Sign in to follow this  
Followers 0
خاکسار

حیات انبیاء کرام اور حیات اولیاء عظام - "انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں" اولیاءاللہ

28 posts in this topic

یہ جن صاحب نے پوسٹ لگائی ھے وہ اگر اسے لگانے سے پہلے اگر غور سے خود ہی پڑھ لیتے تو شاید نہ لگاتے، کہ ایک جگہ لکھا ھے قبر میں ذندہ ھیں دوسری جگہ لکھا ھے اللہ کے پاس ذندہ ھیں ۔ باقی رہ گئی بات تو موسیٰ ؑ والی کہ معراج کی رات نماز پڑھ رہے تھے تو معراج کی رات پوری کی پوری ہی ایک معجزہ تھی اور اگر معجزات سے دلیل پکڑنی ھے تو کافی بڑا مسئلہ کھڑا ھو سکتا ھے سیدنا عیسیٰؑ کے پاس ایسے معجزات تھے کہ وہ نبی پاکﷺ کے پاس بھی نہ تھے تو کیا اب معجزات کو بنیاد بنا کر ھم سیدنا عیسیٰ کا درجہ نبی پاکﷺ سے بڑھا دیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 



دوسرا پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ روح مبارک کہاں ھے قبر میں یا اللہ کے پاس یعنی جنت میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ جن صاحب نے پوسٹ لگائی ھے وہ اگر اسے لگانے سے پہلے اگر غور سے خود ہی پڑھ لیتے تو شاید نہ لگاتے، کہ ایک جگہ لکھا ھے قبر میں ذندہ ھیں دوسری جگہ لکھا ھے اللہ کے پاس ذندہ ھیں ۔ باقی رہ گئی بات تو موسیٰ ؑ والی کہ معراج کی رات نماز پڑھ رہے تھے تو معراج کی رات پوری کی پوری ہی ایک معجزہ تھی اور اگر معجزات سے دلیل پکڑنی ھے تو کافی بڑا مسئلہ کھڑا ھو سکتا ھے سیدنا عیسیٰؑ کے پاس ایسے معجزات تھے کہ وہ نبی پاکﷺ کے پاس بھی نہ تھے تو کیا اب معجزات کو بنیاد بنا کر ھم سیدنا عیسیٰ کا درجہ نبی پاکﷺ سے بڑھا دیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 

 

دوسرا پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ روح مبارک کہاں ھے قبر میں یا اللہ کے پاس یعنی جنت میں

 

iski koi daleel???

Share this post


Link to post
Share on other sites

سیدنا عیسیٰ مردوں کو ذندہ کرتے تھے مگر نبی پاکﷺ کے پاس کیا ایسا کوئی معجزہ تھا۔

سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا صرف ماں تھی تو نبی پاکﷺ کے ماں اور باپ دونوں تھے۔

سیدنا عیسیٰ کو اللہ نے ذندہ اٹھا لیا جبکہ چلو تمہاری بات مان ہی لیتے ھیں آن کی آن موت آئی تو کون ھوا بڑا جس کو ذندہ اٹھ الیا یا جس پر آن کی آن موت آئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

yar daleel do ke ye nahi tha wo nahi tha, aese hi faltu baate nahi... unhone to pathro ko kalma parhwa dia jis me zindagi nahi...

 lekin khair koi daleel to apni baat ki, bagair daleel post mat karo....

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ جن صاحب نے پوسٹ لگائی ھے وہ اگر اسے لگانے سے پہلے اگر غور سے خود ہی پڑھ لیتے تو شاید نہ لگاتے، کہ ایک جگہ لکھا ھے قبر میں ذندہ ھیں دوسری جگہ لکھا ھے اللہ کے پاس ذندہ ھیں ۔ باقی رہ گئی بات تو موسیٰ ؑ والی کہ معراج کی رات نماز پڑھ رہے تھے تو معراج کی رات پوری کی پوری ہی ایک معجزہ تھی اور اگر معجزات سے دلیل پکڑنی ھے تو کافی بڑا مسئلہ کھڑا ھو سکتا ھے سیدنا عیسیٰؑ کے پاس ایسے معجزات تھے کہ وہ نبی پاکﷺ کے پاس بھی نہ تھے تو کیا اب معجزات کو بنیاد بنا کر ھم سیدنا عیسیٰ کا درجہ نبی پاکﷺ سے بڑھا دیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ 

