Sign in to follow this  
Followers 0
Shizz

Kia Murday Suntay Hain...................

188 posts in this topic

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم قبرستان جاو تو ان کو سلام کرو

 

عن أبی ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال : قال ابورزین یا رسول اﷲ ! إن طریقی علی الموتی فہل من کلام اتکلم بہ اذا مررت علیہم ؟ قال : قُلْ ألسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ یَا أہْلَ الْقُبُوْرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُؤمِنِیْنَ ، أنْتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَ نَحْنُ لَکُمْ تَبِعٌ وَ اِنَّا اِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالیٰ بِکُمْ لاَ حِقُوْنَ ، قال ابو رزین : یا رسول اﷲ ! یسمعون ؟ قال : یَسْمَعُوْنَ وَ لٰکِنْ لاَّ یَسْتَطِیْعُوْنَ أنْ یُّجِیْبُوْا۔

۱۱۳۴

 

حضرت ابو ہریرۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابو رزین رضی اﷲ تعالیٰ نے عرض کیا : یا رسول اﷲ ! میرا راستہ مقابر پر ہے ۔ کوئی کلام ایسا ہے کہ جب ان پر گذروں کہا کروں ؟ فرمایا : یوں کہہ ، سلام تم پر اے قبر والو! اہل ایمان اور اہل اسلام سے، تم ہمارے آگے ہو اور ہم تمہارے پیچھے اور ہم انشااﷲ تم سے ملنے والے ہیں ابو زرین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یا رسول اﷲ ! کیا مردے سنتے ہیں ؟ فرمایا : سنتے ہیں لیکن جواب نہیں دیتے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

۱۱۳۴۔ المسند للعقیلی، ۱۹/۴

Share this post


Link to post
Share on other sites

ap zara ghor se parhen ap k har sawal ka jawab isi mai mojood hai agar phir b nhi mantay to aik kam kren qabrustan mai ja kr murdon se guftgoo kr k video upload kr den phir hme waqai mai yaqeen aa jayega k murday suntay hain..

Share this post


Link to post
Share on other sites

مس یا مسز شِز

کیا واقعی علامہ ابنِ کثیر اور ابنِ قیم مُشرک تھے؟ آپ نے جو کچھ کہا تو جو فتویٰ آپ لوگوں کی جانب سے لگے گا وہ اُن پر بھی لازمی آئیگا۔

پلیز، ضرور بتایئے کہ کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

جزاک اللہ

Edited by Ghulam.e.Ahmed

Share this post


Link to post
Share on other sites

ap zara ghor se parhen ap k har sawal ka jawab isi mai mojood hai agar phir b nhi mantay to aik kam kren qabrustan mai ja kr murdon se guftgoo kr k video upload kr den phir hme waqai mai yaqeen aa jayega k murday suntay hain..

le app ne to Allah ko mushrik ki fehrist me la dia, (maaz Allah), q ke khuda ne khud ibrahim alaie salam ko murde parindo ko pukarne ka hukm dia hai (2,260) parho is ayat ko....

 

sir jee video ghalat ho sakti lekin mere qabar me hamari hajate sunne wale aqa sallal la ho alaihe wassalam ghalat nahi ho sakte, unka farman ghalat nahi ho sakta.... ke murde zindo se zyada sunte hai(bukhari), salam ka jawab dete hai(tirmizi)....

 

video per bharosa hai hadees per nahi,,, kalma parho.................... aur khuda per bhi nahi, subhan Allah, (2,260)

Share this post


Link to post
Share on other sites

مس یا مسز شِز

کیا واقعی علامہ ابنِ کثیر اور ابنِ قیم مُشرک تھے؟ آپ نے جو کچھ کہا تو جو فتویٰ آپ لوگوں کی جانب سے لگے گا وہ اُن پر بھی لازمی آئیگا۔

پلیز، ضرور بتایئے کہ کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

کیا یہ دونوں علماء مُشرک ہوئے؟

جزاک اللہ

kaash k ap logon ne mere thread ko sahi se or poora parha hota...

Share this post


Link to post
Share on other sites

le app ne to Allah ko mushrik ki fehrist me la dia, (maaz Allah), q ke khuda ne khud ibrahim alaie salam ko murde parindo ko pukarne ka hukm dia hai (2,260) parho is ayat ko....

