Sign in to follow this  
Followers 0
HozaifaMalik

Aal-E-Barailwiyat Ko Khula Challenge Ahmad Raza Khan Or Quran Main Tehreef (Malfoozat Main Ghalat Ayat )

18 posts in this topic

تمام انبیاء وشہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں، لیکن ان کی یہ زندگی برزخی ہے، جس کا دنیاوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں!

 

 

 

 

بسم الله، والحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله!

انبیاء کرام علیہم السلام تمام انسانوں کے افضل ہیں، جن کے سردار سیدنا نبی کریمﷺ ہیں۔ جو تمام بنی آدم کے سردار بھی ہیں اور سید الانبیاء والمرسلین بھی۔ آپﷺ تمام لوگوں میں اکمل ترین، افضل ترین اور سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے معزز بھی ہیں۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی وجہ سے آپ میں سے بشریت کے خصائص سلب ہوگئے ہیں یا آپ کے اندر خالق کی صفات میں سے کوئی صفات آگئی ہیں، نہیں ہرگز نہیں، بلکہ آپ کی افضیلت اور اللہ کے ہاں محبوب ہونے کی بنیادی وجہ ہی آپ کی کامل بندگی وکامل ترین عبودیت ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نبی کریمﷺ کو باوجود افضل ترین شخصیت ہونے کے وہ چیزیں لاحق ہوتی تھیں جو دیگر لوگوں کو لاحق ہوتی ہیں، مثلاً آپ کو کھانے پینے، سونے اور شادی وغیرہ کرنے کی احتیاج ہوتی تھی، اسی طرح آپ بیمار بھی ہوتے تھے، اور اسی طرح آپﷺ دیگر انسانوں کی طرح فوت بھی ہوئے، اسی لئے آپﷺ کیلئے کفن دفن اور قبر مبارک وغیرہ کا اہتمام کیا گیا۔ فرمان باری ہے:

﴿ ﴾ کہ ’’ہر نفس نے موت کا ذائقۃ چکھنا ہے۔‘‘

نیز فرمایا: کہ ’’(اے میرے حبیب! یقینی بات ہے کہ آپ بھی فوت ہونے والے ہیں اور یہ (کفار مکہ) بھی مر جائیں گے۔‘‘

نیز فرمایا: کہ ’’(اے میرے حبیب! ہم نے آپ سے پہلے کسی بشر کو ہمیشہ کی زندگی عطا نہیں کی، تو جب آپ (افضل الشبر علیہ الصلاۃ والسلام) نے فوت ہونا ہے تو کیا یہ (کفار مکہ) ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘

دیگر انبیاء کرام علیہم السلام بھی فوت ہوئے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: کہ ’’یہ امتیں تھیں جو گزر چکیں، ان کے لئے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لئے جو تم نے کمایا۔‘‘

جب نبی کریمﷺ فوت ہوئے تو سیدنا ابو بکر صدیق﷜ نے اپنا مشہور مقولہ فرمایا تھا:...صحيح البخاريکہ ’’جو شخص محمد ﷺ کی بندگی کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد تو مر چکے ہیں، اور جو شخص اللہ رب العٰلمین کی عبادت کرتا تھا تو یقینا اللہ تعالیٰ زندہ لا زوال ہیں اور کبھی نہیں مریں گے، پھر آپ﷜ نے درج ذیل دو آیات کریمہ کی تلاوت فرمائی جن کا ترجمہ یہ ہے:

1. یقیناً آپ (اے میرے حبیب!) فوت ہونے والے ہیں اور یہ (کفار) بھی مر جائیں کے۔

2. نہیں کہ محمد مگر رسول ہی، جن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے (یعنی آ کر فوت ہوچکے) کیا اگر وہ (محمد) مر جائیں یا شہید کر دئیے جائیں تم مرتد ہوجاؤ گے؟ اور جو اپنے قدموں پر پلٹا تو وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘

ایک اور صحیح حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کہ ’’آج زمیں پر جتنے لوگ موجود ہیں، سو سال کے بعد ان میں سے کوئی نفس بھی سانس لینے والا (یعنی زندہ) نہیں ہوگا۔‘‘

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے: « لا يبقى على وجه الأرض بعد مائة سنة ممن هو عليها اليوم أحد » اس کا مفہوم بھی پچھلی حدیث مبارکہ کی طرح ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ انبیاء کرام﷩ بشمول سید الانبیاء والمرسلینﷺ فوت ہوگئے لیکن وہ اپنے قبروں میں زندہ ہیں، جیسے شہید اپنی قبروں میں زندہ ہیں، تو یہ بات صحیح ہے، صحیح حدیث میں سیدنا ابو الدراء﷜ سے مروی ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا:« أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة ، فإنه مشهود تشهده الملائكة ، وإن أحدا لن يصلي علي إلا عرضت علي صلاته حتى يفرغ منها قال : قلت : وبعد الموت ؟ قال : وبعد الموت ، إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ، فنبي الله حي يرزق » ... سنن ابن ماجه وحسنه الألباني في صحيح الترغيب کہ ’’مجھ پر جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ اس دن فرشتے جمع ہوتے ہیں، اور جب تم سے کوئی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے تو اس درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ موت کے بعد بھی؟ فرمایا: موت کے بعد بھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام علیہم السلام کو جسم مبارک کو کھانا حرام کر دیا ہے۔ پس اللہ کے نبی زندہ ہوتے اور رزق دئیے جاتے ہیں۔‘‘

