Sign in to follow this  
Followers 0
Smart Ali

Imam e Azam par aaitaraz.. امام اعظم اورعلم حدیث ۔۔ وھابیہ کے الزام

8 posts in this topic

in sub cheesoon kay jawab inayat fermadien

Ahle HAdith kay aiettraz:

 

1, Abdulah bin mubarak farmate hain , " imam abu hanifa hadis mai yateem thay" (qayam ul lail pg 272)

 

2, Shah waliulah frmate hain "imam abu hanifa wo shakhs hain k bare bare muhadis masalan imam ahmad ,imam bukhari, muslim, tirmizi, nisai, abu dawod ,ibn e maja ne ik hadis bhy un se apni kitabon mai darj nae ky. " (musaffi sharah e mauta. Vol 1, pg6)

 

3, Imam ta'us fermate hain " jab koi iraqi 100 ahadis riwayat kare to in mai se 99 ko phaik do.

Imam zehri fermate hain "ahle koofa ky hadis mai bht ziada makar o faraib o dagha hota hai. (tadreb ur rawi . Pg 85 vol 1) .

Imam ahmed bin hanbal fermate hain k "ahl e kufa ky riwayat mai noor nahin hota." (sunan abu dawod vol 2, pg 341)

 

"IMAM ABU HANIFA KOOFI THAY"

 

4, Imam Abu Hanifa ki Tarefain ke hain to usk sath ulema ne unky kamzorian bhy btayi hain. Imam malik ky mauta , imam shafi ky musnad aur imam ahmad ky masnad bht mashor hai, imam abu hanifa ky hadis ky kitab ka suna hai? Kis darjay mai wo shamil hoty hai?

 

5, Hamara maanna hai k imam abu hanifa bhy bht bare alim thay, unka rutba bht bara hai, magar tm lg jo unko rutba daite ho, wo hamai manzor nae, sahih hadis anay k bd bhy unhy k aqwal ko mante ho. tby imam sahab par dosre ulama ky jarah batayi. Allah imam sahab k darajat buland frmaye.

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام من التبع الھدیٰ

بھائی سمارٹ علی صاحب ہم پورے وثوق سے نہیں کہ سکتے کہ یہ آپ کس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ہم حسن ظن ہی رکھتے ہیں کہ آپ اہلسنت ہی ہونگے، میرے بھائی یہ وہ ہی گھسے پٹے اعتراضات آپ کو رٹا دیئے گئے ہیں جن کے جوابات مختلف ادار میں دیئے جا چکے ہیں، مگر گھوم پھر کر وہی مرغی کی ایک ٹانگ والی بات، میرے بھائی یہ امام اعظم ابو حنیفہ سے محض بغض ہے اور کچھ بھی نہیں ہے، اور امام صاحب کی طرف الزامات کی بوچھاڑ ہے جبکہ اس کی حقیقت ایسی نہیں کیسا کہ آپ کو اور دوسرے نابلد مسلمانوں کو رٹا دیا گیا ہے، بہرحال رمضان شریف میں وقت بہت کم ہوتا ہے اس لئے ہمارے کسی بھائی کو فرصت نہیں ملے آپ کے یا غیر مقلدین کے اعتراضات کے جوابات دینے کی، اور جناب اگر آپ بھی واقعی سمجھنے والے ہوتے تو ایک ایک کر کے اعتراض کرتے ابھی ہم تمام اعتراضات کے جوابات ایک ساتھ دے دیں تو یقینا کھچڑی پک جائے گی، اور آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا، سو ہم آپ کے اعتراضات میں سے آہستہ آہستہ آپکو جوابات دیتے ہیں، آپکے سب سے پہلے اعتراض کا جواب حاضر

 

آپ کا اعتراض نمبر ۱

 

1, Abdulah bin mubarak farmate hain , " imam abu hanifa hadis mai yateem thay" (qayam ul lail pg 272)

 

 

 

الجواب

 

خطیب بغدادی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک کے قو ل کو پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا : کان ابوحنیفۃ یتیماً فی الحدیث

کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ حدیث میں ’’یتیم ‘‘تھے ۔ محمد یوسف جے پوری نے بھی اسی بات کو ’’ قیام اللیل‘‘ کے حوالے سے نقل کیاہے۔

یتیما فی الحدیثکا کلمہ تنقیص اور جرح کے لیے نہیں بلکہ کلمہ مدح ہے کیونکہ محاورہ میں ’’یتیم ‘‘کے معنی یکتا، منفرد اور بے مثل کے بھی آتے ہیں۔ملاحظہ ہوں

(کل شیٔ مفرد یعنی نظیرہ فہو یتیم یقال درۃ یتیمۃ۔)

ہر وہ اکیلی چیز جس کی مثال کمیاب ہو ’’یتیم ‘‘ہے جیسے کہاجاتاہے درۃ یتیمۃ (نایاب موتی)

باقی امام عبداللہ بن مبارک تو امام ابو حنیفہ کے ایسے مداح ہیں کہ ان کی زبان مبارک سے امام صاحب کے بارے میں ہمیشہ مدح اور منقبت ہی صادر ہوئی ہے ۔مثلا وہ خود فرماتے ہیں کہ

(افقہ الناس ابوحنیفۃ مارایت فی الفقہ مثلہ)

لوگوں میں سب سے بڑے فقیہ ابوحنیفہ ہیں، میں نے فقہ میں ان کی مثل کسی کو نہیں دیکھا۔

یہی امام عبدا اللہ بن مبارک یہ بھی فرماتے ہیں کہ

( لولا ان اللہ تعالیٰ اغاثنی بابی حنیفۃ وسیفان کنت کسائر الناس۔)

(اگر اللہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ اور امام سفیان کے ذریعہ میری مدد نہ کرتا تو میں عام لوگوں کی طرح ہوتا۔)

امام ابو حنیفہ کی مزید مدح کرتے ہوئے امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں:

ان کان الاثر قدعرف واحتیج الی الرایٔ ؛ فرای مالک وسفیان وابی حنیفۃ وابوحنیفہ احسنھم وادقھم فطنۃ واغوصھم علی الفقہ وھوافقہ الثلا ثۃ۔

اگر اثر(حدیث )میں فقہ کی ضرورت پیش آئے تو اس میں امام مالک امام سفیان اور امام ابوحنیفہ کی رائے معتبر ہوگی۔ امام ابوحنیفہ ان سب میں عمدہ اوردقیق سمجھ کے مالک ہیں فقہ کی باریکیوں میں گہری نظر رکھنے والے اور تینوں میں بڑے فقیہ ہیں۔

بلکہ امام ابو حنیفہ پر ناز کرتے ہوئے عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ:

(ھاتوا فی العلماء مثل ابی حنیفۃ والا فد عونا ولا تعذبونا)

(علماء میں امام ابوحنیفہ کی مثل لائو ورنہ ہمیں معاف رکھو اور کوفت نہ دو۔)

ان کے علاوہ کئی اقوال امام صاحب کی منقبت وشان میںامام عبداللہ بن مبارک میں مختلف کتب میں پائے جاتے ہیں۔ لہذا یتیما فی الحدیث سے جرح سمجھنا امام ابوبکر خطیب بغدادی کی غلطی ہے جسے مؤلف ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ نے محض عناد کی وجہ پیش کیاہے ۔

