Jump to content
IslamiMehfil

بریلویوں کی ملفوظات اعلیٰ حضرت ایک اور تحریف


Recommended Posts

بریلویوں کی ملفوظات اعلیٰ حضرت ایک اور تحریف



تحریف کیوں کی گئی ؟


بریلوی جہالت کی اعلیٰ مثال

 

اب اس فورم میں ہی ممبرز نے گھر بیٹھ کر ایک توبہ نامہ بنا لینا ہے کہ دیکھیں جی غلطی ہو گئی ہم سے آئندہ ایڈیشن میں اسے صحیح کر لیا جائے گا ۔۔۔

post-15600-0-47832900-1421831367_thumb.gif

post-15600-0-88407300-1421831537_thumb.jpg

post-15600-0-80221700-1421831785_thumb.jpg

Link to post
Share on other sites

 

اب اس فورم میں ہی ممبرز نے گھر بیٹھ کر ایک توبہ نامہ بنا لینا ہے کہ دیکھیں جی غلطی ہو گئی ہم سے آئندہ ایڈیشن میں اسے صحیح کر لیا جائے گا ۔۔۔

 

 

ہم تو توبہ کر لیتے ہیں اگر کوئی غلطی ہوجائے

 

تم وہابیوں نجدیوں کو تو وہ بھی  نصیب نہیں

Link to post
Share on other sites

 عبدلوہاب صاحب. کچھ عرصے پہلے تک تو آپکو یہ حدیث نہیں مل رہی تھی. آپ نے اس میں گستاخی کدھر سے دریافت کر لی؟ ؟ نا بالغ بچی کو لڑکی نہیں کہہ  سکتے کیا؟  یا ملفوظات میں درج ہے کہ لڑکی بالغ تھی؟

 

2.jpg

3.jpg

4.jpg

6.jpg

5.jpg

Edited by Mustafaye
Link to post
Share on other sites

 

اب اس فورم میں ہی ممبرز نے گھر بیٹھ کر ایک توبہ نامہ بنا لینا ہے کہ دیکھیں جی غلطی ہو گئی ہم سے آئندہ ایڈیشن میں اسے صحیح کر لیا جائے گا ۔۔۔

 

تم لوگ توبہ نہیں کرتے، اگر ایسا ہے تو نیچے دیئے گئے دو کتابوں کے اسکین پڑھ کر دیکھو کہ تمھیں کیا کرنا چاہیئے۔ یہ کتابیں لکھنے والوں پر اور ان لوگوں کو اور اس  لکھے کو صحیح ماننے والوں پرفتویٰ شرک لگاؤ اور کہو کہ یہ لوگ بھی ہم بریلویوں کی طرح مشرک ہیں۔

 

post-4514-0-36502000-1421901064_thumb.jpg

post-4514-0-25329600-1421901080_thumb.jpg

 

post-4514-0-04867800-1421901113_thumb.jpg

post-4514-0-00569500-1421901127_thumb.jpg

Link to post
Share on other sites

 

بیلا صاحب . اسے کتابت کی غلطی کہتے ہیں گستاخی نہیں

 

کتابت کی غلطی کتاب میں ہوتی ہے جب کہ میں نے بریلوی ویب سائٹ سے حوالہ دیا ۔۔۔ اور اسی فورم پر بریلوی نے اعتراف کیا کہ روایت میں لڑکی کا ہی ذکر ہے

Link to post
Share on other sites

 

 عبدلوہاب صاحب. کچھ عرصے پہلے تک تو آپکو یہ حدیث نہیں مل رہی تھی. آپ نے اس میں گستاخی کدھر سے دریافت کر لی؟ ؟ نا بالغ بچی کو لڑکی نہیں کہہ  سکتے کیا؟  یا ملفوظات میں درج ہے کہ لڑکی بالغ تھی؟

 

 

جی ہاں ملفوظات میں درج ہے کہ وہ بالغ عورت تھی

post-15600-0-11645300-1421920307_thumb.jpg

Link to post
Share on other sites

یہ عبدالوھابی نجدی میری پوسٹ نمبر 9 کو نظرانداز کرگیا کہ اِس کا اب کیا جواب دے کہ یہ لوگ خود یعنی اہلِ حدیث غیرمقلّد جن عقائد پر ہمیں شرک کے فتوے بے دریغ داغتے رہتے ہیں وہی اِن کے اپنے گھر سے برآمد ہورہے ہیں۔توبہ کرلو خود کو اہلِ حدیث کہلانے والے عبدلوھاب وہابی نجدی۔۔۔اور اپنے جیسے دوسرے وھابیوں سے بھی کہو کہ توبہ کرلیں۔