 

sir jee video ghalat ho sakti lekin mere qabar me hamari hajate sunne wale aqa sallal la ho alaihe wassalam ghalat nahi ho sakte, unka farman ghalat nahi ho sakta.... ke murde zindo se zyada sunte hai(bukhari), salam ka jawab dete hai(tirmizi)....

 

video per bharosa hai hadees per nahi,,, kalma parho.................... aur khuda per bhi nahi, subhan Allah, (2,260)

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا۔ خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ لیکن (میں دیکھنا) اس لئے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان کامل حاصل کرلے۔ خدا نے فرمایا کہ چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھوا دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑتے چلے آئیں گے۔ اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے۔

Surat Al-Baqarah

ye moajzat ka zikar kr k ap kia sabit krna chahty hain?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Surat Az-Zumar30

 

(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

kaash k ap logon ne mere thread ko sahi se or poora parha hota...

محترمہ جیسا کہ آپکی آئی ڈی سے ظاہر ہے کہ آپ محترمہ ہی ہیں جبکہ مذہب کے خانے میں آپ نے خود کو غیر مقلد ظاہر کیا ہے مگر کس قدر افسوس ہے کہ آپ نے آتے ساتھ ہی کس قدر اندھی تقلید کا مظاہرہ کیا ہے یعنی ایک موضوع کو منتخب فرما کر اس پر ایک مخصوص مکتبہ فکر کے نظریات کی پرچارک ایک کتاب کے چند اوراق کو چسپاں کردیا ہے ایں چہ بو العجبی است ؟؟؟

یہ ہے آپکی غیر مقلدانہ شان کا اظہار مجتہدانہ فیا للعجب ؟؟؟ دیگر چند فورمز پر بھی آپکی ایسی ہی کارگزاریاں ہماری نظر سے گزری ہیں اگر آپ کو علم سے زرا سا بھی مس ہے تو یہ کیا طریقہ کار ہوا کہ ایک مخصوص مسئلہ پر ایک مخصوص مکتبہ فکر کے نظریات پر مبنی ایک کتاب کو سکین کردیا جائے ؟؟؟؟ کیا آپ میں اتنی بھی اہلیت نہیں کہ جس مسئلہ پر آپ گفتگو کرنا چاہیں اس کے مندرجات چاہے کسی مخصوص نظریہ کی حامل کتاب سے ہی نوٹ فرماکر ان کو اپنے الفاظ

میں باقاعدہ استدلال کے ساتھ ترتیب دے سکیں ؟؟؟؟ تاکہ گفتگو کا ایک مربوط سلسلہ قائم ہو اور ہم سمیت دیگر قارئین کرام کا جو کہ علم کے متلاشی ہیں بھلا ہو ؟؟؟؟؟

یہ کیا ہو کہ ادھر ادھر مختلف فورمز پر گھومیے اور اپنے مسلک کی حمایت بے جا میں محض کاپی پیسٹ پر ہی اکتفا کیجیئے ۔۔۔۔امید کرتا ہون کے میری بات سمجھ میں ٓگئی ہوگی ۔۔۔والسلام

Share this post


Link to post
Share on other sites

Surat Az-Zumar30

 

(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے

 

کُلُّ نَفسٍ ذَائِقَۃُ المَوتِ ثُمَّ اِلَینَا تُرجَعُونَ

 

Aiyt per kia aitraaz hy ?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Surat Az-Zumar30

 

(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے

 

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان

(Muhammad Saqib Raza Qadri, Lahore)

 

 

درود شریف حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سنتے بھی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا بھی جاتا ہے ۔۔۔ حدیث بسند جید

 

دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان

کان لعل کرامت پہ لاکھوں سلام

 

کچھ عرصہ قبل ایک کالم نظر سے گزرا جس میں کالم نگار نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا از خود اپنی قبر انور میں درود شریف سننے اور قبر میں درود پہنچنے والی درج ذیل روایت پر جرح کرتے ہوئے اس کو ضعیف قرار دیا اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے درود شریف سننے اور آپ ﷺ کو درود شریف پیش کئے جانے کی نفی کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔استغفراللہ العظیم

 