اس کے علاوہ حافظ ابوالحسن احمد بن ایبک ابن الدمیاطی ؒم۷۴۹ھ کو قول نقل کر دیاجائے جو اس امر میں کافی ہے ،فرماتے ہیں:

 

’’ہذا بالمدح اشبہ منہ بالذم فان الناس قد قالوا درۃ یتیمۃ اذاکانت معدودۃالمثل وھذا اللفظ متداول للمدح لا نعلم احدا قال بخلاف ۔ وقیل؛ یتیم دھرہ وفرید عصرہ وانما فھم الخطیب قصر عن ادراک مالایجھلہ عوام الناس۔‘‘

یتیما فی الحدیث کالفظ مدح کے زیادہ مشابہ ہے نہ کہ ذم کے کیونکہ عام طور پر جب کسی چیز کی مثالیں کم ملتی ہو تو لوگ ’’د رۃ یتیمۃ ‘‘ کا لفظ بولتے رہتے ہیں اور یہ لفظ عام طورپر رائج ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ کسی نے اس میں اختلاف کیاہو جیسا کہ یتیم دھراور فرید عصر وغیرہ الفاظ بولے جاتے ہیں خطیب بغدادی کی فہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہی جس سے عوام بھی بے خبرنہیں۔

اس کے بعد قارئین ہم ایک مشہور اعتراض کی طرف آتے ہیں جو آج کل ہرایرے غیرے کی تحریر اور تقریر میں سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کہ (تاریخ ابن خلدون میں ہے کہ فابو حنیفۃ یقال بلغت روایۃ الی سبعۃ عشر حدیثاًامام ابوحنیفہ کی نسبت کہاگیا ہے کہ ان کو سترہ حدیثیں پہونچی ہیں۔)

اس کا جواب بہت واضح ہے کہ علامہ عبدالرحمن بن محمد ابن خلدون م۸۰۸ھ نے کسی مجہول شخص کا قول نقل کیاہے اہل علم جانتے ہیں کہ خود لفظ ’’یقال‘‘ سے تعبیر کرنے میں اس کے ضعف اورباطل ہونے کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔ بلکہ علامہ ابن خلدون نے اس کایوںرد فرمایا ہے کہ

وقد تقول بعض المبغضین المتعسفین الی ان منھم من کان قلیل البضاعۃ فی الحدیث فلھذا قلت روایتہ ولا سبیل الی ھذا المعتقد فی کبار الائمۃ لان الشریعۃ انما توخذ من الکتاب والسنۃ ۔

بغض سے بھرے اور تعصب میں ڈوبے لوگوں نے بعض ائمہ کرام پر یہ الزام لگایاہے کہ ان کے پاس حدیث کا سرمایہ بہت کم تھا اسی وجہ سے ان کی روایتیں بہت کم ہیں۔کبار ائمہ کی شان میں اس قسم کی بدگمانی رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں کیونکہ شریعت قرآن وحدیث سے لی جاتی ہے۔

اس صراحت سے معلوم ہواکہ سترہ حدیثیں روایت کرنے کا الزام وغیرہ محض متعصبین کا تعصب ہے ، ائمہ حضرات کے دامن اس جیسے الزام سے پاک ہیں ۔مناسب معلوم ہوتاہے کہ صحیح راویات واسانید سے مروی خبار وآثار بیان کردیے جائیں جن سے امام صاحب کی حدیث میں وسعت اطلاع ،وفورعلم اورجلالت شان معلوم ہو۔چنانچہ:

۱: امام ابوعبداللہ الصیمری اور امام موفق بن احمدمکی نے اپنی سند سے امام حسن بن صالح سے روایت کیاہے:’’امام ابوحنیفہ ناسخ منسوخ احادیث کے پہچان میں بہت ماہر تھے۔ حدیث جب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے اصحاب سے ثابت ہو تو اس پر عمل کرتے تھے اور اہل کوفہ(جو اس وقت حدیث کا مرکز تھا)کی احادیث کے عارف تھے، حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل کے حافظ تھے۔۳)

۲: امام موفق مکی سند صحیح کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ امام ابویوسف فرماتے ہیں:’’ (امام ابو حنیفہ کے قول کی تقویت میںکبھی مجھے دواحادیث ملتی اور کبھی تین میں انہیں امام صاحب کے پاس لاتا تو آپ بعض کو قبول کرتے بعض کو نہیں اور فرماتے کہ یہ حدیث صحیح نہیں یا معروف نہیں، تو میں عرض کرتا حضرت آپ کو کیسے پتا چلا ؟ تو فرماتے کہ میں اہل کوفہ کے علم کوجانتاہوں۔‘‘(

۳: امام یحییٰ بن نصر بن حاجب فرماتے ہیں:’’میں امام ابوحنیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کا گھر کتابوں سے بھرا ہوا تھا میں نے عرض کی یہ کیاہیں؟ فرمایا:

’’ یہ ساری احادیث ہیں، میں ان سے وہ بیان کرتا ہوں جس سے عوام کو نفع ہو۔‘‘

۴: امام حافظ اسماعیل العجلونی الشافعی م۱۱۶۲ ھ فرماتے ہیں:’’(ابوحنیفہ)فہو رضی اللہ عنہ حافظ حجۃ فقیہ ۔

قارئین آپ اندازہ فرمائیں کہ اس قول میں امام صاحب کو حافظ اور حجت کہاگیاحافظ ایک لاکھ احادیث کی سند ومتن اور احوال رواۃ کے جاننے والے کو کہتے ہیں اور حجۃ تین لاکھ حدیثوں کے حافظ کو کہتے ہیں۔

۵: امام محمد بن سماع فرماتے ہیںکہ’’ امام ابوحنیفہ نے اپنی تمام تصانیف میں ستر ہزار سے کچھ اوپر احادیث ذکر کی ہیں اوراپنی کتاب الآثار چالیس ہزار احادیث سے انتخاب کرکے لکھی ہے۔

امام اعظم پر قلت حدیث کا الزام غلط محض ہے آپ کثیر الحدیث تھے اور اصطلاح محدثین میں حافظ وحجت تھے۔رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ ۔

اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور روز قیامت اپنے امام ابو حنیفہ کی معیت اور صحابہ کرام کی پیروی میں بہشت کے ان اعلی درجات میں جگہ عطا فرمائے جہاں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی کا شرف نصیب ہو… آمین

Edited by navaid_khan

Share this post


Link to post
Share on other sites

1, Abdulah bin mubarak farmate hain , " imam abu hanifa hadis mai yateem thay" (qayam ul lail pg 272)

 

یہ کوئی کلمہ جرح کا نہیں ہے اور نہ امام صاحب کی اس سے تضعیف ثابت ہوتی ہے کیوں کہ یتیم کے معنی محاورہ میں یکتا اور بے نظیر کے بھی آتے ہیں

 

 

صحاح ج2 ص 349 میں ہے: "وکل شیء مفرد بغیر نظیرہ فهو یتیم درۃ یتیمة"

‏"ہر وہ چیز جس کا ثانی نہ ہو وہ یتیم کہلاتی ہے اس لیے درہ یتیمہ کہا جاتا ہے"

 

