Sign in to follow this  
Followers 0
Syed Kamran Qadri

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی قبر سے تبرک حاصل کرنا

18 posts in this topic

On 11/20/2015 at 9:25 AM, Usman.Hussaini said:
On 11/19/2015 at 11:57 AM, Syed Kamran Qadri said:

post-16668-0-03072500-1447914392_thumb.jpg

post-16668-0-14973000-1447914395_thumb.jpg

post-16668-0-19530000-1447914412_thumb.jpg

post-16668-0-37179600-1447914404_thumb.jpg

 

Bhai bahut hi badhiya post kiya apne....

Allah apko jaja e  khair ata farmaye....

Hai iske sath hi hind o pak k mustanad tarjuma  mil jata to hmlogo ko samjhne m aur v asani hoti.....

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/20/2015 at 8:55 AM, Usman.Hussaini said:

Bhai ...agar tarjuma ya mafhoom bhe link dain tu sab ko asani ho jai ge.

 

Jazak ALLAH

 

6 hours ago, Gulam e raza said:

Hai iske sath hi hind o pak k mustanad tarjuma  mil jata to hmlogo ko samjhne m aur v asani hoti.....

خطیب بغدادی اور بہت سے ائمہ کی تحقیق کے مطابق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جب بغداد میں ہوتے تو حصولِ برکت کی غرض سے امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی زیارت کرتے۔ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ امام شافعی، امام ابو حنیفہ کے مزار کی برکات کے بارے میں خود اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
إنّي لأتبرّک بأبي حنيفة، وأجيء إلي قبره في کلّ يوم. يعني زائرًا. فإذا عُرضت لي حاجة صلّيت رکعتين، وجئتُ إلي قبره، و سألت اﷲ تعالي الحاجة عنده، فما تبعد عنّي حتي تقضي.
’’میں امام ابو حنیفہ کی ذات سے برکت حاصل کرتا ہوں اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لیے آتا ہوں۔ جب مجھے کوئی ضرورت اور مشکل پیش آتی ہے تو دو رکعت نماز پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں اور اس کے پاس (کھڑے ہوکر) حاجت برآری کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں۔ پس میں وہاں سے نہیں ہٹتا یہاں تک کہ میری حاجت پوری ہوچکی ہوتی ہے۔‘‘

2 people like this

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 11/19/2015 at 11:27 AM, Syed Kamran Qadri said:

post-16668-0-03072500-1447914392_thumb.jpg

post-16668-0-14973000-1447914395_thumb.jpg

post-16668-0-19530000-1447914412_thumb.jpg

post-16668-0-37179600-1447914404_thumb.jpg

 

    اسکی سند میں ایک  راوی عمر بن اسحاق بن ابراھیم ہے جو کہ مجہول ہے۔۔۔ جسی وجہ سے اس پر وہابیہ اعتراض کرتے ہیں ۔۔ اسکی توثیق درکار ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

السلام علیکم
کیا امام ابو حنیفہ کا اپنا نظریہ فوت شدگان سے توسل کے بارے میں پتہ چل سکتا ہے؟

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

Share this post


Link to post
Share on other sites

جی آپ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا قصیدہ دیکھ لیں اس میں انکا عقیدہ آپ کو پتا چل جاۓ گا

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
جی آپ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا قصیدہ دیکھ لیں اس میں انکا عقیدہ آپ کو پتا چل جاۓ گا

کیا آپ اس قصیدہ کو یہاں پیش کرسکتے ہیں؟

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

Share this post


Link to post
Share on other sites

ویسے حیرت ہوتی ہے کہ قبر سے تبرک اتنا مشہور و معروف مسئلہ ہے کہ اس سے انکار کرنے والے کو اہلسنت سے خارج تک قرار دے دیا جاتا ہے ۔ لیکن جب اس کے دلائل دیکھے جاتے ہیں تو ایک دلیل بھی سند سے ثابت نہیں ہوپاتی۔ اگر سند سے ثابت ہے تو وہ قبر سے تبرک یا قبر سے وسیلہ پردلیل بنتی نہیں۔ اسلاف کے زمانے میں یہ اتنا غیراہم مسئلہ تھا کہ کوئی صحیح سند تک نہیں ملتی اس میں۔