فقیر درج ذیل سطور میں حدیث مبارکہ نقل کرنے کے بعد علماء و محدثین کا کلام اس حدیث کی بابت تحریر کئے دیتا ہے۔ اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں محبت رسول ﷺ کی دولت سے مالا مال فرمائے اور منکرین عظمت و شان رسالت کو ھدایت عطا فرمائے۔ کمال تعجب ہے ان لوگو ں کی عقلوں پر، کہ آج یہ تو ایک چھوٹا ساموبائل کان کے ساتھ لگا کر دنیا جہان کی باتیں سن لیں اور دوردراز بیٹھے شخص کی آواز ان تک پہنچ جائے تو کیا سید دو عالم باعث ایجاد عالم جان کائنات محسن انسانیت کے مبارک کانوں کو اللہ عزوجل یہ طاقت نہیں عطا کر سکتا کہ دور کی آواز سن لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

 

قبروں کی زیارت کے وقت السلام علیکم یا اھل القبور کہنے کا حکم خود شریعت میں موجود ہے ، تو جب مردے سنتے ہی نہیں تو پھر اس سلام کرنے کا کیا فائدہ؟؟؟

 

اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 

حدیث مبارکہ ہے:

من صلی علی عند قبری سمعتہ و من صلی علی نائبا ابلغتہ

جس نے مجھ پر میری قبر کے قریب درود پڑھا میں اسے خود سنتا ہوں اور جس نے دور سے پڑھا وہ مجھے پہنچایا جاتا ہے۔

 

اس حدیث کو شیخ الاصبہانی نے کتاب الثواب میں روایت کیا جیسا کہ اللآلی المصنوعۃ جلد ۱ ص ۲۸۳ میں ہے:

حدثنا عبدالرحمن بن احمد الاعرج حدثنا الحسن بن الصباح حدثنا ابو معاویہ عن الاعمش عن ابی الصالح عن ابی ھریرۃ بہ مرفوعا

حافظ سخاوی نے القول البدیع صفحہ نمبر ۱۵۴ میں کہا: اس کی سند جید ہے جیسا کہ ہمارے شیخ ابن حجر نے افادہ فرمایا۔ انتہی

 

شیخ حافظ احمد بن الصدیق الغماری نے المداوی لعلل المناوی جلد ۶ ص ۲۷۷ میں فرمایا

اس کی سند نظیف ہے اور ابن تیمیہ نے الرد علی الاخنائی ص ۱۳۴ میں صراحت کی کہ یہ صحیح المعنی ہے

 

اس حدیث کے مفہوم کی توثیق ایک اور حدیث سے نہایت احسن انداز میں ہوجاتی ہے جو کہ درج ذیل ہے:

عن ابی صخر حمید بن زیاد عن یزید بن عبداللہ ابن قسیط عن ابی ہریرۃ ان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال:

ما من احد یسلم علی رد اللہ علی روحی حتی ارد علیہ

یعنی کوئی بھی مسلمان جب مجھ پر درود وسلام پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو میری طرف لوٹاتا ہے حتی کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔

 

حوالہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں

مسند امام احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۵۲۷ ، سنن ابوداؤد جلد ۲ ص ۲۹۳، سنن الکبری للبیہقی جلد ۵ ص ۲۴۵، شعب الایمان للبیہقی جلد ۲ ص ۲۱۷ و اخبار اصبھان لامام ابونعیم جلد ۲ ص ۳۹۳

 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ صرف درود و سلام شریف سنتے ہیں بلکہ

 

درود شریف پڑھنے والے کو اس کا جواب بھی عطا فرماتے ہیں،

 

امتی تیری قسمت پہ لاکھوں سلام

 

اللہ تعالیٰ قبول حق کی توفیق عنایت فرمائے۔۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم

Share this post


Link to post
Share on other sites

Surat Az-Zumar30

 

(اے پیغمبر) تم بھی مر جاؤ گے اور یہ بھی مر جائیں گے

 

 

نام نہاد اہل حدیث واھابیوں کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو مر چکے لیکن ان وھابیوں کے نزدیک اسامہ بن لادن

آج بھی زندہ ہے

 

ملاحظہ فرمائیں ثبوت

 

Osama Zinda Hy ? Click here

 

Shizz Sahiba plz Osama k bary mai Clear ker dain wo zinda hy ya murda ?

