Sign in to follow this  
Followers 0
qadri rana

جلوس کا ثبوت دیوبندیوں کے گھر سے

17 posts in this topic

سوال: جلوس عید میلادالنبی کا کیاحکم ہے؟

جواب: جائز ہے ،جبکہ منکرات سے خالی ہو (فتاوی فریدیہ کتاب السنۃ والبدعۃ ج1 ص 315)

نوٹ:حوالہ غلط ثابت کرنے والے کو 10000انعام۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب حافظ ساجد صاحب یہ حوالہ آپکی ساءٹ پر موجود فتاوی سے لیا گیا ہے۔باقی سکین لگ نہیں رہا۔۔ایرر آرہا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

بیلا صاحب

سکین حاضر ہے،منکرات سے خالی جلوس عید میلاد النبی ﷺ کو دیوبندیوں نے جائزمان لیا ہے

الحمد للہ ملتان شریف میں ہر سال عید میلاد النبی ﷺ کا بہت بڑا جلوس منکرات سے خالی نکلتا ہے

اَب آپ اپنے دیوبندی فورم پر یہ اپیل کریں کہ عید میلاد النبی ﷺ کا مہینہ آنے والا ہےلہذا ملتان کے

تمام دیوبندی اس جلوس میں شامل ہوکر محبت نبی کریم ﷺ کا ثبوت دیں۔

fridiya 1.jpg

fridiya 2.jpg

fridiya 3.jpg

 

Edited by Khalil Rana
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

منکرات وضاحت خود حاشیہ میں موجود ہے کہ دوسرے دنوں یا عام دنوں کو چھوڑ کر کسی دن کسی وقت کے ساتھ جلوس کو مقید کردینا یا اس میں اسراف کرنا یا اس جلوس پر اصرار کرنا
اور یہ تمام منکرات آج کے میلادی خرافاتی جلوسوں میں پایا جاتا ہے اس لئے فتاوی فریدیہ کا فتوی ہمارے خلاف نہیں
بالفرض وہی ہو جو رضاخانیوں نے سمجھا تو یہ مفتی فرید صاحب کا تفرد اور جمہور اہل السنت دیوبند کے فتاوی و عمل کے خلاف ہونے کی وجہ سے قول شاذ ہوگاو مردود ہوگا
نیز ہم نے میلاد خرافات کے موسم میں احمد رضاخان کا فتوی پیش کیا تھا کہ سڑکوں پر جلوس نکالنا جائز نہیں
لہٰذا وہ یہ بتائیں کہ وہ جلوس نکال کر احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے حرامکاری کرتے ہیں یا دیوبندیوں کے فتوے کی رو سے جائز کام کرتے

ہیں ان کیلئے کونسا فتوی جائز ہ

یہ جواب کسی مجذوب دیوبندی نے اپنے فورم پر دیا ہے۔

Edited by Taimoor Rana

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

فتاویٰ فریدیہ کے ٹائیٹل پر صاف لکھا ہے

فتاویٰ دیوبند پاکستان

مجذوب صاحب اس کے برعکس کہہ رہے ہیں کہ یہ مفتی فرید دیوبندی کا تفرد ہے

مجذوب صاحب کا علم محدود ہے حالانکہ پورے ملک میں اور بیرون ملک یکم ربیع الاوّل

سے جلوس شروع ہوجاتے ہیں، کوئی دن مخصوص نہیں ہوتا

کوئی اسراف نہیں ہوتا لوگ اپنی خوشی اور جوش خروش سے جلوس میں شامل ہوتے ہیں

نہ کوئی اصرار کرتا ہے یہ تو اپنے ایمان اور محبت رسول ﷺکا اظہار ہے۔

اصل میں جلوس دیکھ دیکھ کر سٹپٹا جاتے ہیں،جلتے ہیں، بلڈ پریشر ھائی ہوجاتا ہے

اس لئے ایسی باتیں کرکے اپنے پاگل پن کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اور یہ اس اظہار میں مجبور ہیں

نواز شریف کی حمایت میںجلوس نکالنے کے لئے مولوی محمد احمد لدھیانوی جب مضافات سے بسیں بھر کر پنڈی اسلام آباد میں جلوس 

نکالتے ہیںتو اس وقت ان کو اسراف کا خیال نہیں ہوتا، اور نہ ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہر سال عید میلاد 

کا جلوس نکال کر اور کھانے پکا کر تقسیم کرتے وقت ان کو اسراف کا خیال ہوتا۔

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس کوکہتے ہیں دیوبندی مجذوب کا مجزوبانہ واویلا  اس واویلے کا جواب تو خلیل بھائی نے عمدہ دیا مگر اتنا عرض ہے کہ ملاں اشرف غلی لکھتا ہے کہ اگر کسی عمل کو ضروری جانے بغیر ہمیشہ کیا جائے تو جائز ہے۔(ملحضا مواعظ میلادالنبی ص 222

