Sign in to follow this  
Followers 0
Najam Mirani

اصطلاحات قرآنیہ

13 posts in this topic

Posted (edited) · Report post


    قرآن شریف میں بعض الفاظ کسی خاص معنی میں استعمال فرمائے گئے ہیں کہ اگر اس کے علاوہ ان کے دوسرے معنی کیے جائیں تو قرآن کا مقصد بدل جاتا ہے یا فوت ہوجا تا ہے ان اصطلاحوں کو بہت یاد رکھنا چاہئے تا کہ ترجمہ میں دھوکا نہ ہو ۔

ایمان

    ایمان امن سے بنا ہے جس کے لغوی معنی امن دینا ہے اصطلاح شریعت میں ایمان عقائد کا نام ہے جن کے اختیار کرنے سے انسان دائمی عذاب سے بچ جاوے جیسے تو حید، رسالت ، حشر و نشر ، فرشتے ، جنت ، دو زخ اور تقدیر کو ماننا وغیرہ وغیرہ جس کا کچھ ذکر اس آیت میں ہے ۔

کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟

سب مومن اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے(پ3،البقرۃ:285)

 

    لیکن اصطلاح قرآن میں ایمان کی اصل جس پر تمام عقیدوں کا دار ومدار ہے یہ ہے کہ بندہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دل سے اپنا حاکم مطلق مانے ۔ اپنے کو ان کا غلام تسلیم کرے کہ مومن کے جان ، مال ، اولاد سب حضور کی ملک ہیں او رنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سب مخلوق سے زیادہ ادب واحترام کرے ۔ اگر اس کو ما ن لیاتو توحید اورکتب، فرشتے وغیرہ تمام ایمانیات کو مان لیا اور اگر اس کو نہ مانا تو اگرچہ توحید ، فرشتے، حشر نشر ، جنت ودوزخ سب کو مانے مگر قرآن کے فتوے سے وہ مومن نہیں بلکہ کافرومشرک ہے ۔ ابلیس پکا موحد ، نمازی ، ساجد تھا ۔ فرشتے ، قیامت ، جنت ودوزخ سب کو مانتا تھا مگر رب تعالیٰ نے فرمایا :  وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ شیطان کا فر وں میں سے ہے ۔ (البقرۃ:۳۴)                                                     کیوں؟ صرف اس لئے کہ نبی کی عظمت کا قائل نہ تھا۔ غرض ایمان کا مدار قرآن کے نزدیک عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ہے ۔ ان آیات میں یہی اصطلاح استعمال ہوئی۔

(۱) فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾

اے محبوب ! تمہارے رب کی قسم !یہ سارے توحید والے اور دیگر لوگ اس وقت تک مومن نہ ہونگے جب تک کہ تم کو اپنا حاکم نہ مانیں اپنے سارے اختلاف و جھگڑوں میں پھر تمہارے فیصلے سے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں او ررضا وتسلیم اختیار کریں ۔(پ5،النساء:65)
    پتاچلا کہ صرف تو حید کا ماننا ایمان نہیں اور تمام چیز وں کا ماننا ایمان نہیں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حاکم ماننا ایمان ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

 

(2)وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَمَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ۘ﴿۸﴾

لوگوں میں بعض وہ(منافق )بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان لائے مگر وہ مومن نہیں ۔(پ1،البقرۃ:8)
    دیکھو اکثر منافق یہودی تھے جو خدا کی ذات وصفات اور قیامت وغیرہ کو مانتے تھے مگر انہیں رب نے کافر فرمایا کیونکہ وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کونہیں مانتے تھے اس لیے انہوں نے اللہ کا اور قیامت کانام تو لیا مگر حضور مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نام نہ لیا رب نے انہیں مومن نہیں مانا۔ فرماتا ہے :

(3)یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾

جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں او راللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ۔ (پ28،المنٰفقون:1)
    پتا چلا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فقط زبانی طور پر معمولی طریقہ سے مان لینے کا دعویٰ کردینا مومن ہونے کیلئے کافی نہیں،انہیں دل سے ماننے کا نام ایمان ہے۔ سبحان اللہ ! قول سچا مگر قائل جھوٹا کیونکہ یہاں دل کی گہرائیوں سے دیکھا جاتا ہے۔

ما دروں را بنگریم و حال را        ما بروں را ننگریم و قال را

(4) وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ ؕ

اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو حق ہے کہ جب اللہ اور رسول کچھ حکم فرمادیں تو انہیں اپنے معاملہ کا کچھ اختیار رہے ۔(پ22،الاحزاب:36)

 

    اس آیت نے بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے سامنے مومن کو اپنی جان کے معاملات کا بھی اختیار نہیں ، یہ آیت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نکاح کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نکاح کرنے کو تیار نہ تھیں۔ (التفسیر الکبیر،الجزء الخامس والعشرون،سورۃالاحزاب،تحت الآیۃ۳۶، ج۹،ص۱۶۹،دار احیاء التراث العربی بیروت)  مگر حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے نکاح ہوگیا۔ہر مومن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا غلام اور ہر مومنہ ان سرکار کی لونڈی ہے ۔ یہ ہے حقیقت ایمان۔

(5) اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ ؕ

نبی مومنوں کے ان کی جان سے بھی زیادہ مالک ہیں او رنبی کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔(پ21،الاحزاب:6)
    جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہماری جان سے بھی زیادہ ہمارے مالک ہوئے تو ہماری اولاد مال کے بدرجہ اولی مالک ہیں۔

(۶) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوۡا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہۡرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنۡ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنۡتُمْ لَا تَشْعُرُوۡنَ ﴿۲﴾

اے ایمان والو! اپنی آوازیں ان نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو نہ ان کی بارگاہ میں ایسے چیخ کر بو لو جیسے بعض بعض کیلئے خطرہ ہے کہ تمہارے اعمال بر باد ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔(پ۲۶،الحجرات:۲)
    پتا چلا کہ ان کی تھوڑی سی بے ادبی کرنے سے نیکیاں بر باد ہوجاتی ہیں اور اعمال کی بر بادی کفر وار تداد سے ہوتی ہے معلوم ہوا کہ ان کی ادنیٰ گستاخی کفر ہے ۔

 

(7) قُلْ اَبِاللہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمْ تَسْتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ

فرمادوکہ کیا تم اللہ اور اس کی آیتو ں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر ۔(پ10،التوبۃ65۔66)
    جن منافقین کا اس آیت میں ذکر ہے انہوں نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علم غیب کا مذاق اڑایا تھا کہ بھلا حضور کب روم پر غالب آسکتے ہیں اس گستاخی کو رب کی آیتو ں کی گستاخی قرار دے کر ان کے کفرکا فتوی صادر فرمایا کس نے ؟ کسی مولوی نے ؟ نہیں ! بلکہ خود اللہ جل شانہ نے ۔

(8) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَقُوۡلُوا انۡظُرْنَا وَاسْمَعُوۡا ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

اے ایمان والو!میرے پیغمبرسے راعنا نہ کہاکرو انظر ناکہا کرو خوب سن لو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔(پ1،البقرۃ:104)
    اس سے پتا لگا کہ جو کوئی توہین کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایسا لفظ بولے جس میں گستاخی کا شائبہ بھی نکلتا ہو وہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے۔ (جیسے راعنا)
    خلاصہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے مسلمانوں کو قرآن میں ہر جگہ یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کہہ کر پکارا، موحدیا نمازی یا مولوی یا فاضل دیوبند کہہ کر نہ پکارا تا کہ پتا لگے کہ رب تعالیٰ کی تمام نعمتیں ایمان سے ملتی ہیں اور ایمان کی حقیقت وہ ہے جو ان آیتوں میں بیان ہوئی یعنی غلامی سرکار مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔ توحید نوٹ کا کا غذ ہے اور  نبوت اس کی مہر جیسے نوٹ کی قیمت سرکاری مہر سے ہے اس کے بغیر وہ قیمتی نہیں اسی طر ح ایمان کے نوٹ کی قیمت بازار قیامت میں جب ہی ہوگی جب اس پر حضور کے نام کی مہر لگی ہو ۔ ان سے منہ موڑکر توحید کی کوئی قیمت نہیں اسی لئے کلمہ میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کانام ہے اور قبر میں تو حید کا اقرار کرانے کے بعد حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی پہچان ہے ۔خیال رہے کہ حدیث وقرآن میں بھی مسلمانوں کو موحد نہ کہا گیا بلکہ مومن ہی سے خطاب فرمایا ۔

 

 


اسلام

    اسلام سلم سے بناجن کے معنی ہیں صلح،جنگ کامقابل۔ رب تعالیٰ فرماتاہے

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا

اگر وہ صلح کی طر ف مائل ہوں توتم بھی اس طر ف جھک جاؤ۔(پ10،الانفال:61)
    لہٰذا اسلام کے معنی ہوئے صلح کرنا ۔ مگر عرف میں اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری ہے ،قرآن شریف میں یہ لفظ کبھی تو ایمان کے معنی میں آتا ہے او رکبھی اطاعت وفرمانبرداری کرنے کے لئے ، ان آیات میں اسلام بمعنی ایمان ہے ۔

(1) اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلَامُ

پسندیدہ دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے(پ3،اٰل عمرٰن:19)

(2)ہُوَ سَمّٰىکُمُ الْمُسْلِمِیۡنَ ۬ۙ

اس رب نے تمہارا نام مسلم رکھا(پ17،الحج:78)

(3) مَاکَانَ اِبْرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّلَا نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسْلِمًا ؕ

ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ عیسائی لیکن وہ حنیف ایمان والے تھے۔(پ3،اٰل عمرٰن:67)

 

(4) قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسْلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمْ اَنْ ہَدٰىکُمْ لِلْاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾

فرمادو کہ تم مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتا ؤ بلکہ اللہ تم پر احسان فرماتا ہے کہ تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم سچے ہو ۔(پ26،الحجرات:17)

(5)تَوَفَّنِیۡ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾

مجھے مومن اٹھا اور صالحوں سے ملا۔(پ13،یوسف:101)

(6)وَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوۡنَ وَ مِنَّا الْقَاسِطُوۡنَ ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا ﴿۱۴﴾

اورہم میں سے کچھ مسلمان ہیں اور کچھ ظالم جو اسلام لائے انہوں نے بھلائی تلاش کرلی ۔(پ29،الجن:14)
    ان آیات اور ان جیسی دو سری آیات میں اسلام ایمان کے معنی میں ہے۔ لہٰذا جیسے ایمان کا دار ومدار امت کے لئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سچی غلامی پر ہے ایسے ہی اسلام کا مدار بھی اس سرکار کی غلامی پر ہے۔ لہٰذا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت کا منکر نہ مومن ہے نہ مسلمان جیسے شیطان نہ مومن ہے نہ مسلم بلکہ کافر و مشرک ہے ۔
    بعض آیات میں اسلام بمعنی اطا عت آیاہے جیسے

(1) لَہٗۤ اَسْلَمَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ

اس اللہ کے فرمانبردار ہیں تمام آسمانوں اور زمینوں کے لوگ ۔(پ3،اٰل عمرٰن:83)

کُلٌّ لَّہ، قَانِتُوْنَ ہر ایک اس کامطیع ہے یعنی تکوینی احکام میں۔(پ۲۱،الروم:۲۶)
    یہا ں''قانتین'' نے''اسلم'' کی تفسیر کردی کیونکہ ساری چیز یں رب تعالیٰ کی تکوینی امور میں مطیع توہیں مگر سب مومن نہیں بعض کا فر بھی ہیں۔ فَمِنۡکُمْ کَافِرٌ وَّ مِنۡکُمْ مُّؤْمِنٌ ؕ (پ28،التغابن:2)
(2) قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ ؕ

اے منافقو! یہ نہ کہو کہ تم ایمان لے آئے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اطا عت قبول کرلی اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔(پ26،الحجرات:14)
منافق مسلم بمعنی مطیع تو تھے مومن نہ تھے ۔

(3) فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلْجَبِیۡنِ ﴿۱۰۳﴾ۚوَ نَادَیۡنٰہُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰہِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ۙ

توجب دونوں ابراہیم واسماعیل نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹادیا (ذبح کیلئے) اور ہم نے ندا کی اے ابراہیم(پ23،الصّٰفّٰت:103،104)

(4) اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗۤ اَسْلِمۡ ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۳۱﴾

جب فرمایا ابراہیم سے ان کے رب نے مطیع ہوجاؤ عرض کیا کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار ہوا۔(پ1،البقرۃ:131)
    ان دونوں آخر ی آیات میں اسلام کے معنی ایمان نہیں بن سکتے کیونکہ انبیاء پیدا ئشی مومن ہوتے ہیں ان کے ایمان لانے کے کیا معنی ؟
    ان آیات میں اسلام بمعنی اطاعت ہے ۔ پہلی آیت میں تکوینی امور کی اطاعت مراد ہے جیسے بیماری ، تندرستی ، موت، زندگی وغیرہ ۔ آخری دوسری دوآیات میں تشریعی احکام کی اطا عت مراد ہے لہٰذا منافق مومن نہ تھے مسلم تھے یعنی مجبوراً اسلامی قوانین کے مطیع ہوگئے تھے ۔

 

 

تقویٰ

    قرآن کریم میں یہ لفظ بہت استعمال ہوا ہے بلکہ ایمان کے ساتھ تقویٰ کا اکثر حکم آتا ہے ۔ تقویٰ کے معنی ڈرنا بھی ہیں اور بچنا بھی اگر اس کا تعلق اللہ تعالیٰ یا قیامت کے دن سے ہو تو اس سے ڈرنا مراد ہوتا ہے کیونکہ رب سے اور قیامت سے کوئی نہیں بچ سکتا جیسے

(1) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ

اے ایما ن والو! اللہ سے ڈرو!(پ3،البقرۃ:278)

(2) وَاتَّقُوۡا یَوْمًا لَّا تَجْزِیۡ نَفْسٌ عَنۡ نَّفْسٍ شَیْـًٔا

اور اس دن سے ڈرو جس دن کو ئی نفس کسی نفس کی طر ف سے نہ بدلا دے گا ۔(پ1،البقرۃ:48)
اور اگر تقویٰ کے ساتھ آگ یا گناہ کا ذکر ہو تو وہاں تقویٰ سے بچنا مراد ہوگا جیسے

(3)فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیۡ وَقُوۡدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ

اور اس آگ سے بچو جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔(پ1،البقرۃ:24)
    اگر تقوی کے بعد کسی چیز کا ذکر نہ ہو نہ رب تعالیٰ کا نہ دو زخ کا تو وہاں دونوں معنی یعنی ڈرنا اور بچنا درست ہیں جیسے

(4) ہُدًی لِّلْمُتَّقِیۡنَ ۙ﴿۲﴾الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِالْغَیۡبِ

ہدایت ہے ان پر ہیز گار وں کے لئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔(پ1،البقرۃ:2۔3)

(5) فَاصْبِرْ ؕۛ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾

پس صبر کرو بیشک انجام پر ہیز گاروں کے لئے ہے ۔(پ12،ھود:49)

 

    قرآن کی اصطلاح میں تقوی کی دو قسمیں ہیں تقویٰ بدن اور تقویٰ دل تقویٰ بدن کا مدار اطا عت خدا اور رسول پر ہے ۔ فرماتا ہے :

(1) فَمَنِ اتَّقٰی وَاَصْلَحَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾

تو جس نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ان پر نہ خو ف ہے نہ وہ غمگین ہوں گے ۔(پ8،الاعراف:35)

(2) الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾

ولی اللہ وہ ہیں جوایمان لائے اور پرہیزگار ی کرتے تھے ۔(پ11،یونس:63)

(3) اِنۡ تَتَّقُوا اللہَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ فُرْقَانًا

اگر اللہ کی اطاعت کر و گے تو تمہارے لئے فرق بتا دے گا ۔ (پ9،الانفال:29)
    دلی تقوی کا دار ومدار اس پر ہے کہ اللہ کے پیارو ں بلکہ جس چیز کو ان سے نسبت ہوجاوے اس کی تعظیم وادب دل سے کر ے ۔ تبرکات کا بے ادب دلی پرہیز گار نہیں ہو سکتا ۔ فرماتا ہے :

(1) وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾

جو کوئی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دل کی پرہیز گا ری سے ہے ۔(پ17،الحج:32)

(2) وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ

اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو اس کیلئے اس کے رب کے ہاں بہتری ہے ۔(پ17،الحج:30)
یہ بھی قرآن کریم ہی سے پوچھو کہ شعا ئر اللہ یعنی اللہ کی نشانیا ں کیا چیز ہیں۔فرماتا ہے :

 

(3)اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیۡتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ

صفا اور مروہ پہاڑ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کو ئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ ان پہاڑوں کا طواف کرے ۔(پ2،البقرۃ:158)
    صفا اور مروہ وہ پہاڑ ہیں جن پر حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں سات بار چڑھیں او راتریں ۔ اس اللہ والی کے قدم پڑجانے کی بر کت سے یہ دونوں پہاڑ شعائر اللہ بن گئے اور تا قیامت حاجیوں پرا س پاک بی بی کی نقل اتارنے میں ان پر چڑھنا اور اتر ناسات بار لازم ہوگیا ۔ بزرگو ں کے قدم لگ جانے سے وہ چیز شعائر اللہ بن جاتی ہے۔ فرماتا ہے :

(4)وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ

تم لوگ مقام ابراہیم کو جاء نماز بناؤ ۔(پ1،البقرۃ:125)
    مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ معظمہ کی تعمیر کی وہ بھی حضرت خلیل علیہ السلام کی برکت سے شعائر اللہ بن گیااوراس کی تعظیم ایسی لازم ہوگئی کہ طواف کے نفل اس کے سامنے کھڑے ہوکر پڑھنا سنت ہوگئے کہ سجدہ میں سر اس پتھر کے سامنے جھکے۔
    جب بزرگو ں کے قدم پڑجانے سے صفا مروہ اور مقام ابراہیم شعائر اللہ بن گئے اور قابل تعظیم ہوگئے تو قبو ر انبیاء واولیاء جس میں یہ حضرات دائمی قیام فرما ہیں یقینا شعائر اللہ ہیں اور ان کی تعظیم لازم ہے ۔
    رب تعالیٰ فرما تاہے :

 

(5) فَقَالُوا ابْنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنْیَانًا ؕ رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا ﴿۲۱﴾

پس لوگ بولے کہ ان اصحاب کہف پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے اور وہ بولے جواس کام میں غالب رہے کہ ہم تو ضرور ان پر مسجد بنائیں گے ۔(پ15،الکھف:21)
    اصحاب کہف کے غار پر جو ان کا آرام گاہ ہے گذشتہ مسلمانوں نے مسجد بنائی اور رب نے ان کے کام پر ناراضگی کا اظہار نہ کیا پتا لگا کہ وہ جگہ شعا ئر اللہ بن گئی جس کی تعظیم ضروری ہوگئی۔

(6) وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللہِ لَکُمْ فِیۡہَا خَیۡرٌ

اور قربانی کے جانور(ہدی)ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنائے تمہارے لئے ان میں خیر ہے ۔(پ17،الحج:36)
    جو جانور قربانی کے لئے یا کعبہ معظمہ کیلئے نامزد ہوجائے وہ شعائر اللہ ہے اس کا احترام چاہیے جیسے قرآن کا جزدان اور کعبہ کا غلاف اور زمزم کاپانی اورمکہ شریف کی زمین۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو رب یا رب کے پیاروں سے نسبت ہے ان سب کی تعظیم ضروری ہے ۔فرماتا ہے :

(7) لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۱﴾وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۲﴾

میں اس شہر مکہ معظمہ کی قسم فرماتا ہوں حالانکہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرماہو۔(پ30،البلد:1۔2)

(8) وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾وَ ہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾

قسم ہے انجیر کی اور زیتو ن کی اورطور سینا پہاڑ کی اور اس امانت والے شہر مکہ شریف کی۔(پ30،التین:1۔3)

 

(9) وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ

اوربیت المقدس کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے گھسو اور کہو معافی دے، ہم بخش دیں گے۔(پ1،البقرۃ:58)
    طور سینا پہاڑ اور مکہ معظمہ اس لئے عظمت والے بن گئے کہ طو ر کو کلیم اللہ سے اور مکہ معظمہ کو حبیب اللہ علیہماالسلام سے نسبت ہوگئی۔
    خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے پیارو ں کی چیزیں شعائر اللہ ہیں جیسے قرآن شریف، خانہ کعبہ، صفا مروہ پہاڑ ،مکہ معظمہ ،بیت المقدس، طورسینا،مقابر اولیاء اللہ وانبیاء کرام ، آب زمزم وغیرہ اورشعائر اللہ کی تعظیم و تو قیر قرآنی فتوے سے دلی تقویٰ ہے جو کوئی نمازی رو زہ دار تو ہو مگر اس کے دل میں تبرکات کی تعظیم نہ ہو وہ دلی پر ہیز گا ر نہیں۔
    ان آیات قرآنیہ سے معلوم ہو اکہ جہاں کہیں قرآن کریم میں تقویٰ کا ذکر ہے وہاں یہ تقویٰ دلی یعنی متبر ک چیزوں کی تعظیم ضرورمراد ہے ۔ یہ آیات کریمہ تقویٰ کی تمام آیات کی تفسیر ہیں۔جہاں تقوی کا ذکر ہو وہاں یہ قید ضروری ہے ۔
رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَغُضُّوۡنَ اَصْوَاتَہُمْ عِنۡدَ رَسُوْلِ اللہِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ امْتَحَنَ اللہُ قُلُوۡبَہُمْ لِلتَّقْوٰی ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۳﴾

