Sign in to follow this  
Followers 0
navaid_khan

Darhi Wali Dulhan-Sabiqa Deobandi Allama Abdus Sattar Hamdani

7 posts in this topic

کیا آپ نے کبھی داڑھی والی دلہن دیکھی ہے؟ یا کسی سے ایسی دلہن کے بارے میں سنا ہے؟

آئیں ہم آپکو ایک داڑھی والی دلہن کا سچا واقع سناتے ہیں۔ جو کہ اکابرین دیو بند رشید گنگوہی اور قاسم نانوتوی کی بے حیائی پر مشتمل ہے۔

 

 

New-SMS4SEND.gif

 

پڑنے کے لئے یہاں کلک کریں

 

وہابی دیوبندیوں اور وہابی غیرمقلدین کی حقیقت دیکھنے کے لئے عنقریب وزٹ کریں

 

 

New-SMS4SEND.gif

 

Edited by Usman.Hussaini
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام وعلیکم و رحمۃ و برکاۃ

میری اپنے کسی اسلامی بھائی سے گزارش ہے کہ وہ یہ کتاب داڑھی والی دلہن اورپر دئیے گئے لنک سے ڈائون لوڈ کر کے اسلامی محفل پر اب لوڈ کرادیں میرے پاس شاید کوئی پرابلم ہے اس وجہ سے میں اس کو ادھر اب لوڈ نہیں کر پارہا ہوں۔

جزاک اللہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

yeh kitab in sha ALLAH chand dino tak may upload kar donga,

 

mery khiyal mey yeh woh nahi hai jo chapi hai matlab k kisi ney inpage file ley kar khud upload ki hai baqi pasban e ahle sunnat k zeyr e ehtimam chapny wali kitab dhari wali dulhan in sha ALLAH jald upload kar di jaye gi

Share this post


Link to post
Share on other sites

bhai Shan E Raza ya wo he book hai jo kay Pasban-e-Ahlesunnat kay zir ahtemam chapi hai, magar iss ke composing hamaray research centre mai hoie hai, Pasban-e-Ahlesunnat walay bhai hamaray dost hain, Kalma-e-haq, aur Dawat-e-Ahlesunnat mai chapnay walay kuch articals jama karnay ke zimedari hamaray centre kay zimay hai, beharhal agar app iss book ka scance upload kar dain tu N nawazish hoge meray bhai.

 

Jazak ALLAH.

Share this post


Link to post
Share on other sites

nahi may b to composing ki hoi he karo ga lekin kitabi soorat mey in sha ALLAH,or may ney corel draw par b kam karna hota hai.is liye design kar k upload karon ga

Share this post


Link to post
Share on other sites

#نانوتوی_و_گنگوہی_کی_عاشقانہ_کہانی_پر_ساجدخان_کی_تاویلات_کا_جواب

افاضاتِ استاد علی معاویہ رضوی
مرتب: سیفِ رضا

قارئینِ کرام!
جھوٹ بولنے اور بھگوڑا نمبر ون ہونے میں دیابنہ کا کوئی ثانی نہیں ہے اور یہی کام آج کل اعظم بستی کا ساجد کاذب خائن کررہا ہے
اپنے اکابرین کی فحش گوئی کا دفاع کرنے کا شوق لئے موصوف نے اپنے زعم میں کتاب لاجواب داڑھی والی دلہن کا سوشل میڈیا پر جواب لکھا مگر یہ بھول گئے کہ دائی سے پیٹ چھپتا نہیں
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ داڑھی والی دلہن کے پاکستانی ایڈیشن میں موجود لاجواب حاشیہ کا جواب لکھتے مگر دیوبندیوں نے وہی سالوں پُرانا مضمون جسکا جواب استاد علی معاویہ رضوی حفظہ اللّٰہ لکھ چکے اس ہی کو کچھ اضافوں کے ساتھ دہرا دیا
ساجد خان نے اپنے اس مضمون میں کچھ اضافے کئے ہیں ہم ان اضافوں کے جواب ساتھ استاد جی کے جوابات بھی دیتے ہیں اور یہ مکمل جواب استاد جی کے افاضات ہیں

دیوبندی اکابرین کے آپ حضرات نےدیوبندیوں سے ہی بہت قصے کہانیاں سنے ہونگے۔
لیکن ذیل میں لکھی کہانی پڑھ کرآپ سوچنے پہ مجبور ہوجاؤ گے کہ
”محبت بھی عجب شئ ہے جو کیا کیا کروا دیتی ہے“
دیوبند کے قاسمِ علومِ شیطانیت اور امامِ کوا کھانی کا ایک خواب جس میں قاسمِ علومِ شیطانیت دلہن اور امامِ کوا کھانی خوابوں کی بارات کے ساتھ دولہا تھے
دیو کے بندوں نے اپنی بھڑاس مٹانے کے لئے بے ربط و بے محل باتوں کا اندراج کر کے عوام کو بھی دھوکا دینے کی کوشش کی ہے
ہم اپنے قارئین کو ان حوالوں کی حیثیت اور دیو کے بندوں کے استدلال کا ابطال بتانا چاہتے ہیں
دیو کے بندوں نے اپنے اکابرین کی صفائی میں علمائے اسلام کی کتب میں سے دو کتب تعطیر الانام اور تعبیر الرؤیا کو پیش کیا اور کہا کہ،