Link to post
Share on other sites

 

کتابت کی غلطی کتاب میں ہوتی ہے جب کہ میں نے بریلوی ویب سائٹ سے حوالہ دیا ۔۔۔ اور اسی فورم پر بریلوی نے اعتراف کیا کہ روایت میں لڑکی کا ہی ذکر ہے

 

اچھا وہابی صاحب کتابت کی غلطی کتاب میں ہوتی ہے اور ملفوظات کیا ہے؟ 

Link to post
Share on other sites

abdul wahab, aap k zehan main khabasat bhari hu e hay, aap khud HAZOOR (saw) ke shan gushtakhi kar rahay hain, qari ka zehan kharab kartay hain.

 

sub say behtar tha aap hadees ka tarjama likh daitay.  baat khul jaati kay larki ke umar kia thee.  malfoozaat main  aurat likha gia and aap pakkay ho gay. kitabat ke ghalti kia naheen ho sakti.

 

hadees check karain, sahee tarjama likhain, ALLAH (azw) say maafi maangain.

Link to post
Share on other sites

 

کتابت کی غلطی کتاب میں ہوتی ہے جب کہ میں نے بریلوی ویب سائٹ سے حوالہ دیا ۔۔۔ اور اسی فورم پر بریلوی نے اعتراف کیا کہ روایت میں لڑکی کا ہی ذکر ہے

 

-عبدلوہاب صاحب- کس نے اعتراف کیا کہ لڑکی کا ذکر ہے؟ اگر اشارہ میری طرف ہے تو میں نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ لڑکی لفظ تو نا بالغ بچی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اسکو گستاخی نہیں کہہ سکتے

Link to post
Share on other sites

وہابی اس زمین پر جہالت کی چلتی پھرتی مثال ہیں۔ ایک لفظ کی غلطی کو تحریف اور گستاخی ثابت کرنے چلا ہے۔ جبکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اصل روایت سے گستاخی ثابت کرتا ۔ مگر گستاخوں اور خود تحریف کرنے والوں کو نہ ہدایت ہے اور نہ ہی کبھی توبہ کرنا نصیب ہوئی۔الٹا   غلطی پر توبہ  کرنے والوںپر بھی اعتراض ۔ قرآن و حدیث سے کورے وہابیوں کو چاہیے کہ اصل حدیث کی کتاب سے اس کو گستاخی ثابت کرو۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تو ناقل ہیں۔پورا حوالہ بھی موجود ہے۔

 

 

 عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس صفحہ کو پڑھیں۔

 

post-4540-0-45694600-1395569914.gif

 


 

Link to post
Share on other sites

1


ملفوظات اعلیٰ حضرت میں تحریف سے ہم  اظہار براء ت کرتے ہیں۔


تخریج وتسہیل کے نام سے مکتبہ المدینہ نے جو ملفوظات اعلیٰ حضرت


شائع کئے اُس کے پہلے ایڈیشن میں بھی تحریف کی گئی،


پھر جب دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تواُس میں کچھ جدید تحریفات کی گئی ہیں۔


اللہ تعالیٰ ادارے کو توفیق


دے کہ یہ کام جب اتنی محبت سے کیاہے تو اس میں کی گئی تحریف کو ختم کرے


اورتحقیقی بورڈ میں جونادان دوست یا چالاک دشمن چھپا ہے اور اہل سنت کو بدنام


کر رہا ہے  تواُسے بے نقاب کرکے مسلک پراحسان کیا جائے۔


آیات توصحیح بخاری میں بھی غلط لکھی ہیں مگرکسی نے بخاری میں تحریف نہ کی۔


اسی طرح احادیث کے نقل کرنے میں محدثین کو سہو ہوئے مگر کسی نے سہو


متن میں درست کرکے تحریف نہ کی۔


یہاں  زیرِ بحث  حدیث میں کہیں (ابن)اورکہیں(صبی)لکھا ملتا ہے۔اگر سہو


سے (صبی)کو (صبیہ)بولاگیا تو ایسے سہو بھی کتب میں ملتے ہیں۔ چنانچہ 


مطالب العالیہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک روایت لکھی ہے اور


