Sign in to follow this  
Followers 0
K.Ahmed92

Ghair Ul Allah Say Madad

76 posts in this topic

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟ یہ خان صاحب کی میرے بارے ان کی اپنی رائے ہے 

خان صاحب کے اعتراضات اگر قائم ہیں تو وہ خود استفسار کر سکتے ہیں ۔

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

 

اوپر ایک بھائی نے امام زرقانی کی چند توضیحات بیان کی تھیں 

اب ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

تو میرے بھائی ایسی ضعیف روایات سے محض قیاس کی بنیاد پر عقیدے بنانا چھوڑ دیں 

 

اب تک آپ یہی فرما رہے ہیں کہ اگر یہ روایت غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو 

 

تو بھائی اگر مگر کو چھوڑیں اور اس روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت فرما دیں 

اس میں جواب دینے والی کیا بات ہے ؟

 

آپ کو حق سچ جاننے سمجھنے میں دلچسپی شاید نہیں ہے کیونکہ آپ نے زحمت ہی نہ کی کہ معلوم تو کرلیں کہ کون کیا بات کر رہا ہے!۔ وہ بات میں نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۰ میں آپ کو کہی تھی۔

 

کچھ نہیں کا تعلق ان ہی معلومات سے ہے جو مجھ سے پوچھی گئی تھیں اور کچھ نہیں استغراق عرفی کے سینس میں ہے اور کافی حد تک کا یہی مفہوم ہے

کہ حتی الوسع

 

بات وہیں کی وہیں ہے اب بھی۔ میرا کہنے کا مقصد محض اتنا تھا کہ کھل کر سامنے آئیں اور چوری چھپے وار کرنے سے گریز کریں۔

 

میرے بھائی زیادہ تکنیکی باتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اس معاملے میں بھی علما، جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں 

ہمیں آرڈر دے دیا کہ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتوں میں نہ جائیں۔ آپ یہ بتائیں کہ ان ’’تکنیکی باتوں‘‘ کی بحث کس نے چھیڑی تھی اس ٹاپک میں؟؟ اگر ’’تکنیکی باتیں‘‘ گوارا نہیں تو اس میدان میں اترے ہی کیوں؟؟۔ پھر کہتے ہیں جناب کہ ’’علما جرح و تعدیل کی آرا مختلف ہیں‘‘ اس سے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں آپ؟ اختلاف کی صورت میں کسی مسئلہ کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا کیا؟ اور آپ نے جو ’’تکنیکی باتیں‘‘ کی ہیں سندِ حدیث پر ، ان میں علما کا اختلاف یاد کیوں نہیں رہا جو آپ جزم کے ساتھ حکم چلانے لگے ’’کہ فلاں امام نے اسے فلاں کتاب میں ضعیف کہا ہے‘‘۔ ہم جب کوئی متعلقہ سوال اٹھائیں تو جناب کی نظر اختلافِ علما پر جا ٹکتی ہے اور خود یک طرفہ اقوال کو اپنے دعوی کی سند بناتے وقت اختلافِ علما کو ایکدم بھول جاتے ہیں!!۔

 

میرے بھائی اس طرح کے جوابات بطور فرض کے ہوتے ہیں 

تو ہم نے کب کہا کہ یہ آپکا برہانی کلام ہے؟؟؟ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں یہ موقف اپنایا کہ ’’وہ اشعار دور سے نہیں پڑھے گئے‘‘ مگر پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں جناب نے بعد دفعِ ضعفِ روایت یہ مان لینے کا اقرار کیا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ہوں گے (اسی لیے تو یہ لکھا:۔آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی

 

باقی آپکے اعتراضات کا جواب میں صرف اسی صورت دوں گا جب آپ میرے سوالات کے جوابات دے دیں گے۔

کیونکہ آپ ایک بات پر ٹکتے ہی نہیں ہیں اور بحث برائے بحث کے دلدادہ ہیں۔

ہمارا وقت اتنا غیر قیمتی نہیں ہے کہ آپکا بحث برائے بحث کا شوق پورا کرنے میں صرف ہو۔

آپکو متعلقہ گفتگو کرنی ہے تو اسی ترتیب سے چلیں جیسے ٹاپک چل رہا تھا ، ورنہ اس ٹاپک کو یہیں چھوڑ دیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے بھائی

 

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں  ۔ اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

 

حالانکہ میں نے درخواست کی تھی کہ اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب کو اصل مسئلہ سے غرض نہیں۔ اگر ثابت ہوجائے تو صرف معجزہ۔۔۔ ۔ اسی لئے تو جناب کھل کر اپنی حقیقت ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہ اگر سنیوں نے ان کے اگلے پچھلوں  کے کارنامےیہاں پوسٹ کر دیے  توپھر مسئلہ تکنیکی نوعیت سے نکل جائے گا۔ جناب صرف تکنیکی نوعیت کی باتیں کر کے اور ان میں بھی  راہ فرار اختیارکرکے بحث برائے بحث کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ تاکہ مسئلہ الجھ جائے اور عوام کو بیوقوف بنایا جاسکے۔ جناب سے پوچھا جائے کہ شیطان دور سے سن سکتا ہے۔ تو اس کی سماعت و علم پر قدرت مانےگا۔ مگر  نبی صی اللہ علیہ وسلم کی اگر قدرت مان لی تو شرک ہوجائے گا۔ جبکہ حقیقتاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام بھی نہ صرف دور سے حالات ملاحظہ فرماتے ہیں بلکہ آواز پہنچاتے ہیں،سنتے ہیں اور مدد بھی کرتے ہیں۔ دیکھو مشکوۃ ،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو آواز دی  جو انہوں نے مقام نہاوند میں جنگ کو دوران سن لی اور ان کی نصرت  بھی ہوگئی۔ اور جناب خود ہر نماز میں السلام علیک ایھا النبی کے صیغہ سے بھی ندا  کرتے ہیں ۔اور  خیرمدد کا تو فلسفہ ہی عجیب ہے کہ قریب سے جائز اور دور سے شرک۔ سامنے جائز ، غائبانہ شرک اور مافوق الاسباب و ماتحت الاسباب کی خودساختہ تقسیم وغیرہ۔بحث برائے بحث کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جناب نے پورے ٹاپک میں صرف ایک روایت کو پکڑا ہوا ہے۔جبکہ ہمارا عقیدہ صرف اس روایت پر تھوڑا ہی ہے۔

 

 

تو جناب، اگر مگر کو آپ چھوڑیں اور اگر ثابت ہوجائے کہ روایت صحیح ہے تو پھر یا تو مانے کہ ہمارا عقیدہ صحیح ہے یا پھر  ان صحابی اور تمام  محدثین  پر کلیئر لفظوں میں اپنا حکم بیان کریں۔ اور بہانے بنا کر راہ فرار اختیا ر نہ کریں۔ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب نے پورے ٹاپک میں صرف ایک روایت کو پکڑا ہوا ہے۔جبکہ ہمارا عقیدہ صرف اس روایت پر تھوڑا ہی ہے۔

 

اور آپ سے اس ایک روایت کی صحت ثابت نہیں ہورہی

 

مشکوۃ ،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو آواز دی  جو انہوں نے مقام نہاوند میں جنگ کو دوران سن لی اور ان کی نصرت  بھی ہوگئی

 

حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

میرے بھائی

 

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں  ۔ اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

 

حالانکہ میں نے درخواست کی تھی کہ اس حدیث کی صحت ثابت کر دیں

بات کو آپ خود بحث برائے بحث کی طرف لے جا رہے ہیں

وہ تو نظر آ رہا ہے کہ کون موضوع سے فرار چاہ رہا ہے۔

 

اور ایسے سوال پوچھ رہے ہیں جن کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

یہ بھی آپکی ذاتی رائے ہے۔ ورنہ ثابت کریں کہ میرے سوال غیر متعلقہ ہیں۔ جرح کی بات کس نے شروع کی؟ اور جب آپ سے اسی جرح پر بات شروع کی گئی تو اب ’’غیر متعلقہ‘‘ کیوں کہنے لگے؟

 

اپنے بارے میں جتنا بتانا ضروری تھا وہ بتا دیا ۔

تو آپکے دعوی استغراق کا کیا ہوا؟

 

اب بات تو دلائل کی ہے جس میں ذاتیات کی ضرورت نہیں ہے

ہم جب دلائل کی بات کریں تو آپ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتوں سے رکنے کا کہہ دیتے ہیں۔

 

میں نے تکنیکی باتوں کا انکار نہیں کیا صرف زیادہ تکنیکی باتوں سے گریز کا مشورہ دیا تھا

کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ خود آپ نے جرح شروع کی تھی  ، ہم نے تو آپ سے صرف اسی جرح کے حوالے سے چند باتوں کی تشریح مانگی مگر جواب اب تک نہیں آیا۔ اور یہ ’’تکنیکی‘‘ و ’’زیادہ تکنیکی‘‘ کی تقسیم کہاں سے لے آئے ہیں؟

 

 

میں نے حدیث کے راویوں پر کچھ جرح پیش کی تھی لیکن آپ سوائے اس بات کہ اگر حدیث کا ضعیف نہ ہونا ثابت کر دیا جائے تو ۔۔ پر ہی ہیں

جناب! مان ہی گئے کہ ’’زیادہ تکنیکی‘‘ باتیں خود انہوں نے چھیڑی ہیں۔

ہمارے ’’اگر حدیث کا غیر ضعیف ہونا ثابت ہو جائے تو‘‘ پر رہنے کی وجوہات:۔

۔۔۔   آپ ہماری پوچھی گئی باتوں کا جواب نہ دے کر خود موضوع سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

ایک دفعہ پھر میں اپنے سوالات دہرائے دیتا ہوں اور(بہ اضافہ قلیل):۔

۔۔۔   جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

 

۔۔۔   جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

 

۔۔۔   اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو

 

جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

 

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت

 

سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے

 

ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا

 

دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے 

 

نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

 

۔۔۔   جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟

۔۔۔    اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی  پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد کیوں نہ ہوگا؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں کہا کہ حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ آپ بار بار بھول جاتے ہیں یا راہ فرار اختیار کرتے ہیں کیونکہ بحث آپ استمداد میں کر رہے ہیں اور بات معجزہ کرامت کی شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کرامت سے ثبوت کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ رہا آپکا یہ دعویٰ کہ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو اسے جزئی واقعہ ثابت کریں ، پھر یہ ثابت کریں کہ اس واقعہ کو کل پر منطبق کرنا شرعا ناجائز ہے ، اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا ہر عجیب بات شرعا درست نہیں ہوتی؟؟

۔۔۔   آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں لکھا اور آپ سے اس ایک روایت کی صحت ثابت نہیں ہورہی تو میں کہتا ہوں کہ پہلے پوچھی گئی باتوں کا جواب دو، ہم بھی حدیث کی صحت ثابت کر دیں گے۔ آپ بار بار حدیث کی صحت ثابت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں  جبکہ خود ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دے رہے۔ اسے بھی دیکھتے جائیے پھر!۔

 

post-14217-0-37666000-1439884127_thumb.png

 

 

جب تک آپ پوچھی گئی باتوں کا جواب نہیں دیں گے

تب تک ہم بھی رکے رہیں گے اسی پوائنٹ پر۔  

Edited by AqeelAhmedWaqas
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب عقیل احمد
آپ کے تفصیلی کامنٹ کا شکریہ
بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔
لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں
تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

 

جرح مبہم مقبول ہے یا غیر مقبول؟

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں
پہلا
جرح مبہم مقبول نہیں بلکہ جرح مفسر معتبر ہے