لہذا پہلا اعتراض تو ساقط ہوا۔رہ گئی قول کے شاذ کی بات تو جناب آپ کے اس مجذو بانہ اصول سے ساری دست و گریبان کا رد ہو جاتا ہے  ۔

پھر اس فتوے کا یہاں لگانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک دیوبندی اس کو بدعت کہتا ہے اور دوسرا جائز ۔اس لیے کہ ان بے چاروں کو تو بدعت کا پتہ ہی نہیں۔مولوی اشرف علی گنگوہی سے کہتا ہے کہ آپ کو تو ہنوذ بدعت کا پتہ ہی نہیں۔صیح بات ہے کہ جو خود مجسم بدعت ہوں ان کو بدعت کا کیا پتہ ہوگا۔

تم لوگوں کو صرف ذکر مصظفی سے دشمنی ہے یہ منکرات اور یہ چیزیں تو بس ایک آڑ ہیں۔لعنتیوں کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا۔

ایک بدبخت کہتا ہے کہ ان کو عید تک خوشیاں منا لینے دیتے جواب کیوں دیا۔اوئے لعنتیوں ہمیں ذکر مصطفی پر خوشیاں منانے کے لیے تمہارے کسی فتوے کی ضرورت نہیں جاہلوں کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ پھول کا ذکر ہو اور بلبل دلیل ڈھونڈے ،شمع کا چرچہ ہو اور پر وانہ ثبوت طلب کرے۔یاد رکھو جب تک دم میں دم ہے ہم اپنے محبوب کی ولادت پر خوشیاں مناتے جائے گے اور نجد کے قلعے گراتے جائے گے۔

Edited by qadri rana
2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

qadri rana sb kiya baat keh di , subhan Allah
 

ا۔اوئے لعنتیوں ہمیں ذکر مصطفی پر خوشیاں منانے کے لیے تمہارے کسی فتوے کی ضرورت نہیں جاہلوں کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ پھول کا ذکر ہو اور بلبل دلیل ڈھونڈے ،شمع کا چرچہ ہو اور پر وانہ ثبوت طلب کرے۔یاد رکھو جب تک دم میں دم ہے ہم اپنے محبوب کی ولادت پر خوشیاں مناتے جائے گے اور نجد کے قلعے گراتے جائے گے۔

 

baat dil ko bohat pasand ai....

Edited by Hanfi-Barelvi
2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Scan Page

Yeh Bella,  Sajjad heh, BeyHaq forum say? Agar tooh wohi heh toh phir arz heh; teray imaan ko Allah nay yoon mara heh jistera Firawn ko dobo mara thah.

Edited by MuhammedAli

Share this post


Link to post
Share on other sites

deobandi fraudieeay hain .bhais badal badal kar aatay hain.  1977 main mufti mehmood DATA GANJ BAKASH  (raa) kay mazar par chadar chraaay to theek,ab  naajaiz hay. wah deobandio wah

Share this post


Link to post
Share on other sites

نیز ہم نے میلاد خرافات کے موسم میں احمد رضاخان کا فتوی پیش کیا تھا کہ سڑکوں پر جلوس نکالنا جائز نہیں
لہٰذا وہ یہ بتائیں کہ وہ جلوس نکال کر احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے حرامکاری کرتے ہیں یا دیوبندیوں کے فتوے کی رو سے جائز کام کرتے

ہیں ان کیلئے کونسا فتوی جائز ہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

امام احمد رضا خاں سنی حنفی قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 


کے فتوے کا عکس دیں


بہر حال تم لوگ اس جلوس کو کبھی بدعت کہتے ہو اور کبھی جائز کہہ کر اس پر عمل کرتے ہو

Edited by Khalil Rana

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

نیز ہم نے میلاد خرافات کے موسم میں احمد رضاخان کا فتوی پیش کیا تھا کہ سڑکوں پر جلوس نکالنا جائز نہیں

لہٰذا وہ یہ بتائیں کہ وہ جلوس نکال کر احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے حرامکاری کرتے ہیں یا دیوبندیوں کے فتوے کی رو سے جائز کام کرتے

ہیں ان کیلئے کونسا فتوی جائز ہ

 

بیلاجی

کہاں ہے فتویٰ، کونسا فتویٰ پیش کیا تھا، کب اور کہاں؟ دکھلاؤ تو پتہ چلے۔

اور تم نے اپنی خباثت کا ثبوت دیتے ہوئے میلاد شریف کے موسم کو جس لفظ سے تعبیر کیا ہے اُس سے رجوع کرلو تو بہتر ہے۔

نیچے دیئے گئے اسکین پیج کو غور سے پڑھو، یہ ہم نے نہیں بلکہ اہلِ وہابیہ کے نزدیک بہت ہی معتبر بزرگ نے میلاد شریف کے لیئے فرمایا ہے، اگر اس کے بعد بھی رجوع نہ کرو تو پھر تم جانو اور اللہ عزّوجل

