، جب میں لیٹ گئی تو اندھیرا چھا گیا اور مجھ پر رُعب اور کپکپی طاری ہوگئی، اور میرے دائیں جانب سے روشنی ہوئی تو میں نے کسی کہنے والے کو سُنا کہ وہ کسی سے پوچھ رہا تھا کہ، اس بچے کو کہاں لے کر گئے تھے؟ جواب ملا کہ، میں انہیں لے کر مغرب کی طرف گیا تھا۔۔۔ پھر وہی اندھیرا، وہی رُعب اور وہی لرزا مجھ پر لوٹ آیا، پھر میری بائیں جانب روشنی ہوئی اور میں نے کسی کو پوچھتے ہوئے سنا کہ تم اسے کدھر لے گئے تھے؟ جواب ملا کہ، میں انہیں مشرق کی طرف لے گیا تھا، اب دوبارہ نہیں لے جاؤں گا۔۔۔ یہ بات میرے دل میں کھٹکتی رہی، حتیٰ کہ اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے رسول علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مبعوث فرمادیا اور میں اُن لوگوں میں سے تھی جو سب سے پہلے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر ایمان لائے۔

 

(ضیاء النبی، جلد دوم، صفحہ 29۔۔)

 

4۔ بیت اللہ کے بُت گرپڑے

حضرت عبد المطلب فرماتے ہیں میں میلاد کی رات کعبہ میں تھا۔ میں نے بتوں کو دیکھا کہ سب بُت اپنی اپنی جگہ سے سر بسجود سر کے بل گر پڑے ہیں اور دیوار کعبہ سے آواز آرہی ہے کہ، مصطفٰی اور مختار پیدا ہوا۔ جس کے ہاتھ سے کفار ہلاک ہوں گے۔ اور کعبہ بتوں کی عبادت سے پاک ہوگا، اور وہ اللہ تعالٰی کی عبادت کا حکم دے گا کہ جو حقیقی بادشاہ اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

 

(ضیاء النبی، جلد دوم، صفحہ 32۔۔)

 

بُت شکن آیا یہ کہہ کر سر کے بل بُت گر پڑے ------ جھوم کر کہتا تھا کعبہ الصلٰوۃ والسلام

 

5۔ کسرٰی کے محل میں زلزلہ آنا اور آتش کدے کا ٹھنڈا ہو جانا

شب میلاد شاہِ ایران کسرٰی نوشیروان نے خواب دیکھا کہ اس کے قصر ابیض میں زلزلہ آیا ہے اور جس سے اس کے 14 کنگرے گرگئے ہیں، اور ایران کے آتش کدے کی آگ بھی بُجھ گئی ہے حالانکہ ایک ہزار سال سے وہ روشن تھی اور ایک لمحہ کے کیلئے بھی نہیں بجھی تھی۔۔۔ صبح بیدار ہونے پر معلوم ہوا کہ اس کا خواب حقیقت میں بدل گیا۔

 

(ضیاء النبی، جلد اول، صفحہ 475۔۔)

 

کنگرے چودہ گرے آتش کدہ ٹھنڈا ہوا ----- سٹپٹا شیطاں گیا اھلا و سھلا مرحبًا

 

6۔ حضرت موسٰی کا قوم کو حضور کی شب ولادت کی نشانی بتانا

شاعر دربار رسالت حضرت حسان بن ثابت کو اللہ تعالٰی نے طویل عمر عطا فرمائی تھی، آپ فرماتے ہیں کہ، میری عمر ابھی سات آٹھ سال تھی، مجھ میں اتنی سمجھ بُوجھ تھی کہ جو میں دیکھتا سنتا تھا وہ مجھے یاد رہتا تھا۔ ایک دن علی الصبح ایک اونچے ٹیلے پر یثرب (مدینہ) میں ایک یہودی کو میں نے چیختے چلاتے ہوئے دیکھا کہ وہ اعلان کر رہا تھا کہ اے گروہ یہود۔۔! سب میرے پاس اکٹھے ہوجاؤ۔۔ وہ سب اس کا اعلان سن کر بھاگتے ہوئے اس کے پاس جمع ہوگئے اس نے کہا کہ۔۔۔ " وہ ستارہ طلوع ہوگیا ہے جس نے آج اس شب کو طلوع ہونا تھا، جو بعض کتب قدیمہ کے مطابق احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ولادت کی رات ہے۔ "

 

کعب بن احبار کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں دیکھا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی کو نبی کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ولادت سے آگاہ فرمایا تھا، اور موسٰی علیہ السلام نے اپنی قوم کو وہ نشانی بتادی تھی کہ وہ ستارہ جو تمہارے نزدیک فلاں نام سے مشہور ہے، جب وہ اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ وقت محمد مصطفٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ولادت کا ہوگا۔۔۔ یہ بات بنی اسرائیل میں ایسی عام تھی کہ علماء ایک دوسرے کو بتاتے تھے اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس سے خبردار کرتے تھے۔

 

(السیرۃ النبویۃ لاحمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 48۔)

 

رسل انہیں کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں ----- انہیں کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں

 

7۔ یہودی کا اہل مکہ سے نومولود کے بارے میں پوچھنا

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا شب میلاد موجود ہونے والوں سے روایت کرتی ہیں کہ ایک یہودی بغرض تجارت مکہ مکرمہ میں مقیم تھا، جب شب میلاد آئی تو اس نے قریش کی ایک محفل میں آکر پوچھا کہ، کیا آج رات تمہارے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ لوگوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ وہ بولا کہ " میری بات خوب یاد کرلو۔۔ آج کی رات اس امت کا نبی پیدا ہوا ہے، اور وہ تم میں سے ہوگا، اور اس کے کندھے پر ایک جگہ بالوں کا گچھا ہوگا۔ " لوگ یہ بات سن کر اپنے اپنے گھروں کو چلے اور ہر ایک نے نومولود کے بارے میں دریافت کیا، تو بتایا گیا کہ، عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک فرزند کی ولادت ہوئی ہے جس کا نام "محمد" رکھا گیا ہے۔ لوگوں نے یہودی کو آکر بتایا تو اس نے کہا مجھے لے چلو اور مجھے وہ نومولود دکھاؤ۔۔۔ چنانچہ جب وہ سیدہ آمنہ سے فرزند کو لے کر آئے، اور جب انہوں نے اس مولود کی پُشت سے کپڑا ہٹایا، تو وہ یہودی پشت پر بالوں کا گچھا (جو دراصل حضورکی مہر نبوت ہے) دیکھ کر غش کھا کر گر پڑا، جب ہوش آیا تو لوگوں کے دریافت کرنے پر اس نے بصد حسرت کہا کہ، " ہائے افسوس۔۔! بنی اسرائیل سے نبوت ختم ہوگئی۔ اے قبیلہ قریش! تم خوشیاں مناؤ کہ اس مولود مسعود کی برکت سے مشرق و مغرب میں تمہاری عظمت کا ڈنکا بجے گا۔

 

(السیرۃ النبویۃ لاحمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 48۔)

 

آئی نئی حکومت سکہ نیا چلے گا ----- عالم نے رنگ بدلا صبح شب ولادت

 

وصلی اللہ علی حبیبھ الکریم محمد و علیٰ آلھ و صحبھ وبارک وسلم۔۔۔۔

Edited by Qaseem
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...