بے شک جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ کے نزدیک پست کرتے ہیں یہ وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیز گاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کیلئے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔(پ26،الحجرات:3)
    معلوم ہو اکہ مجلس میں حضور مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا احترام تقویٰ ہے۔ کیونکہ یہ بھی شعائر اللہ ہے اور شعائر اللہ کی حرمت دلی تقویٰ ہے ۔ ایمان جڑ ہے اور  تقوی اس کی شاخیں،پھل وہی کھاسکتا ہے جو ان دونوں کی حفاظت کرے ۔ اسی طر ح بخشش کے پھل اسی کو نصیب ہوں گے جوایمان اور تقویٰ دونوں کا حامل ہو۔

 

 

کفر

    کفر کے معنی چھپانا اور مٹا نا ہے اسی لئے جرم کی شرعی سز اکو کفارہ کہتے ہیں کہ وہ گناہ کو مٹادیتا ہے ایک دوا کانام کافور ہے کہ وہ اپنی تیز خوشبو سے دوسری خوشبوؤ ں کو چھپالیتا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾

اگر تم بڑے گناہوں سے بچو گے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ مٹا دیں گے اور تم کو اچھی جگہ میں داخل کر یں گے (پ5،النسآء:31)
    قرآن شریف میں یہ لفظ چندمعنوں میں استعمال ہواہے ناشکری،انکار، اسلام سے نکل جانا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿۷﴾

اگر تم شکر کرو گے تو تم کو اور زیادہ دیں گے اور اگر تم ناشکری کرو گے تو ہمارا عذاب سخت ہے(پ13،ابرٰہیم:7)

(2) وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ ﴿۱۵۲﴾

میرا شکر کرونا شکری نہ کرو(پ2،البقرۃ:152)

(3) وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلْتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾

فرعون نے موسی علیہ السلام سے کہا کہ تم نے اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکر ے تھے(پ19،الشعرآء:19)

 

    ان آیات میں کفر بمعنی ناشکری ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:

(1) فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰی

پس جوکوئی شیطان کا انکا ر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے مضبوط گرہ پکڑلی۔(پ3،البقرۃ:256)

(2) یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّیَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا اس دن تمہارے بعض بعض کا انکار کریں گے اور بعض بعض پر لعنت کریں گے ۔(پ۲۰،عنکبوت:۲۵)

(3) وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾

یہ معبود ان باطلہ ان کی عبادت کے انکاری ہوجاویں گے۔(پ26،الاحقاف:6)
    ان تمام آیات میں کفر بمعنی انکار ہے نہ کہ اسلام سے پھر جانا ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾

فرمادو کافر و میں تمہارے معبودوں کو نہیں پوجتا۔(پ30الکٰفرون:1۔2)

(2) فَبُہِتَ الَّذِیۡ کَفَرَ ؕ

پس وہ کافر (نمرود )حیران رہ گیا۔(پ3،البقرۃ:258)

(3) وَالْکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۵۴﴾

اور کافر لوگ ظالم ہیں ۔(پ3،البقرۃ:254)

(4) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ

وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا ، اللہ عیسی ابن مریم ہیں۔(پ6،المآئدۃ:17)

 

(5) لَاتَعْتَذِرُوۡا قَدْکَفَرْتُمۡ بَعْدَ اِیۡمَانِکُمْ ؕ

بہانے نہ بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے(پ10،التوبۃ:66)

(6) فَمِنْہُمۡ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمۡ مَّنۡ کَفَرَ ؕ

ان میں سے بعض ایمان لے آئے بعض کافر رہے ۔(پ3،البقرۃ:253)
    ان جیسی اور بہت سی آیات میں کفر ایمان کا مقابل ہے جس کے معنی ہیں بے ایمان ہوجانا، اسلام سے نکل جانا ۔ اس کفر میں ایمان کے مقابل تمام چیزیں معتبر ہوں گی یعنی جن چیزوں کا ماننا ایمان تھا ان میں سے کسی کا بھی انکار کرنا کفر ہے ۔ لہٰذا کفر کی صدہا قسمیں ہوں گی ۔ خدا کا انکار کفر، اس کی تو حید کا انکا ر یعنی شرک یہ بھی کفر، اسی طر ح فرشتے،دوزخ وجنت، حشر نشر ، نماز ، روزہ،قرآن کی آیتیں،غرضیکہ ضروریات دین میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے ۔ اسی لئے قرآن شریف میں مختلف قسم کے کافروں کی تردید فرمائی گئی ہے جیسا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ شرک کی بحث میں آوے گا۔


حقیقتِ کفر

     جیسے کہ صدہاچیزوں کے ماننے کا نام ایمان تھا لیکن ان سب کا مدار صرف ایک چیز پر تھا یعنی پیغمبر کوماننا کہ جس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کما حقہ مان لیا ۔ اس نے سب کچھ مان لیا ۔ اسی طر ح کفر کا مدار صرف ایک چیز پر ہے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاانکار، ان کی عظمت کا انکار ، ان کی شان اعلی کا انکار ، اصل کفر تو یہ ہے باقی تمام اس کی شاخیں ہیں مثلا جورب کی ذات یا صفات کاانکار کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا منکر ہے کہ حضور نے فرمایا : اللہ ایک ہے۔ یہ کہتا ہے کہ دو ہیں۔اسی طر ح نماز، رو زہ وغیرہ کسی ایک کا انکار درحقیقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار ہے کہ وہ سر کار فرماتے ہیں کہ یہ چیزیں فرض ہیں۔وہ کہتا ہے کہ نہیں۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ادنی توہین ،ان کی کسی شے کی توہین، قرآنی فتوے سے کفر ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) وَیَقُوۡلُوۡنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّیُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ ۙاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوۡنَ حَقًّا

اور وہ کفار کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر وں پر ایمان لائینگے اور بعض کا انکار کریں گے اور چاہتے ہیں کہ ایمان وکفر کے بیچ میں کوئی راہ نکالیں یہی لوگ یقینا کا فر ہیں(پ6،النسآء:150۔151)

(2) وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾

کافروں ہی کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(پ1،البقرۃ:104)

(3) وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾

اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان ہی کے لئے دردناک عذاب ہے ۔(پ10،التوبۃ:61)
    یعنی صرف کافر کو دردناک عذاب ہے اور صرف اسے درد ناک عذاب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دے ۔لہٰذا پتا لگا کہ صرف وہ ہی کافر ہے جو رسول کو ایذادے اور جو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عظمت واحترام ، خدمت ، اطاعت کرے وہ سچا مومن ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَجٰہَدُوۡا فِی سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾

اورجوایمان لائے اورانہوں نے ہجرت کی اوراللہ کی راہ میں جہادکیااوروہ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ سچے مسلمان ہیں ان کیلئے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔(پ10،الانفال:74)

 

رب تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾

کیا انہیں خبر نہیں کہ جو مخالفت کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ اس میں رہے گا ۔ یہ بڑی رسوائی ہے ۔
    بلکہ جس اچھے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطا عت کا لحاظ نہ ہو بلکہ ان کی مخالفت ہو وہ کفر بن جاتا ہے اور جس برے کام میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہو وہ ایمان بن جاتا ہے مسجد بنانا اچھا کام ہے لیکن منافقین نے جب مسجد ضرار حضور کی مخالفت کرنے کی نیت سے بنائی توقرآن نے اسے کفر قرار دیا ہے۔ فرماتا ہے :

وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیۡقًۢا بَیۡنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبْلُ ؕ

اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد بنائی نقصان پہنچا نے اور کفر کیلئے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کو اور اس کے انتظار میں جو پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے۔(پ11،التوبۃ:107)
    نماز توڑنا گناہ ہے لیکن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بلانے پر نماز توڑنا گناہ نہیں ہے بلکہ عبادت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیۡبُوۡا لِلہِ وَلِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحْیِیۡکُمْ

اے ایمان والو اللہ رسول کا بلاوا قبول کروجب وہ تمہیں بلائیں اس لئے کہ وہ تمہیں زندگی بخشتے ہیں۔(پ9،الانفال:24)

 

    اسی لئے حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر اونچی آواز کرنے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ادنیٰ گستاخی کرنے کو قرآن نے کفر قرار دیا جس کی آیات ایمان کی بحث میں گز ر چکیں۔ شیطان کے پاس عبادات کافی تھیں مگر جب اس نے آدم علیہ السلام کے متعلق کہا کہ

قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنْہُ ؕ خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۷۶﴾قَالَ فَاخْرُجْ مِنْہَا فَاِنَّکَ رَجِیۡمٌ ﴿۷۷﴾

میں ان سے اچھا ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے اور انہیں مٹی سے پیدا کیا رب نے فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہوگیا۔ (پ23،ص:76۔77)
تو فورا کافر ہوگیا اور موسیٰ علیہ السلام کے جادو گر وں نے موسیٰ علیہ السلام کا ادب کیا کہ جادو کرنے سے پہلے عرض کیا

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ نَحْنُ الْمُلْقِیۡنَ ﴿۱۱۵﴾

عرض کیا کہ اے موسی یا پہلے آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں ۔(پ9،الاعراف:115)
    اس اجازت لینے کے ادب کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ایک دن میں ایمان ،کلیم اللہ کی صحابیت ، تقویٰ ، صبر ، شہادت نصیب ہوئی۔رب نے فرمایا :

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾

جادو گر سجدے میں گرادیئے گئے ۔(پ19،الشعرآء:46)
    یعنی خود سجدے میں نہیں گرے بلکہ رب کی طر ف سے ڈال دیئے گئے۔ کافر کے دل میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب آجائے توان شاء اللہ مومن ہوجائے گا ۔ اگر مومن کو بے ادبی کی بیماری ہوجائے تو اس کے ایمان چھوٹ جانے کاخطرہ ہے۔

 

یوسف علیہ السلام کے بھائی قصور مند تھے مگر بے ادب نہ تھے آخر بخش دیئے گئے ۔ قابیل یعنی آدم علیہ السلام کا بیٹا جرم کے ساتھ نبی کا گستاخ بھی تھالہٰذا خاتمہ خراب ہو ا۔
 

 


 

Edited by Najam Mirani
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites


شرک

    شرک کے لغوی معنی ہیں حصہ یا ساجھا ۔ لہٰذا شریک کے معنی ہیں حصہ دار یا ساجھی۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ۚ

کیا ان بتوں کا ان آسمانوں میں حصہ ہے ۔(پ22،فاطر:40)

(2) ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیۡفَتِکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ؕ

کیا تمہارے مملوک غلاموں میں سے کوئی شریک ہے اس میں جو ہم نے تمہیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ان غلاموں سے تم ایساڈرو جیسا اپنے نفسوں سے ڈرتے ہو(پ21،الروم:28)

(3) رَّجُلًا فِیۡہِ شُرَکَآءُ مُتَشٰکِسُوۡنَ وَ رَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ؕ ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ

ایک وہ غلام جس میں برابر کے چند شریک ہوں اور ایک وہ غلام جو ایک ہی آدمی کا ہو ۔ کیا یہ دونوں برابر ہیں(پ23،زمر:29)
    ان آیتوں میں شرک اور شریک لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی حصہ ، ساجھا اور حصہ دار وساجھی ۔ لہٰذا شرک کے لغوی معنی ہیں کسی کو خدا کے برابر جاننا ۔ قرآن کریم میں یہ لفظ ان دونوں معنی میں استعمال ہواہے ۔شرک بمعنی کفران آیات میں آیا :

 

(1) اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ

اللہ تعالیٰ اس جرم کو نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیاجائے اس کے سوا جس کو چاہے بخش دے گا ۔(پ5،النسآء:48)

(2) وَ لَا تُنۡکِحُوا الْمُشْرِکِیۡنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوۡا ؕ

نکاح نہ کرو مشرکوں سے یہاں تک کہ ایمان لے آویں۔(پ2،البقرۃ:221)

(3) وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیۡرٌ مِّنۡ مُّشْرِکٍ

مومن غلام مشرک سے اچھاہے۔(پ2،البقرۃ:221)

(4) مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعْمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ بِالْکُفْرِؕ

مشرکوں کو یہ حق نہیں کہ اللہ کی مسجد یں آباد کریں اپنے پر کفر کی گواہی دیتے ہوئے ۔(پ10،التوبۃ:17)
    ان آیات میں شرک سے مرادہر کفر ہے کیونکہ کوئی بھی کفر بخشش کے لائق نہیں اور کسی کافر مرد سے مومنہ عورت کا نکاح جائز نہیں او رہر مومن ہر کافر سے بہتر ہے خواہ مشرک ہو جیسے ہند و یا کوئی اور جیسے یہودی ، پارسی ، مجوسی۔
    دوسرے معنی کا شرک یعنی کسی کو خدا کے برابر جاننا کفر سے خاص ہے کفر اس سے عام یعنی ہر شرک کفر ہے مگر ہر کفر شرک نہیں۔ جیسے ہر کوا کالا ہے مگر ہر کا لا کو انہیں۔ ہر سوناپیلا ہے مگر ہر پیلا سونانہیں ۔ لہٰذا دہر یہ کافر ہے مشرک نہیں اور ہند ومشرک بھی ہے کافر بھی۔ قرآن شریف میں شرک اکثر اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے

(1)جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا

ان دونوں نے خدا کے برابر کر دیا اس نعمت میں جو رب تعالیٰ نے انہیں دی۔(پ9،الاعراف: 190)

 

(2) حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾

میں تمام برے دینوں سے بیزار ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔(پ7،الانعام:79)

(3) اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾

بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔(پ21،لقمٰن:13)

(4) وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشْرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾

ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان نہیں لائے مگر وہ مشرک ہوتے ہیں۔(پ13,یوسف:106)
ان جیسی صدہا آیتو ں میں شرک اس معنی میں استعمال ہوا ہے بمعنی کسی کو خدا کے مساوی جاننا۔


شرک کی حقیقت

شرک کی حقیقت رب تعالیٰ سے مساوات پر ہے یعنی جب تک کسی کو رب کے برابر نہ جانا جائے تب تک شرک نہ ہوگا اسی لئے قیامت میں کفار اپنے بتوں سے کہیں گے ۔

تَاللہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۷﴾

خدا کی قسم ہم کھلی گمراہی میں تھے کہ تم کورب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے ۔(پ19،الشعرآء:97)
    اس برابر جاننے کی چند صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو خدا کا ہم جنس مانا جائے جیسے عیسائی عیسی علیہ السلام کو اور یہودی عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے چونکہ اولاد باپ کی ملک نہیں ہوتی بلکہ باپ کی ہم جنس اور مساوی ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ ماننے والا مشرک ہوگا ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:

(1) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾

یہ لوگ بولے کہ اللہ نے بچے اختیار فرمائے پاکی ہے اس کے لئے بلکہ یہ اللہ کے عزت والے بندے ہیں ۔(پ17،الانبیاء:26)

 

(2) وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیۡحُ ابْنُ اللہِ

یہودی بولے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی بولے کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ۔(پ10،التوبۃ:30)

(3) وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءًا ؕ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾

بنادیا ان لوگوں نے اللہ کے لئے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا بے شک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔(پ25،الزخرف:15)

(4) وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلْقَہُمْ ؕ

انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے ۔(پ25،الزخرف:19)

(5) اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىکُمۡ بِالْبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾

کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیا ں بنالیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا۔(پ25،الزخرف: 16)

(6) وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ

اور اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو حالانکہ اس نے ان کو بنایا اور اس کیلئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں جہالت سے ۔(پ7،الانعام:100)

(7) لَیُسَمُّوۡنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾

یہ کفار فرشتوں کا نام عورتوں کا سا رکھتے تھے ۔(پ27،النجم:27)
    ان جیسی بہت سی آیتوں میں اسی قسم کا شرک مراد ہے یعنی کسی کو رب کی اولاد ماننا دوسرے یہ کہ کسی کو رب تعالیٰ کی طر ح خالق مانا جائے جیسے کہ بعض کفار عرب کا عقیدہ تھا کہ خیر کا خالق اللہ ہے اور شرکا خالق دوسرا رب ،اب بھی پارسی یہی مانتے ہیں

 

خالق خیر کو'' یزداں'' اور خالق شر کو ''اہر من ''کہتے ہیں ۔ یہ وہی پرانا مشر کا نہ عقیدہ ہے یا بعض کفار کہتے تھے کہ ہم اپنے برے اعمال کے خود خالق ہیں کیونکہ ان کے نزدیک بری چیزوں کا پیدا کرنا براہے لہٰذا اس کا خالق کوئی اور چاہیے اس قسم کے مشرکوں کی تردید کے لئے یہ آیات آئیں۔ خیال رہے کہ بعض عیسائی تین خالقوں کے قائل تھے جن میں سے ایک عیسی علیہ السلام ہیں ان تمام کی تردید میں حسب ذیل آیات ہیں۔

(1) وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾

اللہ نے تم کو اور تمہارے سارے اعمال کو پیدا کیا ۔(پ23،الصافات:96)

(2) اَللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۶۲﴾

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔(پ24،الزمر:62)

(3) خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ

اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا ۔(پ29،الملک:2)

(3) اَنَّ اللہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔(پ13،ابرٰھیم:19)

(4) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ

بے شک کافر ہوگئے وہ جنہوں نے کہاکہ اللہ وہی مسیح مریم کابیٹاہے ۔(پ6،المآئدۃ:17)

(5) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ

بے شک کافر ہوگئے وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ تین خداؤں میں تیسرا ہے ۔(پ6،المآئدۃ:73)

 

(6)لَوْکَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَت

اگر زمین وآسمان میں خدا کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں بگڑجاتے۔َا  (پ17،الانبیآء:22)

(7) ہٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ

یہ اللہ کی مخلوق ہے پس مجھے دکھا ؤ کہ اس کے سوااوروں نے کیا پیداکیا ۔(پ21،لقمٰن:11)
    ان جیسی تمام آیتو ں میں اسی قسم کے شر ک کا ذکر ہے اور اسی کی تردید ہے۔ اگر یہ مشرک غیر خدا کو خالق نہ مانتے ہوتے تو ان سے یہ مطالبہ کرنا کہ ان معبودوں کی مخلوق دکھاؤ درست نہ ہوتا ۔
     تیسرے یہ کہ خود زمانہ کو مؤثر مانا جائے اور خدا کی ہستی کا انکار کیا جائے جیسا کہ بعض مشرکین عرب کا عقیدہ تھا ۔ موجودہ دہر یہ انہی کی یادگارہیں۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) وَقَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوۡتُ وَ نَحْیَا وَمَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ۚ

وہ بولے وہ تو نہیں مگر یہ ہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ اور انہیں اس کا علم نہیں ۔(پ25،الجاثیۃ:24)
     اس قسم کے دہر یوں کی تردید کے لئے تمام وہ آیات ہیں جن میں حکم دیا گیا ہے کہ عالم کی عجائبات میں غور کر و کہ ایسی حکمت والی چیز یں بغیر خالق کے نہیں ہوسکتیں۔

 

(1) یُغْشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾

ڈھکتا ہے رات سے دن کو اس میں نشانیاں ہیں فکر والوں کے لئے۔(پ13،الرعد:3)

(2) اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾

بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور دن رات کے گھٹنے بڑھنے میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لئے ۔(پ4،اٰل عمرٰن:190)

(3) وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لئے اور خود تمہاری ذاتوں میں ہیں تو تم دیکھتے کیوں نہیں ۔(پ26،الذٰریٰت:20،21)

(4) اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتْ ﴿ٝ۱۷﴾وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتْ ﴿ٝ۱۸﴾وَ اِلَی الْجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتْ ﴿ٝ۱۹﴾وَ اِلَی الْاَرْضِ کَیۡفَ سُطِحَتْ ﴿۲۰﴾ٝ

کیا یہ نہیں دیکھتے اونٹ کی طر ف کہ کیسے پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کیسا اونچا کیاگیااورپہاڑوں کی طرف کہ کیسے گاڑاگیا اور زمین کی طر ف کہ کیسے بچھائی گئی ۔(پ30،الغاشیۃ:17۔20)
    اس قسم کی بیسیوں آیات میں ان دہر یوں کی تردید ہے ۔
    چوتھے یہ عقیدہ کہ خالق ہر چیز کا تو رب ہی ہے مگر وہ ایک بار پیدا کر کے تھک گیا،اب کسی کام کانہیں رہا،اب اس کی خدائی کی چلانے والے یہ ہمارے معبودین باطلہ ہیں۔ اس قسم کے مشرکین عجیب بکواس کرتے تھے ۔ کہتے تھے کہ چھ دن میں آسمان زمین پیدا ہوئے اور ساتواں دن اللہ نے آرام کا رکھا تھکن دور کرنے کو اب بھی وہ آرام ہی کر رہا ہے۔ چنانچہ فرقہ تعطیلیہ اسی قسم کے مشرکوں کی یاد گار ہے۔ ان کی تردید ان آیا ت میں ہے :

(1) وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾

اور بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں بنایا اور ہم کو تھکن نہ آئی(پ26،قۤ:38)

(2) اَفَعَیِیۡنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ؕ بَلْ ہُمْ فِیۡ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾

تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں۔(پ26،قۤ:15)

(3) اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰی ؕ

اور کیا ان لوگو ں نے غور نہ کیا کہ اللہ نے آسمانوں او رزمین کو پیدافرمایا اور انہیں پیدا کر کے نہ تھکا وہ قادر اس پر بھی ہے کہ مردو ں کو زندہ کر ے ۔(پ26،الاحقاف:33)

(4) اِنَّمَاۤ اَمْرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾

اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے ۔(پ23،یٰسۤ:82)
    اس قسم کے مشرکوں کی تردید کیلئے اس جیسی کئی آیات ہیں جن میں فرمایا گیا کہ ہم کو عالم کے بنانے میں کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ نہیں پہنچتی ۔ اس قسم کے مشرک قیامت کے منکر اس لئے بھی تھے کہ وہ سمجھتے تھے ایک دفعہ دنیا پیدا فرما کر حق تعالیٰ کافی تھک چکا ہے اب دو بارہ کیسے بنا سکتا ہے۔ معاذاللہ ! اس لئے فرمایا گیا کہ ہم تو صرف ''کُنْ''سے ہر چیز پیدا فرماتے ہیں تھکن کیسی؟ ہم دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولیٰ قادرہیں کہ اعادہ سے ایجاد مشکل ہے ۔


شرک کی پانچویں قسم

    یہ عقیدہ ہے کہ ہر ذرہ کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر وہ اتنے بڑے عالم کو اکیلا سنبھالنے پر قادر نہیں اس لئے اس نے مجبور اً اپنے بندوں میں سے بعض بندے عالم کے انتظام کے لئے چن لئے ہیں جیسے دنیاوی بادشاہ اور ان کے محکمے ، اب یہ بندے جنہیں عالم کے انتظام میں دخیل بنایا گیا ہے وہ بندے ہونے کے باوجود رب تعالیٰ پردھونس رکھتے ہیں کہ اگر ہماری شفاعت کریں تو رب کو مرعوب ہوکر ماننی پڑے اگر چاہیں تو ہماری بگڑی بنادیں، ہماری مشکل کشائی کردیں،جو وہ کہیں رب تعالیٰ کو ان کی ماننی پڑے ورنہ اس کا عالم بگڑجاوے جیسے اسمبلی کے ممبرکہ اگر چہ وہ سب بادشاہ کی رعایا تو ہیں مگر ملکی انتظام میں ان کو ایسا دخل ہے کہ ملک ان سب کی تدبیر سے چل رہا ہے ۔ یہ وہ شرک ہے جس میں عرب کے بہت سے مشرکین گرفتا ر تھے اور اپنے بت ودّ ، یغوث، لات ومنات وعزی وغیرہ کو رب کا بندہ مان کر اور سارے عالم کا رب تعالیٰ کو خالق مان کر مشرک تھے ۔ اس عقیدے سے کسی کو پکارنا شرک ، اس کی شفاعت ماننا شرک، اسے حاجت روا مشکل کشا ماننا شرک ، اس کے سامنے جھکنا شر ک، اس کی تعظیم کرنا شرک ، غرضیکہ یہ برابری کا عقیدہ رکھ کر اس کے ساتھ جو تعظیم وتو قیر کا معاملہ کیا جاوے وہ شرک ہے ۔ ان کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے :

وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشْرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾

ان مشرکین میں سے بہت سے وہ ہیں کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے۔(پ13،یوسف:106)

 

    کہ خدا کو خالق ، رازق مانتے ہوئے پھر مشرک ہیں ، انہی پانچویں قسم کے مشرکین کے بارے میں فرمایا گیا :

(1) وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ ﴿۶۱﴾

اگر آپ ان مشرکوں سے پوچھیں کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کئے او رکام میں لگائے سورج اور چاند تو وہ کہیں گے اللہ نے تو فرماؤ کہ کیوں بھولے جاتے ہیں ۔(پ21العنکبوت:61)

(2) قُلْ مَنۡۢ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۸﴾سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلہِ ؕ قُلْ فَاَنّٰی تُسْحَرُوۡنَ ﴿۸۹﴾

فرمادو کہ ہر چیز کی بادشاہی کس کے قبضے میں ہے جو پناہ دیتا ہے اور پناہ نہیں دیا جاتا بتا ؤ اگر تم جانتے ہو تو کہیں گے اللہ ہی کی ہے کہو پھر کہا ں تم پر جادو پڑا جاتا ہے ۔(پ18المؤمنون:88۔89)

(3) وَ لَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوۡلُنَّ خَلَقَہُنَّ الْعَزِیۡزُ الْعَلِیۡمُ ﴿ۙ۹﴾

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کس نے پیدا کئے تو کہیں گے کہ انہیں غالب جاننے والے اللہ نے پیدا کیا ہے ۔(پ25،الزخرف:9)

 

(4) قُلۡ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَمَنۡ فِیۡہَاۤ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۴﴾سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلہِ ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۸۵﴾

فرماؤ کس کی ہے زمین اور اس کی چیزیں اگر تم جانتے ہو تو کہیں گے اللہ کی فرماؤ کہ تم نصیحت حاصل کیوں نہیں کرتے ۔(پ18،المؤمنون:84۔85)

(5) قُلْ مَنۡ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیۡمِ ﴿۸۶﴾سَیَقُوۡلُوۡنَ لِلہِ ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۸۷﴾

فرماؤ کہ سات آسمان اور بڑے عرش کا رب کون ہے ؟ توکہیں گے اللہ کا ہے فرماؤ کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ۔(پ18،المؤمنون:86۔87)

(6) قُلْ مَنۡ یَّرْزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرْضِ اَمَّنۡ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَ الۡاَبْصَارَ وَ مَنۡ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَمَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمْرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللہُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾

فرماؤ تمہیں آسمان وزمین سے رزق کو ن دیتا ہے یا کان آنکھ کاکون مالک ہے اورکون زندے کو مردے سے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے اور کاموں کی تدبیر کو ن کرتاہے تو کہیں گے اللہ!فرماؤتوتم ڈرتے کیوں نہیں ؟(پ11،یونس:31)

(7) وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوۡنَ ﴿۶۱﴾

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور کس نے سورج وچاند تا بعدار کیا تو کہیں گے اللہ نے تو فرماؤ تم کدھر پھر ے جاتے ہو۔(پ21،العنکبوت:61)

(8) وَلَئِنۡ سَاَلْتَہُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنۡۢ بَعْدِ مَوْتِہَا لَیَقُوۡلُنَّ اللہُ ؕ

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے آسمان سے پانی اتاراپس زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کیا تو کہیں گے اللہ نے ۔(پ21،العنکبوت:63)

 

    ان جیسی بہت سی آیات سے معلوم ہوا کہ یہ پانچویں قسم کے مشرک اللہ تعالیٰ کو سب کا خالق ،مالک ، زندہ کرنے والا ، مارنے والا ، پناہ دینے والا, عالم کا مدبر مانتے تھے مگر پھر مشرک تھے یعنی ذات، صفات کا اقرار کرنے کے باوجود مشرک رہے کیوں ؟ یہ بھی قرآن سے پوچھئے ۔ قرآن فرماتا ہے کہ ان عقائد کے باوجود وہ دو سبب سے مشرک تھے ایک یہ کہ وہ صرف خدا کو عالم کا مالک نہیں مانتے تھے بلکہ اللہ کوبھی اور دوسرے اپنے معبودوں کو بھی۔ یہاں'' للہ ''میں لام ملکیت کا ہے یعنی وہ اللہ کی ملکیت مانتے تھے مگر اکیلے کی نہیں بلکہ ساتھ ہی دوسرے معبودوں کی بھی،اسی لیے وہ یہ نہ کہتے تھے کہ ملکیت وقبضہ صرف اللہ کا ہے ، اور وں کا نہیں بلکہ وہ کہتے تھے اللہ کا بھی ہے اور دوسروں کا بھی، دو سرے اسلئے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ اکیلا یہ کام نہیں کرتا بلکہ ہمارے بتوں کی مدد سے کرتا ہے ۔ خود مجبور ہے اسی لئے ان دونوں عقیدوں کی تردید کے لئے حسب ذیل آیات ہیں:

 (1) وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الْمُلْکِ وَ لَمْ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَکَبِّرْہُ تَکْبِیۡرًا ﴿۱۱۱﴾٪

اور فرماؤ کہ سب خوبیاں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے لئے اولاد نہ بنائی او رنہ اس کے ملک میں کوئی شریک ہے او رنہ کوئی کمزوری کی وجہ سے ا س کا ولی مدد گار ہے تو اس کی بڑائی بولو ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:111)
    اگر یہ مشرکین ملک اور قبضہ میں خدا کے سوا کسی کوشریک نہیں مانتے تھے تو یہ تردید کس کی ہو رہی ہے او رکس سے یہ کلام ہو رہاہے ۔

 

(2) تَاللہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۷﴾اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۸﴾

دوزخ میں مشرکین اپنے بتوں سے کہیں گے اللہ کی قسم ہم کھلی گمراہی میں تھے ۔کیونکہ ہم تم کو رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے۔(پ19،الشعرآء:97۔98)
    یہ مشرک مسلمانوں کی طر ح اللہ تعالیٰ کو ہر شے کا خالق، مالک بلا شرکت غیرکے مانتے تھے تو برابر ی کرنے کے کیا معنی ہیں ،فرماتا ہے:

(3)اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ نَصْرَ اَنۡفُسِہِمْ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصْحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾

کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہم سے بچاتے ہیں وہ اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طر ف سے ان کی کوئی یاری ہو۔(پ17،الانبیآء:43)
    اس آیت میں مشرکین کے اسی عقیدے کی تردید کی ہے کہ ہمارے معبود ہمیں خدا سے مقابلہ کر کے بچاسکتے ہیں :

(4) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلْ اَوَ لَوْ کَانُوۡا لَا یَمْلِکُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾قُلۡ لِّلہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا ؕ

بلکہ انہوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں فرماد و کہ کیا اگر چہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں فرمادو ساری شفاعتیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔(پ 24الزمر:43،44)
    اس آیت میں مشرکین کے اسی عقیدے کی تردید ہے کہ ہمارے معبود بغیر اذن الٰہی دھونس کی شفاعت کر کے ہمیں اس کے غضب سے بچاسکتے ہیں اسی لئے اس جگہ بتوں کے مالک نہ ہونے اور رب کی ملکیت کا ذکر ہے یعنی ملک میں شریک ہونے کی وجہ سے اس کے ہاں کوئی شفیع نہیں ہے:

 

(5) وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللہِ

او رپوجتے ہیں وہ اللہ کے سوا ان چیزوں کو جو نہ انہیں نقصان دیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے شفیع ہیں اللہ کے نزدیک ۔(پ11،یونس:18)
    اس آیت میں بھی مشرکین کے اسی عقیدے کی تردید ہے کہ ہمارے بت دھونس کی شفاعت کریں گے کیونکہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ اس کی مِلک میں او رعالم کاکام چلانے میں شریک ہیں ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین عرب کا شرک ایک ہی طرح کا نہ تھا بلکہ اس کی پانچ صورتیں تھیں:
(۱)خالق کا انکار اور زمانہ کو مؤثر ماننا (۲) چند مستقل خالق ماننا (۳) اللہ کو ایک مان کر اس کی اولاد ماننا (۴) اللہ کو ایک مان کر اسے تھکن کی وجہ سے معطل ماننا (۵) اللہ کو خالق و مالک مان کر اسے دوسرے کا محتاج ماننا ،جیسے اسمبلی کے ممبر، شاہان موجودہ کیلئے اور انہیں ملکیت اور خدائی میں دخیل ماننا ۔ ان پانچ کے سوا اور چھٹی قسم کا شر ک ثابت نہیں۔
     ان پانچ قسم کے مشرکین کے لئے پانچ ہی قسم کی تردید یں قرآن میں آئی ہیں جن پانچوں کا ذکر سورہ اخلاص میں اس طر ح ہے کہ قُلْ ھُوَاللہُ میں دہر یوں کا رد کہ اللہ عالم کا خالق ہے ۔ اَحَدٌ میں ان مشرکوں کا رد جو عالم کے دوخالق مستقل مانتے تھے تا کہ عالم کا کام چلے۔ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ میں ان مشرکین کا رد جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام وحضرت عزیر علیہ السلام کو رب تعالیٰ کا بیٹا یا فرشتوں کو رب تعالیٰ کی بیٹیاں مانتے تھے۔ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ، کُفُوًا اَحَدٌ میں ان لوگو ں کا رد جو خالق کو تھکاہوا مان کر مدبر عالم اوروں کو مانتے تھے ۔
(۱) اعتراض: مشرکین عرب بھی اپنے بتو ں کو خدا کے ہاں سفارشی اور خدا رسی کا وسیلہ مانتے تھے اور مسلمان بھی نبیوں ، ولیوں کو شفیع اوروسیلہ مانتے ہیں تو وہ کیوں مشرک ہوگئے اور یہ کیوں مومن رہے ؟ ان دونوں میں کیا فر ق ہے ؟
جواب : دو طر ح فرق ہے کہ مشرکین خدا کے دشمنوں یعنی بتو ں وغیرہ کو سفارشی اور وسیلہ سمجھتے تھے جو کہ واقعہ میں ایسے نہ تھے اور مومنین اللہ کے محبو بوں کو شفیع او روسیلہ سمجھتے ہیں لہٰذا وہ کافر ہوئے اور یہ مومن رہے جیسے گنگاکے پانی اور بت کے پتھر کی تعظیم ، ہولی، دیوالی ، بنارس ، کاشی کی تعظیم شرک ہے مگرآب زمزم ، مقام ابراہیم ، رمضان ، محرم، مکہ معظمہ ، مدینہ طیبہ کی تعظیم ایمان ہے ۔ حالانکہ زمزم اور گنگا جل دو نوں پانی ہیں۔ مقام ابراہیم اور سنگ اسود ۔ اور بت کا پتھر دونوں پتھر ہیں وغیرہ وغیرہ ، دوسرے یہ کہ وہ اپنے معبودوں کو خدا کے مقابل دھونس کا شفیع مانتے تھے اور جبری وسیلہ مانتے تھے، مومن انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم کو محض بندہ محض اعزازی طور پر خدا کے اذن وعطا سے شفیع یا وسیلہ مانتے ہیں ۔ اذن اور مقابلہ ایمان وکفر کا معیا ر ہے ۔
(۲)اعتراض : مشرکین عر ب کا شرک صرف اس لئے تھا کہ وہ مخلوق کو فریاد رس، مشکل کشا، شفیع ، حاجت روا،دور سے پکار سننے والا، عالم غیب،وسیلہ مانتے تھے وہ اپنے بتوں کو خالق، مالک ، رازق ، قابض موت وحیات بخشنے والا نہیں مانتے تھے ۔ اللہ کا بندہ مان کر یہ پانچ باتیں ان میں ثابت کرتے تھے قرآن کے فتوے سے وہ مشرک
ہوئے۔ لہٰذاموجودہ مسلمان جو نبیوں علیہم السلام ، ولیوں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے لئے یہ مذکورہ بالا چیزیں ثابت کرتے ہیں وہ انہیں کی طر ح مشرک ہیں اگر چہ انہیں خدا کا بندہ مان کر ہی کریں چونکہ یہ کام مافوق الاسباب مخلوق کے لئے ثابت کرتے تھے ،مشرک ہوئے۔
جواب : یہ محض غلط اور قرآن کریم پر افترا ہے۔جب تک رب تعالیٰ کے ساتھ بندے کو برابر نہ مانا جاوے ، شرک نہیں ہوسکتا۔ وہ بتوں کو رب تعالیٰ کے مقابل ان صفتوں سے موصوف کرتے تھے ۔ مومن رب تعالیٰ کے اذن سے انہیں محض اللہ کا بندہ جان کر مانتا ہے لہٰذا وہ مومن ہے ۔ ان اللہ کے بندوں کے لئے یہ صفات قرآن کریم سے ثابت ہیں ،قرآنی آیات ملاحظہ ہوں۔
    عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں باذن الٰہی مردوں کو زندہ ، اندھوں ، کوڑھیوں کو اچھا کر سکتا ہوں، میں باذن الٰہی ہی مٹی کی شکل میں پھونک مار کر پرندہ بنا سکتا ہوں جو کچھ تم گھر میں کھاؤیا بچا ؤ بتا سکتا ہوں ۔ یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میری قمیص میرے والد کی آنکھوں پر لگا دو ۔ انہیں آرام ہوگا، جبریل علیہ السلام نے حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کہا کہ میں تمہیں بیٹا دوں گا ۔ ان تمام میں مافوق الاسباب مشکل کشائی حاجت روائی علم غیب سب کچھ آگیا ۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی گھوڑی کی ٹاپ کی خاک نے بے جان بچھڑے میں جان ڈال دی،یہ مافوق الاسباب زندگی دینا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصاء دم میں لاٹھی اور دم میں زندہ سانپ بن جاتا تھا آپ کے ہاتھ کی بر کت سے، حضرت آصف آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس یمن سے شام میں لے آئے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے تین میل کے فاصلے سے چیونٹی کی آواز سن لی ، حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان بیٹھے ہوئے یوسف علیہ السلام کو سات قفلوں سے بندمقفل کو ٹھڑی میں برے ارادے سے بچایا،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے روحوں کو حج کیلئے پکارا اور تاقیامت آنے والی روحوں نے سن لیا یہ تمام معجزات قرآن کریم سے ثابت ہیں جن کی آیات ان شاء اللہ باب احکام قرآنی میں پیش کی جائیں گی ۔ یہ توسب شرک ہوگئیں بلکہ معجزات اور کرامات توکہتے ہی انہیں ہیں جواسباب سے ورا ہو ۔ اگر مافوق الاسباب تصرف ماننا شرک ہوجاوے تو ہر معجزہ وکرامت ماننا شرک ہوگا۔ ایسا شرک ہم کو مبارک رہے جو قرآن کریم سے ثابت ہو اور سارے انبیاء و اولیاء کا عقیدہ ہو۔
    فرق وہی ہے کہ باذن اللہ یہ چیزیں بندوں کو ثابت ہیں اور رب کے مقابل ماننا شرک ہے انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کے معجزات اور کرامات تو ہیں ہی ۔ ایک ملک الموت اور ان کے عملہ کے فرشتے سارے عالم کو بیک وقت دیکھتے ہیں او رہر جگہ بیک وقت تصرف کرتے ہیں ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

 (1) قُلْ یَتَوَفّٰىکُمۡ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیۡ وُکِّلَ بِکُمْ

فرمادو کہ تم سب کو موت کا فرشتہ موت دیگا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے ۔(پ21،السجدۃ:11)

(2) حَتّٰۤی اذَا جَآءَتْہُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَہُمْ

یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے قاصد آئینگے انہیں موت دینے (پ8،الاعراف:37)
     ابلیس ملعون کو یہ قوت دی گئی ہے کہ وہ گمراہ کرنے کیلئے تمام کو بیک وقت دیکھتا ہے وہ بھی اور اس کی ذریت بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 

(3)  اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ ؕ

وہ شیطان اور اس کا قبیلہ تم سب کو وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔(پ8،الاعراف:27)
    جو فرشتے قبر میں سوال و جواب کرتے ہیں، جو فرشتہ ماں کے پیٹ میں بچہ بناتا ہے، وہ سب جہان پر نظر رکھتے ہیں کیونکہ بغیر اس قوت کے وہ اتنا بڑا انتظام کرسکتے ہی نہیں اور تمام کا م مافوق الاسباب ہیں ۔ جواہر القرآن کے اس فتوے سے اسلامی عقائد شرک ہوگئے ۔ فر ق وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا کہ رب کے مقابل یہ قوت ماننا شرک ہے اور رب کے خدام اور بندوں میں باذن الٰہی رب کی عطا سے یہ طاقتیں ماننا عین ایمان ہے ۔

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

بدعت

    بدعت کے لغوی معنی ہیں نئی چیزاصطلاح شریعت میں بدعت کہتے ہیں دین میں نیا کام جو ثواب کیلئے ایجاد کیا جائے اگر یہ کام خلاف دین ہو تو حرام ہے اور اگر اس کے خلاف نہ ہو تودرست یہ دونوں معنی قرآن شریف میں استعمال ہوئے ہیں۔
رب تعالیٰ فرماتا ہے۔

(1) بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ

وہ اللہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد فرمانے والا ہے ۔(پ1،البقرۃ:117)

(2)قُلْ مَا کُنۡتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ

فرمادو کہ میں انوکھا رسول نہیں ہوں۔ (پ26،الاحقاف:9)
    ان دونوں آیتو ں میں بدعت لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی انوکھا نیا رب تعالیٰ فرماتا ہے :

 

وَ جَعَلْنَا فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ رَاۡفَۃً وَّ رَحْمَۃً ؕ وَ رَہۡبَانِیَّۃَۨ ابْتَدَعُوۡہَا مَا کَتَبْنٰہَا عَلَیۡہِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللہِ فَمَا رَعَوْہَا حَقَّ رِعَایَتِہَا ۚ فَاٰتَیۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنْہُمْ اَجْرَہُمْ ۚ وَکَثِیۡرٌ مِّنْہُمْ فٰسِقُوۡنَ ﴿۲۷﴾