دوسرا

جرح بغیر سبب کے قبول کی جائے گی جبکہ تعدیل بغیر ذکر سبب کے معتبر نہیں

تیسرا

جرح و تعدیل دونوں بغیر ذکر سبب کے قبول ہیں

چوتھا
جرح و تعدیل دونوں ہی بغیر ذکر سبب کے قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

جاری ہے

 

جرح و تعدیل میں تعارض ہو تو اس صورت میں آپ کسے قبول کریں گے؟

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

 


۔۔۔ اگر حدیث بلحاظ سند صحیح کے درجے سے کم اور ضعیف کے درجے سے زیادہ ثابت ہو


جائے تو آپکا کیا رد عمل ہوگا؟

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا

 


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ میں صراحتا کہا ہے کہ فتح الباری کی روایت


سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اشعار کہیں دور سے پڑھے گئے ، جبکہ اب آپ کہہ رہے


ہیں کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا


دی۔ اس پلٹا کھانے کی وجہ (آپ واضح طور پر اقرار کر رہے ہیں کہ واقعی وہ اشعار سامنے


نہیں بلکہ تین دن کی دوری سے پڑھے گئے تھے!) ؟؟

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی

 


۔۔۔ جوازِ استمداد میں (آپ کے نزدیک غیر صحیح) ہماری دلیل فعلِ صحابی (دور سے اشعار پڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے مدد طلب کرنا) تھی یا قدرتِ رسول (مدینۂ منورہ میں ہی رہتے ہوئے تین دن کی مسافت سے آواز بھی سننا، صحابی کا علم بھی ہونا، اس کے قبیلے کا بھی جان لینا، اسکا مقصد بھی معلوم ہونا وغیرہ)؟؟؟؟

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں

 


۔۔۔ اب تک یہی بات سامنے آئی ہے کہ آپ کے عدم قبولِ استمداد کی علت ضعف روایتِ مذکورہ ہے۔ یعنی آپکا انکارِ استمداد معلول بہ علت ہے تو جب علت ہی نہ رہے گی پھر بھی آپ کے نزدیک اثباتِ استمداد کیوں نہ ہوگا؟؟

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں

 


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳ میں خود اقرار کیا کہ ’’اگر غیر ضعیف ثابت ہو جائے تو بھی اس سے صحابہ کرام کا استمداد کا قائل ہونا کہیں ثابت نہیں ہوتا‘‘ تو جب آپ کے نزدیک اس سے ہمارا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوگا اگر یہ غیر ضعیف ثابت بھی ہو جائے ، پھر آپ اسکے راویوں پر ’’جرح‘‘ کیوں بیان کر رہے ہیں؟؟ کیا ہمارا اور آپ کا اس ٹاپک میں اختلاف معجزۂ رسول میں ہے یا باب استمداد میں؟؟

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے

 


۔۔۔ آپ نے اپنی پوسٹ نمبر ۲۹ میں کہا کہ حضرت عمر کی اس کرامت کو کلیہ کیسے بنایا جا سکتا ہے ؟ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ آپ بار بار بھول جاتے ہیں یا راہ فرار اختیار کرتے ہیں کیونکہ بحث آپ استمداد میں کر رہے ہیں اور بات معجزہ کرامت کی شروع کر دیتے ہیں۔ اور اب ساتھ یہ بھی بتائیں کہ کرامت سے ثبوت کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ رہا آپکا یہ دعویٰ کہ ایک جزئی واقعہ کو کل پر منطبق کرنا عجیب بات ہے تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو اسے جزئی واقعہ ثابت کریں ، پھر یہ ثابت کریں کہ اس واقعہ کو کل پر منطبق کرنا شرعا ناجائز ہے ، اور لگے ہاتھوں یہ بھی بتائیں کہ کیا ہر عجیب بات شرعا درست نہیں ہوتی؟؟

رضا صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا میں نے اس پر تبصرہ کر دیا
حضرت ساریہ نے حضرت عمر کو نہیں پکارا اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بطور کشف یہ منظر دکھا دیا تو حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

اگر ایسا کرنا حضرت عمر کا معمول تھا تو کوئی دلیل پیش فرمائیں ۔۔۔۔ اور اگر یہ حضرت عمر کا معمول تھا تو پھر حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام
جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی
بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے


اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

برادر خلیل رانا صاحب
میری بحث شرک یا عدم شرک کے حوالے سے نہیں ہے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس روایت سے رضا صاحب استدلال کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے اور متن بھی غیر واضح ہے ان کے استدلال کے حوالے سے

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

اگر اس حدیث کا راوی مجہول ہے تب بھی یہ موضوع نہیں، ضعیف کہہ سکتے ہیں

اور اگر اس حدیث کا متن مضطرب ہے تب بھی یہ حدیث موضوع نہیں ،ضعیف کہہ سکتے ہیں

ضعیف حدیث فضا ئل میں قابل عمل ہے۔

 

 

1.jpg

2.jpg

3.jpg

4.jpg

5.jpg

6.jpg

7.jpg

8.jpg

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Yehya bin Suleman bin Nadla Zaeef sahi MAGAR

US KI RIWAYAT AHL e MADINA se MUSTAQEEM hoti he.

Jaisa k ibne adi ne kaha aor kisi ne radd na kia.

 

AOR

 

Ye riwayat wo Madni Khuzai apne madni uncle se

Woh Imam Jafar Sadiq Madni se

Woh Imam Baqir Madni se

Woh Imam Zainul Aabideen se

Woh Hazrat Maimoona Madni se bian kar rahe hain

to Riwayat MUSTAQEEM hoi.

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

محترم جناب عقیل احمد

آپ کے تفصیلی کامنٹ کا شکریہ

بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔

لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں

تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

 

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں

پہلا

جرح مبہم مقبول نہیں بلکہ جرح مفسر معتبر ہے

 

دوسرا

 

جرح بغیر سبب کے قبول کی جائے گی جبکہ تعدیل بغیر ذکر سبب کے معتبر نہیں

 

تیسرا

 

جرح و تعدیل دونوں بغیر ذکر سبب کے قبول ہیں

 

چوتھا

جرح و تعدیل دونوں ہی بغیر ذکر سبب کے قبول نہیں کئے جائیں گے ۔

 

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

 

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

 

جاری ہے

 

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

 

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا

 

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی

 

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں

 

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں

 

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے

 

رضا صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا میں نے اس پر تبصرہ کر دیا

حضرت ساریہ نے حضرت عمر کو نہیں پکارا اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بطور کشف یہ منظر دکھا دیا تو حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

 

اگر ایسا کرنا حضرت عمر کا معمول تھا تو کوئی دلیل پیش فرمائیں ۔۔۔۔ اور اگر یہ حضرت عمر کا معمول تھا تو پھر حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام

جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی

بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے

 

 

اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

بات صرف اتنی سی تھی کہ میں نے اس روایت کو ضعیف کہا تو آپ اس روایت کی صحت ثابت کر دیتے لیکن بجائے اس روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے ۔

مان گئے جناب کہ زیادہ تکنیکی باتیں آپ نے خود شروع کیں۔

یہ بھی مان لیا کہ میرے سوالات واقعی موضوع سے ریلیٹڈ ہیں روایت کی صحت ثابت کرنے کے آپ کو اپنے سوالات پر اصرار ہے

 

 

لیکن شاید آپ بات کو گھما پھرا کر اصل بات سے دور رہنا چاہتے ہیں تو میں حتی الوسع آپ کے سوالات کے مختصر جوابات دئے دیتا ہوں

تاکہ آپ کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے ۔

شاید کے لفظ سے ظاہر کہ آپ اپنی رائے میں متذبذب ہیں۔
پہلے ہی جواب دے دئیے ہوتے ، تو ایک دو پوسٹس کم ہو جاتیں!۔
بہانہ آپ ڈھونڈتے ہیں ، کبھی بحث معجزہ ، کبھی کرامت ، کبھی زیادہ تکنیکی باتوں سے رکنے کا کہہ کر!۔

 

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں 

اب زیادہ تکنیکی باتیں کیوں برداشت کرلیں؟

 

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے 

تو آپکا جرح مبہم پیش کر کے روایت کے ضعیف ہونے کا قول آپ کی اپنی بات سے جواب پا گیا!۔

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

یہ انکو مضر جن کا دارومدار محض روایات اور انکی سندوں پر ہے۔

آپکا یہ جواب آپکے پہلے استدلال کو باطل کرنے کو کافی ہے۔

 

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

میں خود تو اس پر ابھی کلام نہیں کرتا ، آپ نیچے دئیے گئے امیجز کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ آپ نے اس بات کا جواب نہیں دیا اب تک ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔اس کے بعد بھی ’’بخاری پرستی‘‘ کا کیا کہیں گے؟

 

post-14217-0-46558300-1439996825_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-85687400-1439996828_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-59432700-1439996831_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-50846700-1439996834_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-50778400-1439996928_thumb.gif

 

جب ایسا ہو جائے گا تو ردعمل بھی سامنے آ جائے گا 

یعنی ایک بار پھر ثبوت فراہم کر رہے ہیں کہ ’’پورا چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں‘‘۔

 

میرا یہ قول بطور فرض کے ہے کہ فرض کیا ایسا ہی ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو گی

آپ کو ابھی تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ مبحث آخر ہے کیا!۔

 

آپ کی دلیل زیادہ فعل صحابی پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور فعل صحابی کے تعین میں ہی ابہام ہے امام زرقانی کی توضیحات دیکھ لیں

واقعی ہماری دلیل فعل صحابی ہی تھی لیکن مجرد یہ روایت نہیں۔ لیکن اگر معجزۂ رسول یا کرامتِ صحابی کو دلیل بنایا جائے تو بھی ہمیں کچھ نقصان نہیں ہے۔
امام زرقانی علیہ الرحمہ کا آپ بار بار حوالہ دے رہے ہیں تو اُن کے حوالے سے جو بات آپکو درست نہیں لگ رہی ، بادلیل بتائیں۔
 
post-14217-0-55938300-1439997185_thumb.gif
 
 
 
post-14217-0-59625600-1439997196_thumb.gif
 
 
 
post-14217-0-13981900-1439997208_thumb.gif

 

اول تو ایسا ہو گا نہیں کہ علت دور ہو جائے لیکن باالفرض ایسا ہو بھی جائے تو روایت متن کے اندر بھی ایسی کوئی واضح بات نہیں ہے محض قیاسات ہیں

 علت تو ختم ہو چکی ، علامہ سعیدی صاحب کی پوسٹ دیکھ لیں۔ ’’متن‘‘ والی بات خود آپ کا قیاسِ نامقبول ہے، ورنہ دلیل سے بتائیں۔
 
post-14217-0-37663200-1439997129_thumb.gif
 
 
 
post-14217-0-20716800-1439997137_thumb.gif
 
 
 
post-14217-0-53862600-1439999384_thumb.gif

 

اس لئے کہ تاکہ آپ کو معلوم ہو سکے جس روایت سے آپ قیاسات کر رہے ہیں وہ سندا بھی ضعیف ہے 

 سند تو مستقیم ثابت ہو چکی اور امام بزار کی سند تو حسن ہے!۔ دیگر اجلہ محدثین کے نام نظر نہیں آرہے؟ پچھلے پیج پر پوسٹ نمبر ۵ میں سے دیکھو۔ اور اگر ضعیف بھی ہو تو ہمیں اس سے جو نقصان ہوگا ، اسکی وضاحت آپ کے ذمے ہے۔