 

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

 

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

دلائل بھی موجود ہیں لیکن ٹاپک سے ریلیٹڈ ٹاپک میں جو بات ہے وہی کرو۔ادھر کی ادھر نہ ہانکو

Share this post


Link to post
Share on other sites
دلائل بھی موجود ہیں لیکن ٹاپک سے ریلیٹڈ ٹاپک میں جو بات ہے وہی کرو۔ادھر کی ادھر نہ ہانکو

ہانکنا؟ یہ تمیز ہے آپ لوگوں کو بات کرنے کی۔ آپ کا بندہ سند تو ثابت نا کرسکا۔ موضوع سند ثابت کرنا ہے اس واقعہ کی وہ موضوع سے غیر وابستہ پوسٹ نواب صاحب کی لگاتا ہے وہ آپ سے ڈیلیٹ کیوں نہیں ہوتی۔ قیامت دور نہیں۔ کچھ شرم کریں۔مسلک پرستی کی بجائے حق پرستی کریں۔

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں تو یہ سوچ کرآیا تھا کہ آپ لوگوں کے دلائل دیکھو۔ اور مکالمہ ہوتھوڑا سمجھ آئے۔یہاں ہانکنا اندھے ہو یہ ہے وہ ہے سے بات کی جاتی ہے۔ تمیز سیکھیں پہلے بنیاد ہے دین کی پھر توسل نور اور غیب پر بھی بات کریں۔ ان عقائد کو ظنی عقائد کہتے ہو۔ لیکن تمیز تو بنیاد ہے۔ والسلام۔ آپ سے بات نہیں ہوسکتی دیکھ لیا

Sent from my SM-G925F using Tapatalk

Share this post


Link to post
Share on other sites

جناب سلفی صاحب تلملانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس ٹاپک میں سیدنا امام شافعی علیہ الرحمت کا سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ سے مدد مانگنا،انکے وسیلے سے مدد مانگنا سند کے ساتھ ثابت ہے،لیکن جناب کی سمجھ میں کچھ نہ آۓ تو اس میں ہمارا کیا قصور؟؟

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Posted (edited) · Report post

أخبرنا القاضي أبو عبد الله الحسين بن علي بن محمد الصيمري، قال: أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ، قال: حدثنا مكرم بن أحمد، قال: حدثنا عمر بن إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا علي بن ميمون، قال: سمعت الشافعي، يقول: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره في كل يوم، يعني زائرا، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين، وجئت إلى قبره وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى.
[تاريخ بغداد : ج1 ص335]-

ترجمعہ : أبو عبد الله الصیمری نے کہا مجھ سے بیان کیا عمر بن إبراھیم نے، کہا مجھ سے بیان مکرم بن احمد نے، کہا مجھ سے بیان عمر بن إسحاق بن إبراھیم (مجھول) نے، کہا مجھے سے بیان کیا علی بن میمون نے ، کہا ، میں نے امام شافعی سے سنا ،
انہوں نے کہا : میں ابوحنیفہ کے ساتھ برکت حاصل کرتا اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لئے آتا ۔ جب مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتا اور ان کی قبر پر جاتا اور وہاں اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا تو جلد ہی میری ضرورت پوری ہوجاتی".

الجواب : 
یہ قصہ تین وجوہات کی بناء پر باطل ھے۔

1- مکرم بن احمد 
اس کی سند میں مکرم بن احمد [ثقة صدوق] ھیں. لیکن اِن کے بارے امام دار القطنی کہتے ھیں۔

حدثني أبو القاسم الأزهري، قال: سئل أبو الحسن علي بن عمر الدارقطني، وأنا أسمع عن جمع مكرم بن أحمد فضائل أبي حنيفة،
فقال: موضوع كله كذب، وضعه أحمد بن المغلس الحماني، قرابة جبارة، وكان في الشرقية".
[تاريخ بغداد ،ج5، ص338، وانظر ترجمة : أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحماني في " لسان الميزان " 1/269 ، وينظر أيضا : تعليق العلامة المعلمي على كلام الدارقطني في: " التنكيل " 1/59]