اس کی سندکو بھی صحیح لکھا:۔


عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ الله عَنْه قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَبِيٍّ أَوْ صَبِيَّةٍ


بے شک نبی پاک نے ناسمجھ بچے یا بچی کی نمازجنازہ پڑھائی۔


یہاں (صبی او صبیہ)میں (او)کا لفظ شک اورسہو کی نشاندہی کرتا ہے۔


لہذا بھول کومتن میں درست کرنے کی بجائے حاشیہ میں درست کیا جائے۔یہ علمی طریقہ ہے۔


ہم ادارے کی شائع کردہ اس کتاب میں کی گئی تحریفات سے اظہارِ براء ت کرتے ہیں۔


2


طبی ضرورت کے باعث کسی عورت کے چہرے یا بالائی صدر پر ہاتھ لگانا درست ہے۔ اس 


پراعتراض کرنے والے غلطی پر ہیں، چنانچہ۔


امام ابن حجر عسقلانی کی مطالب عالیہ سے ہی  ایک روایت پیش ہے۔


قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا حَنْظَلَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْه


قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ امْسَحْ وَجْهِي، وادع الله عز وجل لِي،


قَالَ: فَمَسَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهَا ودعا الله تعالى لَهَا.


قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَفِّلْ يَدَكَ. فَسَفَّلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا.


فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَفِّلْ يَدَكَ. فَأَبَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَاعَدَهَا.


ترجمہ معترض خود کرلے۔


Edited by Saeedi
  • Like 4
Link to post
Share on other sites
[quote name="Saad Qadri" post="98671" timestamp="1421937377"]


[center][size=6][font='courier new']اچھا وہابی صاحب کتابت کی غلطی کتاب میں ہوتی ہے اور ملفوظات کیا ہے؟[/font][/size][/center]

[right][font='courier new'][font='alvi nastaleeq'][color=#b22222][size=6]کوفی جی ۔۔ میں نے جو حوالہ دیا وہ بریلوی ویب سائٹ کا دیا کسی کتاب کا سکین نہیں ۔۔۔ اور جناب خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کتابت نہیں ہوئی ہوئی ۔۔۔
[url="http://www.alahazrat.net/library/UrduBooks/malfoozat-e-alahazrat/index.php?page=226"]http://www.alahazrat.net/library/UrduBooks/malfoozat-e-alahazrat/index.php?page=226[/url][/size][/color][/font][/font][/right]

[right]
[size=6][font='courier new'] [/font][/size][/right]
[/quote][quote name="Kilk-e-Raza" post="98676" timestamp="1422001368"]


[center][font='jameel noori nastaleeq'][size=6]وہابی اس زمین پر جہالت کی چلتی پھرتی مثال ہیں۔ ایک لفظ کی غلطی کو تحریف اور گستاخی ثابت کرنے چلا ہے۔ جبکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اصل روایت سے گستاخی ثابت کرتا ۔ مگر گستاخوں اور خود تحریف کرنے والوں کو نہ ہدایت ہے اور نہ ہی کبھی توبہ کرنا نصیب ہوئی۔الٹا غلطی پر توبہ کرنے والوںپر بھی اعتراض ۔ [/size][/font][font='jameel noori nastaleeq'][size=6]قرآن و حدیث سے کورے وہابیوں کو چاہیے کہ اصل حدیث کی کتاب سے اس کو گستاخی ثابت کرو۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ تو ناقل ہیں۔پورا حوالہ بھی موجود ہے۔[/size][/font][/center]


[center][b][font='jameel noori nastaleeq'][size=6] عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس صفحہ کو پڑھیں۔[/size][/font][/b][/center]

[center][font='jameel noori nastaleeq'][size=6][img]http://www.islamimehfil.com/uploads/monthly_03_2014/post-4540-0-45694600-1395569914.gif[/img][/size][/font][/center]