اسی طرح سیدنا انس﷜ سے مروی ایک اور صحیح حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا:... مسند البزار، وصححه الألباني رحمه الله کہ ’’انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔‘‘

لیکن یہ بات واضح رہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام اور شہداء وغیرہ کی یہ زندگی برزخی زندگی ہے، جس کا دنیاوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی دنیا میں موجود زندہ لوگ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ بلکہ جیسے ہی انبیاء وشہداء فوت ہوتے ہیں، ان کی برزخی زندگی شروع ہوجاتی ہے، لیکن دفنانے سے پہلے وہ ہمارے سامنے تو مردہ ہی ہوتے ہیں، لہٰذا ثابت ہوا کہ یہ انبیاء کرام﷩ اور شہداء﷭ وغیرہ کی قبر کی زندگی برزخی ہے، جسے دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے، فرمان باری ہے: کہ ’’جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید ہوجائیں، انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم (اے انسانو) شعور نہیں رکھتے۔‘‘

یہ آیت کریمہ بہت واضح دلیل ہے کہ ہم اس برزخی زندگی کے معاملات نہیں سمجھ سکتے۔

امام ابن کثیر﷫ شہادت کے بعد شہداء کی روحوں کا سبز پرندوں میں آنا اور اور جنت کی سیر وغیرہ اور پھر شہیدوں کا اللہ سے دوبارہ اپنی روحوں کو دنیاوی اجساد میں لوٹانے کے مطالبے کے متعلق فرماتے ہیں:کہ ’’یہ احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ نعمتیں روحوں کیلئے ہیں۔ اور یہ زندگی بھی روحوں کی زندگی ہے، اور یہ برزخی زندگی ہے جو دنیاوی زندگی سے کسی طور مشابہت نہیں رکھتی، اور ان کی روحیں ان کے دنیاوی اجساد میں نہیں ہوں گی، اسی لئے وہ اللہ سے دوبارہ اپنی روحوں کے دنیاوی جسموں میں لوٹانے کا مطالبہ کریں گے تاکہ وہ دوبارہ شہید ہوں (اور اللہ کے مزید انعامات حاصل کریں۔)‘‘

علماء لجنہ دائمہ﷭ فرماتے ہیں: حياة الأنبياء والشهداء وسائر الأولياء حياة برزخية لا يعلم حقيقتها إلا الله ، وليست كالحياة التي كانت لهم في الدنيا " انتهى ... "فتاوى اللجنة الدائمة" (1 / 173-174) کہ ’’انیباء اور شہداء کی زندگی اور اسی طرح دیگر تمام اولیاء کی زندگی برزخی زندگی ہے جس کی حقیقت اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، یہ زندگی ہرگز اس زندگی کی طرح نہیں جو دنیا میں تھی۔‘‘اور شہیدوں کی برزخی زندگی کی بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ ان کی وراثت تقسیم کر دی جاتی ہے، ان کی بیویوں سے دیگر لوگ شادی کر سکتے ہیں اور اسی طرح ان پر مردوں کے دیگر تمام احکامات جاری ہوتے ہیں۔

اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کے فوت ہونے کے بعد ان کے جانشین خلیفہ ہوتے ہیں جو لوگوں کے معاملات دیکھتے، ان کو نمازیں پڑھاتے، فتوے دیتے اور ان کے دیگر اختلافات کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اور اسی لئے جب نبی کریمﷺ فوت ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا تھا، اگر آپ زندہ ہوتے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کبھی اپنی وراثت نہ مانگتیں اور ابو بکر صدیق﷜ انہیں یہ جواب دیتے کہ ابھی تو نبی کریمﷺ فوت ہی نہیں ہوئے لیکن سیدنا ابو بکر صدیق﷜ نے انہیں جواب میں یہ حدیث مبارکہ پیش کی انبیاء کی اصل وراثت ان کا علم ہوتا ہے، ان کی درہم ودینار کی وراثت تو صدقہ ہوتی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم!

