Sign in to follow this  
Followers 0
Raza11

Qadianiat Ka Be Rahem Chande Ka Nizam

1 post in this topic

تیرہ مارچ کو جرمنی کے شہر ڈارم شاڈ کے قریب فونک شاڈ میں جرمنی کی وفاقی پولیس نے جماعت احمدیہ کے چار گھروں پر چھپا مار کر جماعت احمدیہ کے صدر ثنا اللہ سمت چار لوگوں کو گرفتار کر لیا جس میں اظہر جوئیا ، عمر جوئیا اور ناصر جوئیا شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ جماعت احمدیہ کے کارکنوں کی ایک لمبے عرصے سے سیاسی پناہ میں غیر قانونی مدد کرنے والا جرمن وکیل بوش برگ اور اس کی ایک احمدی سیکرٹری روبینا کے گھروں پر بھی چھپے مارے گئے اور تمام لوگوں کے گھروں کی مکمل تلاشی لی گئی ۔ تمام مواد اور دستاویزات پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ ان کے تمام فون اور کئی ٹیلی فون سمیں اور کمپوٹروں کی ھارڈ ڈسکوں کی کاپیاں بھی کر لی گئیں ۔ ان پر وفاقی جرمن پولیس نے پاکستان سے غیر قانونی لوگوں کی سمگلنگ اور انکی سیاسی پناہ میں غیر قانونی مددکا الزم لگایا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ جماعت احمدیہ کے رہمناوں کا ایک گروپ لمبے عرصے سے لوگوں کو اسمگل کر رہا تھا ۔ یہ جرمنی کی تاریخ میں ایک بڑی پولیس کی کاروائی تھی جس میں ایک بھاری پولیس نفری استعمال کی گئی۔ جس میں ایک سو چالیس سے زائد وفاقی پولیس فورس کے کمانڈوز اور اسی سے زائد پولیس گاڑیاں ایک دن میں استعمال ہوئیں۔ یہ خبر جرمنی کے بہت سے اخبارات اور ریڈیوز میں آچکی ہے ۔ یہ پولیس کمانڈرز چھاپے ابھی تک مسلسل دوسرے شہروں میں احمدیوں کے گھروں میں مار جا رہے ہیں اور تلاشی کے دوران تمام دستاویزات کو قبضے میں کر لیا جاتا ہے ۔

سیاسی اور سماجی حوالے سے جماعت ا حمدیہ میں عام کارکنوں کو نہایت بے رحمی اور غیر انسانی طریقوں سے استعمال اور بلیک میل کئےجانےکی اطلاعات پہلے بھی آتی رہی ہیں ۔ جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت کی یہ ہدایات ہیں کہ زیادہ سے زیادہ احمدی افراد کو جو پاکستان میں رہائش پذیر ہیں ان کو پاکستان سے لا کر تمام یورپ اور خاص طور پر جرمنی میں تمام قانونی اور غیر طریقوں سے آباد کیا جائے اور پھر ان سے زیادہ سے زیادہ مالی مفادات حاصل کیے جائیں جو چندہ کی شکل میں ہیں۔ اس سے جماعت کی اعلی کونسل کو نہ صرف قائم رکھا جائے بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی کیا جائے ۔ احمدیوں کو یورپ میں آباد کرنا احمدیوں کی سنٹرل لیڈرشپ کی پالیسی ہے کیونکہ اس کا تمام تر معاشی فائد ہ کسی عام احمدی کو نہیں بلکہ مرکزی قیادت کو ہوتا ہے۔ جبکہ اس ایجنٹی کے کام کے لیے مدد کے نام پر عام غریب احمدیوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے اور عین ممکن ہے کہ فونک شتاڈ میں بھی ایسا ہی ہوا ہو ۔