اور عیسیٰ علیہ السلام کے پیروؤں کے دل میں ہم نے نرمی اور رحمت رکھی اور ترک دنیا یہ بات جو انہوں نے دین میں اپنی طر ف سے نکالی ۔ ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا تو ان کے مومنوں کو ہم نے ان کا ثواب عطا کیا اور ان میں سے بہت سے فاسق ہیں۔(پ27،الحدید:27)
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسائیوں نے رہبانیت اور تارک الدنیا ہونا اپنی طر ف سے ایجاد کیا ۔ رب تعالیٰ نے ان کو اس کا حکم نہ دیا ۔ بد عت حسنہ کے طور پر انہوں نے یہ عبادت ایجاد کی اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بدعت کا ثواب دیا مگر جو اسے نباہ نہ سکے یا جو ایمان سے پھر گئے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے معلوم ہوا کہ دین میں نئی بدعتیں ایجاد کرنا جو دین کے خلاف نہ ہوں ثواب کا با عث ہیں مگر انہیں ہمیشہ کرنا چاہیے جیسے چھ کلمے ، نماز میں زبان سے نیت ،قرآن کے رکوع وغیرہ ،علم حدیث، محفل میلا د شریف ،اور ختم بزرگان، کہ یہ دینی چیزیں اگر چہ حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوئیں مگر چونکہ دین کے خلاف نہیں اور ان سے دینی فائدہ ہے لہٰذا باعث ثواب ہیں جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے بہت ثواب ہوگا ۔

 


الٰہ                                       

    قرآن شریف کی اصطلاحوں میں سے ایک اصطلاح لفظ الٰہ بھی ہے اس کی پہچان مسلمان کے لئے بہت ہی ضروری ہے کیونکہ کلمہ میں اسی کا ذکر ہے : لا الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں نماز شر وع کرتے ہی پڑھتے ہیں: لاالہ غیرک یا اللہ ! تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں غرضیکہ ایمان اور نماز بلکہ سارے اعمال اسی کی پہچان پر موقوف ہیں اگرہمیں الٰہ کی خبر نہ ہو تو دوسروں سے نفی کس چیز کی کریں گے اور رب تعالیٰ کیلئے ثبوت کس چیز کا کرینگے غرضیکہ اس کی معرفت بہت اہم ہے ۔
الٰہ کے متعلق ہم تین چیز یں عرض کرتے ہیں
(۱) الٰہ کے معنی وہابیوں نے کیا سمجھے اور اس میں کیا غلطی کی(۲) الٰہ ہونے کی پہچان شریعت اورقرآن میں کیا ہے یعنی کیسے پہچا نیں کہ الٰہ حق کو ن ہے اور الٰہ باطل کون (۳)ا لوہیت کامدار کس چیز پر ہے یعنی وہ کونسی صفات ہیں جن کے مان لینے سے اسے الٰہ ماننا پڑتا ہے ۔ان تینوں باتو ں کو بہت غور سے سوچنا چاہیے۔
(۱) وہابیوں نے الٰہ کا مدار دو چیزوں پر سمجھا ہے علم غیب اور مافوق الاسباب حاجات میں تصرف یعنی جس کے متعلق یہ عقیدہ ہو کہ وہ غیب کی بات جان لیتا ہے یا وہ بغیر ظاہری اسباب کے عالم میں تصرف یعنی عملدر آمد کرتا ہے حاجتیں پوری اور مشکلیں حل کرتاہے وہی الٰہ ہے، دیکھو جواہر القرآن صفحہ۱۱۲ ( قانون لفظ الہ)مصنفہ مولوی غلام اللہ خاں صاحب۔
                          اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ عام مسلمان انبیاء علیہم السلام،اولیاء رحمہم اللہ کو عالم غیب بھی مانتے ہیں او رمافوق الاسباب متصرف بھی لہٰذا یہ لوگ کلمہ کے ہی منکر ہیں اور مشرک ہیں۔
    لیکن یہ معنی بالکل غلط قرآن کے خلاف ، خود وہابیہ کے عقیدوں کے خلاف ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور عام مسلمین کے عقائد کے خلاف ہیں ، اس لئے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ فرشتے باذن پروردگار عالم میں تصرف کرتے ہیں کوئی زندوں کو مردہ کرتا ہے (ملک الموت) کوئی ماں کے پیٹ میں بچہ بناتا ہے کوئی بارش بر ساتا ہے کوئی حساب قبر لیتا ہے اوریہ سارے کام مافوق اسباب ہیں ۔ تو وہابیہ کے نزدیک یہ سارے الٰہ ہوگئے اسی طر ح انبیاء کرام علیہم السلام ما فوق اسباب حاجتیں پوری کرتے ہیں مشکلیں حل کرتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام اندھوں، کوڑھوں کو اچھا اور مردو ں کو زندہ کرتے تھے ۔ یوسف علیہ السلام اپنی قمیص سے باذن پروردگار نابینا آنکھ کو بینا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ، یہ سب الٰہ ٹھہرے او ران کا ماننے والا لاالہ الا اللہ کا منکر ہو احضرت عیسیٰ علیہ السلام گھر میں کھائی بچائی چیزوں کی خبر یں دیتے تھے ۔ آصف برخیاتخت بلقیس آن کی آن میں شام میں لے آتے ہیں یہ بھی الٰہ ہوئے ۔ غرضیکہ اس تعریف سے کوئی قرآن ماننے والا مسلمان نہیں ہوسکتا ۔ شاید جو اہر القرآن والے نے یہ تعریف سوتے میں لکھی ہے یا نشہ میں۔
مذکورہ بالا امور کی آیات ان شاء اللہ تیسرے با ب میں پیش ہوں گی۔
(۲) الٰہ بر حق کی بڑی پہچان صر ف یہ ہے کہ جس کو نبی کی زبان الٰہ کہے ، وہ الٰہ بر حق ہے او ر جس کی الوہیت کا پیغمبر انکار کریں وہ الٰہ باطل ہے ۔ تمام کافرو ں نے سورج ، چاند ، ستا روں ، پتھرو ں کو الٰہ کہا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا انکار کیا سارے  جھوٹے اورنبی سچے ،رب تعالیٰ کی الوہیت کا سارے فرعونیوں نے انکار کیا کلیم اللہ صلوۃ اللہ علیہ وسلامہ نے اقرار کیا ۔ سارے فرعونی جھوٹے اور موسیٰ علیہ السلام سچے الٰہ کی پہچان اس سے اعلی ناممکن ہے نبی الٰہ کی دلیل مطلق او ربرہان ناطق ہیں آیات ملاحظہ ہوں ۔

(1)فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

پس جادو گر سجدے میں ڈال دیئے گئے وہ بولے کہ ہم ایمان لائے جہانوں کے رب پر ، جو رب ہے حضرت موسی وہارون کا ۔(پ19،الشعرآء:46۔48)
    رب العالمین کی پہچان یہ بتائی کہ جو حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کا رب ہے ورنہ فرعون کہہ سکتا تھا کہ رب العالمین تو میں ہوں یہ مجھ پر ایمان لارہے ہیں فرعون نے ڈوبتے وقت کہا تھا :اٰمَنْتُ بِرَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ میں حضرت موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لایا۔اس نے بھی رب تعالیٰ کی معرفت بذریعہ ان دو پیغمبر وں کے کی اگر چہ اس کاایمان اس لئے قبول نہ ہوا کہ عذاب دیکھ کر ایمان لایا ۔ جب ایمان کا وقت گزرچکا تھا ۔

(2) اِذْ قَالَ لِبَنِیۡہِ مَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡۢ بَعْدِیۡ ؕ قَالُوۡا نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا

جب فرمایا یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہ میرے بعد کسے پوجوگے ؟ تو وہ بولے کہ آپ کے اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسمٰعیل اور اسحاق علیہم السلام کے رب کی عبادت کریں گے۔(پ1 البقرۃ:133)
    ان بزرگو ں نے بھی سچے الٰہ کی پہچان یہی عرض کی کہ جو پیغمبر وں کا بتایا ہوا الٰہ ہے وہی سچا ہے جیسے دھوپ آفتاب کی بڑی دلیل ہے ایسے ہی انبیاء کرام علیہم السلام
نور الٰہی کی تجلی اولی ہیں ان کافر مان رب تعالیٰ کی قوی برہان ہے اگر کوئی نبی کا فرمان چھوڑ کر اپنی عقل ودانش سے خدا کو پہچانے نہ وہ مومن ہے نہ موحد ۔

 

 



لفظ اِلٰہ کی تحقیق                             

    اِلٰہ اِلٰہٌ سے بنا جس کے لغوی معنی ہیں انتہائی بلندی یا حیرانی ۔ الٰہ وہ جو انتہائی بلند و بر تر ہو یا جس کی ذات یا صفات میں مخلوق کی عقل حیران رہ جائے قرآن کی اصطلاح میں الٰہ بمعنی مستحق عبادت ہے یعنی معبود جہاں کہیں اِلٰہ آوے اس کے معنی معبود ہونگے لااِلٰہ نہیں ہے کوئی مستحق عبادت اِلَّا اللہ خدا کے سوا۔ مستحق عبادت وہ جس میں یہ صفات ہوں پیدا کرنا ،رزق،زندگی، موت کا مالک ہونا ۔ خود مخلو ق کی صفات سے پاک ہونا جیسے کھانا ،پینا ،مرنا ، سونا، مخلوق ہونا، کسی عیب کا حامل ہونا وغیرہ دانا غیب مطلق ہونا ۔ عالم کا مالک حقیقی ہونا وغیرہ۔ فرماتا ہے :

(1) اَمِ اتَّخَذُوۡۤا اٰلِہَۃً مِّنَ الْاَرْضِ ہُمْ یُنۡشِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

کیا انہوں نے زمین میں سے معبود بنالیے وہ کچھ پیدا کرتے ہیں ۔(پ17،الانبیآء:21)
یعنی چونکہ ان بتوں میں پیدا کرنے کی قابلیت نہیں وہ توخود مخلوق ہیں لہٰذا وہ خدا نہیں۔

(2) اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الۡاَرْضِ ؕ

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ ہے اور وں کو قائم رکھنے والا ہے اسے نہ اونگھ آوے نہ نیند اس کی ہی وہ چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔(پ3،البقرۃ:255)

(3) مَا کَانَ مَعَہٗ مِنْ اِلٰہٍ اِذًا لَّذَہَبَ کُلُّ اِلٰہٍۭ بِمَا خَلَقَ

اور نہ اس کے ساتھ کوئی معبود ہے یوں ہوتا تو ہر خدا پنی مخلوق لے جاتا ۔(پ18،المؤمنون:91)

 

(4) وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اٰلِہَۃً لَّا یَخْلُقُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ ہُمْ یُخْلَقُوۡنَ وَلَا یَمْلِکُوۡنَ لِاَنۡفُسِہِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِکُوۡنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّ لَا نُشُوۡرًا ﴿۳﴾

انہوں نے خدا کے سوا اور خدا ٹھہرالئے جو کچھ نہیں پید اکرتے او رخود پیدا کئے جاتے ہیں اور نہیں مالک ہیں اپنی جانوں کیلئے نقصان ونفع کے اور نہیں مالک ہیں مرنے جینے کے اور نہ اٹھنے کے۔(پ18،الفرقان:3)
    ان جیسی بہت سی آیات سے یہ ہی پتا لگتا ہے کہ الٰہ حقیقی ہونے کا مدار مذکورہ بالا صفات پر ہے۔ مشرکین کے بتو ں اور اللہ تعالیٰ کے دیگر بندو ں میں چو نکہ یہ صفات موجود نہیں ہیں او رمخلوق کی صفتیں موجود ہیں جیسے کھانا ،پینا ، مرنا، سونا، صاحب اولاد ہونا ۔ لہٰذا وہ الٰہ نہیں ہوسکتے ۔

وَ اُمُّہٗ صِدِّیۡقَۃٌ ؕ کَانَا یَاۡکُلٰنِ الطَّعَامَ

اور عیسیٰ علیہ السلام کی ماں بہت سچی تھیں یہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔(پ6،المآئدۃ:75)
یعنی مسیح اور ان کی والدہ صاحبہ چونکہ کھانا کھاتے لہٰذا الٰہ نہیں ۔
    مشرکین عر ب نے اپنے معبودوں میں چونکہ حسب ذیل باتیں مانیں لہٰذا انہیں الٰہ مان لیا اور مشرک ہوگئے ۔
(۱) رب تعالیٰ کے مقابل دوسروں کی اطاعت کر نا حق سمجھ کر یعنی ان کا معبود جو کہے وہی حق ہے۔ خواہ رب کے خلاف ہی ہو ۔

(1) اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ اَفَاَنۡتَ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِ وَکِیۡلًا ﴿ۙ۴۳﴾

تو دیکھوتو جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا الٰہبنالیا تو کیا تم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہوگئے ۔(پ19،الفرقان:43)

 

(2) اِتَّخَذُوۡۤا اَحْبَارَہُمْ وَرُہۡبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَالْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا

عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور جو گیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا او رمسیح بیٹے مریم کو او رانہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک خدا کو پوجیں۔(پ10،التوبۃ:31)
    ظاہر ہے کہ عیسائیوں نے نہ تو اپنی خواہش کو نہ اپنے پادریوں کو خدا مانا مگر چونکہ رب تعالیٰ کے مقابلہ میں ان کی اطاعت کی اس لئے انہیں گویا الٰہ بنالیا۔
(۲) کسی کو یہ سمجھناکہ یہ ہم کو رب تعالیٰ کے مقابلہ میں اس سے بچالے گا یعنی وہ عذاب دینا چاہے تو یہ نہ دینے دیں۔

(1) اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ نَصْرَ اَنۡفُسِہِمْ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصْحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾

کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہمارے مقابل ہم سے بچالیں وہ تو اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طر ف سے ان کی مدد کی جائے ۔ (پ17،الانبیآء:43)
(۳) کسی کو دھونس کا شفیع سمجھنا کہ رب تعالیٰ کے مقابل اس کی مرضی کیخلاف ہمیں اس سے چھڑا لیگا ۔

(1) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلْ اَوَ لَوْ کَانُوۡا لَا یَمْلِکُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾قُلۡ لِّلہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا

کیا انہوں نے اللہ کے مقابل سفارشی بنا رکھے ہیں فرمادو کہ کیا اگر چہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں فرمادو کہ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔(پ24،الزمر:43،44)

(2) مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ

وہ کو ن ہے جو رب کے پاس اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکے ۔(پ3البقرۃ:255)

 

(۴)کسی کو شفیع سمجھ کر پوجنا اسے تعبدی سجدہ کرنا ۔

وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللہِ

اور وہ اللہ کے سواا ن چیزوں کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے نزدیک۔(پ11،یونس:18)
(۵)کسی کو خدا کی اولاد ماننا، پھر اس کی اطا عت کرنا ۔

وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ

اور بنایا ان مشرکین نے جنات کو اللہ کا شریک حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا اور بنایا اس کے لئے بیٹے اوربیٹیاں ۔ (پ7،الانعام:100)
    غرضیکہ الٰہ کا مدار صرف اسی پر ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر ماننا اور برابر ی کی وہ ہی صورتیں ہیں جو اوپر کی آیا ت سے معلوم ہوئیں۔ ہم مخلوق کو سمیع ، بصیر، زندہ ، قادر ، مالک ،وکیل، حاکم ،شاہد اور متصرف مانتے ہیں مگر مشرک نہیں کیونکہ کسی کو ان صفات میں رب تعالیٰ کی طر ح نہیں مانتے ۔
اعتراض:رب تعالیٰ بتو ں او رنبیوں ، ولیوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :

مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ سُبْحٰنَ اللہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۶۸﴾

اور ان کے لئے کوئی اختیار نہیں اللہ پاک اور برتر ہے اس سے جو شرک کرتے ہیں۔ (پ20،القصص:68)
    اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی کو اختیارماننا ہی شرک ہے تم بھی نبیوں ، ولیوں کو اختیار مانتے ہو۔ تم نے انہیں الٰہ بنالیا ۔

 

جواب : یہا ں اختیار سے مراد پید اکرنے کا اختیارہے، اسی لئے فرمایا گیا :

وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ

آپ کا رب جو چاہے پیدا کرے اور اختیار فرمائے انہیں کوئی اختیار نہیں ۔(پ20،القصص:68)
    بااختیار سے مراد ہے رب تعالیٰ کے مقابل اختیار ورنہ تم بھی بادشاہوں ، حاکموں کوبا اختیار مانتے ہو ۔ اسی لئے ان سے ڈرتے ہو ۔
اعتراض : رب تعالیٰ نے نبیوں ، ولیوں اور بتوں کے لئے فرمایا:

وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ

وہ ا للہ کے سوا ان چیز وں کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے نہ نفع ۔(پ11،یونس:18)
معلوم ہوا کہ کسی کو نافع اور ضار ماننا اسے الٰہ ماننا ہے اور تم بھی نبیوں ، ولیوں کو نافع اور ضار مانتے ہو تم بھی مشرک ہوئے ۔
جواب: ان جیسی آیات میں رب تعالیٰ کے مقابلہ میں نافع ماننا مراد ہے کہ رب تعالیٰ چاہے ہمیں نقصان پہنچا نا اور یہ ہمیں نفع پہنچادیں ، اس کی تفسیر یہ آیت ہے :

وَ اِنۡ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ

اگر خدا تمہیں رسوا کرے تو اس کے بعد تمہیں مدد کون دے گا ۔(پ4،اٰل عمرٰن: 160)
ورنہ تم بھی بادشاہ حاکموں ، بلکہ سانپ ، بچھو، دواؤں کو نافع اور نقصان دہ مانتے ہو۔ نیز فرماتا ہے :

وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾

اگر تجھے اللہ سختی پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنیوالا نہیں اور جو تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(پ7،الانعام:17)

 

    یہ آیت ان تمام آیتو ں کی تفسیر ہے کہ نفع نقصان سے مراد رب تعالیٰ کے مقابل نفع او رنقصان ہے ۔
اعتراض : رب تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیۡ عَنۡکَ شَیْـًٔا ﴿۴۲﴾

براہیم علیہ السلام نے کہاکہ اے باپ تم اسے کیوں پوجتے ہو جو نہ سنے نہ دیکھے نہ تم سے کچھ مصیبت دور کرے ۔(پ16،مریم:42)
     معلوم ہوا کہ کسی کو غائبانہ پکار سننے والا ،غائبانہ دیکھنے والا ، نافع وضا ر ماننا، اسے الٰہ ماننا ہے۔ یہ شرک ہے ۔تم بھی نبیوں ، ولیوں میں یہ صفات مانتے ہو ۔ لہٰذا انہیں الٰہ مانتے ہو ۔
جواب : اس آیت میں دور سے سننے، دیکھنے کا ذکر کہا ں ہے؟ یہا ں تو کفار کی حماقت کا ذکر ہے کہ وہ ایسے پتھروں کو پوجتے ہیں جن میں دیکھنے ،سننے کی بھی طاقت نہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ جو سنے، دیکھے ،وہ خدا ہے ورنہ پھرتو ہر زندہ انسان خدا ہونا چاہیے کہ وہ سنتا ،دیکھتا ہے۔ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿ۚ ۲﴾  (الدہر:2) ، رب تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَیۡدٍ یَّبْطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمْ لَہُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫

کیا ان بتوں کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں ۔(پ9،الاعراف:195)
    اس میں بھی ان کفار کی حماقت کا ذکر ہے کہ وہ بے آنکھ ، بے ہاتھ اور بے پاؤں کی مخلوق کو پوجتے ہیں حالانکہ ان بتو ں سے خود یہ بہترہیں کہ ان کے ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان وغیرہ تو ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس کے آنکھ ، کان ہوں وہ خدا ہوجائے ۔
اعتراض : رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَ اِنۡ تَجْہَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی ﴿۷﴾اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ

اگر تم اونچی بات کہو تو وہ پوشیدہ اور چھپی باتو ں کو جان لیتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(پ16،طہ:7،8)
    اس آیت سے معلوم ہو اکہ ا لٰہ کی شان یہ ہے کہ اونچی نیچی ، ظاہر، چھپی سب باتوں کو جانے، اگر کسی نبی ولی میں یہ طا قت مانی گئی تو اسے الٰہ مان لیا گیا او رشرک ہوگیا ۔
جواب : خدا کی یہ صفات ذاتی ، قدیم ، غیر فانی ہیں ۔ اسی طر ح کسی میں یہ صفات ماننا شرک ہے ۔ اس نے اپنے بندوں کو ظاہر پوشیدہ باتیں جاننے کی قوت بخشی ہے یہ قوت بہ عطاء الٰہی عارضی غیر میں ماننا عین ایمان ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾

بندہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک محافظ تیار بیٹھا ہے ۔(پ26،قۤ:18)
    یعنی اعمالنا مہ لکھنے والا فرشتہ انسا ن کا ہر ظاہر اور پوشیدہ کلام لکھتا ہے ۔اگر اسی فرشتے کو ہر ظاہر باطن بات کا علم نہ ہوتا تو لکھتا کیسے ہے ؟

وَ اِنَّ عَلَیۡکُمْ لَحٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۱۰﴾کِرَامًا کَاتِبِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾یَعْلَمُوۡنَ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾

اور بے شک تم پر کچھ نگہبان ہیں معزز لکھنے والے جانتے ہیں ہر وہ جوتم کرو ۔(پ30،الانفطار:10۔12) پتا لگا کہ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتے ہمارے چھپے اور ظاہر عمل کو جانتے ہیں ورنہ تحریر کیسے کریں ۔

 

اعتراض : رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَّ اَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنۡسِ یَعُوۡذُوۡنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوۡہُمْ رَہَقًا ۙ﴿۶﴾

اورکچھ انسانوں کے مرد کچھ جنوں کے مردوں کی پنا ہ لیتے تھے اور اس سے ان کا اور تکبر بڑھ گیا ۔(پ29،الجن:6)
معلوم ہوا کہ خدا کے سوا کسی کی پناہ لینا کفر و شرک ہے ۔ فرماتا ہے :

وَّ ہُوَ یُجِیۡرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیۡہِ

وہ رب پناہ دیتا ہے اور اس پر پناہ نہیں دی جاتی ۔ (پ18،المؤمنون:88)
جواب : ان آیات میں رب تعالیٰ کے مقابل پناہ لینا مراد ہے نہ کہ اس کے اذن سے اس کے بندوں کی پناہ ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾

اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر کے تمہارے پاس آجاویں اور اللہ سے بخشش چاہیں اور آپ بھی ان کی مغفرت کی دعا کریں تو اللہ کو توبہ قبول کرنیوالا مہربان پائیں ۔(پ5،النسآء:64)
    اگر یہ مراد نہ ہو تو ہم سردی گرمی میں کپڑوں مکانوں سے پناہ لیتے ہیں، بیماری میں حکیم سے ، مقدمہ میں حاکموں سے یہ سب شرک ہوجاوے گا ۔
اعتراض : خدا کے سوا کسی کو علم غیب ماننا شرک ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

قُل لَّا یَعْلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیۡبَ اِلَّا اللہُ ؕ

فرمادو جو آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں غیب کوئی نہیں جانتا اللہ کے سوا ۔(پ20،النمل:65)
علم غیب دلیل الوہیت ہے جسے علم غیب مانا اسے الٰہ مان لیا ۔(جواہر القرآن )

 

جواب : اگر علم غیب دلیل الوہیت ہے تو ہر مومن الٰہ ہے کیونکہ ایمان با لغیب کے بغیر کوئی مومن نہیں ہوتا اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ(البقرۃ:3) اور بغیر علم کے ایمان ناممکن ہے اور ملک الموت، ابلیس ، فرشتہ کا تب تقدیر بھی الٰہ ہوگئے کہ ان سب کو بہت علوم غیبیہ دیئے گئے ہیں۔ رب فرماتا ہے :

اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ہُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ ؕ

وہ ابلیس اور اس کے قبیلہ والے تم کو وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں دیکھ نہیں سکتے ۔(پ8،الاعراف:27)
     غیب کے متعلق نفی کی آیا ت بھی ہیں اور ثبوت کی بھی ۔ نفی کی آیات میں واجب، قدیم، کل ،ذاتی علم مراد ہے اور ثبوت کی آیات میں عطائی، ممکن، بعض، عارضی علم مراد۔ رب فرماتا ہے :

(1) وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾

نہیں ہے کوئی خشک وتر چیز مگر وہ روشن کتاب لوح محفوظ میں ہے ۔(پ7،الانعام:59)

(2) وَتَفْصِیۡلَ الْکِتٰبِ لَارَیۡبَ فِیۡہِ

قرآن لوح محفوظ کی تفصیل ہے اس میں شک نہیں ۔(پ11،یونس:37)

(3) وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ

ہم نے آپ پرقرآن اتاراتمام چیزوں کاروشن بیان(پ14،النحل:89)
اگر کسی کو علم غیب نہیں دینا تھا تو لکھا کیوں ؟ اور جب لکھا گیا تو جو فرشتے لوح محفوظ کے حافظ ہیں تو انہیں علم ہے یا نہیں ؟ضرور ہے تو چا ہیے کہ یہ سب الٰہ بن جائیں ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے :

(1) اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ

نہیں ہے حکم مگر اللہ کا۔(پ7،الانعام:57)

 

(2) اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا

میرے سوا کسی کو وکیل نہ بناؤ ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:2)

(3)وَکَفٰی بِاللہِ حَسِیۡبًا ﴿۶﴾

اللہ کافی حساب لینے والاہے۔ (پ4،النسآء:6)
تو چاہیے کہ وکیل ہونا ، حکم ہونا ، حسیب ہونا ، الوہیت کی دلیل ہو ۔ جسے وکیل مانا ۔ اسے خدا مان لیا۔

؎ گرہمیں مکتب وہمیں مُلّا            کار طفلاں تمام خواہد شد!

 

 


 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

ولی                                                                                          
لفظ'' وَلِیْ'' وَلْیٌ یا وَلَایَۃٌ سے بنا ہے ۔ وَلْیٌ کے معنی قرب اور ولایت کے معنی حمایت ہیں، لہٰذا وَلْیٌ کے لغوی معنی قریب ، والی ، حمایتی ہیں۔ قرآن شریف میں یہ لفظ اتنے معنی میں استعمال ہوا ہے ۱۔دوست ،۲۔قریب ،۳۔مددگار ،۴۔والی، ۵۔وارث ، ۶۔معبود ، ۷۔ مالک ، ۸۔ ہادی

(1) اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ رٰکِعُوۡنَ ﴿۵۵﴾

تمہارا دوست یا مدد گار صرف اللہ اور اسکے رسول اور وہ مومن ہیں جونماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اوررکوع کرتے ہیں۔(پ6،المائدۃ:55)

(2)نَحْنُ اَوْلِیٰٓـؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ

ہم ہی تمہارے دوست ہیں دنیا اور آخرت میں۔(پ24،حٰمۤ السجدۃ:31)

 

(3) فَاِنَّ اللہَ ہُوَ مَوْلٰىہُ وَ جِبْرِیۡلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ۚ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ ﴿۴﴾

پس نبی کا مدد گار اللہ ہے اور جبریل اور نیک مومن او راس کے بعد فرشتے مدد گار ہیں ۔(پ28،التحریم:4)

(4) وَاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾

پس بنادے تو ہمارے لئے اپنے پاس سے والی اور بنادے ہمارے لئے اپنے پاس سے مدد گار ۔(پ5،النسآء:75)

(5) اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمْ

نبی زیادہ قریب یا زیادہ مالک ہیں مسلمانوں کے بمقابلہ ان کی جانوں کے اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔(پ21،الاحزاب:6)
ان آیتوں میں ولی کے معنی قریب ، دو ست ، مدد گار، مالک ہیں۔

(6) اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنۡفُسِہِمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ

بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں اوروہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی ان کے بعض بعض کے وارث ہیں(پ10،الانفال:72)
    اس آیت میں ولی بمعنی وارث ہے کیونکہ شروع اسلام میں مہاجرو انصار ایک دوسرے کے وارث بنادیئے گئے تھے ۔

(7) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمْ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہ کی انہیں ان کی وراثت سے کچھ نہیں یہاں تک کہ ہجرت کریں۔(پ10،الانفال:72)

 

اس آیت میں بھی ولی سے مراد وارث ہے کیونکہ اول اسلام میں غیرمہاجر،مہاجرکا وارث نہ ہوتاتھا۔

(8) وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ

اور کافر بعض بعض کے وارث ہیں۔(پ10،الانفال:73)

(9)  وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ

رشتہ دار بعض بعض کے وارث ہیں(پ10،الانفال:75)

(10)  فَہَبْ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۙ﴿۵﴾یَّرِثُنِیۡ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوۡبَ

تومجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا وارث دے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث وجانشین ہو۔ (پ16،مریم:5،6)
ان آیات میں بھی ولی سے مراد وارث ہے جیسا کہ بالکل ظاہر ہے ۔

(11) اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُخْرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۬ؕ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَوۡلِیٰٓـُٔہُمُ الطَّاغُوۡتُ ۙیُخْرِجُوۡنَہُمۡ مِّنَ النُّوۡرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ ؕ

اللہ تعالیٰ مومنوں کا حامی والی ہے کہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طر ف نکالتا ہے اور کافروں کے حامی والی شیطان ہیں جوانہیں روشنی سے اندھیرے کی طر ف نکالتے ہیں ۔(پ3،البقرۃ:257)
اس آیت میں ولی بمعنی حامی والی ہے ، بعض آیات میں ولی بمعنی معبود آیا ہے ملاحظہ ہو:

(12) وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوْلِیَآءَ ۘ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلْفٰی ؕ

جنہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنالئے اور کہتے ہیں کہ نہیں پوجتے ہم ان کو مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔(پ23،الزمر:3)

جنہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنالئے اور کہتے ہیں کہ نہیں پوجتے ہم ان کو مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔

 

اس آیت میں ولی بمعنی معبود ہے اس لئے آگے فرمایا گیا: مَانَعْبُدُہُمْ

(13) اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا ﴿۱۰۲﴾

تو کیا یہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے سوا میرے بندوں کو معبود بنالیں بے شک ہم نے کافروں کی مہمانی کیلئے دوزخ تیا رکر رکھی ہے ۔(پ16،الکہف:102)
    اس آیت میں بھی ولی بمعنی معبود ہے ۔ اس لئے ان ولی بنانے والوں کو کافر کہا گیا ۔ کیونکہ کسی کو دوست اور مدد گار بنانے سے انسان کافر نہیں ہوتا جیسا کہ پچھلی آیتوں سے معلوم ہوا ہے ۔ معبود بنانے سے کافر ہوتا ہے :

(14) مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنۡکَبُوۡتِ  ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَیۡتًا

ان کی مثال جنہوں نے خدا کے سوا کوئی معبود بنالیا مکڑی کی طر ح ہے جس نے گھر بنایا ۔(پ20،العنکبوت:41)
اس آیت میں بھی ولی بمعنی معبود ہے کہ یہاں کفار کی مذمت بیان ہو رہی ہے اور کافر ہی دوسروں کو معبود بناتے ہیں ۔


ولی اللہ، ولی من دون اللہ                   

 


    ولی بمعنی دو ست یامدد گار دو طرح کے ہیں ایک اللہ کے ولی ،دوسرے اللہ کے مقابل ولی۔ اللہ کے ولی وہ ہیں جو اللہ سے قرب رکھتے ہیں اور اس کے دوست ہوں او راسی وجہ سے دنیا والے انہیں دوست رکھتے ہیں ولی من دون اللہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ خدا کے دشمنوں کو دوست بنایا جائے جیسے کافر وں یابتوں یا شیطان کو ،
 دوسرے یہ کہ اللہ کے دوستوں یعنی نبی ،ولی کو خدا کے مقابل مدد گار سمجھا جائے کہ خدا کا مقابلہ کرکے یہ ہمیں کام آئیں گے ۔ ولی اللہ کو ماننا عین ایمان ہے اور ولی من دون اللہ بنانا عین کفر وشرک ہے ۔ ولی اللہ کے لئے یہ آیت ہے :

(1)اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۲﴾الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾

خبردار ! اللہ کے دوست نہ ان پر خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے وہ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کرتے ہیں۔(پ11،یونس:62،63)
اس آیت میں ولی اللہ کا ذکر ہے۔

(2) لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ

مسلمان کافروں کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں کے سوا۔(پ3،اٰل عمرٰن:28)

(3) مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾

اللہ کے مقابل نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مدد گار (پ1،البقرۃ:107)
    ان دو آیتو ں میں ولی من دون اللہ کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں دشمنان خدا کو دوست بنانے کی ممانعت ہے ۔ دوسری میں خدا کے مقابل دوست کی نفی ہے یعنی رب تعالیٰ کے مقابل دنیا میں کو ئی مد د گار نہیں نہ ولی ، نہ پیر ، نہ نبی۔ یہ حضرات جس کی مدد کرتے ہیں اللہ کے حکم اور اللہ کے ارادے سے کرتے ہیں ۔
ولی یا اولیاء کے ان معانی کابہت لحاظ رکھنا چاہیے۔ بے موقع تر جمہ بدعقیدگی کا باعث ہوتا ہے مثلا ۔ اگرنمبر۱کی آیت اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہ، (المائدۃ:55) کا
ترجمہ یہ کردیا جائے کہ تمہارے معبود اللہ، رسول اور مومنین ہیں شرک ہوگیا اور اگر وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾  (البقرۃ:۱۰۷)

کے یہ معنی کردیئے جائیں کہ خدا کے سوا کوئی مددگا ر نہیں تو کفر ہوگیاکیونکہ قرآن نے بہت سے مدد گا روں کا ذکر فرمایا ہے اس آیت کا انکار ہوگیا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے کافر وں ، ملعونوں کا کوئی مددگار نہیں۔ معلوم ہواکہ مومنوں کے مدد گار ہیں۔

(1) وَمَنۡ یَّلْعَنِ اللہُ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۵۲﴾

اور جس پر خدا لعنت کردے اس کے لئے مدد گار کوئی نہیں پاؤگے۔(پ5،النسآء:52)

(2) وَ مَنۡ یُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ وَّلِیٍّ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ (پ25،الشورٰی:44)

اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے پیچھے کوئی مدد گار نہیں۔

(3) وَمَنۡ یُّضْلِلْ فَلَنۡ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا ﴿٪۱۷﴾ (پ15،الکھف:17)

جسے اللہ گمراہ کردے اس کیلئے ہادی مرشد آپ نہ پائیں گے ۔

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites


دعا                                      

    دُعَا دَعْوٌ یادَعْوَتٌ سے بناہے جس کے معنی بلانا یا پکارنا ہے ۔قرآن شریف میں لفظ دعا پانچ معنی میں استعمال ہوا ہے ۔۱۔پکارنا، ۲۔بلانا، ۳۔مانگنا یا دعا کرنا، ۴۔پوجنا یعنی معبود سمجھ کر پکارنا، ۵۔ تمنا آرزو کرنا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ ہُوَ اَقْسَطُ عِنۡدَ اللہِ (پ21،الاحزاب:5)

انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو یہ اللہ کے نزدیک عدل ہے ۔

(2) وَّ الرَّسُوۡلُ یَدْعُوۡکُمْ فِیۡۤ اُخْرٰىکُمْ (پ4،اٰل عمرٰن:153)

اور پیغمبر تم کو تمہارے پیچھے پکارتے تھے

(3) لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمۡ بَعْضًا ؕ (پ18،النور:63)

رسول کے پکارنے کو بعض کے بعض کو پکارنے کی طر ح نہ بناؤ ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا بمعنی پکارنا ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (پ14،النحل:125)

اپنے رب کے راستہ کی طر ف لوگو ں کو حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ ۔

 


(۲)وَادْعُوْاشُہَدَآءَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ (پ۱،البقرۃ:۲۳)

اور بلاؤ اپنے مدد گار وں کو اللہ کے سوا۔

(3) وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ (پ4،اٰل عمرٰن:104)

اور تم میں ایک گر وہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طر ف بلائے ۔
ان جیسی آیات میں دعا کے معنی بلانے کے ہیں ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً  (پ8،الاعراف:55)

 

اپنے رب سے عاجزی سے خفیہ طو ر پر دعا مانگو ۔

(2) اِنَّ رَبِّیۡ لَسَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۹﴾ (پ13،ابراہیم:39)

بے شک میرا رب دعا کا سننے والاہے ۔

(3) رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ  (پ13،ابراہیم:40)

اے ہمارے رب میری دعا سن لے ۔

 

(4) فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ (پ21،العنکبوت:65)

جب وہ کشتی پر سوار ہوتے ہیں توخداسے دعامانگتے ہیں دین کو اس کیلئے خالص کر کے ۔

(5) وَّ لَمْ اَکُنۡۢ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا ﴿۴﴾ (پ16،مریم:4)

اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگنے میں کبھی نامراد نہ رہا ۔

(6)  اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ (پ2،البقرۃ:186)

میں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب مجھ سے دعا کرتا ہے۔

(7) وَمَا دُعَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾ (پ13،الرعد:14)

اور نہیں ہے کافرو ں کی دعا مگر بربادی میں۔

(8) ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ (پ3،اٰل عمرٰن:38)

وہا ں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ۔
ان جیسی تمام آیات میں دعا کے معنی دعا مانگنا ہیں۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ لَکُمْ فِیۡہَا مَا تَشْتَہِیۡۤ اَنۡفُسُکُمْ وَ لَکُمْ فِیۡہَا مَا تَدَّعُوۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾ (پ24،حمۤ السجدۃ:31)

اور تمہارے لئے جنت میں وہ ہوگا جو تمہارے دل چا ہیں اور تمہارے لئے وہاں وہ ہوگا جس کی تم تمنا کرو ۔
اس آیت میں دعا بمعنی آرزو کرنا، چاہنا ،خواہش کرنا ہے۔

(1) اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ  (پ9،الاعراف:194)

جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم جیسے بندے ہیں ۔

 

(2) وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ فَلَا تَدْعُوۡا مَعَ اللہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾ (پ29،الجن:18)

بے شک مسجدیں اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پوجو۔

(3) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَنۡ لَّا یَسْتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الْقِیٰمَۃِ  (پ26،الاحقاف:5)

اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا ایسوں کو پوجتا ہے جو اس کی عبادت قبول نہ کرے قیامت تک ۔

(4) قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلۡ لَّمْ نَکُنۡ نَّدْعُوۡا مِنۡ قَبْلُ شَیْـًٔا ؕ (پ24،المؤمن:74)

کافر کہیں گے کہ وہ غائب ہوگئے ہم سے بلکہ ہم ا س سے پہلے کسی چیز کو نہ پوجتے تھے ۔

(5) وَالَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ لَا یَخْلُقُوۡنَ شَیْـًٔا وَّہُمْ یُخْلَقُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾اَمْوَاتٌ غَیۡرُ اَحْیَآءٍ
(پ14،النحل:20،21)

اور وہ جن کی یہ مشرکین پوجا کرتے ہیں اللہ کے سوا وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ پیدا کئے جاتے ہیں یہ مردے ہیں زندہ نہیں ۔

(6) وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمْ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدْعُوْ مِنۡ دُوۡنِکَ (پ14،النحل:86)

اورجب مشرکین اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے رب ہمارے یہ ہمارے وہ معبود ہیں جنہیں ہم تیرے سوا پوجا کرتے تھے ۔
    ان جیسی تمام وہ آیات جن میں غیر خدا کی دعا کو شرک وکفر کہا گیا یا اس پر جھڑکا گیا ان سب میں دعا کے معنی عبادت (پوجا) ہے اور یدعون کے معنی ہیں وہ پوجتے ہیں اس کی تفسیر قرآن کی ان آیتو ں نے کی ہے جہاں دعا کے ساتھ عبادت یا الٰہ کا لفظ آگیا ہے ،فرماتا ہے :

 

(1) ہُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ فَادْعُوۡہُ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ؕ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۵﴾قُلْ اِنِّیۡ نُہِیۡتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ  (پ24،المؤمن:66)

وہ ہی زندہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اسے پوجو۔ اس کے لئے دین کو خالص کر کے سب خوبیاں اللہ رب العالمین کیلئے ہیں تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔
    اس آیت میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَا وراَنْ اَعْبُدَنے صاف بتادیا کہ یہاں دعا سے پوجنا مراد ہے نہ کہ پکارنا۔

(2) وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ سَیَدْخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیۡنَ ﴿٪۶۰﴾  (پ24،المؤمن:60)

اور تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے دعا کرومیں تمہاری دعاقبول کرو ں گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر دو زخ میں جائیں گے
    یہاں دعا سے مراد دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اس لئے ساتھ ہی عبادت کا ذکر ہو افقط پکارنا مراد نہیں ۔

(3) وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَنۡ لَّا یَسْتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنۡ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمْ اَعْدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾ (پ26،الاحقاف:5ـ6)

اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا اس کی پوجا کرتا ہے جو قیامت تک اس کی نہ سنیں اور جب لوگوں کا حشر ہوگا تو یہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوجاویں گے۔

 

    یہاں بھی دعا سے مراد پکارنا نہیں بلکہ پوجنا یعنی معبود سمجھ کرپکارنا مراد ہے کیونکہ ساتھ ہی ان کے اس فعل کو عبادت کہا گیا ہے۔ ان آیات نے ان تمام کی شرح کردی جہاں غیر خدا کی دعاکو شرک فرمایا گیا اور بتا دیا کہ وہاں دعا سے مراد پوجنا یا دعا مانگنا ہے اور دعا بھی عبادت ہے اگر غیر خدا کو پکارنا شرک ہوتا تو جن آیتو ں میں پکارنے کا حکم دیا گیا ۔ ان سے ان آیات کا تعارض ہوجاتا ۔ پکارنے کی آیات ہم نے ابھی پیش کردیں اس لئے عام مفسرین ان ممانعت کی آیتو ں میں دعا کے معنی عبادت کرتے ہیں ان کی یہ تفسیر قرآن کی ان آیتوں سے حاصل ہے ۔
اعتراض: دعا کے معنی کسی لغت میں عبادت نہیں دعا کے معنی بلانا، نداکر نا عام لغت میں مذکور ہیں لہٰذا ان تمام آیتوں میں اس کے معنی پکارنا ہی ہیں (جواہر القرآن )
جواب : اس کے دو جواب ہیں ایک یہ کہ دعاکے لغوی معنی پکارنا ہیں او راصطلاحی معنی عبادت ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا جہاں دعا کی اجاز ت ہے وہا ں لغوی پکارنا مراد ہیں اور جہاں غیر خدا کی دعا سے ممانعت ہے وہاں عرفی معنی پوجنا مراد ہیں ۔ جیسے لغت میں صلوۃ کے معنی دعا ہیں او رعرفی معنی نماز۔ قرآن میں اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ میں صلوٰۃسے مراد نمازہے اور صَلِّ عَلَیْہِمْ اور صَلُّوْاعَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا میں صلوٰۃسے مراددعا ہے ۔ تمہارا اعتراض ایسا ہے جیسے کوئی نماز کا انکار کردے اور کہے قرآن میں جہاں بھی صلوٰۃآیاہے وہاں دعامرادہے کیونکہ یہی اس کے لغوی معنی ہیں ایسے ہی طواف کے لغوی معنی گھومنا ہیں اوراصطلاحی معنی ایک خاص عبادت ہیں قرآن میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہو اہے ۔