اعتراض:
اولا گذارش ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے خواب ایک حقیقت طلب چیز ہے اس کی ظاہری کیفیت کچھ اور ہوتی اور باطنی کیفیت کچھ اور, جسے تعبیر کہتے ہیں

جواب:

قارئین کرام دیاںنہ کے پیش کردہ حوالہ جات پر غور کیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔ وجوہات پیش خدمت ہیں
اولا:ً امامین نے جو تحریر فرمایا اس میں ”انه ينكح“ کے الفاظ موجود ہیں اور نکاح بمعنی وطی ہوتا ہے۔ فریق مخالف سے اس پہ حوالہ ملاحظہ ہو
فقہ حنفی کی مشہور کتاب "مختصر القدوری" کا محشی غلام مصطفی قاسمی سندھی دیوبندی لکھتا ہے
”النکاح بالکسر لغۃ الضم والجمع ومن افرادہ وطی الزوجۃ ولذا قیل انہ حقیقۃ فی الوطی لغتہ واختلفوا فی معناء الحقیقی شرعاً فنسب الی الشافعی انہ شرعاً حقیقتہ فی العقد مجاز فی الوطی والصحیح عند اصحابنا انہ حقیقتا شرعاً ایضاً فی الوطی مجاز فی النکاح“
[مختصر القدوری مع الحواشی النافعة القیمة، ص: ١٦٠]
اس عبارت میں ”والصحیح عند اصحابنا انہ حقیقتا شرعاً ایضا فی الوطی مجاز فی النکاح“ وطی کے معنی ہونے میں صریح ہے اور اسی پر احناف کا اتفاق ہے
ثانیاً: تعطیر الانام میں ”فان الفاعل یفعل بالمفعول“ کے الفاظ اور تعبیرالرؤیا میں ”فان الفاعل یصیب من الفاعل“ کے الفاظ نکاح کو وطی کے معنوں میں متعین بھی کررہے ہیں.
اب ان دونوں حوالوں کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی معروف نوجوان کو خواب میں دیکھنے والا ...... کررہا ہو تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ فاعل (کرنے والا) مفعول (کروانے والے) سے خیر کریگا
اب آیئے یہ دیکھئے کہ دیابنہ کے امامِ کوا کھانی آنجہانی کے خواب میں فاعل و مفعول والی بات ہے یا نہیں؟؟
ملاحظہ ہو
"ایک بار ارشاد فرمایا میں نے ایک بار خواب میں دیکھا تھا کہ مولوی محمد قاسم صاحب عروس کی صورت میں ہیں اور میرا ان سے نکاح ہوا ہے سو جس طرح زن و شوہر کو ایک کو دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے فائدہ پہنچا ہے"
[تذکرۃالرشید، جلد:٢، ص: ٢٨٩]
اس خواب میں کہیں بھی لواطت کا ذکر نہیں اور یہاں لواطت کا نہ ہونا اور قاسم نانوتوی کو دلہن کے روپ میں دیکھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معبرین کی جو بیان کردہ تعبیریں پیش کی گئی ہیں وہ اس پر صادق نہیں آتیں_
غیر مہتدی و رشید گنگوہی کا یہ کہنا ”سو جس طرح زن و شوہر کو“ الخ میں فاعل و مفعول دونوں کا ایک دوسرے کو نفع پہنچانا کہا ہے جبکہ امامین (علامہ نابلسی و ابن سیرین رحمھما اللہ تعالی ) کی بیان کردہ تعبیروں میں فاعل کا مفعول کے ساتھ بھلائی کرنا ہے, اس سے بھی فرق واضح ہے اب آئیے دیکھتے ہیں کہ گنگوہی صاحب نے نانوتوی صاحب کو عالم رؤیا میں نانوتویہ دیکھ کر عالم دنیا میں کیا کیا_
حکیمِ اَمت تھانویہ لکھتے ہیں کہ:
"حضرت گنگوہی اور حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرماتے تھے کہ حضرت گنگوہی نے حضرت نانوتوی سے محبت آمیز لہجہ میں فرمایا کہ یہاں لیٹ جاؤں حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا کی طرف کو کروٹ لے کر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے مولانا ہر چند فرماتے ہیں کہ میاں کیا کر رہے ہو یہ لوگ کیا کہیں گے حضرت نے فرمایا کہ لوگ کہیں گے کہنے دو "
[حکایات اولیاء, ص :٢٢٨]
یہ ہے گنگوہی صاحب کی جو مجمع میں بھی قابو نہ کرسکے۔ یہ تو جلوت کا ایک قصہ ہے جو تھانوی صاحب نے بیان کرکے اپنے آقاؤں کی کردارکشی کردی ورنہ خلوت کے معاملات کا کسی کو کیا پتہ؟ قاسم صاحب اگرچہ شرماتے ہیں لیکن یہاں یہ بات تو مترشح ہوتی ہے کہ وہ گنگوہی صاحب کے عادی تھے ورنہ کیا وجہ ہے کہ شرماتے ہوئے لوگوں کا خیال آیا؟ ظاہر ہے لوگ نہ ہوتے تو نانوتوی صاحب معمول کے مطابق لیٹ جاتے۔
