Sign in to follow this  
Followers 0
K.Ahmed92

Ghair Ul Allah Say Madad

76 posts in this topic

Aik sahab nay yeh ietaraz kya hai kay is munajat may shirk ka pahlo hay "Ya ilahi reham farma mustafa kay wastay  Ya Rasool ALLAH karam ki jiye khuda kay wastay" (dousray misray main). Koi sahab Quran hadith key roshni may iss key wazahat famayeen gay aur yeh batain gay kay kya ghair ul ALLAH say madad mangna najaiz hai?

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب پہلی بات یہ کہ دلیل پیش کرنا تو معترض کی زمہ داری ہے۔ 


 اور دوسری بات یہ کہ آپ ہم سے غیر اللہ سے مدد مانگنا ناجائز ہونے کی عضاحت کیسے مانگ سکتے ہیں بجکہ ہمارے نزدیک مدد مانگنا ناجائز نہیں بلکہ جائز ہے۔


 


Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ کے جواب کا شکریہ،دوسرے مصرے کو اگرپڑھیں تو اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیۃ وسلم سے استغاثہ بیان کیا گیا ہے- اگر قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس کا جواب دے دیں تو نوازش ہوگی-

Share this post


Link to post
Share on other sites

islamimehfil se lye gaye chand jawabat yahan phir se post ker raha hon.


 


sahaba ka aqeedah01.jpg


sahaba ka aqeedah02.jpg


sahaba ka aqeedah03.jpg


sahaba ka aqeedah04.jpg


sahaba ka aqeedah05.jpg


sahaba ka aqeedah06.jpg


 


muhadiseen ka aqeedah01.jpg


muhadiseen ka aqeedah02.jpg


muhadiseen ka aqeedah03.jpg


muhadiseen ka aqeedah04.jpg


muhadiseen ka aqeedah05.jpg


muhadiseen ka aqeedah06.jpg


sahaba ka aqeedah waseela 01.jpg


sahaba ka aqeedah waseela 02.jpg


sahaba ka aqeedah waseela 03.jpg


 


madad.gif


 


wali ka waseela 1.jpg


wali ka waseela 2.jpg


wali ka waseela 3.jpg


 


 


Deobandion ka aqidah


 


faryad rad1.jpg


faryad rad2.jpg


faryad rad3.jpg


faryad rad4.jpg


faryad rad5.jpg


 


 


Swaneh Qasmi - Bad-e-Wafaat Madad 01.jpg


Swaneh Qasmi - Bad-e-Wafaat Madad 02.jpg


 


bad tareen makhloq wahabi


 


bad-tareen-makhloq-wahabi01.gif


bad-tareen-makhloq-wahabi02.gif


bad-tareen-makhloq-wahabi03.gif


Share this post


Link to post
Share on other sites
Kilk-e-Raza

محترم آپ نے فتح الباری الجز السابع صفحہ 593 کا جو سکین لگایا ہے اگر اس کے متعلقہ حصے کا اردو ترجمہ لگا دیں تو بہت عنایت ہو گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites

متعلقہ حصے کا ترجمہ پوسٹ کے پہلے امیج میں موجود ہے۔ صلح حدیبیہ والا واقعہ اس حصے کا خلاصہ ہے۔ جس میں عمرو بن سالم خزاعی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کے اشعار پڑھے۔ وہ  واقعہ اور اشعار فتح الباری میں نقل ہیں اور نیچے حدیث کو حسن کہا گیا ہے، جو حصہ انڈر لائن ہے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم

فتح الباری کے سکین سے تو کہیں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سالم الخزاعی نے یہ اشعار کہیں دور سے پڑھے تھے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے

جہاں سے اشعار شروع ہوتے ہیں اس سے پہلے کی لائن دیکھ لیں

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم

فتح الباری کے سکین سے تو کہیں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سالم الخزاعی نے یہ اشعار کہیں دور سے پڑھے تھے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے

جہاں سے اشعار شروع ہوتے ہیں اس سے پہلے کی لائن دیکھ لیں

آپ اس سے پہلے کی لائنیں دیکھتے رہیے

انڈر لائنڈ سے آگے پڑھنے کی زحمت بھی کر لو۔

بر سبیل تنزل اگر خاص اس ایک روایت سے یہ ثابت بھی ہو جائے کہ اُنہوں نے دور سے نہیں

بلکہ سامنے سے پکارا ہے تو بھی ہمیں کیا مضر؟؟

آپ یہ بتا دیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسا کہا تو اگر یہ دور سے کہنا شرک ہوتا تو اب بھی بدستور شرک ہی رہتا!!۔

آپکا شرک بھی عجیب نہیں بلکہ بہت زیادہ عجیب ہے جو فاصلہ کم زیادہ ہونے اور موجودگی و غیبت سے بدلتا رہتا ہے۔۔۔

جیسا آپ نے کہا کہ رسول پاک ﷺ کے سامنے انہوں نے کہا ایسا سب ، تو اگر یہ کہنا شرک ہوتا تو نبی پاک شاہ بنی آدم ﷺ انہیں روک نہ دیتے؟؟

ہمارے نظریے کی بنیاد یہی ایک روایت تو نہیں ہے!۔

کیا آپکو سینکڑوں وہ ثبوت پلس حوالے نظر نہیں آ رہے جو اسی ٹاپک میں میرے جلیل القدر ساتھیوں نے پیش کیے ہیں۔

لگے ہاتھوں آپ ذرا قرآن و حدیث یا قرون ثلثہ سے اس بات کا ثبوت تو دیے دیں کہ انٹرنیٹ چلانا ، کمپیوٹر یا موبائل وغیرہ کو اسلامی کاموں کے لیے استعمال کرنا جائز ہے؟

کون کون سے صحابی نے اسلامی محفل پر سنیوں کے نظریات پر فتح الباری کی روایت کی توثیق کا مطالبہ کیا تھا؟

کن بندوں نے قرون ثلثہ میں اپنا نام مصطفوی رکھا تھا؟

کس صحابی نے مطالبہ کیا تھا کہ فتح الباری کے خاص اسی پیج کا اردو ترجمہ کر کے لگاو جیسے آپ نے اوپر اپنی پوسٹ میں ایسا مطالبہ کرا ہے؟

اگر آپ ان سوالوں کا جواب قرآن میں سے نہیں دے سکتے تو حدیث میں سے دے دو یا اگر حدیث میں سے نہیں دے سکتے تو قرون ثلثہ میں سے دے دو!!!!!!۔

انتظار رہے گا ، جواب جلد دینا اگر واقعی مصطفوی ہو!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!َ۔

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

آپ اس سے پہلے کی لائنیں دیکھتے رہیے

انڈر لائنڈ سے آگے پڑھنے کی زحمت بھی کر لو۔

 

 

جی محترم میں نے زحمت کر کے آگے بھی پڑھا ہے لیکن وہاں بھی ایسا کچھ نہیں  ہے ۔

 

آپ یہ بتا دیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایسا کہا تو اگر یہ دور سے کہنا شرک ہوتا تو اب بھی بدستور شرک ہی رہتا!!۔

آپکا شرک بھی عجیب نہیں بلکہ بہت زیادہ عجیب ہے جو فاصلہ کم زیادہ ہونے اور موجودگی و غیبت سے بدلتا رہتا ہے۔۔۔

 

 

یہ شرک بیچ میں کہاں سے آ گیا ؟ میں نے شرک یا عدم شرک کی کوئی بات ہی نہیں چھیڑی 

رضا صاحب نے اپنے موقف میں ایک دلیل پیش کی تھی میں نے اس حوالے سے کچھ وضاحت کا عرض کیا تھا ۔

 

اسی طرح آپ کے باقی سوالات بھی بالکل غیر متعلقہ ہیں 

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم

فتح الباری کے سکین سے تو کہیں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سالم الخزاعی نے یہ اشعار کہیں دور سے پڑھے تھے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے

جہاں سے اشعار شروع ہوتے ہیں اس سے پہلے کی لائن دیکھ لیں

 

 وأخرجه الطبراني من حديث ميمونة بنت الحارث مطولا وفيه أيضا أنها "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليلا وهو في متوضئه: نصرت نصرت، فسألته فقال: هذا راجز بني كعب يستصرخني، وزعم أن قريشا أعانت عليهم بني بكر. قالت: فأقمنا ثلاثا، ثم صلى الصبح بالناس، ثم سمعت الراجز ينشده"

 

.......

saamnay baad ma parhay gaeiy woh ashaaar  (jes ka zekr حديث ميمونة بنت الحارث mai aakheree hissa ma aya ha)

, is sa pahlay 3 din ke musaafat sa parhay gaeiy thay (jes ka zekr حديث ميمونة بنت الحارث mai ibtedaaaie hissa ma aya ha)

......

