nominomee

نادِ علی کرّم اللّٰہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ چاہئے

29 posts in this topic

السلام علیکم!

کیا کوئی دوست نادِ علی کرّم اللّٰلہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ فراہم کر سکتا ہے۔جزاک اللّٰلہ تعالیٰ

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)


عرض ہے کہ وظیفہ ناد علی کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب

الانتباہ فی سلاسل الاولیاء میں درج ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا

اس فقیر نے خرقہ شیخ ابو طاہر کردی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ سے پہنا اور انہوں نے

اُس کے عمل کی اجازت دی جو جواہر خمسہ میں ہیں۔

شیخ ابو طاہر کردی مدنی ہیں ، شاہ ولی اللہ نے مدینہ طیبہ میں مدتوں ان کی خدمت میں رہ کر

سلاسل حدیث حاصل کئے ،وہی سلاسل حدیث اُن سےحضرت شاہ عبدالعزیز محدّث دہلوی علیہ الرحمہ

اور اُن سے تمام علماء اہل سنت، اور دیوبندی اور وھابی علماء کے پاس پہنچے ہیں۔

اسی جواہر خمسہ میں دعائے سیفی کی ترکیب میں لکھا ہے

ناد علی ہفت بار یا سہ بار یا یک بار بخواند وآں ایں است

ناد علیاً مظہر العجائب

تجدہ عونالک فی نوائب

کل ھم وغم سینجلی

بولایتک یا علی یاعلی یاعلی


111.jpg

222.jpg

333.jpg

184.jpg

185.jpg

186.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

خلیل صاحب! السلام علیکم۔کیا آپ کتاب“جواہر خمسہ“ مکمل شیئرکر سکتے ہیں۔جزاک اللّٰلہ

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

خلیل صاحب! السلام علیکم۔کیا آپ کتاب“جواہر خمسہ“ مکمل شیئرکر سکتے ہیں۔جزاک اللّٰلہ

(bis)

Download Book: (part#1)

https://www.google.com.pk/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=11&cad=rja&uact=8&ved=0CD0QFjAKahUKEwiHnqT4ocTIAhUECo4KHSpYCK4&url=https%3A%2F%2Fwww.scribd.com%2Fdoc%2F129474114%2FJawahir-Ul-Khamsa&usg=AFQjCNFxsWL4KgAArHaca2pHk4aUKx-8Bg&bvm=bv.105039540,d.c2E

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

السلام علیکم!

کیا کوئی دوست نادِ علی کرّم اللّٰلہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ فراہم کر سکتا ہے۔جزاک اللّٰلہ تعالیٰ

 

السلام علیکم!

کیا کوئی دوست نادِ علی کرّم اللّٰلہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ فراہم کر سکتا ہے۔جزاک اللّٰلہ تعالیٰ

 

السلام علیکم!

کیا کوئی دوست نادِ علی کرّم اللّٰلہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ فراہم کر سکتا ہے۔جزاک اللّٰلہ تعالیٰ

بھائی نادعلی رضی اللہ عنہ کو ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے رافضیوں کا جھوٹ قرار دیا۔

ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب الموضوعات الکبیر میں لکھتے ہیں۔

 

حَدِيثُ

لَا فَتَى إِلَّا عَليّ لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ 

لَا أَصْلَ لَهُ مِمَّا يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ نَعَمْ يُرْوَى فِي أَثَرٍ وَاهٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ الْعَبْدِيِّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ قَالَ نَادَى مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ يُقَالُ لَهُ رَضْوَانُ لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ لَا فَتَى إِلًا عَلَيٌّ وَذَكَرَهُ كَذَا فِي الرِّيَاضِ النَّضِرَةِ وَقَالَ ذُو الْفِقَارِ اسْمُ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَتْ فِيهِ حُفَرٌ صِغَارٌ

أَقُولُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِهِ أَنَّهُ لَوْ نُودِيَ بِهَذَا مِنَ السَّمَاءِ

فِي بَدْرٍ لَسَمِعَهُ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ وَنَقَلَ عَنْهُمُ الْأَئِمَّةُ الْفِخَامُ وَهَذَا شَبِيهُ مَا يُنْقَلُ مِنْ ضَرْبِ النُّقَارَةِ حَوَالِيَ بَدْرٍ وَيَنْسُبُونَهُ إِلَى الْمَلَائِكَةِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِمْرَارِ مِنْ زَمَنِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا وَهُوَ بَاطِلٌ عَقْلًا وَنَقْلًا وَإِنْ كَانَ ذَكَرَهُ ابْنُ مَرْزُوقٍ وَتَبِعَهُ الْقَسْطَلَّانِيُّ فِي مَوَاهِبِهِ

وَكَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ

نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بُوِلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ

 

الموضوعات الکبریٰ

صفحہ 386، رقم 595

 

post-18262-0-90198800-1491468945_thumb.jpg

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

بھائی نادعلی رضی اللہ عنہ کو ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے رافضیوں کا جھوٹ قرار دیا۔

 

 

جناب، ملا علی قاری علیہ الرحمہ کا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس وقت آپ اس کو موجودہ عقائد اہلسنت و معمولات کے خلاف پیش کر رہے ہیں۔ نادعلی کا وظیفہ صدیوں سے اہلسنت کے وظائف میں سے ایک ہے جس کی اجازت مشائخ کو ملتی چلی آرہی ہے اور جید علماء نے اس وظیفہ سے کبھی منع نہ کیا۔ اگر اس استعغاثہ کے الفاظ میں کوئی ایسی بات ہے جو عقائد اہلسنت سے ٹکراتی ہے تو اس کو ضرور پیش کریں۔ باقی جو بات آپ نے الموضوعات کبری کے حوالے سے پیش کی ہے وہ یقیناً دیگر علماء کے پیش نظر ہے۔ اگر اس پر علمائے اہلسنت کا متفقہ فتوی یا حکم موجود ہے جس میں اس کو پڑھنے یا دینے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ضرور پیش کریں۔ صرف ایک اختلافی حوالہ پیش کرنے سے کچے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیش ہوسکتے ہیں۔ 

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

جناب، ملا علی قاری علیہ الرحمہ کا اختلاف اپنی جگہ، مگر اس وقت آپ اس کو موجودہ عقائد اہلسنت و معمولات کے خلاف پیش کر رہے ہیں۔ نادعلی کا وظیفہ صدیوں سے اہلسنت کے وظائف میں سے ایک ہے جس کی اجازت مشائخ کو ملتی چلی آرہی ہے اور جید علماء نے اس وظیفہ سے کبھی منع نہ کیا۔ اگر اس استعغاثہ کے الفاظ میں کوئی ایسی بات ہے جو عقائد اہلسنت سے ٹکراتی ہے تو اس کو ضرور پیش کریں۔ باقی جو بات آپ نے الموضوعات کبری کے حوالے سے پیش کی ہے وہ یقیناً دیگر علماء کے پیش نظر ہے۔ اگر اس پر علمائے اہلسنت کا متفقہ فتوی یا حکم موجود ہے جس میں اس کو پڑھنے یا دینے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ضرور پیش کریں۔ صرف ایک اختلافی حوالہ پیش کرنے سے کچے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیش ہوسکتے ہیں۔

 

اگر ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی بات آپ کو درست نہیں لگ رہی تو کوئی سند ہی پیش کردیں اس روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کیونکہ صوفیاءکرام رحمہ اللہ علیہم کی کتب میں بہت سی احادیث موضوع پائی جاتی ہیں۔

اس لیے اس کا کوئی صحیح ثبوت پیش کریں تاکہ سب کی اصلاح ہو۔

مجھے بھی اجازت ہے اس وظیفے کی لیکن میں پڑھتا نہیں ہوں کیونکہ آج تک مجھے اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں ملااس لیے میں نے اسے ترک کر دیا ہے۔

 

میں ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق سے متفق ہوں اور اگر کسی نے ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق سے اختلاف کیا یا اس کا رد کیا تو میں بھی اس کا رد لکھوں گا اور ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی اس تحقیق کو اصول حدیث کی روشنی میں صحیح ثابت کرونگا۔(انشاء اللہ )

باقی میں بھائی آپ کے تحقیقی جواب کا منتظر ہوں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

اگر ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی بات آپ کو درست نہیں لگ رہی تو کوئی سند ہی پیش کردیں اس روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کیونکہ صوفیاءکرام رحمہ اللہ علیہم کی کتب میں بہت سی احادیث موضوع پائی جاتی ہیں۔

اس لیے اس کا کوئی صحیح ثبوت پیش کریں تاکہ سب کی اصلاح  ہو۔

 

 

جناب، میں عام سا بندہ ہوں، نہ کوئی عالم ہوں نہ محقق۔ تحقیق و سند تو علمائے کرام ہی پیش کر سکتے ہیں۔ باقی اوپر ایک ٹاپک کا لنک موجود ہے جس میں تفصیلاً بحث فورم ممبرز کے درمیان موجود ہے۔ باقی اصل بات وہی ہے کہ ہم مولائے کائنات علی مرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو اپنا مولا و مددگار مانتے ہیں، جو کہ اس استغاثہ میں ہے اور یہ عقیدہ اہلسنت کا ہے۔ مگر یہی کام شیعہ بھی کرتے ہیں تو کیا ہم مددگار ماننا چھوڑ دیں۔ کل کسی عالم  نے لکھ دیا کہ نعرہ حیدری شیعہ کا ایجاد کردہ ہے تو اہلسنت کو یہ کام بھی ترک کر دینا چاہیے؟۔۔ میرا اختلاف صرف اتنا ہے کہ جو حوالہ آپ نے پیش کیا وہ یقیناً علمائے اہلسنت کی پیش نظر ہے۔ اگر اس پر  جید علماء کے متفقہ فتاوی جات میں  موجود ہے کہ یہ وظیفہ نہ پڑھنا چاہیے تو پھر تو  فورم پر اس کی تشہیر کرنا ہر طرح سے صحیح ہے، وگرنہ ایک اختلافی حوالہ پیش کر کے ناد علی کو شیعہ کا وظیفہ ثابت کرنا معمولات اہلسنت کو غلط ثابت کرنے کے مترادف ہے۔

 

کیا اس وظیفہ پر صرف صوفیائے کرام کا ہی عمل و  اعتماد ہے؟ کیا اہلسنت  میں علماء و محقیقین کی کمی ہے جو اس پر تفصیلی تحقیق کر کے عوام اہلسنت کو اس وظیفے سے منع کرتے؟ آپ کی تحقیق یا ملا علی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ  دیگر جید "علمائے اہلسنت" سے یہی حکم یہاں نقل کر دیں تاکہ ایک متفقہ فیصلہ سامنے آجائے۔یہاں پر ٹاپکس علماء نہیں بلکہ عوام پڑھتے ہیں۔ اور عوام کو سند و ثبوت سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا  ناد علی پڑھنا  یا مولی علی  کو مشکل کشاء کہنا صحیح ہے یا نہیں۔ ایک اختلافی حوالہ پیش کرنا کچے عوامی ذہنوں کو غلط عقائد کی طرف لے جا سکتا ہے۔    

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

جناب، میں عام سا بندہ ہوں، نہ کوئی عالم ہوں نہ محقق۔ تحقیق و سند تو علمائے کرام ہی پیش کر سکتے ہیں۔ باقی اوپر ایک ٹاپک کا لنک موجود ہے جس میں تفصیلاً بحث فورم ممبرز کے درمیان موجود ہے۔ باقی اصل بات وہی ہے کہ ہم مولائے کائنات علی مرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو اپنا مولا و مددگار مانتے ہیں، جو کہ اس استغاثہ میں ہے اور یہ عقیدہ اہلسنت کا ہے۔ مگر یہی کام شیعہ بھی کرتے ہیں تو کیا ہم مددگار ماننا چھوڑ دیں۔ کل کسی عالم نے لکھ دیا کہ نعرہ حیدری شیعہ کا ایجاد کردہ ہے تو اہلسنت کو یہ کام بھی ترک کر دینا چاہیے؟۔۔ میرا اختلاف صرف اتنا ہے کہ جو حوالہ آپ نے پیش کیا وہ یقیناً علمائے اہلسنت کی پیش نظر ہے۔ اگر اس پر جید علماء کے متفقہ فتاوی جات میں موجود ہے کہ یہ وظیفہ نہ پڑھنا چاہیے تو پھر تو فورم پر اس کی تشہیر کرنا ہر طرح سے صحیح ہے، وگرنہ ایک اختلافی حوالہ پیش کر کے ناد علی کو شیعہ کا وظیفہ ثابت کرنا معمولات اہلسنت کو غلط ثابت کرنے کے مترادف ہے۔

کیا اس وظیفہ پر صرف صوفیائے کرام کا ہی عمل و اعتماد ہے؟ کیا اہلسنت میں علماء و محقیقین کی کمی ہے جو اس پر تفصیلی تحقیق کر کے عوام اہلسنت کو اس وظیفے سے منع کرتے؟ آپ کی تحقیق یا ملا علی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق پر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ دیگر جید "علمائے اہلسنت" سے یہی حکم یہاں نقل کر دیں تاکہ ایک متفقہ فیصلہ سامنے آجائے۔یہاں پر ٹاپکس علماء نہیں بلکہ عوام پڑھتے ہیں۔ اور عوام کو سند و ثبوت سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا ناد علی پڑھنا یا مولی علی کو مشکل کشاء کہنا صحیح ہے یا نہیں۔ ایک اختلافی حوالہ پیش کرنا کچے عوامی ذہنوں کو غلط عقائد کی طرف لے جا سکتا ہے۔

 

بھائی یہ کوئی اختلافی حوالہ نہیں ہے بلکہ صحیح حوالہ ہے جو اکثر لوگوں کو اس کا پتا نہیں اس لیے اس طرح کے صحیح حوالہ لوگوں کو اختلافی لگتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں کو صحیح بات بتانے سے ڈرتے ہیں کہیں وہ اس سے کوئی بدمذہب نہ ہو جائیں۔