حضرت عمر کی کرامت ہی ہوئی

اس سے بھی ہمارا موقف ثابت ہوتا ہے۔

حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام 

جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی 

بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے 

آپ تقویۃ الایمان میں مذکور اس حدیث کے حوالے سے بتا دیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ڈاک کا نظام کیوں جاری فرمایا جبکہ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ان اسباب سے بالکل قطع تعلق ہو جاتے ، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مبارک افعال والی آپکی بات کا جواب میں دے دوں گا۔

 

post-14217-0-13761700-1439996627_thumb.png

 

 

 

اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

یہ آپ کو کس نے کہا کہ انہوں نے صرف فتح الباری میں اسے پیش کیا ہے؟؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ اس روایت کو ضعیف ہی کہنے پر مصر ہیں تو بھی ہمارا موقف صحیح ثابت ہوگا کیونکہ ضعیف احادیث فضائل اعمال میں بالاتفاق معتبر ہیں۔

اور اگر اس ضعیف روایت سے آپ کے ہاں فعل صحابی ثابت نہیں ہوتا تو معجزہ کا اثبات آپ کو بالاتفاق قبول ہے اور یہ بھی ہمارے موقف کی صحت پر دال ہے۔

اور ضعیف روایت چند طرح سے تقویت بھی تو پا جاتی ہے۔ ملاحظہ ہو:۔

 

post-14217-0-70457000-1439997000_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-45874600-1439997005_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-98477400-1439997016_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-72920800-1439997023_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-37727500-1439997032_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-08676700-1439997012_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-72625300-1439997037_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-49433000-1439997042_thumb.gif

 

اب ہم روایت کا چند طرق سے آنا تو بتا چکے ہیں۔ بزار کی سند دیکھیں ، دیگر ائمہ  کی روایت بھی دیکھ لیں۔ مزید یہ امیجز بھی دیکھیں، کیا ان سب سے ہماری مذکورہ حدیث قوی نہیں ہو سکتی؟؟؟:۔

 

post-14217-0-58231300-1439997161_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-86902500-1439997164_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-14989900-1439997169_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-24808100-1439997171_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-89655100-1439997173_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-21624000-1439997176_thumb.gif

 

اورہماری حدیث مبارکہ شریعت مطہرہ سے ہرگز نہیں ٹکراتی تو اس طرح بھی قوی ہونی چاہیے۔ شریعت مطہرہ اسکی حمایت میں ہی ہے ، ایک جھلک ملاحظہ ہو۔

 

post-14217-0-77089400-1439997235_thumb.png

 

 

 

post-14217-0-03627300-1439997240_thumb.png

 

 

 

post-14217-0-31929100-1439997222_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-42322900-1439997225_thumb.png

 

 

 

post-14217-0-82543100-1439997227_thumb.png

 

 

مخالفین تک استمداد کے قائل ہیں ، چند حوالے دیکھیں:۔

 

post-14217-0-31424800-1439997233_thumb.png

 

 

 

post-14217-0-56256700-1439997230_thumb.png

 

آپکی ایک اور غلط فہمی کہ ایسی روایات سے عقائد کا ثبوت نہیں ہوتا۔ تو عرض یہ ہے کہ آپ کے نزدیک تمام عقائد قطعی ہوتے ہیں ، ظنی کوئی نہیں ہوتے؟؟ اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ نفئ نظریۂ استمداد پر قطعی دلائل قائم فرما دیں۔ میں اپنے امام اہلسنت اور شیخِ محقق کے حوالے سے ثابت کرتا ہوں کہ ہمارا استمداد کا نظریہ یا عقیدہ قطعی تو نہیں ہے تو اس کے اثبات کے لیے قطعی دلائل کا مطالبہ کیوں؟؟

post-14217-0-58132300-1440049307_thumb.gif

 

 

 

post-14217-0-34114300-1439996848_thumb.gif

 غرض آپ جو راہ اختیار کریں پھر بھی ہمارا نظریہ ہرگز غلط ثابت نہیں ہوتا جبکہ اس کے جواز کے لیے تو عدم منع کافی ہے۔

Edited by AqeelAhmedWaqas
2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب خلیل رانا صاحب

بحوالہ پوسٹ نمبر 33

 

میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے

 

اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی

 

اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے

 

 

محترم جناب سعیدی صاحب

Yehya bin Suleman bin Nadla Zaeef sahi MAGAR

US KI RIWAYAT AHL e MADINA se MUSTAQEEM hoti he.

Jaisa k ibne adi ne kaha aor kisi ne radd na kia.

 

AOR

 

Ye riwayat wo Madni Khuzai apne madni uncle se

Woh Imam Jafar Sadiq Madni se

Woh Imam Baqir Madni se

Woh Imam Zainul Aabideen se

Woh Hazrat Maimoona Madni se bian kar rahe hain

to Riwayat MUSTAQEEM hoi.

ابن عدی نے کہا ہے کہ یہ راوی مالک سے اور اہل مدینہ سے روایت کرتا ہے اس کی عام احادیث مستقیم ہوتی ہیں

ابن عدی نے یہ نہیں کہا اس کی اہل مدینہ سے روایات مستقیم ہوتی ہیں

 

اور اس راوی کے انکل کا بھی کوئی حال معلوم نہیں یعنی یہ مجہول الحال ہے

 

 

محترم جناب عقیل صاحب

جرح اور تعدیل کے حوالے سے چار اقوال ہیں

اب زیادہ تکنیکی باتیں کیوں برداشت کرلیں؟

 

ان اقوال میں سے پہلا قول زیادہ مشہور ہے

تو آپکا جرح مبہم پیش کر کے روایت کے ضعیف ہونے کا قول آپ کی اپنی بات سے جواب پا گیا!۔

زیادہ تکنیکی باتیں آپ کے اصرار پر برداشت کیں

بے شک پہلا قول زیادہ مشہور ہے کیونکہ کتب میں یہی لکھا ہے اس لئے میں نے کتب کا قول لکھ دیا ہے

 

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔ بریلوی ،دیوبندی ، اہل حدیث یہ سب مخالف کی پیشکردہ جرح کو توڑنے کے لئے اس قول کا استعمال کرتے ہیں

لیکن خود مخالف پر جرح کرتے ہوئے اکثر جروحات مبہم سے ہی کام لیتے ہیں ۔

یہ چیز بھی مد نظر رہے کہ جروحات کا غالب حصہ مفسر نہیں ہے

یہ انکو مضر جن کا دارومدار محض روایات اور انکی سندوں پر ہے۔

آپکا یہ جواب آپکے پہلے استدلال کو باطل کرنے کو کافی ہے۔

 

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

جب کسی راوی پر جرح بھی ہو اور تعدیل بھی تو اس حوالے سے جمہور علما، و محدثین کے نزدیک جرح مقدم ہو گی

میں خود تو اس پر ابھی کلام نہیں کرتا ، آپ نیچے دئیے گئے امیجز کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ آپ نے اس بات کا جواب نہیں دیا اب تک ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘۔اس کے بعد بھی ’’بخاری پرستی‘‘ کا کیا کہیں گے؟

جب آپ نے ابھی کلام ہی نہیں کیا تو میں کیا عرض کروں

باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟ اس کا جواب کوئی بخاری پرست ہی دے سکتا ہے اور غالبا ان سب کا جواب کسی نے دیا بھی ہوا ہے ۔

واقعی ہماری دلیل فعل صحابی ہی تھی لیکن مجرد یہ روایت نہیں۔ لیکن اگر معجزۂ رسول یا کرامتِ صحابی کو دلیل بنایا جائے تو بھی ہمیں کچھ نقصان نہیں ہے۔

امام زرقانی علیہ الرحمہ کا آپ بار بار حوالہ دے رہے ہیں تو اُن کے حوالے سے جو بات آپکو درست نہیں لگ رہی ، بادلیل بتائیں۔

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے جب کوئی اور پیش کریں گے تو اس پر بات ہو گی

امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

سند تو مستقیم ثابت ہو چکی اور امام بزار کی سند تو حسن ہے!۔ دیگر اجلہ محدثین کے نام نظر نہیں آرہے؟ پچھلے پیج پر پوسٹ نمبر ۵ میں سے دیکھو۔ اور اگر ضعیف بھی ہو تو ہمیں اس سے جو نقصان ہوگا ، اسکی وضاحت آپ کے ذمے ہے۔

 

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

۔

حضرت عمر نے قاصدوں اور ڈاک کا نظام

جو نظام بنایا تھا اس کم از کم خود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں تھی

بس نگاہ اتھاتے اور کسی بھی محاذ جنگ کو ملاحظہ فرما کر ہدایات جاری کر دیا کرتے

آپ تقویۃ الایمان میں مذکور اس حدیث کے حوالے سے بتا دیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ڈاک کا نظام کیوں جاری فرمایا جبکہ ہونا تو یوں چاہیے تھا کہ ان اسباب سے بالکل قطع تعلق ہو جاتے ، سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مبارک افعال والی آپکی بات کا جواب میں دے دوں گا۔

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

 

اور جہاں تک بات ہے امام ابن حجر کے فتح الباری میں سکوت کی تو انہوں نے جن احادیث و روایات پر فتح الباری میں سکوت کیا ہے، ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

یہ آپ کو کس نے کہا کہ انہوں نے صرف فتح الباری میں اسے پیش کیا ہے؟؟

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

 

اگر آپ اس روایت کو ضعیف ہی کہنے پر مصر ہیں تو بھی ہمارا موقف صحیح ثابت ہوگا کیونکہ ضعیف احادیث فضائل اعمال میں بالاتفاق معتبر ہیں۔

اور اگر اس ضعیف روایت سے آپ کے ہاں فعل صحابی ثابت نہیں ہوتا تو معجزہ کا اثبات آپ کو بالاتفاق قبول ہے اور یہ بھی ہمارے موقف کی صحت پر دال ہے۔

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

 

باقی آپ نے جو امیجز لگائے ہیں اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کے جا،الحق سے سکین لگائے ہیں ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم جناب عقیل صاحب

زیادہ تکنیکی باتیں آپ کے اصرار پر برداشت کیں

بے شک پہلا قول زیادہ مشہور ہے کیونکہ کتب میں یہی لکھا ہے اس لئے میں نے کتب کا قول لکھ دیا ہے

 

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔۔ بریلوی ،دیوبندی ، اہل حدیث یہ سب مخالف کی پیشکردہ جرح کو توڑنے کے لئے اس قول کا استعمال کرتے ہیں

لیکن خود مخالف پر جرح کرتے ہوئے اکثر جروحات مبہم سے ہی کام لیتے ہیں ۔

 

 

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

 

جب آپ نے ابھی کلام ہی نہیں کیا تو میں کیا عرض کروں

باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟ اس کا جواب کوئی بخاری پرست ہی دے سکتا ہے اور غالبا ان سب کا جواب کسی نے دیا بھی ہوا ہے ۔

 

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے جب کوئی اور پیش کریں گے تو اس پر بات ہو گی

امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں کہ یہی کنفرم نہیں ہو رہا کہ راجز نے اصل میں کیا کیا تھا ؟

جو کچھ اس کے ذہن نے سوچا اللہ نے وحی کے ذریعے بتا دیا 

 

یا اس نے اپنے دوستوں سے گفتگو کی

 

یا

 

 یہ سارا کچھ دوران سفر کیا تو اللہ تعالٰی عزوجل نے انکی آمد کے تین دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنوا دیا  

 

اب یہاں سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دور دراز سے پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کا عقیدہ رکھتے تھے ؟؟؟؟

 

 

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

 

 

 

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

لیکن عملی طور پر اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی النجم: ۳۸

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی 

 

 

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

 

