Sign in to follow this  
Followers 0
AqeelAhmedWaqas

فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول

1 post in this topic

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By Syed Kamran Qadri
      درودِ پاک کے فضائل و برکات
       






    • By Syed Kamran Qadri
      کیا امام کا اقامت کے وقت مصلے پر موجود ہونا ضروری ہے؟

    • By Syed Kamran Qadri
      مرد کا سرخ لباس پہننا کیسا ؟؟؟

    • By kashmeerkhan
      کسی آیت ، حدیث اثر یا اجماع و قیاس سے ایسی دلیل پیش کرو کہ جس سے ہمارا امام اعظم رضی اللہ عنہ کی تقلید کرنا فقہ میں ناجائز ٹھہرے اور اہلحدیث یعنی غیر مقلدین زمانہ کا محدثین (مثلا امام بخاری ، امام مسلم ، امام ترمذی، امام ابن ماجہ ، امام حاکم اور امام نسائی وغیرہ) کی تقلید کرنا تمام دین میں جائز ٹھہرے (تمام دین اس لیے کہا کہ اگر یہ قرآن پر عمل کا دعوی کریں تو تشریح و توضیح کیلئے تو احادیث کے محتاج ہوں گے۔ جب احادیث کے محتاج ٹھہرے تو احادیث کے متن، احادیث کی اسناد کی صحت و غیر صحت کے ڈھیروں کیا سینکڑوں مسائل در پیش آئیں گے۔ اب ایک راوی کو امام بخاری نے منکر الحدیث مان لیا تو یہ اندھی تقلید کرتے ہوئے پیچھے بھاگ پڑے اسی بات کے ۔۔۔ اگر اسی راوی کو کسی دوسرے محدث نے ثقہ مان لیا تو اب غیر مقلدین کے پاس کونسی وجہ ترجیح ہے کہ خود ہی مختلف اقوال کی کانٹ چھانٹ اور صواب و خطا کو پرکھ لیتے ہیں؟؟ کسی محدث نے ایک ہی حدیث کو ایک باب میں درج کردیا اورا اسکی مناسبت سے باب کا نام تک تجویز کردیا جبکہ دوسرا محدث وہی کی وہی حدیث بالکل مختلف باب میں لے کر آ جاتا ہے اور اس سے کوئی اور مطلب اخذ کر کے باب کا نام رکھ دیتا ہے ،، اب غیر مقلدین کے پاس کونسی دلیل شرعی ہے جس سے اسکا اصل محمل بھی پہچان لیتے ہیں اور ترجیح بھی دے ڈالتے ہیں اپنے زعم میں؟؟ محدثین کسی راوی پر جرح فرما دیں تو فورا بغیر مطالبہ شرعی دلیل اسکا قول سر آنکھوں پر رکھ لیتے ہیں؟؟ وغیرہ)۔

      إإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإإ

      غیر مقلدین سے انہی کے ایک فورم پر تقلید کے سلسلے میں میری بحث ہوئی تو مجھ پر انہوں نے یہ قید لگائی کہ تقلید کی تعریف صرف اسی ہستی سے ثابت کرو جسکی تقلید تم نے منوانی ہے۔۔ میں نے ان سے پوچھا کہ  امام  بخاری و امام مسلم کو تم لوگ محدث مانتے ہو؟ فورا بولے جی بالکل۔۔۔ میں نے کہا کہ پہلے ان دونوں اماموں سے علم اصول حدیث کی تعریف ثابت کردو ، میں بھی امام اعظم علیہ رحمہ سے تعریف تقلید پیش کر دوں گا۔۔۔ ایک نجدی بھڑک اٹھا اور بولا کہ تم نے کبھی مقدمہ مسلم بھی پڑھا ہے ، اسی میں تعریف لکھی ہے ، میں نے کہا جی ہاں کئی بار پڑھا ہے مگر میرے پاس جو مقدمہ ہے ، اسمیں مذکورہ تعریف شاید پرنٹنگ ایریر کی وجہ سے نہیں ہے تو مہربانی کر کے سکین یا کوئی فوٹو اسی پیج کا لگا دیں مگر آج تک انہوں نے اسکا جواب نہیں دیا اور قیامت تک نہیں دے سکیں گے۔۔۔

    • By AqeelAhmedWaqas

       
         
       
      فورم پر یا کہیں بھی کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جائے تو صرف اسی صورت میں جواب دیں کہ آپ علمائے کرام علیھم الرحمہ سے سن چکے ہوں یا مستند کتابوں میں ٹھیک اور واضح طور پر پڑھ چکے ہوں یا کسی اور طریقے سے مسئلے کا صحیح جواب کامل طور پر جانتے ہوں۔
      ۔۔۔۔۔    بغیر علم کے ہرگز ہرگز جواب مت دیں ، اس سے ایک تو پوچھنے والا صحیح راہنمائی نہیں پا سکے گا اور ساتھ جواب دینے والے کی بھی گرفت ہوگی۔
      ۔۔۔۔۔     آسان ترین حل یہی ہے کہ جب کوئی مسئلہ آتا ہے تو جس جائز ذریعے سے علمائے کرام سے اس کا جواب پوچھ سکتے ہیں ، پوچھ لیں۔ مثلا دارُالافتاء اَہلسنت سے رابطہ کر لیں یا اگر کوئی مستند دینی فقہی کتب موجود ہیں اور آپ میں اتنی لیاقت ہے کہ خود مسئلہ سمجھ لیں گے تو پہلے وہاں سے مسئلہ اچھی طرح دیکھ لیں اور پھر (کسی بھی شک و شبہ کی صورت میں) لازمََا علمائے کرام سے پوچھ لیں کہ واقعی یہی جواب صحیح ہے اور مُفتیٰ بِہٖ ہے یا نہیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو اور پوچھنے والے کو بھی غلط فہمی میں مبتلا نہ کریں۔
      ۔۔۔۔۔      نیچے اس حوالے سے چند اہم باتیں دی جا رہی ہیں ، آپ انہیں بغور پڑھیں اور یہ دیکھیں کہ جب مفتیانِ کرام علیھم الرحمہ کیلئے یہ ہدایات لازم ہیں تو عام بندے کو کس قدر احتیاط کرنا لازم ہوگی!۔