 

    دوسرے یہ کہ واقعی دعا کے معنی پکارنا ہیں مگر پکارنے کی بہت سی نوعیتیں ہیں جن میں سے کسی کو خدا سمجھ کر پکارنا عبادت ہے ، ممانعت کی آیات میں یہی مراد ہے یعنی کسی کو خدا سمجھ کر نہ پکارے ۔ اس کی تصریح قرآن کی اس آیت نے فرمادی:

وَمَنۡ یَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَب

اور جو خدا کے ساتھ دوسرے خدا کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب رب کے پاس ہے ۔ ِّہٖ (پ18،المؤمنون:117)
    اس آیت نے خوب صاف فرمادیا کہ پکارنے سے خدا سمجھ کر پکارنا مراد ہے ۔
اعتراض : ان ممانعت کی آیتو ں میں پکارنا ہی مراد ہے مگر کسی کو دور سے پکارنا مراد ہے یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہا ہے یہ ہی شرک ہے ۔(جواہر القرآن)
جواب :یہ بالکل غلط ہے ۔ قرآن کی ان آیتو ں میں دور نزدیک کا ذکر نہیں ۔ یہ قید آپ نے اپنے گھر سے لگائی ہے نیز یہ قید خود قرآن کی اپنی تفسیر کے بھی خلاف ہے لہٰذا مردود ہے نیز اگر دور سے پکارنا شرک ہو تو سب مشرک ہوجائیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا حالانکہ وہ نہا وند میں تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ بنا کر تمام دور کے لوگوں کو پکارا اور تمام روحوں نے جو قیامت تک پیدا ہونیوالی تھیں انہوں نے سن لیا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے ۔ آج نمازی حضور علیہ السلام کو پکارتا ہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیّ اے نبی!علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو ۔اگر یہ شرک ہوجاوے تو ہر نمازی کی نماز تو پیچھے ختم ہوا کرے ایمان پہلے ختم ہوجاوے آج ریڈیو کے ذریعہ دور سے لوگو ں کو پکارتے ہیں او روہ سن لیتے ہیں اگر کہا جائے کہ ریڈیوکی بجلی کی طاقت ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت دور سے سننا شرک نہیں تو ہم بھی کہیں گے کہ نبوت کے نور کی طاقت ایک سبب ہے اور سبب کے ماتحت سننا شر ک نہیں غرضیکہ یہ اعتراض نہایت ہی لغوہے ۔
اعتراض: ممانعت کی آیتو ں میں مردو ں کو پکارنا مراد ہے یعنی مرے ہوئے کو پکارنا یہ سمجھ کر کہ وہ سن رہاہے شرک ہے ۔    (جواہر القرآن)
جواب : یہ بھی غلط ہے چند وجہ سے ایک یہ کہ یہ قید تمہارے گھر کی ہے قرآن میں نہیں آئی۔ رب تعالیٰ نے مردہ ، زندہ ، غائب ، حاضر ، دور نزدیک کی قید لگا کر ممانعت نہ فرمائی ۔ لہٰذا یہ قید باطل ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ تفسیر خود قرآن کی تفسیر کے خلاف ہے ۔ اس نے فرمایا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ۔ تیسرے یہ کہ اگر مردو ں کو پکارنا شرک ہو تو ہرنمازی نمازمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو پکارتا ہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی!علیہ الصلوۃ والسلام آپ پر سلام ہو،حالانکہ حضور وفات پاچکے ہیں ہم کو حکم ہے کہ قبر ستان جا کر یوں سلام کریں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، اے مسلمانوں کے گھر والو! تم پر سلام ہو۔
    ابراہیم علیہ السلام نے ذبح کی ہوئی چڑیوں کو پکارا اور انہوں نے سن لیا ۔ رب تعالیٰ نے فرمایا :

ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا

پھر ان مرے ہوئے پرندوں کو پکار و وہ دوڑتے ہوئے تم تک آجائیں گے ۔(پ3،البقرۃ:260)
    حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو ان کی ہلاکت کے بعد پکارا ، صالح علیہ السلام کا قصہ سورہئ اعراف میں اس طر ح بیان ہوا :

 

فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمْ جٰثِمِیۡنَ ﴿۷۸﴾فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنۡ لَّاتُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾

تو انہیں زلزلے نے پکڑلیا تو وہ اپنے گھرو ں میں اوندھے پڑے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیر ا اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچادیا اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے ۔ (پ8،الاعراف:78۔79)
شعیب علیہ السلام کا واقعہ اسی سورہ اعراف میں کچھ آگے یوں بیان فرمایا :

فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ ۚ فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾

شعیب نے ہلاکت کفار کے بعد ان سے منہ پھیرا اور کہا اے میری قوم ! میں نے تجھے اپنے رب کے پیغام پہنچا دیئے اور تمہاری خیر خواہی کی تو میں کا فر قوم پر کیسے غم کرو ں ؟ (پ9،الاعراف:93)
    ان دونوں آیتو ں میں فَتَوَلّٰی کی ف سے معلوم ہوا کہ ان دونوں پیغمبر وں علیہما الصلوۃ والسلام کا یہ خطاب قوم کی ہلاکت کے بعد تھا ۔ خود ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بد ر کے دن مرے ہوئے ابوجہل، ابولہب،امیہ ابن خلف وغیرہ کفار سے پکار کر فرمایا اور حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عرض کرنے پر فرمایا کہ تم ان مردوں سے زیادہ نہیں سنتے ۔

(صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی عذاب القبر، الحدیث۱۳۷۰،ج۱،ص۴۶۲،دار الکتب العلمیۃ)

    کہیے ! اگر قرآن کے فتوے سے مردوں کو پکارنا شرک ہے تو ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اس پکارنے کا کیا جواب دوگے ۔ غرضیکہ یہ اعتراض محض باطل ہے ۔

 

اعتراض : کسی کو دور سے حاجت روائی کے لئے پکارنا شرک ہے اور ممانعت کی آیتو ں میں یہی مراد ہے لہٰذا اگر کسی نبی ولی کو دور سے یہ سمجھ کر پکارا گیا کہ وہ ہمارے حاجت روا ہیں تو شرک ہوگیا ۔    ( جواہر القرآن)
جواب : یہ اعتراض بھی غلط ہے ۔ اولًا تو اس لئے کہ قرآن کی ممانعت والی آیتو ں میں یہ قید نہیں تم نے اپنے گھر سے لگائی ہے ۔لہٰذا معتبر نہیں ۔ دو سرے اس لئے کہ یہ تفسیر خود قرآن کی اپنی تفسیر کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ تیسرے اس لئے کہ ہم نے بتادیا کہ اللہ کے بندے دور سے سنتے ہیں خواہ نورنبوت سے یا نور ولایت سے۔ دوسرے باب میں ہم عرض کریں گے کہ قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ کے بندے حاجت روا ، مشکل کشا بھی ہیں ۔ جب یہ دونوں باتیں علیحد ہ علیحد ہ صحیح ہیں تو ان کا مجموعہ شرک کیونکر ہوسکتا ہے ۔قرآن فرمارہا ہے کہ اللہ کے بندے وفات کے بعد سن بھی لیتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں جوخاص خاص کو محسوس ہوتا ہے ۔ رب فرماتا ہے :

وَسْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ ٭ اَجَعَلْنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعْبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾

اے حبیب ان رسولوں سے پوچھوجو ہم نے آپ سے پہلے بھیجے کیا ہم نے خدا کے سوا ایسے معبود بنائے ہیں جن کی عبادت کی جاوے ۔(پ25،الزخرف:45)
    غور کر و کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والسلام وفات پاچکے تھے۔ مگر رب تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اے محبوب ! ان وفات یافتہ رسولوں سے پوچھ لوکہ کیا کوئی خدا کے سوا اور معبود ہے اور پوچھا اس سے جاتا ہے جو سن بھی لے اور جواب بھی دے ۔پتا لگا کہ اللہ کے بندے بعد وفات سنتے اور بولتے ہیں معراج کی رات سارے وفات یافتہ رسولوں نے حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھی ۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر وفات یافتہ رسولوں نے حج میں شرکت کی اور حج ادا کیا۔ اس بارے میں بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں ۔
    خلاصہ یہ ہے کہ دعا قرآن کریم میں بہت سے معنوں میں استعمال ہوا ہے ہر جگہ اس کے وہ معنی کرنا چاہئیں جو وہاں کے مناسب ہیں ۔ جن وہابیوں نے ہرجگہ اس کے معنی پکارنا کئے ہیں وہ ایسے فحش غلط ہیں جس سے قرآنی مقصد فو ت ہی نہیں بلکہ بدل جاتا ہے۔ اسی لئے وہابیوں کو اس پکارنے میں بہت سی قیدیں لگانی پڑتی ہیں کبھی کہتے ہیں غائب کو پکارنا ،کبھی کہتے ہیں مردہ کو پکارنا،کبھی کہتے ہیں دور سے سنانے کیلئے پکارنا، کبھی کہتے ہیں مافوق الاسباب سنانے کے لئے دور سے پکارنا شرک ہے مگر پھر بھی نہیں مانتے پھر تعجب ہے کہ جب کسی کو پکارنا عبادت ہوا تو عبادت کسی کی بھی کی جائے شرک ہے ، زندہ کی یا مردہ کی ، قریب کی یادور کی پھر یہ قیدیں بے کار ہیں ۔ غرضکہ یہ معنی نہایت ہی غلط ہیں ۔ ان جگہوں میں دعا سے مراد پوجنا ہے ۔ اس معنی پر نہ کسی قید کی ضرورت ہے نہ کوئی دشواری پیش آسکتی ہے ۔
نوٹ ضروری: اللہ کے پیارے وفات کے بعد زندوں کی مدد کرتے ہیں۔
قرآن شریف سے ثابت ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیۡتُکُمۡ مِّنۡ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ

یاد کرو جب اللہ نے پیغمبر وں سے عہد لیا کہ جو میں تمہیں کتا ب وحکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ۔ (پ3،اٰل عمرٰن:81)

 

    اس آیت سے پتا لگاکہ میثاق کے دن رب تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے دو وعدے لئے ۔ ایک حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانا ، دوسرے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کرنا ۔ اور رب تعالیٰ جانتا تھا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے کسی کی زندگی میں نہ تشریف لائینگے پھر بھی انہیں ایمان لانے اور مدد کرنے کا حکم دیا معلوم ہوا کہ روحانی ایمان اور روحانی مدد مراد ہے اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے دونوں وعدوں کو پورا کیا کہ معراج کی رات سب نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے نماز پڑھی یہ ایمان کاثبوت ہے ۔ بہت سے پیغمبر وں نے حج الوداع میں شرکت کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شب معراج دین مصطفی کی اس طر ح مدد کی کہ پچا س نمازوں کی پانچ کرادیں ۔ اب بھی وہ حضرات انبیائعلیہم الصلوۃ والسلام مسلمانوں کی اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کے دین کی روحانی مدد فرمارہے ہیں اگر یہ مدد نہ ہوا کرتی تو یہ عہد لغو ہوتا عیسی علیہ السلام آخر زمانہ میں اس عہد کو ظاہر طور پر بھی پورا فرمانے کے لئے تشریف لائیں گے ۔
 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

عبادت                                 

    قرآن شریف کی اصطلاحوں میں عبادت بھی بہت اہم اور نازک اصطلاح ہے ۔کیونکہ یہ لفظ قرآن شریف میں بہت کثرت سے آیا ہے اور اس کے معنے میں نہایت باریکی ہے ۔ اطاعت ، تعظیم ، عبادت ان تینوں میں نہایت لطیف فرق ہے بعض لوگ اس نازک فرق کا اعتبار نہیں کرتے ۔ ہر تعظیم کو بلکہ ہر اطاعت کو عبادت کہہ کر سارے مسلمانوں بلکہ اپنے بزرگوں کو بھی مشرک وکافر کہہ دیتے ہیں ۔ اس لئے اس کا مفہوم ، اس کا مقصو د ، بہت غور سے سنیئے ۔
    عبادت عبدٌ سے بنا ہے بمعنی بندہ، عبادت کے لغوی معنی ہیں بندہ بننا یا اپنی بندگی کا اظہار کرنا جس سے لازم آتا ہے معبود کی الوہیت کا اقرار کرنا مفسرین نے اس کی تعریف انتہائی تعظیم بھی کی ہے اورانتہائی عاجزی بھی۔دونوں تعریفیں درست ہیں کیونکہ عابدکی انتہائی عاجزی سے معبودکی انتہائی تعظیم لازم ہے اور معبود کی انتہائی تعظیم سے عابد کی انتہائی عاجزی مستلزم۔ انتہائی تعظیم کی حد یہ ہے کہ معبود کی وہ تعظیم کی جاوے جس سے زیادہ تعظیم ناممکن ہو او راپنی ایسی عاجزی کی جاوے جس سے نیچے کوئی درجہ متصور نہ ہو اس لئے عبادت کی شرط یہ ہے کہ بندگی کر نیوالا معبود کو الٰہ اور اپنے کو اس کا بندہ سمجھے یہ سمجھ کر جو تعظیم بھی اس کی کریگا عبادت ہوگی ۔ اگر اسے الٰہ نہیں سمجھتا ۔ بلکہ نبی ، ولی ، باپ ، استاد ، پیر ، حاکم ، بادشاہ سمجھ کر تعظیم کرے تو اس کا نام اطا عت ہوگا ۔ توقیر ، تعظیم ، تبجیل ہوگا ، عبادت نہ ہوگا غرضیکہ اطاعت وتعظیم تو اللہ تعالیٰ اور بندوں سب کی ہوسکتی ہے لیکن عبادت اللہ تعالیٰ ہی کی ہوسکتی ہے بندے کی نہیں اگر بندے کی عبادت کی تو شرک ہوگیا اور اگر بندے کی تعظیم کی تو جیسا بندہ ویسا اس کی تعظیم کا حکم ۔کوئی تعظیم کفر ہے، جیسے گنگا جمنا ، ہولی ، دیوالی کی تعظیم ۔ کوئی تعظیم ایمان ہے جیسے پیغمبر کی تعظیم، کوئی تعظیم ثواب ہے، کوئی گناہ ۔ اسی لئے قرآن کریم میں عبادت کے ساتھ ہمیشہ اللہ تعالیٰ یا رب یاالٰہ کا ذکر ہے اور اطاعت وتعظیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بھی ذکر ہے اورنبی کا بھی ، ماں باپ کا بھی حاکم کا بھی فرماتا ہے :

(1) وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیۡنِ اِحْسَانًا

آپ کے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:23)

 

(2) مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللہَ رَبِّیۡ وَرَبَّکُمْ

نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہ'' ہی'' جس کاتو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارارب ہے ۔(پ7،المائدۃ:117)

(3) یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمْ

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کر و
جس نے تمہیں پیدا کیا ۔(پ1،البقرۃ:21)

(4) نَعْبُدُ اِلٰہَکَ وَ اِلٰـہَ اٰبَآئِکَ اِبْرٰہٖمَ وَ اِسْمٰعِیۡلَ وَ اِسْحٰقَ

ہم عبادت کر ینگے آپ کے الٰہ کی اور آپ کے باپ دادوں ابراہیم، اسمٰعیل اور اسحق کے الٰہ کی۔ علیہم السلام(پ1،البقرۃ:133)

 (5) قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوۡنَ ۙ﴿۲﴾

فرمادو اے کافر و جن کی تم پوجا کرتے ہو ان کی پوجا میں نہیں کرتا ۔(پ30،الکا فرون:1۔2)
    ان جیسی ساری عبادت کی آیتو ں میں صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوگا لیکن اطاعت وتعظیم میں سب کا ذکر ہوگا۔

(1) اَطِیۡعُوا اللہَ وَاَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمْرِ مِنۡکُمْ

اطا عت کرواللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور اپنے میں سے حکم والوں کی ۔(پ5،النسآء:59)

(2) مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ

جس نے رسول کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی ۔(پ5،النسآء:80)

(3) وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ

نبی کی مدد کرو اور ان کی تعظیم وتو قیر کر و۔(پ26،الفتح:9)

(4) فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَعَزَّرُوۡہُ وَنَصَرُوۡہُ

پس جو ایمان لائے نبی پر اور تعظیم کی ان کی اور مدد کی ۔(پ9،الاعراف:157)

 

(5) وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾

اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلی پرہیز گاری ہے ۔(پ17،الحج:32)
    غرضیکہ تعظیم واطاعت بندے کی بھی ہوسکتی ہے لیکن عبادت صرف اللہ کی جب عبادت میں یہ شرط ہے کہ الٰہ جان کر کسی کی تعظیم کرنا تو یہ بھی سمجھ لو کہ الٰہ کون ہے اس کی پوری تحقیق ہم الٰہ کی بحث میں کر چکے کہ الٰہ وہ ہے جسے خالق مانا جائے یا خالق کے برابر ۔ برابری خواہ خدا کی اولاد مان کر ہو یا اس طر ح مستقل مالک ، حاکم ، حی ، قیوم مان کریا اللہ تعالیٰ کو اس کا حاجت مند مان کر ہو ۔ ایک ہی کام اس عقیدے سے ہو تو عبادت ہے اور اس عقیدے کے بغیر ہو تو عبادت نہیں۔
دیکھو رب تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو :

(1) فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَنَفَخْتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ ﴿۲۹﴾

پس جب میں انہیں برابر کردو ں اور ان میں اپنی روح پھونک دو ں تو تم ان کیلئے سجدہ میں گر جاؤ۔(پ14،الحجر:29)

(2) وَرَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا

اور یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو تخت پراٹھالیا اور وہ سب ان کے سامنے سجدے میں گر گئے ۔(پ13،یوسف:100)
    ان آیتو ں سے پتا لگا کہ فرشتو ں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں سجدہ کیا اور بھی امتوں میں سجدہ کا رواج تھا کہ چھوٹے بڑوں کو سجدہ کرتے تھے پھر یہ بھی فرمایا :

 

(3) لَا تَسْجُدُوۡا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوۡا لِلہِ

سورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو ۔اور اللہ کوسجدہ کر و۔(پ24،حٰمۤ السجدۃ:37)
    اس قسم کی بہت آیتو ں میں سجدہ کرنے کو منع فرمایا گیا بلکہ اسے کفر قرار دیا ۔ پچھلی آیتو ں میں سجدہ تعظیمی مراد ہے اور ان آیتو ں میں سجدہ تعبدی مراد ہے ۔ بندوں کو تعبدی سجدہ نہ اس سے پہلے کسی دین میں جائز تھا نہ ہمارے اسلام میں جائز، ہمیشہ سے یہ شرک ہے سجدہ تعظیمی پہلے دینوں میں جائز تھا ہمارے اسلام میں حرام، لہٰذا کسی کو سجدہ تعظیمی کرنا اب حرام ہے شرک نہیں ۔ لیکن سجدہ تعبدی کرنا شرک ہے ۔ ایک ہی کام الوہیت کے عقیدے سے شرک ہے اور بغیر عقیدہ الوہیت شرک نہیں مسلمان سنگ اسود، مقام ابراہیم ، آب زمزم کی تعظیم کرتے ہیں مشرک نہیں مگر ہندو بت یا گنگا جل کی تعظیم کرے تو مشرک ہے کیونکہ مومن کا عقیدہ ان چیز وں کی الوہیت کا نہیں اور کفار کا عقیدہ الوہیت کا ہے ۔

 