‏"قال الاصمعی الیتیم الرملة المنفردۃ قال و کل منفرد و منفردۃ عند العرب یتیم و یتیمة"

 

‏"اصمعی نے کہا: یتیم ریت کے ایک اکیلے ذرہ کو کہتے ہیں اور کہا ہر اکیلی چیز کو یتیم کہا جاتا ہے"

 

پس عبداللہ بن مبارک کے قول کا یہ مطلب ہوا کہ امام ابو حنیفہ حدیث میں یکتا اور بے نظیر تھے چناچہ خو ابن مبارک کے دوسرے قول سے ہوتی ہے

 

مناقب کردری ج1 ص 229 میں ہے: "عن المبارك قال اغلب علی الناس بالحفظ و الفقه و الصیانة و الدیانة و شدۃ الورع"

 

‏"ابن مبارک نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ حافظ ، فقہ ، علم ، پرہیزگارۂ اور دیانت اور تقوی میں سب لوگوں پر غالب تھے"‎

 

عبداللہ بن مبارک امام صاحب کے شاگرد تھے - انہوں نے حضرت امام اعظم کی بہت زیادہ تعریفیں کی ہیں - مناقب موفق ابن احمد مکی ج2 ص 51 میں ہے - سوید بن نصر کہتے ہیں: "سمعت ابن المبارك یقول لا تقولوا رأی ابی حنیفة ولکن قولوا تفسیر الحدیث"‎

 

‏"ابن مبارک فرماتے تھے یہ نہ کہو کہ یہ امام ابو حنیفہ کی رائے ہے بلکہ یوں کہو کہ یہ حدیث کی تفسیر ہے"

 

‏"وایضا فیه قال المعروم من له یکن له حفظ من ابی حنیفة"

 

‏"نیز فرمایا جس نے امام صاحب سے کچھ حاصل نہیں کیا وہ محروم ہے"

 

‏"وایضا قال عبدالله بن المبارك ھاتوا فی العلماء مثل ابی حنیفة و الا دعونا ولا تعذبونا"

 

‏"عبداللہ بن مبارک نے فرمایا تمام علماء میں امام ابو حنیفہ جیسا کوئی عالم پیش کرو ورنہ ہمیں چھوڑ دو اور ہمیں نہ سناؤ"

 

‏"وایضا قال علیکم بالاثر ولابد للاثری من ابی حنیفة ، یتعرف به تاویل الاحادیث و معناہ"

 

‏"نیز فرمایا: تمہارے اوپر حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے اور حدیث کے سمجھنے کے لیے امام ابو حنیفہ کا قول ضروری ہے تاکہ اس کے ذریعہ حدیث کی صحیح تاویل اور معنی معلوم ہوجائیں گے"

 

اور بہت سے اقوال عبداللہ بن مبارک کے امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں شائع اور کتابوں میں مذکور ہیں

 

پس معلوم ہوا کہ معترض نے جو عبداللہ بن مبارک کو جارح امام صاحب سمجھا ہے یہ محض نفس پرستی اور غلط فہمی ہے

 

 

2, Shah waliulah frmate hain "imam abu hanifa wo shakhs hain k bare bare muhadis masalan imam ahmad ,imam bukhari, muslim, tirmizi, nisai, abu dawod ,ibn e maja ne ik hadis bhy un se apni kitabon mai darj nae ky. " (musaffi sharah e mauta. Vol 1, pg6)

 

حضرت شاہ صاحب کی طرف تضعیف کا انتساب محض غلط اور فریب ہے - ملاحظہ فرمایئے "مصفی شرح مؤطا" کی عبارت یہ ہے: "بالجملہ ایں جباراماماں کہ عالم را علم ایشاں احاطہ کردہ است امام ابو حنیفہ و امام مالک و امام شافعی و امام احمد ایں دو امام متاخر شاگرد امام ابو حنیفہ و امام مالک بودند و مستمند ان از علم اد و عصر تبع تابعین بنودند مگر ابو حنیفہ و امام مالک آں یک شخصے کہ روس محدثین مثل احمد و بخاری و مسلم و بخاری و مسلم و ترمذی و ابو داؤد و نسائی و ابن ماجہ و دارمی یک حدیث ازوے در کتاب ہائے خود روایت نہ کردہ اند و رسم روایت حدیث ازوے بطریق ثقات جاری نہ شدو آں دیگر شخصے ست کہ اہل نقل اتفاق دارند ہر آنکہ چوں حدیث روایت او ثابت شد بدر وہ اعلی صحت رسید"‎

‏"حاصل کلام یہ ہے کہ عظیم المرتب امام کہ ان کے علم نے تمام عالم کا احاطہ کرلیا ہے - امام ابو حنیفہ ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد - یہ بعد کے دو امام ، امام ابو حنیفہ اور امام مالک کے شاگرد اور ان کے علوم سے فیض یاب ہونے والے ہیں - اور تبع تابعین کے دور کے صرف امام ابو حنیفہ اور امام مالک ہیں - وہ امام کہ جن سے روس المحدثین ، مثلا احمد ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی نے اپنی کتابوں میں ایک روایت بھی نقل نہیں کی ہے اور ثقات کی طرح روایت حدیث کا طریقہ ان سے جاری نہ ہوا اور دوسرے امام وہ ہیں جن پر اہل نقل کا اتفاق ہے کہ جو حدیث ان سے ثابت ہے وہ صحت کے بلند ترین مقام تک پہنچ گئی ہے"‎

شاہ صاحب کی عبارت میں دو مضمون قابل غور اور لائق توجہ ہیں - ایک یہ کہ امام ابو حنیفہ سے روس محدثین نے ایک حدیث بھی نقل نہیں کی - دوسرے یہ کہ معتبر راویوں سے ان کی روایت جاری نہیں ہوئی

اول مضمون اگر صحیح بھی ہو "وعندی فیہ نظر کما استغرفہ"

"میرے نزدیک یہ قابل غور ہے جیسا کہ عنقریب معلوم ہوگا"

تو اس سے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تضعیف ہرگز لازم نہیں آتی -

 

ہزاروں ثقہ راوی ہیں کہ بعض نے ان سے روایت کی ہے اور بعض نے نہیں کی ہے - کسی ایک کی ترک روایت سے تضعیف کا اثبات محض ایک غلط خیال ہے اس پر کوئی دلیل قائم نہیں کی جاسکتی اور اگر دوسرا مضمون صحیح مان لیا جائے تو اس سے اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی روایت معتبر واسطہ سے جاری نہیں ہوئی - نہ یہ کہ خود وہ ضعیف تھے -

 

دیکھے صدہا سنن و مسانید و معاجم ہیں جن کے مؤلف خود ثقہ ہیں مگر مثل مؤطا کے ان کی حدیثیں معتبر واسطہ سے مروی نہیں تو کیا اس وجہ سے وہ ضعیف کہے جائیں گے؟ ہرگز نہیں

مسند امام شافعی، مسند امام احمد، مسند ابو یعلی، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن دارمی، معجم طبرانی، ضغیر و کبیر وغیرہا کو دیکھو طبقہ ثانیہ و ثالثہ کی کتابیں ہیں - ان میں ضعاف روایتیں بھری ہیں - مگر باوجود اس کے ان کے موثقین غیر ثقہ نہیں سمجھے جاتے - در حققیت شاہ صاحب کی عبارت سے غلط مضمون اخذ کیا گیا ہے - ورنہ مولانا دہلوی کی عبارت سے ہرگز امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تضعیف ثابت نہیں ہوتی

مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ العزیز اپنی کتاب "فیوض الحرمین" ص 48 میں تحریر فرماتے ہیں: "عرفنی رسول الله صلی الله علیه وسلم ان المذھب الحنفی طریقة انیقة ھی اوفق الطرق بالسنة المعروفة التی جمعت و نقجت فی زمان البخاری واصحابه"

‏"مجھے رسول الله صلی الله علیه وسلم نے بتایا کہ مذہب حنفی میں ایسا عمدہ طریقہ ہے جو سنت معروفہ سے بہت موافق ہے جس کو امام بخاری وغیرہ کے زمانہ میں وضاحت کے ساتھ جمع کیا گیا"

مقام غور ہے کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے مولانا ممدوح کو یوں تلقین فرمائی کہ مذہب حنفیہ میں ایسا عمدہ طریقہ ہے جو سنت معروفہ کے ساتھ موافق تر ہے - باوجود اس کے مولانا ممدوح امام صاحب کو متروک الحدیث کیوں فرمائیں گے -

باقی ان کے علاوہ مسلم، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، وکیع بن الجراح، عمرو الناقہ ابن القطان، ابو اسحاق الفرازی، طاؤس، زہری، ہشام بن عروہ، جلال الدین سیوطی اور عبد الرؤف منادی کے نام فہرست میں لکھ دیئے جاتے ہیں - اور امام ابو حنیفہ کو سئی الحافظہ اور ضعیف کہے والوں کی تعداد بڑھائی جاتی ہے - یہ بجز اظہار حسد اور مغالطہ دہی کے اور کچھ نہیں ہے

 

3, Imam ta'us fermate hain " jab koi iraqi 100 ahadis riwayat kare to in mai se 99 ko phaik do.

Imam zehri fermate hain "ahle koofa ky hadis mai bht ziada makar o faraib o dagha hota hai. (tadreb ur rawi . Pg 85 vol 1) .

Imam ahmed bin hanbal fermate hain k "ahl e kufa ky riwayat mai noor nahin hota." (sunan abu dawod vol 2, pg 341)

 

 

ان اقوال سے نہ ابو حنیفہ کی تضعیف ثابت ہوتی ہے اور نہ کسی عراقی اور نہ کوفی کی اور نہ باقاعدہ اصول یہ جرح کے اقوال ہیں - خاص خاص مواقع پر خاص وجوہ کی بناء پر ان حضرات نے یہ باتیں لکھی ہیں

اگر حسب خیال معترض یہ جرح کے کلمات ہیں تو دنیا سے حدیث کا نام مٹ جائے گا - کیوں کہ حسب قول امام مالک و امام شافعہ ہر حدیث کی اصل مکہ مدینہ سے ملنی چاہیے اور حسب قول زہری عراقی یعنی بصرو و کوفی اور بغدادی وغیرہم کی روایات فی صدی [سو] ایک ہی قابل اعتبار ہوگی اور حسب قول ہشام بن عروۃ عراقی کی فی ہزار [1000] نو سو نوے [990] احادیث متروک اور دس [10] احادیث محتمل الصحہ ہوں گی ،

کما فی تدریب الراوی

‏"وقال ھشام بن عروۃ اذا حدثك العراقی بالف حدیث فالق تسع مائة و تسعین و کن من الباقی فی شك"

‏"ہشام بن عروہ نے کہا کہ اگر تجھ سے کوئی عراقی ایک ہزار حدیثیں [1000] بیان کرے تو ان میں نو سو نوے [990] کو ترک کردے اور دن [10] حدیثوں میں مشکوک رہ

"

اب معترضین اس قاعدہ کو سامنے رکھ کر احادیث کی جانچ کریں حتنی کتابیں احادیث کی موجود ہیں - مثلآ بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ دارقطنی، مؤطا امام مالک اور سنن دارمی وغیرہا میں سے خاص حجاز کی روایات انتخاب کریں اور سب روایات چھوڑ دیں - پھر حجاز کی روایتوں میں اگر کوئی راوی بصری ، کوفی ، بغدادی ہو تو اس کو چھوڑ دیں

پھر ان احادیث میں اگر کوئی ایسا راوی ہو کہ اس پر کسی قسم کی جرح کسی سے منقول ہو تو اس کو بھی چھوڑ دیں - اس کے بعد دیکھیں کہ ان کے ہاتھ میں کتنی حدیثیں صحیح باقی رہتی ہیں؟

 

ہمارے خیال میں نماز روزہ کی احادیث بھی ان کے پاس باقی نہ رہیں گی تو پھر "اہل حدیث" کا لقب بھی صریح اور غلط ہوگا - نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عراق میں ہزاروں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے

"کما قال ابن الهمام لان الصحابة انتشرت فی البلاد خصوصا العراق"

‏"ابن ہمام نے فرمایا کہ صحابہ مختلف شہروں میں منتشر ہوگئے تھے خصوصآ عراق میں"

‏"قال العجلی فی تاریخه نزل الکوفة الف و خمسین مائة من الصحابة"

‏"عجلی نے اپنی تاریخ میں فرمایا ہے کہ کوفہ میں پندرہ سو [1500] صحابہ قیام پذیر ہوگئے تھے"

انصاف کرنا چاہیے کہ جس جگہ ڈیڑھ ہزار صحابہ موجود ہوں اور شب و روز "قال اللہ و قال الرسول" کا ذکر ہو وہاں کے لوگ حدیث سے ناواقف کیونکر ہوسکتے ہیں اور ان کی روایت محض عراقی و کوفی ہونے کی وجہ سے کیوں متروک ہوگی؟

 

 

4, Imam Abu Hanifa ki Tarefain ke hain to usk sath ulema ne unky kamzorian bhy btayi hain. Imam malik ky mauta , imam shafi ky musnad aur imam ahmad ky masnad bht mashor hai, imam abu hanifa ky hadis ky kitab ka suna hai? Kis darjay mai wo shamil hoty hai?