Edited by Usman Razawi

Share this post


Link to post
Share on other sites

1 - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مات وأبو بكر بالسنح - قال إسماعيل : يعني بالعالية - فقام عمر يقول : والله ما مات رسول الله صلى اللهعليه وسلم ، قالت : وقال عمر : والله ما كان يقع في نفسي إلا ذاك ، وليبعثنه الله ، فليقطعن أيدي رجال وأرجلهم . فجاء أبو بكر فكشف عن رسولالله صلى الله عليه وسلم فقبله ، قال : بأبي أنت وأمي ، طبت حيا ميتا ، والذي نفسي بيده لا يذيقنك الله الموتتين أبدا ، ثم خرج فقال : أيها الحالفعلى رسلك ، فلما تكلم أبو بكر جلس عمر ، فحمد الله أبو بكر وأثنى عليه ، وقال : ألا من كان يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا قد مات ، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت . وقال : { أنك ميت وإنهم ميتون } . وقال : { وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفأن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين } . فنشج الناس يبكون ، قال : واجتمعت الأنصار إلى سعد بن عبادة في سقيفة بني ساعدة ، فقالوا : منا أمير ومنكم أمير ، فذهب إليهم أبو بكر وعمر بن الخطاب وأبو عبيدة بن الجراح ، فذهب عمر يتكلم فأسكته أبو بكر ، وكان عمر يقول : والله ما أردت بذلك إلا أني قد هيأت كلاما قد أعجبني ، خشيت أن لا يبلغه أبو بكر ، ثم تكلم أبو بكر فتكلم أبلغ الناس ، فقال في كلامه : نحن الأمراء وأنتم الوزراء ، فقال حباب بن المنذر : لا والله لا نفعل ، منا أمير ، ومنكم أمير ، فقال أبو بكر : لا ، ولكنا الأمراء ، وأنتم الوزارء ، هم أوسط العرب دارا ، وأعربهم أحسابا ، فبايعوا عمر أو أبا عبيدة بن الجراح ، فقال عمر : بل نبايعك أنت ، فأنت سيدنا ، وخيرنا ، وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخذ عمر بيده فبايعه ، وبايعه الناس ، فقال قائل : قتلتم سعدا ، فقال عمر : قتله الله. وقال عبد الله بن سالم ، عن الزبيدي : قال عبد الرحمن بن القاسم : أخبرني القاسم : أن عائشة رضي الله عنها قالت : شخص بصر النبي صلىالله عليه وسلم ثم قال : ( في الرفيق الأعلى ) . ثلاثا ، وقص الحديث . قالت : فما كانت من خطبتهما من خطبة إلا نفع الله بها ، لقد خوف عمر الناس ، وإن فيهم لنفاقا ، فردهم الله بذلك . ثم لقد بصر أبو بكر الناس الهدى وعرفهم الحق الذي عليهم ، وخرجوا به يتلون : { وما محمد إلارسول قد خلت من قبله الرسل - إلى - الشاكرين } .

الراوي: عائشة المحدث: - المصدر: - الصفحة أو الرقم: 3667

خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

 

 

2 - كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مر ببابي ربما يلقي الكلمة ينفع الله بها فمر ذات يوم فلم يقل شيئا ثم مر أيضا فلم يقل شيئا مرتين أو ثلاثا قلت يا جارية ضعي لي وسادة على الباب وعصبت رأسي فمر بي فقال يا عائشة ما شأنك قلت أشتكي رأسي قال أنا وارأساه فذهب فلم يلبثإلا يسيرا حتى جيء به محمولا في كساء فدخل وبعث إلى النساء فقال إني قد اشتكيت وإني لا أستطيع أن أدور بينكن فأذن لي فلأكون عند عائشة فأذن له فكنت أوصبه ولم أوصب أحدا قبله فبينما رأسه ذات يوم على منكبي إذ مال رأسه نحو رأسي فظننت أنه يريد من رأسي حاجة فخرجت منفيه نطفة باردة فوقعت على ثغرة نحري فاقشعر لها جلدي فظننت أنه غشي عليه فسجيته ثوبا فجاء عمر والمغيرة بن شعبة فاستأذنا فأذنت لهما وجذبت الحجاب فنظر عمر إليه فقال واغشياه ما أشد غشي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قام فلما دنوا من الباب قال المغيرة لعمر مات رسولالله صلى الله عليه وسلم قال كذبت بل أنت رجل تحوسك فتنة إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يموت حتى يفني الله المنافقين ثم جاء أبو بكر فرفع الحجاب فنظر إليه فقال إنا لله وإنا إليه راجعون مات رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم أتاه من قبل رأسه فحدر فاه وقبل جبهته قال واصفياه ثم رفع رأسه وحدر فاه وقبل جبهته وقال واخليلاه مات رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج إلى المسجد وعمر يخطب الناس ويقول إن رسول الله صلىالله عليه وسلم لا يموت حتى يفني الله المنافقين فتكلم أبو بكر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال إن الله عز وجل يقول { إنك ميت وإنهم ميتون } حتى ختم الآية { وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم . . . } الآية من كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت ومنكان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات فقال عمر إنها لفي كتاب الله ما شعرت أنها في كتاب الله عز وجل ثم قال عمر يا أيها الناس هذا أبو بكر وهو ذو شيبة المسلمين فبايعوه فبايعوه

