Jump to content
اسلامی محفل
Sign in to follow this  
Mustafvi

کیا مشرکین صرف بتوں کی عبادت کرتے تھے؟

Recommended Posts

مشرک صرف بتوں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ بتوں کے ساتھ ساتھ انبیا، فرشتوں جنات اور مظاہر قدرت کی بھی عبادت کرتے تھے۔

اس کے دلائل ملاحظہ فرمایئں۔

فرشتوں کی عبادت:

 

 

اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے

 

17:56

کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے

57

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بیشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

در منثور میں حضرت ابن عباس نے اور کنز الایمان کے حاشیہ میں نعیم الدین مراد ابادی نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت عیسی،حضرت عزیر اور ملائکہ ہیں۔

 

 

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

علامہ قرطبی نے من دون اللہ سے مراد فرشتے انبیبا، اور بت بیان کئے ہیں۔

انبیا، کی عبادت

اس سے پہلے سورہ 17 ایات 56،57 اور سورہ34 ایت 22 میں بیان ہو چکا ہے کہ مشرکین انبیا، کی بھی عبادت کرتے تھے اب اس حوالے سے کچھ مزید دلائل ملاحظہ کریں۔

 

 

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علاّم الغیوب ہے

 

اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں

 

 

انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے مسلم شریف میں کہ قیامت کے دن یہود کو بلایا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ کس چیز کی عبادت کرتے تھے تو وہ کہیں گے ہم حضرت عزیر کی عبادت کرتے تھے جو اللہ کا بیٹا ہے تو ان سے کہا جائے گا تم جھوٹ کہتے ہو اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نی اولاد اور پھر عیسائیوں سے بھی اسی طرح کا مکالمہ ہو گا۔

بخاری سریف میں حضرت ابن عباس رضی فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کر دیا جب کہ اس میں معبودان باطلہ موبجود ہوں ۔ اپ نے حکم فرمایا تو وہ نکالے گئے۔ پھر انہوں نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کی صورت(مورتی) نکالی کہ مورتیوں کے ہاتھوں میں تیر تھے۔

صالحین کی عبادت

 

53:19[

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا بخاری شریف میں ابن عباس سے مروی ہے کہ لات ایک ادمی تھا جو حاجیوں کے کئےلئے ستو بنایا کرتا تھا۔ اسی طرح ہبل نامی بت بھی حضرت ہابیل کے نام پر بنا رکھا تھا۔

 

 

اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا

بخاری شریف میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک ادمیوں کے نام ہیں۔

کواکب کی عبادت

 

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے

جنات کی عبادت

 

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بیسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے

مشرک صرف بتوں کی عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ بتوں کے ساتھ ساتھ انبیا.doc

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mustafavi sahab. Behtar hota k Ibadat k maani o mafhom bh Quran o Hadees sy bayan kiay jatay. Nez mushrikeen k aqaid kia kia thay?

Share this post


Link to post
Share on other sites

Mustafvi sb ye hadees e Bukhari ap je qabeel kay logoo kay lea hay

ما شا،اللہ کیا زبردست جواب دیا ہے۔

بھائی میرے اس حدیث کا میرے موضوع سے کیا تعلق بنتا ہے؟

میں نے ایات قرانی ، حدیث اور مفسرین سے صرف یہ بتایا ہے کہ

مشرکین کن کن کی عبادت کرتے تھے

میں نے تو مشرکین کی بات کی ہے نہ کہ کسی مسلمان کی اور نہ ہی میں نے ان ایات کو کسی پر چسپاں کیا ہے۔

 

پتہ نہیں اپ کے دل میں کیا چور ہے کہ اپ ان ایات کو اپنے بارے میں سمجھنے لگ کئے؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

ما شا،اللہ کیا زبردست جواب دیا ہے۔

بھائی میرے اس حدیث کا میرے موضوع سے کیا تعلق بنتا ہے؟

میں نے ایات قرانی ، حدیث اور مفسرین سے صرف یہ بتایا ہے کہ

مشرکین کن کن کی عبادت کرتے تھے

میں نے تو مشرکین کی بات کی ہے نہ کہ کسی مسلمان کی اور نہ ہی میں نے ان ایات کو کسی پر چسپاں کیا ہے۔

 

پتہ نہیں اپ کے دل میں کیا چور ہے کہ اپ ان ایات کو اپنے بارے میں سمجھنے لگ کئے؟

 