قرآن مجید فرقانِ حمید پر نہیں ہے؟؟ اقوالِ امام پر نہیں ہے؟؟ آپ کے اصولِ حدیث پر ہرگز نہیں ہے۔

دوسرے جملہ کا جواب اوپر ہو گیا ہے ۔

ایسا نہیں ہوا۔

 

باقی جو آپ نے امجیز لگائے ہیں اس کا میرے سے کیا تعلق ؟

بالکل آپ سے ہی تعلق ہے۔ جب آپ کے نزدیک جرح مقدم ہے تو میری پیش کردہ روایات کے جواب بھی دیں۔ خود امام بخاری ایک ہی راوی پر جرح بھی فرما رہے ہیں اور پھر اس سے روایت بھی کر رہے ہیں۔ کیا انکو جرح کا تعدیل پر مقدم ہونا پتہ نہیں تھا؟؟؟

مجھے تو ابھی تک یہی مجرد روایت ہی نظر آ رہی ہے

آپکی نظر کا علاج بھی موجود ہے۔ پچھلے پیج پر جا کر کلکِ رضا بھائی کی اسی پوسٹ جہاں سے معاملہ شروع ہوا تھا، کو ایک بار پھر دیکھیں۔

امام زرقانی کی ان توضیحات کو دیکھ لیں

دیکھ چکے ہیں ، اسی لیے تو جواب بصورتِ امیجز اوپر دیا گیا ہے۔ آپ ہمارے پیش کردہ حوالوں کو غور سے پڑھ ہی نہیں رہے ہیں۔ میں دوبارہ کہتا ہوں  کہ امام زرقانی کی توضیحات پر آپکو جو اعتراض ہے، واضح طور پر لکھیں۔

اب راجز نے فرض کیا کوئی اشعار راستے میں پڑھے بھی تھے تو یہ کیسے معلوم ہو گا کہ وہ کس نیت و ارادے سے پڑھ رہا تھا 

کیا واقعی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا اور مدد مانگنا مقصود تھا 

یا

یہ صرف اس کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ تھا ۔

جب بات ہو شرک کی تو اس وقت صرف ہمارے فعل سے استدلال کیا جاتا ہے اور ہماری نیت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اب نیت و ارادہ کا دخل کیسے تسلیم کر لیا گیا؟؟ (آپ سے یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ آپ ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ والی بات سے خود کو بری نہیں کہہ رہے)۔

آپ یہ بھی بتائیں کہ آپ کسی کے نیت و ارادے پر کیسے مطلع ہوں گے؟؟

ہم تو کہتے ہیں کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا اور یہی بات  آپ اپنی پوسٹ نمبر ۹ میں ان الفاظ میں تسلیم کر چکے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے تو ثابت ہوا کہ سامنے اشعار کا پڑھا جانا آپکو واضح طور پر تسلیم ہے (اور دور سے ’’پڑھا جانا‘‘ بھی جناب نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ سے پلٹا کھاتے ہوئے تسلیم کیا ہے اپنی پوسٹ نمبر ۲۳ میں اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی  آپکی اس بات سے اس کے علاوہ کیا ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہوجائے (جو ہو چکی) تو آپ مان لیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینۂ منورہ میں رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ کی وہ بات سن لی تو اسکا یہ مطلب ہوا کہ وہ بات مدینہ شریف سے دور رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ نے کہی تھی!!۔

 

 

  آپ  اشعار کا ترجمہ پیش کردیں ، اس سے خود ہی ثابت ہو جائے گا کہ ان کا مقصد آخر تھاکیا!!!۔

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ان کے اضطراب کا اظہار تھا تو پہلے اپنے اس خیال کو ثابت تو کریں اور اگر اسی پر بلا دلیل اصرار ہے تو بھی ہمیں کیا نقصان؟ کیونکہ اس طرح تو پھر بھی ثابت کہ صحابۂ کرام اپنے اضطراب میں رسول اللہ ﷺ سے ہی مدد مانگتے تھے اور ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہمارا طریقہ ہے۔

 

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

اس سے ہمیں کیا نقصان ہے؟؟ آپ اشعارِ مذکورہ کا ترجمہ پیش کریں اور ثابت ہو جائے گا کہ صحابۂ کرام مصیبت کے وقت کس سے مدد طلب کرتے تھے۔ اس میں آپکو کیا خاص بات لگتی ہے کہ اشعار سامنے پڑھے گئے یا دور سے؟؟؟ پڑھے تو گئے ناں۔ دور سے پڑھنا اگر روایت ضعیف سے مروی ہی مانو تو بھی ظنی عقائد میں ہمارا موقف ثابت ہوگا۔

 

تقویتہ االایمان کا میں جواب دہ نہیں ہوں

آپ نے اسکا جواب تو نہیں دیا کہ ’’آپ غیر مقلدین کی سی روش پر ہیں‘‘ تو اس بات کا جواب آپ کو دینا پڑے گا۔ ایک بار پھر ثابت ہوا کہ آپ پورا چھپتے بھی نہیں اور سامنے آنا بھی جناب کو گوارا نہیں۔

 

بات تو امام ابن حجر کے سکوت کی ہے چاہے اسی روایت پر فتح الباری میں سکوت کریں یا کسی اور کتاب میں اور جن پر ان کا سکوت ہے ان میں ضعیف اور ضعیف جدا بلکہ موضوع روایات بھی ہیں۔

ایسی روایت جو وہ فتح الباری میں بھی لا رہے ہیں اور الاصابہ میں بھی ، جرح دونوں جگہ نہیں کی۔ دیگر محدثین کے حوالے سے بھی لا رہے ہیں اور ان کی اسناد پر بھی جرح نہیں کی۔ روایت کا مستقیم ہونا بھی ثابت ہے اور تعدیل کا تقدم بھی ۔ ۔ اب آپکا دعویٰ آپ ہی کے ذمے۔ جبکہ جرحِ مبہم کا نامقبول ہونا ہی آپکے ہاں مقبول ہے۔ اور بخاری پرستی بھی آپ کے بقول آپ میں نہیں تو بخاری کا انہیں منکر الحدیث کہنے پر روشنی ڈالتے جائیں۔ تعدیل مقدم ہے جب جرح و تعدیل متعارض ہوں (ورنہ اوپر پیش کیے گئے امیجز کا جواب دیں) اور آپ نے اکثر جگہ جرحِ مبہم کا سہارا لیا۔ اورآپ کو راوی پر جرح نظر آتی ہے ، تعدیل نہیں!!۔
 
آپ نے میرے تمام سوالوں کے جواب نہیں دئیے اور نہ میری آخری پوسٹ کو صحیح طرح پڑھا۔آپ اپنی پہلی روش بدلیں کیونکہ آپ کو ابھی تک اصل نزاعی امر کا علم ہی نہیں ہے۔ خواہ مخواہ وقت کے ضیاع کا باعث نہ بنیں۔ آپ اپنا موقف پیش کریں غیر محتمل انداز میں کہ مقربینِ خدا سے استمداد شرعاََ جائز ہے یا نہیں چاہے وہ قریب  ہوں یا دور؟ پہلے اسی بات کے متعلق اپنا نظریہ بتائیں۔ جب تک اس بات کا اور میرے پوچھے گئے سوالوں کا جواب نہیں دیں گے ، میری اور آپکی بحث یہیں رکی رہے گی۔
میں ثابت کر چکا ہوں کہ
۱
آپ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان اشعار کا پڑھا جانا مان چکے (آپکی پوسٹ نمبر ۹)۔
۲
آپ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں دور سے ان اشعار کا پڑھا جانا بھی مان چکے بشرطیکہ ضعفِ روایت نہ رہے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳)۔تو ہم نے روایت کا غیر ضعیف ہونا ثابت کر دیا۔
۳
ہمارا مقربینِ خدا تعالی سے استمداد کا نظریہ ظنی ہے اور اس کے اثبات کے لیے تو محض عدمِ ممانعت ہی کافی ہے (میری لاسٹ پوسٹ)۔
۴
آپ کو ابھی تک اصل مبحث کا پتہ ہی نہیں ہے ، اسی لیے تو کبھی بحثِ معجزہ میں پڑ جاتے ہیں (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور  ۲۳)اور کبھی کرامت کی بحث میں (آپکی پوسٹ نمبر ۲۹)۔
۵
 نفئ استمداد میں آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے (ورنہ میرے مطالبے (میری لاسٹ پوسٹ) پر پیش کرتے)۔
۶
آپ کے بقول زیادہ تکنیکی بحث بھی نہیں ہونی چاہیے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۵) تو اب آپکا راویوں پر جرح کرنا آپ کی اپنی پالیسی کے خلاف ہے۔
۷
آپ کا مقصد اس سب سے کوئی تحقیق حق نہیں ہے کیونکہ آپ نے اگر اس روایت کو ضعیف ہی سمجھا تھا تو دیگر بہت سے ذرائع سے اسکی تقویت ہم نے بیان کر دی ، آپ نے جرح پیش کی تو ہم نے تعدیل سامنے لا کر رکھ دی ، اگر آپ تحقیق کی راہ پر ہوتے تو ہمارے دلائل کو دلائل سے رد کرتے مگر آپ دلیل کی بجائے ادھر ادھر پھرنے میں مصروف ہیں۔ اور اگر روایت ضعیف ہی مانتے تو بھی ظنی عقائد میں اسے کیوں معتبر نہیں مانا جا سکتا جبکہ ہم نے اسی حوالے سے ادلہ سے استمداد کا اثبات سامنے رکھا ہے۔
۹
آپ خود کو ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ سے ہٹانا نہیں چاہتے ورنہ زبانی کلامی ہی کچھ اس پر کہہ دیا ہوتا۔
۱۰
آپ اس روایت سے معجزہ (آپکی پوسٹ نمبر ۲۱ اور ۲۳) اور اپنی ایک اور پوسٹ میں فعلِ صحابی کو کرامت مان چکے (آپکی پوسٹ نمبر ۲۹) تو اس سے بھی ہمارا نظریہ ہی ثابت ہوتا ہے۔ (کیونکہ آپکو یقیناََ معجزہ و کرامت کی حقیقت کا بھی علم نہیں ہے)۔
 
ویسے بھی قبلہ علامہ سعیدی صاحب اب آپ کو دیکھیں گے اور خاص میرا آپکو جواب دینا لازم نہیں۔
Edited by AqeelAhmedWaqas

Share this post


Link to post
Share on other sites

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

 

باقی آپ نے جو امیجز لگائے ہیں اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کے جا،الحق سے سکین لگائے ہیں ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

ضعیف حدیث فضائل اعمال میں معتبر ہے عقائد کے باب میں نہیں

کونسے عقائد کے باب میں معتبر نہیں ہے؟ اور ہمارا استمداد کا عقیدہ کس باب میں آتا ہے؟؟

 

ان میں اکثر کا تعلق وسیلہ سے ہے یا ظاہری طور پر اسمتداد سے ہے جو ہمارا موضوع ہی نہیں

واقعی آپکو ابھی تک موضوع کا ہی پتہ نہیں ہے۔ یہ ’’ظاہری طور پر‘‘ استمداد کیا ہوتی ہے؟؟

حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو وسیلہ سمجھتے تھے یا مستقل متصرف؟؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب مصطفوی صاحب


میں بھی یہی کہہ رہا تھا کہ اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو فضائل میں معتبر ہے،راوی مجہول ہو یا متن میں اضطراب


ہو تو حدیث موضوع نہیں ،ضعیف ہوتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ موضوع کہہ رہے ہو۔


آپ یہ بتائیں کہ مدینہ منورہ میں فرمانا کہ تیری مدد کی گئی، اس بات سے حضور نبی کریم ﷺ کی سماعت