الراوي: عائشة المحدث: المصدر: - الصفحة أو الرقم: 9/34

خلاصة حكم المحدث: رجاله ثقات

 

 

لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر عند امرأته ابنة خارجة بالعوالي فجعلوا يقولون لم يمت النبي صلى الله عليه وسلم إنما هو بعض ما كان يأخذه عند الوحي فجاء أبو بكر فكشف عن وجهه وقبل بين عينيه وقال أنت أكرم على الله من أن يميتك مرتين قد والله مات رسول اللهصلى الله عليه وسلم وعمر في ناحية المسجد يقول والله ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يموت حتى يقطع أيدي أناس من المنافقين كثير وأرجلهم فقام أبو بكر فصعد المنبر فقال من كان يعبد الله فإن الله حي لم يمت ومن كان يعبد محمدا فإن محمدا قد مات { وما محمد إلا رسول قد خلتمن قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابكم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاكرين } قال عمر فلكأني لم أقرأهاإلا يومئذ

الراوي: عائشة المحدث المصدر:\الصفحة أو الرقم: 1329

خلاصة حكم المحدث: صحيح دون جملة الوحي

 

 

أن أبا بكر رضي الله عنه أقبل على فرس من مسكنه بالسنح ، حتى نزل فدخل المسجد ، فلم يكلم الناس حتى دخل على عائشة ، فتيمم رسولالله صلى الله عليه وسلم وهو مغشي بثوب حبرة ، فكشف عن وجهه ثم أكب عليه فقبله وبكى ، ثم قال : بأبي أنت وأمي ، والله لا يجمع الله عليك موتتين ، أما الموتة التي كتبت عليك فقد متها . قال الزهري : حدثني أبو سلمة ، عن عبد الله بن عباس : أن أبا بكر خرج وعمر بن الخطاب يكلم الناس ، فقال : اجلس يا عمر ، فأبى عمر أن يجلس ، فأقبل الناس إليه وتركوا عمر ، فقال أبو بكر : أما بعد ، فمن كان منكم يعبد محمدا صلى اللهعليه وسلم فإن محمدا قد مات ، ومن كان منكم يعبد الله فإن الله حي لا يموت . قال الله : وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل - إلى قوله - الشاكرين . وقال : والله لكأن الناس لم يعلموا أن الله أنزل هذه الآية حتى تلاها أبو بكر ، فتلقاها منه الناس كلهم ، فما أسمع بشرا من الناس إلايتلوها . فأخبرني سعيد بن المسيب : أن عمر قال : والله ما هو إلا أن سمعت أبا بكر تلاها فعقرت ، حتى ما تقلني رجلاي ، وحتى أهويت إلى الأرض حين سمعته تلاها ، علمت أن النبي صلى الله عليه وسلم قد مات .

الراوي: عائشة المحدث: المصدر: - الصفحة أو الرقم: 4452

خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

 

 

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مات وأبو بكر بالسنح ، فجاء أبو بكر ، فكشف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقبله قال : بأبي أنت وأمي ، طبت حيا وميتا ، ثم خرج ، فحمد الله ، وأثنى عليه ، وقال : ألا من كان يعبد محمدا ، فإن محمدا قد مات ، ومن كان يعبد الله ، فإن الله حي لا يموت ، وقال : { إنك ميت وإنهم ميتون } وقال عز وجل : { وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل } إلى قوله { الشاكرين } قال : فنشج الناس يبكون ، قال : واجتمعت الأنصار إلى سعد بن عبادة في سقيفة بني ساعدة ، فقالوا : منا أمير ، ومنكم أمير ، فذهب إليهم أبو بكر ، وعمر بن الخطاب ، وأبو عبيدة بن الجراح ، فذهب عمر يتكلم ، فأسكته أبو بكر ، ثم تكلم أبو بكر فتكلم أبلغ الناس ، فقال في كلامه : نحن الأمراء وأنتم الوزراء ، فبايعوا عمر وأبا عبيدة ، فقال عمر : بل نبايعك أنت ، فأنت سيدنا وخيرنا وأحبنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخذ عمر بيده ، فبايعه ، وبايعه الناس

الراوي: عائشة المحدث: - المصدر: - الصفحة أو الرقم: 5/323

خلاصة حكم المحدث: صحيح

 

