Sign in to follow this  
Followers 0
Toheedi Bhai

میلاد النبی ﷺ یوم عید ہے

7 posts in this topic


جزاک اللہ خیراً کثیر توحیدی بھائی
اگر جمعۃ المبارک حضرت آدم علیہ السّلام کی پیدائش کی وجہ سے "یومِ عید" ہوسکتا ہے تو اور اسے کوئی بھی غلط نہیں کہہ سکتا تو پھر سارے نبیوں کے سردار، سب سے افضل و اعلیٰ اللہ کے پیارے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم جس دن دنیا میں تشریف لائے وہ "یومِ عید" کیوں نہیں ہوسکتا۔
اللہ عزّوجل صحیح معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم

 

اور تمام اہل سنہ حضرات عید میلاد نبوی مبارک ہو

،گزارش یہ کے ایک وہابی صاحب شدید پیٹ کا درد آٹھا اس میلاد شریف پر جیسا کے عموما ہوتا ہے اور اس نے پوسٹ شئیر کردی آپ لوگوں سے التماس ہے کہ اسکی پوسٹ کا جواب دیں تاکہ کچھ آفاقہ ہو

 

یہ کیسی تیسری عید ھے۔

کہ تفاسیر کی کتب در منثور ۔ تفسیرکبیر ۔ روح المعانی ۔ جلالین اور ابن کثیر میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کے تذکرے اور فضائل تو موجود ھیں مگر بارہ ربیع الاول کی عیدمیلادالنبی کا کوئی ذکر ھی نہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بخاری شریف میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

مسلم شریف میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

ترمذی شریف میں میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

ابوداؤد شریف میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

نسائی شریف میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

ابن ماجہ میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مسند احمد میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

مسند امام اعظم میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

موطا امام مالک میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

مستدرک حاکم میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

بیہقی میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

مشکاہ شریف میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اب آجاؤ فقہ کی کتب کی طرف ۔ ۔ ۔

فقہ حنفی کی سب سے مستند کتاب ھدایہ میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

قدوری میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

فتاوی عالمگیری میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

کنزالدقائق میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

فتاوی شامی میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

بدائع الصنائع میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں بارہ ربیع الاول 63 مرتبہ آیا

پھر حضور کے دنیا سے تشریف لیجانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رض کے دور میں 2 مرتبہ بارہ ربیع الاول آیا پھر حضرت عمر رض کے دور میں 12 ربیع الاول شاید 4 مرتبہ آیا اسی طرح عثمان رض اور حضرت علی رض کے دور میں کئی مرتبہ 12 ربیع الاول کا دن آیا اسی طرح جنت کے سرداروں حضرت حسن و حسین رض کی زندگیوں میں 12 ربیع الاول کئی مرتبہ آیا پھر امام ابوحنیفہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی رح کے دور میں بہت مرتبہ بارہ ربیع الاول آیا ۔ ۔ کیا ان تمام محترم ھستیوں نے بارہ ربیع الاول کو عید کہہ کر جشن منائے؟؟؟ ھرگز نہیں ورنہ حوالہ دو

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امام مالک کی فقہ کی کتاب المدونہ الکبری میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

امام شافعی کی فقہ کی کتاب " الام " میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

امام ابوحنیفہ رح کی کتاب مسندالامام الاعظم۔ کتاب الاثار ۔ سیرکبیر اور سیرصغیر میں عیدالاضحی اور عیدالفطر کا عنوان تو ھے مگر عیدمیلادالنبی کا کوئی عنوان نہیں ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور آخر یہ بارہ ربیع الاول کی کیسی عید ھے کہ مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی پر کوئی لائٹنگ اور ھلہ گلہ نہیں ھے حالانکہ عیدالفطر اور عیدالاضحی وھاں جوش و جذبے سے منائی جاتی ھے۔

سعودی عرب ۔ ترکی ۔ملائشیا انڈونیشیا عراق افغانستان کویت سوڈان بحرین سمیت بہت سے ممالک کے مسلمان عیدالفطر اور عیدالاضحی پر تو مکمل سرکاری چھٹی کرتے ھیں مگر بارہ ربیع الاول کو وھاں کوئی چھٹی اور جشن نہیں منائے جاتے۔

خانہ کعبہ و مسجدنبوی کے ائمہ ۔ لاکھوں دیوبندی علما لاکھوں سلفی علماء(غیر مقلد نہیں سلفی)جماعت اسلامی والے جامعہ ازھر مصر والے دارالعلوم دیوبند والے ۔ شافعی علما ۔ حنبلی علما ۔ مالکی علما عیدالفطر اور عیدالاضحی تو مکمل اھتمام سے مناتے ھیں مگر یہ جشن عیدمیلادالنبی والی عید یہ سب کیوں نہیں مناتے؟ آخر سوچنے کی بات ھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بریلوی فرقہ کے علاوہ پاکستان میں بارہ ربیع الاول والے دن تیسری عید کوئی نہیں مناتا ۔ کیا وجہ ھے؟

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پھر کہتے ھیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیدائش والے دن روزہ رکھا تھا مگر بریلوی اس دن تیسری عید مناتے ھیں تو کیا عید والے دن روزہ رکھنا جائز ھے کیا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔

پھر کہتے ھیں کہ ابلیس کے سوا سب یہ تیسری عید مناتے ھیں اسکا مطلب ھے کہ نبی پاک صحابہ اور ائمہ اربعہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ. ....؟ ۔ ؟؟۔ ۔ ؟؟؟

 

آخر بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کیا کہناچاہ رہے ھیں۔؟ھم نے یہ سب دلائل سمجھنے کے لئے دئیے ھیں آپ ھمیں بھی دلائل سے سمجھا دیں کسی پر تنقید نہیں آخرت کی کامبابی کا سوال ھے بابا ـــــــــــ مقتبس

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.