[center]
[/center]
[/quote]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222]بریلوی واقعی جاہل ہوتے ہیں ۔۔۔ میں نے جو حوالہ دیا وہ ویب سائٹ کا ہے جہاں یہ گستاخی ٹائپ کی گئی ۔۔۔ طباعت والی بات تو تب اچھی لگتی جب میں نے کسی طبع شدہ کتاب کا سکین لگایا ہوتا ۔۔۔[/color][/size][/font][/right][quote name="shahzad6058811" post="98672" timestamp="1421941033"]

[size=6]abdul wahab, aap [/size][size=6]k zehan main khabasat bhari hu e hay, aap khud HAZOOR (saw)[/size][size=6] ke shan gushtakhi kar rahay hain, qari ka zehan kharab kartay hain.[/size]

[size=6]sub say behtar tha aap hadees ka tarjama likh daitay. baat khul jaati kay larki ke umar kia thee. malfoozaat main aurat likha gia and aap pakkay ho gay. kitabat ke ghalti kia naheen ho sakti.[/size]

[size=6]hadees check karain, sahee tarjama likhain, ALLAH (azw)[/size][size=6] say maafi maangain.[/size][/quote]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222]حدیث تم چیک کرو ۔۔۔ اصل حدیث لگائو اپنی ویب سائٹس پر اور معافی مانگو اس گستاخی کی ۔۔۔ میری پوسٹ کو ہفتہ ہو گیا مگر نام نہاد عاشق رسولوں کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ اپنی ویب سائٹ سے یہ گستاخی ہی ہٹا دیں [/color][/size][/font][/right][quote name="Saeedi" post="98699" timestamp="1422190769"]


[center][b][size=8][color=rgb(0,0,255)]1[/color][/size][/b][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#ff0000]ملفوظات اعلیٰ حضرت میں تحریف سے ہم اظہار براء ت کرتے ہیں۔[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]تخریج وتسہیل کے نام سے[u] مکتبہ المدینہ [/u]نے جو [u]ملفوظات اعلیٰ حضرت[/u] [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]شائع کئے اُس کے پہلے ایڈیشن میں بھی تحریف کی گئی،[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]پھر جب دوسرا ایڈیشن [/color][/b][/font][/size][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]شائع ہوا تواُس میں کچھ جدید تحریفات کی گئی ہیں۔[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]اللہ تعالیٰ ادارے کو توفیق [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]دے کہ یہ کام جب اتنی محبت سے کیاہے تو اس میں کی گئی تحریف کو ختم کرے [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]اورتحقیقی بورڈ میں جونادان دوست یا چالاک دشمن چھپا ہے اور اہل سنت کو بدنام [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]کر رہا ہے تواُسے بے نقاب کرکے مسلک پراحسان کیا جائے۔[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]آیات توصحیح بخاری میں بھی غلط لکھی ہیں مگرکسی نے بخاری میں تحریف نہ کی۔[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]اسی طرح احادیث کے نقل کرنے میں محدثین کو سہو ہوئے مگر کسی نے سہو [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]متن میں درست کرکے تحریف نہ کی۔ [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]یہاں زیرِ بحث حدیث میں کہیں (ابن)اورکہیں(صبی)لکھا ملتا ہے۔اگر سہو [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]سے (صبی)کو (صبیہ)بولاگیا تو ایسے سہو بھی کتب میں ملتے ہیں۔ چنانچہ [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]مطالب العالیہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی نے ایک روایت لکھی ہے اور [/color][/b][/font][/size][/center]
[center][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]اس کی سندکو بھی صحیح لکھا:۔[/color][/b][/font][/size][/center]
[center][b][font=arial][size=6]عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ الله عَنْه قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَبِيٍّ أَوْ صَبِيَّةٍ[/size][/font][/b][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b]بے شک نبی پاک نے ناسمجھ بچے یا بچی کی نمازجنازہ پڑھائی۔[/b][/font][/size][/font][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b]یہاں (صبی او صبیہ)میں (او)کا لفظ شک اورسہو کی نشاندہی کرتا ہے۔ [/b][/font][/size][/font][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b]لہذا بھول کومتن میں درست کرنے کی بجائے حاشیہ میں درست کیا جائے۔یہ علمی طریقہ ہے۔[/b][/font][/size][/font][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b]ہم ادارے کی شائع کردہ اس کتاب میں کی گئی تحریفات سے اظہارِ براء ت کرتے ہیں۔[/b][/font][/size][/font][/center]
[center][b][color=#0000ff][size=8][font=arial][font='jameel noori nastaleeq']2[/font][/font][/size][/color][/b][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#ff0000]طبی ضرورت کے باعث کسی عورت کے چہرے یا بالائی صدر پر ہاتھ لگانا درست ہے۔ اس [/color][/b][/font][/size][/font][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#ff0000]پراعتراض کرنے والے غلطی پر ہیں، چنانچہ۔[/color][/b][/font][/size][/font][/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]امام ابن حجر عسقلانی کی مطالب عالیہ سے ہی ایک روایت پیش ہے۔[/color][/b][/font][/size][/font][/center]
[center][b][font=arial][size=6]قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا حَنْظَلَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله عَنْه [/size][/font][/b][/center]
[center][b][font=arial][size=6]قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [/size][/font][/b][/center]
[center][b][font=arial][size=6]فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ امْسَحْ وَجْهِي، وادع الله عز وجل لِي،[/size][/font][/b][/center]
[center][b][font=arial][size=6]قَالَ: فَمَسَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهَا ودعا الله تعالى لَهَا. [/size][/font][/b][/center]
[center][b][font=arial][size=6]قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَفِّلْ يَدَكَ. فَسَفَّلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا.[/size][/font][/b][/center]
[center][b][font=arial][size=6]فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَفِّلْ يَدَكَ. فَأَبَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَاعَدَهَا[/size][/font][/b].[/center]
[center][font=arial][size=6][font='jameel noori nastaleeq'][b][color=#000000]ترجمہ معترض خود کرلے۔[/color][/b][/font][/size][/font][/center]
[/quote]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222]بہت اچھی بات جناب نے اور اقرار کر لیا کہ ملفوظات میں یہ گستاخی موجود ہے اور اس گستاخی کو ہٹانا نہیں چاہیئے ۔۔۔ [/color][/size][/font][/right]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222]اور جناب کہ یہ کہنا کہ طبیب عورت کو چھو سکتا ہے ۔۔۔ اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ نبی کریم نے اس عورت کو چھوا تو اس کے لئے یہ پڑھ لیں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔[/color][/size][/font]
[/right]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222][ [/color][color=#000000][font='nafees web naskh']والله ما مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ في الْمُبَايَعَةِ وما بَايَعَهُنَّ إلا بِقَوْلِهِ[/font][/color][color=#b22222][font='nafees web naskh'] [font='alvi nastaleeq'][[/font] [font='alvi nastaleeq']ص[/font][/font]حیح البخاری[/color][/size][/font][/right]
[right][font='alvi nastaleeq'][size=6][color=#b22222]ترجمہ کوفی صاحب خود فرما لیں ۔۔۔[/color][/size][/font][/right]