-----

aor apna shaikh najdee ke book ka scan bhee parhoo

......

mary koch sawaal ager ghair-mutalqa ha toh en ka liay alag sa topicc bana ka jawaab da dana, challange ha ya!!

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم

فتح الباری کے سکین سے تو کہیں سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سالم الخزاعی نے یہ اشعار کہیں دور سے پڑھے تھے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے

جہاں سے اشعار شروع ہوتے ہیں اس سے پہلے کی لائن دیکھ لیں

 

آج میں نے اپنا بہت وقت لگایا ہے نجدیوں کی ترجمہ شدہ کتاب ڈھونڈنے میں تاکہ انکو خود وہیں سے انکا اپنا ترجمہ دکھا سکے۔

پورے چھے گھنٹہ اور اکیس منٹ لگے اس سب تک پہنچنے میں!۔

مگر اس وقت مجھے نہایت شاک لگا جب متعلقہ صفحے پر پہنچا تو دیکھا کہ ایک دو نہیں بلکہ دس بارہ یا اس سے بھی زیادہ لائنین چھوڑ دی مترجمین نجدیہ نے۔

یہ فٹ کام کرا ہے جی کہ جو بات اپنی اندھی تقلید کے خلاف ہو ، اسے لکھو ہی مت۔

واہ رے نجدیو۔۔۔۔۔ بے غیرتی کی ساری حدیں پار کرنے والی لنگڑی قوم۔۔۔۔

بخاری بخاری کر کے سیدھوں کو ٹیڑھا کرنے کی کوشش کرنے والے جاہلو اب بخاری کی شرح میں ہی رد و بدل کر ڈالا۔۔۔

 

post-16911-0-05095500-1439399089_thumb.gif

 

 

 

post-16911-0-05796400-1439399075_thumb.gif

 

 

 

post-16911-0-27841300-1439399082_thumb.gif

 

 میں ایک باری پھر کہتا ہوں کہ ہمارے عقیدے کی بنیاد محض یہی فتح الباری کی روایت تو نہیں ہے بلکہ ہم نے تو ادلہ اربعہ سے اپنا پوائنٹ آف ویو سامنے رکھا ہے اور صرف یہ میرا یا ایک دو بندوں کا نظریہ ہرگز نہیں بلکہ پوری کی پوری امت مسلمہ (سوائے اکا دکا) کا یہی عقیدہ ہی تو ہے۔

اپنی خباثت چیک کرو کہ اتنے حوالے جو اسی سنگل ٹاپک میں پڑے ہیں ،کو چھوڑ کر اسی ایک روایت کے پیچھے چپک گئے۔۔۔

بفرض اگر یہ ثابت ہو جائے کہ صحابی نے ایسا کام نہں کیا جیسا ہم کہہ رہے تو اس سے ہمیں کیا نقصان آنا ہے ،اور کچھ نہیں پھر بھی نجدیہ کا منہ کالا ہونا ہے۔۔

mary woh sawaal jin koh tom na ghair-mutalqa keha ha toh en ka liay alag sa topicc bana ka ya essi topic ma jawaab da dana, challange ha ya!!

jald azz jald unn ka jewaab doo....

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

برادر کشمیر خان

مجھے نہیں معلوم کہ آپ میرے ایک استفسار پر اس قدر جذباتی پن کا مظاہرہ کیوں فرما رہے ہیں 

حالانکہ تحمل مزاجی اور شائستہ انداز میں بھی بات ہو سکتی ہے 

 

فتح الباری کی صحیح روایت سے جو بات ثابت ہو رہی ہے وہ فقط یہی ہے کہ سالم الخزاعی نے وہ اشعار نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے 

 

جہاں تک تعلق ہے طبرانی کی روایت کا وہاں بھی یہ بات قیاسا ہی کہی جا سکتی ہے کہ سالم الخزاعی نے وہ اشعار 3 دن کی مسافت سے پڑھے 

سند کے اعتبار سے بھی یہ روایت کوئی مضبوط روایت نہیں ہے 

1. امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔''


2. امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱

3. اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔

4. اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

برادر کشمیر خان

مجھے نہیں معلوم کہ آپ میرے ایک استفسار پر اس قدر جذباتی پن کا مظاہرہ کیوں فرما رہے ہیں 

حالانکہ تحمل مزاجی اور شائستہ انداز میں بھی بات ہو سکتی ہے 

 

فتح الباری کی صحیح روایت سے جو بات ثابت ہو رہی ہے وہ فقط یہی ہے کہ سالم الخزاعی نے وہ اشعار نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھے 

 

جہاں تک تعلق ہے طبرانی کی روایت کا وہاں بھی یہ بات قیاسا ہی کہی جا سکتی ہے کہ سالم الخزاعی نے وہ اشعار 3 دن کی مسافت سے پڑھے 

سند کے اعتبار سے بھی یہ روایت کوئی مضبوط روایت نہیں ہے 

1. امام ہیثمیؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد رقم طراز ہیں کہ ''رواہ الطبراني في الصغير والكبير وفيه يحي سليمان بن نضلة وھو ضعيف'' (مجمع الزوائد :۶؍۱۶۴) ''اسے امام طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الصغیر میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں یحییٰ بن سلیمان نامی راوی ضعیف ہے۔''

2. امام ذہبیؒ اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی اس راوی پر کلام کیا ہے۔ ملاحظہ ہو میزان الاعتدال : ۳؍۲۹۲ اور لسان المیزان :۶؍۲۶۱

 

3. اس کی سند میں محمد بن عبداللہ نامی راوی کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کہ لایعرف(میزان الاعتدال :۳؍۸۳) یعنی یہ راوی مجہول ہے اور مجہول راوی کی روایت ضعیف کہلاتی ہے۔

 

4. اس کی سند میں محمد بن نضلہ نامی راوی کے حالات کتب ِرجال سے نہیں ملتے لہٰذا یہ بھی کوئی مجہول راوی ہے۔

میرا یہ کہنا ہے کہ میرے نزدیک تم بھی مجہول ہو تاوقتیکہ نچلے سوالوں کے جواب دو

سب سے ۱

اعلیحضرت امام اہل سنت الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی کے متعلق اپنا نظریہ بتاو کیونکہ فورم کافی دیکھ چکے ہو اور اس حوالے سے جواب دینا تمہیں مشکل نہیں

۱

پہلے اکابر دیوبند کی کفریہ عبارات پر جو فتاوی مثلا حسام الحرمین ہیں ، انکے بارے اپنئ راے بتاو۔

نام لیکر بتاو کہ اشرفعلی تھانوی اور رشید احمد گنگوہی اور قاسم نانوتوی اور خلیل انبیٹھوی کے متعلق کیا نظریہ ہے بلحاظ انکے کفر و ایمان درروشنئ عبارات گستاخانہ جو اسی فورم پر بھی موجود ہیں وہاں سے دیکھ کر لکھو اپنا نظریہ۔۔