قدم الجارود بن عبد الله وكان سيدا في قومه مطاعا عظيما في عشيرته مطاع الأمر رفيع القدر عظيم الخطر ظاهر الأدب شامخ الحسب بديع الجمال حسن الفعال ذا منعة ومال في وفد عبد القيس من ذوي الأخطار والأقدار والفضل والإحسان والفصاحة والرهبان كان رجل منهم كالنخلة السحوق على ناقة كالفحل العتيق قد جنبوا الجياد وأعدوا للجلاد مجدين في مسيرهم حازمين في أمرهم يسيرون ذميلا يقطعون ميلا فميلا حتى أناخوا عند مسجد النبي صلى الله عليه وسلم فأقبل الجارود على قومه والمشايخ من بني عمه فقال يا قوم هذا محمد الأغر سيد العرب وخير ولد عبد المطلب فإذا دخلتم عليه ووقفتم بين يديه فأحسنوا عنده السلام وأقلوا عنده الكلام فقالوا بأجمعهم أيها الملك الهمام والأسد الضرغام لن نتكلم إذا حضرت ولن نجاوز ما أمرت فقل ما شئت فإنا سامعون اعمل ما شئت فإنا تابعون وقال الصابوني مبايعون فنظر الجارود في كل كمي صنديد قددوموا العمائم وتزوا بالصوارم يجرون أسيافهم ويستحبون أذيالهم يتناشدون الأشعار ويتذاكرون مناقب الأخيار لا يتكلمون طويلا ولا يسكتون عيا إن أمرهم ائتمروا وإن زجرهم ازدجروا وقال الصابوني انزجروا كأنهم أسد يقدمها ذو لبدة مهول حتى مثلوا بين يدي النبي صلى الله عليه وسلمفلما دخل القوم المسجد وأبصرهم أهل المشهد دلف الجارود أمام النبي صلى الله عليه وسلم وحسر لثامه وأحسن سلامه ثم أنشأ يقول يا نبي الهدى أتتك رجال قطعت فدفدا وآلا فآلا وقال البيهقي مهمها وطوت نحوك الصحاصح طرا لا تخال الكلال قبل كلالا كل دهماء يقصر الطرف عنها أرقلتها قلاصنا إرقالا وطوتها الجياد تحمحم فيها بكماة كأنجم تتلالا تبتغي دفع بأس يوم عبوس أوجل القلب ذكره ثم هالا فلما سمع النبي عليهالصلاة والسلام فرح فرحا شديدا وقربه وأدناه ورفع مجلسه وحياه وأكرمه وقال يا جارود لقد تأخر بك وبقومك الموعد وطال بكم الأمد قال والله يا رسول الله لقد أخطأ من أخطأك قصده وعدم رشده وتلك أيم الله أكبر خيبة وأعظم حوية والرائد لا يكذب أهله ولا يغش نفسه لقد جئت بالحق ونطقت بالصدق والذي بعثك بالحق نبيا واختارك للمؤمنين وليا لقد وجدت وصفك في الإنجيل ولقد بشر بك ابن البتول فطول التحية لك والشكر لمن أكرمك وأرسلك لا أثر بعد عين ولا شك بعد يقين مد يدك فأنا أشهد أن لا إله إلا الله وأنك محمد رسول الله قال فآمن الجارود وآمن من قومه كل سيد فسر النبي صلى الله عليه وسلم سرورا وابتهج حبورا وقال يا جارود هل في جماعة وفد عبد القيس من يعرف لنا قسا قال كلنا نعرفه يا رسول الله وأنامن بين قومي كنت أقفو أثره وأطلب خبره كان قس سبطا من أسباط العرب صحيح النسب فصيحا إذا خطب ذا شيبة حسنة عمر سبعمائة سنة يتقفر القفار لا تكنه دار ولا يقره قرار يتحسى في تقفره بيض النعام ويأنس بالوحش والهوام يلبس المسوح ويتبع السياح على منهاج المسيح لا يفتر منالرهبانية يقر لله تعالى بالوحدانية يضرب بحكمته الأمثال ويكشف به الأهوال وتتبعه الأبدال أدرك رأس الحواريين سمعان فهو أول من تأله منالعرب وأعبد من تعبد في الحقب وأيقن بالبعث والحساب وحذر سوء المنقلب والمآب ووعظ بذكر الموت وأمر بالعمل قبل الفوت الحسن الألفاظ الخاطب بسوق عكاظ العالم بشرق وغرب ويابس ورطب أجاج وعذب كأني أنظر إليه والعرب بين يديه يقسم بالرب الذي هو له ليبلغن الكتاب أجله وليوفين كل عامل عمله وأنشأ يقول هاج للقلب من جواه ادكار وليال خلالهن نهار ونجوم يحثها قمر الليل وشمس في كل يوم تدار ضوءها يطمس العيون وارعاد شديد في الخافقين مطار وغلام وأشمط ورضيع كلهم في التراب يوما يزار وقصور مشيدة حوت الخير وأخرى خلت لهن قفار وكثير مما يقصر عنه جوسة الناظر الذي لا يحار والذي قد ذكرت دل على الله نفوسا لها هدا واعتبار فقال النبي عليه الصلاة والسلام على رسلك يا جارود فلست أنساه بسوق عكاظ على جمل له أورق وهو يتكلم بكلام موثق ما أظن أني أحفظه فهل فيكم يا معشر المهاجرين والأنصار من يحفظ لنا منه شيئا وقال الصابوني يحفظه فوثب أبو بكر الصديق رضي الله تعالى عنه قائما فقال يا رسول الله إني أحفظه وكنت حاضرا ذلك اليوم بسوق عكاظ حين خطب فأطنب ورغب ورهب وحذر وأنذر وقال في خطبته أيها الناس اسمعوا وعوا وإذا وعيتم فانتفعوا إنه من عاش مات ومن مات فات وكلما هو آت آت نبات ومطر وأرزاق وأقوات وآباء وأمهات وأحياء وأموات جميع وأشتات وآيات بعد آيات إن في السماء لخبرا وإن في الأرض لعبرا ليل داج وسماء ذات أبراج وأرض ذات ارتياج وبحار ذات أمواج ما لي أرى الناس يذهبون فلا يرجعون أرضوا بالمقام فأقاموا أم تركوا هناك فناموا أقسم قسما حقا لا حانثا فيه ولا آثما إن لله دينا هو أحب إليه من دينكم الذي أنتم عليه ونبيا قد حان حينه وأظلكم زمانه وأدرككم إبانه فطوبى لمن آمن به فهداه فويل لمن خالفه وعصاه ثم قال تبا لأرباب الغفلة من الأمم الخالية والقرون الماضية يا معشر إياد من الأب والأجداد منالمريض والعواد