 

aik to aap keh rahy hn zaberdast jawab ho dosra keh rahy hn aap is ko apny bary mai kio samjh rahy hn

aap khud confuse lag rahy hn is post k bary mai

 

bahar hal ager aap ye kehty hn k aap ny mushrikeen ka muslamano sy comparison nai kia to aap ki post ka maqsad hi fout ho jata hy aap jaisy boaht sy dekhy hn . kabhi kuch kehty hn kabhi kuch . munafiqo ki tarha ge meri post ka to ye matlab tha ab ye hy lolx

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

ما شا،اللہ کیا زبردست جواب دیا ہے۔

بھائی میرے اس حدیث کا میرے موضوع سے کیا تعلق بنتا ہے؟

میں نے ایات قرانی ، حدیث اور مفسرین سے صرف یہ بتایا ہے کہ

مشرکین کن کن کی عبادت کرتے تھے

میں نے تو مشرکین کی بات کی ہے نہ کہ کسی مسلمان کی اور نہ ہی میں نے ان ایات کو کسی پر چسپاں کیا ہے۔

 

پتہ نہیں اپ کے دل میں کیا چور ہے کہ اپ ان ایات کو اپنے بارے میں سمجھنے لگ کئے؟

 

وہابی ہو اور جاہل نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا

مشرکین نے انبیا کے خود ساختہ مجسمے بنا کر ان کی عبادت کی اس کو تو ہم بھی مانتے ہیں. نصاریٰ اور یہودی یہ ہی کام تو خصوصیت کی ساتھ کر رہے ہیں

اہلسنّت انبیا و اولیا کو معبود نہیں سمجھتے یہ وہابیہ کے اپنی شیطانی سوچ ہے

اصل اختلاف نجدی ٹولے سے یہ ہے کی وہ ان آیات و احادیث کو انبیا و اولیا سے مدد کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

mustafvi Sab

جناب اگر تھوڑی زحمت کیجیے اور اس کتاب کامطالعہ کر لیں ،الحمد للہ عزوجل آپ کی بیان کردوہ تمام روایات پر مکمل تحقیقی گفتگو اس کتاب میں موجود ہے۔

کتاب کا نام ۛ پانچ بت

لنک یہ ہے

Edited by Usman Razawi
Wesbsite link removed. ONLY Sunni website link r allowed to share. Jazak Allah Azawajal

Share this post


Link to post
Share on other sites

@ usman.hussani your post # 6

 

مشرکین نے انبیا کے خود ساختہ مجسمے بنا کر ان کی عبادت کی اس کو تو ہم بھی مانتے ہیں.

 

نصاریٰ اور یہودی یہ ہی کام تو خصوصیت کی ساتھ کر رہے ہیں.

اگر تو اپ کا خیال یہ ہے کہ عیسائی عیسی علیہ السلام کی نہیں بلکہ ان کے بت کی پوجا کرتے ہیں تو اپ کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔

قران نے صاف بتایا ہے کہ عیسائی عیسی علیہ اسلام کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ مختلف ایات سے ظاہر ہے مثلا

اللہ عیسی علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مھجے اور میری ماں کو معبود بنا لو

یا یہ ایت کہ انھوں نے علما اور درویشوں کے ساتھ عیسی کو بھی رب بنا لیا

یا یہ ایت کہ انھوں نے کہا کہ عیسی ہی اللہ ہے۔

 

دوسرا یہ کہ اپ اج بھی دیکھ سکتے ہیں کہ عیسائی عیسی علیہ کے بت کی نہیں بلکہ خود عیسی کی عبادت کرتے ہیں۔

صرف کیتھولک چرچ میں عیسی علیہ السلام کی مورتی ہوتی ہے وہ بھی عبادت کے لئے نہیں۔

اور پروٹیسٹنٹ تو اپنے چرچ میں کوئی بت رکھتے ہی نہیں۔

 

اور اسی طرح یہودی تو بت پرستی کرتے ہی نہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

@ usman.hussani your post # 6

 

 

اگر تو اپ کا خیال یہ ہے کہ عیسائی عیسی علیہ السلام کی نہیں بلکہ ان کے بت کی پوجا کرتے ہیں تو اپ کا یہ خیال صحیح نہیں ہے۔