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

 

ان تمام آیات میں مردوں سے مراد مردہ دل کفار ہیں

جن کو اسلام کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ انکار کر دیتے تھے

 

اگر ایسا نہیں تھا تو ملک صاحب کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں پر جا کر مُردوں کو اسلام کی دعوت دی تھی تو یہ آیات نازل ہوئی ؟

اس بات کا جواب دو دلیل کے ساتھ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں پر جا کر مردوں کو اسلام کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ آپ ان کو نہیں سنا سکتے ؟؟؟

مختصر طور پر آپ کی پہلی دو آیات کی تشریحاً جواب ملاحظہ فرمائیں

 

1.JPG

2.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام ابو حنیفہ کے ایک واقعہ :

 

شاہ محمد اسحاق دہلوی کے ایک شاگرد رشید مولانا محمد بشیر الدین قنوجی(متوفی:١٢٩٦ھ)نے فقہ کی ایک کتاب ''غرائب فی تحقیق المذاہب''کے حوالہ سے لکھا ہے۔:

''امام ابو حنیفہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کچھ نیک لوگوں کی قبروں کے پاس آکر ان سے کہہ رہا تھا:''اے قبر والو!کیا تمہیں خبر بھی ہے اور کیا تمہارے پاس کچھ اثر بھی ہے؟میں تمہارے پاس کئی مہینوں سے آرہا ہوں اور تمہیں پکار رہا ہوں،تم سے میرا سوال بجز دعا کرانے کے اور کچھ نہیں۔تم میرے حال کو جانتے ہو یا میرے حال سے بے خبر ہو؟''امام ابو حنیفہ نے اس کی بات سن کر اس سے پوچھا:''کیا (ان قبر والوں نے)تیری بات کا جواب دیا؟''وہ کہنے لگا:''نہیں!''تو آپ نے فرمایا:''تجھ پر پھٹکار ہو،تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں،تو ایسے (مردہ)جسموں سے بات کرتا ہے جونہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں،نہ کسی چیز کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ کسی کی آواز (فریاد)سن سکتے ہیں،پھر امام صاحب نے یہ آیت پڑھی:

وما انت بمسمع من فی القبور(الفاطر٣٥/٢٢) ''(اے پیغمبر!)تو ان کو سنا نہیں سکتا جو قبروں میں ہیں''

حوالہ:تفھیم المسائل مولانا محمد بشیر الدین قنوجی

٭علامہ آلوسی بغدادی کی وضاحت:علامہ آلوسی حنفی بغدادی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:

''کسی شخص سے درخواست کرنا اور اس کو اس معنی میں وسیلہ بنانا کہ وہ اس کے حق میں دعا کرے اس کے جواز میں کوئی شک نہیں بشرطیکہ جس سے درخواست کی جارہی ہو وہ زندہ ہو۔۔۔لیکن اگر وہ شخص جس سے درخواست کی جائے مردہ ہو یا غائب ،تو ایسے استغاثیکے ناجائز ہونے میں کسی عالم کو شک نہیں اور مردوں سے استغاثہ ان بدعات میں سے ہے جن کو سلف میں سے کسی نے نہیں کیا''

حوالہ((:تفسیر روح المعانی٢/٢٩٧،طبع قدیم١٣٠١ھ))

اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ،تابعین،ائمہ کرام اور تمام اسلاف صالحین رحمتہ اللہ علیھم زندہ نیک لوگوں سے تو دعا کرانے کا قائل تھے لیکن کسی مردہ کو انہوں نے مدد کیلئے نہیں پکارااور ان سے استغاثہ نہیں کیا۔حتی کہ رسول اللہ ۖ تک سے استغاثہ نہیں کیا۔اب آپ کے بعد کونسی ہستی ایسی ہے جو آپ سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو کہ اسے مدد کیلئے بکارا جائے اور اس سے استعانت کی جائے(فھل من مدکر؟)

ائیے مزید پڑھتے ہیں تاکہ کوئی بہانہ نہ رہے۔۔

حضرت مجدد الف ثانی:چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی لکھتے ہیں:''اور یہ لوگ بزرگوں کیلئے جو حیوانات(مرغوں،بکروں وغیرہ)کی نذر مانتے ہیں اور پھر ان کی قبروں پر لے جا کر ان کو ذبح کرتے ہیں تو فقہی روایات میں اس فعل کو بھی شرک میں داخل کیا گیا ہے اور فقہاء نے اس باب میں پوری سختی سے کام لیا ہے اور ان قربانیوں کو جنوں (دیوتائوں اور دیویوں)کی قربانی کے قبیل سے ٹھہرایا ہے جو شرعا ممنوع اور داخل شرک ہے''(مکتوب امام ربانی۔دفتر سوم،مکتوب:١٤١)