 

اهل علم کے نزدیک یہ وسوسہ بهی باطل وفاسد هے ، اور تارعنکبوت سے زیاده کمزور هے ، اور یہ طعن تواعداء اسلام بهی کرتے هیں منکرین حدیث کہتے هیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نےخود اپنی زندگی میں احادیث نہیں لکهیں لهذا احادیث کا کوئی اعتبارنہیں هے ، اسی طرح منکرین قرآن کہتے هیں کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نےخود اپنی زندگی میں قرآن نہیں لکهوایا لہذا اس قرآن کا کوئی اعتبارنہیں هے ،

فرقہ اهل حدیث کے جہلاء نے یہ وسوسہ منکرین حدیث اور شیعہ سے چوری کرکے امام ابوحنیفہ رحمہ الله سے بغض کی وجہ سے یہ کہ دیا کہ انهوں نے تو کوئی کتاب نہیں لکهی ، لہذا ان کی فقہ کا کوئی اعتبار نہیں هے ، یاد رکهیں کسی بهی آدمی کے عالم وفاضل وثقہ وامین هونے کے لیئے کتاب کا لکهنا ضروری نہیں هے ، اسی طرح کسی مجتهد امام کی تقلید واتباع کرنے کے لیئے اس امام کا کتاب لکهنا کوئی شرط نہیں هے ، بلکہ اس امام کا علم واجتهاد محفوظ هونا ضروری هے ، اگرکتاب لکهنا ضروری هے تو خاتم الانبیاء صلی الله نے کون سی کتاب لکهی هے ؟ اسی طرح بے شمار ائمہ اور راویان حدیث هیں ، مثال کے طور پر امام بخاری اور امام مسلم کے شیوخ هیں کیا ان کی حدیث و روایت معتبر هونے کے لیئے ضروری هے کہ انهوں نے کوئی کتاب لکهی هو ؟ اگر هر امام کی بات معتبر هونے کے لیئے کتاب لکهنا ضروری قرار دیں تو پهر دین کے بہت سارے حصہ کو خیرباد کہنا پڑے گا ،

لہذا یہ وسوسہ پهیلانے والوں سے هم کہتے هیں کہ امام بخاری اور امام مسلم کے تمام شیوخ کی کتابیں دکهاو ورنہ ان کی احادیث کو چهوڑ دو ؟؟

اور امام اعظم رحمہ الله نے توکتابیں لکهی بهی هیں ، ( الفقه الأكبر ) امام اعظم رحمہ الله کی کتاب هے جو عقائد کی کتاب هے ، « الفقه الأكبر » علم کلام وعقائد کے اولین کتب میں سے هے ، اور بہت سارے علماء ومشائخ نے اس کی شروحات لکهی هیں ، اسی طرح کتاب ( العالم والمتعلم ) بهی امام اعظم رحمہ الله کی تصنیف هے ، اسی طرح ( كتاب الآثار ) امام محمد اور امام ابویوسف کی روایت کے ساتهہ امام اعظم رحمہ الله هی کی کتاب هے ، اسی طرح امام اعظم رحمہ الله کے پندره مسانید هیں جن کو علامہ محمد بن محمود الخوارزمي۔نے اپنی کتاب ((جامع الإمام الأعظم )) میں جمع کیا هے ، اور امام اعظم کی ان مسانید کو کبار محدثین نے جمع کیا هے ، بطور مثال امام اعظم کی چند مسانید کا ذکرکرتاهوں ،

1. جامع مسانيد الإمام الأعظم أبي حنيفة

تأليف أبي المؤيد محمد بن محمود بن محمد الخوارزمي،

مجلس دائرة المعارف حیدرآباد دکن سے 1332ه میں طبع هوئی هے دو جلدوں میں ، پهر ، المكتبة الإسلامية ، پاکستان سے 1396ه میں طبع هوئی ، اور اس طبع میں امام اعظم کے پندره مسانید کو جمع کردیا گیا هے ۔

2. مسانيد الإمام أبي حنيفة وعدد مروياته المرفوعات والآثار

مجلس الدعوة والتحقيق الإسلامي، نے 1398هـ میں شائع کی هے،

3. مسند الإمام أبي حنيفة رضي الله عنه

تقديم وتحقيق صفوة السقا ، مکتبه ربيع ، حلب شام 1382هـ. میں طبع هوئی

4. مسند الإمام أبي حنيفة النعمان ) شرح ملا علي القاري، المطبع المجتبائي،

5. شرح مسند أبي حنيفة

ملا علي القاري، دار الكتب العلمية، بيروت سے 1405 ھ میں شائع هوئی

6. مسند الإمام أبي حنيفة

تأليف الإمام أبي نعيم أحمد بن عبد الله الأصبهاني، مكتبة الكوثر، رياض سے 1415ه شائع هوئی،

7. ترتيب مسند الامام ابي حنيفة على الابواب الفقهية،

المؤلف: السندي، محمد عابد بن أحمد

اس مختصرتفصیل سے فرقہ اهل حدیث میں شامل جہلاء کا یہ وسوسہ بهی کافورهوگیا کہ امام ابوحنیفہ نے کوئی کتاب نہیں لکهی ۔

 

جامع مَسَانيد الإمام أبي حنيفة النعمان رحمه الله

 

إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله ان مقدس ومحترم شخصيات ميں سے ہیں ، جن کے خلاف فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی طرف طعن وتشنیع وتنقید کا بازار گرم رہتا ہے ، اس فرقہ جدید میں شامل تقریبا ہرچهوٹا بڑا إمام عالی شان کی ذات میں توہین وتنقیص کا کچھ نہ کچھ اظہار کرتا رہتا ہے ، اور یہ صفت قبیحہ اس فرقہ جدید کے تمام ابناء میں سرایت کی ہوئی ہے ، الاماشاءألله۔من جملہ ان وساوس باطلہ کے ایک وسوسہ یہ بهی إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کے خلاف پهیلایا جاتا ہے کہ ان کو تو حدیث کا کچھ بهی پتہ نہیں تها علم حدیث سے بالکل کورے تهے. (. معاذالله. ). ،اس باطل وسوسہ پرکچھ بحث غالبا گزشتہ سطور میں گزرچکی ہے ،لیکن مزید اطمینان قلب کی خاطرمیں إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کی ان مسانید کا تذکره کروں گا ، جن کوکباراہل علم نے جمع کیا ہے ۔

تعريف المسانيد

مسانيد جمع ہے مُسند کی جوکہ .(. سَنَدَ .). سے اسم مفعول ہے ۔اہل لغت نے اس کی تعریف لغوی اس طرح پیش کی ہے ۔

المسانيد أو المساند جمع : مسند ، وهو : اسم مفعول من الثلاثي : .(. سَنَدَ .). ، قال ابن فارس .(. ت 395 ھ.). : ’’ السين والنون والدال أصل واحد يدل على انضمام الشيء إلى الشيء . وقد سُمِّي الدهر : مُسنَدًا ؛ لأن بعضه متضام‘‘ .).

وقال الليث : ’’ السند ما ارتفع عن الأرض ‘‘ وقال الأزهري .(. ت 370 ھ .). : ’’ كل شيء أسندت إليه شيئًا فهو مُسنَد ‘‘ وحكى أيضًا عن ابن بُزُرْج أن السَّنَد مثقل : .(. (. سنود القوم في الجبل .) .) .، وقال الجوهري .(. ت 393 ھ.) : ’’ السَنَد : ما قابلك من الجبل وعلا عن السطح ، وفلان سَنَده أي : معتمد ‘‘ وقال ابن منظور .(. ت 711ھ .). : ’’ ما يسند إليه يُسمى مسْنَدًا ومُسْنَدًا ، وجمعه : المَساند ‘‘ . (.13.) .وزاد صاحب القاموس أنه يجمع أَيضًا بلفظ : .(. مسانيد .). ، ويرى أبو عبد الله: محمد بن عبد الله الشافعي الزركشي ، .(. ت 794 ھ .). (. أن الحذف أولى).