وأين الفراعنة الشداد أين من بنا وشيد وزخرف وجدد وغره المال والولد أين من طغى وبغى وجمع فأوعى وقال أنا ربكم الأعلى ألم يكونوا أكثر منكم أموالا وأبعد منكم آمالا وأطول منكم آجالا طحنهم الثرى بكلكله ومزقهم بتطاوله فبلت عظامهم بالية وبيوتهم خالية وعمرتها الذياب العادية وقال أبو صالح العاوية كلا بل هو الله الواحد المعبود ليس بوالد ولا مولود ثم أنشأ يقول في الذاهبين الأولين من القرون لنا بصائر لما رأيت مواردا للموت ليس لها مصادر ورأيت قومي نحوها تمضي الأصاغر الأكابر لا يرجع الماضي إلي ولا من الباقين غابر أيقنت أني لا محالة حيث يصير القوم صائر قال فجلس ثم قام رجل زاد أبو عبد الله من الأنصار بعده كأنه قطعة جبل ثم اتفقا فقالا ذو هامة عظيمة وقامة جسيمةقد دوم عمامته وأرخى ذؤابته منيف أنوف أشدق حسن الصوت فقال يا سيد المرسلين وصفوة رب العالمين لقد رأيت من قس عجبا وشهدت منهمرغبا فقال وما الذي رأيته منه وحفظته عنه فقال خرجت في الجاهلية أطلب بعيرا لي شرد مني أقفو أثره وأطلب خبره في تنائف وقال الصابوني وإسماعيل في فيافي وقالا حقائف ذات دعادع وزعازع وليس بها الركب وقال إسماعيل ليس للركب فيها مقيل ولا لغير الجن سبيل وإذا بموئل مهول في طود عظيم ليس به إلا البوم وأدركني الليل فولجته مذعورا لا آمن فيه حتفي ولا أركن إلى غير سيفي فبت بليل طويل كأنه بليل موصول أرقب الكوكب وأرمق الغيهب حتى إذا عسعس الليل وكان الصبح أن يتنفس هتف بي هاتف يقول يا أيها الراقد في الليل الأحم قد بعث الله نبيا في الحرم من هاشم أهل الوفاء والكرم يجلو دجنات الدياجي والبهم قال فأدرت طرفي فما رأيت له شخصا ولا سمعت له فحصا فأنشأت أقول يا أيها الهاتف في داجي الظلم أهلا وسهلا بك من طيف ألم بين هداك الله في لحن الكلم ماذا الذي تدعوا إليه يغتنم قال فإذا أنا بنحنحة وقائل يقول ظهر النور وبطل الزور وبعث الله تبارك وتعالى محمدا صلى الله عليه وسلم بالخير صاحب النجيب الأحمر والتاج والمغفر والوجه الأزهر والحاجب الأقمر والطرف الأحور صاحب قول شهادة أن لا إله إلا الله فذلك محمد المبعوث إلى الأسود والأبيض أهل المدر والوبر ثم أنشأ يقول الحمد لله الذي لم يخلق الخلق عبث لم يخلنا حينا سدى من بعد عيسى واكترث أرسل فينا محمدا خير نبي قد بعث صلى عليه الله ما حج له ركب وحث قال فذهلت عن البعير وألبسني السرور ولاح الصباح واتسع الإيضاح فتركت المور وأخذت الجبل فإذا أنا بالعتيق يشقشق إلى النوق فأخذت بخطامه وعلوت سنامه فمرح طاعة وهززته ساعة حتى إذا لغب وذل منه ما صعب وحميت الوسادة وبردت المزادة فإذا الزاد قد هش له الفؤاد بركته فبرك وأذنت له فترك في روضة خضرة نضرة عطرة ذات حوذان وقربان وعنقران وعبيثران زاد إسماعيل نعنع وشيح وقالا وحلي وأقاح وجثجاث وبرار وشقائق وبهار كأنما قد مات الجو بها مطيرا أو باكرها المزن بكورا فخلا لها شجر وقرارها نهر فجعل يرتع أبا وأصيد ضبا حتى إذا أكل وأكلت ونهلت ونهل وعللت وعل وحللت عقاله وعلوت جلاله وأوسعت مجاله فاغتنم الحملة ومر كالنبلة يسبق الريح ويقطع عرض الفسيح حتى أشرف بي على واد وشجر من شجر عاد مورقة مونقة قد تهدل أغصانها كأنها بريرها حب فلفل فدنوت فإذا أنا بقس بن ساعدة في ظل شجرة بيده قضيبمن أراك ينكت به الأرض وهو يترنم ويشعر زاد البيهقي وأبو صالح وهو يقول يا ناعي الموت والملحود في جدث علمهم من بقايا بزهم خرق دعهم فإن لهم يوما يصاح لهم فهم إذا انتبهوا من يومهم فرق حتى يعودوا بحال غير حالهم خلقا جديدا كما من قبله خلق منهم عراة ومنهم في ثيابهم منها الجديد ومنها المنهج الخلق قال فدنوت منه فسلمت عليه فرد علي السلام وإذا أنا بعين خرارة في الأرض خوارة ومسجد بين قبرين وأسدين عظيمين يلوذان به ويتمسحان بأبوابه وإذا أحدهما سبق الآخر إلى الماء فتبعه الآخر يطلب الماء فضربه بالقضيب الذي في يده وقال ارجع ثكلتك أمك حتى يشرب الذي ورد قبلك على الماء قال فرجع ثم ورد بعده فقلت له ما هذان القبران فقال هذان قبرا أخوين لي كانا يعبدان اللهتبارك وتعالى في هذا المكان لا يشركان بالله تبارك وتعالى شيئا فأدركهما الموت فقبرتهما وها أنا بين قبريهما حق ألحق بهما ثم نظر إليهما فتغرغرت عيناه بالدموع وانكب عليهما وجعل يقول ألم تريا أني بسمعان مفرد وما لي فيها من خليل سواكما خليلي هبا طال ما قد رقدتما أجدكما لا تقضيان كراكما ألم تريا أني بشمعان مفرد وما لي فيها من خليل سواكما مقيم على قبريكما لست بارحا طوال الليالي أو يجيب صداكما أبكيكما طول الحياة وما الذي يرد على ذي عولة إن بكاكما كأنكما والموت أقرب غائب بروحي في قبريكما قد أتاكما أمن طول نوم لا تجيبان داعيا كأن الذي يسقي العقار سقاكما فلو جعلت نفس لنفس وقاية لجدت بنفسي أن تكون فداكما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم رحم الله قسا إني أرجو أن يبعثه الله عز وجل أمة وحده