دوسرا پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ روح مبارک کہاں ھے قبر میں یا اللہ کے پاس یعنی جنت میں

 

بہار شریعت - حصہ اول - عالم برزخ کا بیان صفہ 101.jpg

 

بہار شریعت - حصہ اول - عالم برزخ کا بیان صفہ 102.jpg

 

بہار شریعت - حصہ اول - عالم برزخ کا بیان صفہ 103.jpg

 

 

سیدنا عیسیٰ مردوں کو ذندہ کرتے تھے مگر نبی پاکﷺ کے پاس کیا ایسا کوئی معجزہ تھا۔

سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا صرف ماں تھی تو نبی پاکﷺ کے ماں اور باپ دونوں تھے۔

سیدنا عیسیٰ کو اللہ نے ذندہ اٹھا لیا جبکہ چلو تمہاری بات مان ہی لیتے ھیں آن کی آن موت آئی تو کون ھوا بڑا جس کو ذندہ اٹھ الیا یا جس پر آن کی آن موت آئی۔

 

"سیدنا عیسیٰ مردوں کو ذندہ کرتے تھے مگر نبی پاکﷺ کے پاس کیا ایسا کوئی معجزہ تھا۔"

 

بلکل تھا اور اللہ عزوجل کی عطا سے تھا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں اور ان کے معجزات تمام انبیاء سے زیادہ اور افضل ہیں، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مردوں کو زندہ کیا ہے۔ 

کوئی کم عقل ہی ہو گا جو یہ کہے کہ امام کے  پاس یہ نہیں ہے اور مقتدی کے پاس ہے۔

 

"سیدنا عیسیٰ کا باپ نہیں تھا صرف ماں تھی تو نبی پاکﷺ کے ماں اور باپ دونوں تھے"

 

تو اس بات سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ اگر یہ کوئی فضیلت کی بات ہے تو دلیل پیش کریں۔

 

 

"سیدنا عیسیٰ کو اللہ نے ذندہ اٹھا لیا جبکہ چلو تمہاری بات مان ہی لیتے ھیں آن کی آن موت آئی تو کون ھوا بڑا جس کو ذندہ اٹھ الیا یا جس پر آن کی آن موت آئی۔"

 

 

اس بات کا جواب آپ کو فتنہ قادیانی سیکشن میں مل جاۓ گا، کیونکہ یہ سوال قادیانیوں کا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

     وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿002:154﴾

اور اللہ تعالٰی کی راہ میں قتل ھونے والوں کو مردہ مت کہو  وہ زندہ ہیں، لیکن تم نہیں رکھتے شعور ۔

 

اس آیت میں کہا گی اشعور نہیں رکھتے مگر آپ لوگ ت وشعور رکھتے ھیں ان کی ذندگیوں کا شاید۔ اور کسی جگہ یہ نہیں لکھا قبر میں ذندہ ھین مگر آپ قبر میں ذندہ کیے بیٹھے ھیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اللہ کہتا ہے کہ تم شعور نہیں رکھتے۔ لیکن یہ لوگ اس پر قیاس کیے بیٹھے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴿003:169﴾

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں۔

اس آیت میں عند ربھم کا لفظ آ رہا ھے یہ میرا سوال ھے ایڈمن سے اللہ کہاں ھے اپنے عرش پر یا قبر میں۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اگر قران سے ہی دیکھیں تو قران واجح طور پر اس بات کو اس طرح بیان کرتا ھے

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
﴿سورة التّحْریم:011
[ اور اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی (١) جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعوں سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جن صاحب نے بھی یہ پوسٹ لگائی ھے کاش کہ خود ہی ایک دفع پڑھ لیا ھوتا ایک پیج پر ایک دعویٰ کرتے ھیں دوسرے پر دوسرا، ایک پر کہتے ھیں قبر میں ذندہ ھیں دوسری جگہ خود ہی رد کے کے جنت میں ذندہ ھونے کی بات کر دیتے ھیں ، پہلے خود تو ایک جگہ رک کر فیصلہ کر لیں جنت کی ذندگی مانتے ھیں یا قبوری