کی فضیلت ثابت ہوتی ہے یا نہیں  ؟


Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب مصطفوی صاحب

میں بھی یہی کہہ رہا تھا کہ اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو فضائل میں معتبر ہے،راوی مجہول ہو یا متن میں اضطراب

ہو تو حدیث موضوع نہیں ،ضعیف ہوتی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ موضوع کہہ رہے ہو۔

آپ یہ بتائیں کہ مدینہ منورہ میں فرمانا کہ تیری مدد کی گئی، اس بات سے حضور نبی کریم ﷺ کی سماعت

کی فضیلت ثابت ہوتی ہے یا نہیں  ؟

 

محترم خلیل رانا صاحب

میرا مکمل کامنٹ یہ تھا کہ

میں نے اس روایت کو موضوع تو کہا ہی نہیں صرف ضعیف کہا ہے

 

اور بقول آپ کے ضعیف حدیث فضائل اعمال میں جائز ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن یہ بات آپ بھی تسلیم کریں گے کہ ضعیف حدیث عقائد کے اندر قبول نہیں ہوتی

 

اور یہاں اس ضعیف روایت سے اثبات عقیدہ کیا جا رہا ہے

 

رہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سماعت کا تو یہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اس سے نبی مکرم کا معجزہ ثابت ہو سکتا ہے اگر اس ضعیف  حدیث کو فضائل اعمال کے علاوہ صرف فضائل میں بھی حجت مان لیا جائے

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم عقیل صاحب

برائے مہربانی میری پوری پوسٹ کو کوٹ کرنے کی بجائے صرف متعلقہ لائن کو کوٹ کر کے جواب دے دیا کریں جیسا کہ آپ پوری پوسٹ کوٹ کرنے کے بعد کرتے ہیں ۔

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی النجم: ۳۸

کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی

 

تو پھر امام بخاری کا بوجھ آپ میرے پر کیوں ڈال رہے ہیں اگر انہوں نے کسی پر جرح کر کے پھر خود ہی اس سے ہی روایت کی ہے تو اس کا جواب دہ میں کیسے ہوا؟

سندوں اور روایات کے علاوہ آپ کا دارومدار  اور کس چیز پر ہے ؟؟؟؟

 

قرآن مجید فرقانِ حمید پر نہیں ہے؟؟ اقوالِ امام پر نہیں ہے؟؟ آپ کے اصولِ حدیث پر ہرگز نہیں ہے۔

 

بات تو حدیث کے حوالے سے چل رہی تھی ورنہ قرآن پر تو سب ہی دارو مدار رکھتے ہیں صرف آپ نہیں

اور میری معلومات کے مطابق عقائد میں اقوال امام کی تقلید نہیں ہوتی ۔

جب بات ہو شرک کی تو اس وقت صرف ہمارے فعل سے استدلال کیا جاتا ہے اور ہماری نیت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے ، اب نیت و ارادہ کا دخل کیسے تسلیم کر لیا گیا؟؟ (آپ سے یہ بات اس لیے کہی جا رہی ہے کہ آپ ’’غیر مقلدین کی سی روش‘‘ والی بات سے خود کو بری نہیں کہہ رہے)۔

آپ یہ بھی بتائیں کہ آپ کسی کے نیت و ارادے پر کیسے مطلع ہوں گے؟؟

 

 

میں نے شرک کی بات ہی نہیں کی

میں کیسے کسی کی نیت پر مطلع ہو سکتا ہوں جب تک وہ خود اپنی نیت کا اظہار نہ کرے

ہم تو کہتے ہیں کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا اور یہی بات  آپ اپنی پوسٹ نمبر ۹ میں ان الفاظ میں تسلیم کر چکے بلکہ فتح الباری میں تو لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ اشعار پڑھے گئے تو ثابت ہوا کہ سامنے اشعار کا پڑھا جانا آپکو واضح طور پر تسلیم ہے (اور دور سے ’’پڑھا جانا‘‘ بھی جناب نے اپنی پوسٹ نمبر ۹ اور ۱۱ سے پلٹا کھاتے ہوئے تسلیم کیا ہے اپنی پوسٹ نمبر ۲۳ میں اگر یہ حدیث صحیح ثابت بھی ہو جائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ کے معجزات میں سے شمار کیا جائے گا  کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ ہی میں بغیرکسی ظاہری واسطہ کے عمرو کی بات سنوا دی  آپکی اس بات سے اس کے علاوہ کیا ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث غیر ضعیف ثابت ہوجائے (جو ہو چکی) تو آپ مان لیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینۂ منورہ میں رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ کی وہ بات سن لی تو اسکا یہ مطلب ہوا کہ وہ بات مدینہ شریف سے دور رہتے ہوئے ہی حضرت عمرو بن سالم رضی اللہ عنہ نے کہی تھی!!۔

 

آپ کا کہنا کہ فی الواقع مدد مانگنا ہی مقصود تھا تو یہی بات تو ثبوت طلب ہے جس کا آپ ثبوت نہیں دے رہے

 

آپ میری باتوں کو مکس کر جاتے ہیں ہر بات اپنے مقام اور سیاق و سباق کے ساتھ ہوتی ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنا اور مدد طلب کرنا تو محل نزاع ہی نہیں

اصل ثبوت تو اس بات کا دینا ہے کہ راجز نےدوران سفر اشعار پڑھے اور بطور مدد مانگنے کے پڑھے

اور میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں جسے آپ میرا پلٹا کھانا کہتے ہیں کہ اگر یہ سارا واقع ایسا ہی جیسا آپ بیان کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو بھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہو گا

اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف ان کے اضطراب کا اظہار تھا تو پہلے اپنے اس خیال کو ثابت تو کریں اور اگر اسی پر بلا دلیل اصرار ہے تو بھی ہمیں کیا نقصان؟ کیونکہ اس طرح تو پھر بھی ثابت کہ صحابۂ کرام اپنے اضطراب میں رسول اللہ ﷺ سے ہی مدد مانگتے تھے اور ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہمارا طریقہ ہے۔

 

میں تو سوال کر رہا ہوں کہ کیا یہ ان کے اضطراب کا اظہار تھا ؟

تو میں کیوں ثابت کرتا رہوں ؟

اظہار اضطراب میں کب دوسرے کو سنانا لازم ہوتا ہے ؟

امام ابن حجر نے جس روایت کو حسن موصول کہا ہے وہ روایت ہی اور ہے اور اس میں راجز کے مدینہ شریف ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پڑھنے کا ذکر ہے

اس سے ہمیں کیا نقصان ہے؟؟

 

نقصان یہ ہے کہ آپ حسن موصول کے الفاظ کواس روایت سے منسلک کر رہے تھے جس سے آپ سارا استدلال فرما رہے ہیں لیکن یہ الفاظ اس روایت سے متعلق نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites
 
آپ نے میرے تمام سوالوں کے جواب نہیں دئیے اور نہ میری آخری پوسٹ کو صحیح طرح پڑھا۔آپ اپنی پہلی روش بدلیں کیونکہ آپ کو ابھی تک اصل نزاعی امر کا علم ہی نہیں ہے۔ خواہ مخواہ وقت کے ضیاع کا باعث نہ بنیں۔ آپ اپنا موقف پیش کریں غیر محتمل انداز میں کہ مقربینِ خدا سے استمداد شرعاََ جائز ہے یا نہیں چاہے وہ قریب  ہوں یا دور؟ پہلے

 

میرے بھائی

میں اپنا موقف پیش کئے دیتا ہوں

میں جائز ناجائز کے چکر میں نہیں پڑھتا لیکن میرے علم کی حد تک

مقربین خدا سے حیات میں یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کی قرآن و حدیث سے کوئی مستند اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے

 

 

 

ایک اور بات کنفرم کرتے جائیں تاکہ آئندہ کبھی بوقت ضرورت کام آ سکے

 

آپ کے نزدیک جرح مبہم قابل قبول نہیں ہے ؟

 

جرح و تعدیل میں سے آپ تعدیل کو مقدم کرتے ہیں ؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

 

میں جائز ناجائز کے چکر میں نہیں پڑھتا لیکن میرے علم کی حد تک

مقربین خدا سے حیات میں یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کی قرآن و حدیث سے کوئی مستند اور صحیح دلیل موجود نہیں ہے

 

 

 

 

عجیب گھن چکّر ہیں آپ۔ مقربین خدا سے حیات یا بعد از وفات دور سے مدد مانگنے کا جائز یا ناجائز ہونا آپ کے نزدیک اہم نہیں، پھر ان تمام تر لن ترانیوں کا مقصد کیا ہے؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Sunni bhaaeiyo sa mari iltijaa ha ka jab tak ye sahab jwaab nah da pocha gaiy swalat ka,
enhe edhaar sa bhaagna nah da.





مصطفوی جی۔

،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔ ،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔،،۔۔

:mellow: :mellow: آنکھیں ترس گئی ہیں تیرے جوابوں کے انتظار میں :mellow: :mellow:

۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے پوچھے گئے سوالوں کو تو ایسا ہضم کیا جیسے گدھے کے سر سے سینگ یا جیسے دیوبندی نے کوے کو یا جیسے غیر مقلد نے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو (لفظ لکھ نہیں سکتا میں کیونکہ آپکو یقینا برا لگے گا اور میرے دوسرے دوست تو سمجھ گئے ہوں گے :P :P :P

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ایک نہایت نہایت اہم بات جو پورا ٹاپک پڑھ کر اظہر من الشمس ہوئی ہے کہ جناب جی کو جو سوال سمجھ نہیں آتا یا جواب اپنے خلاف جاتا ہے یا اپنا بھانڈا پھوٹتا ہے ، اسے قطعا بھلا دیتے ہیں اور مڑ کر اسکا جواب دینا خلاف شان سمجھتے ہیں!!۔۔،،۔۔

۔۔۔۔،،۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ آپکی کون کون سی پوسٹ کوٹ کروں کیوں کہ تقریبا آپ کی ہر پوسٹ پر ایک مکمل مضمون لکھا جا سکتا ہے ،، یہ الگ بات کہ وہ مضمون آپکو بھائے گا نہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے لگ رہا ہے کہ آپ غیر مقلدین کی کوئی کتاب گھول کر پی بیٹھے ہیں :) اور انہی کے جیسے راگ الاپ رہے ہیں ۔ بالکل ٹھیک کہا قادری سلطانی بھئی نے کہ ایک غیر مقلد نام نہاد عالم نے اس روایت پر جرح پیش کی اور آپ نے وہی کی وہی اٹھا کر ہمارے سر کر دی۔۔۔۔۔۔ شاید اسی لیے تو تفویۃ الایمان کا جواب نہیں دیتے ، کہیں چھپی چھپائی محبتیں تو نہیں ان سے :excl: :excl: ۔۔

۔۔۔۔۔

خیر آپ اب اڑے ہوئے ہیں کہ ماننا نہیں ہے جو مرضی ہو جائے۔۔۔ ہر پوسٹ پر وہی گھسی پٹی بات تھونپ دیتے ہیں۔ خود ہمارے سوالوں کو ڈیپوذٹ کرا لیتے ہیں ، اب ود ڈرا کرا ہی لیں ،۔

۔۔۔۔

آپکی بے بسی آپ کی تحریر سے واضح ہے۔۔کسی ایک بات پر آپ رہتے ہی نہیں ہیں یا رکھتے خود نہیں ہیں یہ تو آپکو پتہ۔۔۔