الراوي: عبدالله بن عباس المحدث:- المصدر: - الصفحة أو الرقم: 3/428

خلاصة حكم المحدث: غريب

 

أن أبا بكر رضي الله عنه خرج وعمر رضي الله عنه يكلم الناس ، فقال : اجلس ، فأبى ، فقال : اجلس ، فأبى ، فتشهد أبو بكر رضي الله عنه ، فمال إليه الناس وتركوا عمر ، فقال : أما بعد ، فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فإن محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات ، ومن كانيعبد الله فإن الله حي لا يموت ، قال الله تعالى : { وما محمد إلا رسول - إلى - الشاكرين } . والله ، لكأن الناس لم يكونوا يعلمون أن الله أنزلها حتى تلاها أبو بكر رضي الله عنه ، فتلقاها منه الناس ، فما يسمع بشر إلا يتلوها .

الراوي: عبدالله بن عباس المحدث: - المصدر: - الصفحة أو الرقم: 1242

خلاصة حكم المحدث: [صحيح]

Edited by Usman Razawi
Aapki Copy paste main chand ebarat doosri website k link k sath munsalik thin , wo ebarat remove kar di gayi hain. Aap chahain to asal scans lga saktay hain.

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہاں کہاں بچاؤ گۓ اپنے احمد رضا بریلوی صاحب کو

 

 

 

میری پوسٹ کیوں ایڈٹ کی گئی

 

کیا اس فورم میں بھی منافقت پائی جاتی ہے

 

اپنے بزرگ کی غلطی کو سہو کہہ کر ٹال گۓ آپ

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

 

 

humara sawal kahan giya

 

 

 

کہاں کہاں بچاؤ گۓ اپنے احمد رضا بریلوی صاحب کو

 

 

 

میری پوسٹ کیوں ایڈٹ کی گئی

 

کیا اس فورم میں بھی منافقت پائی جاتی ہے

 

اپنے بزرگ کی غلطی کو سہو کہہ کر ٹال گۓ آپ

Share this post


Link to post
Share on other sites

humara sawal kahan giya

 