[right]
[/right]
Link to post
Share on other sites

 

بہت اچھی بات جناب نے  اور اقرار کر لیا کہ ملفوظات میں  یہ گستاخی موجود ہے اور اس گستاخی کو ہٹانا نہیں چاہیئے ۔۔۔

اور جناب کہ یہ کہنا کہ طبیب عورت کو چھو سکتا ہے ۔۔۔ اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ نبی کریم نے اس عورت کو چھوا تو اس کے لئے یہ پڑھ لیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

 

[ والله ما مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ في الْمُبَايَعَةِ وما بَايَعَهُنَّ إلا بِقَوْلِهِ [ صحیح البخاری

ترجمہ کوفی صاحب خود فرما لیں ۔۔۔

 

 

 

جناب عبدلوہاب نجدی التمیمی ذرا نجد کی عینک اتر کر پوسٹ میں گستاخی کا لفظ ڈھونڈ. دوتم سے علمی جواب نہ بن سکا تو فضول بحث شروع کردی

Link to post
Share on other sites

 

بہت اچھی بات جناب نے  اور اقرار کر لیا کہ ملفوظات میں  یہ گستاخی موجود ہے اور اس گستاخی کو ہٹانا نہیں چاہیئے ۔۔۔

اور جناب کہ یہ کہنا کہ طبیب عورت کو چھو سکتا ہے ۔۔۔ اور ثابت یہ کرنا چاہتے ہیں کہ نبی کریم نے اس عورت کو چھوا تو اس کے لئے یہ پڑھ لیں

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔

 