مکرم بن احمد سے روایت کرنے والے
2- عمر بن إسحاق بن إبراهيم، یہ راوی مجهول ھے۔

3- علي ابن ميمون الرقي العطار

٤٨٠٥- علي ابن ميمون الرقي العطار ثقة من العاشرة مات سنة ست وأربعين س ق
[تقريب التهذيب : ص405]

ان کے اور امام شافعی کے درمیان سماع پر کوئی دلیل نہیں۔ والله اعلم

Edited by بنت عبد السمیع

Share this post


Link to post
Share on other sites

بنت عبد السمیع اتنی لمبی پوسٹ تحریر کر کے کوئ کمال نہیں کیا ہے اس کا جواب پہلے ہی اوپر لگا دیا گیا ہے۔۔

بجائے کوپی پیسٹ کرنے کے پہلے اوپر دیکھ تو لیا کرے۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 2/10/2018 at 6:14 AM, بنت عبد السمیع said:

أخبرنا القاضي أبو عبد الله الحسين بن علي بن محمد الصيمري، قال: أخبرنا عمر بن إبراهيم المقرئ، قال: حدثنا مكرم بن أحمد، قال: حدثنا عمر بن إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا علي بن ميمون، قال: سمعت الشافعي، يقول: إني لأتبرك بأبي حنيفة وأجيء إلى قبره في كل يوم، يعني زائرا، فإذا عرضت لي حاجة صليت ركعتين، وجئت إلى قبره وسألت الله تعالى الحاجة عنده، فما تبعد عني حتى تقضى.
[تاريخ بغداد : ج1 ص335]-

ترجمعہ : أبو عبد الله الصیمری نے کہا مجھ سے بیان کیا عمر بن إبراھیم نے، کہا مجھ سے بیان مکرم بن احمد نے، کہا مجھ سے بیان عمر بن إسحاق بن إبراھیم (مجھول) نے، کہا مجھے سے بیان کیا علی بن میمون نے ، کہا ، میں نے امام شافعی سے سنا ،
انہوں نے کہا : میں ابوحنیفہ کے ساتھ برکت حاصل کرتا اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لئے آتا ۔ جب مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتا اور ان کی قبر پر جاتا اور وہاں اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا تو جلد ہی میری ضرورت پوری ہوجاتی".

الجواب : 
یہ قصہ تین وجوہات کی بناء پر باطل ھے۔

1- مکرم بن احمد 
اس کی سند میں مکرم بن احمد [ثقة صدوق] ھیں. لیکن اِن کے بارے امام دار القطنی کہتے ھیں۔

حدثني أبو القاسم الأزهري، قال: سئل أبو الحسن علي بن عمر الدارقطني، وأنا أسمع عن جمع مكرم بن أحمد فضائل أبي حنيفة،
فقال: موضوع كله كذب، وضعه أحمد بن المغلس الحماني، قرابة جبارة، وكان في الشرقية".
[تاريخ بغداد ،ج5، ص338، وانظر ترجمة : أحمد بن محمد بن الصلت بن المغلس الحماني في " لسان الميزان " 1/269 ، وينظر أيضا : تعليق العلامة المعلمي على كلام الدارقطني في: " التنكيل " 1/59]

مکرم بن احمد سے روایت کرنے والے
2- عمر بن إسحاق بن إبراهيم، یہ راوی مجهول ھے۔

3- علي ابن ميمون الرقي العطار

٤٨٠٥- علي ابن ميمون الرقي العطار ثقة من العاشرة مات سنة ست وأربعين س ق
[تقريب التهذيب : ص405]

ان کے اور امام شافعی کے درمیان سماع پر کوئی دلیل نہیں۔ والله اعلم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ 

محترمہ جب وہ خود کہے رہے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے سنا تو اور کیا دلیل چاہیے ان کے سماع پر اور پہر وہ خود ثقہ ہے ـ

کیا ثقہ راوی جھوٹ بول سکتا ہے کہ میں نے فلاں سے سنا!!! 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.