Sign in to follow this  
Followers 0
Muslampak

دُور نزدیک کے سننے والے وہ کان(سماعت مصطفی ﷺ پر اعتراضات)۔

77 posts in this topic

توحیدی بھائئ ۔جواب تحریر کرنے کا شکریہ ۔

میرے بارے میں آپ کی راے صحیح نہیں ہے

جب گفتگو اختتام پذیر ہو گی اس وقت اپنا فیصلہ انصاف و دیانت دار کے ساتھ یہاں پوسٹ کروں گا۔

 

aap dalail ka jawab do.

 

aap ko ham judge nahin mante

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِن مسلم پاک صاحب کا بھی انشاءاللہ عزّوجل پتہ چل ہی جائے گا کہ یہ دیوبندی ہیں، اِس وقت میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اسی لیئے ان کو باقاعدہ طور پر ڈکلیئر نہیں کر رہا۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن اس بات کا بھی صرف ایک فیصد امکان ہے۔
میں نے جو بات شروع کی تھی بحث کے آغاز کے طور پر وہ جان بوجھ کر ایسا کیا تھا مگر توحیدی بھائی کے آنے پر خاموش ہوگیا ہوں کہ ان کے علم کے آگے میری بساط ہی کیا ہے۔ ماشاءاللہ عزّوجل۔ اللہ عزّوجل ان کا ساتھ جو کہ میرے لیئے ہی نہیں، سُنّیت کے لیئے بھی بہت ہی قابلِ رشک ہے، تاعمر قائم رکھیں اور ان کے علم کے دریا سے ہمیں بھی سیر ہونے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین
خود اشعار میں یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر پھنس گئے ہیں اس لیئے یہ باتیں اپنی جانب سے گھڑ لیں جن کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں لیکن اگر ہم نعتیہ اشعار میں ایسا کہیں تو بے دریغ اُسے شرکیہ کلام کہا جاتا ہے۔ یہ ہے ان کی دوغلی اصلّیت۔
اللہ حافظ

Share this post


Link to post
Share on other sites

تلوار صاحب نے فلحال تو مجھے صرف یہی جواب دیا ۔ لیکن میں نے دوبارہ ان سے کہا ہے کہ مکمل جواب دیجیے ۔لہذا براے مہربانی تھوڑا وقت دیجیے ۔

 

ان اللہ رفع لی الدنیا کے بارے میں صرف یہی جواب دیا گیا

es tabky ki serf vo ravayat kable e qabool hoti hain jo sahi hadees sey mutazad na hon lekin razakhani ney es trf tvaja nahi di

 

 

باقی میرے بارے میں کوئئ بھی بد گمانی کا شکار نہ ہو۔بس اتنی ہی گزارش کر سکتا ہوں ۔کہ جو حق سامنے آے گا وہی میرا عقیدہ ہو گا۔انشاء اللہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

user-online.png Senior Member

توحید بھاَئئ مجھے یہ جواب دیا گیا ہے ۔تلوار صاحب نے اپنی سایٹ پر یہ جواب دیا

 

1
اور
2

کاتو یہ ہے کہ فن شاعری میں غائب کو بھی حاضر کے صیغے سے خطاب کیا جاتا ہے کیونکہ شاعری میں تخیلات کا بہت دخل ہوتا ہے اسی وجہ سے شاعری سے نہ تو عقائد بنائے جاتے ہیں اور نہ ہی دلیل لی جاتی ہے۔اور لطیفہ تو یہ ہے کہ شاعری میں صرف حضرت محمد ﷺ کی تخصیص نہیں بلکہ شاعر تو اپنے محبوب، بادِ صبا کو خطاب کرتے ہیں اور کبھی پہاڑوں اور جنگلوں کو، کبھی حیوانات اور پرندوں کو۔ اس میں سے کسی کا یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ جن کو وہ خطاب کرہے ہیں وہ انکی بات کو سنتے اور اس کا جواب دیتے ہیں بلکہ یہ محض ایک ذہنی پرواز اور تخیلاتی چیز ہے جو فن شاعرمی میں عام پائی جاتی ہے۔