قران نے صاف بتایا ہے کہ عیسائی عیسی علیہ اسلام کی عبادت کرتے ہیں جیسا کہ مختلف ایات سے ظاہر ہے مثلا

اللہ عیسی علیہ السلام سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مھجے اور میری ماں کو معبود بنا لو

یا یہ ایت کہ انھوں نے علما اور درویشوں کے ساتھ عیسی کو بھی رب بنا لیا

یا یہ ایت کہ انھوں نے کہا کہ عیسی ہی اللہ ہے۔

 

دوسرا یہ کہ اپ اج بھی دیکھ سکتے ہیں کہ عیسائی عیسی علیہ کے بت کی نہیں بلکہ خود عیسی کی عبادت کرتے ہیں۔

صرف کیتھولک چرچ میں عیسی علیہ السلام کی مورتی ہوتی ہے وہ بھی عبادت کے لئے نہیں۔

اور پروٹیسٹنٹ تو اپنے چرچ میں کوئی بت رکھتے ہی نہیں۔

 

اور اسی طرح یہودی تو بت پرستی کرتے یہ نہیں۔

 

Mai nay kab likha hay kay Christians Ibadat sirf Buton ke kartay hain?

 

[ اہلسنّت انبیا و اولیا کو معبود نہیں سمجھتے یہ وہابیہ کے اپنی شیطانی سوچ ہے ]

mera pervious msg ka is jumlay say he zahir hay kay Muslaman Ambiya ke tazeem kartay hain jabkay Yahood o Nasara Ibadat.

Ibadat musjasma bana kay ke jai ya os kay baghair ,Allah kay ilawa kisi ke beh Ibadat Shirk hay (Is baat mai kisi muslaman ko shak nai)

 

Asal baat jo najdi o Sunni Ikhtilaf hay wo mai bayan kar chuka

[اصل اختلاف نجدی ٹولے سے یہ ہے کی وہ ان آیات و احادیث کو انبیا و اولیا سے مدد کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں ]

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب توحیدی صاحب ۔۔۔ آپ سے ایک سوال ہے کہ کسی شخص کا اللہ تعالیٰ کے سوا غیر کو الہ یا معبود ماننے کے لئے کیا زبان سے غیر اللہ کو معبود ہونے کا اقرار کرنا یا اعتقاد رکھنا شرط ہے ؟؟؟

یا بنا زبانی اقرارکرنے یا غیر کو معبود یا الہ سمجھنے کا اعتقاد نہ رکھنے کے باوجود بھی کوئی شخص غیر اللہ کو معبود ۔الہ ماننے کے زمرے آسکتا ہے ؟؟؟؟

سوچ کر جواب دیجیے گا

Edited by Nasir Noman

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب توحیدی صاحب ۔۔۔ آپ سے ایک سوال ہے کہ کسی شخص کا اللہ تعالیٰ کے سوا غیر کو الہ یا معبود ماننے کے لئے کیا زبان سے غیر اللہ کو معبود ہونے کا اقرار کرنا یا اعتقاد رکھنا شرط ہے ؟؟؟

یا بنا زبانی اقرارکرنے یا غیر کو معبود یا الہ سمجھنے کا اعتقاد نہ رکھنے کے باوجود بھی کوئی شخص غیر اللہ کو معبود ۔الہ ماننے کے زمرے آسکتا ہے ؟؟؟؟

سوچ کر جواب دیجیے گا

 

۱

ایمان اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کا نام ھے۔

 

۲

غیراللہ کو معبود ماننا دل کا فعل ھے جو زبان سے ظاھر ھوگا یا اعمال سے ظاھر ھوگا

 

۳

غیراللہ کو زبان سے معبود ماننے والا صراحت کرتا ھے

 

۴

افعال سے اندازہ لگانا ظن کے درجہ میں آ سکتا ھے مگر رسول اللہﷺ کا کسی کے افعال

 

سے یہ حکم لگانا الگ ھے۔

 

آپ اپنی بات کھل کر کریں تاکہ ھم اس کے مطابق کلام کریں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

یعنی آپ کی بات کا مطلب ہم یہ سمجھیں کہ کوئی شخص اپنے افعال کی وجہ سے بنا غیر کو معبود سمجھنے کا اقرار کئے اور بنا غیر کو معبود سمجھنے کا اعتقاد رکھے بھی غیر کو معبود یا الہٰ سمجھنے کے زمرے میں آسکتا ہے ؟؟؟