احمدیہ جماعت کا ہر ممبر اپنی بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کی کل آمدن میں سے تقریبا تیس فیصد مرکزی قیادت اور اسکے خاندان کو مختلف چندوں کی شکل میں ادا کرتا ہے ۔ صرف جرمنی میں سے سالانہ چودہ ملین یورو کا چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ اس میں سے بیس فیصد جرمنی میں اپنے نظام کو مضبوط اور مزید وسیع کرنے کے لیے خرچ کیا جاتا ہے اور بقیہ اسی فیصد مرکزی قیادت کو لندن بھج دیا جاتا ہے ۔ اور یہی طریقہ تمام دنیا میں استعمال جاتا ہے جس سے جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت یا میاں(مزرا)خاندان دنیا کے امیر خاندانوں میں شمار ہوتا ہے ۔ جماعت احمدیہ کا ہر ممبر اپنی تمام آمدن میں سے لازمی چندہ جو ، چندہ عام کہلاتا ہے ادا کرتا ہے ۔ جو کسی سرکاری ٹیکس کی طرح جماعتی عہدار نہایت جبرانہ طریقے وصول کرتے ہیں ۔ بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ چند ے بھی لازمی ہیں اس کے علاوہ اور بہت سے بے شمار چندے ہیں جن میں سو مساجد کا چندہ ، تحریک جدید کا چندہ ، وقفے جدید ، چندہ سالانہ جلسہ ، چندہ سالانہ اجتماع ، چندہ مجلس ، چندہ اشاعت ، نصرت جہاں آگے بڑھو چندہ، بلال فنڈ، طاہر فنڈ وغیر وغیرہ ۔ پھر وصعت پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ کی جائے اور اس کا چندہ ادا کیا جائے ۔ چندہ وصعت کم ازکم دس فیصد ہے جو زندگی بھر ادا کیا جاتا ہے اور مرنے کے بعد بھی لازمی دینا ہوتا ہے ۔ جو اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ اس شخص کو مرنے کے بعد بہشتی مقبرے میں دفن کیا جائے اس چندے کی وجہ سے بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ مرنے والا صرف ایک مکان یا کچھ تھوڑی سی جائیداد چھوڑا گیا اس کے اہل خانہ نے یہ مکان یا قلیل سے جائیداد فروخت کر کے خود کرایہ کے مکان یا خستہ حالی میں صرف اس لیے جابسے کہ دس فیصد ادا کرکے مرنے والے کو بہشی مقبرے میں دفن کیا جاسکے ۔ مرنے والے کو جنت ملی یا ملی یہ تو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے لیکن ان زندہ ورثہ کو زندگی میں ہی دوزخ ضرور مل جاتی ہے جو حقیقت ہے ۔