۔۔۔۔

میرا کہنا یہ ہے کہ آپ یہ تو بغیر رد کیے مانتے ہیں کہ نور من نور اللہ طیب طاہر قاسم عاقب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دربار عالیشان میں سامنے ہی وہ اشعار پڑھے گئے۔۔۔آپکا اتنا ماننا ہی اس حد تک ہے کہ وہابیت کا مکروہ محل منہدم ہو جائے۔۔ویسے عقیل بھئی کا مطالبہ غلط نہیں ہے لگا دیں ترجمہ ان اشعار کا آپ۔۔

۔۔۔۔۔

میرے سید سعیدی قبلہ کی پوسٹ پر پر آپکا جواب پڑھ کر میری ہنسی روکے نہیں رک رہی۔ :):P:) ۔آپ اپنی صحبت تبدیل کریں میں اتنا آپ کو ضرور کہوں گا۔۔۔

۔۔۔۔

بر سبیل تنزل علی طریق التسلیم یہ روایت نہایت درجہ ضعیف، اتنا ضعیف کہ بیان سے باہر ، راویوں پر وہ وہ جروحات کہ شمار سے باہر، مقام استدلال میں بالکل بیکار پھر بھی اس سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا۔ کیا ہمارا مستدل صرف یہی روایت ہے۔۔ اور اوپر ایک پوسٹ میں آپکا یہ کہنا کہ اقوال امام میں تقلید نہیں ہوتی مطلق ہے یا مقید؟

۔۔۔۔

جرح و تعدیل کے بارے آپکا عقیدہ کیا ہے۔۔ کوئی امام جرح فرما دے تو اسے ماننا ضروریات دین سے ہے یا نہیں۔۔ اور ساتھ تعدیل کا بھی بیان کر دیں تو نوازش ہوگی۔۔ ویسے آپ جواب دینے کیلئے دماغ کی بچت بہت کرتے ہیں۔۔

۔۔۔۔

آپ کی فاسد تاویلیں دیکھی ہیں اس بارے میں۔ پتہ نہیں صحابی کے فعل کا مقصد اضطراب کا اظہار تھا یا ان کا نظریہ ایسا نہیں تھا۔۔ تو اگر ایسے تاویلاتی گھوڑے دوڑانے تھے پھر ہم سے دلیلوں کا مطالبہ چہ معنی۔۔

ویسے آپکو چند نمونے دکھاتا ہوں کہ آپکی تاویلات جب آپ کے اوپر سیٹ کی جائیں تو کیا کہیں گے انہیں۔۔

!!!

محدثین نے راوی کو ضعیف تو کہا مگر پتہ نہیں جسمانی لحاظ سے ضعیف کہا یا دماغی لحاظ سے یا مدد نہ ملنے کے لحاظ سے!۔

!!!

مصطفوی جی اسلامی محفل پر اسلامی پوسٹیں تو کرتے ہیں مگر پتہ نہیں یہ کوئی انسان ہیں بھی سہی یا نہیں یا کیا پتہ کوئی جن ہوں یا کوئی روبوٹ ہوں !۔

!!!

اپنا نام مصطفوی تو رکھ لیا مگر پتہ نہیں مصطفے کمال پاشا کی نسبت سے رکھا یا کسی نئے فرقے کی محبت میں ایسا کیا یا سیدھے سادھوں کو دھوکہ دینے کیلئے!۔

!!!

اپنے بارے میں مصطفوی جی نے حتی الوسع بتایا تو ہے مگر کیا پتہ یہی مصطفوی میاں مراد ہے یا کوئی اور پھر کیا پتہ سچ بولے یا جھوٹ اور پتہ نہیں انکا مقصد یہ سب بتا کر غیر اللہ سے ہمدردی وصول کرنا تھا یا انکی آنکھوں میں دھول جھونکنا !۔

!!!

باتیں تو غیر مقلدین جیسی کرتے ہیں پتہ نہیں اصل چہرہ دکھانے کی ہمت نہیں ہے ان میں، یا دل میں نفاق ہے!۔۔

!!!

انکار تو استمداد کا کر رہے ہیں مگر پتہ نہیں اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ، کیا پتہ یہ خود دلی طور پر ایسا نہیں کرنا چاہتے یا کرنا چاہتے ہیں پر دماغ اجازت نہیں دیتا ، اور یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ ان کے اضطراب کے اظہار کا طریقہ ہو یا مسلمانوں میں تفریق پھیلانا چاہتے ہوں!۔۔۔

!!!

ہر روز مصطفوی جی کھانا کھاتے ہیں اور پانی پیتے ہیں ، آج تک انکا یہی معمول رہا ہے پگر پتہ نہیں ان کے پاس کوئی قطعی الثبوت قطعی الدلالت نص ہے کہ جب پیاس لگے پانی پی لو بھوک لگے کھانا کھا لو ، کیا پتہ پیاس لگنے پر پانی پینے کو فرض سمجھ کر پیتے ہیں یا انہوں نے عقیدہ سیٹ کر لیا ہے کہ جونہی پیٹ میں چوہے دوڑیں جھٹ سے کھانا کھانا ہے ، کیا پتہ کھانا نہ کھانے کو حرام سمجھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ اور ویسے بھی ان کے ان کاموں سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے پانی پیا یا خوراک کھائی ، بالفرض اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے انکو پانی پیتے یا کھانا کھاتے دیکھ لیا تو بھی محض اتنا ثابت ہوگا کہ پانی ان کے معدے میں پہنچا اور خوراک ان کے پیٹ میں گئی ، اس سے کیسے ثابت ہوتا ہے کہ مصطفوی جی نے پانی پیا اور خوراک بھی کھائی!!!!!۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو جناب جی کیسی لگی اوپر والی باتیں۔ اور کچھ نہیں یہ تو صرف آپکی اپنی ایک پوسٹ آپ پر منطبق کر دی میں نے۔۔۔معذرت اگر برا لگا،، مگر اس صورت اگر عقیدے ٹھیک ہوں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

کافی وقت لیا جناب کا میں نے ،، میں اس انتظار میں ہوں کہ کس دن آپکے جوابات میرے سوالوں پر کا درشن ہوگا ،، مگر مجھے امید مبہم ہی ہے۔۔۔۔ اوہ سوری مبہم تو آپکے ہاں سب پربھاری ہے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج میں نے ایک ٹاپک دیکھا جس میں میرے سید سعیدی صاحب نے دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں نجدیت کی ، اسمیں سے ایک لائن (خالص اپنے لفظوں میں) کوٹ کیے بنا میں نہیں رہ سکتا اور یہ ایسی بات انہوں نے لکھی کہ نجدیت کا سمندر تحریری لائن کے کوزے میں آگیا۔۔

قرآن میں سے متشابہات ، حدیث میں سے منسوخ مسائل اور فقہ میں سے غیر مفتی بہ اقوال جمع کر کے اپنا مذہب سیٹ کرنا ہی نجدیت کا طریق ہے۔۔۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

اگرچہ یہ استمداد کا نظریہ ایسا ہے کہ اگر اسکا انکار بھی کیا جائے تو ایسا شخص کسی سخت حکم کے انڈر نہیں آتا بصورت صحت عقائد و تسلیم دیگر ضروریات دین و اہل سنت۔ مگر میرے خیال میں ایسے شخص کا بہت سی موذی مرضوں (مثلا وہابیت وغیرہ) کے شکار ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے ، مگر کسی چیز کا امکان اس کے وقوع کو لازم نہیں ہے۔۔۔

ں ں ں ں ں ں ں ں ں

میں آخری ایسی بات کر رہا ہوں کہ اگر آپ میں کچھ ۔۔۔۔۔ باقی ہے تو کوئی اہم قدم اٹھائیں گے۔۔۔۔

جناب جی! آپ کہتے ہیں کہ استمداد غیر اللہ پر ہمارے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں ہے تو اتنا تو ثابت ہوا کہ جناب جی کا عقیدہ استمداد غیر اللہ کی نفی کا ہے۔ آپ اپنے اسی عقیدے (غیر اللہ سے مدد مانگنا دور سے حرام ہے یا مکروہ ہے) پر صحیح دلیل پیش کر دیں جو ہماری دلیلوں کی طرح غیر صحیح نہ ہو (کیونکہ میرے بھائیوں کی دی گئی دلیلیں تو غیر صحیح ہیں تمہارے نزدیک) ، جس میں ہماری روایت کی طرح احتمال نہ نکلتے ہوں (کیونکہ میرے بھائیوں کی دی گئی دلیلیں تو محتمل ہیں تمہارے مطابق)، جو اپنے ثبوت میں بھی قطعیت کے درجہ پر ہو اور اپنی دلالت میں بھی قطعیت پر ہو۔ صرف ایک اس طرح کی دلیل لا دیں ، اور آپ سے کچھ نہیں کہوں گا میں ۔ ۔ ۔آپکو آپکی پوری زندگی تک کا وقت ہے بلکہ آگے فروع کو یہی ایسی دلیل لانے کی وصیت کر سکیں تو بھی قبول۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

 

جناب میں نے کب کہا کہ آپ اس حدیث کو موضوع کہہ رہے ہیں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ مجہو ل روایت اور اضطراب متن

سے بھی حدیث موضوع نہیں بلکہ ضعیف ہوتی ہے۔

ضعیف حدیث سے حضور ﷺ کی سماعت ثابت ہورہی ہے،آپ کہتے ہیں کہ یہ سماعت معجزہ ہے ، اَب آپ بتائیں کہ

اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک ایسا فرشتہ ہے جسے اس نے تمام مخلوق کی آوازوں کی قوت شنوائی دے رکھی ہے۔

آپ بتائیں کہ کیا یہ قوت سماعت ہر وقت ہوتی ہے یا معجزہ اور کرامت کی طرح عارضی؟

اسی طرح ایک اور حدیث ہے

جو بندہ دُرود پڑھتا ہے خواہ وہ کہیں ہو اس آواز مجھے پہنچ جاتی ہے۔

کیا یہ سماعت معجزہ کے طور پر عارضی ہے ؟

 

jlaul 1.jpg

jlaul 2.jpg

jilaul 3.jpg

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

برادر کشمیر خان صاحب

میں نے اپنی پوسٹ نمبر 16 میں آپ کے لئے ایک دعا کی تھی

دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کو شائستہ انداز میں گفتگو کرنے کی توفیق عطا فرمائے

 

لیکن ابھی شاید اس دعا کی قبولیت میں کچھ وقت لگے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

برادر کشمیر خان صاحب

میں نے اپنی پوسٹ نمبر 16 میں آپ کے لئے ایک دعا کی تھی

لیکن ابھی شاید اس دعا کی قبولیت میں کچھ وقت لگے گا

مصطفوی جی

پہلے جواب دیں

پھر دعائیں۔۔۔

سوالوں کا جواب دینے کی بجائے دوسری باتیں بہت اچھی بنا لیتے ہیں آپ۔۔

یہ ٹاپک آپ فضول میں پرولونگ کر رہے ہیں۔

یا حق مان جائیں یا جواب دیں سوالوں کا۔۔،۔

Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

(bis)

جلاء الافہام کی جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے

یہ حدیث اُردو ترجمہ غیر مقلد مولوی سلیمان منصور پوری والی اس کتاب پر حدیث نمبر ۴۵ہے

ناشر یعنی کتاب چھاپنے والے سے یا کتاب سیٹنگ کرنے والے سےغلطی ہوئی کہ اس نے اس کے

آخر میں نمبر ۱ ڈال کر نیچے حاشیہ میں لکھا کہ

ابن ابی عاصم نے اسے روایت کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں ضعف ہے

دراصل یہ تبصرہ اس سے پہلی حدیث نمبر ۴۴ کے متعلق ہے، اس حدیث سے متعلق نہیں

 

 

 

 