۲

کتاب تقویۃ الایمان کے متعلق واضح بتاو کہ کیسی ہے بلحاظ مضامین وغیرہ، اگر یہ نہیں ہے تمہارے پاس تو بتاو، لنک میں بھیج دوں گا۔۔۔

۳

تقلید کی شرعی حیثت مختصر بتاو

۔۔،،۔۔۔،،۔۔۔،،،۔۔۔۔،،۔۔۔۔،،،

جب تک ان سوالوں کا واضح غیر محتمل جواب نہیں دیتے ، یہ بحث موقوف ہے یہیں۔۔

،،۔۔۔۔،،،۔۔۔،،،۔۔۔،،،۔۔۔

ہمیں پتہ تو چلے کہ ہمارا مقابل کس نظرئیے کا حامی ہے تاکہ سوال و جواب یا قیام و انہدام اعتراض میں دقت نہ رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بات بعد میں کریے گا حدیث کی سند کی ، پہلے مسئولہ باتوں کا ایسا جواب دیں کہ آپکی شخصیت کو انڈر آبزریشن سے نکال کر متعین کیا جا سکے

کیونکہ ایسے اگر بحث کرتے رہے آپکو متعین کیے بنا تو کیا فائدہ۔۔۔۔

ابھی سے آپ کا طرز عمل خاصا متکلم فیہ ہے

جیسے

جب ہمارا نظریہ دیگر کثیر دلائل بلکہ ادلہ سے ثابت ہے تو پھر ایک ہی روایت کے پیچھے کیوں پڑے ہیں اور حوالے نظر نہیں آتے؟

اپنے مکتب فکر کے مولویوں کی ترجمے میں خیانت کیوں نظر انداز کر دی گئی؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

میرا یہ کہنا ہے کہ میرے نزدیک تم بھی مجہول ہو تاوقتیکہ نچلے سوالوں کے جواب دو

دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کو شائستہ انداز میں گفتگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے 

میرے بھائی میرے مجہول ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے میں کوئی حدیث تو روایت کر نہیں رہا کہ میرے بارے میں ساری معلومات معلوم ہونا ضروری ہو ۔

 

بات تو دلیل کی ہے اور آپ کو جذباتی پن چھوڑ کر دلیل کا جواب دلیل سے دینا چاہئے ۔

 

آپ کے سوالات میں سے اکثر سوالات کے جواب بہت عرصہ پہلے اسی فورم میں کسی جگہ دے چکا ہوں 

یہ لنک چیک کر لیں 

 

http://www.islamimehfil.com/topic/19737-mustafvi-sahib-say-suwal/?hl=mustafvi

 

ویسے میرے خیال میں آپ کے سوالات بے مقصد ہیں 

دلیل سے بات کرنا سیکھیں 

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites

اس مبارک روایت کو تقریباً تمام اہل سیرت نے نقل کیا ہے۔شارح بخاری امام محمد قسطلانی اسے معروف کتاب الموھب اللدنیہ میں بھی لائے ،اس کی تشریح امام زرقانی نے جو کی وہ من وعن حاضر ہے۔﴿ت،١١۲۲﴾ ۔جب وضو خانہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیں دفعہ فرمایا میں تمہاری مدد کو پہنچا۔حضرت ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس کے ساتھ ہم کلام تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا


رجز شعر کی ایک قسم کا نام ہے یہ لفظ راجز ہے نہ کہ راجل ،ایسا پڑھنے والے نے غلطی کی ہے،بنو کعب ،بنو خزاعہ کی ایک شاخ ہےاس نے مجھے پکارا یعنی اس نے مجھ سے مدد طلب کی اور کہا قریش نے ان کے خلاف بنوبکر کی امداد کی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وفد سے پہلے ان کی خبر و اطلاع دینا ،علامات نبوت میں سے بڑی واضح نشانی ہے۔راجز نے جو کچھ اپنے ذہن میں سوچا اور تصور کیا اسے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان لیا یا انہوں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر کے فرمایا تمہاری مدد کو پہنچا۔اس نے یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا اور اس میں کوئی بعد و پریشانی نہیں کیوں کہ امام ابو نعیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ میں آسمانوں کی چڑچڑاہٹ سنتا ہوں اور ان کے چڑ چڑاھنے پر کوئی ملامت نہیں۔


حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ وفد آنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو تیاری کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کسی کو مت بتاو ۔راویہ حدیث حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ہاں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور تیاری کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتی۔


 


امام زرقانی کی گفتگو سے چند فوائد سامنے آتےہیں۔


١۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے وضو خانہ میں فرمایا میں تمہاری امداد کے لیے حاضر ہوں اس وقت وہاں کوئی موجود نہ تھا۔جس کی وجہ سے حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے پو چھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس سے گفتگو فرما رہے تھے۔


۲


آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آمد وفد سے تین دن پہلے یہ الفاظ مبارکہ فرمائے۔میں تمہاری مدد کے لیے حاضر ہوں


۳


فاقمنا ثلاثا ،،یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ ہیں نہ کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے۔امام زرقانی کے الفاط قالت میمونتہ کما ھو روایت الطبرانی ۔۔اسے نہایت ہی آشکار کر رہے ہیں۔


۴


فاقمنا ثلاثا ،کی تشریح میں لکھا ہے کی حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا یہ راجز بن کعب ہے۔اس ارشاد عالی کے تین دن بعد ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی تو پھر میں نے یہ اشعار سنے۔۔


 


لہذا آپ کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو خانے میں فرمایا میں مدد کو پہنچا،حضرت راجز وہاں موجود تھے کیوںکہ حضرت سیدہ واضح کر رہی ہیں کہ اس قوت کوئی موجود نہ تھا ۔البتہ تین دن کے بعد وفد آیا اور پھر حضرت راجز نے شعر پڑھے۔۔۔


حدیث کی سند پر کلام نماز مغرب کے بعد ان شاء اللہ عزوجل


Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ حدیث مبارکہ صحیح ہے طبرانی کبیر کے محشیٰ ﴿جو کہ غیر مقلد ہے﴾نے مجمع الزوائد کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسکی سند میں یحییٰ بن سلیمان نضلة ہے جو کہ ضعیف ہے۔اسکاجواب یہ ہے کہ یہ جرح مبہم جو کہ طے شدہ اصولوں کے مطابق قبول نہیں۔علامہ ہیثمی علیہ الرحمت کی یہ جرح مبہم ہے اس لیے قابل قبول نہیں۔دوم امام  ا بن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ یحییٰ بن سلیمان رحمة اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔


وذکرہ بن حبان فی الثقات﴿لسان المیزان ،جلد ٦ ص،۲٦١﴾ ۔


امام الحافظ عبداللہ بن عدی الجرجانی لکھتے ہیں۔


اس کی عام احادیث مستقیم ہیں﴿الکامل فی ضعفاءالرجال ،ج ۷ ص ۲۵۵﴾۔


ماخوذ از سعید الحق 


Share this post


Link to post
Share on other sites

دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کو شائستہ انداز میں گفتگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے 

میرے بھائی میرے مجہول ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے میں کوئی حدیث تو روایت کر نہیں رہا کہ میرے بارے میں ساری معلومات معلوم ہونا ضروری ہو ۔

 

بات تو دلیل کی ہے اور آپ کو جذباتی پن چھوڑ کر دلیل کا جواب دلیل سے دینا چاہئے ۔

 

آپ کے سوالات میں سے اکثر سوالات کے جواب بہت عرصہ پہلے اسی فورم میں کسی جگہ دے چکا ہوں 

یہ لنک چیک کر لیں 

 

http://www.islamimehfil.com/topic/19737-mustafvi-sahib-say-suwal/?hl=mustafvi

 