اس لیے جو صحیح بات ہوا کرے وہی بتا دیا کریں ورنہ وہی بات کوئی وہابی اسے بتا دے گا تو اس کا پتا نہیں کیا حال ہو گا اور علما اہلسنت کے بارے پتا نہیں کیا سے کیا سوچے گا؟؟؟

باقی میری باتوں کا برا بھی نہیں مانیے گا کیونکہ میرا کام تھا آپ کو صحیح بات بتانا باقی اگر آپ کےاس بارے میں کوئی قوی دلائل ہیں تو پیش کریں۔

 

اگر وہ دلائل واقعی قوی ہوئےتو میں ضرور اس پر تحقیق کرونگا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

بھائی نادعلی رضی اللہ عنہ کو ملاعلی قاری علیہ الرحمہ نے رافضیوں کا جھوٹ قرار دیا۔

ملا علی قاری علیہ الرحمہ اپنی کتاب الموضوعات الکبیر میں لکھتے ہیں۔

 

حَدِيثُ

لَا فَتَى إِلَّا عَليّ لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ 

لَا أَصْلَ لَهُ مِمَّا يُعْتَمَدُ عَلَيْهِ نَعَمْ يُرْوَى فِي أَثَرٍ وَاهٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ الْعَبْدِيِّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَاقِرِ قَالَ نَادَى مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ يُقَالُ لَهُ رَضْوَانُ لَا سَيْفَ إِلَّا ذُو الْفِقَارِ لَا فَتَى إِلًا عَلَيٌّ وَذَكَرَهُ كَذَا فِي الرِّيَاضِ النَّضِرَةِ وَقَالَ ذُو الْفِقَارِ اسْمُ سَيْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُمِّيَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُ كَانَتْ فِيهِ حُفَرٌ صِغَارٌ

أَقُولُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِهِ أَنَّهُ لَوْ نُودِيَ بِهَذَا مِنَ السَّمَاءِ

فِي بَدْرٍ لَسَمِعَهُ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ وَنَقَلَ عَنْهُمُ الْأَئِمَّةُ الْفِخَامُ وَهَذَا شَبِيهُ مَا يُنْقَلُ مِنْ ضَرْبِ النُّقَارَةِ حَوَالِيَ بَدْرٍ وَيَنْسُبُونَهُ إِلَى الْمَلَائِكَةِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِمْرَارِ مِنْ زَمَنِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا وَهُوَ بَاطِلٌ عَقْلًا وَنَقْلًا وَإِنْ كَانَ ذَكَرَهُ ابْنُ مَرْزُوقٍ وَتَبِعَهُ الْقَسْطَلَّانِيُّ فِي مَوَاهِبِهِ

وَكَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ

نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بُوِلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ

 

الموضوعات الکبریٰ

صفحہ 386، رقم 595

 

attachicon.gif2.jpg

 

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ناد علی کے حدیث ماننے کو شیعوں کا جھوٹ کہا ہے۔ ناد علی کے الفاظ پر کوئی حکم بیان نہیں کیا (اگر کیا ہے آپکے نزدیک تو پیش کریں)۔۔  ہم بھی ناد علی کو حدیث نہیں کہتے (جب تک ثابت نہ ہو جائے)۔ اور ایک اور بات کہ لا فتی الا علی والی حدیث پاک موضوع نہیں ہے۔

 

16063.mp3

 

17115.mp3

 

2962.mp3

 

 

post-16911-0-51571000-1491480281_thumb.jpg

 

 

اگر ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی بات آپ کو درست نہیں لگ رہی تو کوئی سند ہی پیش کردیں اس روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کیونکہ صوفیاءکرام رحمہ اللہ علیہم کی کتب میں بہت سی احادیث موضوع پائی جاتی ہیں۔

اس لیے اس کا کوئی صحیح ثبوت پیش کریں تاکہ سب کی اصلاح ہو۔

مجھے بھی اجازت ہے اس وظیفے کی لیکن میں پڑھتا نہیں ہوں کیونکہ آج تک مجھے اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں ملااس لیے میں نے اسے ترک کر دیا ہے۔

 

میں ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق سے متفق ہوں اور اگر کسی نے ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی تحقیق سے اختلاف کیا یا اس کا رد کیا تو میں بھی اس کا رد لکھوں گا اور ملاعلی قاری علیہ الرحمہ کی اس تحقیق کو اصول حدیث کی روشنی میں صحیح ثابت کرونگا۔(انشاء اللہ )

باقی میں بھائی آپ کے تحقیقی جواب کا منتظر ہوں۔

 

صوفیا کرام سے سند ثابت تو ہے، اور کیا سند چاہیے؟؟ یہ محض ایک دعا ہے اور دعا کے الفاظ کیلئے خاص سند کی کیا حاجت؟؟؟ ہاں صوفیا کی کتب میں اسے حدیث گردانا گیا ہے تو پیش کریں۔ آپ اگر نہیں پڑھتے تو نہ پڑھیں بھائی جان۔ جو پڑھ رہے ہیں اس بنا پر کہ لم یومر بہ و لم ینہ عنہ تو انکا کیا قصور ہے؟؟!۔،۔،۔ آپ نے کہا کہ آپ ملا علی قاری کی تحقیق سے متفق ہیں تو اس سے ہم بھی متفق ہیں کہ ناد علی کو حدیث نہیں مانتے!۔،۔،۔

اچھا ایک اور بات یہ کہ خود شیعہ لوگ بھی ناد علی کو ’معصومین‘ سے ثابت نہیں مانتے اور ایسا کرنے والے کو خطا کار مانتے ہیں۔ کہیے اب کیا کہتے ہیں بھائی!۔،۔،۔ اور بھائی ’’انشاء اللہ‘‘ لکھنا درست بھی نہیں ہے جیسا کہ آپ نے لکھ دیا!۔،۔

 

post-16911-0-30136700-1491480258_thumb.jpg

 

post-16911-0-65960100-1491480267_thumb.jpg

 

 

بھائی یہ کوئی اختلافی حوالہ نہیں ہے بلکہ صحیح حوالہ ہے جو اکثر لوگوں کو  اس کا پتا نہیں اس لیے اس طرح کے صحیح حوالہ لوگوں کو اختلافی لگتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں کو صحیح بات بتانے سے ڈرتے ہیں کہیں وہ اس سے کوئی بدمذہب نہ ہو جائیں۔

اس لیے جو صحیح بات ہوا کرے وہی بتا دیا کریں ورنہ وہی بات کوئی وہابی اسے بتا دے گا تو اس کا پتا نہیں کیا حال ہو گا اور علما اہلسنت کے بارے پتا نہیں کیا سے کیا سوچے گا؟؟؟

 

 

جناب پہلے ملا علی رحمہ اللہ کی بات تو سمجھیں پھر ہمیں سمجھائیے گا بھائی جان،۔،۔ اللہ عزوجل ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔،۔،۔ 

 

باقی میری باتوں کا برا بھی نہیں مانیے گا کیونکہ میرا کام تھا آپ کو صحیح بات بتانا باقی اگر آپ کےاس بارے میں کوئی قوی دلائل ہیں تو پیش کریں۔

اگر وہ دلائل واقعی قوی ہوئےتو میں ضرور اس پر تحقیق کرونگا۔

 

دعا کے الفاظ ہی ہیں اور عرفی نام ناد علی ہے، اس پر کیا قوی دلائل چاہیئں بھائی جان؟؟ آپکو اسکے الفاظ پر جو اعتراض ہیں، بتائیں۔ واضح رہے کہ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ اس دعا میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (ورنہ بہت سے ایسے نظریات ہیں جو کہنے کو اہلسنت اور شیعہ میں مشترک ہیں))۔،۔،۔

Edited by kashmeerkhan
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ناد علی کے حدیث ماننے کو شیعوں کا جھوٹ کہا ہے۔ ناد علی کے الفاظ پر کوئی حکم بیان نہیں کیا۔

 

 

  جزاک اللہ کشمیر خان بھائی۔

 

 

بھائی یہ کوئی اختلافی حوالہ نہیں ہے بلکہ صحیح حوالہ ہے جو اکثر لوگوں کو اس کا پتا نہیں اس لیے اس طرح کے صحیح حوالہ لوگوں کو اختلافی لگتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں کو صحیح بات بتانے سے ڈرتے ہیں کہیں وہ اس سے کوئی بدمذہب نہ ہو جائیں۔

اس لیے جو صحیح بات ہوا کرے وہی بتا دیا کریں ورنہ وہی بات کوئی وہابی اسے بتا دے گا تو اس کا پتا نہیں کیا حال ہو گا اور علما اہلسنت کے بارے پتا نہیں کیا سے کیا سوچے گا؟؟؟

باقی میری باتوں کا برا بھی نہیں مانیے گا کیونکہ میرا کام تھا آپ کو صحیح بات بتانا باقی اگر آپ کےاس بارے میں کوئی قوی دلائل ہیں تو پیش کریں۔

 

اگر وہ دلائل واقعی قوی ہوئےتو میں ضرور اس پر تحقیق کرونگا۔

 

 

جناب،صرف صحیح حوالہ ہی اختلافی حوالہ بن سکتا ہے۔ غلط حوالہ تو جھوٹ و بہتان ہی کہلائے گا۔ باقی ہم صحیح بات کہنے سے نہیں ڈرتے۔ اگریہی حوالہ وہابی یہاں پوسٹ کرتے تو ہمارا جواب مختلف ہوتا۔  آپ مولی علی مشکل کشاء ماننے والے ہیں، اوراد و وظائف کے ماننے والے ہیں۔ اس لئے میں نے کہا کہ اس وظیفے کو صرف اس حوالے کی بنیاد پر شیعہ کا  وظیفہ کہنا  غلط ہوگا جبکہ یہ اہلسنت و مشائخ کے معمولات سے ہے۔اور معتبر علمائے اہلسنت اسے بطور دعا و وظیفہ نقل کرتے چلے آئے ہیں۔ باقی جواب کشمیر خان بھائی کی پوسٹ میں موجود  ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان مہذب طریقہ سے گفتگو و اختلاف پر برا منانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

ملا علی قاری رحمہ اللہ نے ناد علی کے حدیث ماننے کو شیعوں کا جھوٹ کہا ہے۔ ناد علی کے الفاظ پر کوئی حکم بیان نہیں کیا (اگر کیا ہے آپکے نزدیک تو پیش کریں)۔۔ ہم بھی ناد علی کو حدیث نہیں کہتے (جب تک ثابت نہ ہو جائے)۔ اور ایک اور بات کہ لا فتی الا علی والی حدیث پاک موضوع نہیں ہے۔

بھائی میرے ملاعلی قاری کی اس عبارت کا ترجمہ تو کریں پھر آپ کو آپ کا جواب مل جائے گا۔

 

 

 

 

أَقُولُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِهِ أَنَّهُ لَوْ نُودِيَ بِهَذَا مِنَ السَّمَاءِ

فِي بَدْرٍ لَسَمِعَهُ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ وَنَقَلَ عَنْهُمُ الْأَئِمَّةُ الْفِخَامُ وَهَذَا شَبِيهُ مَا يُنْقَلُ مِنْ ضَرْبِ النُّقَارَةِ حَوَالِيَ بَدْرٍ وَيَنْسُبُونَهُ إِلَى الْمَلَائِكَةِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِمْرَارِ مِنْ زَمَنِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا وَهُوَ بَاطِلٌ عَقْلًا وَنَقْلًا وَإِنْ كَانَ ذَكَرَهُ ابْنُ مَرْزُوقٍ وَتَبِعَهُ الْقَسْطَلَّانِيُّ فِي مَوَاهِبِهِ

وَكَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ

نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بُوِلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ

 

الموضوعات الکبریٰ

صفحہ 386، رقم 595

 

 

جزاک اللہ کشمیر خان بھائی۔

 

جناب،صرف صحیح حوالہ ہی اختلافی حوالہ بن سکتا ہے۔ غلط حوالہ تو جھوٹ و بہتان ہی کہلائے گا۔ باقی ہم صحیح بات کہنے سے نہیں ڈرتے۔ اگریہی حوالہ وہابی یہاں پوسٹ کرتے تو ہمارا جواب مختلف ہوتا۔ آپ مولی علی مشکل کشاء ماننے والے ہیں، اوراد و وظائف کے ماننے والے ہیں۔ اس لئے میں نے کہا کہ اس وظیفے کو صرف اس حوالے کی بنیاد پر شیعہ کا وظیفہ کہنا غلط ہوگا جبکہ یہ اہلسنت و مشائخ کے معمولات سے ہے۔اور معتبر علمائے اہلسنت اسے بطور دعا و وظیفہ نقل کرتے چلے آئے ہیں۔ باقی جواب کشمیر خان بھائی کی پوسٹ میں موجود ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان مہذب طریقہ سے گفتگو و اختلاف پر برا منانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس وظیفہ کی کوئی سند ثابت نہیں نہ ہی یہ اکابر صوفیاءکرام کی کتب میں موجود ہے جیسے حضرت غوث پاک علیہ الرحمہ، حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ اور دوسرے بزرگ صوفیا کی کتب میں۔

اگر سند ہے تو پیش کریں؟؟؟

 

 

اس دعا میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (ورنہ بہت سے ایسے نظریات ہیں جو کہنے کو اہلسنت اور شیعہ میں مشترک ہیں))۔،۔،۔

جب یہ دعا ثابت ہی نہیں تو پھر اس کے کس پوائنٹ پر بات کروں۔

اگر یہ دعا ثابت ہے تو کوئی سند پیش کریں؟؟؟

 

 

 

صوفیا کرام سے سند ثابت تو ہے، اور کیا سند چاہیے؟؟

چلو صوفیاءکرام والی سند ہی پیش کر دیں تاکہ ہم بھی دیکھیں یہ وظیفہ ہم تک کیسے پہنچا ہے تاکہ دیکھ سکیں اس میں کوئی گھڑنے والا کوئی راوی تو موجود نہیں؟؟ابھی نادعلی کی سند ثابت کر دیں پھر جناب کی اس بات پر بھی گفتگو ہو جائے گی۔

 

 

