nominomee

نادِ علی کرّم اللّٰہ وجھہ کے بارے درست معلومات بمع حوالہ چاہئے

29 posts in this topic

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

بھائی کشمیر میں نے کب کہا ہے کہ جواہرخمسہ مستند کتاب ہے؟؟؟؟

آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں 

  On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں

۔۔۔، کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

نادعلی صرف جواہرخمسہ کتاب میں ہے اور کتب میں اس کا ثبوت ہی نہیں ہے اور خود اسی کتاب میں اس دعا کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سےمنسوب کیا ہے حضرت غوث علیہ الرحمہ نے جو کہ ثابت نہیں بس یہی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں لکھا ہوا ہے وہ بھی بنا کسی سند کے۔

اور منسوب ہونے کا ثبوت اوپر میں دے چکا ہوں سکین پیج کی صورت میں

منسوب کی بابت آپکی بات صرف آپکو سمجھ آئی ہے بھئی جان۔،۔،۔ میں نے شروع میں ہی ایک فتوی کی فوٹو لگائی تھی، اسمیں بھی دیکھ لو کہ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں کہا گیا۔،۔ ہم نے اگر کہیں اسے ان سے ثابت مانا ہے تو پیش کرو، ورنہ وقت ضائع نہ کریں بھئی۔،۔، منسوب ہونے کا کوئی ثبوت آپ پیش نہیں کر سکے، آپکی سمجھ بوجھ ہمارے لیے دلیل نہیں بھائی جان،۔،۔ اگر سند پوری چاہیے تو منسوب ہونے کی بات بھی بلا احتمال ہونی چاہیے ناں۔۔،۔، حضرت غوث کے کلام سے مجرد آپکا مزعومہ مفہوم بلا احتمال نہیں نکلتا،۔، آپ اگر اوپر سکین کی صورت میں ثبوت دے چکے تو وہیں میرا جواب بھی لکھا ہے، دوبارہ پڑھ لیں بھئی

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

قبلہ مفتی کشمیر خان بھائی خود قرآن پڑھ لو اس میں حضرت آدم، ابراہیم اور موسیٰ علیہم السلام کی جو بھی دعائیں ہیں سب عربی میں اور اللہ نے ان کو جو بھی وحی کی اور جس کا ثبوت قرآن میں ہے سب کی سب عربی میں ہیں اور کیا نص چاہیے جناب کو؟؟؟؟؟

جناب من میں مفتی نہیں ہوں، کسی ناحقدار کو مفتی کہنا سمجھ نہیں آیا، ادھر تو سند کی ضرورت بھی نہ پڑی بھئی۔،۔ آپکی دلیل اور دعوی میں ربط پر انگشت بدنداں!!۔۔، کیا دلیل ہے کہ ان پیغمبروں علیھم السلام کی جو دعائیں قرآن پاک میں مذکور ہیں، وہ انہی پیغمبروں علیھم السلام کے صحف میں موجود تھیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا آپ کو کسی بھی ذریعہ سے وہ صحف ملے ہیں کہ انکے مطالعہ سے آپکو انکی زبان کا علم ہوا ہو!!۔،،۔۔

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

او بھائی میرے میں نے کہا جو بات سرکار ﷺ سے صحیح الاسناد یا حسن الاسناد ثابت ہو اس پر کلمات کے ثواب کے ساتھ سنت کاثواب بھی ملتا ہے۔

کیا نادعلی پڑھنے سے سنت کا ثواب مل سکتا ہے کیا؟؟؟

 

ہم اگر دعوی کرتے کہ ناد علی پڑھنے سے سنت کا ثواب ملتا ہے تو آپکا ایسا فرمانا بجا ہوتا، مگر ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بھئی جان خود سے کچھ سوچ کر ہم پر مت تھونپیں پلیز

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

باقی حمد اور نعت میں شاعر کا اپنا کلام ہوتا ہے اور خود اس کے آخر شعر میں اپنا نام بھی لکھتا ہے لہذا اس بات کو حمد اور نعت کے شعروں کے ساتھ تشبہہ دینا صحیح نہیں ہے

تشبیہ کا من کل الوجوہ ہونا ہرگز لازم نہیں بھئی جان، من بعض الوجوہ یہاں اثبات کے خلاف اپنی دلیل پیش فرمائیے کیونکہ ایسا دعوی صرف آپکا ہے بھئی جان۔،۔