ویسے میرے خیال میں آپ کے سوالات بے مقصد ہیں 

دلیل سے بات کرنا سیکھیں 

 

(bis)

 

post-14217-0-83718000-1439564354_thumb.gif

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب 

Qadri Sultani

 

 جہاں تک امام زرقانی کی یہ بات ہے کہ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وفد سے پہلے ان کی خبر و اطلاع دینا ،علامات نبوت میں سے بڑی واضح نشانی ہے۔راجز نے جو کچھ اپنے ذہن میں سوچا اور تصور کیا اسے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان لیا یا انہوں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر کے فرمایا تمہاری مدد کو پہنچا۔اس نے یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا اور اس میں کوئی بعد و پریشانی نہیں کیوں کہ امام ابو نعیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ میں آسمانوں کی چڑچڑاہٹ سنتا ہوں اور ان کے چڑ چڑاھنے پر کوئی ملامت نہیں۔

 

 

تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے جس کی صحت قابل بحث ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

یہ حدیث مبارکہ صحیح ہے طبرانی کبیر کے محشیٰ ﴿جو کہ غیر مقلد ہے﴾نے مجمع الزوائد کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسکی سند میں یحییٰ بن سلیمان نضلة ہے جو کہ ضعیف ہے۔اسکاجواب یہ ہے کہ یہ جرح مبہم جو کہ طے شدہ اصولوں کے مطابق قبول نہیں۔علامہ ہیثمی علیہ الرحمت کی یہ جرح مبہم ہے اس لیے قابل قبول نہیں۔دوم امام  ا بن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ یحییٰ بن سلیمان رحمة اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔

وذکرہ بن حبان فی الثقات﴿لسان المیزان ،جلد ٦ ص،۲٦١﴾ ۔

امام الحافظ عبداللہ بن عدی الجرجانی لکھتے ہیں۔

اس کی عام احادیث مستقیم ہیں﴿الکامل فی ضعفاءالرجال ،ج ۷ ص ۲۵۵﴾۔

ماخوذ از سعید الحق 

 

 

میرے بھائی جرح مفسر تو آپ کو خال خال ہی نظر آئے گی ۔

زیادہ تر انہیں جروحات مبہم سے کام لیا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ میں نے دو اور راویوں کا بھی میں ذکر کیا تھا ان پر بھی کچھ ارشاد فرمائیں

ابن حبان کی مکمل جرح لسان المیزان میں یوں ہے 

 

وذَكَره ابن حِبَّان في الثقات فقال: يخطىء ويهم.

میزان الاعتدال میں ہے 

قال أبو حاتم: يكتب حديثه، ليس هو بالقوى.

وقال البخاري: منكر الحديث.

لسان المیزان میں ہے 

 

وقال ابن عقدة: سَمِعتُ ابن خراش يقول: لا يسوى شيئا

Edited by Mustafvi

Share this post


Link to post
Share on other sites
AqeelAhmedWaqas

 برادر 

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

آپ نے پوچھا کہ اگر اس حدیث کو غیر ضعیف ثابت کر دیا جائے تو ؟

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو 

اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

AqeelAhmedWaqas

 برادر 

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

آپ نے پوچھا کہ اگر اس حدیث کو غیر ضعیف ثابت کر دیا جائے تو ؟

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو 

اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

 

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

 

 

آپ نے ان کا جواب نہیں دیا

۔’’آپ بجائے غیر جانبدارانہ تحقیق کے غیرمقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔

۔’’محترم کشمیر خان صاحب کے اعتراضات آپ پر اب بھی قائم ہیں‘‘۔

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

 

ایک طرف آپ کا یہ کہنا ہے کہ ’’اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا‘‘ اور ساتھ ہی یوں کہہ دیا کہ ’’کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں‘‘۔ ’’کچھ نہیں‘‘ کا مقابل ’’کافی حد تک‘‘ بنتا ہے؟؟

 

تو جناب اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو

فی الحال اتنا بتائیں کہ

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

 

ہو جائے تواسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ 

 آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی 

سبحان اللہ!۔
یعنی اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو اسے معجزہ مان لیں گے۔
کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر ابھی کیلئے صرف اتنا ہی:۔
۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟
۔۔۔   جناب! اس ٹاپک میں آپ استمداد پر اعتراض (یا نفی) کر رہے تھے یا معجزہ پر؟؟ آپ اتنی سی بات نہیں سمجھ پائے کہ آپکا یہ کلام خلط مبحث ہے۔
۔۔۔   جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟ آپ بیچ راہ میں یہ بھول گئے کہ ہماری دلیل آخر تھی کیا اور ٹاپک کیا تھا!۔ ہم نے کب اپنا مؤقف قدرتِ رسول سے ثابت کیا ہے جو آپ اسے مان کر ہم پر احسان کرنے چلے ہیں!۔
 
لیکن اس روایت سے  یہ نتیجہ نہیں نکلتا جو

Kilk-e-Raza

نے پوسٹ نمبر 5 میں نکالنے کی کوشش کی ہے 

 

 
۔۔۔    اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی (جیسے آپ نے ’’اگر‘‘ سے فرض کیا) پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد نہ ہوگا!!۔ عجیب اُلٹی منطق ہے آپکی۔
آپ نے قدرتِ رسول و معجزۂ رسول کے زاویے سے تو مان لیا اگر روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو۔
مگر
اصل بات کو نظر انداز کر دیا کہ صحابئ رسول کے عمل مبارک سے کیا کیا امور ثابت ہوں گے اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے!!!!!۔
ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیں۔ 
Edited by AqeelAhmedWaqas

Share this post


Link to post
Share on other sites

آپ نے ان کا جواب نہیں دیا

۔’’آپ بجائے غیر جانبدارانہ تحقیق کے غیرمقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔

۔’’محترم کشمیر خان صاحب کے اعتراضات آپ پر اب بھی قائم ہیں‘‘۔

 

 

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟ یہ خان صاحب کی میرے بارے ان کی اپنی رائے ہے 

خان صاحب کے اعتراضات اگر قائم ہیں تو وہ خود استفسار کر سکتے ہیں ۔

 

 

میں نے اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا میں نے جس لنک کا ایڈریس دیا تھا اس میں کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں 

 

ایک طرف آپ کا یہ کہنا ہے کہ ’’اپنے بارے کچھ نہیں چھپایا‘‘ اور ساتھ ہی یوں کہہ دیا کہ’’کافی حد تک اپنے بارے میں معلومات فراہم کر چکا ہوں‘‘۔ ’’کچھ نہیں‘‘ کا مقابل ’’کافی حد تک‘‘ بنتا ہے؟؟

 

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

فی الحال اتنا بتائیں کہ

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

 

   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

 

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

 

اوپر ایک بھائی نے امام زرقانی کی چند توضیحات بیان کی تھیں 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس وفد سے پہلے ان کی خبر و اطلاع دینا ،علامات نبوت میں سے بڑی واضح نشانی ہے۔راجز نے جو کچھ اپنے ذہن میں سوچا اور تصور کیا اسے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جان لیا یا انہوں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قبول کر کے فرمایا تمہاری مدد کو پہنچا۔اس نے یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا اور اس میں کوئی بعد و پریشانی نہیں کیوں کہ امام ابو نعیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ میں آسمانوں کی چڑچڑاہٹ سنتا ہوں اور ان کے چڑ چڑاھنے پر کوئی ملامت نہیں۔

 

 

اب ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

تو میرے بھائی ایسی ضعیف روایات سے محض قیاس کی بنیاد پر عقیدے بنانا چھوڑ دیں 

 

اب تک آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو 

 

تو بھائی اگر مگر کو چھوڑیں اور اس روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت فرما دیں 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By MuhammedAli
      Introduction:

      Muslims believe Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear witness on the day of judgment regarding actions of earlier and his own Ummah. This belief is based on established teaching of Quran; Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) has witnessed the all the events regarding which he will bear witness and has been sent as a Shahid (i.e. witness). And this understanding is based on principle; a true witness is one who has witnessed with eyes/ears regarding the event/incident regarding which he/she is called to bear witness. In contrast to Islamic teaching Khawarij believe indeed Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) is Shahid but he will bear witness after being informed by others what had/has transpired before/after him. In other words they believe he is Shahid without being first hand witness, or without actually witnessing anything.