چلو صوفیاءکرام والی سند ہی پیش کر دیں تاکہ ہم بھی دیکھیں یہ وظیفہ ہم تک کیسے پہنچا ہے تاکہ دیکھ سکیں اس میں کوئی گھڑنے والا کوئی راوی تو موجود نہیں؟؟

 

ایک اور بات کہ لا فتی الا علی والی حدیث پاک موضوع نہیں ہے۔

اس روایت کی تمام مرفوع اسناد موضوع ہیں۔اگر کوئی مرفوع روایت صحیح یا حسن ہے تو پیش کریں؟؟؟

شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے نادعلی کی کوئی سند نہیں لکھی یہ شاہ صاحب کے استاد حضرت ابوطاہر کردی کوحضر ت محمد غوث گوالیاری سے ضرف عملیات کے اجازت ملی تھی اس لیے صاحب جواہر خمسہ نے بنا کوئی سند سے اس کو لکھا ہے۔لہذا اب آپ پر لازم ہو گیا ہے کہ اس کی سند پیش کریں کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ صوفیا ء کی سند موجود ہے ناد علی کے بارے میں۔

 

باقی الزامی جوابات سے گریز کریں کیونکہ الزامی جوابات میرے پاس بھی بہت ہیں لیکن میں نے آپ سے تحقیقی جواب مانگا ہے۔

میں آپ کے تحقیقی جواب کا منتظر ہوں۔

میں آپ کو نادعلی کے کچھ سکین پیجز دیتا ہوں ان میں سے آپ کس نادعلی کو مانتے ہیں کیونکہ لوگوں نے تو بہت سی نادعلی بنا لی ہیں

اس لیے اتنی ساری نادعلی کہاں سے آگئی ہیں؟؟؟

post-18262-0-77227300-1491544623_thumb.jpg

post-18262-0-96964100-1491544652_thumb.jpg

post-18262-0-67232400-1491544726_thumb.jpg

post-18262-0-01408000-1491544757_thumb.jpg

post-18262-0-44013700-1491544780_thumb.jpg

post-18262-0-27100100-1491544815_thumb.jpg

 

 

 

اچھا ایک اور بات یہ کہ خود شیعہ لوگ بھی ناد علی کو ’معصومین‘ سے ثابت نہیں مانتے اور ایسا کرنے والے کو خطا کار مانتے ہیں۔ کہیے اب کیا کہتے ہیں بھائی!۔،۔،۔ اور بھائی ’’انشاء اللہ‘‘ لکھنا درست بھی نہیں ہے جیسا کہ آپ نے لکھ دیا!۔،۔

 

شیعہ عالم کی پوری عبارت نقل نہیں کی کیونکہ آخرمیں جو اس نے لکھا وہ آپ کے لیے جواب تھا لیکن آپ نے اپنے فائدہ والی عبارت کا سکین پیج لگایا ہے۔

شیعہ عالم کا اصل موقف تو پڑھیں جناب اس نے کیا لکھا ہے صوفیاء کے بارے میں۔

post-18262-0-39512200-1491547408_thumb.jpg

post-18262-0-39163100-1491547452_thumb.jpg

 

شیعہ عالم نے واضح لکھ دیا ہے کہ یہ نادعلی کی سند آئمہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہیں۔جب سند ثابت ہو گئی تو اس کے الفاظ پر بات کریں گے نا! ورنہ بنا کوئی سند کے کسی بات پر کرنا صرف وقت کا ضیاع ہے اور کچھ نہیں۔

 

 

اب آپ پر لازم ہو گیا کہ اس کی سند ثابت کریں کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہوا کہ اس کی سند صوفیاء سے ثابت ہے؟؟

یہ رہا شیعہ عالم کا اقرار نامہ

post-18262-0-17293900-1491547862_thumb.jpg

نادعلی صرف حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ کی کتاب جواہر خمسہ کےعلاوہ کسی بھی اکابر صوفیاءکرام رحمۃ اللہ علیہم کی کتاب میں موجود نہیں۔

اور حضرت محمد غوث گوالیاری کی وفات15 رمضان 970 ہجری میں ہوئی اس سے ثابت ہوا کہ یہ وظیفہ 900-970ہجری کے درمیان میں ظاہر ہوا اس سے پہلے کسی بھی اکابر صوفی نے اس وظیفہ کا ذکرتک نہیں کیا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

بھائی میرے ملاعلی قاری کی اس عبارت کا ترجمہ تو کریں پھر آپ کو آپ کا جواب مل جائے گا۔

 

 

أَقُولُ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى بُطْلَانِهِ أَنَّهُ لَوْ نُودِيَ بِهَذَا مِنَ السَّمَاءِ

فِي بَدْرٍ لَسَمِعَهُ الصَّحَابَةِ الْكِرَامِ وَنَقَلَ عَنْهُمُ الْأَئِمَّةُ الْفِخَامُ وَهَذَا شَبِيهُ مَا يُنْقَلُ مِنْ ضَرْبِ النُّقَارَةِ حَوَالِيَ بَدْرٍ وَيَنْسُبُونَهُ إِلَى الْمَلَائِكَةِ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِمْرَارِ مِنْ زَمَنِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا وَهُوَ بَاطِلٌ عَقْلًا وَنَقْلًا وَإِنْ كَانَ ذَكَرَهُ ابْنُ مَرْزُوقٍ وَتَبِعَهُ الْقَسْطَلَّانِيُّ فِي مَوَاهِبِهِ

وَكَذَا مِنْ مُفْتَرَيَاتِ الشِّيعَةِ الشَّنِيعَةِ حَدِيثُ

نَادِ عَلِيًّا مُظْهِرَ الْعَجَائِبَ تَجِدْهُ عَوْنًا لَكَ فِي النَّوَائِبِ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ بُوِلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ

 

الموضوعات الکبریٰ

صفحہ 386، رقم 595

 

 

میں اپنی پہلی بات پر قائم ہوں، اسکے خلاف آپ ایک بات بھی پیش نہیں کر سکے۔ الحمد للہ۔ ملا علی قاری کی عبارت میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے آپکو بھائی جان جس سے ناد علی کے الفاظ شیعہ کا جھوٹ بنتا نظر آتا ہے، ذرا ہمیں بھی دکھا دیں۔ وہ اسے حدیث ماننے کو شیعہ کا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔
 

 

 

اس وظیفہ کی کوئی سند ثابت نہیں نہ ہی یہ اکابر صوفیاءکرام کی کتب میں موجود ہے جیسے حضرت غوث پاک علیہ الرحمہ، حضرت داتا علی ہجویری علیہ الرحمہ اور دوسرے بزرگ صوفیا کی کتب میں۔

اگر سند ہے تو پیش کریں؟؟؟

 

سبحان اللہ ۔ کیا خوب استدلال فرما رہے آپ بھائی جان۔ کیا وظیفہ کی سند ثابت نہ ہونا اسکے درست نہ ہونے کی دلیل ہے؟!۔۔،۔ اور آپکے نزدیک تو کسی بزرگ صوفی کی کتاب میں ایسے وظیفے کا ہونا اسکے درست ہونے کو لازم نہیں، پھر کیوں شکوہ کہ یہ بزرگوں کی کتابوں میں بھی موجود نہیں۔ عجیب بات ہے ویسے۔ شاہ ولی اللہ نے جو اسکی اجازت حاصل کی، اسکا کیا حکم ہے؟ اتنے علمائے کرام نے اسکو درست مانا، ان پر بھی حکم لگائیں۔ یہ آپکو کس نے کہہ دیا کہ ہر ہر وظیفہ کی سند کا موجود ہونا لازم ہے؟،۔ 
 
post-16911-0-64868500-1491556029_thumb.jpg
 

 

 

 

جب یہ دعا ثابت ہی نہیں تو پھر اس کے کس پوائنٹ پر بات کروں۔

اگر یہ دعا ثابت ہے تو کوئی سند پیش کریں؟؟؟

 

 

اور کسی پر نہیں، اس پر تو کر لیں کہ یہ رافضیوں کا جھوٹ ہے۔ قیامت تک کا وقت ہے آپکے پاس اگر آپ اسکے الفاظ کو شیعوں کا جھوٹ ثابت کر سکے تو۔ اوپر والے فوٹو کو دیکھیں بھئی جان
 

 

 

چلو صوفیاءکرام والی سند ہی پیش کر دیں تاکہ ہم بھی دیکھیں یہ وظیفہ ہم تک کیسے پہنچا ہے تاکہ دیکھ سکیں اس میں کوئی گھڑنے والا کوئی راوی تو موجود نہیں؟؟

 

 

اوپر والا فوٹو دیکھیں بھئی،۔،۔،۔
 

 

 

ابھی نادعلی کی سند ثابت کر دیں پھر جناب کی اس بات پر بھی گفتگو ہو جائے گی۔

ایک اور بات کہ لا فتی الا علی والی حدیث پاک موضوع نہیں ہے۔

 

اس روایت کی تمام مرفوع اسناد موضوع ہیں۔اگر کوئی مرفوع روایت صحیح یا حسن ہے تو پیش کریں؟؟؟

 

یہ پینڈنگ ہے فی الحال بقول آپکے
 

 

 

 

شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے نادعلی کی کوئی سند نہیں لکھی یہ شاہ صاحب کے استاد حضرت ابوطاہر کردی کوحضر ت محمد غوث گوالیاری سے ضرف عملیات کے اجازت ملی تھی اس لیے  صاحب جواہر خمسہ نے بنا کوئی سند سے اس کو لکھا ہے۔لہذا اب آپ پر لازم ہو گیا ہے کہ اس کی سند پیش کریں کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہے کہ صوفیا ء کی سند موجود ہے ناد علی کے بارے میں۔

باقی الزامی جوابات سے گریز کریں کیونکہ الزامی جوابات میرے پاس بھی بہت ہیں لیکن میں نے آپ سے تحقیقی جواب مانگا ہے۔

میں آپ کے تحقیقی جواب کا منتظر ہوں۔

 

صوفیا کی جو سند موجود ہے اوپر فوٹو میں فتاوی رضویہ میں ہے۔ آپ سند سے سمجھ کیا بیٹھے ہیں؟؟ ہم اسے حدیث تو مان نہیں رہے۔ کسی ایک باکمال صوفی سے اسکی اجازت ثابت ہو جائے تو اس اجازت در اجازت والا سلسلہ سند نہیں کہلا سکتا؟؟!!۔ حد ہوگئی اب تو بھئی جان
 

 

 

 

میں آپ کو نادعلی کے کچھ سکین پیجز دیتا ہوں ان میں سے آپ کس نادعلی کو مانتے ہیں کیونکہ لوگوں نے تو بہت سی نادعلی بنا لی ہیں 

اس لیے اتنی ساری نادعلی کہاں سے آگئی ہیں؟؟؟

 

attachicon.gifnad-e-ali.jpg

 

attachicon.gifnad-e-ali2.jpg

 

attachicon.gifnad-e-ali3.jpg

 

attachicon.gifNad-e-ali4.jpg

 

attachicon.gifnad-e-ali5.jpg

 

attachicon.gifnad-e-ali6.jpg

 

بات جواہر خمسہ میں درج ناد علی پر ہو رہی ہے۔ دیگر اس سے ملتی جلتی دعائیں جن میں شرعا کوئی قباحت نہیں، بالکل درست ہیں،۔،۔ اس پر آپکو کیا اعتراض ہے؟
 

 

 

 

شیعہ عالم کی پوری عبارت نقل نہیں کی کیونکہ آخرمیں جو اس نے لکھا وہ آپ کے لیے جواب تھا لیکن آپ نے اپنے فائدہ والی عبارت کا سکین پیج لگایا ہے۔

شیعہ عالم کا اصل موقف تو پڑھیں جناب اس نے کیا لکھا ہے صوفیاء کے بارے میں۔

attachicon.gifshia muhaqiq.jpg

 

اattachicon.gifshia muhaqiq2.jpg

شیعہ عالم نے واضح لکھ دیا ہے کہ یہ نادعلی کی سند آئمہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم سے ثابت نہیں۔جب سند ثابت ہو گئی تو اس کے الفاظ پر بات کریں گے نا! ورنہ بنا کوئی سند کے کسی بات پر کرنا صرف وقت کا ضیاع ہے اور کچھ نہیں۔

اب آپ پر لازم ہو گیا کہ اس کی سند ثابت کریں کیونکہ آپ نے تسلیم کیا ہوا کہ اس کی سند صوفیاء سے ثابت ہے؟؟

یہ رہا شیعہ عالم کا اقرار نامہ

attachicon.gifshiaq muhaqiq3.jpg

 

 

داد دیتا ہوں بھئی آپ کے ایسا لکھنے پر۔،۔، جناب میرا پوائنٹ آف ویو سمجھ نہیں رہے۔ خود بول رہے ہیں کہ اسکی سند شیعہ کے ہاں ائمہ اہلبیت سے ثابت ہی نہیں۔ تو پھر اس روایت کے الفاظ کو شیعوں کا جھوٹ کہنا کیسا ہے جناب کے ہاںَ؟؟
باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ اس دعا میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔

 

 

نادعلی صرف حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ کی کتاب   جواہر خمسہ کےعلاوہ کسی بھی اکابر صوفیاءکرام رحمۃ اللہ علیہم کی کتاب میں موجود نہیں۔

اور حضرت محمد غوث گوالیاری کی وفات15 رمضان 970 ہجری میں ہوئی اس سے ثابت ہوا کہ یہ وظیفہ 900-970ہجری  کے درمیان میں ظاہر ہوا اس سے پہلے کسی بھی اکابر صوفی نے اس  وظیفہ کا ذکرتک نہیں کیا۔

 

 

 

 

کیا حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری اکابر صوفیا میں سے نہیں ہیں؟؟ جو ایسا لکھنے کی ضرورت پیش آئی!۔،۔۔ ان سے ثابت ہو جانا کافی نہیں؟؟،۔،۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں اپنی پہلی بات پر قائم ہوں، اسکے خلاف آپ ایک بات بھی پیش نہیں کر سکے۔ الحمد للہ۔ ملا علی قاری کی عبارت میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے آپکو بھائی جان جس سے ناد علی کے الفاظ شیعہ کا جھوٹ بنتا نظر آتا ہے، ذرا ہمیں بھی دکھا دیں۔ وہ اسے ۔

بھائی جان اس روایت کی سند صرف خوابی ہے اور اس بات کا ثبوت خود جواہر خمسہ میں موجود ہے اور خواب شریعت میں حجت نہیں ہوتے یہ لیں اسکا ثبوت

post-18262-0-72461200-1491557336_thumb.jpg

پہلے تو جواہر خمسہ کتاب ہی مستند نہیں ہے میری تحقیق کے مطابق۔

اور اگر آپ اس کو مستند مانتے ہیں تو پھر اس بات کو شریعت کے مطابق ثابت کریں۔

کہ ایک دعا جو تورات میں بھی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے میں بھی ہے پھر اس میں ہندی کہاں سے آ گئی ہے۔

خود جواہر خمسہ میں آدھی دعا عربی اور آدھی ہندی میں ہے لو دیکھ لیں اس بات کا ثبوت

post-18262-0-96767100-1491557856_thumb.jpg

 

کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے اور مستند تسلیم کرتے ہیں تو اوپر والے سکین کا جواب دیں

کیا صحف آدم علیہ السلام ہندی میں تھےپہلے اس بات کو تو ثابت کر کے دیکھیں بقول صاحب جواہر خمسہ کے صحف آدم علیہ السلام ہندی زبان میں

تھے۔

post-18262-0-17019900-1491558372_thumb.jpg

 

 

 

میں اپنی پہلی بات پر قائم ہوں، اسکے خلاف آپ ایک بات بھی پیش نہیں کر سکے۔ الحمد للہ۔ ملا علی قاری کی عبارت میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے آپکو بھائی جان جس سے ناد علی کے الفاظ شیعہ کا جھوٹ بنتا نظر آتا ہے، ذرا ہمیں بھی دکھا دیں۔ وہ اسے حدیث ماننے کو شیعہ کا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔

 

سبحان اللہ ۔ کیا خوب استدلال فرما رہے آپ بھائی جان۔ کیا وظیفہ کی سند ثابت نہ ہونا اسکے درست نہ ہونے کی دلیل ہے؟!۔۔،۔ اور آپکے نزدیک تو کسی بزرگ صوفی کی کتاب میں ایسے وظیفے کا ہونا اسکے درست ہونے کو لازم نہیں، پھر کیوں شکوہ کہ یہ بزرگوں کی کتابوں میں بھی موجود نہیں۔ عجیب بات ہے ویسے۔ شاہ ولی اللہ نے جو اسکی اجازت حاصل کی، اسکا کیا حکم ہے؟ اتنے علمائے کرام نے اسکو درست مانا، ان پر بھی حکم لگائیں۔ یہ آپکو کس نے کہہ دیا کہ ہر ہر وظیفہ کی سند کا موجود ہونا لازم ہے؟،۔

تو ثابت کریں نا کہ یہ وظیفہ کس بزرگ سے حضرت غوث گوالیاری نے لیا ہے یا اجازت لی ہے کیونکہ ان سے پہلے کسی بزرگ سے یہ وظیفہ روایت ہی نہیں ہے نہ ہی کسی سے اجازت لینے کی کوئی دلیل ہے؟؟؟؟

کیونکہ بقول آپ کے یہ وظیفہ سلسلہ بہ سلسلہ چل رہا ہے جب کہ 900 ہجری سے پہلے اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

رضا عسقلانی بھائی، میرا اسادہ سا سوال ہے۔


اہلسنت میں جو مروجہ وظائف و دعائیں و نوافل و دیگر نفلی عبادات یا مستحب اعمال ہیں۔ کیا ان تمام کاموں کی سند ثابت ہے؟


اگر اس وقت میں کہوں کے " اے مولا علی مشکل کشاء، میری کشتی پار لگا دے" تو یہ میری دعا وعمل ناجائز ہوگا اور اس عمل کو جائز ثابت کرنے کیلئے مجھے سند کی ضرورت ہے؟ 


Share this post


Link to post
Share on other sites

 

 

میں اپنی پہلی بات پر قائم ہوں، اسکے خلاف آپ ایک بات بھی پیش نہیں کر سکے۔ الحمد للہ۔ ملا علی قاری کی عبارت میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے آپکو بھائی جان جس سے ناد علی کے الفاظ شیعہ کا جھوٹ بنتا نظر آتا ہے، ذرا ہمیں بھی دکھا دیں۔ وہ اسے حدیث ماننے کو شیعہ کا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ہو جانا کافی نہیں؟؟،۔،۔

یہ دعا جو بقول صاحب جواہر خمسہ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی لیکن اس سے پہلے اس دعا کا کوئی وجود ہی نہیں یہ حضرت محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ نے کہاں سے نقل کی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ انجیل میں بھی ہے۔ لیکن موجودہ انجیل میں اس کا کوئی وجود نہیں اس لیے جواہر خمسہ کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں جو بھی دعا نقل کی گی ہےوہ بنا کوئی حوالے کے اور بنا کسی سندکے۔

post-18262-0-96381900-1491560719_thumb.jpg

 

 

 

رضا عسقلانی بھائی، میرا اسادہ سا سوال ہے۔

اہلسنت میں جو مروجہ وظائف و دعائیں و نوافل و دیگر نفلی عبادات یا مستحب اعمال ہیں۔ کیا ان تمام کاموں کی سند ثابت ہے؟

اگر اس وقت میں کہوں کے " اے مولا علی مشکل کشاء، میری کشتی پار لگا دے" تو یہ میری دعا وعمل ناجائز ہوگا اور اس عمل کو جائز ثابت کرنے کیلئے مجھے سند کی ضرورت ہے؟

 

بھائی جب آپ کے پاس صحیح اسناد سے سرکارﷺ کی دعائیں موجود ہیں آپ کیوں بلا سند والی دعاؤں کی طرف جاتے ہیں کیا وہ دعائیں آپ کے لیے کافی نہیں؟؟؟

 

 

 

 

میں اپنی پہلی بات پر قائم ہوں، اسکے خلاف آپ ایک بات بھی پیش نہیں کر سکے۔ الحمد للہ۔ ملا علی قاری کی عبارت میں ایسا کیا نظر آ رہا ہے آپکو بھائی جان جس سے ناد علی کے الفاظ شیعہ کا جھوٹ بنتا نظر آتا ہے، ذرا ہمیں بھی دکھا دیں۔ وہ اسے حدیث ماننے کو شیعہ کا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔

سبحان اللہ ۔ کیا خوب استدلال فرما رہے آپ بھائی جان۔ کیا وظیفہ کی سند ثابت نہ ہونا اسکے درست نہ ہونے کی دلیل ہے؟!۔۔،۔ اور آپکے نزدیک تو کسی بزرگ صوفی کی کتاب میں ایسے وظیفے کا ہونا اسکے درست ہونے کو لازم نہیں، پھر کیوں شکوہ کہ یہ بزرگوں کی کتابوں میں بھی موجود نہیں۔ عجیب بات ہے ویسے۔ شاہ ولی اللہ نے جو اسکی اجازت حاصل کی، اسکا کیا حکم ہے؟ اتنے علمائے کرام نے اسکو درست مانا، ان پر بھی حکم لگائیں۔ یہ آپکو کس نے کہہ دیا کہ ہر ہر وظیفہ کی سند کا موجود ہونا لازم ہے؟،۔

ہو جانا کافی نہیں؟؟،۔،۔

بھائی آپ کو تاقیامت کا وقت دیتا ہوں آپ اس وظیفے کو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی روایت یا اجازت نامہ سے ثابت کر کے دیکھیں کیونکہ بقول آپ کے یہ وظیفہ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت در اجازت چلا آرہا ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی کتاب یا اجازت نامہ سے یہ وظیفہ ثابت کر کے دیکھیں؟؟؟؟

 

پہلے اس بات کو تو ثابت کروکہ یہ وظیفہ حضرت غوث محمد گوالیاری علیہ الرحمہ نے کس سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے؟؟؟

جب آپ یہ بات ثابت کردینا تو پھر آگے بات کریں گے کیونکہ خود حضرت گوالیاری علیہ الرحمہ نے اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرفمنسوب کیا ہے جب کہ یہ بات 900ھ تک کسی بزرگ سے ثابت نہیں

 

post-18262-0-45764900-1491566266_thumb.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

بھائی جب آپ کے پاس صحیح اسناد سے سرکارﷺ کی دعائیں موجود ہیں آپ کیوں بلا سند والی دعاؤں کی طرف جاتے ہیں کیا وہ دعائیں آپ کے لیے کافی نہیں؟؟؟

 

 

بھائی آپ کو تاقیامت کا وقت دیتا ہوں آپ اس وظیفے کو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی روایت یا اجازت نامہ سے ثابت کر کے دیکھیں کیونکہ بقول آپ کے یہ وظیفہ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت در اجازت چلا آرہا ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی کتاب یا اجازت نامہ سے یہ وظیفہ ثابت کر کے دیکھیں؟؟؟؟

 

 

 آپ نے میرے اصل سوال کا جواب نہیں دیا۔ برائے مہربانی اس کا جواب دیں۔ میں اس کو مزید تفصیل سے لکھ دیتا ہوں۔ اگر میں اس وقت اپریل ۲۰۱۷ میں کوئی بھی دعا بطور وسیلہ مثلاً "مولا علی مشکل کشاء، میری کشتی پار لگادے" اپنی مادری زبان یا کسی بھی زبان میں اپنے الفاظ سے کروں تو میری وہ دعا و عمل جائز ہوگا یا ناجائز۔ اور اس کو جائز کرنے کیلئے مجھے سند لانی ہوگی؟

 

بھائی۔ آپ برا مت منائیے گا مگر آپ کچھ جذباتی لگ رہے ہیں۔ اور ٹاپک میں ایک ہی بات بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ آپ ہمارا نقطہ نظر سمجھئے۔یہ بات تو طے ہے کہ یہ حدیث پاک نہیں۔ یہ ایک دعا ، استغاثہ ، وظیفہ ہے جو بزرگان دین کی کتب میں نقل ہے اور صدیوں سے جاری ہے اور جب یہ حدیث نہیں تو اس کی سند چاہے پانچویں صدی ہجری سے لائی جائے یا نویں صدی ہجری سے۔ کیا فرق پڑتا ہے؟  اور بڑے بڑے علماء بشمول اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمہ تک نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور نہ اسے پڑھنا غلط بتلایا۔ ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے اسے بطور حدیث شیعہ کا جھوٹ کہا۔ جس سے ہم سو فیصد متفق ہیں۔ لیکن ملا علی قاری علیہ الرحمہ نے اسے پڑھنے یا اس کے کسی الفاظ پر اعتراض نہیں کیا۔ اب آپ  ایک نئی تحقیق مسلط کرنا چاہتے ہیں جو صرف ناد علی ہی نہیں بلکہ ہر بغیر سند دعا و استغاثہ کو غلط ثابت کرتی ہے۔ ہم آپ کو اسے پڑھنے یا نہ پڑھنے کا مشورہ نہیں دے رہے۔ لیکن اہلسنت والجماعت میں وظائف،اوراد، دعائیں و درود وغیرہ جاری ہیں اور یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر وہ دعائیں شریعت سے نہ ٹکراتی ہوں، وہ عقائد اہلسنت سے نہ ٹکراتی ہوں، ان میں ایسے الفاظ نہ ہوں جو بدمذہبوں کے عقائد کو اسپورٹ کرتے ہوں تو وہ جائز ہیں۔ چاہے وہ اردو میں ہوں، انگلش میں ہوں، نویں صدی ہجری سے جاری ہوں یا آج سے پڑھی جائیں۔ 

Share this post


Link to post
Share on other sites
21 hours ago, Raza Asqalani said:

 

 

بھائی جان اس روایت کی سند صرف خوابی ہے اور اس بات کا ثبوت خود جواہر خمسہ میں موجود ہے اور خواب شریعت میں حجت نہیں ہوتے یہ لیں اسکا ثبوت

attachicon.gifJawhir-ul-Khamsa.jpg

عسقلانی بھائی، ایک ہی پوسٹ میں سب باتیں لکھا کریں، اتنی زیادہ پوسٹس کو مینیج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔،۔ اور ہاں میری جس بات کا جواب لکھ رہے ہوں، صرف اسی کو کوٹ کریں تاکہ پڑھنے والے کو پتہ لگ سکے کہ کس بات کا جواب دیا جارہا ہے،۔۔
کیا کہنے آپکے استدلال کے بھائی۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ جو فوٹو آپ نے لگایا اس سے کیسے ثابت ہوتا کہ اسکی سند خوابی ہے؟؟ وہ تو صرف ایک لفظ کے بارے میں لکھا ہے کہ خواب میں اس سے متعلق ایک کنفیوژن دور کی اور بس۔،۔ 
 

 

21 hours ago, Raza Asqalani said:

 

 

پہلے تو جواہر خمسہ کتاب ہی مستند نہیں ہے میری تحقیق کے مطابق۔

اور اگر آپ اس کو مستند مانتے ہیں تو پھر اس بات کو شریعت کے مطابق ثابت کریں۔

کہ ایک دعا جو تورات میں بھی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے صحیفے میں بھی ہے پھر اس میں ہندی کہاں سے آ گئی ہے۔

خود جواہر خمسہ میں آدھی دعا عربی اور آدھی ہندی میں ہے لو دیکھ لیں اس بات کا ثبوت

attachicon.gifJawhir-ul-Khamsa3.jpg

 

کیا آپ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے اور مستند تسلیم کرتے ہیں تو اوپر والے سکین کا جواب دیں

کیا صحف آدم علیہ السلام ہندی میں تھےپہلے اس بات کو تو ثابت کر کے دیکھیں بقول صاحب جواہر خمسہ کے صحف آدم علیہ السلام ہندی زبان میں

تھے۔

attachicon.gifJawhir-ul-Khamsa2.jpg

جہاں تک بات ہے ہندی کی تو اسمیں کئی احتمالات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ غوث صاحب کو کشف سے علم ہوا ہو۔ انبیا کرام کو کئی زبانیں آنا کیا عجیب بات ہے؟؟ آپ یہ بتائیں کہ صحف آدم کس زبان میں تھے؟؟ 
 

 

20 hours ago, Raza Asqalani said:

 

یہ دعا جو بقول صاحب جواہر خمسہ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی لیکن اس سے پہلے اس دعا کا کوئی وجود ہی نہیں یہ حضرت محمد غوث گوالیاری علیہ الرحمہ نے کہاں سے نقل کی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ یہ انجیل میں بھی ہے۔ لیکن موجودہ انجیل میں اس کا کوئی وجود نہیں اس لیے جواہر خمسہ کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں جو بھی دعا نقل کی گی ہےوہ بنا کوئی حوالے کے اور بنا کسی سندکے۔

attachicon.gifHazrat Essa.jpg

 

جناب جی کیا آپ نے غوث صاحب کے زمانہ میں موجود انجیل کو دیکھا ہوا ہے؟؟ وہ اپنے دور کا فرما رہے ہیں۔ کچھ تو خیال کریں۔،۔ اور یہ ایک غیبی خبر ہو سکتی ہے کیونکہ اولیا کرام کا غیبی خبریں دینا کونسی نئی بات ہے؟؟؟َ،۔
عجیب بات کرتے ہیں آپ کہ اگر کسی کتاب میں ایسی بات آ جائے جو آپکو درست نہیں لگتی تو وہ کتاب ہی غیر مستند ہو جاتی ہے۔،۔ محقق بننے کا شوق بہت ہے آپکو بھائی مگر پہلے کسی سنی عالم سے علم تو حاصل کرلیں
 

 

20 hours ago, Raza Asqalani said:

 

بھائی جب آپ کے پاس صحیح اسناد سے سرکارﷺ کی دعائیں موجود ہیں آپ کیوں بلا سند والی دعاؤں کی طرف جاتے ہیں کیا وہ دعائیں آپ کے لیے کافی نہیں؟؟؟

ادھر کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر مختصر سی بات کرتا ہوں میں۔،۔ ناد علی کی سند غوث صاحب سے ثابت ہے۔ چاہے نہ بھی ثابت ہو تو بھی کونسا پہاڑ ٹوٹ جائے گا؟؟ ایسی بات کہ جسمیں شرعا کوئی غلطی نہیں تو اسکی سند کی کیا حاجت؟؟؟ آپ کوئی ایک دلیل دے دیجئے کہ بلا سند والی دعا کرنا شرعا جائز نہیں! ہم شریعت کو مانتے ہیں، آپکے ذاتی اصولوں کو نہیں۔،۔،۔ 
 

 

20 hours ago, Raza Asqalani said:

 

 

بھائی آپ کو تاقیامت کا وقت دیتا ہوں آپ اس وظیفے کو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی روایت یا اجازت نامہ سے ثابت کر کے دیکھیں کیونکہ بقول آپ کے یہ وظیفہ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت در اجازت چلا آرہا ہے اگر یہ واقعی سچ ہے تو 900ھ سے پہلے کسی صوفی بزرگ کی کتاب یا اجازت نامہ سے یہ وظیفہ ثابت کر کے دیکھیں؟؟؟؟

تو ۹۰۰ ہجری سے پہلے کسی بات کا ہونا اسکی صحت کو مستلزم ہے یا ۹۰۰ ہجری کے بعد سامنے آنے والی بات کا غیردرست ہونا شرعا لازم؟؟ میں نے کہا تھا کہ غوث صاحب سےاجازتیں چلی آ رہی ہیں سلسلہ بسلسلہ اسکی۔،۔۔ حدیث تو اسسے کہا ہی نہیں ۔،۔۔ کچھ تو غور کریں بھئ جان،۔،۔،۔ اگر غوث صاحب علیہ الرحمہ نے خود سے یہ وظیفہ مقرر کرلیا اور آگے اسکی اجازتیں دینے لگے تو اسمیں بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ اگر ہے تو پیش کریں
 

 

20 hours ago, Raza Asqalani said:

 

پہلے اس بات کو تو ثابت کروکہ یہ وظیفہ حضرت غوث محمد گوالیاری علیہ الرحمہ نے کس سند سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے؟؟؟

جب آپ یہ بات ثابت کردینا تو پھر آگے بات کریں گے کیونکہ خود حضرت گوالیاری علیہ الرحمہ نے اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرفمنسوب کیا ہے جب کہ یہ بات 900ھ تک کسی بزرگ سے ثابت نہیں

 

attachicon.gifJawhir-ul-Khamsa3.jpg

 

تحقیق کا شوق تو بہت ہے بھئ جان مگر سچ کا سہارا لیں ساتھ،۔،۔ کہاں سے ذاتی باتیں اندر گھسیڑے جا رہے ہیں؟!۔،۔،۔ ہم کیوں ثابت کریں کہ یہ فلاں سند سے حضرت علی سے لی گئی دعا ہے جبکہ ہم نے کہیں ایسا دعوی بھی نہیں کیا۔ اگر کیا ہے تو پیش کریں۔،۔،۔ اپنا اور ہمارا وقت خواہ مخواہ ضائع مت کریں بھئی
۔،،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔
ab.thumb.jpg.63d9e2441c9c58e7f2150e5c89ea226a.jpg
ہم نے اسے حدیث کہا ہی نہیں جو آپ اسے صوفیا کی کتب میں موجود موضوع احادیث میں سے مانیں۔ حالت جناب کی یہ ہے کہ کسی روایت سے اسے صحیح ثابت کروانے پر تلے ہیں۔ بھئی جان آپکو پتہ بھی ہے کہ آپ بات کس موضوع پر کر رہے ہیں؟؟؟؟؟؟؟۔،،۔،۔ ایک وظیفہ یا دعا کو حدیث منوانے پر کیوں مصر ہیں؟
۔،۔،۔،،۔،۔،۔،۔،۔،
آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کو ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ
۔،،،،۔،۔،،،
پوسٹ ایک ہی بنانی ہے نیکسٹ ٹائم پلیز
Edited by kashmeerkhan
نامکمل

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/7/2017 at 8:21 PM, kashmeerkhan said:
عسقلانی بھائی، ایک ہی پوسٹ میں سب باتیں لکھا کریں، اتنی زیادہ پوسٹس کو مینیج کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔،۔ اور ہاں میری جس بات کا جواب لکھ رہے ہوں، صرف اسی کو کوٹ کریں تاکہ پڑھنے والے کو پتہ لگ سکے کہ کس بات کا جواب دیا جارہا ہے،۔۔
کیا کہنے آپکے استدلال کے بھائی۔۔ سمجھ نہیں آرہا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ جو فوٹو آپ نے لگایا اس سے کیسے ثابت ہوتا کہ اسکی سند خوابی ہے؟؟ وہ تو صرف ایک لفظ کے بارے میں لکھا ہے کہ خواب میں اس سے متعلق ایک کنفیوژن دور کی اور بس۔،۔ 
 

کشمیر بھائی میں صرف دلیل دی ہے کہ اس طرح کے وظائف کی صرف خوابی اسناد ہوتی ہیں اور دلیل کے لیے میں خود جواہر خمسہ ایک سکین پیج دیا ہےاس میں صرف ایک لفظ والی بات نہیں ہے بلکہ اکثر وظائف ہیں ہی ایسے۔

جہاں تک بات ہے ہندی کی تو اسمیں کئی احتمالات ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ غوث صاحب کو کشف سے علم ہوا ہو۔ انبیا کرام کو کئی زبانیں آنا کیا عجیب بات ہے؟؟ آپ یہ بتائیں کہ صحف آدم کس زبان میں تھے؟؟ 
 

حیرت ہو رہی بھائی آپ کے دلائل پربھائی میرے اس میں کیا احتمالات ہیں جب یہ بات ثابت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو عربی کلمات کی تعلیم دی اللہ عزوجل نے جو قرآن سے ثابت ہے تو اس میں ہندی کہاں سے آگئی ہے؟؟

ویسے بھی آدم علیہ السلام کے صحف عربی میں تھے اور ان پر وحی بھی عربی میں آئی تھی خود قرآن سے ثابت ہے حضرت آدم علیہ السلام کی دعائیں جو عربی میں ہیں۔

اس لیے کشف سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔

آدم علیہ السلام کے زمانے میں تو ہندی زبان کا وجود تک نہیں تھا پھر ہندی کہاں سے آگئی ہے اس میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف تو عربی میں تھے اس میں تو کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں بھائی۔

جناب جی کیا آپ نے غوث صاحب کے زمانہ میں موجود انجیل کو دیکھا ہوا ہے؟؟ وہ اپنے دور کا فرما رہے ہیں۔ کچھ تو خیال کریں۔،۔ اور یہ ایک غیبی خبر ہو سکتی ہے کیونکہ اولیا کرام کا غیبی خبریں دینا کونسی نئی بات ہے؟؟؟َ،۔
عجیب بات کرتے ہیں آپ کہ اگر کسی کتاب میں ایسی بات آ جائے جو آپکو درست نہیں لگتی تو وہ کتاب ہی غیر مستند ہو جاتی ہے۔،۔ محقق بننے کا شوق بہت ہے آپکو بھائی مگر پہلے کسی سنی عالم سے علم تو حاصل کرلیں
 

کشمیر بھائی آپ کی باتوں پر تو مجھے حیرت ہو رہی ہے 900ھ میں بھی 4 انجیل تھیں اب بھی 4 ہیں 2 قدیم اور 2 جدید باقی تحریف تو خود حضرت غوث سے پہلے بھی ثابت تھی۔باقی ہم بزرگوں کے ساتھ حسن ظن کے قائل ہیں ان سے خطاء ہو سکتی ہےاس لیے ہم صرف انبیاءعلیہم السلام کو ہی معصوم سمجھتے ہیں۔کسی کتاب کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنا ہی کافی کہ اس میں بنا کسی اسناد اور بنا کسی حوالہ جات کہ بات کو لکھا جاتا ہے اور اس کو پرکھا نہیں جاتا باقی محقق بننے کے لیے بریک بین باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس کے اصل ماخوذ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اس لیے بھی آپ بھی اس بات کو سمجھیں اور سنی علماء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جیسے علامہ شامی نے ردالمحتار میں اپنا منہاج بتایا ہے تحقیق کا۔

ادھر کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر مختصر سی بات کرتا ہوں میں۔،۔ ناد علی کی سند غوث صاحب سے ثابت ہے۔ چاہے نہ بھی ثابت ہو تو بھی کونسا پہاڑ ٹوٹ جائے گا؟؟ ایسی بات کہ جسمیں شرعا کوئی غلطی نہیں تو اسکی سند کی کیا حاجت؟؟؟ آپ کوئی ایک دلیل دے دیجئے کہ بلا سند والی دعا کرنا شرعا جائز نہیں! ہم شریعت کو مانتے ہیں، آپکے ذاتی اصولوں کو نہیں۔،۔،۔ 
 

نادعلی حضرت غوث سے کیسے ثابت ہے جب کہ حضرت غوث نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا جو کہ اصل میں ثابت نہیں حیرت ہے بھائی آپ پر تو۔جو بات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں پھر اسے ہم نادعلی کیسے کہہ سکتے ہیں یا تو اس کا نام تبدلیل کریں تاکہ اس سے یہ گمان نہ ہو کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ورنہ اکثر اس بات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں۔باقی یہ میرا کوئی ذاتی اصول نہیں ہے یہ خود آئمہ حدیث کا اصول ہے کہ جو بات کسی سے ثابت نہ ہو تو اس کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔

تو ۹۰۰ ہجری سے پہلے کسی بات کا ہونا اسکی صحت کو مستلزم ہے یا ۹۰۰ ہجری کے بعد سامنے آنے والی بات کا غیردرست ہونا شرعا لازم؟؟ میں نے کہا تھا کہ غوث صاحب سےاجازتیں چلی آ رہی ہیں سلسلہ بسلسلہ اسکی۔،۔۔ حدیث تو اسسے کہا ہی نہیں ۔،۔۔ کچھ تو غور کریں بھئ جان،۔،۔،۔ اگر غوث صاحب علیہ الرحمہ نے خود سے یہ وظیفہ مقرر کرلیا اور آگے اسکی اجازتیں دینے لگے تو اسمیں بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ اگر ہے تو پیش کریں
 

حضر ت غوث نے خود وظیفہ کیسا مقرر کیا جب کہ خود حضرت غوث  نےاس بات کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو کی طرف منسوب کیا ہوا ہے جو کہ ثابت نہیں اس بات کا سکین پیج میں آپ کو اوپر دے چکا ہوں۔پھر سلسلہ بہ سلسلہ اجازت کیسے ثابت ہو گئی ہے بھائی جو اصل بنیاد تھی وہ تو ثابت ہی نہیں

تحقیق کا شوق تو بہت ہے بھئ جان مگر سچ کا سہارا لیں ساتھ،۔،۔ کہاں سے ذاتی باتیں اندر گھسیڑے جا رہے ہیں؟!۔،۔،۔ ہم کیوں ثابت کریں کہ یہ فلاں سند سے حضرت علی سے لی گئی دعا ہے جبکہ ہم نے کہیں ایسا دعوی بھی نہیں کیا۔ اگر کیا ہے تو پیش کریں۔،۔،۔ اپنا اور ہمارا وقت خواہ مخواہ ضائع مت کریں بھئی
۔،،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔،۔
بھائی میرے سچ کا سہارا آپ لیں میں نے اس میں کون سی بات ذاتی کی ہے ذرا وہ بتائیں ذرا؟؟؟ پھر تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ حضرت غوث نے جو نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا وہ ہے وہ حقیقت میں ثابت نہیں ؟؟؟ اگر دعویٰ نہیں کیا تو پھر تسلیم کریں کے نادعلی نام کی کوئی دعا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثانت نہیں اور جو حضرت غوت نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے ان سے اس میں خطاء ہو گی ہے باقی ہم بھی حضرت غوث علیہ الرحمہ کے اس بارے میں حسن ظن کے قائل ہیں۔ باقی آپ سے بات کر کے کوئی تحقیقی جواب ملا نہیں صرف الزامی جواب تھے جن کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں۔آپ نے میرا مفت میں ٹائم ضائع کروا دیا بنا کوئی صحیح دلیل کے ساتھ تحقیقی جوابات نہ دینے میں۔
ab.thumb.jpg.63d9e2441c9c58e7f2150e5c89ea226a.jpg
ہم نے اسے حدیث کہا ہی نہیں جو آپ اسے صوفیا کی کتب میں موجود موضوع احادیث میں سے مانیں۔ حالت جناب کی یہ ہے کہ کسی روایت سے اسے صحیح ثابت کروانے پر تلے ہیں۔ بھئی جان آپکو پتہ بھی ہے کہ آپ بات کس موضوع پر کر رہے ہیں؟؟؟؟؟؟؟۔،،۔،۔ ایک وظیفہ یا دعا کو حدیث منوانے پر کیوں مصر ہیں؟
۔،۔،۔،،۔،۔،۔،۔،۔،
آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کو ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ
۔،،،،۔،۔،،،
پوسٹ ایک ہی بنانی ہے نیکسٹ ٹائم پلیز

بھائی میرے لگتا ہے آپ نے میری بات کو صحیح طرح سے سمجھا نہیں، میرا اصل مقصد یہ تھا کہ یہ دعا یا وظیفہ جو حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ ثابت نہیں اور اس کو نادعلی کہنا ہی صحیح نہیں کیونکہ یہ بات خود حضرت علی سے ثابت نہیں یا آپ اس کا نام تبدیل کر کے اور نام رکھ لیں تا کہ یہ گمان ہی ختم ہو جائے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ۔کیونکہ آج کل اس وظیفے کو اکثر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں صرف اور صرف نام میں علی ہونے کی وجہ سے۔باقی میرا آپ کے ساتھ کوئی ذاتی اور مذہب اختلاف نہیں جو میں آپ پر کوئی تنقید کروں۔باقی آپ کی مرضی ہے آپ کو چاہیں کریں۔ویسے آپ سے بات کر کے تھوڑا الزامی حوالے سے بات کرنے میں علم میں اضافہ ہوا۔ شکریہ بھائی جان 

Edited by Raza Asqalani

Share this post


Link to post
Share on other sites

کشمیر بھائی میں صرف دلیل دی ہے کہ اس طرح کے وظائف کی صرف خوابی اسناد ہوتی ہیں اور دلیل کے لیے میں خود جواہر خمسہ ایک سکین پیج دیا ہےاس میں صرف ایک لفظ والی بات نہیں ہے بلکہ اکثر وظائف ہیں ہی ایسے۔

میرے پیارے اور عزیز عسقلانی بھائی۔،۔ اللہ عزوجل آپکو خوش رکھے،۔،۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ حضور غوث صاحب سے ناد علی ثابت ہے اور ان سے آگے انکے شاگردوں و مریدوں کو اسکی اجازت (جیسا فتاوی رضویہ والے فوٹو میں ہے)،۔،۔ اسکی سند خوابی نہیں ہے، آپکی بات صرف ایک لفظ کی کنفیوژن سے ایلیٹڈ تھی۔ آپ سند کے لفظ سے حدیث کی سند مراد مت لیجے گا،۔،۔ ہر چیز کا ایک سا حکم نہیں ہوتا،۔،۔،یہ تو محض ایک وظیفہ ہے، جسکی سند چاہے نہ بھی ہو، پھر بھی اسمیں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی اور مانع نہ ہو،،۔، 

حیرت ہو رہی بھائی آپ کے دلائل پربھائی میرے اس میں کیا احتمالات ہیں جب یہ بات ثابت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو عربی کلمات کی تعلیم دی اللہ عزوجل نے جو قرآن سے ثابت ہے تو اس میں ہندی کہاں سے آگئی ہے؟؟

ویسے بھی آدم علیہ السلام کے صحف عربی میں تھے اور ان پر وحی بھی عربی میں آئی تھی خود قرآن سے ثابت ہے حضرت آدم علیہ السلام کی دعائیں جو عربی میں ہیں۔

اس لیے کشف سے استدلال کرنا صحیح نہیں۔

آدم علیہ السلام کے زمانے میں تو ہندی زبان کا وجود تک نہیں تھا پھر ہندی کہاں سے آگئی ہے اس میں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحف تو عربی میں تھے اس میں تو کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں بھائی۔

اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو صرف عربی نہیں سکھائی بلکہ ہر زبان سکھا دی ہے جن میں ہندی بھی شامل ہے اور اس وقت بھی ہندی کا وجود تھا (جیسے اور اشیا فرشتوں پر پیش کی گئی تھی)،۔،۔، مانا کہ قرآن پاک میں انکی دعائیں ہیں مگر قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل اپنے نبی کو غیر عربی میں کلمات نہیں سکھا ئے گا؟؟۔،۔، ایسا ممکن تو ہے اور بزرگان دین کی بات کو جتنا ہو سکے، اچھائی کی طرف پھیرا جائے گا جہاں تک ممکن ہو،۔۔،۔، یہ کہنا خود دلیل کا طالب ہے کہ آدم علیہ السلام کے زمانے میں ہندی کا وجود نہ تھا۔ اتنے احتمالات کی جب گنجائش ہے تو آپ کیوں غوث صاحب کی بات کو درستی کی طرف نہیں پھیرتے؟؟،۔،۔ 

 

کشمیر بھائی آپ کی باتوں پر تو مجھے حیرت ہو رہی ہے 900ھ میں بھی 4 انجیل تھیں اب بھی 4 ہیں 2 قدیم اور 2 جدید باقی تحریف تو خود حضرت غوث سے پہلے بھی ثابت تھی۔باقی ہم بزرگوں کے ساتھ حسن ظن کے قائل ہیں ان سے خطاء ہو سکتی ہےاس لیے ہم صرف انبیاءعلیہم السلام کو ہی معصوم سمجھتے ہیں۔کسی کتاب کے غیر مستند ہونے کے لیے اتنا ہی کافی کہ اس میں بنا کسی اسناد اور بنا کسی حوالہ جات کہ بات کو لکھا جاتا ہے اور اس کو پرکھا نہیں جاتا باقی محقق بننے کے لیے بریک بین باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس کے اصل ماخوذ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اس لیے بھی آپ بھی اس بات کو سمجھیں اور سنی علماء بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں جیسے علامہ شامی نے ردالمحتار میں اپنا منہاج بتایا ہے تحقیق کا۔

جناب من ہم بھی کسی بزرگ کو معصوم نہیں مانتے، مگر انکی باتوں کو حق کی طرف پھیرتے ہیں جتنا ممکن ہو جبکہ کئی احتمالات کی گنجائش بھی ہو،۔،۔ جناب عسقلانی بھئی جان مانا کہ تحریف پہلے سے چل رہی اہل کتاب کے ہاں مگر کیا ایسا ممکن نہیں کہ غوث صاحب کے دور میں انکے زیر نظر انجیل میں ایسا واقعہ موجود ہو؟؟،۔،۔ جب انکی بات کو حسن کی طرف پھیرنے میں کوئی خرابی نہیں تو ہمیں پھیرنا چاہیے اور واقعی ایسا ہی ہے، وہ اپنے ایسا لکھنے میں بالکل حق بجانب ہیں۔،۔، جناب بھئی جان، وظائف وغیرہ فضائل کیلئے نہ کسی خاص اسناد کی ضرورت ہے اور نہ حوالہ کی جب تک شریعت منع نہ کر دے۔۔،۔، ذاتی تجربہ جو ایک صالح متقی دین دار شخص کو کسی وظیفہ سے ملا، اسکو آگے رائج کرنا شرعا جائز ہے اور ایسا ہماری کتب میں واقع ہے کیونکہ شریعت نے منع نہیں کیا۔،۔،۔ جناب واقعی اصل کی طرف رجوع چاہیے ، مگر ساتھ ہی اور حقائق بھی تو نہیں جھٹلائے جا سکتے ایک واقعہ اگر گذر چکا تو اب صالح مسلمان کی شہادت کافی ہوگی، نہ کہ اصل واقعہ کی بذات خود بعینیہ عینی تحقیق۔،۔،۔

نادعلی حضرت غوث سے کیسے ثابت ہے جب کہ حضرت غوث نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا جو کہ اصل میں ثابت نہیں حیرت ہے بھائی آپ پر تو۔جو بات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں پھر اسے ہم نادعلی کیسے کہہ سکتے ہیں یا تو اس کا نام تبدلیل کریں تاکہ اس سے یہ گمان نہ ہو کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ورنہ اکثر اس بات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیے ہوئے ہیں۔باقی یہ میرا کوئی ذاتی اصول نہیں ہے یہ خود آئمہ حدیث کا اصول ہے کہ جو بات کسی سے ثابت نہ ہو تو اس کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔

جناب بھئی جان،۔ بات کو طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں عموما،۔۔ آپکو جتنے اعتراض ہیں، نمبر وار ایک پوسٹ میں شائع کردیں۔،۔، یوں ہر پوسٹ میں آپ کوئی نئی بات لے آتے ہیں اور اپنی پچھلی بات کو ایکدم چھوڑ دیتے (اب اس پر مزید کچھ نہیں لکھدینا بھئی،۔،۔)۔ حضرت غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی سے کیسے منسوب کیا ہے؟؟ اسکا حوالہ دیں۔،۔ نام تبدیلی والا مسئلہ بعد میں آئے گا پہلے یہ تو بتائیں کہ غوث صاحب نے کہاں اسے حضرت علی سے منسوب کیا ہے؟ غوث صاحب کے اپنے الفاظ پیش کریں جناب، ہم انتظار کررہے ہیں۔،۔،۔بھئی جان ہم کسی حدیث پر بات نہیں کررہے جو آپ بار بار ائمہ حدیث کا نام لیتے ہیں۔،۔ احادیث کی جانچ پرکھ کے اور اصول ہیں، وظائف کے ویسے نہیں، اس پوائنٹ کو نوٹ کریں،۔ آپ نے لکھا کہ اکثر ناد علی کو حضرت علی سے منسوب کیے ہوئے ہیں، تو ان اکثر کا تھوڑا بتادیں کہ کون کون ہیں وہ؟؟

حضر ت غوث نے خود وظیفہ کیسا مقرر کیا جب کہ خود حضرت غوث  نےاس بات کو خود حضرت علی رضی اللہ عنہ ہو کی طرف منسوب کیا ہوا ہے جو کہ ثابت نہیں اس بات کا سکین پیج میں آپ کو اوپر دے چکا ہوں۔پھر سلسلہ بہ سلسلہ اجازت کیسے ثابت ہو گئی ہے بھائی جو اصل بنیاد تھی وہ تو ثابت ہی نہیں

جہاں غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا، وہ پوائنٹ آؤٹ فرمائیں بھئی۔،۔ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت سے مراد یہ ہے کہ اپنے مریدین و شاگردوں کو وظائف کی اجازت دی جن میں ناد علی بھی شامل (جیسا کہ فتاوی رضویہ والا فوٹو گواہ)،۔،۔ باقی نہ ہم اسے حدیث کہتے اور نہ حضرت علی سے اسکی سند ثابت کو ہمارا دعوی،۔ اگر اسکے خلاف آپکے پاس کچھ ہے تو لائیں بھئی۔۔ اصل بنیاد ثابت کہ غوث صاحب نے یہ وظیفہ لکھا، شاگروں مریدوں فیض پانے والوں کو بھی دیا اور ان سے آگے یہ چلا۔،۔

بھائی میرے سچ کا سہارا آپ لیں میں نے اس میں کون سی بات ذاتی کی ہے ذرا وہ بتائیں ذرا؟؟؟ پھر تسلیم کیوں نہیں کرتے کہ حضرت غوث نے جو نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا وہ ہے وہ حقیقت میں ثابت نہیں ؟؟؟ اگر دعویٰ نہیں کیا تو پھر تسلیم کریں کے نادعلی نام کی کوئی دعا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثانت نہیں اور جو حضرت غوت نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے ان سے اس میں خطاء ہو گی ہے باقی ہم بھی حضرت غوث علیہ الرحمہ کے اس بارے میں حسن ظن کے قائل ہیں۔ باقی آپ سے بات کر کے کوئی تحقیقی جواب ملا نہیں صرف الزامی جواب تھے جن کا جواب میں آپ کو دے چکا ہوں۔آپ نے میرا مفت میں ٹائم ضائع کروا دیا بنا کوئی صحیح دلیل کے ساتھ تحقیقی جوابات نہ دینے میں۔
ذاتی باتیں بہت کیں آپ نے مثلا وظیفہ کی سند مکمل ثابت کریں، حضرت علی سے اسکی سند دکھائیں، وغیرہ،۔ منسوب کے حوالے سے اوپر کلام گذرا جو کافی ہے۔،۔ جناب ہم نے کب کہا کہ ناد علی حضرت علی سے ثابت ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
خود سے ذہن میں کچھ سوچ کے ہم پر مت تھونپیں بھئی جان۔،۔ چلیں معذرت اگر آپکا وقت ضائع ہوا۔،، جناب تحقیق تو آپ نے اپنے طور پر کی مگر میرے مین سوالوں کا کوئی جواب ابھی تک نہیں دیا مثلا ناد علی میں کونسے ایسے پوانٹ ہیں جو صرف شیعہ رافضیوں کے عقیدے ہیں؟؟؟ وظیفہ کی مکمل سند ثابت ہونا لازم کس دلیل سے ہے؟؟؟ ناد علی پڑھنے پڑھانے والوں پر کیا حکم شریعت ہے؟ وغیرہ
 
بھائی میرے لگتا ہے آپ نے میری بات کو صحیح طرح سے سمجھا نہیں، میرا اصل مقصد یہ تھا کہ یہ دعا یا وظیفہ جو حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ ثابت نہیں اور اس کو نادعلی کہنا ہی صحیح نہیں کیونکہ یہ بات خود حضرت علی سے ثابت نہیں یا آپ اس کا نام تبدیل کر کے اور نام رکھ لیں تا کہ یہ گمان ہی ختم ہو جائے کہ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ۔کیونکہ آج کل اس وظیفے کو اکثر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں صرف اور صرف نام میں علی ہونے کی وجہ سے۔باقی میرا آپ کے ساتھ کوئی ذاتی اور مذہب اختلاف نہیں جو میں آپ پر کوئی تنقید کروں۔باقی آپ کی مرضی ہے آپ کو چاہیں کریں۔ویسے آپ سے بات کر کے تھوڑا الزامی حوالے سے بات کرنے میں علم میں اضافہ ہوا۔ شکریہ بھائی جان
منسوب والا کلام اوپر گذرا، دیکھ لیں۔،۔،۔ ’’ناد علی کہنا صحیح نہیں‘‘ ایک دعوی ہے، اسکی دلیل شریعت سے دیجئے۔،۔ ہم اسے مولائے کائنات کی طرف منسوب کرتے ہی نہیں۔ عجیب بات کی آپ نے کہ اگر اسے ناد علی کہا جائے تو لازم آتا کہ یہ حضرت علی سے ثابت ہو،۔ اگر کوئی شخص نعت رسول کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ نعت بعینہ رسول پاک سے ثابت ہو؟؟؟ اگر کوئی حمد کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ حمد بعینہ اللہ سے ثابت؟؟ اگر کوئی قصیدہ ولی کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ قصیدہ بعینہ ان ولی صاحب سے ثابت؟؟ اگر کوئی نماز غوثیہ کہے تو اس لازم آئے گا کہ حضور غوث اعظم وہی نماز غوثیہ پڑھتے رہے؟؟ اور بھی بہت باتیں دماغ میں آرہی مگر اسی پر اکتفا بھئی جان
اللہ عزوجل آپکو اور مجھے جزائے خیر دے
 
 

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:

 

میرے پیارے اور عزیز عسقلانی بھائی۔،۔ اللہ عزوجل آپکو خوش رکھے،۔،۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ حضور غوث صاحب سے ناد علی ثابت ہے اور ان سے آگے انکے شاگردوں و مریدوں کو اسکی اجازت (جیسا فتاوی رضویہ والے فوٹو میں ہے)،۔،۔ اسکی سند خوابی نہیں ہے، آپکی بات صرف ایک لفظ کی کنفیوژن سے ایلیٹڈ تھی۔ آپ سند کے لفظ سے حدیث کی سند مراد مت لیجے گا،۔،۔ ہر چیز کا ایک سا حکم نہیں ہوتا،۔،۔،یہ تو محض ایک وظیفہ ہے، جسکی سند چاہے نہ بھی ہو، پھر بھی اسمیں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی اور مانع نہ ہو،،۔، 

 

کشمیر بھائی میرے پیارے بھائی اللہ عزوجل آپ کو خوش رکھے میری پوری بحث یہاں سند پر ہو رہی ہےیہاں کشف والی سند پر بات نہیں ہو رہی بلکہ ظاہری سند پر بات ہو رہی ہے ۔

میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں بلکہ میں نے کہا ہے جو حضرت غوث نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے وہ ثابت نہیں ہے۔

باقی اس کے معنی پر میں نے کوئی ایسی کوئی بات نہیں کی ہے میرا مقصد صرف یہاں صرف سند کا تھا جس کا آپ نے خود اقرار کیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ۔بس اب پوری بحث ہی ختم میرے بھائی

 

On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:

 

اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو صرف عربی نہیں سکھائی بلکہ ہر زبان سکھا دی ہے جن میں ہندی بھی شامل ہے اور اس وقت بھی ہندی کا وجود تھا (جیسے اور اشیا فرشتوں پر پیش کی گئی تھی)،۔،۔، مانا کہ قرآن پاک میں انکی دعائیں ہیں مگر قرآن و سنت میں ایسی کوئی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل اپنے نبی کو غیر عربی میں کلمات نہیں سکھا ئے گا؟؟۔،۔، ایسا ممکن تو ہے اور بزرگان دین کی بات کو جتنا ہو سکے، اچھائی کی طرف پھیرا جائے گا جہاں تک ممکن ہو،۔۔،۔، یہ کہنا خود دلیل کا طالب ہے کہ آدم علیہ السلام کے زمانے میں ہندی کا وجود نہ تھا۔ اتنے احتمالات کی جب گنجائش ہے تو آپ کیوں غوث صاحب کی بات کو درستی کی طرف نہیں پھیرتے؟؟،۔،۔ 

بھائی اس میں کوئی شک نہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام ہر زبان سے پوری طرح واقف تھےلیکن یہاں زبان کی نہیں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف کی بات ہو رہی ہے کہ کس زبان میں نازل ہوئے تھے اور یہ بات نصوص صحیحہ سے ثابت ہے کہ حضرت آدم اور ابراہیم علیہماالسلام کے صحائف عربی زبان میں نازل ہوئے تھے اور ہندی زبان میں تو بلکل نازل نہیں ہوئے تھے۔

باقی بھائی ہم بھی بزرگوں کے ساتھ حسن ظن کے قائل ہیں 

 

On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:

 

جناب من ہم بھی کسی بزرگ کو معصوم نہیں مانتے، مگر انکی باتوں کو حق کی طرف پھیرتے ہیں جتنا ممکن ہو جبکہ کئی احتمالات کی گنجائش بھی ہو،۔،۔ جناب عسقلانی بھئی جان مانا کہ تحریف پہلے سے چل رہی اہل کتاب کے ہاں مگر کیا ایسا ممکن نہیں کہ غوث صاحب کے دور میں انکے زیر نظر انجیل میں ایسا واقعہ موجود ہو؟؟،۔،۔ جب انکی بات کو حسن کی طرف پھیرنے میں کوئی خرابی نہیں تو ہمیں پھیرنا چاہیے اور واقعی ایسا ہی ہے، وہ اپنے ایسا لکھنے میں بالکل حق بجانب ہیں۔،۔، جناب بھئی جان، وظائف وغیرہ فضائل کیلئے نہ کسی خاص اسناد کی ضرورت ہے اور نہ حوالہ کی جب تک شریعت منع نہ کر دے۔۔،۔، ذاتی تجربہ جو ایک صالح متقی دین دار شخص کو کسی وظیفہ سے ملا، اسکو آگے رائج کرنا شرعا جائز ہے اور ایسا ہماری کتب میں واقع ہے کیونکہ شریعت نے منع نہیں کیا۔،۔،۔ جناب واقعی اصل کی طرف رجوع چاہیے ، مگر ساتھ ہی اور حقائق بھی تو نہیں جھٹلائے جا سکتے ایک واقعہ اگر گذر چکا تو اب صالح مسلمان کی شہادت کافی ہوگی، نہ کہ اصل واقعہ کی بذات خود بعینیہ عینی تحقیق۔،۔،

بھائی میرے اگر انجیل کے کسی نسخے میں وہ دعا موجود ہوتی تو کوئی نہ کوئی عیسائی عالم ضرور اس کو اپنی کسی کتاب میں ذکر کرتا یا اس کا حوالہ دیتا لیکن ایسا کچھ ثابت نہیں ہے۔

باقی ہم حسن ظن کے قائل ہیں بزرگوں سے۔

باقی ان وظائف کے پڑھنے سے صرف ان کلمات کے پڑھنے کا ثواب ہو گا لیکن اگر سرکارﷺ سے صحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت وظائف کو پڑھنے کا ثواب دوگنا ہے ایک کلمات کو پڑھنے کا ثواب دوسرا سنت کا ثواب اس لیے بہتر یہی ہے جو وظائف سرکار ﷺ سےصحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت ہوں ان کو پڑھا جائے۔

 

On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:

 

جناب بھئی جان،۔ بات کو طول دینے کا کوئی فائدہ نہیں عموما،۔۔ آپکو جتنے اعتراض ہیں، نمبر وار ایک پوسٹ میں شائع کردیں۔،۔، یوں ہر پوسٹ میں آپ کوئی نئی بات لے آتے ہیں اور اپنی پچھلی بات کو ایکدم چھوڑ دیتے (اب اس پر مزید کچھ نہیں لکھدینا بھئی،۔،۔)۔ حضرت غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی سے کیسے منسوب کیا ہے؟؟ اسکا حوالہ دیں۔،۔ نام تبدیلی والا مسئلہ بعد میں آئے گا پہلے یہ تو بتائیں کہ غوث صاحب نے کہاں اسے حضرت علی سے منسوب کیا ہے؟ غوث صاحب کے اپنے الفاظ پیش کریں جناب، ہم انتظار کررہے ہیں۔،۔،۔بھئی جان ہم کسی حدیث پر بات نہیں کررہے جو آپ بار بار ائمہ حدیث کا نام لیتے ہیں۔،۔ احادیث کی جانچ پرکھ کے اور اصول ہیں، وظائف کے ویسے نہیں، اس پوائنٹ کو نوٹ کریں،۔ آپ نے لکھا کہ اکثر ناد علی کو حضرت علی سے منسوب کیے ہوئے ہیں، تو ان اکثر کا تھوڑا بتادیں کہ کون کون ہیں وہ؟؟

بھائی اگر ٹائم ملا تو اس پر ضرور بات کریں گےایک الگ سے پوسٹ بنا کر لیکن بات تحقیقی ہوگی الزامی نہیں کیونکہ الزامی بات میں تحقیق نہیں ہوتی۔

 

On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:

 

جہاں غوث صاحب نے ناد علی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا، وہ پوائنٹ آؤٹ فرمائیں بھئی۔،۔ سلسلہ بہ سلسلہ اجازت سے مراد یہ ہے کہ اپنے مریدین و شاگردوں کو وظائف کی اجازت دی جن میں ناد علی بھی شامل (جیسا کہ فتاوی رضویہ والا فوٹو گواہ)،۔،۔ باقی نہ ہم اسے حدیث کہتے اور نہ حضرت علی سے اسکی سند ثابت کو ہمارا دعوی،۔ اگر اسکے خلاف آپکے پاس کچھ ہے تو لائیں بھئی۔۔ اصل بنیاد ثابت کہ غوث صاحب نے یہ وظیفہ لکھا، شاگروں مریدوں فیض پانے والوں کو بھی دیا اور ان سے آگے یہ چلا۔،۔

بھائی خود حضرت غوث علیہ الرحمہ نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا خود پڑھ لیں ان کی کتاب کے سکین پیج سے

خود حضرت غوث علیہ الرحمہ لکھ رہے ہیں کہ نادعلی حضرت امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ کی یہ ہےاس سے خود واضح ہو رہا ہے کہ یہ حضرت غوث علیہ الرحمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے اب تو سند کی ضرورت لازمی پڑے گی بھائی خود سکین دیکھ لیں اگر مجھ پر یقیق نہیں ہے تو

Jawhir-ul-Khamsa3.thumb.jpg.5fc720d50a6421fa42e5605cc6d37c2f.jpg

 

On 4/10/2017 at 8:40 PM, kashmeerkhan said:
 
منسوب والا کلام اوپر گذرا، دیکھ لیں۔،۔،۔ ’’ناد علی کہنا صحیح نہیں‘‘ ایک دعوی ہے، اسکی دلیل شریعت سے دیجئے۔،۔ ہم اسے مولائے کائنات کی طرف منسوب کرتے ہی نہیں۔ عجیب بات کی آپ نے کہ اگر اسے ناد علی کہا جائے تو لازم آتا کہ یہ حضرت علی سے ثابت ہو،۔ اگر کوئی شخص نعت رسول کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ نعت بعینہ رسول پاک سے ثابت ہو؟؟؟ اگر کوئی حمد کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ حمد بعینہ اللہ سے ثابت؟؟ اگر کوئی قصیدہ ولی کہے تو اس سے لازم آئے گا کہ وہ قصیدہ بعینہ ان ولی صاحب سے ثابت؟؟ اگر کوئی نماز غوثیہ کہے تو اس لازم آئے گا کہ حضور غوث اعظم وہی نماز غوثیہ پڑھتے رہے؟؟ اور بھی بہت باتیں دماغ میں آرہی مگر اسی پر اکتفا بھئی جان
اللہ عزوجل آپکو اور مجھے جزائے خیر دے

 

بھائی خود حضرت غوث علیہ الرحمہ نے نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا خود پڑھ لیں ان کی کتاب کے سکین پیج سے

خود حضرت غوث علیہ الرحمہ لکھ رہے ہیں کہ نادعلی حضرت امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ کی یہ ہےاس سے خود واضح ہو رہا ہے کہ یہ حضرت غوث علیہ الرحمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے اب تو سند کی ضرورت لازمی پڑے گی بھائی خود سکین دیکھ لیں

 

Jawhir-ul-Khamsa3.thumb.jpg.39faa93eb0b39c75eb0c1809d779854b.jpg

 

بھائی اب منسوب ہو نا بھی ثابت ہو گیا اب تو سند کی ضرورت پڑ گی ہےاس لیے میرا موقف آپ نے سمجھا نہیں تھا اس لیے زیادبحث ہو گی ہے 

 

خود دیکھ لیں بھائی نادعلی کا وقت نزول بھی لوگوں نے بنا لیا ہے اب خود فیصلہ کر لیں

 

nad-e-ali.thumb.jpg.7e6455a8e252d2d873f02b26beb52e9a.jpg

 

اور یہی سکین پیج اسی فورم پر اس لنک پر موجود ہے خود چیک کر لیں

 

 

 

اس کے علاوہ حضرت غوث نے ایک اور وظیفہ بھی لکھا ہے اپنی کتاب جواہر خمسہ میں جس کا نام مسبعات عشر ہے 

58f0b06c8b8ed_MusabatulAshar.thumb.jpg.51f312ab583eed46463afa04cfc2b274.jpg

 

اس وظیفے کی سند کو علامہ اسماعیل حقی نے اپنی کتاب تفسیر روح البیان میں حضرت حضرت خضر علیہ السلام کی نسبت سے لکھا ہے یہ ہے اس کا ثبوت

IMG_20170413_080403_116-1.thumb.jpg.7e319ff93f36c0723496809503891056.jpg

 

لیکن علامہ طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے لکھا کہ اس وظیفے کی سند کی کوئی اصل نہیں ہے

Mauzat.thumb.jpg.02baeb43f68beb264efb39ab8533be88.jpg

اب بھائی خود دیکھ لیں اصل ماخوذ اور سند کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

تمام ممبرز سے گزارش ہے کہ بلا ضرورت ڈبل پوسٹنگ مت کریں۔ ان کو یکجا کرنا اور پوسٹ فورمیٹ کو صحیح کرنا ایک اضافی کام بن جاتا ہے ٹیم ممبرز پر۔ اور اگر نہ کیا جائے تو تمام ٹاپک بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔ تمام مواد ایک ہی پوسٹ میں کریں۔ اگر مزید اضافہ کرنا ہو تو ایڈیٹ کے بٹن کا استعمال کریں۔ ابھی نئے فورم ورژن میں ٹیکسٹ کو سیلیکٹ کرکے صرف خاص الفاظ کو کوٹ کرنا بہت آسان ہے۔ صرف اس حصے کو سیلیکٹ کریں جس کو آپ کوٹ کرنا چاہتے ہیں۔ کوٹ  کا ایک بٹن ظاہر ہوجائے گا۔ نیچے اس کا اسکرین شاٹ دیا جا رہا ہے۔ نیز یوزر نیم کو ایٹ کی ساتھ منشن بھی کیا جا سکتا ہے۔

@Raza Asqalani  @kashmeerkhan

جہاں صرف یوزر نیم  منشن کیا  جا سکتا ہو، یعنی کسی مخصوص بات کا جواب نہ ہو تو  وہاں کوٹ کئے بغیر پوسٹنگ کریں۔

 

df537bb5d4044f00ae74debc6c67e9ee.png

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

میرا مقصد صرف یہاں صرف سند کا تھا جس کا آپ نے خود اقرار کیا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ۔بس اب پوری بحث ہی ختم میرے بھائی

پیارے رضا بھئی جان۔،۔ بحث تو شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی کیونکہ ہم نے نہ پہلے ایسا دعوی کیا تھا اور نہ اب کہ اسکی سند حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔، جس پوسٹ میں میں نے ایسا کہا ہے (کہ سند حضرت علی سے ثابت ہے) تو دکھائیں وہ،۔،۔ جناب آپ نے خود سے سمجھا تھا کہ اسکی سند حضرت علی سے ثابت کا قول کیا گیا ہے، ہمارا دعوی نہ تھا یہ۔،۔

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں

قبلہ عسقلانی بھئی جان۔،، کبھی تو آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں۔۔۔، یہ کیسی بات کر دی جناب من؟؟ کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

حضرت آدم اور ابراہیم علیہماالسلام کے صحائف عربی زبان میں نازل ہوئے تھے اور ہندی زبان میں تو بلکل نازل نہیں ہوئے تھے

جناب من، اس پر کوئی نص قطعی پیش کریں کہ صحف میں ہندی (اور دیگر زبانوں) میں کوئی کلام نہیں تھا۔ ورنہ سکوت فرمائیں،۔،۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اس پر ’’نصوص صریحہ‘‘ ہیں تو وہ پیش کریں ناں بھئی

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

بھائی میرے اگر انجیل کے کسی نسخے میں وہ دعا موجود ہوتی تو کوئی نہ کوئی عیسائی عالم ضرور اس کو اپنی کسی کتاب میں ذکر کرتا یا اس کا حوالہ دیتا لیکن ایسا کچھ ثابت نہیں ہے۔

واہ جناب کیسی بات کرتے ہیں آپ؟؟۔،۔، ایک مسلمان بزرگ کا حوالہ ہے کہ ایک چیز کتاب میں موجود تھی مگر آپ انکی بات بلا دلیل نہیں مانتے اور ساتھ عیسائیوں کا اپنی کتب میں لکھ دینا معتبر سمجھتے ہیں!!!!!،۔،۔،۔، ۔،۔ عیسائیوں کا کسی بات کو اپنی کتاب میں نہ لکھنا یا حوالہ نہ دینا اس بات کے عدم ثبوت کو بس ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟،۔،۔

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

باقی ان وظائف کے پڑھنے سے صرف ان کلمات کے پڑھنے کا ثواب ہو گا لیکن اگر سرکارﷺ سے صحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت وظائف کو پڑھنے کا ثواب دوگنا ہے ایک کلمات کو پڑھنے کا ثواب دوسرا سنت کا ثواب اس لیے بہتر یہی ہے جو وظائف سرکار ﷺ سےصحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت ہوں ان کو پڑھا جائے۔

بھئی جان۔۔،۔ یہ اصول صرف اسی وظیفہ کے وقت کیوں یاد آیا ہے جبکہ ہر وظیفے پر یہی اپلائی ہوتا ہے۔،۔،۔ درود شریف کا ہی باب لیجئے کہ کتنے کتنے موجود ہیں، ان میں سے کتنوں کی سند ثابت ہے۔،۔،۔، اردو عربی انگریزی وغیرہ میں جو نعتیں موجود ہیں، ان پر کیوں نہیں کہتے کہ بہتر ہے نہ پڑھیں بلکہ صحیح یا حسن سند والی ہی پڑھی جائیں۔،۔، جن ملا علی قاری کا حوالہ جناب نے پیش کیا تھا (یہ الگ بات کہ اب تک اس پر میری بات کا جواب نہیں دیا) وہ تو نزھۃ الخاطر الفاتر میں در بارہ نماز غوثیہ تحریر فرماتے ہیں کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح ۔، اب بتائیں جناب کہ ادھر کیا حکم اپلائی فرمائیں گے آپ؟؟۔،۔، رد المحتار میں حضرت احمد بن علوان سے مدد بھی مانگی گئی اور نزعتک من دیوان الاولیا بھی کہا گیا ہے، اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟؟۔،۔،۔ واضح انداز میں حکم بیان کریں کہ آپکے نزدیک ایسے وظائف کا پڑھنا کس وجہ سے اور کیسا ہے یعنی جائز یا نہیں؟؟؟۔،۔۔، بہتر کی بحث الگ ہے، (اور یہاں ہو بھی نہیں رہی بہتر کی بحث)۔،۔،۔

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

خود حضرت غوث علیہ الرحمہ لکھ رہے ہیں کہ نادعلی حضرت امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ کی یہ ہےاس سے خود واضح ہو رہا ہے کہ یہ حضرت غوث علیہ الرحمہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے اب تو سند کی ضرورت لازمی پڑے گی بھائی خود سکین دیکھ لیں اگر مجھ پر یقیق نہیں ہے تو

 

کمال کر دیا آپ نے بھئی!!۔،۔،غوث صاحب کے ایسا لکھ دینے سے حضرت علی سے سند کے اثبات یا انکار کی طرف ذہن عود ہی نہیں کرتا ، آپ تاویل القول بما لا یرضی بہ القائل کیوں کررہے ہیں؟؟۔،۔،۔۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے کہ نعت گو کہے کہ یہ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے!۔،۔ کوئی حمد گو عالم کہے کہ یہ حمد اللہ کی ہے!۔،۔ 

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

خود دیکھ لیں بھائی نادعلی کا وقت نزول بھی لوگوں نے بنا لیا ہے اب خود فیصلہ کر لیں

 تمام لوگوں کا ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔۔، بات غوث صاحب کی جواہر خمسہ پر ہو رہی تو وہیں تک رہے بھئی جان

On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

اس کے علاوہ حضرت غوث نے ایک اور وظیفہ بھی لکھا ہے اپنی کتاب جواہر خمسہ میں جس کا نام مسبعات عشر ہے 

 

تو اس سے کیا ہوگیا؟؟نفس وظیفہ پر حکم دکھائیں،۔۔، اگر ایسا ہوا بھی تو عمل بزرگان بھی بذات خود ایک دلیل ہے اور ملا علی قاری کے الفاظ و قد جرب ذلک ذہن میں رکھ کے جواب دیجئے گا۔،، بھئی

 

باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ اس دعا میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔

آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

 

قبلہ عسقلانی بھئی جان۔،، کبھی تو آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں۔۔۔، یہ کیسی بات کر دی جناب من؟؟ کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟

بھائی کشمیر میں نے کب کہا ہے کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے؟؟؟؟

نادعلی صرف جواہرخمسہ کتاب میں ہے اور کتب میں اس کا ثبوت ہی نہیں ہے اور خود اسی کتاب میں اس دعا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سےمنسوب کیا ہے حضرت غوث علیہ الرحمہ نے جو کہ ثابت نہیں بس یہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں لکھا ہوا ہے وہ بھی بنا کسی سند کے۔

اور منسوب ہونے کا ثبوت اوپر میں دے چکا ہوں سکین پیج کی صورت میں

 

On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

 

جناب من، اس پر کوئی نص قطعی پیش کریں کہ صحف میں ہندی (اور دیگر زبانوں) میں کوئی کلام نہیں تھا۔ ورنہ سکوت فرمائیں،۔،۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اس پر ’’نصوص صریحہ‘‘ ہیں تو وہ پیش کریں ناں بھئی

قبلہ مفتی کشمیر خان بھائی خود قرآن پڑھ لو اس میں حضرت آدم، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کی جو بھی دعائیں ہیں سب عربی میں اور اللہ نے ان کو جو بھی وحی کی اور جس کا ثبوت قرآن میں ہے سب کی سب عربی میں ہیں اور کیا نص چاہیے جناب کو؟؟؟؟؟

 

On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

 

بھئی جان۔۔،۔ یہ اصول صرف اسی وظیفہ کے وقت کیوں یاد آیا ہے جبکہ ہر وظیفے پر یہی اپلائی ہوتا ہے۔،۔،۔ درود شریف کا ہی باب لیجئے کہ کتنے کتنے موجود ہیں، ان میں سے کتنوں کی سند ثابت ہے۔،۔،۔، اردو عربی انگریزی وغیرہ میں جو نعتیں موجود ہیں، ان پر کیوں نہیں کہتے کہ بہتر ہے نہ پڑھیں بلکہ صحیح یا حسن سند والی ہی پڑھی جائیں۔،۔، جن ملا علی قاری کا حوالہ جناب نے پیش کیا تھا (یہ الگ بات کہ اب تک اس پر میری بات کا جواب نہیں دیا) وہ تو نزھۃ الخاطر الفاتر میں در بارہ نماز غوثیہ تحریر فرماتے ہیں کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح ۔، اب بتائیں جناب کہ ادھر کیا حکم اپلائی فرمائیں گے آپ؟؟۔،۔، رد المحتار میں حضرت احمد بن علوان سے مدد بھی مانگی گئی اور نزعتک من دیوان الاولیا بھی کہا گیا ہے، اس پر آپ کیا فرمائیں گے؟؟۔،۔،۔ واضح انداز میں حکم بیان کریں کہ آپکے نزدیک ایسے وظائف کا پڑھنا کس وجہ سے اور کیسا ہے یعنی جائز یا نہیں؟؟؟۔،۔۔، بہتر کی بحث الگ ہے، (اور یہاں ہو بھی نہیں رہی بہتر کی بحث)۔،۔،۔

او بھائی میرے میں نے کہا جو بات سرکار ﷺ سے صحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت ہو اس پر کلمات کے ثواب کے ساتھ سنت کاثواب بھی ملتا ہے۔

کیا نادعلی پڑھنے سے سنت کا ثواب مل سکتا ہے کیا؟؟؟

 

On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

 

کمال کر دیا آپ نے بھئی!!۔،۔،غوث صاحب کے ایسا لکھ دینے سے حضرت علی سے سند کے اثبات یا انکار کی طرف ذہن عود ہی نہیں کرتا ، آپ تاویل القول بما لا یرضی بہ القائل کیوں کررہے ہیں؟؟۔،۔،۔۔ اسکی مثال ایسے ہی ہے کہ نعت گو کہے کہ یہ نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے!۔،۔ کوئی حمد گو عالم کہے کہ یہ حمد اللہ کی ہے!۔،

حیرت ہے بھائی آپ پر تو!!! 

حضرت غوث خود کہہ رہے ہیں کہ نادعلی حضرت امیرامومنین علی کرم اللہ وجہہ کی یہ ہے پھر اس سے کیا مراد لیا جائے کیا یہ نادعلی خود حضرت غوث نے لکھی ہے جبکہ خود حضرت غوث نے کہیں بھی نہیں کہا کہ یہ وظیفہ میرا اپنا ہے؟؟؟

جب کہ وہ خود اس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں۔

باقی حمد اور نعت میں شاعر کا اپنا کلام ہوتا ہے اور خود اس کے آخر شعر میں اپنا نام بھی لکھتا ہے لہذا اس بات کو حمد اور نعت کے شعروں کے ساتھ تشبہہ دینا صحیح نہیں ہے

 

On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:

 تمام لوگوں کا ہم نے ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔۔، بات غوث صاحب کی جواہر خمسہ پر ہو رہی تو وہیں تک رہے بھئی جان

ہاہاہاہاہاہا واہ بھائی جان واہ جب آپ نے ثبوت مانگا کہ کون نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتا ہے جب اس کا ثبوت پیش کیا تو فوراً اس بات کو منانے انکار کر دیا کہ ہم نے سب کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔

او بھائی جب ٹھیکہ نہیں لیا ہوا تو مجھ سے ثبوت کیونکہ مانگا تھا؟؟

 

On 4/16/2017 at 1:54 AM, kashmeerkhan said:
On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

 

تو اس سے کیا ہوگیا؟؟نفس وظیفہ پر حکم دکھائیں،۔۔، اگر ایسا ہوا بھی تو عمل بزرگان بھی بذات خود ایک دلیل ہے اور ملا علی قاری کے الفاظ و قد جرب ذلک ذہن میں رکھ کے جواب دیجئے گا۔،، بھئی

 

او بھائی میرے جن بزرگوں نے مسبعات عشر کو حضرت خضر علیہ السلام سے روایت کیا ہے جب وہ خود بے اصل ہے تو پھر نفس وظیفہ پر کیا حکم لگایا ؟؟؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.