اسی مکتوب میں آگے چل کر وہ ان جاہل مسلمان عورتوں کے بارے میں لکھتے ہیں جو پیروں اور بیبیوں کو راضی کرنے کی نیت سے ان کے نام کے روزے رکھتی ہیں اور ان کے روزوں کے توسل سے ان پیروں اور بیبیوں سے اپنی حاجتیں طلب کرتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ ہماری حاجتیں پوری کریں گے۔ان کے بارے میں حضرت مجدد فرماتے ہیں:ایں شرکت در عبادت است''کہ ''ان جاہل عورتوں کا یہ عمل شرک فی العبادت ہے۔''

 

 

حضرت شاہ ولی اللہ:شاہ ولی اللہ محدث فرماتے ہیں:

''اگر عرب کے مشرکین کے احوال و اعمال کا صحیح تصور تمہارے لئے مشکل ہو اور اس میں کچھ توقف ہو تو اپنے زمانے کے پیشہ ور عوام خصوصا وہ جو دارالسلام کے اطراف میںرہتے ہیں ان کا حال دیکھ لو،وہ قبروں،آستانوں اور درگاہوں پر جاتے ہیں اور طرح طرح کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔''

حوالہ:(الفوز الکبیر فی اصول التفسیر:١١)

اور حجتہ اللہ البالغہ''میں شرک کی مختلف شکلیں بیان کرکے لکھتے ہیں:

''اور شرک کی یہ وہ بیماری ہے جس میں یہود،و نصاری اور مشرکین بالعموم اور ہمارے اس زمانے میں مسلمانوں میں سے بعض غالی منافقین مبتلا ہیں۔''

حوالہ:(حجۃ اللہ البالغۃ،باب فی حقیقۃ الشرک،ص:٦١١)

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی:

شاہ عبدالعزیز دہلوی سورہ مزمل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ شان صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے کہ جو اس کو جب اور جہاں سے یاد کرے،اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہو جائے اور یہ شان بھی اسی کی ہے کہ وہ اس بندے کی قوت مدرکہ میں آجائے جس کو شریعت کی خاص زبان میں دُنُو،تدلی اور قرب و نزول کہا جاتا ہے۔اس کے بعد فرماتے ہیں

''اور یہ دونوں صفتیں اللہ پاک کی ذات کا خاصہ ہیں،یہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہیں۔ہاں بعض کفاراپنے بعض معبودوں اور دیوتائوں کے بارے میں،اور مسلمانوں میں سے بعض پیر پرست اپنے پیروں کے بارے میں ان میں سے پہلی چیز ثابت کرتے ہیںاور اپنی حاجتوںکے وقت اسی اعتقاد کی بناء پر ان سے مدد چاہتے ہیںاور مدد کیلئے انہیں پکارتے ہیں۔'' (حوالہ:تفسیر عزیزی پارہ تبارک الذی،سورہ مزمل،صفحہ :١٨١)

اپنے فتاوی میں ایک سوال کے جواب میں ہندوستان کے ہندوئوں کے شرک کا حال یوں بیان کر کے آخر میں فرماتے ہیں:

''یہی حال ہے بہت سے مسلمان فرقوں کا مثلا تعزیہ بنانے والوں،قبروںکے مجاوروں،جلالیوں اور مداریوں کا۔'' (فتاویٰ عزیزی:١/١٣٤،طبع مجتبائی دہلی)

اور اسی فتاوی میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:

''ارواح طیبہ(نیک لوگوں کی روحیں)سے استعانت کے معاملے میں اس امت کے جہال و عوام جو کچھ کرتے ہیں اور ہر کام میں بزرگان دین کو مستقل مختار سمجھتے ہیں۔یہ بلا شبہ شرک جلی ہے۔''(حوا لہ مذکورہ:١٢١)

اسی طرح اور بھی کئی بزرگوں نے اس کی صراحتیں کی ہین کہ قبر پرستی مسلمانون کے اعمال و عقائد صریحا مشرکانہ ہیں۔