      Failed Attempt To Seduce Prophet Yusuf (alayhis salam):

      Allah (subhanahu wa ta’ala) states; Prophet Yusuf (alayhis salam) was lured to home by a woman who wished to engage with him in illicit sexual activity: “And the woman in whose house he was, allured him not to restrain himself and she closed all the doors - and said, "Come! It is you I address!"; he said, "(I seek) The refuge of Allah - indeed the governor is my master - he treats me well; undoubtedly the unjust never prosper." [Ref: 12:23] Realising the intent of her Prophet Yusuf (alayhis salam) hurriedly made his way to exist the room and she chased after him in an attempt to prevent him from leaving: “And they both raced towards the door, and the woman tore his shirt from behind, and they both found her husband at the door; she said, "What is the punishment of the one who sought evil with your wife, other than prison or a painful torture?" [Ref: 12:25] Wife of the man claimed Prophet Yusuf had attempted to seduce her but Prophet Yusuf (alayhis salam) stated it was the woman who made attempt on him: “Said Yusuf, "It was she who lured me, that I may not guard myself" - and a witness from her own household testified; "If his shirt is torn from the front, then the woman is truthful and he has spoken incorrectly. And if his shirt is torn from behind, then the woman is a liar and he is truthful.” [Ref:Kunz Ul Iman, 12:26/27, by Imam Ahmad Raza rahimullah, link] There was a witness observing the events unfold. Some commentators based on Athar (i.e. statements of companions) said the witness was a child in cradle. And another group based on Athar also stated there was a righteous adult with beard who witnessed the events. And due to exceptional wisdom suggested the Kamees (i.e. shirt) is checked as mentioned in the verse. And if it was a child in the cradle then it suggests Allah (subhanahu wa ta’ala) defended His Nabi by giving a child ability to speak, wisely.[1] Note this established the innocense of Prophet Yusuf (alayhis salam): “So when the governor saw his shirt torn from behind, he said, "Indeed this is a deception of women; undoubtedly the deception of women is very great." [Ref: 12:27] And later she admitted her guilt and established Prophet Yusuf’s (alayhis salam) innocense: “The king said: "O women! What was your role when you tried to entice Yusuf?" They answered: "Purity is to Allah! We did not find any immorality in him." [And] Said the wife of the governor: "Now the truth is out; it was I who tried to entice him, and indeed he is truthful." [Ref: 12:51] Alhasil a child/adult bore witness in defence of Prophet Yusuf (alayhis salam) but there was no other witness, and therefore he suggested the investigation method. This incident establishes a true witness, a witness who had seen the events unfold, bore witness in defence of Prophet Yusuf (alayhis salam), and suggested how the innocence of Prophet Yusuf (alayhis salam) can be established. Establishing Islamic belief; a true witness is one who has witnessed the event regarding which he/she bears witness about.

      Prophet Yusuf Allegedly Devoured By Wolf:

      Step brothers of Prophet Yusuf (alayhis salam) were jealous; their father loved Prophet Yusuf (alayhis salam) and his younger brother more then them so they schemed to do away with Prophet Yusuf (alayhis salam). And to carry out their plan they came to their father and requested Prophet Yusuf (alayhis salam) is sent with them. Prophet Yaqoob (alayhis salam) anticipated their plan and foretold them the excuse they would employ. But reluctantly sent his beloved son Prophet Yusuf (alayhis salam) with brothers. And they decided to lower him in a water well instead of killing him. And a caravan traveling for Egypt came and found Prophet Yusuf (alayhis salam) in the well and pulled him out of well and sold him in Egypt as slave. After lowering him in the well they returned to their father weeping claiming a wolf devoured Prophet Yusuf (alayhis salam). Years later Prophet Yusuf had been appointed care taker of resources in Egypt to manage famine and his brothers came to Egypt to buy supplies. He recognised them and told his brothers to bring his blood brother (i.e. Yameen, Binyamen Jewish texts) if they want any supplies. They returned to their father and told him; the supplies were denied to us. When they returned with Yameen Prophet Yusuf (alayhis salam) instructed a measuring-cup is concealed Yameen’s supplies. Command was given to search all present and measuring-cup was found in Yameen’s belongings. And the step-brothers witnessed; measuring-cup was discovered from belongings of Yameen. He was detained and his brothers were told Yameen is theif and he will become a slave. Their eldest brother refuse to leave Egypt instructed them to tell their father what they witnessed: "Return to your father and then say, ‘O our father! Indeed your son has stolen; we were witness only to what we know and we were not guardians of the unseen.’” [Ref: 12:81] And to convince their father they said to Prophet Yaqub (alayhis salam): “And ask the township in which we were, and the caravan in which we came; and indeed we are truthful." [Ref: 12:82] Alhasil underlined verse establishes the principle; a true witness is one who has gained knowledge with his/her own eyes/ears. In other words, a true witness is one who has seen/heard the events regarding which he/she gives testimony. Coming back to the story when the step-brithers of Prophet Yusuf (alayhis salam) returned to their native lands Prophet Yaqoob (alayhis salam) did not believe them. He instructed them to return and search for Prophet Yusuf (alayhis salam) his brother Yameen, and the eldest brother who remained in Egypt due to fear of disappointing his father. The step-brothers returned to Egypt for supplies and Prophet Yusuf (alayhis salam) introduced himself to them and told them to take his shirt and to place it on face of their father, and bring his family with them to Egypt. They did as they were instructed, and Prophet Yaqoob (alayhis salam) met with Prophet Yusuf (alayhis salam), and thanked Allah (subhanahu wa ta’ala).

      Prophet Isa (alayhis salam) Witness Over His Ummah:

      At present Catholics, Protestant, with exception of Jehovah’s Witnesses, all churches believe Prophet Isa (alayhis salam) is god incarnate. But in Arabian Peninsula existed a sect of Christianity which had taken Prophet Isa (alayhis salam) and his mother as gods. This sect is called Collyrdianism. Historian Edward Gibbons has mentioned them in his history, The History Of The Decline And Fall Of … stated Collyrdians had given goddess status to Marry. Epiphanious the Bishop of Salamis in his Panarion written around period of 375 AD mentions a sect in Arabian held belief; Mary is goddess. With regards to belief of these people, on the judgment day, Allah (subhanahu wa ta’ala) will enquire from Prophet Isa (alayhis salam): “And when Allah will say: “O Esa, the son of Maryam! Did you say to the people, ‘Appoint me and my mother as two Gods, besides Allah?” And he will respond to Allah (subhanahu wa ta’ala) in state of humility and submission: “He will say: “Purity is to You! It is not proper for me to say something for which I do not have right. If I have said it then surely You know it; You know what lies in my heart, and I do not know what is in Your knowledge; indeed You only know all the hidden.” [Ref: 5:116] Prophe Isa (alayhis salam) further added:“I said not to them except what You commanded me; to worship Allah, my Lord and your Lord. And I was a Shahid over them as long as I was among them; but when You took me up, You were the Observer over them, and You are, over all things Shahid.” [Ref: 5:117] By saying; I was Shahid upon my followers when I was present (i.e. Hadhir) amongst them, he is implying; when I was not present amongst them I was not Shahid over them, and due to my absence and not being Shahid over them I have no knowledge of events that transpired after me. Alhasil this verse indicates; to be a Shahid (i.e. witness) one must be Hadhir (i.e. present) amongst people regarding whom one has to bear witness. And if one is not Hadhir he cannot bear witness [nor he should be held responsible]. And fundamental requirement for a present and true Shahid is first hand witnessing, with eyes and ears. This verse establishes Islamic teaching belief; a true Shahid is one who is Hadhir and has seen/heard the events regarding which he is to bear witness with his own eyes and ears.

