Sign in to follow this  
Followers 0
Syed Kamran Qadri

امام ذهبی کے نزدیک اللہ کے نبی علیہ السلام کی قبرِمبارک کو ہاتھ لگانا اور چھونا برکت کیلئے جائز ہے لگاٶ نجديو امام ذهبي پہ فتویٰ

3 posts in this topic

post-16668-0-39354400-1452061173_thumb.jpg

post-16668-0-76977200-1452061221_thumb.jpg

post-16668-0-43781700-1452061225_thumb.jpg

post-16668-0-14911900-1452061275_thumb.jpg



 
امام ذہبی اپنی کتاب ’’معجم شیوخ ذہبی ‘‘ کے صفحہ 55 پرارشاد فرماتے ہیں کہ کسی نے کہا کہ قبر نبوی کو ہاتھ لگانا بے ادبی ہے ۔تو کہنے لگے قَدْ سُءِلَ اَحْمَدُ اْبنُ حَنْبَلٍ عَنْ مَسِّ قَبْرِ النَّبَوِیِّ وَ تَقْبِیْلِہٖ فَلَمْ یَرَ بِذَالِکَ بَأسًا۔۔۔حضرت امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کی قبر مبارک کو ہاتھ لگا نا اور چھونا برکت کیلئے کیسا ہے ؟ تو امام احمد بن حنبل نے کہا کہ اس میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔
یہ ان سے ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے ۔آج کے دور میں ایک روزانہ کیا جانے والا سوال امام ذہبی نے کر دیا اور پھر اس کا جواب بھی دیا ۔ فاِنْ قِیْلَ ہَلْ فَعَلَ ذَالِکَ صَحَابَۃُ 
اگر کوئی یہ سوال کرے کیا یہ کام (مثلاًمنبر کو چومنا ، منبر کو ہاتھ لگانا ،سرکارﷺکی قبر کو چومنا سرکار ﷺکی قبر مبارک کو ہاتھ لگا نا )صحابہ کرام نے بھی کیاتھا۔ لوگ کہتے ہیں تم میلاد مناتے ہو کیا صحابہ کرام نے بھی منایا تھا ہم یہ دلیل دیتے ہیں کہ صحابہ کرام نے منایا تھا ۔ہم نے ابھی ثابت کیا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنا چہرہ رسول اکرم ﷺ کی قبر انور پہ رکھا تھا ۔امام ذہبی (جن کا یوم وصال 748 ھ ہے )کی دلیل بھی سنو ! قِیْلَ۔۔۔ اس بندے کو کہا جائے گا ۔اپنی حیثیت بھی دیکھ اور صحابی کا مقام بھی دیکھ ،ہر لحاظ سے اپنے آپ کو ان کے برابر تول رہا ہے ۔
لانَّہُمْ عَایَنُوْہ‘ حَیًّا وَتَمَلُّوْابِہٖ وَ قَبَّلُوْا یَدَہ‘ وَکَادُوْایَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وَضُوْءِہ وَاقْتَسَمُوْا شَعْرَہ‘ الْمُطَہَّرَیَوْمَ الْحَجِّ الْاَکْبَروَکَانَ اِذَا تَنَخَّمَ لَا تَکَادُ نُخَامَتُہ‘ تَقَعُ اِلَّا فِیْ یَدِ رَجُلٍ وَ یَدْلُکُ بِھَاوَجْھَہ‘ 
کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے رسول اکرم ﷺ کو ظاہری حیات میں آمنے سامنے دیکھا تھا اور خوب سیر ہو کے دیکھا ،انہوں نے سرکار ﷺکا ہاتھ چوما تھا ،قریب تھا کہ وہ رسول اللہﷺ کے وضو کے مستعمل پانی پہ جھگڑ پڑتے ،انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پررسول اللہ ﷺکے موئے مبارک تقسیم کئے تھے اوروہ ایسے خوش نصیب تھے کہ رسول اللہﷺ کے مقدس ہونٹوں سے جب لعاب دھن جدا ہو تا تو ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ کواس لعاب دہن کو حاصل کرنے کاشرف ملتاتو وہ صحابی اس لعاب دہن کو اپنے چہرے پہ مل لیتے ۔
وَنَحْنُ فَلَمَّا لَمْ یَصِحْ لَنَا مِثْلُ ھَذَالنَّصِیْبِ الْاَوْفَرُ
جب ہمیں یہ کامل سعادتیں میسر نہیں ہیں۔
یعنی نہ تو ہمیں رسول اکرم ﷺ کا لعاب دھن ملے ،نہ رسول اکرم ﷺ کا مستعمل پانی ملے ،نہ چہرے کا دیدار ملے ،نہ سرکار ﷺکی زلف ملے کیونکہ ہم بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔امام ذہبی فرماتے ہیں کہ 
تَرَامَیْنَا عَلَی قْبْرِہٖ بِالْاِلْتِزَامِ وَالتَّبْجِیْلِ وَالْاِسْتِلاَمِ وَالتَّقْبِیْلِ
تو ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کی قبر شریف پر گرا لیا تاکہ ہم اس سے معانقہ کرلیں ،ہم اس کا ادب کریں ،ہم اس کو چھو لیں اور ہم اس کو چومیں ۔رسول اکرم ﷺ کی قبر سے پیار و محبت و عشق سے چمٹ جائیں گے ۔جنہوں نے ہاتھ چومے ہوں ان کے عشق کے پیاس بجھی ہوئی ہے ،ہمیں نہ لعاب دھن ملے ، نہ چومنے کو ہاتھ ملے ،نہ چہرے کا دیدار ملے ۔امام ذہبی فرماتے ہیں ہمارے عشق پر اعتراض نہ کرو۔ہم رسول اللہ ﷺ کی قبر کو چومیں گے ، اسے معانقہ بھی کریں گے ،ہم قبر پر نور کے ساتھ چمٹیں گے ،ہم سب کچھ ادب و احترام کے ساتھ کرتے رہیں گے ۔