اسی لئے شاعری میں اگر حضرت محمد ﷺ کو حاضر کے صیغے سے خطاب کیا جائے تو کوئی ہرج نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ شاعر حضرت محمد ﷺ کو حاضر ناظر و عالم الغیب سمجھ کر شاعری کر رہا ہو۔ اور پھر یا رسول اللہ ﷺ کہنے میں تو اختلاف نہیں بلکہ حضرت محمد ﷺ کو ہر جگہ ہر وقت حاضر ناظر مان کر یارسول اللہ ﷺ کہنے پر ہے جس پر رضاخانی نے کوئی دلیل پیش نہیں ۔

اس کا دوسرا جواب یہ ہے احمد رضا خانی کہتا ہے کہ

سر سوئے روضہ جھکا
پھر تجھ کو کیا
دل تھا ساجد نجدیا
پھر تجھ کو کیا

اس بدبودار شعر میں
احمد رضا خان
نے علمائے نجد تو پھر تجھ کو کیا سے خطاب کیا ہے تو کیا علماء نجد بھی حاضر ناظر ہو گئے ۔ ظاہر سی بات ہےاحمد رضا خان نے تخیل کے طور کر خطاب کیا ہوگا نہ کہ حقیقی حاضر ناظر مان کر۔ اس سے یہ تو ثابت گیا کہ مخلوق میں کسی کو بھی حاظر ناظر مانے بغیر بھی حاضر کے صیغے سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ اب اسی سے یہ بات بھی سمجھیں کہ عشاق بھی تخیل اور عشق کے طور پر
یا رسول اللہﷺ
کہتے ہیں اس لئے اُن کا کہنا بھی جائز ہوا۔ لیحاظہ ہمارا مدعا رضاخانی کتب سے ثابت شدہ ہے جس پر ایمان لانا
احمد رضا کی وسیعت کے مطابق ہر فرض سے اہم فرض ہے۔

قرآن سے ثبوت

اگر حرف ندا
یا
سے حاضر ناضر ہی مراد ہوتی ہے تو ذیل آیات میں ہامان، یہود، نصاریٰ اور فرعون کے لئے بھی حرف
یا
استعمال ہوا ہے

1
۔ یا ھا مان بن لی صرحا

اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت تعمیر کر

2
۔ یا اھل الکتاب لا تغلوانی دینکم

اے ہیود و نصاری دین میں تجاوز نہ کرو

ایک جگہ فرمایا

اے فرعون میرے خیال میں تو ہلاک کردیا جائے گا

اسی طرح قرآن میں متعدد مقامات پر
(اے کافروں) کے الفاظ موجود ہیں اور حضرت انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی وہ تقریریں بھی قرآن کریم میں موجود ہیں جن میں انھوں نے اپنی قوموں کو خطاب کرتے ہوئے یا قومہ (اے میری قوم) سے تعبیر کیا ہے ۔ کیا ہامان، فرعون، یہود اور جملہ مشرکین و کفار جن کو حرف یا سے خطاب ہے رضاخانی دھرم میں حاضر ناظر ہیں۔
(البتہ احمد رضا نے کشن کنہا کو تو حاضر ناظر مانا ہے )
تو کیا خیال ہے تمام مشریکین کو بھی حاضر ناظر مان لو گے۔ اگر رضاخانی کہیں کہ جسوقت اس قوموں کو خطاب ہوا تھا اسوقت تو وہ موجود تھیں اور اب ہم اسکی حکایت کرتے ہیں۔ تو جواب یہ ہے کہ اسیطرح آپ
" یارسول اللہﷺ"
کو سمجھ لیجئے کہ حضرات صحابہ ؓ آپ کی موجودگی میں یہ کہا کرتے تھے اور ہم اسکی حکایت کرتے ہیں۔ ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جب بھی کوئی حضرت محمد ﷺ کو یا سے خطاب کرے تو یہ ضروری نہیں کہ اُس کا عقیدہ یہ ہو کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو حاضر ناظر مان کر کہہ رہا ہے۔ رضاخانی کو اس کا ثبوت قرآن سے دے دیا ہے حضرت محمد ﷺ کو حاضر ناظر جانے بغیر بھی یا سے خطاب کیا جاسکتا ہے۔