      Conclusion:

      In the teaching of Quran, one who is Hadhir, and one who has seen the events unfold, with his own eyes, and heard the sounds relating to events, with his own ears, is a a true Shahid. And from this it is clear those who say Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear witness regarding the events mentioned in Quran and Ahadith after being informed by others are accusing the Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) of lieing and giving testimony even though he does not fullfil the criteria of true Shahid. This Quranic evidence belies their misguided belief; Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will be presented on judgment day as a witness who has not seen/heard anything regarding which he will bear witness. How do they believe he was sent as a Shahid when they believe for him no quality of Shahid? An equivlent example would be Qadiyani’s believing in Quranic word Khatm [Un Nabiyeen] without believing it means last/final. By ascribing to it another meaning and negating its known/established meaning one is guilty of not believing in word Khatm [Un Nabiyeen] even though the person may claim to believe. And one who believes as such is not from Muslims. Alhasil in light of difference between understanding of Muslims and Khawarij it is required to establish; a true witness bearing witness about an event must be an actual hearing/seeing type of witness. And an individual who bears witness to events not witnessed by him/her as a first hand witness is not a true witness but a liar. And neither does Allah (subhanahu wa ta’ala) accept false testimoney nor will His Messenger (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) will bear false witness.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi

      Footnotes:

      - [1] “And a witness of her household bore witness (saying): "If it be that his shirt is torn from the front...''  not from the back, ”… then her tale is true …“, that he tried to commit an illegal sexual act with her. Had he called her to have with him and she refused, she would have pushed him away from her and tore his shirt from the front, “But if it be that his shirt is torn from the back, then she has told a lie and he is speaking the truth!” Had Yusuf run away from her, and this is what truly happened, and she set in his pursuit, she would have held to his shirt from the back to bring him back to her, thus tearing his shirt from the back. There is a difference of opinion over the age and gender of the witness mentioned here. ‘Abdur-Razzaq recorded that Ibn `Abbas said that, “… and a witness of her household bore witness …”, "was a bearded man,'' meaning an adult male. Ath-Thawri reported that Jabir said that Ibn Abi Mulaykah said that Ibn Abbas said, "He was from the king's entourage.'' Mujahid, Ikrimah, Al-Hasan, Qatadah, As-Suddi, Muhammad bin Ishaq and others also said that the witness was an adult male. Al-Awfi reported that Ibn Abbas said about Allah's statement, “… and a witness of her household bore witness …”, "He was a babe in the cradle. '' Similar was reported from Abu Hurayrah, Hilal bin Yasaf, Al-Hasan, Sa`id bin Jubayr and Ad-Dahhak bin Muzahim, that the witness was a young boy who lived in the Aziz's house. Ibn Jarir At-Tabari preferred this view.” [Ref: Tafsir Ibn Kathir, 12:26, link]
    • By Rehan Raza
      https://www.youtube.com/watch?v=AKaD_SQn64g
       
    • By خاکسار
      Shirk our Touheed0.pdf
       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       
       
      مکمل موضوع منسلک PDF فائل کو ڈائونلڈ کر کے پڑھیں۔ شکریہ۔
       
    • By MuhammedAli
      Introduction:


      Recently [on 09 Nov 2014 - 5:55 PM] a heretic with the name of Zia Bashir created a thread on IslamiMehfil forum titled; 'Honorable Prophet Muhammad’s Invitation To Tawheed And Shirk Of Arabs.', which you can read, here. Brother Zia Bashir basically presented the following principles to indicate how a Ilah is made – which will be presented in my own words: ‘To believe any being has control over benefit and harm, or can alleviate every type of hardship/upsetting [matter] or has the power in the kingdom of Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize the means in the skies and earth (i.e. such as sends rain from clouds and grows crops from earth), is elevating the being to status of God. Or to believe a being grants sustenance, or is in charge of distributing sustenance and grants to which the being wills, or believing a being grants son/daughter, or a being is part of Allah (subhanahu wa ta’ala) as son/daughter, is elevating the being to status of God. Worshiping the being in any way (i.e. invoking a being for help) or believing the being is acting attorney/disposer of all [affairs of creation] is elevating the being to status of God. To give life to the dead, to [breath] life into a clay figurine is in power of Allah (subhanahu wa ta’ala), life and death’s owner is only Allah (subhanahu wa ta’ala) and to believe this power for anyone other then Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the being to status of god, it is polytheism.’ In response myself and other Muslims responded to him pointing out faults and incompatibility of his principles with teaching of Quran/Hadith. It became apparent to Muslims engaged in discussion with him that he does not understand the concepts of Islam which explain Tawheed/Shirk. Hence it was realized there is need for Islamic principles which should indicate how a creation is elevated to status of an Ilah. This effort is to fill the void felt during the discussion. Continuing, just when the tide turned against him and faults of his principles became apparent to him and strength of Islamic arguments forced him to retreat toward the principles of Muslims, he quit.
       
       
       
      1.0 - Linguistic Meaning Of The Word Ilah And Its Usage In Quran:

      Word Ilah commonly is translated to mean God but the actual meaning derived considering its root is; one deserving of worship (i.e. Mabud). Its equivalent singular ‘Ilahan’ and plural ‘Aalihatun’ have been used as synonyms for idols/idol. The evidence of this is when nation of Prophet Musa (alayhis salaam) reached a certain group of people who worshipped idols, they demanded Prophet Musa (alayhis salaam) create for them an Ilah (i.e. an idol to) which they can devout their acts of worship.[1] Also the word Ilah is synonym for Rabb (i.e. Sustainer) and Khaliq (i.e. Creator).[2]

      1.1 - Reasons Why Polytheists Took Idols As Ilah:

      The polytheists believed their idols have the power to benefit/harm and that they have the power to intercede and will intercede for them to Allah (subhanahu wa ta’ala) on the day of judgment.[3] On basis of this belief they believed their idol can be taken as an Ilah in meaning of; deserving worship. This establishes polytheists had certain belief on basis of which they believed their idols are worthy of worship.[4] In the belief of polytheists Ilah is encompassed by certain attributes and as a result they took the idols as objects of worship. Hence Ilah is not just one that is worshipped but one that possesses certain traits due to which it is worshipped.

      1.2 - Understanding Why The Muslims Take Allah (subhanahu wa ta’ala) as Ilah:

      According to some scholars the name ‘Allah’ is derivative of Al-Ilah (i.e. the God) and Allah (subhanahu wa ta’ala) is possessor of [ninety-nine] beautiful names and attributes. [5] Hence comprehensively Al-Ilah is inclusive of all ninety-nine names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) not just, Rabb and Khaliq. If the name ‘Allah’ is not derived from the word Al-Ilah as some scholars have stated even then the true Ilah must be associated with ninety-nine names and attributes. As Muslims we believe Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Creator (i.e. Al Khaliq), the Evolver (i.e. Al Bari), and the Provider (i.e. Ar-Razzaq), and the Life-Giver (i.e. Al Mu’hayi), and the One (i.e. Al Ahad) … all the ninety-nine attributes. Belief in names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) is essentially connected with believing in Him as an Ilah. We believe Allah (subhanahu wa ta’ala) to be our Ilah and we ascribe all beautiful names/attributes to Him. Therefore true Ilah is not just Mabud (i.e. one deserving of worship) but possessor of all attributes/names established for Allah (subhanahu wa ta’ala). Due to Allah (subhanahu wa ta’ala) having mentioned attributes/names we have accepted Allah (subhanahu wa ta’ala) is deserving of worship and believe it is proper to direct acts of worship to Allah (subhanahu wa ta’ala). Hence the linguistic meaning of Ilah is to be applied in the strict sense. But considering the fact; belief [n possesses x attributes is able to harm/benefit …] must exist before appointing of an Ilah therefore [such] beliefs are fundamental part of appointing an Ilah.[6] Would anyone take a potato to be their Ilah? Or take their fridge as their Ilah? Certainly not because a person understands they do not possess godly qualities and cannot benefit or harm. Alhasil, Ilah is taken when it is believed the one taken as Ilah has ability to hear/see, is able to harm/benefit and an intelligent being will not take a creation to be Ilah if one does not expect any harm/benefit. Hence naturally if one is worshipped then belief of Ilah must pre-exist in the heart of worshipper.[7]