گو ہم اقعال دیکھ کر قطعیت سے حکم کا تعین نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ لیکن بہرحال ایسا امکان موجود ہے ؟؟؟

اگر ہم درست سمجھے ہیں تو تصدیق کی درخواست ہے ۔۔۔

باقی فی الحال تو ہمارے ذہن میں کچھ اشکالات ہیں جو دور کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ البتہ اشکالات دور ہونے کے بعد ہم آپ کو کھل کر اپنا مدعا بیان کریں گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

JANAB NOMAN SAB,AP KA MASLAK ASHKALAT PEDA KARNE KA MAHER HE,KHER AP KI GUFTOGU JANAB SAEEDI SAB SE HEN IS LYE WOHI BEHTAR JAWAB DEN GAE LAKIN HAMARA EK AP SE SEEDHA SA SAWAL HE,

FARZ KAREN EK SHAKHS MASJID ME ATA HE OR WOH TABEER KER KE HAT BAND KER KHARA HO JATA HE PHIR ROKU SAJUD OR TAHYAT ME BETH JATA HE ALGHARD PORI NOMAZ KI BAZAHER ADA KAR TA HE LAKIN AKHR ME YE KAH KER NIKAL JATA HE KE YE MENE SAB KUCH IBADAT KI NIAT SE NAHI KIA ,AB SAWAL YEHE KIA ISKO NOMAZ MAN LI JAE GI JAB KE NIAT SERE SE HI NA HO ?

Share this post


Link to post
Share on other sites

یعنی آپ کی بات کا مطلب ہم یہ سمجھیں کہ کوئی شخص اپنے افعال کی وجہ سے بنا غیر کو معبود سمجھنے کا اقرار کئے اور بنا غیر کو معبود سمجھنے کا اعتقاد رکھے بھی غیر کو معبود یا الہٰ سمجھنے کے زمرے میں آسکتا ہے ؟؟؟

گو ہم اقعال دیکھ کر قطعیت سے حکم کا تعین نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ لیکن بہرحال ایسا امکان موجود ہے ؟؟؟

اگر ہم درست سمجھے ہیں تو تصدیق کی درخواست ہے ۔۔۔

باقی فی الحال تو ہمارے ذہن میں کچھ اشکالات ہیں جو دور کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔ البتہ اشکالات دور ہونے کے بعد ہم آپ کو کھل کر اپنا مدعا بیان کریں گے

جناب والا

شرک خفی اور شرک اخفیٰ ایسے افعال ہی ہوتے ہیں

جن میں بندہ غیراللہ کو نیت سے معبود نہیں مانتا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے اس تھریڈ کا مقصد صرف اس بات کی وضاحت کرنا تھا اور اس غلط فہمی کو دور کرنا تھا کہ مشرکین صرف بتون کی عبادت کرتے تھے

مشرکین بتوں کے علاوہ انبیا، ملائکہ،صالحین اور جنات وغیرہ کی بھی عبادت کرتے تھے۔

یا تو برائے راست ان کی عبادت کرتے تھے جس طرح عیسائی عیسی علیہ السلام کی کرتے ہیں

یا ان کے بت بنا کر بتوں کے ذریعے ان کی عبادت کرتے تھے

یعنی بت بمنزلہ قبلہ توجہ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

 

یاد رہے کہ دنیا میں جتنے بھی بت بنائے گئے ہیں وہ کسی نہ کسی شخصیت کے نام پر بنائے گئے ہیں اور اصل عبادت ان بتوں کی نہیں بلکہ اس کی ہوتی ہے جن کے نام پر بت بنائے گئے ہیں۔

اج بھی بھارت میں جتنے بت پرست ہیں وہ برائے راست بتوں کی نہیں بلکہ ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے نام پر وہ بت بنائے گئے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

۔جناب والا!۔

۔ہم بھی یہ جانتے ہیں کہ بت پرستی کیسے ہوئی اور ہو رہی ہے۔

مرثیہ گنگوہی

۔تمہاری تربت انور کو دے کر طور سے تشبیہ

کہوں ہوں بار بار ارنی میری دیکھی بھی نادانی

قبر کو طور کہہ کر کون کس کو رب ارنی کہہ رہا ہے؟۔

یہی قبر پرستی اور وثن پرستی ہے۔

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
Sign in to follow this  

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...