جب آپ یہ تفصیل سمجھ چکے تو اب ائیں فتوے کی طرف۔ فتویٰ میں اس امر کی تصحی ہے کہ" ان سے براہ راست مانگنے لگے۔ اور ان سے ہی اپنی مشکلات دور کرتے تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے"اگر یہ عقائد رکھ کر بولا جائے تو ضرور شرک ہے بصورت دیگر شرک نہیں۔ لیحاظہ اس فتویٰ کو بھی رضاخانیوں کو کوئی فائدہ نہیں ۔ کیونکہ اس میں انہوں نے شرکیہ عقائد کی قید لگائی ہے تخیل کی نہیں ۔

رضاخانیوں نے نمبر دو میں ایک حدیث بھی پیش کی ہے۔ قطہ نظر حدیث کیسی ہے آیا درست بھی ہے یہ ضعیف اور اگر صحیح بھی مانا جائے تو کیا قرآنی آیات کا معارضہ ہوسکتا ہے یہ نہیں کیونکہ رضاخانیوں کو بھی یہ مسلم ہے کہ
قرآنی آیات کے مقابلہ میں خبرِ واحد بھی مفید نہیں چاہئے کتنی ہی صحیح کیوں نہ ہو۔

پھر اس حدیث کا رضاخانیوں کو فائدہ بھی نہیں کیونکہ اس حدیث میں کہیں نہیں لکھا کہ صحابیؓ نے حضرت محمد ﷺ کے حاضر ناظر مان کر یا محمدہ کہا ہو۔ بلکہ صحابی رسول ﷺ نے تو
غلبہ عشق
کی بنا پر کہا جو ہمارے خلاف نہیں۔

3

نمبر میں تو رضاخانی نے خود ہتھیار ڈال دئے ہیں اور اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے درود و سلام حضرت محمد ﷺ کو پہنچاتے ہیں۔ لیکن ورثے میں لی جہالت کا رونا رویا ہے۔ اور اعتراض کیا ہے کہ صلوٰۃ و سلام کو بدعت کہا ہے۔ اس جہل کا جواب تو یہ ہے صلوٰۃ و سلام کو جہل نہیں بلکہ صلوٰۃ و سلام کو بدعتی طریقہ سے پڑھنے کو بدعت کہا ہے۔

4

نمبر کا جواب تو یہ ہے کہ چونکہ التحیات اللہ والصلوات الخ تو اللہ تعالیٰ نے جناب رسول ﷺ کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

السلام علیک ایھاالنبی سلامتی ہو تجھ بر اے نبی

چونکہ اس وقت آنحضرت ﷺ خداتعالی کے حضور میں حاضر تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کیا تھا۔ اسلئے آنحضرت ﷺ نے اپنی اُمت اور حضرات صحابہ ؓ کو تعلیم دیتے وقت حرف خطاب کو جس طرح کہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے سنا تھا برقرار رکھا

شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں

اگر گویند کہ خطاب حاضر رابودو انحضرت ﷺ دریں مقام نہ حاضر امت پس توجہیہ ایں خطاب چہ پاشد جو ابش آنست کہ چوں وردوایں کلمہ دراصل یعنی شب معراج بصیغہ خطاب بود دیگر تغیرش ندادند دبہ ہماں اصل کذاشتنار (مکتوبات حضرت شیخ بر حاشیہ اخبار الاخیار 316)

اگر کہیں کہ خطاب تو حاضر کوہوتا ہے اور آپ اس مقام میں حاضر نہیں ہیں تو اس خطاب کی توجیہ کیا ہوگی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ کلمہ دراصل معراج میں بصیغہ خطاب وارد ہوا ہے اور اس کو اسی پر برقرار رکھا گیا اور اس میں کوئی تغیر نہ کیا گیا۔

یہی بات متعدد کتابوں میں مذکور ہے کہ شب معراج میں یہ خطاب ہوا تھا اور اس کو پرقرار رکھا گیا جیسے مرقات ملاعلی قاری ج1 صفحہ 556، بھرالرائق ج 1 324، و شامی جلد 1 صفحہ478 وغیرہ