      1.3 - Comprehensive Meaning Of Word Ilah:

      It is important to note; the word Ilah is encompassed by the attributes/actions and it on basis of these attributes/actions an Ilah is taken. Hence linguistic meaning is applicable on every usage but attributes/actions which force a believer to choose Allah (subhanahu wa ta’ala) as his Ilah are inclusive in the meaning of Ilah.[8] Therefore in Islam the Ilah cannot be separated from His attributes/actions. Allah (subhanahu wa ta’ala) is Ilah with all of His attributes and actions. Also the Ilah of polytheists are Ilah with the attributes and actions which polytheists attributed to them.

      2.0 – Thirteen Concepts Which Explain Attributes And Actions Of Allah (subhanahu wa ta’ala):

      Allah (subhanahu wa ta’ala) is Wajib Ul Wujud and the being of Allah (subhanahu wa ta’ala) and all attributes, actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are to be understood in meaning of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent). If any attribute or action of any creation is understood according to these then the creation is elevated to status of god and has been made partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) as a god.

      2.1 – Explaining Some Concepts From Thirteen To Facilitate Better Understanding:

      When the Qull (i.e. total) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) owner-ship then Allah (subhanahu wa ta’ala) is Malik (i.e. Owner) of all creation, in other words His Malikiyyah (i.e. owner-ship) of all creation. When it is applied to His hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) hears everything and when it is applied to His Seeing it means He See’s everything. When it is connected with His Rubbubiyyah (i.e. Sustainer-ship, Provider-Ship) it means He is sustainer and provider of all creation. When Zaati (i.e. personal) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) ownership then Allah (subhanahu wa ta’ala) is believed to be Malik by His own-self.[9] When Zaati is applied to His Hearing it means ability of Allah (subhanahu wa ta’ala) hearing is His own and non-other has given Him the power to hear. When it is applied to His seeing it means He See’s by His own self and none has given Him the ability to see. When it applied to His Lordship/Sustainer-Ship then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) is Rabb by His self and His act of sustaining is His own. When Azli is applied to ownership of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He was/is Malik from eternity. When it applies to His Hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) was Hearing from eternity and when it is applied to His Seeing then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) seeing from eternity. When it is applied to Rubbubiyyah of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He had the ability to provide/sustain from eternity.

      3.0 - Fundamental Way A Creation Is Taken As An Ilah:

      (i) To believe a creation is an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) or the Ilah then the creation has been elevated to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation has the right to be worshipped is to elevate the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To worship a creation, with intention of worship, without believing one being worshipped is an Ilah, is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      3.1 – Deriving Ilah-Determining Principles From Thirteen Concepts:

      (i) To believe one is wajib ul wujood (i.e. existence is essential), or the being possesses certain actions/attributes or all attributes/actions according to understanding of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent), is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation can benefit/harm, or remove hardship, or has power to utilize means in creation, or grants and distributes sustenance, or grants male/female children, or manages affairs of creation, or gives life to the dead, or sends rain from clouds, or has power over ma teht al asbab[10] (i.e. according to natural means) / ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) as an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions no longer requires permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize his attributes/actions, or to make use of what is provided in creation, and engages in ma teht al asbab and ma fawq al asbab without requiring permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being an Ilah besides Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe a creation possessed all attributes/actions in according to understanding of; atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations), but now  has become equal to Allah (subhanahu wa ta’ala) in his one or more or all attributes/actions, or has been elevated to status of an Ilah by Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions can provide ma teht al asbab and ma fawq al asbab type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) qualities can provide ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.0 – Guide To Interpreting The Six Principles:

      The following principle should be used to understand and expand six principles stated in 3.1. Thumb rule is, if one, or more, or all concepts, from the thirteen mentioned, are attributed to a creation’s Zaat (i.e. being), or Sift (i.e. attribute) or some/all Sifaat (i.e. attributes), or Fehl (i.e. action) or some/all Afaal (i.e. actions), then creation is made Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.1 – Explaining The Thumb Rule:

      Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear. Najd has attributed Zaati hearing to Zahid, therefore Najd has affirmed one concept from thirteen, for one attribute, and hence he elevated the Zahid to status of Ilah. Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear and Zahid can hear absolutely everything (i.e. Qulli). This time Najd has affirmed Zaati and Qulli concepts for one attribute (i.e. hearing) of Zahid hence he has elevated Zahid to status of Ilah. Thumb rule is; if one or more concepts are attached to a attribute/action, or one concept but one or more attributes/actions are connected then creation is elevated to status of Ilah.

      4.2 – An Important Note For The Students Of Knowledge:

      Please note, mentioned six principles in 3.1 are just a guide to understanding the principles of Islam regarding Shirk. These principles do not cover every aspect of major Shirk therefore Muslims dedicated to learning should explore the thirteen concepts in light of section 4.0 and 4.1 in order to unlock more principles. In section 3.1 Zaat (i.e. being) aspect of Tawheed/Shirk is not brought into the principles.[11] If I had done so the principles would have become excessively complex and difficult for the readers to understand. Hence readers can expand on the Tawheed/Shirk of Zaat using section 4.0.

      5.0 - Interpreting 1st  Ilah-Determining Principle To Demonstrate Methodology Of Interpretation:

      (i) To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe Zahid possesses Zaati attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe Zahid possesses Qulli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe Zahid possesses Azli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe Zahid possesses Haqiqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Izni attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vii) To believe Zahid possesses Ghayr Muntahai attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (viii) To believe Zahid possesses Ghayr Makhlooq attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ix) To believe Zahid possesses Muhaal Al fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (x) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Misl attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xi) To believe Zahid possesses Khaliqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xii) To believe Zahid possesses Akmal attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xiii) To believe Zahid possesses Mustaqil attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      5.1 – Explaining Various Interpretations Of 1st Ilah-Determining Principle:

      Here some difficult to grasp aspects will be explained to clarify them and in order to demonstrate how they are to be understood. The first interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). It is interpreted as: Zahid’s Zaat (i.e. being), Sifaat (i.e. attributes), Afaal (i.e. actions) are absolutely/fundamentally necessary, non-existence is impossible and to believe this is to elevate Zahid to status of Ilah because Allah (subhanahu wa ta’ala) is alone Wajib Ul Wujud and apart from his existence everything and their attributes and their action can/cannot exist. The ninth interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid possesses Muhaal Al Fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). Firstly, one whose attributes/actions are Muhaal Al Fana then automatically his Zaat is also Muhaal Al Fana because the attributes/actions cannot exist without the Zaat. If Zaat can be annihilated/destroyed then attributes/actions will also be destroyed/annihilated hence Zaat of one possessing Muhaal Al Fana attributes/actions must be Muhaal Al Fana. Secondly, To believe Zahid’s abilities of hearing/seeing and his action of walking/talking cannot be annihilated/destroyed [to put is simply – to eliminate their existence from creation] is elevating Zahid to status of Ilah because only attributes/actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are impossible to annihilate/destroy along His Zaat everything else beside Him can be removed from state of existence into state of non-existence.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi.