عبادت کی قسمیں                           

    عبادت بہت طر ح کی ہے ۔ جانی ، مالی ، بدنی ، وقتی وغیرہ مگر اس کی قسمیں دو ہیں ۔ ایک وہ جس کا تعلق براہ راست رب تعالیٰ سے ہو کسی بندے سے نہ ہو ، جیسے نماز، روزہ ، حج ، زکوۃ ، جہاد وغیرہ کہ بندہ ان کاموں سے صرف رب تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت کرتا ہے بندے کی رضا کا اس میں دخل نہیں ۔ دوسرے وہ جن کا تعلق بندے سے بھی ہے اور رب تعالیٰ سے بھی یعنی جن بندوں کی اطاعت کا رب تعالیٰ نے حکم دیا ہے
ان کی اطاعت خدا کو راضی کرنے کے لئے رب کی عبادت ہے ۔ جیسے والدین کی فرمانبرداری ، مرشد استاد کی خوشی ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف ، اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی غرضیکہ کوئی جائز کام ہو ۔ اگر اس میں رب تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت کرلی جائے تووہ رب تعالیٰ کی عبادت بن جاتے ہیں اور ان پر ثواب ملتا ہے حتی کہ جو اپنے بیوی بچو ں کو کماکر اس لئے کھلائے کہ یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے، رب تعالیٰ اس سے راضی ہوتا ہے تو کمانا بھی عبادت ہے اور جو خدا کا رزق اس لئے کھائے کہ رب تعالیٰ کا حکم ہے کُلُوْا وَاشْرَبُوْا، اور حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے ،ادا ء فرض کا ذریعہ ہے تو کھانا بھی عبادت ہے ۔ اسی لئے مجاہد فی سبیل اللہ غازی کا کھانا ، پینا ، سونا، جاگنا عبادت ہے بلکہ ان کے گھوڑوں کی رفتار بھی عبادت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَالْعٰدِیٰتِ ضَبْحًا ۙ﴿۱﴾

قسم ہے ان گھوڑوں کی جو دو ڑتے ہیں سینے کی آواز نکالتے ۔ (پ30،العٰدیٰت:1)

فَالْمُوۡرِیٰتِ قَدْحًا ۙ﴿۲﴾

پھر سم مار کر پتھر وں سے آگ نکالتے ہیں ۔ (پ30،العٰدیٰت:2)

فَالْمُغِیۡرٰتِ صُبْحًا ۙ﴿۳﴾

پھر صبح ہوتے ہی کفار کو تا خت وتاراج کرتے ہیں۔(پ30،العٰدیٰت:3)
    لہٰذا ماں باپ کو راضی کرنا ۔ ان کی اطاعت کرنا ، رب تعالیٰ کی عبادت ہے ، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر جان ومال قر بان کرنا اس سرکار کی اطاعت ہے اور رب تعالیٰ کی عبادت بلکہ اعلیٰ ترین عبادت ہے ۔ موجود ہ وہابی اس الوہیت کی قید سے بے خبر رہ کر نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تو قیر کو شرک کہہ دیتے ہیں ان کے ہاں محفل میلاد شریف شرک، قبر وں پر جانا شرک ، عید کو سویاں پکانا شرک، نعلین کو بوسہ دینا شرک ، گویا قدم قدم پر شرک ہے اور ساری مشرکین وکفار کی آیات مسلمانوں پر چسپاں کر تے ہیں ۔
اعتراض : کسی کو حاجت روا مشکل کشا سمجھ کر اس کی تعظیم کرنا عبادت ہے اور اس کے سامنے جھکنا بندگی ہے۔    (جواہر القرآن ۔ تقویۃ الایمان)
جواب : یہ غلط ہے ہم حکام وقت کی تعظیم کرتے ہیں یہ سمجھ کر کہ بہت سی مشکلات میں ان کے پاس جانا پڑتا ہے کیا یہ عبادت ہے ؟ ہر گز نہیں حکیم ، استاد کی تعظیم کی جاتی ہے کہ ان سے کام نکلتے رہتے ہیں ۔ یہ عبادت نہیں ۔
اعتراض: کسی کو مافوق الاسباب متصرف مان کر اس کی تعظیم کرنا عبادت ہے اور یہ ہی شرک ہے ۔
جواب: یہ بھی غلط ہے فرشتے مافوق الاسباب تصرف کرتے ہیں ۔ یہ جان نکالتے ہیں ماں کے پیٹ میں بچے بناتے ہیں بارش برساتے ہیں عذاب الٰہی لاتے ہیں ۔ یہ سمجھ کر فرشتوں کی تغٰظیم کرنا ان کی عبادت ہے؟ نہیں ۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں سے پانی کے چشمے باذن اللہ جاری کردیئے ۔ چاند پھاڑ ڈالا ۔ ڈوبا سورج واپس بلالیا، کنکروں، پتھر وں سے کلمہ پڑھوایا ۔ درختو ں، جانوروں سے اپنی گواہی دلوائی،حضرت عیسی علیہ السلام نے باذن اللہ مردے زندہ کئے ۔ اندھے ، کوڑھی اچھے کئے یہ سارے کام مافوق الاسباب کئے ۔ اس لئے ان کی تعظیم کرنا عبادت ہے ۔ ہرگز نہیں کیونکہ انہیں خدا کے برابر کوئی نہیں مانتا۔ خدا کے برابر ماننا ہی عبادت کے لئے شرط اول ہے ۔ یہ سب اللہ کے بندے اللہ کے اذن وارادے سے کرتے ہیں ۔اسی لئے حضرت صالح و حضرت ہو د، حضرت شعیب ، حضرت نوح اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوم کو پہلی تبلیغ یہ ہی فرمائی :

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ

اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی اور معبودنہیں ۔(پ8،الاعراف:59)
    یعنی میری اطاعت کرنا ، تعظیم کرنا ، تو قیر بجالانا ، مجھے تمام قوم سے افضل سمجھنا لیکن مجھے خدا یا خدا کی اولاد، خدا کے برابر یا خدا کو میرا محتاج نہ سمجھنا اور ایسا عقیدہ رکھ کر میری تعظیم نہ کرنا کیونکہ اس عقیدے سے کسی کی تعظیم وتوقیر عبادت ہے اور عبادت خدا کے سوا کسی کی درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف کی سچی سمجھ عطا فرمائے ۔ اس میں بہت بڑ ے لوگ ٹھوکریں کھاجاتے ہیں۔

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites


من دون اللہ                               

    قرآن شریف میں یہ لفظ بہت زیادہ استعمال ہوا ہے ۔ عبادت کے ساتھ بھی آیا ہے ۔ تصرف اور مدد کے ساتھ بھی ، ولی اور نصیر کے ساتھ بھی ۔ شہید اور وکیل کے ساتھ بھی ، شفیع کے ساتھ بھی ۔ ہدایت ، ضلالت کے ساتھ بھی جیسے کہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں پر مخفی نہیں اور ہم بھی ہر طرح کی آیات گزشتہ مضامین میں پیش کرچکے ہیں ۔
    اس لفظ دون کے معنی سواء اور علاوہ ہیں،مگر یہ معنی قرآن کی ہر آیت میں درست نہیں ہوتے ۔ اگر ہر جگہ اس کے معنی سواء کئے جا ئیں تو کہیں تو آیات میں سخت تعارض ہوگا اور کہیں قرآن میں صراحۃًجھوٹ لازم آئے گاجس کے دفع کے لئے سخت دشواری ہوگی قرآن کریم میں تامل کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ تین معنی میں
استعمال ہوا ہے ۔
(۱) سواء، علاوہ(۲) مقابل(۳)اللہ کو چھوڑ کر ۔ جہاں من دون اللہ عبادت کے ساتھ ہو یا ان الفاظ کے ہمراہ آوے جو عبادت یا معبود کے معنی میں استعمال ہوئے ہوں تو اس کے معنی سواء ہوں گے کیونکہ خدا کے سوا ء کسی کی عبادت نہیں ہوسکتی، جیسے اس آیت میں ۔

(1)  فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیۡنَ تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللہَ الَّذِیۡ یَتوَفّٰىکُمْ

پس نہیں پوجتا میں انہیں جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اور لیکن میں تو اس اللہ کو پوجوں گا جو تمہیں موت دیتا ہے ۔(پ11،یونس:104)

(2) وَ یَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَا یَنۡفَعُہُمْ وَ لَا یَضُرُّہُمْ

او رپوجتے ہیں وہ کافر اللہ کے سوا ء انہیں جو نہ انہیں نفع دیں نہ نقصان ۔(پ19،الفرقان:55)

(3) اُحْشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوۡا یَعْبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾مِنۡ دُوۡنِ اللہِ

جمع کرو ظالموں کو اور ان کی بیویوں کو اور ان کو جن کی پوجا کر تے تھے یہ اللہ کے سواء۔(پ23،الصّٰفّٰت:22،23)
    اس جیسی بہت سی آیات میں مِنْ دُوْنِ اللہِ کے معنی اللہ کے سواء ہیں کیونکہ یہ عبادت کے ساتھ آئے ہیں اور عبادت غیر اللہ کسی کی بھی نہیں ہوسکتی ۔

(4) قُلْ اَرَءَیۡتُمْ شُرَکَآءَکُمُ الَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ اَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقُوۡا

فرماؤ کہ تم بتا ؤ کہ تمہارے وہ شرکاء جن کی تم پوجاکرتے ہو خدا کے سواء مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ۔(پ22،فاطر:40)

 


    (5) وَادْعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳

اور بلا لو اپنے معبودوں کو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو ۔(پ1،البقرۃ:23)

(6) اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ

تو کافر وں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ میرے بندوں کومیرے سوا معبود بنائیں ۔(پ16،الکہف:102)
    ان جیسی آیا ت میں چونکہ دون کا لفظ تدعون اور اولیاء کے ساتھ آیا ہے اور یہاں تدعون کے معنی عبادت ہیں اور اولیاء کے معنی معبود لہٰذا یہاں بھی دون بمعنی علاوہ اور سواہوگا ۔ لیکن جہاں ''دون'' مدد یا نصرت یا دوستی کے ساتھ آوے گا تو وہاں اس کے معنی صرف سواء کے نہ ہوں گے ۔ بلکہ اللہ کے مقابل یا اللہ کو چھوڑ کر ہوں گے یعنی اللہ کے سواء اللہ کے دشمن۔ اس تفسیر اور معنی میں کوئی دشواری نہ ہوگی جیسے

(1) اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾

کہ میرے مقابل کسی کو وکیل نہ بناؤ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:2)

(2) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ

کیا ان لوگوں نے اللہ کے مقابل کچھ سفارشی بنا رکھے ہیں۔(پ24،الزمر:43)

(3) وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾

اور اللہ کے مقابل نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مدد گار ۔(پ1،البقرۃ:107)

(4) وَّلَا یَجِدُوۡنَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷۳﴾

اور وہ اللہ کے مقابل اپنا نہ کوئی دوست پائینگے اور نہ مدد گار ۔(پ6،النسآء:173)

 

(5) لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوۡنَ الْکٰفِرِیۡنَ اَوْلِیَآءَ مِنۡ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ

مومن مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں ۔(پ3،اٰل عمرٰن:28)

(6) وَمَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹﴾

اور جو شیطان کو دوست بنائے خدا کو چھوڑ کر وہ کھلے ہوئے گھاٹے میں پڑگیا ۔(پ5،النسآء:119)

(7) وَمَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ

اور نہیں ہے ان کافروں کے لئے اللہ کے مقابل کوئی مدد گار ۔(پ12،ہود:20)
   ان جیسی تمام ان آیتوں میں جہاں مدد، نصرت ، ولایت، دوستی وغیرہ کے ساتھ لفظ دون آیا ہے ۔ ان میں اس کے معنی صرف سواء یا علاوہ کے نہیں بلکہ وہ سواء مراد ہے جو رب تعالیٰ کا دشمن یا مقابل ہے ۔ لہٰذا اس دون کے معنے مقابل کرنا نہایت موزوں ہے جن مفسرین نے یا تر جمہ کرنیوالوں نے ان مقامات میں سواء ترجمہ کیا ہے ان کی مراد بھی سواء سے ایسے ہی سواء مرا دہیں ۔ اس دون کی تفسیر یہ آیات ہیں:

(1) وَ اِنۡ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ

اوراگر رب تمہیں رسوا کرے تو کون ہے جو پھر تمہاری مدد کرے ۔(پ4،اٰل عمرٰن:160)

 

(2) لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیۡرًا ﴿۱۷﴾

تم فرماؤ کہ وہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچائے اگر ارادہ کرے رب تمہارے لئے برائی کا اور ارادہ کرے مہربانی کا اور وہ اللہ کے مقابل کوئی نہ دوست پائیں گے نہ مد د گار ۔(پ21،الاحزاب:17)

(3) اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ

کیا ان کے کچھ ایسے خدا ہیں جو انہیں ہم سے بچالیں۔(پ17،الانبیآء:43)
    ان آیات نے تفسیر فرمادی کہ جہاں مد د یادوستی کے ساتھ لفظ دون آئے گا وہاں مقابل اور رب کو چھوڑ کر معنی دے گا نہ کہ صرف سواء یاعلاوہ کے ۔
    نیز اگر اس جگہ دون کے معنی سواء کئے جائیں تو آیات میں تعارض بھی ہوگا کیونکہ مثلاً یہاں تو فرمایا گیا رب کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مدد گار نہیں اور جو آیات ولی کی بحث میں پیش کی گئیں وہاں فرمایا گیا کہ تمہارا ولی اللہ اوررسول اور نیک مومنین ہیں یا تمہارے ولی فرشتے ہیں یا فرمایا گیا کہ اے مولیٰ اپنی طر ف سے ہمارے مدد گار فرما ۔ ا س تعارض کا اٹھانا بہت مشکل ہوگا ۔
    نیز اگر ان آیات میں دون کے معنی سواء کئے جائیں تو عقل کے بالکل خلاف ہوگا اور رب کا کلام معا ذ اللہ جھوٹا ہوگا ۔
     مثلاً یہا ں فرمایا گیا کہ اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ انہوں نے خدا کے سوا سفارشی بنالیئے ۔ سفارشی تو خدا کے سواہی ہوگا۔(پ۲۴،الزمر:۴۳)

 

خدا تو سفارشی ہوسکتا ہی نہیں یا فرمایاگیا:

اَلَّا تَتَّخِذُوۡا مِنۡ دُوۡنِیۡ وَکِیۡلًا ؕ﴿۲﴾          (بنیۤ اسرآء یل:2)  میرے سوا کسی کو وکیل نہ بناؤ حالانکہ دن رات وکیل بنایا جاتا ہے اب وکیل کے معنی کی تو جیہیں کرو اور شفعاء کے متعلق بحث کرتے پھرو لیکن اگر یہاں دون کے معنی مقابل کرلئے جائیں تو کلام نہایت صاف ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقابل نہ کوئی سفارشی ہے نہ وکیل، نہ کوئی حمایتی ہے نہ کوئی مدد گار نہ کوئی دوست جو کوئی جو کچھ ہے وہ رب تعالیٰ کے ارادہ اور اسی کے حکم سے ہے لہٰذا جہاں بندوں سے ولایت، حمایت، مدد، دوستی کی نفی ہے وہاں رب تعالیٰ کے مقابل ہوکر ہے کہ رب تعالیٰ چاہے ہلاک کرنا اور یہ مدد کر کے بچالیں او رجہاں ان چیز وں کا بندوں کے لئے ثبوت ہے وہاں اذن الٰہی سے مدد نصرت وغیرہ ہے ۔
اعتراض : ان آیات میں مِنْ دُوْنِ اللہِ سے اللہ کے سواء ہی مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا ء غائبانہ مافوق الاسباب مدد کرنے والا کوئی نہیں ۔ یہ ہی عقیدہ شرک ہے جن آیتو ں میں اللہ کے بندوں کی مدد اور ولایت کا ثبوت ہے ۔ وہاں حاضرین زندوں کی اسباب غائبانہ مدد مراد ہے ۔(جواہر القرآن)
جواب:یہ تو جیہہ بالکل غلط ہے چند وجہوں سے ایک یہ کہ نفی مدد کی آیتوں میں کوئی قید نہیں ہے مطلق ہیں تم نے اپنے جیب سے اس میں تین قیدیں لگائیں غائبانہ، مافوق الاسباب ، مردو ں کی مدد ، قرآن کی آیت خبر واحد سے بھی مقید نہیں ہوسکتی اور تم صرف اپنے گمان وہم سے مقید کر رہے ہو ۔ او راگردون کوبمعنی مقابل لیا جاوے تو کوئی قید لگانی نہیں پڑتی ۔
    دوسرے یہ کہ تمہاری یہ تفسیر خود قرآن کی اپنی تفسیر کے خلاف ہے قرآن کی مذکورہ بالا آیات نے بتایا کہ یہاں دون بمعنی مقابل ہے ۔ لہٰذا تمہاری یہ تفسیر تحریف ہے ۔ تفسیر نہیں ۔ تیسرے یہ کہ ان قیدوں کے با وجود آیت درست نہیں ہوتی کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ سے بیٹھے ہوئے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مافوق الاسباب مدد فرمادی کہ انہیں دشمن کی خفیہ تدبیر سے مطلع فرمادیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کی مافوق الاسباب دور سے مدد فرمادی کہ اپنی قمیص کے ذریعہ باذن پر ور دگار ان کی آنکھیں روشن فرمادیں اور ظاہر ہے کہ قمیص آنکھ کی شفا کا سبب نہیں لہٰذا یہ مدد مافوق الاسباب ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی وفات کے بعد ہماری مافوق الاسباب یہ مدد کی کہ پچاس نمازوں کی پانچ کرادیں۔
    اس قسم کی سینکڑوں مددیں ہیں جو اللہ کے پیاروں نے غائبانہ مافوق الاسباب فرمائیں ۔ تمہاری اس تفسیر کی رو سے سب شرک ہوگئیں غرضیکہ تمہاری یہ تفسیر درست نہیں ہوسکتی ۔چوتھے یہ کہ تم اپنی قیدوں پر خود قائم نہ رہو گے ۔ اچھا بتاؤ ۔اگر غائبانہ امداد تو منع ہے کیا حاضر انہ امداد جائز ہے تو بتا ؤ کسی زندہ ولی سے اس کے پاس جاکر فر زند مانگنا یا رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اطہر پر جاکر حضور سے جنت مانگنا ودوزخ سے پناہ مانگنا جائز ہے تم اسے بھی شرک کہتے ہو تو تمہاری یہ قیدیں خود تمہارے مذہب کے خلاف ہیں بہر حال یہ قیود باطل ہیں ان آیات میں دون بمعنی مقابل ہے ۔

 

 


 

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم


 


.جزاک الله تبارک تعالى


1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

وعلیکم السلام ورحمت اللہ و برکاتہ ، آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


Share this post


Link to post
Share on other sites

نذر ونیاز                                  

    قرآن کریم میں یہ لفظ بہت جگہ استعمال ہوا ہے نذر کے لغوی معنی ہیں ڈرانا یا ڈرسنانا ۔ شرعی معنی ہیں غیر لازم عبادت کو اپنے پر لازم کرلینا ، عرفی معنی ہیں نذرانہ وہدیہ قرآن کریم میں یہ لفظ ان تینوں معانی میں استعمال ہوا ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:

 (1) اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ بِالْحَقِّ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا

ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بھیجا خوشخبری دینے والا ڈرسنا نے والا۔(پ22،فاطر:24)

(2) وَ اِنۡ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیۡہَا نَذِیۡرٌ ﴿۲۴﴾

نہیں ہے کوئی جماعت مگر گذرے ان میں ڈرا نے والے ۔(پ22،فاطر:24)

(۳)اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِ رَبِّکُمْ وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا

کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہ آئے جو تم پر تمہارے رب کی آیات تلاوت کرتے ہیں اور تمہیں اس دن کے ملنے سے ڈراتے ۔(پ۲۴،الزمر:۷۱)

(4) فَاَنۡذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی ﴿ۚ۱۴﴾

اور ڈرایا میں نے تم کو بھڑکتی ہوئی آگ سے ۔(پ30،الیل:14)

(5) اِنَّا اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ ﴿۳﴾

ہم نے قرآن شریف اتارا برکت والی رات میں ہم ہیں ڈرانے والے ۔(پ25،الدخان:3)
    ان جیسی بہت سی آیات میں نذر لغوی معنی میں استعمال ہو ا ہے بمعنی ڈرانا، دھمکانا۔ اس معنی میں یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی آتا ہے اور انبیا ء کرام کے لئے بھی اورعلماء دین کے لئے بھی۔یہ لفظ شرعی معنی میں بھی استعمال ہو اہے رب تعالیٰ فرماتا ہے :

محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم )رسول ہی ہیں ان سے پہلے سارے رسول گزر چکے ۔(پ4،ال عمرٰن:144)
(1) وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمۡ مِّنۡ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللہَ یَعْلَمُہٗ

جو کچھ تم خرچ کر ویانذر مانو کوئی نذر، اللہ اسے جانتا ہے ۔(پ3،البقرۃ:270)

(2) رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرْتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطْنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیۡ

اے میرے رب میں نے نذر مانی تیرے لئے اس بچے کی جو میرے پیٹ میں ہے آزاد ۔ پس قبول فرما مجھ سے ۔(پ3،ال عمرٰن:35)

(3) وَلْیُوۡفُوۡا نُذُوۡرَہُمْ وَلْیَطَّوَّفُوۡا بِالْبَیۡتِ الْعَتِیۡقِ ﴿۲۹﴾

چاہیے کہ یہ لوگ اپنی نذریں پوری کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں ۔(پ17،الحج:29)