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب ایڈمن سب سے پہلے اس بات پر اپنا موقف واضح کرے کہ اللہ کہاں ھے اپنے عرش پہ مستویٰ ھے جیسی اسکی شان ھے یا ہر جگہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

تو بات آگے بڑھے گی

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

     وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿002:154﴾

اور اللہ تعالٰی کی راہ میں قتل ھونے والوں کو مردہ مت کہو  وہ زندہ ہیں، لیکن تم نہیں رکھتے شعور ۔

 

اس آیت میں کہا گی اشعور نہیں رکھتے مگر آپ لوگ ت وشعور رکھتے ھیں ان کی ذندگیوں کا شاید۔ اور کسی جگہ یہ نہیں لکھا قبر میں ذندہ ھین مگر آپ قبر میں ذندہ کیے بیٹھے ھیں

 

 

 

اللہ کہتا ہے کہ تم شعور نہیں رکھتے۔ لیکن یہ لوگ اس پر قیاس کیے بیٹھے ہیں۔

 

 

 

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴿003:169﴾

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں۔

اس آیت میں عند ربھم کا لفظ آ رہا ھے یہ میرا سوال ھے ایڈمن سے اللہ کہاں ھے اپنے عرش پر یا قبر میں۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

اگر قران سے ہی دیکھیں تو قران واجح طور پر اس بات کو اس طرح بیان کرتا ھے

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
﴿سورة التّحْریم:011
[ اور اللہ تعالٰی نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی (١) جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعوں سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔

 

 

 

جن صاحب نے بھی یہ پوسٹ لگائی ھے کاش کہ خود ہی ایک دفع پڑھ لیا ھوتا ایک پیج پر ایک دعویٰ کرتے ھیں دوسرے پر دوسرا، ایک پر کہتے ھیں قبر میں ذندہ ھیں دوسری جگہ خود ہی رد کے کے جنت میں ذندہ ھونے کی بات کر دیتے ھیں ، پہلے خود تو ایک جگہ رک کر فیصلہ کر لیں جنت کی ذندگی مانتے ھیں یا قبوری

 

 

اب ایڈمن سب سے پہلے اس بات پر اپنا موقف واضح کرے کہ اللہ کہاں ھے اپنے عرش پہ مستویٰ ھے جیسی اسکی شان ھے یا ہر جگہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

تو بات آگے بڑھے گی

 

آپ کے تمام سوالات کا جواب پوسٹ نمبر 6 میں دیا گیا ہے، پڑھنے کی کوشش کریں، بغیر پڑھے سوال پوسٹ کرتے جائيں گے تو آپ کے اضافی سوال ختم کر دیۓ جائيں گے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

پوسٹ نمبر 6 پر بیان کی ھوئی پہلی ہی روایت ابن ابی شیبہ کے حوالے سے جو کسی مولوی صاحب کی کتاب سے جناب نے لگائی ھے۔ اس میں آزادی کی بات ھے نہ کہ مقید کرنے کی جو جناب کا عقیدہ ھے۔ دوسری بات اس روایت کے پہلے الفاظ لگانے سے خوف ذدہ تھے شاید آپ کے وہ مولوی صاحب اس روایت میں واضح طور پر لکھا ھوا ھے الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر۔ اور آپ نبی پاکﷺ کو دوبارہ دنیا میں لا رہے ھیں ۔ یعنی مقید کرنے کی کوشش کر رہے ھیں  

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہاں تو پھر تاویلیں ہی پیش کر سکے جناب ایڈمن مگر میرا سوال ابھی تک وہیں کا وہیں ھے ۔ کہ اللہ کہاں ھے۔ اپنے عرش پہ مستوی ھے  یاشھداء کے ساتھ قبر میں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

پوسٹ نمبر 6 پر بیان کی ھوئی پہلی ہی روایت ابن ابی شیبہ کے حوالے سے جو کسی مولوی صاحب کی کتاب سے جناب نے لگائی ھے۔ اس میں آزادی کی بات ھے نہ کہ مقید کرنے کی جو جناب کا عقیدہ ھے۔ دوسری بات اس روایت کے پہلے الفاظ لگانے سے خوف ذدہ تھے شاید آپ کے وہ مولوی صاحب اس روایت میں واضح طور پر لکھا ھوا ھے الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر۔ اور آپ نبی پاکﷺ کو دوبارہ دنیا میں لا رہے ھیں ۔ یعنی مقید کرنے کی کوشش کر رہے ھیں  