یہاں ان گنت اقسام کے مختلف چندے ہیں جن کو مرکزی قیادت نے خود شعوری طور بہت پیچیدہ بنا یا ہوا ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو اس فنانس سسٹم کے زریعے عام احمدیوں سے بے دریغ پیسہ لوٹا جاتا ہے اور دوسری طرف اس فنانس ہرا پھیری کو کوئی عام احمدیہ سمجھ نہیں سکتا۔ جس کا اندازہ اس سے با آسانی ہو سکتا ہے کہ صرف جرمنی سے جو سالانہ چودہ ملین یورو کا چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے یہ ایک بہت بڑی رقم ہے ۔ جو عام احمدی کارکن اپنی دن رات کام کرکے خون پسنے کی کمائی جماعت احمدیہ کی اشرفیہ کو اخراجات کے لئے دیتا ہے اس کے علاوہ ہر احمدی یہ تمام چندے لازمی ادا کرتا ہے وہ چاہے بے روز گار ہو یا سوشل ہلپ پر زندہ ہو عورت یا مرد ہو یا پھر چاہیے بچہ ہی کیوں نا ہو وہ اپنی ہر سانس پر چندہ دیتا ہے۔ اب تو حاملہ عورت کو بھی آنے والے بچے کا لازمی چندہ دینا پڑتا ہے ۔ جماعت میں کسی ایک کو بھی اپنے چندے کے متعلق پوچھنے اور خلفے پر کسی ایک سوال کی بھی اجازت نہیں ہے حالانکہ اسلام میں ہر سوال کی اجازت ہے ا ور کہا گیا کہ اگر علم حاصل کرنا ہو تو سوال کرو۔ لیکن جماعت احمدیہ میں سوال کی کوئی گنجا ئش موجود نہیں ہے ماسوائے اندھی تقلید کے ۔ یہ شاید اس لیے بھی کہ جماعت کی قیادت برطانیہ کے شاہی خاندان سے کسی قدر بھی کم معیار پر زندہ نہیں ہے۔ برطانیہ کا شاہی خاندان بھی عام شہریوں کے ٹیکس پر عیاشیاں کر تا ہے اور جماعت احمدیہ کی مرکزی قیادت بھی ایسا ہی کرتی ہے کیونکہ ان کا سنٹر بھی وہیں ہے اور یہ برٹش شاہی خاندان سے کافی متاثر ہیں ۔ اس جماعت کی مرکزی قیادت جیگواہ اور مرسڈیز سے کم کار استعمال نہیں کرتے ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں بزنس کلاس میں اپنے تمام عملے سمیت عام غریب احمدی کے چندے پر سفر کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ ان کا تمام خاندان اور اہل عیال بھی تمام زندگی بھر عام احمدی ممبران کے چندے پر ہی پلتے ہیں ۔ جماعت احمدیہ میں چوری اوپر سے سینہ زور کا قانون بھی خوب چلتا ہے ۔ کیونکہ اگر کوئی بھی عام ممبر عہدار کا حکم نہیں مانتا یا چندے میں کوہتاہی کرتا ہے تو سخت ترین سزا کا مستحق ہو تا ہے۔ اس کو ہرجگہ ذلیل وسوا کیا جاتا ہے اسے اچھوتوں کی طرح الگ تھلگ بیٹھایا جاتا ہے شادی بیاہ اور کسی بھی تقریب میں اس کو بلایا نہیں جاتا اس کا سوشل بائی کاٹ کیا جاتا ہے اس کے تمام اہل خانہ جس میں میاں کو اپنی بیوی سے اور بچوں تک سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔

ایک چھوٹا سا واقعہ بیان کرتا چلوں ہمبرگ میں ایک جنازہ جماعت احمدیہ نے اس لیے نہیں پڑھا اور مرگ پر آئے تمام افراد گھروں کو کھسکنا شروع ہوگے کیونکہ مرنے والے شخص کا سگا بھائی یہاں آگیا تھا جو احمدیہ جماعت کو چھوڑ چکا تھا ۔ پھر بھائی کی بیوی نے منت سماجت کرکے بھائی کی میت پر افسوس کرنے والے بھائی کو جانے کے لیے کہا اور اس کے جانے کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ یہ صرف ایک مثال تھی ایسی بے شما ر بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں جماعت احمدیہ کی تاریخ کا حصہ ہیں جنکو یہاں بیان کرنے کی جگہ نہیں ہے ۔

 

یہ احمدیہ جماعت کم اور چندہ جماعت زیادہ ہے ۔ کیونکہ اس میں سب سے زیادہ چندے پر زور دیا جاتا بلکہ حقیقت میں صرف چندے پر ہی زور دیا جاتا ہے اور اس جماعت کے حکمران اس عام اور غریب احمدیوں سے اکٹھے کیے گئے چندے سے نہ صرف عیاشی کی زندگی گزارتے ہیں بلکہ اس پیسے سے سر مایہ کاری کرکے مزید سرمایہ یا دولت سود کی شکل میں اکٹھا کرتے ہیں کیونکہ سود صرف غریب مسلمان عوام کے لیے ممنوع ہے اسلام کے ٹھکیداروں کے لیے نہیں وہ کسی بھی فرقے سے ہوں ۔ جماعت احمدیہ کی زیادہ سرمایہ کاری انڈیا اور افریقہ میں ہے اور پاکستان میں قومی بچت بھی انہیں اللہ لوگوں کے زیر سایہ سود کا خوب کاروبار کرتا ہے ۔

جب پاک وہند الگ ہوئے تھے تو لوگوں کو انڈیا میں زمین کے بدلے یہاں پاکستان میں زمین ملیں تھیں لیکن جماعت احمدیہ کے سربراہ اعلی نے فرمان جاری کیا کہ کوئی احمدی زمینوں کے لیے درخواست نہیں دے گا کیونکہ حضور نے خود سب کی درخواستیں جمع کرا کے تمام عام غریب احمدیوں کی تمام زمینیں اپنے نام کر کر لیں اور آج انکی پنجاب اور سندھ میں زمینیں نہیں بلکہ ریاستیں ہیں ۔چناب نگر بھی میاں یا مرزا خاندان کی ملکیت ہے جہاں پر زمیں عام لوگوں کو لیز پر دی گی ہے ۔ جماعت احمدیہ کی قیادت کا یہی بڑھتا معاشی دباو اور زہنی تشدد اب آہستہ آہستہ جماعت احمدیہ میں ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن رہا ہے اور اس میں سے مختلف لو گ گرپوں کی شکل میں نکل رہے ہیں جو اس میں موجود ہیں وہ بھی نہایت غیر مطمین اور اذیت میں ہیں(اس پر پھر کھبی بات کریں گئے کہ اذیت کے باوجود یہ عام احمدی اس جماعت میں کیوں ہیں اور اس کو چھوڑتے کیوں نہیں دیتے)ان بہت سے عام احمدیوں کے بڑھتے استعفوں کو روکنے کے لیے جماعت اپنا دور وحشت کا آمرانہ نظام سخت سے سخت تر اور پیچیدہ کرتی جارہی ہے ۔ جماعت احمدیہ میں یہی بھیانک آمریت اس میں شدید انتشار کا باعث ہے جو آنے والے وقتوں میں پھٹے گا ۔ جماعت احمدیہ کی طرح دوسری اقلیتوں کا بھی اسی قسم کا المیہ ہے ۔جماعت احمدیہ کے عام کارکنوں جن کی حالات زندگی یورپ میں رہتے ہوئے بھی عام افراد کی نسبتا زیادہ مالی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہے ۔ جبکہ انکی مرکزی قیادت کسی شاہی خاندان کی طرح پر تعیش زندگی گزار رہی ہے ۔

صرف جماعت احمدیہ ہی نہیں بلکہ تمام مذہبی جماعتیں عام لوگوں کی لاعلمی یا موت کے خوف کا فائدہ اٹھاتی ہیں اور عام لوگوں کو جنت کے خواب دیکھا کر انکی آج کی زندگی کو دوزخ سے بھی بدتر بنا دیتی ہیں جبکہ ان جماعتوں کی قیادتیں دنیا میں ہی جنت سے زیادہ اچھی زندگی گزاتے ہیں ۔ یہ کھلی اور صاف دھوکہ دہی ، تضاد اور طبقاتی فرق ہے جس کو سمجھنا ہی ہمارا اول مقصد ہے ۔ہمیں ہر استحصال کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے وہ اقلیتی ،مذہبی ، قومی ، علاقائی، نسلی، معاشی، جنسی یا پھر سماجی بنیادوں پرکوئی ایک بھی استحصال ہو ہمیں مل کر ا سکے خلاف ناقابل مصالحت جنگ کرنی ہے ۔

 

نوٹ:

 

میں ان تمام اپنے احمدی دوستوں ،ساتھیوں اور ہمدروں کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھے جماعت احمدیہ کے ہولناک اقسام چندہ اور بھیانک نظام جماعت کے بارے معلومات فراہم کیں اور میں یہ آرٹیکل لکھ سکا۔ جنہوں نے تاکید کی ہے کہ میں ان کے نام شائع نہ کروں ۔ کیونکہ یہ اگلی بار خود اپنے ناموں سے مضامیں کا ایک سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں اپنے تمام کوائف کے ساتھ۔ہم کسی کے عقدے کے خلاف نہیں ہیں وہ ہر شخص کا حق ہے اور اس کا ذاتی مسلہ ہے لیکن عقدے کی بنیاد پر دوکانداری اور جو عام غریب عوام پر ظلم و استحصال کیا جاتا ہے ہم اس کے خلاف ناقابل مصالحت طبقاتی جنگ کی حمایت میں ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.