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

ہاہاہاہاہاہا واہ بھائی جان واہ جب آپ نے ثبوت مانگا کہ کون نادعلی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کرتا ہے جب اس کا ثبوت پیش کیا تو فوراً اس بات کو منانے انکار کر دیا کہ ہم نے سب کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔

او بھائی جب ٹھیکہ نہیں لیا ہوا تو مجھ سے ثبوت کیونکہ مانگا تھا؟؟

مستند حوالہ پیش کرنے کا کہا تھا میں نے بھئی صاحب، کسی عالم کا کلام پیش کرسکے آپ اپنے دعوی کے اثبات پر؟؟؟؟

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

او بھائی میرے جن بزرگوں نے مسبعات عشر کو حضرت خضر علیہ السلام سے روایت کیا ہے جب وہ خود بے اصل ہے تو پھر نفس وظیفہ پر کیا حکم لگایا ؟؟؟؟

چلیں سند جھوٹ ہوئی ناں۔۔، اس سے اور زیادہ کیا ثابت ہوگیا۔،۔۔ جو بندہ اب اسی سند کو صحیح ثابت کرے تو آپ اسے اپنی یہ بات کہیں،،۔،، ہم نے کب اس جھوٹی سند کو صحیح کہا ہے؟؟؟؟؟؟ بھئی جان آپکو بیسک مس کنسیپشن یہی ہے کہ وظیفہ کی سند کا صحیح ہونا لازم ہے۔۔۔۔،،۔ جب تک شریعت کسی بات (مثلا نفس وظیفہ) سے منع نہ کردے، کسی کی کیا مجال کہ خود سے شرطیں قائم کرے!!۔،۔،۔ مسبعات عشر کے جائز ہونے کیلئے کسی بھی خاص دلیل کی ہرگز ضرورت نہیں تھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ جلیل القدر صوفیا کا وظیفہ یہی رہا ہے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑی دلیل ہے۔،۔، 

بھئی جان میں نے اوپر اپنی پوسٹنگ میں کہا تھا کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح کو ذہن میں رکھ کر کچھ کلام فرمائیے گا، نزعتک من دیوان الاولیا  پر بھی کچھ نہیں کہا آپ نے بھئی

باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ ناد علی میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔

آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:
On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

 

آپ کہتے ہیں کہ کتاب جواہر خمسہ ہی آپکے ہاں مستند نہیں ہے (مثلا پوسٹ پندرہ سات اپریل میں آپ نے فرمایا) مگر اب فرماتے ہیں ناد علی کے حضرت غوث سے ثبوت کے آپ منکر نہیں ہیں 

  On 4/14/2017 at 11:28 AM, Raza Asqalani said:

میں نے کب انکار کیا ہے کہ حضرت غوث سے نادعلی ثابت نہیں

بھائی جان لگتا ہے بس زیادہ بحث کرنے کا آپ کو شوق ہے ورنہ میرا موقف وہی ہے جب پہلے تھا ۔میں نے صرف یہی کہا ہے کہ یہ وظیفہ صرف جواہرخمسہ میں ہے اور اسی کتاب میں خود حضرت غوث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہوا ہے جو حقیقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔اگر ثابت ہے تو پیش کریں دلیل ۔

باقی حضرت غوث علیہ الرحمہ نے کہیں نہیں لکھا کہ یہ وظیفہ خود ان کا ہے اور انھوں نے اس کی شروعات کی ہے اگر دلیل ہے تو پیش کرو؟؟؟؟

 

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:

 

۔۔۔، کتاب جواہر خمسہ تو مستند نہیں آپکے ہاں پھر کس کتاب سے ناد علی کو حضرت غوث سے ثابت مانتے ہیں؟؟

او بھائی میرے حضرت غوث نے لکھا ہے لیکن منسوب کرکے لکھا ہے بھائی اس لیے اور کیا کہوں؟؟

 

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:

نسوب کی بابت آپکی بات صرف آپکو سمجھ آئی ہے بھئی جان۔،۔،۔ میں نے شروع میں ہی ایک فتوی کی فوٹو لگائی تھی، اسمیں بھی دیکھ لو کہ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں کہا گیا۔،۔ ہم نے اگر کہیں اسے ان سے ثابت مانا ہے تو پیش کرو، ورنہ وقت ضائع نہ کریں بھئی۔،۔، منسوب ہونے کا کوئی ثبوت آپ پیش نہیں کر سکے، آپکی سمجھ بوجھ ہمارے لیے دلیل نہیں بھائی جان،۔،۔ اگر سند پوری چاہیے تو منسوب ہونے کی بات بھی بلا احتمال ہونی چاہیے ناں۔۔،۔، حضرت غوث کے کلام سے مجرد آپکا مزعومہ مفہوم بلا احتمال نہیں نکلتا،۔، آپ اگر اوپر سکین کی صورت میں ثبوت دے چکے تو وہیں میرا جواب بھی لکھا ہے، دوبارہ پڑھ لیں بھئی

On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

چلو بھائی اگر میری بات صحیح نہیں لگ رہی تو آپ حضرت غوث سے ثابت کر دیں جس میں یہ ہو کہ یہ وظیفہ انہوں نے بنایا ہے اور اگر ثبوت ہے تو پیش کریں؟؟؟

 

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:
On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

 

جناب من میں مفتی نہیں ہوں، کسی ناحقدار کو مفتی کہنا سمجھ نہیں آیا، ادھر تو سند کی ضرورت بھی نہ پڑی بھئی۔،۔ آپکی دلیل اور دعوی میں ربط پر انگشت بدنداں!!۔۔، کیا دلیل ہے کہ ان پیغمبروں علیھم السلام کی جو دعائیں قرآن پاک میں مذکور ہیں، وہ انہی پیغمبروں علیھم السلام کے صحف میں موجود تھیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ کیا آپ کو کسی بھی ذریعہ سے وہ صحف ملے ہیں کہ انکے مطالعہ سے آپکو انکی زبان کا علم ہوا ہو!!۔،،۔۔

 

 بھائی انبیاءکرام علیہم السلام کی زبان وحی خود قرآن بتا سکتا ہے اگر اورواقعی آپ کی نظر میں حضرت آدم علیہ السلام کے صحف ہندی میں تھے تو کوئی بھی قرآن سے دلیل پیش کریں جس میں عربی کے علاوہ ہندی کے الفاظ ہوں تاکہ ہم بھی دیکھ سکیں کہ ہندی زبان میں بھی وحی بھی نازل ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ آج تک کوئی بھی ہندو نے دعویٰ تک نہیں کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے صحف ہندی میں تھے اگر ثبوت ہوتا تو ہندو پنڈت ضرور اپنی کتابوں میں حوالے کے طور پر پیش کرتے لیکن ایسا کچھ بھی ثابت نہیں۔

 

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:
On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

 

ہم اگر دعوی کرتے کہ ناد علی پڑھنے سے سنت کا ثواب ملتا ہے تو آپکا ایسا فرمانا بجا ہوتا، مگر ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ بھئی جان خود سے کچھ سوچ کر ہم پر مت تھونپیں پلیز

تو پھر جو صحیح ثابت وظائف ہیں جو سرکارﷺ بھی پڑھا کرتے تھے تو اس طرف کیوں لوگوں کو راغب نہیں کرتے؟؟؟؟

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:
On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

 

مستند حوالہ پیش کرنے کا کہا تھا میں نے بھئی صاحب، کسی عالم کا کلام پیش کرسکے آپ اپنے دعوی کے اثبات پر؟؟؟؟

او بھائی اسی فورم پر پوری پوسٹ بنی ہوئی کسی نے اعتراض تک نہیں کیا تو پھر اس بات کو پھر کیا سمجھا جائے یہ بھی بتا دیں آپ؟؟؟

 

On 4/19/2017 at 0:33 AM, kashmeerkhan said:
On 4/17/2017 at 2:31 PM, Raza Asqalani said:

 

چلیں سند جھوٹ ہوئی ناں۔۔، اس سے اور زیادہ کیا ثابت ہوگیا۔،۔۔ جو بندہ اب اسی سند کو صحیح ثابت کرے تو آپ اسے اپنی یہ بات کہیں،،۔،، ہم نے کب اس جھوٹی سند کو صحیح کہا ہے؟؟؟؟؟؟ بھئی جان آپکو بیسک مس کنسیپشن یہی ہے کہ وظیفہ کی سند کا صحیح ہونا لازم ہے۔۔۔۔،،۔ جب تک شریعت کسی بات (مثلا نفس وظیفہ) سے منع نہ کردے، کسی کی کیا مجال کہ خود سے شرطیں قائم کرے!!۔،۔،۔ مسبعات عشر کے جائز ہونے کیلئے کسی بھی خاص دلیل کی ہرگز ضرورت نہیں تھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ جلیل القدر صوفیا کا وظیفہ یہی رہا ہے تو یہ بذات خود ایک بہت بڑی دلیل ہے۔،۔، 

بھئی جان میں نے اوپر اپنی پوسٹنگ میں کہا تھا کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح کو ذہن میں رکھ کر کچھ کلام فرمائیے گا، نزعتک من دیوان الاولیا  پر بھی کچھ نہیں کہا آپ نے بھئی

تو بھائی میرے جب سند جھوٹی ہے تو اس کو حضرت خضر علیہ السلام سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟؟

اور خود صوفیاء نے ہی اس وظیفے کو حضرت خضر علیہ السلام سے ہی روایت کیا ہوا ہے اب بتایئں بھائی؟؟؟ 

Share this post


Link to post
Share on other sites
3 hours ago, Raza Asqalani said:

او بھائی میرے حضرت غوث نے لکھا ہے لیکن منسوب کرکے لکھا ہے بھائی اس لیے اور کیا کہوں؟؟

خلط نہ کریں بھئی جان۔ میری بات واضح تھی کہ جب جواہر خمسہ ہی جناب کے نزدیک غیر مستند ہے تو ناد علی کو حضرت غوث سے کیسے ثابت مانتے ہیں؟؟

3 hours ago, Raza Asqalani said:

چلو بھائی اگر میری بات صحیح نہیں لگ رہی تو آپ حضرت غوث سے ثابت کر دیں جس میں یہ ہو کہ یہ وظیفہ انہوں نے بنایا ہے اور اگر ثبوت ہے تو پیش کریں؟؟؟

بھئی جان آپکی ذاتی بات کو ماننا ہم پر لازم نہیں ہے۔،۔ مدعی آپ تھے کہ حضرت غوث نے یہ وظیفہ سیدنا علی علیہ السلام سے منسوب کیا ہے۔ الدلیل علی المدعی کے تحت دلیل بھی آپکے ذمہ تھی، مگر دلیل ندارد۔ تو دعوی بلا دلیل باطل

 

3 hours ago, Raza Asqalani said:

بھائی انبیاءکرام علیہم السلام کی زبان وحی خود قرآن بتا سکتا ہے اگر اورواقعی آپ کی نظر میں حضرت آدم علیہ السلام کے صحف ہندی میں تھے تو کوئی بھی قرآن سے دلیل پیش کریں جس میں عربی کے علاوہ ہندی کے الفاظ ہوں تاکہ ہم بھی دیکھ سکیں کہ ہندی زبان میں بھی وحی بھی نازل ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ آج تک کوئی بھی ہندو نے دعویٰ تک نہیں کیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے صحف ہندی میں تھے اگر ثبوت ہوتا تو ہندو پنڈت ضرور اپنی کتابوں میں حوالے کے طور پر پیش کرتے لیکن ایسا کچھ بھی ثابت نہیں۔

کیا کہنے جناب کی منطق کے۔،۔،۔،۔، لازم آپ پر آتا ہے (کیونکہ مدعی آپ تھے) کہ قرآن مجید سے ثبوت پیش کریں کہ صحف صرف اور صرف عربی میں ہی تھے(چند دعائیں عربی میں آنے سے دیگر زبانوں کی نفی کا اثبات محتاج دلیل ہے، اگرچہ خود انہی دعاوں کا انکے صحف میں آنا محتاج دلیل اور جناب کوئی بھی دلیل پیش نہ کر سکے۔۔،۔،۔ اپنا بوجھ مجھ پر کیوں ڈال رہے ہیں؟؟؟؟؟؟ حیرت ہے کہ ہندوں کا دعاوی پر جناب کو اتنا یقین کیسے ہے، کفار کی باتیں اسلامی امور میں نہیں مانی جائیں گی۔،۔،۔