 

واہ واہ واہ، آپ نے تو بہت بات کہ دی ہے۔ آپ کو تو داد دینی چاہیے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہاں تو پھر تاویلیں ہی پیش کر سکے جناب ایڈمن مگر میرا سوال ابھی تک وہیں کا وہیں ھے ۔ کہ اللہ کہاں ھے۔ اپنے عرش پہ مستوی ھے  یاشھداء کے ساتھ قبر میں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

 

آپ کے اس سوال کا جواب درج ذیل لنک پر موجود ہے۔

 

 

اللہ عزوجل کہاں ہے؟ اللہ کس جگہ ہے؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

فتاویٰ قاضی خان اور بہار شرعیت سے حوالے دینا کون سا کام ھے جناب



إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ﴿54﴾

ترجمہ: بے شک تمہارا رب الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھرعرش پہ مستوی ھوا پکڑا رات سے دن کو ڈھانک دیتا ہے وہ اس کے پیچھے دوڑتا ہوا آتا ہے اور سورج اورچاند اور ستارے اپنے حکم کے تابعدار بنا کر پیدا کیے اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا الله بڑی برکت والا ہے جو سارے جہان کا رب ہے (سورۃ الاعراف ،آیت 54)

Share this post


Link to post
Share on other sites

واضح دلیل ھے کہ اللہ اپنے عرش پہ مستوی ھے۔ اور آپ اللہ کو ہر جگہ مان رہے ھیں اپنے دیے ھوۓ لنک کے مطابق تو یہ تو کچھ الگ ہی بات کر رہے ھیں ایڈمن 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اِمام حَمّاد بن زید بن درھم البصری رحمہ اللَّہ (تبع تابعی::: وفات 179 ہجری)

سلیمان بن حرب رحمہُ اللہ (تبع تابعی ::: تاریخ وفات 224 ہجری)کہتے ہیں کہ میں نے حماد بن زید کو یہ کہتے ہوئے سُنا {{{تابعین اور سُنّت کے اِماموں بلکہ صحابہ ، اور اللہ اور اُس کے رسول اور تمام اِیمان والوں کا کہنا یہ ہی ہے کہ ، اللہ عز وجل آسمان پر ہے اور اپنے عرش کے اُوپر ہے ، اور اللہ اپنے تمام آسمانوں سے اُوپر اور بلند ہے ، اور وہ دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتا ہے ، اور اُن کا یہ کہنا قُرآن و حدیث کے دلائل کی بُنیاد پر ہے :::: جبکہ فرقہ جھمیہ والے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے اِس باطل قول سے پاک ہے بلکہ اُس کا عِلم ہر وقت ہمارے ساتھ ہے }}}،العَلو للعلي الغفار، اِمام شمس الدین الذہبی ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

صحیح بخاری کتاب المغازی

حدثنا سليمان بن حرب حدثنا حماد عن ثابت عن أنس قال لما ثقل النبي صلی الله عليه وسلم جعل يتغشاه فقالت فاطمة عليها السلام وا کرب أباه فقال لها ليس علی أبيک کرب بعد اليوم فلما مات قالت يا أبتاه أجاب ربا دعاه يا أبتاه من جنة الفردوس مأواه يا أبتاه إلی جبريل ننعاه فلما دفن قالت فاطمة عليها السلام يا أنس أطابت أنفسکم أن تحثوا علی رسول الله صلی الله عليه وسلم التراب

سلیمان بن حرب، حماد، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض کی زیادتی سے بیہوش ہو گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے روتے ہوئے کہا افسوس میرے والد کو بہت تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: آج کے بعد پھر نہیں ہوگی، پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ کہہ کر روئیں کہ اے میرے والد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اللہ نے قبول کرلیا ہے، اے میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا مقام جنت الفردوس ہے، ہائے میرے ابا جان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کی خبر جبرائیل کو سناتی ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو دفن کیا جا چکا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا تم لوگوں نے کیسے گوارہ کرلیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی میں چھپا دو