حاصل یہ کہ مُسند کا معنی لغوی اعتبار سے یہ ہے کہ جوکسی چیزکی طرف منسوب کیا جائے ، جوکسی چیزکی طرف ملایا جائے ، اس چیزکومضبوط کرنے کے لیئے ۔

مسند کی اصطلاحي تعریف

اصطلاح میں مسندکا اطلاق حدیث پربهی ہوتا ہے اورحدیث کی کتاب پربهی ہوتا ہے ، مسند اس حدیث مرفوع کو کہتے ہیں جس کی سند کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک پہنچتا ہو۔ یہ تو مسند حدیث کی تعریف ہے ،اور اسی طرح مُسند کا اطلاق حدیث کی ان کتب پربهی ہوتا ہے ، جن کو اس کے مؤلفین نے أسماء الصحابة کے مسانيد پرجمع کیا ہو یعنی مسند حدیث کی وه کتاب ہے جس میں ہرصحابی کے احادیث کو الگ الگ جمع کیا جائے ،پهر بعض محدثین نے اس بارے میں یہ ترتیب رکهی کہ پہلے سابقین فی الاسلام صحابہ کی احادیث ذکرکرتے ہیں جیسے عشره مبشره پهر اهل بدر وغیره ، اور بعض محدثین حروف المعجم کے اعتبار سے صحابہ کی احادیث ذکرکرتے ہیں ، وغيره . بغرض فائده یہ تومسند کی لغوی واصطلاحی تعریف کا مختصرتذکره تها ۔

اب میں ان کباراهل علم وعلماء امت کا تذکره کروں گا جنہوں نے إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کے ان مسانید کو جمع کیا۔یا درہے کہ امام محمد بن محمود الخوارزمی رحمه الله نے إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کی پندره. (.15.). مسانید کو جامع مَسَانيد الإمام أبي حنيفة النعمان کے نام سے ایک مستقل کتاب میں جمع کیا ہے ، اوران کے جمع کرنے کی وجہ یہ لکهی کہ میں نے شام میں بعض جہلاء سے سنا جوامام اعظم کی شان میں توہین وتنقیص کر رہا تها اورامام اعظم پر رواية ُالحديث کی قلت کا الزام لگا رہا تها ، اوراس بارے میں مسند الشافعي وموطأ مالك وغیره سے استدلال کر رہا تها اوریہ گمان کر رہا تها کہ ابوحنیفہ کی تو کوئی مسند نہیں ہے ، لہذا مجهے دینی غیرت وحمیت لاحق ہوئی پس میں نے اراده کیا کہ میں إمام أعظم رحمه الله کی ان پندره .(.15.). مسانید کو جمع کروں جن کبار علماء الحديث نے جمع کیا ہے .

ان کبار علماء الحديث کے اسماء درج ذیل ہیں جنہوں نے إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کے مسانید کوجمع کیا ہے

1. الإمام الحافظ أبو محمد : عبد الله بن محمد بن يعقوب الحارثي البخاري المعروف : بعبد الله

2. الإمام الحافظ أبو القاسم : طلحة بن محمد بن جعفر الشاهد العدل

3. الإمام الحافظ أبو الحسين : محمد بن المظفر بن موسى بن عيسى بن محمد

4. الإمام الحافظ : أبو نعيم الأصفهاني

5. الشيخ أبو بكر : محمد بن عبد الباقي بن محمد الأنصاري

6. الإمام أبو أحمد : عبد الله بن عدي الجرجاني

7. الإمام الحافظ : عمر بن الحسن الأشناني

8. الإمام أبو بكر : أحمد بن محمد بن خالد الكلاعي

9. الإمام أبو يوسف القاضي : يعقوب بن إبراهيم الأنصاري ،

وما روي عنه يسمى : نسخة أبي يوسف

10. الإمام : محمد بن الحسن الشيباني

والمروي عنه يسمى : نسخة محمد

11. ابن الإمام : حماد رواه عن أبي حنيفة

12. الإمام : محمد أيضا ، وروى معظمه عن التابعين ،

وما رواه عنه يسمى : الآثار

13. الإمام الحافظ أبو القاسم : عبد الله بن محمد بن أبي العوام السعدي

14. الإمام الحافظ أبو عبد الله : حسين بن محمد بن خسرو البلخي

15. الإمام الماوردي أبو الحسن : علي بن محمد بن حبيب

یہ مسانید.(. أبواب الفقه .).کے مطابق جمع کیئے گئے ہیں ،

 

پهر بعد میں بعض علماء امت نے ان مسانید کی اختصار اور شرح بهی لکهی ، مثلا

1. الإمام شرف الدين: إسماعيل بن عيسى بن دولة الأوغاني المكي نے اس کا اختصار بناماختيار اعتماد المسانيد في اختصار أسماء بعض رجال الأسانيدلكها ۔

2. الإمام أبو البقاء : أحمد بن أبي الضياء .(. محمد القرشي البدوي المكي .). نے اس کا اختصار بنام مختصر’’المستند مختصر المسند‘‘لكها۔

3. الإمام محمد بن عباد الخلاطي نے اس کا اختصار بنام’’مقصد المسند‘‘لكها۔

4. أبو عبد الله : محمد بن إسماعيل بن إبراهيم الحنفي ،نے اس کا اختصار لکها

5. حافظ الدين : محمد بن محمد الكردري المعروف : بابن البزازي نے اس کے زوائد کو جمع کیا۔

6. شيخ جلال الدين السيوطينے اس کی شرح بنام’’التعليقة المنيفة على سند أبي حنيفة‘‘لکهی۔

اس کے علاوه بهی بہت ساری کتب وشروحات إمام أعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله کی مسانید پرلکهی گئ ہیں .

رحمهم الله جميعا وجزاهم الله تعالى خيرا في الدارين

یقینا اس ساری تفصیل کے بعد آپ نے ملاحظہ کرلیا کہ چند جہلاء زمانہ کی طرف سے إمام أعظم کے خلاف جو باطل وکاذب وسوسہ پهیلایا جاتا ہے یہ وسوسہ صرف جُہلاء وسُفہاء کی مجلس میں کارگر ہوتا ہے ارباب علم واصحاب فکرونظر کی نگاه میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

 

5, Hamara maanna hai k imam abu hanifa bhy bht bare alim thay, unka rutba bht bara hai, magar tm lg jo unko rutba daite ho, wo hamai manzor nae, sahih hadis anay k bd bhy unhy k aqwal ko mante ho. tby imam sahab par dosre ulama ky jarah batayi. Allah imam sahab k darajat buland frmaye.

 

ألإمام الأعظم أبي حنيفة النعمان رحمه الله كا عظيم اجتہادى أصول

الإمام الأعظم أبو حنيفة النعمان رحمه الله تعالى فرماتے ہیں

آخذ بكتاب الله ، فما لم أجد فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن لم أجد في كتاب الله ولا سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، أخذت بقول أصحابه، آخذ بقول من شئت منهم، وأدع من شئت منهم ولا أخرج من قولهم إلى قول غيرهم وأما اذا انتهى الأمر الى إبراهيم والشعبي وإبن سيرين والحسن وعطا وسعيد ابن المُسيب وعد د رجالا فقوم اجتهدوا فأجتهدُ كما اجتهدوا ۔

میں سب سے پہلے کتاب الله سے۔ .. ( . مسئلہ وحکم . ) . لیتا ہوں ، اگرکتاب الله میں نہ ملے تو پهر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث کی طرف رجوع کرتا ہوں ، اور اگر كتاب الله وسنة اور احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم میں بهی نہ ملے تو پهر میں اقوال صحابہ کرام کی طرف رجوع کرتا ہوں اور میں صحابہ کرام کے اقوال سے باہر نہیں نکلتا ، اور جب معاملہ إبراہيم، والشعبي والحسن وابن سيرين وسعيد بن المسيب تک پہنچ جائے تو پهر میں بهی اجتهاد کرتا ہوں جیسا کہ انهوں نے اجتهاد کیا ۔

.(.(.تاريخ بغداد. (368./13.).).).