فقہ حنفی کی صراحت (قبروں پر کئے جانے والے کام حرام ہیں):

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ تمام قبرپرست اپنے آپ کو فقہ حنفی کا پیروکار کہتے ہیں حالانکہ فقہ حنفی میں بھی ان امور کو جن کا ارتکاب قبر پرست کرتے ہیں،حرام و باطل اور کفر وشرک بتایا گیا ہے۔چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب''ذرمختار''میں ہے:

''معلوم ہونا چاہئے کہ اکثر عوام،مردوں کے نام پر جو نذریں اور نیازیں دیتے ہیں۔چڑھاوے چڑھاتے ہیں،اولیاء کرام کا تقرب حاصل کرنے کیلئے مالی نذرانے پیش کرتے ہیںاور ان قبروں پر چراغ اور تیل جلاتے ہیں،وغیرہ۔یہ سب چیزیں بالا جماع،باطل اور حرام ہیں''

حوالہ:الدر المختار:٢/٤٣٩

در مختار کی مشہو ر شرح رد المختار(المعروف فتویٰ شامی)میں اس کی شرح یوں بیان کی گئی ہے:۔

''اس نذر لغیر اللہ کے باطل اور حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیںجن میں سے یہ ہے کہ

٭یہ قبروں کے چڑھاوے وغیرہ مخلوق کے نام کی نذریں ہیں اور مخلوق کے نام کی نذر جائزہی نہیں اس لئے کہ یہ (نذر بھی)عبادت ہے،اور عبادت کسی مخلوق کی جائز نہیں ''

٭اور ایک وجہ یہ ہے کہ منذورلہ(جس کے نام کی نذر دی جاتی ہے)مردہ ہے اور مردہ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔

٭اور ایک وجہ یہ ہے کہ نذر دینے والا شخص مردوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتے ہیں حالانکہ ایسا عقیدہ رکھنا بھی کفر ہے۔'' حوالہ:رد المختار:٢/٤٣٩

فتاوی عالمگیری کا فتوی: اسی طرح فتوی عالمگیری جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے پانچ سو حنفی علما ء نے مرتب کیا ہے،اس میں لکھا ہے کہ:

''اکثر عوام میں یہ رواج ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کی قبر پر جا کر نذر مانتے ہیں کہ اے فلاں بزرگ!اگر میری حاجت پوری ہو گئی تو اتنا سونا(یا کوئی اور چیز)تمہاری قبر پر چڑھائوں گا۔یہ نذر بالاجماع باطل ہے۔''پھر لکھا ہے:

''پس جو دینار و درہم اور چیزیں اولیاء کرام کی قبروں پر ان کا قرب حاصل کرنے (اور راضی کرنے )کیلئے لی جاتی ہیں وہ بالاجماع حرام ہیں۔''

حوالہ:(الفتاوی الھندیہ(المعروف)فتاوی عالمگیری:١/٢١٦،باب الاعکاف،طبع مصر)

Share this post


Link to post
Share on other sites

ان تمام آیات میں مردوں سے مراد مردہ دل کفار ہیں

جن کو اسلام کی دعوت دی جاتی تھی تو وہ انکار کر دیتے تھے

 

اگر ایسا نہیں تھا تو ملک صاحب کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں پر جا کر مُردوں کو اسلام کی دعوت دی تھی تو یہ آیات نازل ہوئی ؟

اس بات کا جواب دو دلیل کے ساتھ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبروں پر جا کر مردوں کو اسلام کی دعوت دی تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ آپ ان کو نہیں سنا سکتے ؟؟؟

مختصر طور پر آپ کی پہلی دو آیات کی تشریحاً جواب ملاحظہ فرمائیں

 

post-4264-0-18308700-1334687455.jpg

post-4264-0-81489200-1334687468.jpg

 

 

 

پلیز اس آیت کی بھی تفسیر بتا دیں

 

 

وَ مَا یَسۡتَوِی الۡاَحۡیَآءُ وَ لَا الۡاَمۡوَاتُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُسۡمِعُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُسۡمِعٍ مَّنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۲۲﴾

﴿035:022﴾

 

اور نہ زندے اور مردے برابر ہو سکتے ہیں خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے ‏

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.