Share this post


Link to post
Share on other sites

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا﴿004:069﴾


اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔


 


صحیح بخاری:کتاب المغازی  حدیث نمبر 4437


حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري قال أخبرني عروة بن الزبير إن عائشة قالت کان رسول الله صلی الله عليه وسلم وهو صحيح يقول إنه لم يقبض نبي قط حتی يری مقعده من الجنة ثم يحيا أو يخير فلما اشتکی وحضره القبض ورأسه علی فخذ عائشة غشي عليه فلما أفاق شخص بصره نحو سقف البيت ثم قال اللهم في الرفيق الأعلی فقلت إذا لا يجاورنا فعرفت أنه حديثه الذي کان يحدثنا وهو صحيح


 


ابو الیمان شعیب زہری عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ تندرستی کی حالت میں فرمایا تھا کہ کوئی نبی اس وقت تک انتقال نہیں کرتا جب تک کہ جنت میں اس کی جگہ اسے نہیں دکھائی جاتی پھر اس کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو پسند فرمائے آنحضرت جب بیمار ہوئے اور وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غش آ گیا اور فرمایا اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَی میں کہنے لگی اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہم میں رہنا گوارا نہیں فرما رہے ہیں اور معلوم ہوگیا کہ آپ نے جو بات تندرستی کے زمانہ میں فرمائی تھی وہ پوری ہو رہی ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1138        حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  14   متفق علیہ 9
 حدثنا إسماعيل بن عبد الله قال حدثني مالک عن أبي النضر مولی عمر بن عبيد الله عن عبيد يعني ابن حنين عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم جلس علی المنبر فقال إن عبدا خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا ما شائ وبين ما عنده فاختار ما عنده فبکی أبو بکر وقال فديناک بآبائنا وأمهاتنا فعجبنا له وقال الناس انظروا إلی هذا الشيخ يخبر رسول الله صلی الله عليه وسلم عن عبد خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا وبين ما عنده وهو يقول فديناک بآبائنا وأمهاتنا فکان رسول الله صلی الله عليه وسلم هو المخير وکان أبو بکر هو أعلمنا به وقال رسول الله صلی الله عليه وسلم إن من أمن الناس علي في صحبته وماله أبا بکر ولو کنت متخذا خليلا من أمتي لاتخذت أبا بکر إلا خلة الإسلام لا يبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بکر

 

