Jump to content
IslamiMehfil

Al Haya-Oo Minal Eman [Hadees E Pak ] Ka Hwala Chahiey


Recommended Posts

  • 2 weeks later...





(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ رَجَاءُ بْنُ حَامِدٍ الْمَعْدَانِيُّ ، قَالَ : أنبا أَبُو مَسْعُودِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ ، قَالَ : ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجُرْجَانِيُّ ، أنباحَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ الأَبْيَوَرْدِيُّ ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً ، أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .(الكتب » أمالي الجرجاني » الإيمان بضع وسبعون شعبة ، أو بضع وستون شعبة ، أفضلها)








 

  • Like 1
Link to post
Share on other sites
  • 1 month later...
خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :'حیا ء ایمان کاحصہ ہے اور ایمان جنت میں لے جانے والا ہے جبکہ بے حیائی ظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جانے والا ہے۔  |  (جامع الترمذی ، ابواب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی الحیاء ،الحدیث: ۲۰۰۹،ص۱۸۵۳)

 

Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By خیر اندیش
      از
      مفتی ابو اسامہ سائر القادری حفظہ الله|
       
      اقسام حدیث باعتبار اصل یعنی اصل کے اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) مرفوع (۲) موقوف (۳) مقطوع
      پھر حدیث خواہ مرفوع ہو یا موقوف ہو یا مقطوع ہو ان میں سے ہر ایک کی تین قسمیں ہیں۔  
      (۱) قولی  (۲) فعلی  (۳) تقریری ۔
       
      اقسام حدیث باعتبار نقل یعنی نقل کے اعتبار سے حدیث کی دوقسمیں ہیں  (۱) متواتر  (۲) غیر متواتر۔
       
      پھر راویوں کے تعداد کے اعتبار سے حدیث کی تین قسمیں ہیں۔ (۱) مشہور  (۲) عزیز  (۳) غریب۔
       
      پھر مراتب کے اعتبار سے حدیث کی چار قسمیں ہیں۔ (۱) صحیح لذاتہ  (۲) صحیح لغیرہ  (۳) حسن لذاتہ  (۴) حسن لغیرہ۔
      (ماخوذ: اصول علم حدیث صفحہ ۵ ، تا ۹)
       
      اور حدیث کے منکر پر حکم شرع یہ ہے کہ اگر کسی نے حدیث کا انکار کیا تو وہ کافر ہے
      میرے آقا اعلٰی حضرت امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: حدیث متواتر کے انکار پر حکم تکفیر کی جاتی (یعنی حکم کفر لگایا جاتا) ہے خواہ متواتر باللفظ ہو یا متواتر المعنیٰ اور حدیث ٹھہرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقا کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل (یعنی کم درجہ) ہو۔ ( فتاویٰ رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۲۸۰)
       
      نوٹ: حدیث ٹھہرا کر انکار کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ قائل یہ مراد لے کہ فلاں بات سرکار کائنات ﷺ نے معاذ اللہ غلط ارشاد فرما دی تو یہ قائل قطعی کافر و مرتد ہے۔
       
      اور رہی بات مطلقاً حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہے یا کسی خاص حدیث کا انکار کرنے والا کافر ہے؟ تو جان لیجئے کہ مطلقاً حدیث کا انکار کرنے والا شخص کافر ہے اور کسی خاص حدیث کا انکار کرتا ہے اور وہ حدیث مجروح ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں اور اگر کسی حدیث صحیح کا انکار کرتا ہے اور جانتا بھی ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو وہ شخص گمراہ ہے۔ اس پر توبہ تجدید ایمان لازم و ضروری ہے۔
       
      جیسا کہ فتاویٰ شارح بخاری میں ہے: حدیث کا مطلقاً انکار کرنے والا کافر ہے۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ میں حدیث نہیں مانتا۔ لیکن اگر کسی نے کسی خاص حدیث کے بارے میں کہا کہ میں اسے نہیں مانتا اور وہ حدیث مجروح ہے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن اگر کسی حدیث صحیح کے بارے میں یہ کہا اور اسے معلوم بھی ہو کہ یہ حدیث صحیح ہے تو وہ گمراہ ہے اور اگر کسی نے یہ کہا میں پوری کتاب (مشکوٰۃ) میں جو حدیثیں ہیں (یعنی یہ کہا کہ مشکوٰۃ میں جتنی حدیثیں ہیں ان میں سے کسی کو نہیں مانتا) اس کو نہیں مانتا تو وہ بھی ضرور کافر ہے اس پر توبہ تجدید ایمان تجدید نکاح لازم ہے۔ ( فتاویٰ شارح بخاری جلد اول صفحہ ۵۶۴، ۵۶۵)
       
       
      اور فتاویٰ مرکز تربیت افتاء میں ہے: اگر کسی شخص نے حدیث کا انکار کیا اگر وہ بیان کردہ حدیث متواتر ہے اور وہ شخص اس کا منکر ہے تو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں اس پر علانیہ توبہ استغفار واجب ہے۔ بیوی والا ہو تو نکاح جدید بمہر جدید کرے اور تجدید ایمان بھی کرے اگر مرید ہے تو بیعت بھی کرے اگر وہ حدیث مشہور ہے تو اس کا منکر کافر نہیں بلکہ وہ گمراہ مسلمان ہے۔ (فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ ۱۰۹)
       
       
      اور منکرِحدیث کے بارے میں   میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت ، مولاناشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرضوان فرماتے ہیں : جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا منکر ہے اور جو نبی  صَلَّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا منکر ہے وہ قرآن مجید کا منکر اور جو قراٰن مجید کا منکر ہے اللّٰہ واحد قہار کا منکر ہے اور جو اللّٰہ کا منکر ہے صریح مرتد کافِر ہے ۔       
      (فتاوٰی رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۳۱۲)
       واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
    • By Syed Kamran Qadri
      جانور ذبح کرتے ہوئے تکبیر کے بعد کلام کیا اور پھر تکبیر نہ
      پڑھی ، تو کیا حکم ہے ؟

    • By Wjkhan
      Welcome to post on Hadith from Mishkat ul Masabeeh. This is Hadith # 203 from Kitab ul Ilm aur is ki ilm ki fazilat 
      Source : http://eazyislaminfo.blogspot.com/search/label/Hadith

       
    • By Syed Kamran Qadri
      کیا امام کا اقامت کے وقت مصلے پر موجود ہونا ضروری ہے؟

    • By فقیرقادری
      السلام علیکم
      اس حدیث کا سکین اور سند درکار ہے
×
×
  • Create New...