(4) اِنِّیۡ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنۡسِیًّا ﴿ۚ۲۶﴾

میں نے اللہ کے لئے روزے کی نذر مانی ہے پس آج کسی سے کلام نہ کرو ں گی۔ (پ16،مریم:26)
    ان جیسی آیات میں نذر سے شرعی معنی مراد ہیں یعنی منت ماننا اور غیر ضروری عبادت کو لازم کرلینا یہ نذر عبادت ہے اس لئے خدا کے سوا کسی بندے کے لئے نہیں ہوسکتی اگر کوئی کسی بندے کی نذر مانتا ہے تو مشرک ہے کیونکہ غیر خدا کی عبادت شرک ہے
    چونکہ عبادت میں شرط یہ ہے کہ معبود کو الٰہ یعنی خدا یا خدا کے برابر ماناجائے، اس لئے اس نذر میں بھی یہی قید ہوگی کہ کسی کو خدایا خدا کے برابر مان کر نذر مانی جائے، اگر ناذ ر کا یہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ جس کی نذر مانی اسے محض بندہ سمجھتا ہے تو وہ شرعی نذر نہیں اسی لئے فقہانے اس نذر میں تقرب کی قید لگائی ۔ تقرب کے معنی عبادت ہیں ۔                       یہ بھی خیال رہے کہ اگر کوئی کسی بندے کے نام پر شرعی نذر کرے یعنی اس کی الوہیت کا قائل ہو کر اس کی منت مانے تو اگر چہ یہ شخص مشرک ہوگا اور اس کا یہ کام حرام ہوگا مگر وہ چیز حلال رہے گی اس چیز کو حرام جاننا سخت غلطی ہے اور قرآن کریم کے خلاف ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

(1) مَا جَعَلَ اللہُ مِنۡۢ بَحِیۡرَۃٍ وَّلَا سَآئِبَۃٍ وَّلَا وَصِیۡلَۃٍ وَّلَا حَامٍ ۙ وَّلٰکِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یَفْتَرُوۡنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ؕ

نہیں بنایا اللہ نے بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام یہ مشرکین اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں ۔(پ7،المآئدۃ:103)
    کفار عرب ان چا رقسم کے جانور وصیلہ حام وغیر ہ کو اپنے بتو ں کے نام کی نذر کرتے تھے اور انہیں کھانا حرام جانتے تھے ۔ رب تعالیٰ نے ان کی تردید فرمادی اور فرمایا کہ یہ حلال ہیں جیسے آج کل ہندوؤں کے چھوڑے ہوئے سانڈ ھ حلال ہیں ۔ اللہ کے نام پر ذبح کر و اور کھاؤ ۔

(2) وَ جَعَلُوۡا لِلہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الۡاَنْعَامِ نَصِیۡبًا فَقَالُوۡا ہٰذَا لِلہِ بِزَعْمِہِمْ وَہٰذَا لِشُرَکَآئِنَا

اور ٹھہر ایا ان کا فروں نے اللہ کا اس کھیتی اور جانوروں میں ایک حصہ پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا حصہ ہے اپنے خیال پر اور یہ ہمارے شریکوں کا ہے ۔(پ8،الانعام:136)

(3) وَ قَالُوۡا ہٰذِہٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ ٭ۖ لَّا یَطْعَمُہَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی منع ہے اسے نہ کھائے مگر وہ جسے ہم چاہیں۔(پ8،الانعام:138)
    ان آیات سے معلوم ہوا کہ کفار عرب اپنے جانوروں کھیتوں میں بتو ں کی نذر
مان لیتے تھے او رکچھ حصہ بتو ں کے نام پر نامز د کردیتے تھے پھر انہیں کھانا یا تو بالکل حرام جانتے تھے جیسے بحیرہ، سائبہ جانور اور یا ان کے کھانے میں پا بندی لگاتے تھے کہ مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں فلاں کھائے فلاں نہ کھائے ۔ ان دونوں حرکتوں کی رب نے تردید ان آیات میں فرمادی:

(1) وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ

اور نہ کہو اپنی زبانوں کے جھوٹ بتانے سے کہ یہ حلال ہے اوریہ حرام۔(پ14،النحل:116)

(2) قُلْ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمۡ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا

فرماؤ کہ بھلا دیکھو تو جو اللہ نے تمہارا رزق اتارا تم نے اس میں کچھ حلال بنایا کچھ حرام۔(پ11، یونس: 59)

(3) قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ

فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور ستھرا رزق۔(پ8،الاعراف:32)

(4) َّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَآءً عَلَی اللہِ

ان کافروں نے حرام سمجھ لیا اسے جو اللہ نے انہیں رزق دیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہوئے ۔(پ8،الانعام:140)

(5) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوۡا لِلہِ اِنۡ کُنۡتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوۡنَ ﴿۱۷۲﴾

اے مسلمانو! کھاؤ وہ ستھری چیز یں جو ہم تمہیں رزق دیں اور اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔(پ2،البقرۃ:172)

(6) وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاۡکُلُوۡا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللہِ عَلَیۡہِ

اور تمہارا کیا حال ہے کہ نہیں کھاتے اس میں سے جس پر اللہ کانام لیا گیا ۔(پ8،الانعام:119)

(8) اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنۡزِیۡرِ وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللہِ

اللہ نے صرف مردار کو اور خون کو اور سورکے گو شت کو اور اس جانور کو جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیاجائے تم پر حرام فرمایا۔(پ2،البقرۃ:173)

(9) قَدْ خَسِرَ الَّذِیۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوْلَادَہُمْ سَفَہًۢا بِغَیۡرِ عِلْمٍ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَہُمُ اللہُ افْتِرَآءً عَلَی اللہِ

بے شک نقصان میں رہے وہ جنہوں نے اپنی اولاد کو نادانی اور جہالت سے قتل کر ڈالااور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو حرام کرلیا اللہ پر تہمت لگاتے ہوئے ۔(پ8،الانعام:140)
    ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار عرب کے اس عقیدے کی پرزور تردید فرمائی کہ جس جانور اور جس کھیتی وغیر ہ کو بت کے نام پر لگادیا جاوے وہ حرام ہوجاتا ہے۔ فرمایا: تم اللہ پر تہمت لگاتے ہو اللہ نے یہ چیزیں حرام نہ کیں تم کیوں حرام جانتے ہو، جس سے معلوم ہو اکہ بتوں کے نام کی نذر ماننا شرک تھا اور ان کا یہ فعل سخت جرم تھا مگر اس چیز کو حلال ٹھہرایا اس کے حرام جاننے پر عتاب کیا ،اسے حلال رزق اور طیب روزی فرمایا ۔ ان بتوں کے نام پر چھوٹے ہوئے جانوروں کے متعلق حکم فرمایا کہ اللہ کے نام پر ذبح کرو اور کھاؤ کافروں کی باتوں میں نہ آؤ ۔ ایسے ہی آج بھی جس چیز کو غیر خدا کے نام پر شرعی طور پر نذر کر دیا جائے وہ بھی حلال طیب ہے اگرچہ یہ نذر شرک ہے ۔
    نذر کے تیسرے معنی عرفی ہیں یعنی کسی بزرگ کو کوئی چیز ہدیہ ، نذرانہ ، تحفہ پیش کرنا یا پیش کرنے کی نیت کرنا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو حضو ر غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام کی دیگ پکاؤں گا یعنی دیگ بھرکھانا خیرات کر وں گا اللہ کے لئے اور ثواب اس کا سرکار بغداد کی رو ح شریف کو نذرانہ کرو ں گایہ بالکل جائز ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ایسی نذریں بارگاہ رسالت میں مانی اور پیش کی ہیں او رحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبول فرمائی ہیں نہ یہ کام حرام نہ چیز حرام ۔ اسی کو عوام کی اصطلاح میں نیاز کہتے ہیں بمعنی نذرانہ ۔ اس کا قرآن شریف میں بھی ثبوت ہے اور احادیث صحیحہ میں بھی۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

وَمِنَ الۡاَعْرَابِ مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ ؕ اَلَاۤ اِنَّہَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ ؕ سَیُدْخِلُہُمُ اللہُ فِیۡ رَحْمَتِہٖ ؕ اِنَّ اللہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۹۹﴾

کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعا ئیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یقینا ان کیلئے با عث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کریگا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔(پ11،التوبۃ:99)
    اس آیت میں بتایا کہ مؤمنین اپنے صدقہ میں دونیتیں کرتے ہیں ۔ ایک اللہ کی نزدیکی اور اس کی عبادت، دوسرے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں لینا اور خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خوش ہونا ۔ یہ ہی فاتحہ بزرگان دینے والے، ان کی نذر ماننے والے کا مقصد ہوتا ہے کہ خیرات اللہ کے لئے ہو اور ثواب اس بزرگ کے لئے تا کہ ان کی رو ح خوش ہو کرہمیں دعا کرے ۔
اسی لئے عوام کہتے ہیں ، نذر اللہ، نیاز حسین ، اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ جب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے بخیر یت واپس تشریف لائے تو ایک لڑکی نے عرض کیا      یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنِّی کُنْتُ نَذَرْتُ اِنْ رَدَّکَ اللہُ صَالِحًا اَنْ اَضْرِبَ بَیْنَ یَدَیْکَ بِالدُّفِ وَاَتَغَنّٰی بِہٖ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ کُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِ بِیْ وَاِلَّا فَـلَا ۔    ( مشکوۃ باب مناقب عمر)

(مشکاۃ المصابیح،کتاب المناقب،باب مناقب عمر رضی اللہ عنہ،الحدیث۶۰۴۸، المجلدالثانی،ص۴۱۹،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

    حضور میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ عزوجل آپ کو بخیر یت واپس لائے تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں اور گاؤں،سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے نذرمانی ہے تو بجاؤ ورنہ نہیں۔
    اس حدیث میں لفظ نذر اسی نذرانہ کے معنی میں ہے نہ کہ شرعی نذرکیونکہ گانا بجاناعبادت نہیں صرف اپنے سرور وخوشی کا نذرانہ پیش کرنا مقصود تھا جو سرکار میں قبول فرمایا گیا ۔ یہ عرفی نذر ہے جو ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مانتی ہیں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے پورے کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔
    اسی مشکوۃ کے حاشیہ میں بحوالہ ملا علی قاری ہے وان کان السرور بمقدمہ الشریف نفسہ قربۃ.  (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب مناقب والفضائل، باب مناقب عمر رضی اللہ عنہ،تحت الحدیث۶۰۴۸،ج۱۰، ص۴۰۳،دارالفکربیروت)

    ''حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری پر خوشی منانا عبادت ہے۔''
     غرضکہ اس قسم کی عرفی نذریں عوام وخواص میں عام طو پر مروج ہیں۔ استا د ، ماں ، باپ ،شیخ سے عرض کرتے ہیں کہ یہ نقدی آپ کی نذر ہے اسے شرک کہنا انتہا درجہ کی بیوقوفی ہے ۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

خاتم النبیین                              

    لفظ خاتم ختم سے بناہے جس کے لغوی معنی ہیں مہر لگانا ۔اصطلاح میں اس کے معنی ہیں تمام کرنا، ختم کرنا، بند کرنا،کیونکہ مہر یا تو مضمون کے آخر پر لگتی ہے جس سے مضمون بند ہوجاتا ہے یا پارسل بند ہونے پر لگتی ہے جب نہ کوئی شے اس میں داخل ہوسکے نہ اس سے خارج ،اسی لئے تمام ہونے کو ختم کہا جاتا ہے قرآن شریف میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ چنانچہ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

 (1) خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمۡ

اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ۔(پ1،البقرۃ:7)

(2) اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤی اَفْوَاہِہِمْ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمْ وَ تَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۶۵﴾

آج ہم ان کے منہ پرمہر لگادیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ بولیں گے او ران کے پاؤں گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے ۔(پ23،یٰسۤ:65)

(3) فَاِنۡ یَّشَاِ اللہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ

تو اگر اللہ چاہے توآپ کے دل پر رحمت وحفاظت کی مہر لگادے ۔(پ25،الشورٰی:24)

یُسْقَوْنَ مِنۡ رَّحِیۡقٍ مَّخْتُوۡمٍ ﴿ۙ۲۵﴾خِتٰمُہٗ مِسْکٌ ؕ

نتھاری شراب پلائے جائیں گے جو مہر کی ہوئی ہے اس کی مہر مشک پر ہے ۔(پ۳۰،المطففین:۲۵)
    ان جیسی تمام آیتوں میں ختم بمعنی مہر استعمال فرمایا گیا ہے کہ جب کفار کے دل وکان پر مہر لگ گئی تونہ باہر سے وہاں ایمان داخل ہونہ وہاں سے کفر باہر نکلے یوں ہی جنت میں شَرَابًاطَہُوْرًا ایسے بر تنوں سے پلائی جائے گی جن پر حفاظت کے لئے

اور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو ۔(پ23،ص:41)

مہر ہے تا کہ کوئی توڑ کرنہ باہر سے کوئی آمیز ش کر سکے نہ اندر سے کچھ نکال سکے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ

محمد تمہارے مردو ں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ۔(پ22،الاحزاب:40)
    اس جگہ خاتم عرفی معنی میں استعمال ہوا یعنی آخری اور پچھلا ۔ لہٰذا اب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنانا ممکن ہے۔ اس معنی کی تائید حسب ذیل آیات سے ہوتی ہے اوران آیتوں سے معلوم ہوتاہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔

(1) اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ  (پ6،المآئدۃ:3)

آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی ۔

(2) ثُمَّ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنۡصُرُنَّہٗ

پھر تشریف لائیں تمہارے پا س وہ رسول جو تمہاری کتا بوں کی تصدیق کریں توتم سب نبی ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔(پ3،ال عمرٰن:81)

(3) وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہِ الرُّسُلُ

(4) فَکَیۡفَ اِذَا جِئْنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ ۭبِشَہِیۡدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیۡدًا﴿ؕؔ۴۱﴾

تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اوراے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ ونگہبان لائیں گے ۔(پ5،النساء:41)
    ان آیتوں سے تین باتیں معلوم ہوئیں ۔ ایک یہ کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دین مکمل ہے اور دین کے مکمل ہوچکنے کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمام نبیوں کی تصدیق کرتے ہیں کسی نبی کی بشارت یا خوشخبری نہیں دیتے اور پچھلے نبی کی تصدیق ہوتی ہے آئندہ کی بشارت اگر آپ کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو اس کے بشیر بھی ہوتے۔ تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سارے پیغمبروں اور ان کی امتوں پر گواہ ہیں لیکن کوئی نبی حضور کا گواہ یا حضو رکی امت کا گواہ نہیں جس سے معلوم ہوا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ چوتھے یہ کہ سارے نبی آپ سے پہلے گزرچکے کوئی باقی نہیں رہا ۔
     اعتراض: خاتم النبیین کے معنی ہیں نبیوں سے افضل جیسے کہا کرتے ہیں فلاں شخص خَاتَمُ الشُّعَرَآءِ یا خَاتَمُ الْمُحَدِّثِیْنَ ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ شاعروں یا محدثوں میں آخری شاعر یاآخری محدث ہے بلکہ محدثوں میں افضل ہے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا: '' اَنْتَ خَاتَمُ المُھَاجِرِیْنَ'' (فضائل الصحابۃ لابن حنبل،باب فضائل ابی الفضل العباس بن عبدالمطلب، الحدیث۱۸۱۲، ج۲،ص۹۴۱،مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)'

'تم مہاجرین میں خاتم یعنی افضل ہو۔'' نہ یہ معنی کہ آخری مہاجر ہو کیونکہ ہجرت تو قیامت تک جاری رہے گی لہٰذاآپ کے بعد نبی آسکتے ہیں،ہاں آپ سب سے افضل ہیں اورخاتم النبیین کے معنی یہی ہیں ۔

    جواب :خاتم ختم سے بنا ہے جس کے معنی افضل نہیں ورنہ

خَتَمَ اللہُ عَلَی قُلُوْبِہِمْ                            (پ 1،البقرۃ:7) کے معنی یہ ہوتے کہ اللہ نے کافروں کے دل افضل کردیئے۔ جب ختم میں افضلیت کے معنی نہیں تو خاتم میں جوا س سے مشتق ہے یہ معنی کہا ں سے آگئے لوگو ں کا کسی کو خاتم الشعراء کہنا مبالغہ ہوتا ہے گویا اب اس شان کا شاعر نہ آوے گا کہا کرتے ہیں فلاں پر شعر گوئی ختم ہوگئی ۔ رب تعالیٰ کا کلام مبالغہ اور جھوٹ سے پاک ہے ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان مہاجرین میں جنہوں نے مکہ مکر مہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی آخری مہاجرہی کیونکہ ان کی ہجرت فتح مکہ کے دن ہوئی جس کے بعد یہ ہجرت بند ہوگئی لہٰذا وہاں بھی خاتم آخر کے معنی میں ہے ۔
    سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا لَا ھِجْرَۃَ بَعْدَ الْیَوْمِ آج کے بعد اب مکہ سے ہجرت نہ ہوگی ،اگر وہاں خاتم کے معنی افضل ہوں تو لازم آئے گا کہ حضر ت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بھی افضل ہوجاویں کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بھی مہاجرہیں ۔
    اعتراض: اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں تو پھر عیسیٰ علیہ السلام کیوں آپ کے بعد آویں گے ۔آخری نبی کے بعد کوئی نبی نہ چاہیے ؟
    جواب: آخر ی نبی کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے زمانہ یا آپ کے بعد کوئی نبی باقی نہ رہے۔ آخری اولاد کے معنی یہ ہیں کہ پھر کوئی بچہ پیدا نہ ہو، نہ یہ کہ پچھلے سب مرجاویں نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تشریف لانا اب نبوت کی حیثیت سے نہ ہوگا بلکہ حضور کے امتی کی حیثیت سے یعنی وہ اپنے وقت کے نبی ہیں اور اس وقت کے امتی۔

جیسے کوئی جج دوسرے جج کی کچہری میں گواہی دینے کے لئے جاوے تو وہ اگرچہ اپنے علاقہ میں جج ہے مگر اس علاقہ میں گواہ عیسیٰ علیہ السلام محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے علاقہ میں ان کے دین کی نصرت ومدد کرنے تشریف لاویں گے ۔
    نوٹ ضروری:جب ختم بمعنی مہر ہوتا ہے تو اس کے بعد علٰی ضرورہوتا ہے خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ جیسے کہ ہماری پیش کر دہ آیات سے ظاہر ہے اور جب ختم بمعنی آخر ہونا یا تمام کرنا ہوگا تو علٰی کی ضرورت نہیں خاتم النبین میں علی نہ ظاہر ہے نہ پوشیدہلہٰذا یہاں آخری نبی مراد ہیں ۔
     نوٹ ضروری : خاتم النبیین کے معنی ''آخری نبی ''خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے اور اس پر امت کا اجماع رہا اب آخر ی زمانہ میں مولوی محمد قاسم دیوبندی اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس کے نئے معنے ایجاد کئے یعنی اصلی نبی، افضل نبی اور ان اجماعی معنی کاانکار کیا اسی لئے ان دونوں پر عرب وعجم کے علماء نے فتوی کفردیا اور جیسے قرآن مجیدکے الفاظ کا انکار کفر ہے ویسے ہی اس کے اجماعی معنی کاانکار بھی کفر ہے اگر کوئی کہے کہ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ                               (پ 1،البقرۃ:43) پر میرا ایمان ہے یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے ہیں مگر صلوٰۃ کے معنی نماز نہیں بلکہ اس کے معنے دعاہیں ۔ ہاں نماز بھی اس معنی میں داخل ہے اور زکوٰۃ کے معنی صدقہ واجبہ نہیں بلکہ اس کے معنی پاکی ہے ہا ں صدقہ وخیرات بھی اس میں داخل ہے تو وہ کافر ہے کیونکہ اگر چہ وہ قرآن کے لفظوں کا انکار نہیں کرتا مگر متواتر معنی کا انکار کرتاہے اس صورت میں خواہ نماز کو فر ض ہی مانے مگر جب قرآن میں الصلوٰۃ کے معنی نماز نہیں کرتا تو وہ کافر ہے ۔
                                                                               نیز نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سارے صفات کو ماننا ایمان کے لئے  ضروری ہے جیسے کہ حضور نبی ہیں، رسول ہیں ،شفیع المذنبین ہیں اور رحمت للعالمین ہیں ایسے ہی آپ خاتم النبیین بمعنی آخری نبی ہیں جیسے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا ماننا ضروری ہے اور نبوت کے وہی معنی ہیں جو مسلمان مانتے ہیں ایسے ہی آپ کو خاتم النبیّین اسی معنی سے ماننا ضروری ہے جو مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔ نیز جیسے لا الہ الا اللہ میں الٰہ نکرہ ہے نفی کے بعد تو معنی یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی طر ح کا کوئی معبود نہیں، نہ اصلی نہ ظلی،نہ بروزی نہ مراتی نہ مذاتی ۔ ایسے ہی ''لانبی بعدی'' میں نبی نکرہ نفی کے بعد ہے جس کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی طرح کا نبی اصلی ، نقلی ، بروزی وغیر ہ آنا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا دوسرا الٰہ ہونا ،جو کوئی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا امکان بھی مانے ، وہ بھی کافر ہے لہٰذا دیوبندی اور قادیانی اس ختم نبوت کے انکار کی وجہ سے دونوں مرتد ہیں ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْا اے صحابیو! اگر ایسا ایمان لائیں جیسا تمہارا ایمان ہے تو ہدایت پاجائینگے (پ۱،البقرۃ:۱۳۷) اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہ مانا لہٰذا نبی ماننا گمراہی ہے ۔


 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Jazak Allahu Khairan kaseera bohat he khub i will share it on my blog in sha Allah

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

آمین ثم آمین


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.