اَلَا تَرَی کَیْفَ فَعَلَ ثَابِتُ الْبَنَانِیْ کَانَ یُقَبِّلُ یَدَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ وَ یَضَعُھَا عَلٰی وَجْھِہٖ ۔۔۔کیا تم دیکھتے نہیں حضرت ثابت البنانی کا عشق کیسا تھا وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کا ہاتھ چومتے تھے اور چہرے پہ لگاتے تھے۔وَ یَقُوْلُ ۔۔۔ وہ کہتے تھے ۔یَدٌ مَسَّتْ یَدَ رَسُوْلِ اللّٰہِﷺ ۔۔۔یہ وہ ہاتھ ہے جو کبھی سرکار ﷺکے ہاتھ سے لگا تھا ۔ثابت البنانی اس کو چومتے بھی تھے اور چہرے سے بھی لگاتے تھے ۔امام ذہبی فرماتے ہیں ۔
اِذْ ہُوَ مَأْمُوْرٌ بِاَنْ یُّحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ‘ اَشَدُّ مِنْ حُبِّہٖ لِنَفْسِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ وَ مِنْ اَمْوَالِہٖ وَمِنَ الْجَنَّۃِ وَ حُوْرِھَا بَلْ خَلْقٌ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَبَا بَکْرٍ وَّ عُمَرَ اَکْثَرَ مِنْ حُبِّ اَنْفُسِہِمْ
کیونکہ ایک مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالی اور رسول اللہﷺ سے اپنی جان ،اولاد بلکہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اور اپنے مالوں کے مقابلے ،جنت اور اس کی حوروں کے مقابلے میں زیادہ پیار کرے بلکہ مسلمانوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی اپنی جانوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں ۔
حَکٰی لَنَا جُنْدَارٌ اَنَّہ‘ کَانَ بِجَبْلِ الْبُقَاعِ فَسَمِعَ رَجُلًا سَبَّ اَبَا بَکْرٍ فَسَلَّ سَیْفَہ‘ وَ ضَرَبَ عُنُقَہ‘ وَلَوْ کَانَ سَمْعُہ‘ یَسُبُّہ‘ اَوْ یَسُبُّ اَبَاہ‘ لَمَا اسْتَبَاحَ دَمَہ‘ ۔۔۔حضرت جندار نے حکایت کیا کہ وہ جبل بقاع پر تھے کہ تو انہوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو گالی دی تو انہوں نے نیام سے تلوار کھینچی اور اس شخص کا سر تن سے جدا کر دیا اگر وہ اس شخص کو سنتے کہ وہ حضرت جندار کو یا ان کے باپ کو گالی دیتا ہے تو آپ اس کا قتل جائز نہ سمجھتے ۔
1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites
وَقَدْ سُئِلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنْ مَسِّ الْقَبْرِ النَّبَوِيِّ وَتَقْبِيلِهِ، فَلَمْ يَرَ بِذَلِكَ بَأْسًا، رَوَاهُ عَنْهُ وَلَدُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ.
فَإِنْ قِيلِ: فَهَلا فَعَلَ ذَلِكَ الصَّحَابَةُ؟ قِيلَ: لأَنَّهُمْ عَايَنُوهُ حَيًّا وَتَمَلَّوْا بِهِ وَقَبَّلُوا يَدَهُ وَكَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وُضُوئِهِ وَاقْتَسَمُوا شَعْرَهُ الْمُطَهَّرَ يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ، وَكَانَ إِذَا تَنَخَّمَ لا تَكَادُ نُخَامَتُهُ تَقَعُ إِلا فِي يَدِ رَجُلٍ فَيُدَلِّكُ بِهَا وَجْهَهُ، وَنَحْنُ فَلَمَّا لَمْ يَصِحْ لَنَا مِثْلُ هَذَا النَّصِيبِ الأَوْفَرِ تَرَامَيْنَا عَلَى قَبْرِهِ بِالالْتِزَامِ وَالتَّبْجِيلِ وَالاسْتِلامِ وَالتَّقْبِيلِ، أَلا تَرَى كَيْفَ فَعَلَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ؟ كَانَ يُقَبِّلُ يَدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَيَضَعُهَا عَلَى وَجْهِهِ وَيَقُولُ: يَدٌ مَسَّتْ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وَهَذِهِ الأُمُورُ لا يُحَرِّكُهَا مِنَ الْمُسْلِمِ إِلا فَرْطُ حُبِّهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ هُوَ مَأْمُورٌ بِأَنْ يُحِبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَشَدَّ مِنْ حُبِّهِ لِنَفْسِهِ، وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَمِنْ أَمْوَالِهِ، وَمِنَ الْجَنَّةِ وَحُورِهَا، بَلْ خَلْقٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يُحِبُّونَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ أَكْثَرَ مِنْ حُبِّ أَنْفُسِهِمْ.
حَكَى لَنَا جُنْدَارُ، أَنَّهُ كَانَ بِجَبَلِ الْبِقَاعِ فَسَمِعَ رَجُلا سَبَّ أَبَا بَكْرٍ فَسَلَّ سَيْفَهُ، وَضَرَبَ عُنُقَهُ، وَلَوْ كَانَ سَمِعَهُ يَسُبُّهُ، أَوْ يَسُبُّ أَبَاهُ لَمَا اسْتَبَاحَ دَمَهُ الكتاب: معجم الشيوخ الكبير للذهبي
المؤلف: شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى: 748هـ)

 

1 person likes this

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.