Sign in to follow this  
Followers 0
kashmeerkhan

کسی امر کے داعیہ کی موجودگی میں اس کام کو نہ کرنا بدعت؟

3 posts in this topic

مجھے اس بارے میں معلومات چاہییں۔


۔’’کسی کام یا چیز کا داعیہ یا اقتضاء موجود تھا نبی پاک ﷺ کے مبارک دور میں مگر باوجود اس داعیہ کے وہ کام یا چیز میرے رسول اللہ ﷺ نے سر انجام نہیں دی یا اسکے کرنے کا حکم نہیں دیا تو اب وہ کام یا چیز شرعا بدعت ہوگی‘‘؟


 


اسی حوالے سے میں نے سیدی علامہ سعیدی صاحب کا کوئی مضمون دیکھا تھا یہیں فورم پر، مگر اب وہ مل نہیں رہا۔۔۔ کوئی بھائی یا اسکا لنک بتا دے یا وہیں سے متعلقہ بحث ادھر پیسٹ فرما دیں یا خود اس بارے میں راہنمائی کردیں۔


اس حوالے سے میری سید علامہ سعیدی صاحب نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے مبارک فعل کا حوالہ بھی دیا تھا کہ انہوں نے تلبیہ کے الفاظ میں از خود اضافہ کیا تھا ، اسکا حوالہ بھی پوسٹ کر دیں۔۔


 


مثالوں سے سمجھا دیں تو بہت خوب اور ساتھ علمی تحقیقی انداز میں دلائل مہیا فرما دیں کہ ایسا کام (جو میں نے اوپر پوچھا ہے) شرعی بدعت ہوگا یا نہیں؟؟


Edited by kashmeerkhan

Share this post


Link to post
Share on other sites

buht zyada shokriya janab...

ma yihi topic dhoond raha tha, ab ap ke rahnumaei say ye mil gya.

جزاک اللہ خیرا

کوئی بھائی اس حوالے سے مزید دلائل فراہم کر دیں تو سونے پر سہاگہ۔۔۔کیونکہ میرے سید علامہ سعیدی صاحب نے میری پوچھی گئی بات پر ضمنا بقدر ضرورت کلام فرمایا ہے،،،، مجھے تفصیل چاہیے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Similar Content