 

 

کہاں کہاں بچاؤ گۓ اپنے احمد رضا بریلوی صاحب کو

 

 

 

میری پوسٹ کیوں ایڈٹ کی گئی

 

کیا اس فورم میں بھی منافقت پائی جاتی ہے

 

اپنے بزرگ کی غلطی کو سہو کہہ کر ٹال گۓ آپ

 

 

حد ہوتی ہے یاررر جہالت کی بھی فاضل بریلوی علیہ رحمہ کے تعصب نے آپکو اس قدر اندھا کررکھا ہے کہآپ کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ملفوظات باقاعدہ فاضل بریلوی علیہ رحمہ کی اپنی تصنیف نہیں بلکہ انکے ملفوظات کا مجموعہ ہے جو کہ انکے ایک شاگرد نے انکے زبانی کلام کی روشنی میں مرتب فرمایا ہےآپکو اگر علم سے زرا سا بھی مس ہو تو یقینا یہ علم ہوگا کہ ملفوظات وغیرہ کتب تصنیف کی کس کیٹگری میں آتی ہیں آیا وہ انکی تصنیف کہلواتی ہیں جن کہ مواعظ کو جمع کیا گیا ہو یا پھر حقیقت میں جو جامع ہو اسکی تصنیف کہلاتی ہیں ؟؟؟

ٓ

اور پھر جب یہ طے ہوا کہ ملفوظات فاضل بریلوی علیہ رحمہ کے مختلف مواقع پر ہونی والی اپنے شاگردوں کے ساتھ گفتگو کا تحریری نمونہ ہیں تو پھر ایسے میں کئی احتمالات ہوسکتے ہیں جیسے کہ فاضل بریلوی علیہ رحمہ نے ایک آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے دوسری آیت کوزبانی تلاوت فرمایا ہو سو ایسے میں متشابہ یا بھول چوک یا سھو کا امکان بہت زیادہ ہے یا پھر فاضل بریلوی علیہ رحمہ نے خود توآیت درست تلاوت فرمائی ہو مگر شاگرد نے اپنے حافظہ پر اعتماد کرنے کی وجہ سے اس میں غلطی کردی ہو یا پھر پرنٹنگ کی مسٹیک ہو کہ جسکا یہاں احتمال انتہائی خفیف ہے مگر ممکن ضرور ہے یا پھر خود فاضل بریلوی چونکہ تفسیر کررہے تھے اور مقام استدلال میں اس آیت کو نقل کیا سو یہی وجہ ہو کہ تفسیری قول کہلانے کی وجہ سے وہ آیت ایجاز و حذف کے قانون کے تحت نقل کی ہو ۔۔۔ جب اتنے سارے احتمالات موجود ہیں خصوصا اس حالت میں کے ملفوظات فاضل بریلوی کی اپنی تحریر بھی نہیں تو پھر ایسے میں آپکا محض تعصب کی بنیاد پر فاضل بریلوی علیہ رحمہ کو ایک ناکردہ گناہ کا جرم دار ٹھرانا کیا معنی رکھتا ہے سوائے اسکے کہ یا توآپ جاہل ہیں علم نہیں رکھتے کہ اس قسم کے ابواب میں اصول و قواعد کیا ہیں یا پھر محض بغض و کینہ ہی ہے ٓآپکا۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

humara sawal kahan giya

 

 

 

کہاں کہاں بچاؤ گۓ اپنے احمد رضا بریلوی صاحب کو

 

 

 

میری پوسٹ کیوں ایڈٹ کی گئی

 

کیا اس فورم میں بھی منافقت پائی جاتی ہے

 

اپنے بزرگ کی غلطی کو سہو کہہ کر ٹال گۓ آپ

 

 

جناب اگر آپ کے پاس آنکھیں ہیں تو آپ اپنی میں ہی پوسٹ ایڈٹ کرنے کی وجہ بھی

پڑھ لیں

شکریہ

2.JPG

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہاں کہاں بچاؤ گۓ اپنے احمد رضا بریلوی صاحب کو

 

میری پوسٹ کیوں ایڈٹ کی گئی

 

کیا اس فورم میں بھی منافقت پائی جاتی ہے

 

اپنے بزرگ کی غلطی کو سہو کہہ کر ٹال گۓ آپ

 

امام احمد رضا ھوں یا کوئی اور ھوں، سہو سے کون بچا ھے۔

 

غلطی کو سہو کہنا ٹالنا نہیں بلکہ اعتراف خطا ھے۔

 

سہو کی وضاحت کے بعد پوسٹ ایڈٹ ھوئی تو کیا ھوگیا؟

 

اعتراف سہو کو ٹالنے کا نام دینا کونسی اسلامی تعلیم ھے؟

 

کیا آپ کو پتہ ھے کہ

 

آیات میں سہو تو صحیح بخاری میں بھی ھوا ھے۔

Edited by Saeedi

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.