 

post-4514-0-16217600-1412852821_thumb.jpg

 

post-4514-0-56416800-1412852840_thumb.jpg

 

۔

 

Edited by Ghulam.e.Ahmed

Share this post


Link to post
Share on other sites

Deo 12 rabil ul Awal kay rooz Jaloos/Railey Nikaltai hain woh bhe poster ka zariae tasheer kar key

Deo & Milad ka Jaloos.jpg

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

دیوبندی بدعتی ہیں 

مولوی الیاس ٹمن (بقول خضر حیات)لکھتا ہے کہ

اہل بدعت کا بھی آج یہی وطیرہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعض اہل بدعت ایک عمل کو درست قرار دیتے ہیں تو دوسرے اسی کو غلط کہہ رہے ہوتے ہیں۔(دست و گریبان تقریظ)۔

اسی طرح کوئی دیوبندی جلوس کو ناجائز کہتا ہے تو ایک جائز۔لہذا گھمن صاحب کے فتوی کی رو سے دیوبندی بد عتی ٹھہرے ۔اور ان کا مولوی اقبال رنگونی لکھتا ہے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ بدعت جہنمیوں کئ کتے ہیں(بدعت اور اہل بدعت اسلام کی نظر میں صفحہ 112)۔اب دیوبندی کیا ہے وہ خود ہی فیصلہ کرکے جلد اطلاع کریں۔شکریہ

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

الحمد اللہ دیوبندی سنی شیروں کی معروضات کا جواب دینے سے قاصر رہے اور کہا کہجناب خلیل رانا بھگوڑے ایںڈ بھگوڑا کمپنی راقم کا جواب یہ تھا
منکرات وضاحت خود حاشیہ میں موجود ہے کہ دوسرے دنوں یا عام دنوں کو چھوڑ کر کسی دن کسی وقت کے ساتھ جلوس کو مقید کردینا یا اس میں اسراف کرنا یا اس جلوس پر اصرار کرنا
اور یہ تمام منکرات آج کے میلادی خرافاتی جلوسوں میں پایا جاتا ہے اس لئے فتاوی فریدیہ کا فتوی ہمارے خلاف نہیں
بالفرض وہی ہو جو رضاخانیوں نے سمجھا تو یہ مفتی فرید صاحب کا تفرد اور جمہور اہل السنت دیوبند کے فتاوی و عمل کے خلاف ہونے کی وجہ سے قول شاذ ہوگاو مردود ہوگا
نیز ہم نے میلاد خرافات کے موسم میں احمد رضاخان کا فتوی پیش کیا تھا کہ سڑکوں پر جلوس نکالنا جائز نہیں
لہٰذا وہ یہ بتائیں کہ وہ جلوس نکال کر احمد رضاخان کے فتوے کی رو سے حرامکاری کرتے ہیں یا دیوبندیوں کے فتوے کی رو سے جائز کام کرتے ہیں ان کیلئے کونسا فتوی جائز ہے

یہ جواب اپنی جگہ ابھی بھی موجود ہے آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جلوس میں کوئی بدعت نہیں کوئی خرافات نہیں فلاں مولوی فلاں کی حمایت میں جلوس نکالتا ہے
تو جلوس میں کوئی بدعت ہے یا نہیں یہ الگ موضوع ہے موضوع تو یہ ہے کہ یہ فتوی ہمارے خلاف نہیں بالفرض ہو بھی تو قول شاذ ہے و تفرد ہے
اگر کسی ناشر نے فتاوی دارالعلوم دیوبند پاکستان لکھ دیا تو اس سے ہمیں کیا فرق ?
جن کے امام احمد رضاخان امام مالک امام احمد بن حنبل اور امام ابو حنفہ سے اختلاف کرنے کا حق رکھیں صحابہ سے اختلاف ان کی تحقیق کی معراج کہلائے جائے
انہیں ہمارے خلاف کسی ایک کا قول پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہئیے
رہی بات بھاگنے کی تو چلیں آپ کے کہنے پر ہم بھاگے ہی سہی لیکن جناب من ہم بار بار گذارشات کررہے ہیں کہ آنجناب ذرا گھر میں شیر بننے کے بجائے اور انٹرنیٹی مناظر بننے کے بجائے گھر سے باہر نکلیں ہم سے رابطہ کرکے مجلس مناظرہ کی ترتیب بنائیں ان شاء اللہ معلوم ہوجائے گا کہ کون کہاں کہاں کس کس طرح بھاگا
آئیندہ ایسی فضولیات کا جواب نہیں دیا جائے گا

جب ان بچاروں کے پاس دلیل ختم ہو جائیں تو یہ گالیاں ہی نکالتے ہیں۔اب جو باتیں اس نے کی ہیں ان کا جواب اوپر موجود ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.