قرآن کے ثبوت

اس کی قرآن کریم میں بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ اگر کسی وقت کسی شخصیت اور فرد کو اس کی موجودگی اور حاضری میں خطاب ہوا تھا تو آج بھی حرف یا اور خطاب کی ضمیر سے اسے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کو ضمیر خطاب سے یاد کرنے سے اس کا حاضر ناضر ہونا کوئی بھی مراد نہیں لیتا۔

حضرت موسی علیہ السلام نے جب فرعون کو تبلیغ کی اور فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پیش کردہ دلائل کا گستاخانہ الفاظ میں رد کیا تو فرعون کی اس گستاخی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا

وانی لا نلمنک یا فرعون مبثورا

اور بیشک میں تجھے خیال کرتا ہوں اے فرعون کہ تو تباہ کردیا جائے گا

اس آیت میں یا فرعون کے جملہ کو ذہن میں محفوظ رکھئے تاکہ کام آئے۔ آج ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ، کڑوڑوں کی تعداد میں قرآن کریم پڑھنے والے مسلمان لاظنک کو خطاب کی ضمیر سے ہی پڑھے ہیں لیکن اس سے فرعون کو کوئی بھی حاضر ناظر نہیں سمجھتا۔

ادھر رضاخانی کے اس اشکال کا بھی جواب ہوگیا کہ صحابہ حضور ﷺ کی ظاہری حیات میں حضورﷺ کو حاضر ناظر نہیں مانتے تھے بلکہ جو الفاظ معراج کے موقعہ پر آپ کو ملے تھے انکو انشاء کے طور کہا کرتے تھے۔

ڑضاخانی کے مذید اشکالات کا مختصر جائزہ

ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے کل مظوقات کی آوازیں سننے کی طاقت عطا فرمائی ہے۔ وہ فرشتہ میری وفات کے بعد میری قبر پر قیامت تک کھڑا ہوگا پس میرا جو بھی امتی مجھ پر دورود پڑھے گا وہ فرشتہ اس امتی اور اسکے باپ کا نام لے کر عرض کرے گا اے محمد ﷺ آپ پر فلاں بن فلاں نے درود بھیجا ہے۔

اس حدیث کی صحت اسماء رجال سے وضاحت کریں۔ اس کی تشریح پھر کردی جائے گی۔

اگر حدیث صحیح بھی ہو تو یہ قاعدہ رضاخانیوں کو بھی تسلیم ہے کہ قرآن کی قطعی آیات مبارکہ کے مقابلہ میں خبر واحد اگرچہ کتنی ہے صحیح کیوں نہ ہو قابل قبول نہیں

کیا

نبیﷺ خود بھی سلام سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں

لیکن کیسے؟

رضاخانی نے صرف دفعہ القتی کے لئے کچھ ایسے حوالے بھی دئے ہیں جن کا تعلق اس مسلے سے نہیں ہے یہ سب فضول بھرتی ہے اور کچھ نہیں- کیونکہ حضور ﷺ کو باواسطہ فرشتوں کے درود پڑھنے والوں کی آواز پہنچتی ہے۔

ڑضاخانیوں کی کس بات پر یقین کیا جائے

رضاخانی کہیں کہتا ہے کہ فرشتہ ہے جو سب مخلوق کی آواز سنتا ہے تو حضرت محمد ﷺ بھی سنتے ہونگے

پھر کہتا ہے کہ نہیں فرشتے ہیں جو درود و سلام حضرت محمد ﷺ تک پہنچاتے ہیں

کبھی کہتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ خود سلام سنتے ہیں –

رضاکانی کہتا ہے کہ صحابہ السلام علی النبی ﷺ کہنے لگے پر کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ نے یہ تعلیم فرمانی تھی کہ آپ ﷺ حاضر ناظر نا تھے۔

5 نمبر پر دفعہ الوقتی کے سوا اور کچھ نہیں اور اگے جو حدیث پیش کی اُس وہ سب غیر مطلق ہیں یہ پھر ہمارے خلاف نہیں کیونکہ باوجود اعلیٰ مرابت آپ ﷺ بشر ہی تھے اور اللہ کے عابد بندے نہ آپ وسیع علم کی وجہ سے اللہ ہو گئے اور نہ ہی آپ ﷺ کو خدائی اختیارات مل گائے۔

