Jump to content

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کی تعداد کتنی تھی اور ان کے اسم گرامی کیا ہیں؟


خاکسار

Recommended Posts

(salam)

 

جزاک اللہ۔

 

بھائی اس صفہ میں جو سیاسی، دینی و اجتماعی لکھا ہے، اس میں سیاسی کا لفظ سہی ہے؟

 

جزاک اللہ

خاکسار بھائی میں اپنی کم علمی کے باعث اس کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ آپ خود ہی اس سلسلے میں رھنمائی فرما دیں تو مشکور ہوں گا۔

(ja)

Edited by Syed_Muhammad_Ali
Link to comment
Share on other sites

[/center]

خاکسار بھائی میں اپنی کم علمی کے باعث اس کے بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔ آپ خود ہی اس سلسلے میں رھنمائی فرما دیں تو مشکور ہوں گا۔

(ja)

 

بھائی مجھے کحپھ احپھے نہیں لگ رہے یہ الفاظ۔

 

ان کی جگہ اگر کحپھ اور الفاظ جن میں آدب ہوتا تو بہتر تھا۔

جیسا کہ اسوہ حسنہ، حلم، حسن اخلاق، ۔۔۔۔۔۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے کسی فعل کو سیاسی کہنا، مجھے تو بہتر نہیں لگ رہا، مزید میں اس پر پوحپھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔

 

آپ کو کحپھ ملے تو ضرور بتائیے گا۔

Link to comment
Share on other sites

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اردو لغت میں لفظ سیاست کا ایک مطلب یہ ہے۔

 

کسی ملک کا نظام حکومت، ملکی تدبیر و انتظام، طریقۂ حکمرانی، احتسابِ حکومت کا قیام، حکومت کرنے کی حکمت عملی۔

 

بعض علمائے کرام سے خلافت راشدہ کو اسلامی سیاست کہنا مجھے یاد پڑتا ہے۔ یقیناً اس سے مراد حکومتی نظام چلانا، عدل و انصاف قائم کرنا وغیرہ ہیں۔ جن کے بارے میں ہمیں قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے۔ اس کو موجودہ سیاست، ظلم و زیادتی سے ہرگز مشابہ نہ کیا جائے۔

 

اردو وکی پیڈیا پر بھی

اسلام اور سیاست بارے کچھ معلومات ہیں۔ البتہ لغت میں ظلم و زیادتی اور دیگر ایسے معنی جو صحیح نہیں ہیں۔ اُن کی پیش نظر اگر کسی کے پاس صحیح حکم شرع موجود ہو تو ضرور پوسٹ کریں۔

  • Like 2
Link to comment
Share on other sites

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

اردو لغت میں لفظ سیاست کا ایک مطلب یہ ہے۔

 

کسی ملک کا نظام حکومت، ملکی تدبیر و انتظام، طریقۂ حکمرانی، احتسابِ حکومت کا قیام، حکومت کرنے کی حکمت عملی۔

 

بعض علمائے کرام سے خلافت راشدہ کو اسلامی سیاست کہنا مجھے یاد پڑتا ہے۔ یقیناً اس سے مراد حکومتی نظام چلانا، عدل و انصاف قائم کرنا وغیرہ ہیں۔ جن کے بارے میں ہمیں قرآن و حدیث سے پتہ چلتا ہے۔ اس کو موجودہ سیاست، ظلم و زیادتی سے ہرگز مشابہ نہ کیا جائے۔

 

اردو وکی پیڈیا پر بھی

اسلام اور سیاست بارے کچھ معلومات ہیں۔ البتہ لغت میں ظلم و زیادتی اور دیگر ایسے معنی جو صحیح نہیں ہیں۔ اُن کی پیش نظر اگر کسی کے پاس صحیح حکم شرع موجود ہو تو ضرور پوسٹ کریں۔

 

بھائی یہ جو کحپھ آپ نے بہ مطابق لغت بتایا ہے وہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔ تو میری ذاتی راۓ یہ ہے کہ ہمیں ایسے الفاظ سے بچنا چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگ کحپھ غلط معنی اخذ کر سکیں۔

 

جیسا کہ راعنا کے معاملے میں اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد

 

اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (104)

Link to comment
Share on other sites

بھائی یہ جو کحپھ آپ نے بہ مطابق لغت بتایا ہے وہ تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔ تو میری ذاتی راۓ یہ ہے کہ ہمیں ایسے الفاظ سے بچنا چاہیے کہ جس سے دوسرے لوگ کحپھ غلط معنی اخذ کر سکیں۔

 

جیسا کہ راعنا کے معاملے میں اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد

 

اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے- (104)

 

السلام علیکم

 

بالکل آپ کی ذاتی رائے ہے اور سید محمد علی بھائی نے جو مضمون پیش کیا۔ میرا غالب گمان ہے کہ وہ کسی سنی عالم دین کی کتاب سے لیا گیا ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ کا سوال اُن عالم دین پر بنتا ہے۔

 

شریعت مطہرہ ہمارے لئے آسان ہے۔ جب تک کسی چیز کے خلاف حکم نہ ہو وہ مباح ہے اور اسطرح مختلف درجے۔ حکم شرع بیان کرنے والے حضرات علمائے اہلسنت ہیں تو سب سے بہتر طریقہ ہے کہ رابطہ کرکے مسئلہ معلوم کر لیا جائے۔ تاکہ وسوسوں اور اعتراضات کا دروازہ نہ کھلے۔

 

جائز لفظ راعنا کو مومنین کے لئے منع کر دیا گیا تو بات ختم۔ اس سے آگے کوئی بات کرے تو اُس کے لئے واقعی دردناک عذاب ہے۔ مگر لفظ سیاست یونانی زبان کا لفظ ہے اور تب تک نہ جائز نہ ہوگا جب تک حکم شرع نہ ہو۔ وہابی اعلیِ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمہ کے اشعار پر اعتراض کرتے ہیں۔ جیسے لفظ مجرہ استعمال ہوا۔ تو معاذ اللہ کیا یہ بے ادبی ہے؟ ہرگز نہیں۔ لفظ مجرہ کے معنی دیکھیں اور وہابی آئیں میدان میں اور ثابت کرکے دکھائیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی لفظ کے دوسرے معنی ہو تو ضروری نہیں کہ وہ ناجائز ہو گیا۔ ہاں ہمارے علماء فرما دیں کہ ناجائز ہے۔ پھر ناجائز ہے۔ کیونکہ ہم تو الحمدللہ اپنے علماء کے پیچھے ہیں۔ عقل کے گھوڑے تو وہابی دوڑاتے ہیں۔ اسلئے بہتر ہے کہ معلوم کر لیجئے پھر جواب آجائے تو اسی ٹاپک میں شیئر کر دیں۔ اگر واقعی جائز نہیں تو مضمون کو بھی ایڈیٹ کر دیا جائے۔ تاکہ فورم پر جو کوئی ٹاپک دیکھے تو وہی صحیح معلومات لے کر جائے۔ دینی مسائل میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہ بعض اوقات ثواب جاریہ کی طرح یہ گناہ جاریہ بھی بن سکتے ہیں اگر غلط بیان کئے جائیں۔

Link to comment
Share on other sites

  • 1 month later...

سید محمد علی بھائی نے ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب احادیث ختم نبوت سے سیاست کے بارے میں واضح دلیل دے دی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ لفظ سیاست برا لفظ نہیں ہے ، بلکہ ایک مقدس لفظ ہے۔ جزاک اللہ خیرا سید محمد علی بھائی


Edited by Najam Mirani
  • Like 1
Link to comment
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
×
×
  • Create New...