Jump to content

علامہ اقبال کے ایک شعر کا مکمل حوالہ درکار ہے

Recommended Posts

السلام علیکم

مجھے اس شعر کا مکمل حوالہ درکار ہے اگر کسی کے علم میں ہو تو مہربانی فرما کر بتا دیں۔ جزاک اللہ



تماشہ تو دیکھو کہ دوزخ کی آتش        لگائے خدا اور بجھائے محمد

تعجب تو یہ ہے کہ فردوسِ بالا         بنائے خدا اور بسائے محمد

            (نوادرِاقبال از عبدالغفار شکیل)


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم

جزاک اللہ مگر

اس طرح کا حوالہ نہیں چاہیے یہ تو بہت مل جاتے ہیں کتاب سے حوالہ چاہیے نوادرِ اقبال کا مکمل حوالہ چاہیے جیسے کسی کے پاس کتاب ہو اور وہ لکھ دیں

Link to post
Share on other sites
  • 7 years later...

عبدالغفار شکیل صاحب جو 1929 میں میسور میں پیدا ہوئے۔ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبہ اردو کے لیکچرر تھے۔ آپ کی تعلیم ایم اے ، ایل ایل بی تھی۔ آپ نے کثیر تصانیف کے علاوہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے ابتدائی کلام پر ایک بہت اہم اور شاندار کتاب"نوادرِ اقبال" کے نام سے بھی لکھی جس کو سر سید بک ڈپو علی گڑھ نے 1958ء میں شائع کیا۔ اس کتاب کا "پیشِ لفظ" مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف حسین خان صاحب نے تحریر کیا۔ 
عبدالغفار شکیل صاحب نے اپنی اس شاہکار کتاب کے صفحہ 305 پر علامہ اقبال رحمتہ اللّٰہ علیہ کے یہ اشعار تحریر کئے ہیں:
تماشا تو دیکھو کہ دوزخ کی آتش
لگائے خدا اور بجھائے محمد ﷺ
تعجب تو یہ ہے کہ فردوس اعلیٰ
بنائے خدا اور بسائے محمد ﷺ

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Create New...