اسماعیل بن عبداللہ مالک عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابوالنصر عبید بن حنین حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا اور اس کی تروتازگی کو اختیار کر لے یا اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلے تو اس بندہ نے اللہ کے پاس والی نعمتوں کو اختیار کر لیا (یہ سن کر) ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہیں (راوی کہتا ہے) کہ ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تعجب ہوا اور لوگوں نے کہا اس بڈھے کو تو دیکھو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندہ کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ نے اس کو دنیا کی تروتازگی اور اپنے پاس کے انعامات کے درمیان اختیار دیا اور یہ بڈھا کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر فدا کرتے ہیں اور رو رہا ہے لیکن چند روز کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا وصال ہوگیا تو ہم یہ راز سمجھ گئے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں روئے تھے حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اختیار دیا گیا تھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کی طرف اشارہ تھا جسے ابوبکر سمجھ گئے تھے اور حضرت ابوبکر ہم میں سب سے بڑے عالم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ اپنی رفاقت اور مال کے اعتبار سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کا ہے اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل (دوست حقیقی) بناتا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بناتا لیکن اسلامی دوستی (کافی) ہے (دیکھو) مسجد میں سوائے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دریچہ کے اور کوئی دریچہ (کھلا ہوا) باقی نہ رہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 346        حدیث متواتر حدیث مرفوع        مکررات  25   متفق علیہ 15
 حدثنا يحيی بن بکير قال حدثنا الليث عن يونس عن ابن شهاب عن أنس بن مالک قال کان أبو ذر يحدث أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال فرج عن سقف بيتي وأنا بمکة فنزل جبريل صلی الله عليه وسلم ففرج صدري ثم غسله بمائ زمزم ثم جائ بطست من ذهب ممتلئ حکمة وإيمانا فأفرغه في صدري ثم أطبقه ثم أخذ بيدي فعرج بي إلی السمائ الدنيا فلما جئت إلی السمائ الدنيا قال جبريل لخازن السمائ افتح قال من هذا قال هذا جبريل قال هل معک أحد قال نعم معي محمد صلی الله عليه وسلم فقال أرسل إليه قال نعم فلما فتح علونا السمائ الدنيا فإذا رجل قاعد علی يمينه أسودة وعلی يساره أسودة إذا نظر قبل يمينه ضحک وإذا نظر قبل يساره بکی فقال مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت لجبريل من هذا قال هذا آدم وهذه الأسودة عن يمينه وشماله نسم بنيه فأهل اليمين منهم أهل الجنة والأسودة التي عن شماله أهل النار فإذا نظر عن يمينه ضحک وإذا نظر قبل شماله بکی حتی عرج بي إلی السمائ الثانية فقال لخازنها افتح فقال له خازنها مثل ما قال الأول ففتح قال أنس فذکر أنه وجد في السموات آدم وإدريس وموسی وعيسی وإبراهيم صلوات الله عليهم ولم يثبت کيف منازلهم غير أنه ذکر أنه وجد آدم في السمائ الدنيا وإبراهيم في السمائ السادسة قال أنس فلما مر جبريل بالنبي صلی الله عليه وسلم بإدريس قال مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح فقلت من هذا قال هذا إدريس ثم مررت بموسی فقال مرحبا بالنبي الصالح والأخ الصالح قلت من هذا قال هذا موسیٰ ثم مررت بعيسی فقال مرحبا بالأخ الصالح والنبي الصالح قلت من هذا قال هذا عيسی ثم مررت بإبراهيم فقال مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح قلت من هذا قال هذا إبراهيم صلی الله عليه وسلم قال ابن شهاب فأخبرني ابن حزم أن ابن عباس وأبا حبة الأنصاري کانا يقولان قال النبي صلی الله عليه وسلم ثم عرج بي حتی ظهرت لمستوی أسمع فيه صريف الأقلام قال ابن حزم وأنس بن مالک قال النبي صلی الله عليه وسلم ففرض الله عز وجل علی أمتي خمسين صلاة فرجعت بذلک حتی مررت علی موسیٰ فقال ما فرض الله لک علی أمتک قلت فرض خمسين صلاة قال فارجع إلی ربک فإن أمتک لا تطيق ذلک فراجعت فوضع شطرها فرجعت إلی موسیٰ قلت وضع شطرها فقال راجع ربک فإن أمتک لا تطيق فراجعت فوضع شطرها فرجعت إليه فقال ارجع إلی ربک فإن أمتک لا تطيق ذلک فراجعته فقال هي خمس وهي خمسون لا يبدل القول لدي فرجعت إلی موسیٰ فقال راجع ربک فقلت استحييت من ربي ثم انطلق بي حتی انتهی بي إلی سدرة المنتهی وغشيها ألوان لا أدري ما هي ثم أدخلت الجنة فإذا فيها حبايل اللؤلؤ وإذا ترابها المسک

 