 

حافظ ابن القیم رحمہ الله اپنی کتاب ‘‘إعلام الموقعين ’’ فرماتے هیں کہ

وأصحاب أبي حنيفة رحمه الله مجمعون على أن مذهب أبي حنيفة أن ضعيف الحديث عنده أولى من القياس والرأي ، وعلى ذلك بنى مذهبه كما قدّم حديث القهقهة مع ضعفه على القياس والرأي ، وقدّم حديث الوضوء بنبيذ التمر في السفر مع ضعفه على الرأي والقياس .... فتقديم الحديث الضعيف وآثار الصحابةعلى القياس والرأي قوله وقول الإمام أحمد "

امام أبي حنيفة رحمه الله کے اصحاب کا اس بات پراجماع ہے کہ امام أبي حنيفة رحمه الله کا مذہب یہ ہے کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث بهی رائے و قیاس سےأولى وبہتر .( .ومقدم. ) .ہے ، اور اسی اصول پر امام أبي حنيفة رحمه الله کے مذهب کی بنیاد واساس رکهی گئی ، جیسا قهقهة والی حدیث کو باوجود ضعیف ہونے کے امام أبي حنيفة رحمه الله نے قیاس ورائے پرمقدم کیا ، اور سفر میں نَبيذُ التمَر کے ساتهہ وضو والی حدیث کو باوجود ضعیف ہونے کے امام أبي حنيفة رحمه الله نے قیاس ورائے پرمقدم کیا ، پس حديث ضعيف وآثارُ الصحابة کو رائے وقیاس پرمقدم کرنا یہ الإمام أبي حنيفة رحمه الله اور الإمام أحمد رحمه الله کا قول .(.وعمل وفیصلہ .). ہے ۔

.(.(. إعلام الموقعين عن رب العالمين 77/.1 .).) .

 

 

علامہ ابن حزم ظاہری بهی یہی فرماتے ہیں کہ

‘‘جميع أصحاب أبي حنيفة مجمعون على أن مذهب أبي حنيفة أن ضعيف الحديث أولى عنده من القياس والرأي’’

.(.(.إحكام الإحكام في أصول الأحكام 54/7 .).).

 

یہ ہے الإمام الأعظم أبي حنيفة رحمه الله اورآپ کے اصحاب وتلامذه کا سنہری وزریں اصول جس کے اوپرمذہب حنفی بنیاد ہے ، الإمام الأعظم رحمه الله کا یہ اصول اہل علم کے یہاں معروف ہے ، اب جس امام کا حدیث کے باب میں اتنا عظیم اصول ہو اوراس درجہ تعلق ہو حدیث کے ساتھ کہ ضعیف حدیث پربهی عمل کرنا ہے ، اس امام کواور اس کے اصحاب وپیروکاروں کو حدیث کا مخالف بتلایا جائے اورجاہل عوام کوگمراه کیا جائے،تواس طرزکوہمکیا کہیں جہالت وحماقت یاعداوت ومنافقت ؟؟

شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله كا فتوى

‘‘ومن ظنّ بأبي حنيفة أوغيره من أئمة المسلمين أنهم يتعمدون مخالفة الحديث الصحيح لقياس أو غيره فقد أخطأ عليهم ، وتكلّم إما بظنّ وإما بهوى ، فهذا أبو حنيفة يعمل بحديث التوضى بالنبيذ في السفر مع مخالفته للقياس ، وبحديث القهقهة في الصلاة مع مخالفته للقياس لاعتقاده صحتهما وإن كان أئمة الحديث لم يصححوهما’’

اورجس نے بهی امام أبي حنيفة یا ان کے علاوه دیگر أئمة ُالمسلمين کے متعلق یہ گمان کیا کہ وه قياس یا ( رائے ) وغیره کی وجہ سے حديث صحيح کی مُخالفت کرتے ہیں تو اس نے ان ائمہ پر غلط. ( .وجهوٹ .) .بات بولی ، اور محض اپنے گمان وخیال سے یا خواہش وہوئی سے بات کی ، اور امام أبي حنيفة تو نَبيذُ التمَر کے ساتهہ وضو والی حدیث پر باوجود ضعیف ہونے کے اور مُخالف قیاس ہونے کے عمل کرتے ہیں الخ

.(.(. مجموع الفتاوي لابن تيمية 304/20، 305.).).

شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله کا فتوی بالکل واضح ہے یعنی امام اعظم کے مُتعلق اگرکوئی یہ گمان وخیال بهی کرے کہ وه صحیح حدیث کی مخالفت کرتے ہیں اپنی رائے وقیاس سے تو ایسا شخص شيخ الإسلام إبن تيمية رحمه الله کے نزدیک خیالات وخواہشات کا پیروکار ہے اور ائمہ مُسلمین پرجهوٹ وغلط بولنے والا ہے ۔کیا شيخ الإسلام إبن تيمية کے اس فتوی کا مصداق آج کل کا جدید فرقہ اہل حدیث نہیں ہے جو رات دن کا مشغلہ ہی یہی بنائے ہوئے ہیں ؟؟؟

میں نے حافظ ابن القیم رحمہ الله اور ان کے شیخ شيخ الإسلام إبن تيمية رحمہ الله کی تصریحات نقل کیں ، عجب نہیں کہ حافظ ابن القیم رحمہ الله شيخ الإسلام إبن تيمية رحمہ الله کا یہ اعلان فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل جُہلاء کے لیئے باعث ہدایت بن جائے ۔اور یہ بهی یاد رہے کہ فرقہ جدید اہل حدیث میں شامل جاہل نام نہاد شیوخ عوام کو گمراه کرنے کے لیئے یہ وسوسہ پهیلاتے ہیں کہ فقہ حنفی‘‘ حدیث ’’کے بالکل مخالف ہے ، گذشتہ سطور میں آپ نے ملاحظہ کرلیا کہ امام اعظم اورآپ کے اصحاب بالاتفاق ضعیف حدیث پرعمل نہیں چهوڑتے چہ جائیکہ صحیح حدیث کو چهوڑ دیں ، اس سلسلہ میں ایک اور مثال عرض کرتا ہوں۔

دیگرمُحدثین کے یہاں اور خود فرقہ جدید اہل حدیث کے یہاں بهی ‘‘ مُرسَل حدیث’’ ضعیف اور ناقابل احتجاج ہے ، جب کہ امام اعظم اور آپ کے اصحاب ‘‘ مُرسَل حدیث ’’ کو بهی قبول کرتے ہیں ، اور قابل احتجاج سمجهتے ہیں بشرطیکہ ‘‘ مُرسِل’’ ثقہ وعادل ہو۔