نمبر ،6،5

ن
مبر 5 میں رضاخانی نےاپنے ہی دھرم کا خون کر دیا۔ بڑے مزے سے بولتا ہے کہ مدینہ تشریف لائے جب کہ خود کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ حاضر و ناظر ہیں۔ ارے جب حضرت محمد ﷺ حاضر و ناظر ہیں تو تشریف لانے کا کیا مطلب
۔

پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ صحابہ نے تو حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری پر نعرہ لگایا تو کیا آپ یا محمد ﷺ کا نعرہ حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کے ساتھ خاص کرتے ہیں؟

اور جو حدیث پیش کی ہے وہ ہمارے خلاف نہیں کیوں کے حاظر ناظر عقیدہ کے بغیر ہم اس کو جائز سمجھتے ہیں خود ڑضاخانی کہتا ہے کہ
" عشاق رسول کی خوشی کا یہ عالم تھا"
نا کہ حاضر ناظر مان کر۔

ایک گزارش

اگر میرے اس مضمون میں کوئی بات اکابر کی تحقیق کے خلاف ہو تو میری رائے تو چھوڑا جائے اور مجھے بھی اپنی رائے سے رجوع کرنے والوں میں شمار کریں۔

اگر بشری تقاضے کے تحت اس مضمون میں کوئی لکھائی کی غلطی ہوگئی ہو تو ایڈوانس میں معزرت

Last edited by Talvar; Today at 04:26 PM.

Share this post


Link to post
Share on other sites

توحیدی بھاہی ۔جزاک اللہ ۔آپ نے موضوع کے مطابق گفتگو فرمای ہے ۔میں آیندہ کی پوسٹ میں تفصلی تبصرہ و فیصلہ پیش کر دوں گا ۔لیکن ابھی صرف ایک آخری بات کا جواب عنایت کیجیے کہ تلواد صاحب نے جو اخبار الا خیار ،مرقات ، بھر الرایق ،شامی کی عبارتیں پیش کی ہیں ان کا کیا جواب ہے ۔

 

اگر گویند کہ خطاب حاضر رابودو انحضرت ﷺ دریں مقام نہ حاضر امت پس توجہیہ ایں خطاب چہ پاشد جو ابش آنست کہ چوں وردوایں کلمہ دراصل یعنی شب معراج بصیغہ خطاب بود دیگر تغیرش ندادند دبہ ہماں اصل کذاشتنار (مکتوبات حضرت شیخ بر حاشیہ اخبار الاخیار ۔316)۔اگر کہیں کہ خطاب تو حاضر کوہوتا ہے اور آپ اس مقام میں حاضر نہیں ہیں تو اس خطاب کی توجیہ کیا ہوگی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ کلمہ دراصل معراج میں بصیغہ خطاب وارد ہوا ہے اور اس کو اسی پر برقرار رکھا گیا اور اس میں کوئی تغیر نہ کیا گیا۔یہی بات متعدد کتابوں میں مذکور ہے کہ شب معراج میں یہ خطاب ہوا تھا اور اس کو پرقرار رکھا گیا جیسے مرقات ملاعلی قاری ج1 صفحہ 556، بھرالرائق ج 1 324، و شامی جلد 1 صفحہ478 وغیرہ

 

آپ کے اس جواب کے بعد میری تحقیق اس موضوع پر ختم ہو جاے گی ۔

ایک گزارش کروں گا کہ عربی یا فارسی عبارات پیش کرتے وقت ترجمہ بھی پیش کر دیا کریں تو ہم لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہو جاے ۔اور ہر خاص و عام مستفید ہو سکے

جزاک اللہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

حضرت توحید بھائی کے دلائل قاہرہ کے سامنے دیو بندی کے دلائل کچھ بھی نہیں ہیں۔اور یہی حق بات کی نشانی ہے۔دیوبندی اب آیئں بایئں شایئں کرے گا لیکن اصل بات کا جواب نہیں دے گا۔جزاک اللہ توحیدی بھائی