یحیی بن بکیر، لیث، یونس، ابن شہاب، انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شب میرے گھر کی چھت پھٹ گئی اور میں مکہ میں تھا، پھر جبرائیل علیہ السلام  اترے اور انہوں نے میرے سینہ کو چاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا، پھر ایک طشت سونے کا حکمت وایمان سے بھرا ہوا لائے اور اسے میرے سینہ میں ڈال دیا، پھر سینہ کو بند کر دیا، اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گئے، جب میں دنیا کے آسمان پر پہنچا، تو جبرائیل علیہ السلام  نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ) کھول دے، اس نے کہا کون ہے؟ وہ بولے جبرائیل علیہ السلام  ہے، پھر اس نے کہا، کیا تمہارے ساتھ کوئی (اور بھی) ہے، جبرائیل علیہ السلام  نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے کہا وہ بلائے گئے تھے؟ جبرائیل علیہ السلام  علیہ السلام نے کہا ہاں! جب دروازہ کھول دیا گیا، تو ہم آسمان دنیا کے اوپر چڑھے، یکایک ایک ایسے شخص پر نظر پڑی، جو بیٹھا ہوا تھا، اس کی داہنی جانب کچھ لوگ تھے، اور اس کی بائیں جانب (بھی) کچھ لوگ تھے، جب وہ اپنے داہنی جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو رو دیتے، انہوں نے (مجھے دیکھ کر) کہا کہ مرحبا بالنبی الصالح والابن الصالح میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے یہ آدم ہیں، اور یہ لوگ ان کے دائیں اور بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں، دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے، اسی لئے جب وہ اپنی داہنی جانب نظر کرتے ہیں، تو ہنس دیتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں، تو رونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ مجھے دوسرے آسمان تک لے گئے، اور اس کے داروغہ سے کہا کہ (دروازے) کھول دے، تو ان سے داروغہ نے اسی قسم کی گفتگو کی، جیسے پہلے نے کی تھی، پھر (دروازہ) کھول دیا گیا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، پھر ابوذر نے ذکر کیا کہ آپ نے آسمانوں میں آدم علیہ السلام، ادریس علیہ السلام، موسی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام اور ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کی، اور یہ نہیں بیان کیا کہ ان کے مدارج کس طرح ہیں، سوا اس کے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ آدم علیہ السلام کو آسمان دنیا میں، اور ابراہیم علیہ السلام  سے چھٹے آسمان میں پایا، انس کہتے ہیں پھر جب جبرائیل علیہ السلام  نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام  کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہامَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ (آپ فرماتے ہیں) میں نے جبرائیل علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ ادریس علیہ السلام  ہیں، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے (جبریل سے) پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں عیسیٰ علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا یہ عیسیٰ علیہ السلام  ہیں، پھر میں ابراہیم علیہ السلام  کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام  نے کہا، یہ ابراہیم علیہ السلام  ہیں، ابن شہاب کہتے ہیں مجھے ابن حزم نے خبر دی کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے چڑھا لے گئے، یہاں تک کہ میں ایک ایسے بلند مقام میں پہنچا، جہاں (فرشتوں کے) قلموں کی کشش کی آواز میں نے سنی، ابن حزم اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، جب میں یہ فریضہ لے کر لوٹا، تو موسیٰ علیہ السلام پر گذرا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نے آپ کے لئے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں، انہوں نے (یہ سن کر) کہا کہ اپنے اللہ کے پاس لوٹ جائیے، اس لئے کہ آپ کی امت (اس قدر عبادت کی) طاقت نہیں رکھتی، تب میں لوٹ گیا، تو اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا، پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا، اور کہا کہ اللہ نے اس کا ایک حصہ معاف کردیا ہے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر وہی کہا کہ اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے، کیونکہ آپ کی امت (اس کی بھی) طاقت نہیں رکھتی، پھر میں نے رجوع کیا تو اللہ نے ایک حصہ اس کا (اور) معاف کر دیا، پھر میں ان کے پاس لوٹ کر آیا اور بیان کیا تو وہ بولے کہ آپ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جائیں، کیونکہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ پھر میں نے اللہ سے رجوع کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اچھا (اب) یہ پانچ (رکھی) جاتی ہیں اور یہ (در حقیقت با اعتبار ثواب کے) پچاس ہیں، میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، پھر میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا، انہوں نے کہا پھر اپنے پرودگار سے رجوع کیجئے، میں نے کہا (اب) مجھے اپنے پروردگار سے باربار کہتے ہوئے شرم آتی ہے، پھر مجھے روانہ کیا گیا، یہاں تک کہ میں سدرۃ المنتہی پہنچایا گیا اور اس پر بہت سے رنگ چھا رہے تھے، میں نہ سمجھا کہ یہ کیا ہیں؟ پھر میں جنت میں داخل کیا گیا (تو کیا دیکھتا ہوں) کہ اس میں موتی کی لڑیاں ہیں اور ان کی مٹی مشک ہے۔



اس حدیث میں تو انبیاء کی ارواح اور باقی اولاد آدم کی ارواح کا آسمان میں ھونے کا معاملہ ھے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.