[ والله ما مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ في الْمُبَايَعَةِ وما بَايَعَهُنَّ إلا بِقَوْلِهِ [ صحیح البخاری

ترجمہ کوفی صاحب خود فرما لیں ۔۔۔

 

نجدی صاحب!۔

ام المومنین نے بیعت کے وقت کی بات کی ہے اورحضرت انس نے دوسرے وقت کی بات کی ہے۔

اوراُس کی سندبھی پیش کردی گئی ہے۔

اگرملفوظات کی سہوی عبارت میں گستاخی مانتے ہو توکیاعلامہ ابن حجرعسقلانی کی مطالب عالیہ پر بھی گستاخی کا فتویٰ

لگاتے ہو یانہیں؟اگرنہیں لگاتے توتم غیرمنصف ہو۔اوراگرفتویٰ لگاتے ہوتولگاؤ۔

پھرام المومنین نے اپنا مشاہدہ بیان کیاہے اور حضرت انس نے اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔اگرآپ ایک کو سچا کہتے ہو

اوردوسرے کوجھوٹا کہتے ہو توکہو تاکہ تمہاری حب صحابہ کا پردہ بھی چاک ہونا سامنے آئے۔

پھریہ اپنے اپنے مشاہدے کی بات ہے۔ایک نے معمول اوردوسرے نے نادر واقعہ بتایا۔

یہ ایسے ہی سمجھیں جیسے کھڑے ہوکرپیشاب کرنے یانہ کرنے کی حدیثیں۔

ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کابیان ہے:۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا

جوتجھے کہے کہ رسول اللہ (saw) نے کھڑے ہوکرپیشاب کیاتواُسے سچا نہ جانو،میں نے آپ کو بیٹھ کرہی پیشاب کرتے دیکھاہے۔

جب کہ بخاری میں حضرت حذیفہ کا بیان ہے:۔

عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيُّ  صلّى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا

نبی پاک (saw)  قوم کے کوڑے پر آئے اورکھڑے ہوکرپیشاب فرمایا۔

Edited by Saeedi
  • Like 3
Link to post
Share on other sites

(salam)

 

  1. Hazrat,  ala hazrat ka asal malfoozat ka scan page lag sakta hay jis ko hum keh saktay hien ya sahee hay. ya phir jub say malfoozat chapnay shuru howay hien. jub say gahlti chali arahi hay???
  2.  maktaba tul madinah, malfoozat may kiya waqai may tehreeef ker raha hay? mera ya khiyal hay bapa jaan to kabhi tehreeef berdasht nahi karien gay. to ya bolna kay maktabah tul madinah tahreef ker raha hay ya such kaisay ho sakta hay?
  3. hadith shareef kay jo scan page hien us may to seenay per hath marna or mirgi beemari wagirah ka koi ziker nahi hay jo waqiya malfoozat may hay

barai madinah rehnumai fermiane. (ja)

Edited by Smart Ali
Link to post
Share on other sites
  • 3 months later...

 

نجدی صاحب!۔

ام المومنین نے بیعت کے وقت کی بات کی ہے اورحضرت انس نے دوسرے وقت کی بات کی ہے۔

اوراُس کی سندبھی پیش کردی گئی ہے۔

اگرملفوظات کی سہوی عبارت میں گستاخی مانتے ہو توکیاعلامہ ابن حجرعسقلانی کی مطالب عالیہ پر بھی گستاخی کا فتویٰ

لگاتے ہو یانہیں؟اگرنہیں لگاتے توتم غیرمنصف ہو۔اوراگرفتویٰ لگاتے ہوتولگاؤ۔

پھرام المومنین نے اپنا مشاہدہ بیان کیاہے اور حضرت انس نے اپنا مشاہدہ بیان کیا ہے۔اگرآپ ایک کو سچا کہتے ہو

اوردوسرے کوجھوٹا کہتے ہو توکہو تاکہ تمہاری حب صحابہ کا پردہ بھی چاک ہونا سامنے آئے۔

پھریہ اپنے اپنے مشاہدے کی بات ہے۔ایک نے معمول اوردوسرے نے نادر واقعہ بتایا۔

یہ ایسے ہی سمجھیں جیسے کھڑے ہوکرپیشاب کرنے یانہ کرنے کی حدیثیں۔

ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کابیان ہے:۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ قَائِمًا فَلَا تُصَدِّقْهُ، أَنَا رَأَيْتُهُ يَبُولُ قَاعِدًا