    • By kashmeerkhan
      plz mairay sayyid allama saeedi sahb es ka zbrdast answer dain jab time milay... plz بدنی عبادات میں بدعت غیر سیئہ کا وجود نہیں‬
      اٹھارویں مجلس بدعتوں کی اقسام اور انکے احکام میں: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بعد حمد کی تحقیق تمام باتوں میں اچھی کتاب اللہ کی ہے اور اچھی ہدایت، ہدایت محمد کی اور کاموں میں بدتر نوپیدا نئی نکالی ہوئی یعنی بدعتیں، اور ہر محدّث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ یہ حدیث مصابیح کی حدیثوں میں ہے۔ جابر کی روایت سے اور ایک اور حدیث میں عرباض بن ساریہ کی روایت سے ہے کہ فرمایا پیغمبر صلی اللہ علیہ نے جو شخص جیتا رہا میرے بعد سو قریب ہے کہ دیکھے گا بہت اختلاف سو لازم پکڑو اپنے اوپر میری سنت اور سنت خلفاء راشدین مہدیین کی بعد اسکے اسکی سند کرو اور دانتوں سے مظبوط پکڑو اور بچاؤ اپنے تئیں نئی باتوں سے کیونکہ ہر محدّث بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ اور مراد بدعت سے جو ان دونوں حدیثوں میں مذکور ہے بدعت سیئہ ہے جسکی اصل اور سند کتاب اور سنت سے نہیں نکلتی نہ ظاہر نہ خفی نہ لفظوں سے یا مضمون سے سمجھی جائے، بدعت حسنہ مراد نہیں ہے جسکی اصل اور سند ظاہر یا خفی نکلتی ہو کیونکہ ایسی بدعت گمراہی نہیں ہوتی بلکہ ایسی بدعت کبھی مباح ہوتی ہے جیسے استعمال چھنّی آٹے کا اور پیٹ بھر کر روٹی گیہوں کی ہمیشہ کھانی اور کبھی مستحب ہوتی ہے جیسی منارہ کا تعمیر کرنا اور کتابیں تصنیف کرنی اور کبھی واجب ہوتی ہے جیسی آراستہ کرنا دلائل کا واسطے دفع کرنا شبہات ملحدوں اور گمراہ فرقوں کے، اسلئے کہ بدعت کے دو معنی ہیں ایک تو معنی لغوی عام ہیں یعنی محدث مطلق برابر ہے کہ عادات میں ہو یا عبادات میں ہو اور دوسرے معنی شرعی خاص ہیں، یعنی دین میں کچھ بڑھانا یا دین میں سے کچھ گھٹانا بعد عہد صحابہ کے، بدون اجازت شرعی کے ، کہ نہ تو قولی ہو اور نہ فعلی اور نہ صریح اور نہ اشارہ پس بدعت دونوں حدیثوں میں اگر چہ عام ہے اور شامل تمام محدثات کو ۔ پر عموم اور شمول باعتبار لغوی معنوں کے مقصود نہیں ہے بلکہ عموم باذتبار شرعی خاص کی مراد ہے۔ بھر یہ عادات کو بالکل شامل نہیں بلکہ اسمیں بعضے اعتقادات اور بعضے صورتیں عبادات کی داخل ہیں، کیونکہ نبی علیہ السلام واسطے تعلیم امر دنیا کے نہیں آئے۔ وہ صرف واسطے تعلیم امر دین کے آئے ہیں۔ اس حدیث سے سمجھا جاتا ہے کہ تم خود جانتے ہو اپنی دنیا کا کاروبار، جب میں تم کو دین کی بات بتایا کروں تو لے لیا کرو ۔ یہ بدعتیں اعتقاد کی کفر ہیں اور بعض کفر نیں ہیں مگر تمام کبائر سے سخت تر ہیں، یہاں تک کہ قتل اور زنا سے بھی اور اس سے زیادہ درجہ کفر ہی کا ہے اور بدعت عبادت میں اگر چہ اس سے کمتر ہے پر اس کا عمل کرنا نافرماتی اور گمراہی ہے خاص کر جب کہ سنت موکدہ کی مقابل ہو اور بدعت عادات کی اسکے کرنے میں کچھ نافرمانی اور گمراہی نہیں بلکہ ترک اولی ہے، سو اس کا ترک اولی ہے جب یہ ٹھہر چکا تو منارہ سے مدد ہونی ہے واسطے خزینے وقت نماز کی اور کتابوں کا تصنیف کرنا مددگار ہے واسطے تعلیم اور تبلیغ امر معروف کے اور آراستہ کرنا دلائل کا واسطے دفع شبہات ملحدوں اور گمراہ فرقوں کے، باز رکھنا ہے منکر سے اور دفع کرنا ہے شبہات کا دین سے، سو ہر ایک ان میں سے رخصت ہے بلکہ تعمیل کا حکم ہے اسلئے کہ بدعت حسنہ وہ ہے کہ متقدمین کو اسکی حاجت نہ ہوئی، پھر متاخرین کو اس کی حاجت ہوئی اور سب کو خلاف ونزاع پسند آئی اور بعد تلاش کے بدعت حسنہ عبادات خالص بدنیہ میں نہیں پائی جاتے، جیسے روزہ اور نماز اور تلاوت قرآن اور وظیفے کہ تمام عبادتوں سے ہوں بلکہ ان میں بدعت سیئہ ہی ہوتی ہے اسلئے کہ نہ ہونا کسی کار کا قرن اوّل میں یا تو بسبب نہ ہونی ھاجت کے یا بسبب موجود ہونے مانع کے یا بسبب بے خبری کے یا مارے کاہلی کے یا بسبب مکروہ اور ناجائز ہونے کے ہے۔ دونوں پہلے سبب تو عبادات خالص بدنیہ میں نہیں ہو سکتے اسلئے کہ حاجت قربت الہٰی کی عبادت سے منقطع نہیں ہوتی اور بعد ظاہر ہونے اسلام اور غلبہ اسلام کی اس سے کوئی مانع نہیں تھا اور ایسی ہی بے خبری اور کاہلی نہیں ہو سکتی اس واسطے کہ کہاں جائز ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اور انکے تمام اصحاب پر ایسا خیال کیا جائے۔ پھر سواء بدعت مکروہ اور ناجائز ہونے کے کوئی سبب ۔ اور یہی ہے غرض عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی جب ان کو خبر ہوئی ایک جماعت کی جو بعد مغرب کے بیٹھا کرتی تھی ، اور ان میں ایک شخص کہتا جاتا اللہ اکبر کہو اتنی بار اور سبحان اللہ کہو اتنی بار اور الحمد للہ کہو اتنی بار۔ پس وہ لوگ کہتے جاتے ، سو عبد اللہ بن مسعود ان کے پاس آئے، وہ سن کر جو کہتے تھے کھڑے ہو کر کہا: میں عبد اللہ بن مسعود ہوں ، پس قسم اللہ کی جو نہیں معبود سواء اس کے، بیشک تم بدعت کرتے ہو ، نہایت سیاہ یا تم فائق ہو گئے ہو محمد علیہ السلام کے اصحاب پر علم میں ، مراد ان کی یہ ہے کہ تم جو کرتے ہو، یا تو یہ بدعت تاریک ہے یا تم نے ایسی بات پیدا کی ہے جو صحابی کے ہاتھ نہ آئی ان کی بے خبری سے یا سستی سے طریق عبادت کے علم میں تم ان سے گالب ہو نکلے ۔ اور دوسری بات نہیں ہو سکتی تو پہلی ہی بات یعنی بدعت سیاہ ہی مقرر رہی یہ ہی جاری ہو سکتی ہے ہر ایک کے حق میں در باب عبادت خالص بدنیہ کی ایسے طور پر جو صحابہ کے وقت میں نہیں تھا۔ اس واسطے کہ اگر عبادات کا وصف افعال محدث کو بدعت حسنہ بتا دیا کرے، تو عبادات میں بدعت مکروہہ کہیں نہ ہوا کرتے ، اور حال یہ ہے کہ عبادات میں بدعت مکروہہ ہوتے ہے۔
      ملاحظہ فرمائیں: صفحہ131 - 133 خزينۃ الاسرار ترجمہ اردو مع مجالس الابرار و مسالك الاخيار و محائق البدع و مقامع الاشرار ۔ أحمد بن عبدالقادر الرومي الحنفي ۔مترجم سبحان بخش ۔ مطبع مصطفائی 1283 ھ
       
    • By SunniDefender

       

      ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے (ابو داؤد) اور بدعت ہر وہ کام ہے جو ہمارے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہوا اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا “کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑ لو (ترمذی۔ ابو داؤد) ان دونوں احادیث کی روشنی میں یوم صدیق اکبر منانا، گمراہی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی معلوم ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ تو سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی اور نہ ہی صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہے ؟
       
      ہے کوئی دیوبندی وھابی (نجدی) تبلیغی جماعت والا جو اپنے اس عمل کو قرآن و حدیث سے ثابت کر سکے؟
      صرف اس سوال کا جواب دیں سوال پر سوال نہ کریں.