1.jpg

3.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم خلیل رانا صاحب

آپ نے درود شریف کے حوالے سے جو بات کہی ہے وہ موضوع بحث سے تعلق نہیں رکھتی

 

اس حوالے سے میری اہل حدیث سے جو گفتگو ہوئی تھی وہ میں اسی فورم پر پیش کر چکا ہوں  وہاں نظر دوڑا لیں

 

http://www.islamimehfil.com/topic/19770-%D8%B5%D9%84%D9%88%D8%A7%D8%AA-%D9%88%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%88%D8%B6%D9%88%D8%B9-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%DB%81%D9%84-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%AF%D9%81%D8%AA%DA%AF%D9%88/

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Rehan Raza
      https://www.youtube.com/watch?v=AKaD_SQn64g
       
    • By خاکسار
      Shirk our Touheed0.pdf
       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       

       
       
      مکمل موضوع منسلک PDF فائل کو ڈائونلڈ کر کے پڑھیں۔ شکریہ۔
       
    • By MuhammedAli
      Introduction:


      Recently [on 09 Nov 2014 - 5:55 PM] a heretic with the name of Zia Bashir created a thread on IslamiMehfil forum titled; 'Honorable Prophet Muhammad’s Invitation To Tawheed And Shirk Of Arabs.', which you can read, here. Brother Zia Bashir basically presented the following principles to indicate how a Ilah is made – which will be presented in my own words: ‘To believe any being has control over benefit and harm, or can alleviate every type of hardship/upsetting [matter] or has the power in the kingdom of Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize the means in the skies and earth (i.e. such as sends rain from clouds and grows crops from earth), is elevating the being to status of God. Or to believe a being grants sustenance, or is in charge of distributing sustenance and grants to which the being wills, or believing a being grants son/daughter, or a being is part of Allah (subhanahu wa ta’ala) as son/daughter, is elevating the being to status of God. Worshiping the being in any way (i.e. invoking a being for help) or believing the being is acting attorney/disposer of all [affairs of creation] is elevating the being to status of God. To give life to the dead, to [breath] life into a clay figurine is in power of Allah (subhanahu wa ta’ala), life and death’s owner is only Allah (subhanahu wa ta’ala) and to believe this power for anyone other then Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the being to status of god, it is polytheism.’ In response myself and other Muslims responded to him pointing out faults and incompatibility of his principles with teaching of Quran/Hadith. It became apparent to Muslims engaged in discussion with him that he does not understand the concepts of Islam which explain Tawheed/Shirk. Hence it was realized there is need for Islamic principles which should indicate how a creation is elevated to status of an Ilah. This effort is to fill the void felt during the discussion. Continuing, just when the tide turned against him and faults of his principles became apparent to him and strength of Islamic arguments forced him to retreat toward the principles of Muslims, he quit.
       
       
       
      1.0 - Linguistic Meaning Of The Word Ilah And Its Usage In Quran:

      Word Ilah commonly is translated to mean God but the actual meaning derived considering its root is; one deserving of worship (i.e. Mabud). Its equivalent singular ‘Ilahan’ and plural ‘Aalihatun’ have been used as synonyms for idols/idol. The evidence of this is when nation of Prophet Musa (alayhis salaam) reached a certain group of people who worshipped idols, they demanded Prophet Musa (alayhis salaam) create for them an Ilah (i.e. an idol to) which they can devout their acts of worship.[1] Also the word Ilah is synonym for Rabb (i.e. Sustainer) and Khaliq (i.e. Creator).[2]

      1.1 - Reasons Why Polytheists Took Idols As Ilah:

      The polytheists believed their idols have the power to benefit/harm and that they have the power to intercede and will intercede for them to Allah (subhanahu wa ta’ala) on the day of judgment.[3] On basis of this belief they believed their idol can be taken as an Ilah in meaning of; deserving worship. This establishes polytheists had certain belief on basis of which they believed their idols are worthy of worship.[4] In the belief of polytheists Ilah is encompassed by certain attributes and as a result they took the idols as objects of worship. Hence Ilah is not just one that is worshipped but one that possesses certain traits due to which it is worshipped.

      1.2 - Understanding Why The Muslims Take Allah (subhanahu wa ta’ala) as Ilah:

      According to some scholars the name ‘Allah’ is derivative of Al-Ilah (i.e. the God) and Allah (subhanahu wa ta’ala) is possessor of [ninety-nine] beautiful names and attributes. [5] Hence comprehensively Al-Ilah is inclusive of all ninety-nine names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) not just, Rabb and Khaliq. If the name ‘Allah’ is not derived from the word Al-Ilah as some scholars have stated even then the true Ilah must be associated with ninety-nine names and attributes. As Muslims we believe Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Creator (i.e. Al Khaliq), the Evolver (i.e. Al Bari), and the Provider (i.e. Ar-Razzaq), and the Life-Giver (i.e. Al Mu’hayi), and the One (i.e. Al Ahad) … all the ninety-nine attributes. Belief in names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) is essentially connected with believing in Him as an Ilah. We believe Allah (subhanahu wa ta’ala) to be our Ilah and we ascribe all beautiful names/attributes to Him. Therefore true Ilah is not just Mabud (i.e. one deserving of worship) but possessor of all attributes/names established for Allah (subhanahu wa ta’ala). Due to Allah (subhanahu wa ta’ala) having mentioned attributes/names we have accepted Allah (subhanahu wa ta’ala) is deserving of worship and believe it is proper to direct acts of worship to Allah (subhanahu wa ta’ala). Hence the linguistic meaning of Ilah is to be applied in the strict sense. But considering the fact; belief [n possesses x attributes is able to harm/benefit …] must exist before appointing of an Ilah therefore [such] beliefs are fundamental part of appointing an Ilah.[6] Would anyone take a potato to be their Ilah? Or take their fridge as their Ilah? Certainly not because a person understands they do not possess godly qualities and cannot benefit or harm. Alhasil, Ilah is taken when it is believed the one taken as Ilah has ability to hear/see, is able to harm/benefit and an intelligent being will not take a creation to be Ilah if one does not expect any harm/benefit. Hence naturally if one is worshipped then belief of Ilah must pre-exist in the heart of worshipper.[7]

      1.3 - Comprehensive Meaning Of Word Ilah:

      It is important to note; the word Ilah is encompassed by the attributes/actions and it on basis of these attributes/actions an Ilah is taken. Hence linguistic meaning is applicable on every usage but attributes/actions which force a believer to choose Allah (subhanahu wa ta’ala) as his Ilah are inclusive in the meaning of Ilah.[8] Therefore in Islam the Ilah cannot be separated from His attributes/actions. Allah (subhanahu wa ta’ala) is Ilah with all of His attributes and actions. Also the Ilah of polytheists are Ilah with the attributes and actions which polytheists attributed to them.

      2.0 – Thirteen Concepts Which Explain Attributes And Actions Of Allah (subhanahu wa ta’ala):

      Allah (subhanahu wa ta’ala) is Wajib Ul Wujud and the being of Allah (subhanahu wa ta’ala) and all attributes, actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are to be understood in meaning of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent). If any attribute or action of any creation is understood according to these then the creation is elevated to status of god and has been made partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) as a god.

      2.1 – Explaining Some Concepts From Thirteen To Facilitate Better Understanding:

      When the Qull (i.e. total) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) owner-ship then Allah (subhanahu wa ta’ala) is Malik (i.e. Owner) of all creation, in other words His Malikiyyah (i.e. owner-ship) of all creation. When it is applied to His hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) hears everything and when it is applied to His Seeing it means He See’s everything. When it is connected with His Rubbubiyyah (i.e. Sustainer-ship, Provider-Ship) it means He is sustainer and provider of all creation. When Zaati (i.e. personal) is applied to Allah’s (subhanahu wa ta’ala) ownership then Allah (subhanahu wa ta’ala) is believed to be Malik by His own-self.[9] When Zaati is applied to His Hearing it means ability of Allah (subhanahu wa ta’ala) hearing is His own and non-other has given Him the power to hear. When it is applied to His seeing it means He See’s by His own self and none has given Him the ability to see. When it applied to His Lordship/Sustainer-Ship then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) is Rabb by His self and His act of sustaining is His own. When Azli is applied to ownership of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He was/is Malik from eternity. When it applies to His Hearing it means Allah (subhanahu wa ta’ala) was Hearing from eternity and when it is applied to His Seeing then it means Allah (subhanahu wa ta’ala) seeing from eternity. When it is applied to Rubbubiyyah of Allah (subhanahu wa ta’ala) it means He had the ability to provide/sustain from eternity.

      3.0 - Fundamental Way A Creation Is Taken As An Ilah:

      (i) To believe a creation is an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) or the Ilah then the creation has been elevated to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation has the right to be worshipped is to elevate the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To worship a creation, with intention of worship, without believing one being worshipped is an Ilah, is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      3.1 – Deriving Ilah-Determining Principles From Thirteen Concepts:

      (i) To believe one is wajib ul wujood (i.e. existence is essential), or the being possesses certain actions/attributes or all attributes/actions according to understanding of zaati (i.e. personal), qulli (i.e. total), azli/abdi (i.e. eternal), haqiqi (i.e. real), bi-ghayr izni (i.e. without permission), ghayr muntahai (i.e. unlimited), ghayr makhlooq (i.e. uncreated), muhaal al fana (i.e. impossible to annihilate), bi-ghayr misl (i.e. without comparison), and khaliqi (i.e. creator’s), akmal (i.e. perfect), mustaqil (i.e. independent), is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe a creation can benefit/harm, or remove hardship, or has power to utilize means in creation, or grants and distributes sustenance, or grants male/female children, or manages affairs of creation, or gives life to the dead, or sends rain from clouds, or has power over ma teht al asbab[10] (i.e. according to natural means) / ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) as an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala) is taking the being to be an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions no longer requires permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) to utilize his attributes/actions, or to make use of what is provided in creation, and engages in ma teht al asbab and ma fawq al asbab without requiring permission from Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being an Ilah besides Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe a creation possessed all attributes/actions in according to understanding of; atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison) and makhlooqi (i.e. creations), but now  has become equal to Allah (subhanahu wa ta’ala) in his one or more or all attributes/actions, or has been elevated to status of an Ilah by Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) attributes/actions can provide ma teht al asbab and ma fawq al asbab type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe a creation  possessing atahi (i.e. bestowed), baaz (i.e. partial), waqti (i.e. transient), majazi (i.e. linguistical), bi izni (i.e. with permission), muntahai (i.e. limited), makhlooq (i.e. created), mumkin al fana (i.e. possible to annihilate), bi misli (i.e. with comparison), and makhlooqi (i.e. creations) qualities can provide ma fawq al asbab (i.e. according to supernatural means) type of harm/benefit without permission and granting of Allah (subhanahu wa ta’ala) is elevating the creation to status of being god partner to Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.0 – Guide To Interpreting The Six Principles:

      The following principle should be used to understand and expand six principles stated in 3.1. Thumb rule is, if one, or more, or all concepts, from the thirteen mentioned, are attributed to a creation’s Zaat (i.e. being), or Sift (i.e. attribute) or some/all Sifaat (i.e. attributes), or Fehl (i.e. action) or some/all Afaal (i.e. actions), then creation is made Ilah-partner of Allah (subhanahu wa ta’ala).

      4.1 – Explaining The Thumb Rule:

      Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear. Najd has attributed Zaati hearing to Zahid, therefore Najd has affirmed one concept from thirteen, for one attribute, and hence he elevated the Zahid to status of Ilah. Najd says: Zahid can hear by his own self (i.e. Zaati) and Allah (subhanahu wa ta’ala) did not give him the ability to hear and Zahid can hear absolutely everything (i.e. Qulli). This time Najd has affirmed Zaati and Qulli concepts for one attribute (i.e. hearing) of Zahid hence he has elevated Zahid to status of Ilah. Thumb rule is; if one or more concepts are attached to a attribute/action, or one concept but one or more attributes/actions are connected then creation is elevated to status of Ilah.