جوتجھے کہے کہ رسول اللہ (saw) نے کھڑے ہوکرپیشاب کیاتواُسے سچا نہ جانو،میں نے آپ کو بیٹھ کرہی پیشاب کرتے دیکھاہے۔

جب کہ بخاری میں حضرت حذیفہ کا بیان ہے:۔

عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَتَى النَّبِيُّ  صلّى الله عليه وسلم سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا

نبی پاک (saw)  قوم کے کوڑے پر آئے اورکھڑے ہوکرپیشاب فرمایا۔

 

کوفی صاحب اس سارے تکلف کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔ تمہارا کتاب کے نئے ایڈیشن میں اس روایت کو تحریف کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عبارت گستاخانہ تھی ورنہ تحریف ہی کیوں کی جاتی ۔۔۔۔؟؟؟

اور ذرا یہ حدیث بھی جناب پڑھ لیں اور ترجمہ خود فرما لیں ۔۔۔

 

’’ لأن يَطعَنَ أحدُكُم بِمخيط ٍ مِن حَديدِ خَيرٌ لهُ مِن أن يَمسَ اِمرأة لا تُحلُ لَهُ ‘‘

 (بیہقی شریف

اب ذرا اس کا جواب دینا تا کہ تمہارے نام نہاد عشق رسول کا پردہ بھی چاک ہو جائے ۔۔۔

اور اپنی بیان کردہ رویات میں میں حنظلة کی ثقاہت تو ثابت کر دو ۔۔۔۔

 

 

Link to post
Share on other sites

 

نجدی صاحب!۔
اگرملفوظات کی سہوی عبارت میں گستاخی مانتے ہو توکیا
علامہ ابن حجرعسقلانی کی مطالب عالیہ پر بھی گستاخی کا فتویٰ 
لگاتے ہو یانہیں؟
اگرنہیں لگاتے توتم غیرمنصف ہو۔اوراگرفتویٰ لگاتے ہوتولگاؤ۔

 تمہارا کتاب کے نئے ایڈیشن میں 
اس روایت کو تحریف کرنا ہی اس بات کا ثبوت ہے
 کہ یہ عبارت گستاخانہ تھی ورنہ تحریف ہی کیوں کی جاتی ۔۔۔۔؟؟؟

وھابی نے میرے سوال کا جواب نہ دیا۔

اور تحریف کی علت توھین بیان کردی۔میں عرض کرتا ھوں کہ

تحریف کنندہ کے فعل تحریف سے ھم اظہار براءت کرچکے تو

اُس سے ھمارے خلاف حجت کیونکرقائم ھوسکتی ھے؟

تحریف کنندہ کی فہم بھی تم وھابیوں جتنی ھوسکتی ھے۔

اور ذرا یہ حدیث بھی جناب پڑھ لیں اور ترجمہ خود فرما لیں ۔۔۔

’’ لأن يَطعَنَ أحدُكُم بِمخيط ٍ مِن حَديدِ خَيرٌ لهُ مِن أن يَمسَ اِمرأة لا تُحلُ لَهُ ‘‘
 (بیہقی شریف
اب ذرا اس کا جواب دینا 
تا کہ تمہارے نام نہاد عشق رسول کا پردہ بھی چاک ہو جائے ۔۔۔
اور اپنی بیان کردہ رویات میں میں حنظلة کی ثقاہت تو ثابت کر دو ۔۔۔۔

آپ مجھ سے حنظلہ کی ثقاھت پوچھ رھے ھیں مگر خود آپ نے امام بیہقی کی شعب الایمان سے جوحدیث پیش کی ھے اُس میں شداد بن سعید ھے جس کے متعلق یہی بیہقی اپنی سنن کبری میں لکھتے ھیں کہ:۔

4322

تَفَرَّدَ بِهِ شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ

یعنی یہ راوی قوی نہیں ھے۔

رہ گیا حنظلہ تواُس کو بھی سبھی تو ضعیف نہیں مانتے۔چنانچہ امام ترمذی اُس کی روایت کو حسن لکھتے ھیں۔

2728 -

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقَى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهِ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ»

 

 

 

 

 

Edited by Saeedi
  • Like 2
Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...