Share this post


Link to post
Share on other sites

توحیدی بھائی سے بات مکمّل ہو جائے تو زرا اِس طرف بھی توجہ کریں۔
دیو بندیوں کا ایک پوائنٹ
"اسی لئے شاعری میں اگر حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کو حاضر کے صیغے سے خطاب کیا جائے تو کوئی ہرج نہیں کیونکہ ضروری نہیں کہ شاعر حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کو حاضر ناظر و عالم الغیب سمجھ کر شاعری کر رہا ہو۔ اور پھر یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کہنے میں تو اختلاف نہیں بلکہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم کو ہر جگہ ہر وقت حاضر ناظر مان کر یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کہنے پر ہے جس پر رضاخانی نے کوئی دلیل پیش نہیں"
ان کو ذرا دیکھئیے، کیا یہ ان کی دوغلہ پنی نہیں کہ اللہ کے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کو جن کے لیئے فرمایا گیا کہ "بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر" ان کے لیئے یہ عقیدہ اور اپنے قاسم نانوتوی کے لیئے یہ عقیدہ
بحوالہ سوانح قاسمی، حصّہ دوئم : "ایسی صورت میں کیوں اصرار کیا جاتا ہے کہ اسکی "موت" کے بعد ہم اُس کو مُردوں میں شمار کریں، یاد ہوگا ایک دفعہ نہیں متعدّد مواقع پر مشاہدہ کرنے والوں نے بعد وفات دیکھا کہ مولانا نانوتوی جسدِ عنصری کے ساتھ میرے پاس تشریف لائے تھے" ۔۔۔ یعنی نانوتوی صاحب حاضر بھی اور ناظر بھی، اس پر ان کو کوئی اعتراض تو دور کی بات ہے بلکہ یہ باتیں کیونکہ ان کے اپنوں کے لیئے ان کے اپنوں نے کہیں لہٰزا ایمان کا درجہ رکھتی ہیں۔
اور کچھ واقعات بھی موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ اس بات کو اپنوں کے لیئے تو کم از کم مانتے ہی ہیں کہ مرنے کے بعد کہیں بھی اِن کے بڑے حاضر و ناظر ہو سکتے ہیں اور اُن کے دیگر تصرّفات کو بھی مانتے ہیں مگر نہیں مانتے تو اللہ کے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے لیئے جو کہ ان کے اوپر دیئے گئے حوالہ سے ثابت ہے۔ اللہ کے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عظمت اِن کو گِراں گزرتی ہے کیونکہ ان کے دلوں میں بیماری ہے۔

باقی اِس قسم کے اشعار کے بارے میں بھی وہ بتادیں کہ کیا یہ بھی اُسی زمرے میں آتے ہیں اور اِن پر بھی کیونکہ شاعر نے کہا ہے کوئی حد لاگو نہیں ہوتی کہ کسی کو بُت پرستی کی دعوت دی جائے کہ اگر اللہ کا دیدار کرنا ہو تو پتھر کی بنی قبر "مرقد" کو جاکے دیکھ لے یعنی بُت کو دیکھ لے
جس کو ہوے شوقِ دیدارِ خدا
اُن کے مرقد کی زیارت کو وہ جا
یعنی پیر و مرشد مولا میرے
حضرت نُور محمد نیک پے
( حاجی امداد اللہ مہاجر مکّی نے اپنے پیر و مرشد میانجی نور محمد کے مزار پر کتبہ پر یہ اشعار لکھوائے تھے ، بحوالہ: تاریخِ مشائخ چشت )

Share this post


Link to post
Share on other sites

جزاک اللہ خیراً کثیر توحیدی بھائی
اِس مدد کا ( اسکین پیجز) بے حد مشکور ہوں، اللہ عزّوجل آپ کو ہمیشہ قائم رہنے والی خوشیاں عطا فرمائے۔ آمین

Share this post


Link to post
Share on other sites

لگتا ہے "مسلَمپاک" کے لیئے میرا اندازہ جو 99 فیصد تھا درست ثابت ہوا۔ اب دیکھ لیں آپ لوگوں کے سامنے ہے، کہاں تو فیصلہ سنانے کی بات کی تھی اور اب ایسے غائب جیسے کسی دیوگندی کے سرمیں سے عقل۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

میں اپنے وعدہ پر قایم ہوں اور عنقریب اپنا فیصلہ یہاں بیان کروں گا۔ لیکن تھوڑا مصروف ہوں اور پھر ماشاء اللہ مزید اس بارے میں دونوں طرف سے دلایل سامنے آ رہے ہیں اس لیے بھی خاموش ہو ں تاکہ دونوں فریقین مکمل دلایل بیان کر دیں ۔ویسے میں اتنا سمجھتا ہوں کہ یقینا اس پلیٹ فارم والے علماء و ممبرز تلوار صاحب والے فارم کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اور تلوار صاحب والے فارم والے ممبرز یہاں کے فارم کا مکمل مطالعہ کرتے ہیں ۔لہذا میں تین دن کے بعد اپنا فیصلہ بیان کر دوں گا اگر دونوں طرف کے ممبرز میں سے کسی نے وضاحت کرنی ہے تو ایک دو دن میں کر دے تاکہ بعد میں کسی کو کوی شکوہ نہ ہو ۔

شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

میں تین دن کے بعد اپنا فیصلہ بیان کر دوں گا اگر دونوں طرف کے ممبرز میں سے کسی نے وضاحت کرنی ہے تو ایک دو دن میں کر دے تاکہ بعد میں کسی کو کوی شکوہ نہ ہو ۔

شکریہ

 

شکوہ ھونا یا نہ ھونا بعد میں دیکھا جائے گا ۔ آپ بولیں تو سہی

 

تاکہ آپ کی قوت فیصلہ کی حقیقت دیکھیں۔

 

ھم نے آپ کو اپنا منصف تسلیم نہیں کیا۔ وہ آپ کا اپنا فیصلہ اور

 

اپنی ذات کے لئے ھوگا۔

 

اگر دیوبندی آپ کو اپنا منصف مانتے ھوں تو وہ فیصلہ اُن کے

 

لئے بھی اھم ھو گا۔ ھم آپ کی کوئی حقیقت نہیں جانتے۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Imam Bukhari nay apni kitab main alfaz "YA MUHAMMADA" likhay hain ya "YA MUHAMMAD"?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

میں اپنے وعدہ پر قایم ہوں اور عنقریب اپنا فیصلہ یہاں بیان کروں گا۔ لیکن تھوڑا مصروف ہوں اور پھر ماشاء اللہ مزید اس بارے میں دونوں طرف سے دلایل سامنے آ رہے ہیں اس لیے بھی خاموش ہو ں تاکہ دونوں فریقین مکمل دلایل بیان کر دیں ۔ویسے میں اتنا سمجھتا ہوں کہ یقینا اس پلیٹ فارم والے علماء و ممبرز تلوار صاحب والے فارم کا باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اور تلوار صاحب والے فارم والے ممبرز یہاں کے فارم کا مکمل مطالعہ کرتے ہیں ۔لہذا میں تین دن کے بعد اپنا فیصلہ بیان کر دوں گا اگر دونوں طرف کے ممبرز میں سے کسی نے وضاحت کرنی ہے تو ایک دو دن میں کر دے تاکہ بعد میں کسی کو کوی شکوہ نہ ہو ۔

شکریہ

 

مُسلَمپاک صاحب اِسے کہتے ہیں "اپنے مُنہ میاں مٹّھو" قبلہ سعیدی صاحب نے بالکل صحیح فرمایا کہ ہم آپ کواپنا منصف نہیں مانتے۔ اور میں نے بھی اپنی پوسٹ میں محض آپ کے الفاظ کہ "فیصلہ دوں گا" کوٹ کیئے تھے تاکہ آپ کو چیک کر سکوں کہ کہیں پچھلوں کی طرح بھاگ تو نہیں گئے، نہ کہ آپ کو اہلِ سنّت کا مُنصف مان کر۔

 

مُصطفائی بھائی، توحیدی بھائی نے صرف "یا مُحَمَّد" لکھا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہاں یہی لکھا گیا ہے۔ آگے توحیدی بھائی بہتر بتا سکتے ہیں۔

 

Edited by Ghulam.e.Ahmed

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.