یہاں سے آپ اندازه لگا لیں کہ امام اعظم اور آپ کے اصحاب ‘‘ حدیث ’’کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ، اور حدیث رسول کے ساتھ کس درجہ شدید و قوی تعلق رکهتے ہیں ، لیکن پهر بهی عوام کو بے راه کرنے کے لئے یہ جهوٹ و وسوسہ پهیلاتے ہیں کہ فقہ حنفی حدیث کے بالکل مخالف ہے۔

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Assalam alaikum

 

Janab mien ALHAMDO LILLAH Ahle sunnat wa al jamaat brailveeh maktab-e-fikr say taluq rakhta hoooon. ALLAH emaan kay sath is maktab-e-fiker may mout ata fermai. app nay jawab day ker rehnamai fermai jazakallah. app ka ahsaan hay. actually mera cousin dow medical college may hay. us ko pamphlet or sms kay zariya bhutkaya ja raha hay or wo AHLE KHABEES may chala bhi gaya tha mager mien nay app ki site say cheesien li or us ko forward kari. ab wo ALHAMDO LILLAH wapis sunni ho gaya hay. ab ya topic raise howa tha. to mien nay socha app say achi kaun rehnamai karey ga is liya yahan post ker diya.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Asslam wa alaikum. 

Ek shia ny Imam e Azam par aitrazat dhaye hen.

Inka jawab chahye hy.

Jis bhai ke pas ho bara e meharbani inayat farmayen..

1)

 

*** ائمہِ اہل سنت کی ابوحنیفہ پر جرح***

روى ابن عدي في الكامل عن عبد الله بن أبي داود أنه قال: الوقيعة في أبي حنيفة جماعة من العلماء لأن إمام

 

البصرة أيوب السختياني وقد تكلم فيه وإمام الكوفة الثوري وقد تكلم فيه وإمام الحجاز مالك وقد تكلم فيه وإمام

 

مصر الليث بن سعد وقد تكلم فيه وإمام الشام الأوزاعي وقد تكلم فيه وإمام خراسان عبد الله بن المبارك وقد

 

تكلم فيه فالوقيعة فيه إجماع من العلماء في جميع الأفاق

 

ابن عدی نے کامل میں عبد اللہ بن أبی داود سے روایت کیا ہے کہ : ابو حنیفہ کے بارہ میں امر واقع یہ ہے کہ

 

علماء کا (اس پر جرح کرنے پر) اجماع ہے ۔ کیونکہ بصرہ کے امام ایوب سختیانی ہیں اور انہوں نے بھی اس پر

 

جرح کی ہے ‘ اور کوفہ کے امام سفیان ثوری ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے ‘ اور حجاز کے امام , امام

 

مالک ہیں انہوں بھی اس پر جرح کی ہے ‘ مصر کے امام لیث بن سعد ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے ‘ 

 

اور شام کے امام اوزاعی ہیں انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے اور خراسان کےامام عبد اللہ بن مبارک ہیں

 

انہوں نے بھی اس پر جرح کی ہے تو امر واقعہ یہی ہے کہ روئے ارض کے تمام تر علماء کا ابوحنیفہ کی

 

مذمت کرنے پر اجماع ہے! 

الکامل فی الضعفاء ابن عدی 

امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں:

 

أَن أَئِمَّة الْمُسلمين وَأهل الْوَرع فِي الدَّين فِي جَمِيع الْأَمْصَار وَسَائِر الأقطار جرحوه وأطلقوا عَلَيْهِ الْقدح

امت مسلمہ کی بزرگ شخصیات نے ہر شہر اورہرعلاقہ سے ابوحنیفہ پرجرح کی ہے اورعلی الاطلاق اس کی مذمت کی ہے۔

کتاب المجرحین ابن حبان


 

http://mtabishali.blogspot.com/2013/04/blog-post.html

 

 

2) IMAM SUFYAN SAURI: 


أخبرنا ابن رزق قال أخبرنا عثمان بن أحمد قال حدثنا حنبل بن إسحاق وأخبرنا أبونعيم الحافظ قال حدثنا محمد بن

 

أحمد بن الحسن الصواف قال حدثنا بشر بن موسى قالا حدثنا الحميدي قال سمعت سفيان يقول : ما ولد في

 

الإسلام مولود أضر على الإسلام من أبي حنيفة
 

 

Imam Sufyaan Sauri kehtey hain ke islaam mein Abu hanifa se ziada Nuqsaan deh koi paida nahe hua.


 

Tareekh e Baghdadi V.13 Pg.512.


 

3) اخبرنا ابن رزق قال أخبرنا أحمد بن عبدالله الوراق ، قال حدثنا أبوالحسن علي بن إسحاق بن عيسى بن

 

زاطيا المخرمي ، قال سمعت إبراهيم بن سعيد الجوهري يقول : سمعت معاذ بن معاذ وأخبرنا ابن الفضل قال :

 

أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق ، قال حدثنا سهل بن أبي سهل الواسطي قال حدثنا أبوحفص عمرو بن علي قال

 

سمعت معاذ بن معاذ يقول سمعت سفيان الثوري يقول : استتيب أبوحنيفة من الكفر مرتين


 
Sufyaan sauri Kehtey hain ke Abu hanifa se un ke kufr per 2 Bar tobah kerwai gaye.

Anintiqa fi Fazail ul Aima e Salasa Ibn abdulbar al qurtabi Pg.282

 
Tareekh e baghdadi V.13 Pg512.
 

 

أنبأنا علي بن محمد المعدل أخبرنا أبو علي بن الصواف أخبرنا عبد الله بن احمد بن حنبل حدثنا منصور بن أبي
 
مزاحم قال سمعت مالك بن أنس وذكر أبا حنيفة فقال كاد الدين كاد الدين

 
Imam malik bin ansa kehtey hain ke abu hanifa ne deen ka mazak uraya aur jis ne deen ka mazak
 
uraya Wo bedeen hai

 
Tareekh e baghdadi V14 Pg.610
 

4) وأخبرنا العتيقي حدثنا يوسف حدثنا العقيلي حدثنا سليمان بن داود العقيلي قال سمعت احمد بن الحسن

 

الترمذي يقول وأخبرنا عبيد الله بن عمر الواعظ حدثنا أبي حدثنا عثمان بن جعفر بن محمد السبيعي حدثنا

 

الفريابي جعفر بن محمد حدثني احمد بن الحسن الترمذي قال سمعت احمد بن حنبل يقول كان أبو حنيفة

 

يكذب




Imam Ahmad ibn Hambel Kehtey hain ke Abu hanifa Jhoot bola kertey they.

TAREEKH E BAGHDADI V14 PG416

5) أخبرنا بن رزق أخبرنا بن سلم حدثنا الأبار حدثنا أبو الأزهري النيسابوري حدثنا حبيب كاتب مالك بن أنس عن

 

مالك بن أنس قال كانت فتنة أبي حنيفة أضر على هذه الأمة من فتنة إبليس


 

IMAM MALIK KEHTEY HAIN KE ABU HANIFA KA FITNA FITNA E IBLEES SE ZIADA SHADEED HAI.

Tareekh e baghdadi v13 pg305

Share this post


Link to post
Share on other sites

Janab shoib saab inn sab baaton ki sanad kahan hai?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.