      4.2 – An Important Note For The Students Of Knowledge:

      Please note, mentioned six principles in 3.1 are just a guide to understanding the principles of Islam regarding Shirk. These principles do not cover every aspect of major Shirk therefore Muslims dedicated to learning should explore the thirteen concepts in light of section 4.0 and 4.1 in order to unlock more principles. In section 3.1 Zaat (i.e. being) aspect of Tawheed/Shirk is not brought into the principles.[11] If I had done so the principles would have become excessively complex and difficult for the readers to understand. Hence readers can expand on the Tawheed/Shirk of Zaat using section 4.0.

      5.0 - Interpreting 1st  Ilah-Determining Principle To Demonstrate Methodology Of Interpretation:

      (i) To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ii) To believe Zahid possesses Zaati attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iii) To believe Zahid possesses Qulli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (iv) To believe Zahid possesses Azli attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (v) To believe Zahid possesses Haqiqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vi) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Izni attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (vii) To believe Zahid possesses Ghayr Muntahai attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (viii) To believe Zahid possesses Ghayr Makhlooq attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (ix) To believe Zahid possesses Muhaal Al fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (x) To believe Zahid possesses bi-Ghayr Misl attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xi) To believe Zahid possesses Khaliqi attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xii) To believe Zahid possesses Akmal attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). (xiii) To believe Zahid possesses Mustaqil attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala).

      5.1 – Explaining Various Interpretations Of 1st Ilah-Determining Principle:

      Here some difficult to grasp aspects will be explained to clarify them and in order to demonstrate how they are to be understood. The first interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid is Wajib Ul Wujud is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). It is interpreted as: Zahid’s Zaat (i.e. being), Sifaat (i.e. attributes), Afaal (i.e. actions) are absolutely/fundamentally necessary, non-existence is impossible and to believe this is to elevate Zahid to status of Ilah because Allah (subhanahu wa ta’ala) is alone Wajib Ul Wujud and apart from his existence everything and their attributes and their action can/cannot exist. The ninth interpretation of first Ilah-Determining principle is: To believe Zahid possesses Muhaal Al Fana attributes/actions is elevating the creation to status of an Ilah-partner with Allah (subhanahu wa ta’ala). Firstly, one whose attributes/actions are Muhaal Al Fana then automatically his Zaat is also Muhaal Al Fana because the attributes/actions cannot exist without the Zaat. If Zaat can be annihilated/destroyed then attributes/actions will also be destroyed/annihilated hence Zaat of one possessing Muhaal Al Fana attributes/actions must be Muhaal Al Fana. Secondly, To believe Zahid’s abilities of hearing/seeing and his action of walking/talking cannot be annihilated/destroyed [to put is simply – to eliminate their existence from creation] is elevating Zahid to status of Ilah because only attributes/actions of Allah (subhanahu wa ta’ala) are impossible to annihilate/destroy along His Zaat everything else beside Him can be removed from state of existence into state of non-existence.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi.

      Footnote:

      - [1] “We took the Children of Israel (with safety) across the sea. They came upon a people devoted entirely to some idols they had. They said: "O Moses, design for us like unto the gods they have." He said: "Surely you’re a people without knowledge.” [Ref: 7:138]

      - [2] In the following verse words Ilah and Rabb have been used interchangeably: “Say, "I am only a man like you, to whom has been revealed that your Ilah is One Ilah. So whoever would hope for the meeting with his Rabb - let him do righteous work and not associate in the worship of his Rabb anyone.” [Ref: 18:110] Following verse uses the word Ilah in context of creating and harm/benefit: “Yet they have taken besides Him other gods (i.e. alihah) who created nothing but are themselves created, and possess neither harm nor benefit for themselves, and possess no power (of causing) death, nor (of giving) life, nor of raising the dead.” [Ref: 25:3]
       
      - [3] “Is not Allah enough for his Servant? But they try to frighten thee with other (gods) besides Him! for such as Allah leaves to stray, there can be no guide.” [Ref: 39:36] "We say nothing but that (perhaps) some of our gods may have seized thee with imbecility. “He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him." [Ref: 11:54] “And they have taken gods besides Allah that they might give them honor, power and glory.” [Ref: 19:81] "We only worship them so that they may bring us closer to Allah." [Ref: 39: 3]
      - [4] Alhasil, belief precedes the act of appointing Deity and engaging in worship.

      - [5] “And (all) the Most beautiful names belong to Allah , so call on Him by them, and leave the company of those who belie or deny (or utter impious speech against) His names. They will be requited for what they used to do.“ [Ref: 7:180]

      - [6] n possesses x, y, z attributes as well as ability to harm/benefit … hence Zahid decides n deserves worship therefore Zahid takes n as a Deity/Ilah in other words Mabud.

      - [7] Fiqhi verdict is stated in 3.0, principle 3, on the basis of Hadith; actions are determined according to intentions incase the belief of Ilah does not exist for what ever freak of nature reason but y has the intention of worshiping a creation.

      - [8] Quran is testimony to how Arabic words have evolved due to revelation of Quranic verses. Countless words in Arabic have evolved to mean something specific. In Arabic the word ‘Qibla’ means ‘direction’. The word ‘Qibla’ is used in context of facing Masjid Al Haram in prayer and as a result Muslims associate the word Qibla with direction which indicates Kabah. The word ‘Salah’ is used in meaning of ‘Dua’ (i.e. supplication) but now it has is associated with five daily prayers. Alhasil, linguistic meaning remain part of the Shar’ri meaning but depending on for whom the word is used and what context the word is used the meaning evolves. The implication here is; word Ilah linguistically means Mabud but its usage for Allah (subhanahu wa ta’ala) adds to its linguistic meaning. Therefore the names and attributes of Allah (subhanahu wa ta’ala) become part of Shar’ri meaning of Ilah.

      - [9] Creation of Allah (subhanahu wa ta’ala) is made Malik (i.e. owner) of various objects by Allah (subhanahu wa ta’ala) via means He has created. Allah (subhanahu wa ta’ala) is the Malik (i.e. Owner) by His own-self meaning none has made Him Malik over creation. He was the Creator and is the Owner of what He created.

      - [10] Ma teht al asbab  are – cure through use of medicine, strength through eating food, quenching of thirst with water, burning with fire, cutting with sharp instrument, light with bulb, walking with legs, lifting wit hands … in all these the; cure, strength, satisfying thirst, burning, cutting, light, walking, lifting is done with means available and not supernatural means. Ma fawq al asbab are actions - such as raising the dead, bringing rain from clouds, breathing life into clay bird figures, healing the blind instantly, splitting the moon, turning the staff into snake, bringing water out of fingers, growing trees from ash of seeds, rising the sun from the place of it’s setting.

      - [11] In section 5.1 Zaat aspect of Muhaal Al Fana has been discussed as a separate point even though it was not part of the first Ilah-Determining principle nor part of ninth interpretation. So you can certainly expand on this aspect to further your understanding of Tawheed with your private study.
    • By MuhammedAli
      Salam Alayqum

      In your following article; ‘Refuting Heretical Argument - Innovated Practices Are Innovations …’, under the heading following heading: ‘1.3 - Reprehensible Innovations Are Misguidance.’, you presented following Ahadith - every newly invented matter/affair is innovation and every innovation is misguidance: “And the most evil affairs are the innovations; and every innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] “Avoid novelties, every novelty is an innovation and every innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Anyone who reads these two Ahadith would note; the content of these to Ahadith belies your heading. Also the following Hadith records clearly states every innovation is misguidance even if people see good in it: “Abdullaah Ibn 'Umar (radiallah ta'ala anhu) said, "Every innovation is misguidance, even if the people see it as something good." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version] Clearly these Ahadith mean to say ‘every innovation is misguidance’ and not ‘every reprehensible innovation is misguidance’. There is no proof for your Takhsees and you should fear Allah (subhanahu wa ta’ala). You’re distorting the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) to misguide people.

      Saeed Imtiaz

      The Evidence For Takhsees and Explaining The Evidence Of Takhsees:

      First of all the evidence on which Takhsees was made based was quoted in following section: ‘1.2 - Prophetic Criterion Of Determining A [Reprehensible] Innovation.’ Unfortunately you did not contemplate on the previous section or at least not deep enough hence you did not realize the evidence. Assuming you did read the following Hadith but ignored it: “Whoever introduces an evil Sunnah that is followed after him, will bear the burden of sin for that and the equivalent of their burden of sin, without that detracting from their burden in the slightest.” [Ref: Ibn Majah, B1, H207] In the quoted Hadith word Sunnah has been used to mean innovation. Also the following Hadith was quoted: "And whoever introduces an erroneous Biddah with which Allah is not pleased nor His Messenger then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] This part of the Hadith: “…whoever introduces an erroneous Biddah …” is evidence for Takhsees of reprehensible innovation and the following part goes on to educate how to recognize a erroneous innovation: ”… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” In other words the Hadith of Tirmadhi and the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) establish; concept of reprehensible innovation is valid and it was due to it Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) pointed how reprehensible innovation is to be recognized – i.e. which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) are pleased with acts which involve, worship, charity, encouraging good and forbidding wrong, hence anything composed of these cannot be reprehensible innovation. Coming back to the subject, the words: “… with which Allah is not pleased nor His Messenger …” are extra addition and are not fundamental part of Hadith. At the fundamental level the Hadith is stating: "And whoever introduces an erroneous Biddah then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” This is in accordance with Hadith of Ibn Majah already quoted and in also with the following:  “And whoever introduces a bad Sunnah that is followed, he will receive its sin and a burden of sin equivalent to that of those who follow it, without that detracting from their burden in the slightest.'" [Ref: Ibn Majah, B1, H203] Hence it is correct to conclude; religiously the concept of reprehensible innovation is valid.

      ‘Every Innovation’ In Context Of ‘Whoever Introduces An Erroneous Innovation’:

      It is narrated that Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) said: "And whoever introduces an erroneous Biddah … then he shall receive sins similar to whoever acts upon it without that diminishing anything from the sins of the people.” [Ref: Tirmadhi, B29, H2677] According to this Hadith it is clearly established; according to Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) erroneous/reprehensible innovation is sinful and not just any/every innovation and reprehensible innovation is one which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam). Hence it is only correct to interpret the words of Prophet (sallallahu alayhi wa aalihi was’sallam) according to his own words and based on this correct understanding of Ahadith you quoted would be: “And the most evil affairs are the [erroneous] innovations; and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Muslim, B4, H1885] The Hadith of avoiding novelties is to be understood with similar insertion: “Avoid [erroneous] novelties, every [erroneous] novelty is an [erroneous] innovation and every [erroneous] innovation is misguidance." [Ref: Abu Dawood, B40, H4590] Coming to the Hadith of Abdullah Ibn Umar (radiallah ta’ala anhu) in which he is reported to have said, every innovation is misguidance even if the people see good in the innovation, this Hadith should be understood exactly the same way: “Abdullah Ibn Umar said, "Every [erroneous] innovation is misguidance, even if the people see it as something good ." [Ref: Darimi, B1, H96, Urdu Version]

      Conclusion:

      The Ahadith of every innovation are about reprehensible innovation and reprehensible innovation is innovation which does not please Allah (subhanahu wa ta’ala) and such innovation is misguidance and sinful and therefore it should be avoided and remains misguidance even if people see good in it. The position of Ahle Sunnat is established from Ahadith which has been explained in detail.

      Wama alayna ilal balaghul mubeen.
      Muhammed Ali Razavi