3 hours ago, Raza Asqalani said:

تو پھر جو صحیح ثابت وظائف ہیں جو سرکارﷺ بھی پڑھا کرتے تھے تو اس طرف کیوں لوگوں کو راغب نہیں کرتے؟؟؟؟

بلا ثبوت محض دعووں پر ٹکے ہیں بھئی، کوئی حوالہ تو دیں ہمارا کہ ہم نے ایسا کہا کیا ہو؟ جھوٹ مت بولیں بھئی پلیز

3 hours ago, Raza Asqalani said:

او بھائی اسی فورم پر پوری پوسٹ بنی ہوئی کسی نے اعتراض تک نہیں کیا تو پھر اس بات کو پھر کیا سمجھا جائے یہ بھی بتا دیں آپ؟؟؟

واہ بھئی واہ، کیا استدلال فرمایا ہے۔،۔،۔ اس فورم پر پوسٹ بنی ہوئی ہونا اور اس پر اعتراض نہ کیا ہوا ہونا اس پوسٹ کے درست ہونے کو لازم کب سے ہوا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

جو فوٹو آپ نے لگائی تھی اسی جگہ، وہ شیعہ کا نظریہ تھا، ہمارے سر مت تھونپیں بھئی۔ اسی فوٹو کو دوبارہ اوپر سے نیچے تک ایک بار پورا دیکھ تو لیتے

2 hours ago, Raza Asqalani said:

تو بھائی میرے جب سند جھوٹی ہے تو اس کو حضرت خضر علیہ السلام سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟؟

اور خود صوفیاء نے ہی اس وظیفے کو حضرت خضر علیہ السلام سے ہی روایت کیا ہوا ہے اب بتایئں بھائی؟

اولیا کرام کا حضرت خضر سے ملاقات ہونا واقع ہے، ہو سکتا ہے کہ جس نے ان سے روایت کیا، وہ انکی ملاقات پر محمول ہو۔ تطبیق کا راہ کھلا ہے۔،۔ روایت چاہے کیسی بھی ہو، نفس وظیفہ کے جواز یا عدم جواز کا اس پر مدار نہیں ہے،۔،۔ مدعی آپ ہیں کہ نفس وظیفہ کا وہی حکم ہے جو سند کا ہے، تو دلیل کہاں ہے اسکی؟؟؟؟؟؟؟ 

 

بھئی جان میں نے اوپر اپنی پوسٹنگ میں کہا تھا کہ و قد جرب ذلک مرا مرا افصح کو ذہن میں رکھ کر کچھ کلام فرمائیے گا، نزعتک من دیوان الاولیا  پر بھی کچھ نہیں کہا آپ نے بھئی

باقی میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں اور بھی باتیں کی ہیں، ان پر بھی کچھ لکھنے کی زحمت فرمائیں بھئی (مثلا دو مفتیوں کے آڈیو کلپ، ایک تحریری فتوی وغیرہ)۔،۔ آپکو ثابت کرنا پڑے گا کہ ناد علی میں وہ کونسے پوائنٹ ہیں جو صرف ’’شیعہ روافض‘‘ کے عقائد و نظریات میں پائے جاتے ہیں!! (جسکی وجہ سے آپ اسے شیعوں کا جھوٹ گردان رہے ہیں)۔،۔،۔

آپ نے اصل باتوں میں سے کسی بات کا ابی تک جواب نہیں دیا۔ مثلا کہ بقول آپکے ’’ملا علی قاری نے اسے شیعوں کے جھوٹ میں سے مانا ہے!‘‘ پر میری بات کا جواب؟۔،۔ اس ناد علی کے عامل لوگوں پر حکم شرعی ؟،۔ وظائف کی صحت کیلئے مکمل سند کی شرط کا پورا ہونا؟ وغیرہ

 
Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

تمام بھائیوں نے اپنے اپنے نکات دے دیے ہیں۔ ٹاپک کو مزید بحث برائے بحث سے بچانے کے لئے لاک کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی ایسا نقطہ/دلیل رہ گئی ہو، جس سے ٹاپک منطقی فیصلہ تک پہنچ سکے تو انتظامیہ سے رابطہ کرکے بتائیں۔ اگر مناسب ہوا تو ٹاپک دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites
Guest
This topic is now closed to further replies.

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.