Sign in to follow this  
Followers 0
Qadri student

Namaz Ki Niyat K Masayail !

3 posts in this topic

 

بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمَنِ الْرَّحِيمِ

 

(((نماز کی نیت کے مسائل)))

 

نیت کا مطلب ہے "کسی کام کا دلی عزم اور ارادہ کرنا"۔ نیت کی موجودگی) اور درست طور پر موجودگی( کوتمام عبادات میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے:

إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى[1]

"بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"

صحیح البخاری کتاب البدء الوحی، حدیث نمبر1

 

اعمال کی قبولیت کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں۔

پہلی یہ کہ وہ عمل خالص اللہ سبحانہ و تعالیٰ کےلیے کیا جائے،

اور دوسری یہ کہ وہ عمل صحیح ثابت شدہ سُنت مُبارکہ کے مطابق ہو۔

ان میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو وہ عمل قبولیت کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔۔

کسی بھی نیک عمل یا کسی بھی عبادت کا مقصد اگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کی بجائے دکھاوا ہو ، یا کوئی بھی اور مقصد ہو تو ایسا نیک کام ، یا عبادت اللہ کے ہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتا ، اور آخرت میں کسی فائدے کے بجائے نقصان کے اسباب میں سے بن جاتا ہے ،پس کوئی بھی نیک عمل کرنے سے پہلے ، کوئی بھی عبادت کرنے سے پہلے ہمیں اپنے دِلوں میں اپنی نیت اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے لیے خالص کر لینا چاہیے ، تا کہ وہ عمل ثواب کی بجائے عذاب کا سبب ہی نہ بن جائے۔

نیت کے بغیر نماز نہیں ہوتی:

نیت نماز کے ارکان (اور بعض علماء کے نزدیک شروط) میں سے ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

نیت میں کن چیزوں کا تعین ضروری ہے:

نیت تکبیر تحریمہ کہتے وقت کی جانی چاہیے اور اس میں ذیل امور کا تعین ہونا چاہیے:

نماز کا وقت (ظہر، عصر وغیرہ)

فرض، سنت (وتر) یا نفل میں سے کون سی نماز ہے

اس کی رکعات کتنی ہیں

نیت کی روح:

نیت کا مقصد یہ ہے کہ نمازی اللہ رب العالمین کے دربار میں پیش ہونے سے پہلےپوری طرح متوجہ ہو اور اس بات کو اپنے ذہن میں اچھی طرح تازہ کر لے کہ "اے اللہ، میں صرف تجھے خوش کرنے کے لیے، تیری رضا کی طلب میں، تیرے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق یہ فلاں فلاں وقت کی نماز (فرض یا نفل)، اتنی اور اتنی رکعات ادا کرنے لگا ہوں، تو اپنی رحمت سے اسے قبول فرما لے"۔

زبان سے نیت کے کلمات کہنا درست نہیں:

نیت دِل میں کیے گئے عزم و ارادے کا نام ہے ، لہٰذازبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زبانی نیت کے جو کلمات مشہور ہیں کہ "نیت کی میں نے اس نماز کی، خاص واسطے اللہ تعالیٰ کے، منہ طرف کعبہ شریف ۔ ۔ ۔ "یہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سکھائے ہیں، نہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین رحمہم اللہ نے اس کی کوئی تعلیم دی ہے اور نہ ہی اس پر عمل کیا ہے ،اور نہ ہی ائمہ امت میں سے کسی نے انہیں کہنے کی ترغیب دی ہے۔

اسےبعد کے زمانوں میں کچھ علماء نے یہ کہتے ہوئے رواج دیا ہے کہ اس سے نیت کی پختگی اور توجہ حاصل ہوتی ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت کی کسی کیفیت اور طریقے کواپنی مرضی سے بدل دیناجائز نہیں ہے۔ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت پر اکتفاء کرنا چاہیے کیونکہ سب سے اچھی بات اللہ تعالیٰ کی بات ہے اور سب سے بہترین طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا سکھایا ہوا طریقہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے دین میں نئی نئی چیزیں نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے:

كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ

"ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ (جہنم) میں ہے"

 

سنن النسائی الصغریٰ کتاب صلاۃ العیدین باب کیف الخطبہ، صحیح سنن نسائی حدیث نمبر 157

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Namaz ki neeyat bohut ehum cheez hai jab tak apki neeyat sahi nahi hogi jab thak apki namaz qabool nahi hogi lehaza hum sub ko apni neeyat achi rakhni chahiye.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.