تمام غرابیہ گلابیہ وہابیہ کو غور کرنا چاہیئے کہ انکے گنگوہی کا فرمان ”لوگ کہتے ہیں کہنے دو“ حکمت سے خالی نہیں اور دیوبندیوں کو اس ہی پر عمل کرنا چاہیئے اور آج لوگ (سنی) کہتے ہیں (گنگوہی, نانوتوی باز اور نانوتوی........تھا) کہنے دیا جائے......
قاسم و رشید کی اس جسمانی تقرب و تعلق کا اظہار, دیابنہ کی مالٹے والی سرکار یعنی محمودالحسن گاندھوی صاحب اپنے اشعار میں کچھ یوں کرتے ہیں کہ
قربِ جسمانی پہ ہے انکے تعلق کا مدار
قربِ روحانی سے یہ یک دل یک جان دونوں
[کلیاتِ شیخ الہند, ص: ٥٩]
اس شعر سے ہمارے دعوے تائید آپ حضرات پر ظاہر ہے اور مزید تشریح کی حاجت نہیں
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ کےلئے
قارئین کرام!
اسی واقعے کو دیوبندی تبلیغی جماعت کے مولوی زکریا کاندھلوی صاحب نے اپنی کتاب "اکابر کا تقویٰ، ص: ١٤" پر بھی اپنے اکابرین کے تقوے کی امثال کے ضمن میں نقل کیا ہے
مولوی کاذب خائن نے محض خواب کے واقعے کو لیکر تو لفاظی کردی مگر یہ حقیقت جو تھانوی صاحب نے بیان کی اسے کوا بریانی سمجھ کر ہڑپ کر گئے
صرف یہی نہیں بلکہ اس واقعے کا ذکر نہ کر کے کاذب خائن نے ثابت کردیا کہ اس کے اکابرین ہرگز متقی نہ تھے ورنہ کاذب خائن کا اس واقعے کو نقل نہ کرنا چہ معنی؟
آپ احباب یقینا دیابنہ کے ایسے تقوی پر لعنت بھیج رہے ہونگے تو ضرور بھیجیں کیونکہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم ہے کہ جب تو "بے حیاء ہو جائے تو جو چاہے وہ کر"
اور یہ تمام ہی اکابرین و اصاغرین بے حیاء و بے غیرتوں کا ٹولہ ہی تو ہیں
نیز کاذب خائن کا مولانا ظفر رضوی صاحب حفظہ اللّٰہ اور مولانا محمد علی حنفی صاحب حفظہ اللّٰہ کا ذکر کرنا محض اپنے دل کو بہلانے کے مترادف ہے کیونکہ ہم پہلے ہی ان حوالوں کی حقیقت واضح کرچکے
اب کاذب خائن کو چاہیئے کہ وہ مفتری نجیب کیساتھ دارالعلوم کراچی کے میدان میں اپنے اساتذہ اور وہاں کے طلباء کے درمیان ایک چارپائی پر لیٹ جائے
اور خود مثل نانوتوی اور نجیب کو مثل گنگوہی بننے کا موقع دے (ویسے نجیب گنگوہی ہی بن سکتا ہے کیونکہ وہ اندھا تھا اور یہ کانا ہے)
اور اپنے اکابرین کے تقوے پر عامل ہو کر متقی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے جہلاء سے داد اور ہم سے چار حرف حاصل کرے
ہے یہ گنبد کی صداء
جیسی کہے ویسی سنے
آخر میں اس جاہل مطلق نے ایک حدیث رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نقل کی اور کہا کہ بریلوی اس عبارت پر بھی کوئی عنوان قائم کریں جس میں نبی علیہ السلام کی جانب دلہن کی نسبت کی گئی ہے
جوابا عرض ہے کہ
قاسم نانوتوی کا دلہن بن کر گنگوہی کو اور گنگوہی کا دولہا بن کر نانوتوی کو مرد و زن کیطرح فائدہ دینا اس میں اور حدیث رسول میں واضح بلکہ بہت واضح فرق ہے
اشرف علی تھانوی نے لکھا کہ "عرس" نم کنومۃ العروس سے ماخوذ ہے
جاہل انسان یہ بتاؤ کہ یہاں تھانوی نے عروس سے دلہن مراد کیوں نہ لی؟
حدیث رسول ہے کہ سورہ الرحمن عروس القرآن ہے یہاں کیا مراد لو گے؟
بات صرف یہ ہے کہ دیوبند ایک گندہ پلید اور بدبودار مذہب ہے اسی لئے انکا ذہن ہر وقت انہی برائیوں کی جانب ہی مائل رہتا ہے
اللّٰہ کریم دیوبندی شریروں کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ فرمائے
مجھی سے سب یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نگاہ اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا, نہ نکلو یوں عیاں ہوکر

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.