      Footnote:

      - [1] “We took the Children of Israel (with safety) across the sea. They came upon a people devoted entirely to some idols they had. They said: "O Moses, design for us like unto the gods they have." He said: "Surely you’re a people without knowledge.” [Ref: 7:138]

      - [2] In the following verse words Ilah and Rabb have been used interchangeably: “Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your Ilah is One Ilah. So whoever would hope for the meeting with his Rabb - let him do righteous work and not associate in the worship of his Rabb anyone.” [Ref: 18:110] Following verse uses the word Ilah in context of creating and harm/benefit: “Yet they have taken besides Him other gods (i.e. alihah) who created nothing but are themselves created, and possess neither harm nor benefit for themselves, and possess no power (of causing) death, nor (of giving) life, nor of raising the dead.” [Ref: 25:3]
       
      - [3] “Is not Allah enough for his Servant? But they try to frighten thee with other (gods) besides Him! for such as Allah leaves to stray, there can be no guide.” [Ref: 39:36] "We say nothing but that (perhaps) some of our gods may have seized thee with imbecility. “He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him." [Ref: 11:54] “And they have taken gods besides Allah that they might give them honor, power and glory.” [Ref: 19:81] "We only worship them so that they may bring us closer to Allah." [Ref: 39: 3]
      - [4] Alhasil, belief precedes the act of appointing Deity and engaging in worship.

      - [5] “And (all) the Most beautiful names belong to Allah , so call on Him by them, and leave the company of those who belie or deny (or utter impious speech against) His names. They will be requited for what they used to do.“ [Ref: 7:180]

      - [6] n possesses x, y, z attributes as well as ability to harm/benefit … hence Zahid decides n deserves worship therefore Zahid takes n as a Deity/Ilah in other words Mabud.

      - [7] Fiqhi verdict is stated in 3.0, principle 3, on the basis of Hadith; actions are determined according to intentions incase the belief of Ilah does not exist for what ever freak of nature reason but y has the intention of worshiping a creation.

      - [8] Quran is testimony to how Arabic words have evolved due to revelation of Quranic verses. Countless words in Arabic have evolved to mean something specific. In Arabic the word ‘Qibla’ means ‘direction’. The word ‘Qibla’ is used in context of facing Masjid Al Haram in prayer and as a result Muslims associate the word Qibla with direction which indicates Kabah. The word ‘Salah’ is used in meaning of ‘Dua’ (i.e. supplication) but now it has is associated with five daily prayers. Alhasil, linguistic meaning remain part of the Shar’ri meaning but depending on for whom the word is used and what context the word is used the meaning evolves. The implication here is; word Ilah linguistically means Mabud but its usage for Allah (subhanahu wa ta’ala) adds to its linguistic meaning. Therefore the names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) become part of Shar’ri meaning of Ilah.

      - [9] Creation of Allah (subhanahu wa ta’ala) is made Malik (i.e. owner) of various objects by Allah (subhanahu wa ta’ala) via means He has created. Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Malik (i.e. Owner) by His own-self meaning none has made Him Malik over creation. He was the Creator and is the Owner of what He created.

      - [10] Ma teht al asbab  are – cure through use of medicine, strength through eating food, quenching of thirst with water, burning with fire, cutting with sharp instrument, light with bulb, walking with legs, lifting wit hands … in all these the; cure, strength, satisfying thirst, burning, cutting, light, walking, lifting is done with means available and not supernatural means. Ma fawq al asbab are actions - such as raising the dead, bringing rain from clouds, breathing life into clay bird figures, healing the blind instantly, splitting the moon, turning the staff into snake, bringing water out of fingers, growing trees from ash of seeds, rising the sun from the place of it’s setting.

      - [11] In section 5.1 Zaat aspect of Muhaal Al Fana has been discussed as a separate point even though it was not part of the first Ilah-Determining principle nor part of ninth interpretation. So you can certainly expand on this aspect to further your understanding of Tawheed with your private study.
    • By MuhammedAli
      Salam Alayqum

      In your following article; ‘Refuting Heretical Argument - Innovated Practices Are Innovations …’, under the heading following heading: ‘1.3 - Reprehensible Innovations Are Misguidance.’, you presented following Ahadith - every newly invented matter/affair is innovation and every innovation is misguidance: “And the most evil affairs are the innovations; and every innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] “Avoid novelties, every novelty is an innovation and every innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Anyone who reads these two Ahadith would note; the content of these to Ahadith belies your heading. Also the following Hadith records clearly states every innovation is misguidance even if people see good in it: “Abdullaah Ibn 'Umar (radiallah ta'ala anhu) said, "Every innovation is misguidance, even if the people see it as something good." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version] Clearly these Ahadith mean to say ‘every innovation is misguidance’ and not ‘every reprehensible innovation is misguidance’. There is no proof for your Takhsees and you should fear Allah (subhanahu wa ta’ala). You’re distorting the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) to misguide people.

      Saeed Imtiaz

      The Evidence For Takhsees and Explaining The Evidence Of Takhsees:

      First of all the evidence on which Takhsees was made based was quoted in following section: ‘1.2 - Prophetic Criterion Of Determining A [Reprehensible] Innovation.’ Unfortunately you did not contemplate on the previous section or at least not deep enough hence you did not realize the evidence. Assuming you did read the following Hadith but ignored it: “Whoever introduces an evil Sunnah that is followed after him, will bear the burden of sin for that and the equivalent of their burden of sin, without that detracting from their burden in the slightest.” [Ref: Ibn Majah, B1, H207] In the quoted Hadith word Sunnah has been used to mean innovation. Also the following Hadith was quoted: "And whoever introduces an erroneous Biddah with which Allah is not pleased nor His Messenger then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] This part of the Hadith: “…whoever introduces an erroneous Biddah …” is evidence for Takhsees of reprehensible innovation and the following part goes on to educate how to recognize a erroneous innovation: ”… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” In other words the Hadith of Tirmadhi and the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) establish; concept of reprehensible innovation is valid and it was due to it Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) pointed how reprehensible innovation is to be recognized – i.e. which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) are pleased with acts which involve, worship, charity, encouraging good and forbidding wrong, hence anything composed of these cannot be reprehensible innovation. Coming back to the subject, the words: “… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” are extra addition and are not fundamental part of Hadith. At the fundamental level the Hadith is stating: "And whoever introduces an erroneous Biddah then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” This is in accordance with Hadith of Ibn Majah already quoted and in also with the following:  “And whoever introduces a bad Sunnah that is followed, he will receive its sin and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest.'" [Ref: Ibn Majah, B1, H203] Hence it is correct to conclude; religiously the concept of reprehensible innovation is valid.

      ‘Every Innovation’ In Context Of ‘Whoever Introduces An Erroneous Innovation’:

      It is narrated that Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) said: "And whoever introduces an erroneous Biddah … then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] According to this Hadith it is clearly established; according to Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) erroneous/reprehensible innovation is sinful and not just any/every innovation and reprehensible innovation is one which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Hence it is only correct to interpret the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) according to his own words and based on this correct understanding of Ahadith you quoted would be: “And the most evil affairs are the [erroneous] innovations; and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] The Hadith of avoiding novelties is to be understood with similar insertion: “Avoid [erroneous] novelties, every [erroneous] novelty is an [erroneous] innovation and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Coming to the Hadith of Abdullah Ibn Umar (radiallah ta’ala anhu) in which he is reported to have said, every innovation is misguidance even if the people see good in the innovation, this Hadith should be understood exactly the same way: “Abdullah Ibn Umar said, "Every [erroneous] innovation is misguidance, even if the people see it as something good ." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version]

      Conclusion:

      The Ahadith of every innovation are about reprehensible innovation and reprehensible innovation is innovation which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and such innovation is misguidance and sinful and therefore it should be avoided and remains misguidance even if people see good in it. The position of Ahle Sunnat is established from Ahadith which has been explained in detail.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi