Jump to content
اسلامی محفل
Sign in to follow this  
yousaf

فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث کے چھ نمبر

Recommended Posts

  اسلام علیکم

  (مجھے یہ تحریر  انٹرنیٹ پر ملی  جو  ایک دیو بندی  کی لکھی  ہوئی لگتی  ہے  ( فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث  کے چھ نمبر

 

پوچھنا یہ ہے کہ اس میں کتنی صداقت ہے کیا واقعہ ہی غیر مقلدین اپنے طلبا کو ایسی تربیت دیتے ہیں ؟  اور اگر یہ صیح ہے تو اس کا  سکین مل سکتا ہے؟ 

 

فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث کے چھ نمبر

حضرت علامۃ فہامۃ محقق المدقق فقیہ المحدث النظار شيخ الشیوخ وعمدة اهل التحقيق والرسوخ صاحب التصانيف الكثیرة المفیدة القیمۃ الشیخ محمد امین صفدر الاوكاڑوی رحمہ الله رحمۃ واسعۃ  کی پوری زندگی دین اسلام اورمذہب احناف اورمسلک حق مسلک علماء دیوبند کی نصرت وحمایت ونشرواشاعت سے عبارت ہے ، اور رد فرق باطلہ وضالہ ومُبتدعہ میں آپ کی خدمات جلیلہ ایک روشن باب ہے ، اور بالخصوص فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث کے وساوس واکاذیب وافترآت کی تردید میں آپ کی تالیفات وتصانیف ایک نسخہ کیمیا  ہیں ،حضرت کے افادات میں کئی مرتبہ فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث کے چھ نمبر میں نے پڑھے ، جو بعینہ اس فرقہ نومولود کی حقیقی مشن کی سچی تصویر ہے ۔ لہذا بغرض فائده وعبرت اس کا تذکره کرتا ہوں ، اور یہ بھی یاد رہے حضرت اوکاڑوی رحمہ الله ایک عرصہ تک عملی طور پر فرقہ جديد نام نہاد اہل حدیث میں ره چکے ہیں اوران کے تمام وساوس واکاذیب وافترآت کوخوب جانتے تھے ، اور عربى کے مشہور مقولہ (صَاحبُ البيتِ أدرى بمَا فِيه ) کے مصداق تھے ۔ اس سلسلے میں حضرت فرماتے تھے  کہ ہمارے استاذ جی ( غیرمُقلد ) فرماتے تھے کہ حنفیوں کو زچ کرنے کے لئے قرآن ، حدیث ، فقہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ، ہران پڑھ ان کو تنگ کرکے سو ( 100 ) شہید کا ثواب لے سکتا ہے ۔


چھ نمبر یا چھ وساوس

 

  1. 1.  جب کسی حنفی سے ملوتو پہلے ہی اس پرسوال کردو کہ آپ نے جو گھڑی باندهی ہے ، اس کا ثبوت کس حدیث میں ہے ؟؟  اس قسم کے سوال کے لئے کسی علم کی ضرورت نہیں ، آپ ایک چھ سالہ بچے کومیڈیکل سٹورمیں بھیج دیں وه ہر دوائی پرہاتھ رکھ کریہ سوال کرسکتا ہے کہ اس دوا کا نام کس حدیث میں ہے ؟؟ اس سوال کے بعد آکرمسجد میں بتانا ہے کہ میں نے فلاں حنفی مولوی صاحب سے حدیث پوچھی وه نہیں بتا سکے ، پھر ہرغیرمقلد بچے اوربوڑھے ( اورجوان ) کا فرض ہوتا ہے کہ وه ہرہرگلی (ہروقت ہرجگہ ) میں پروپیگنڈه کرے کہ فلاں حنفی مولوی صاحب کو ایک حدیث بھی نہیں آئی۔
  2. 2.  دوسرا نمبر یہ ہے کہ خدانخواستہ اگرتم کہیں پھنس جاؤ   اور تمہیں (جوابا)کوئی کہے کہ تم نے جو جیب میں پین ( قلم ) لگا رکھا ہے ،  اس کا نام حدیث میں دکھاو تو گھبرانا نہیں ” فورا ” ان سے پوچھو کہ کس حدیث میں یہ منع ہے ؟؟اور شورمچادو کہ منع کی حدیث نہیں دکھا سکے ، اب سب ( نام نہاد ) غیرمقلد یہ پروپیگنڈه کریں گے جی کہاں سے ( حنفی ) بے چارے حدیث لائیں ، فقہ ہی تو ساری عمر پڑھتے پڑھاتے ہیں ۔
  3. 3.  اگر کسی جگہ پھنس جاو کہ ( مثلا ) کوئی صاحب کوئی حدیث کی کتاب لے کرآئیں کہ تم اہل حدیث ہو دیکھو کتنی احادیث ہیں جن پرتمہارا عمل نہیں ؟؟توگھبرانے کی ضرورت نہیں ” فورا ” ایک قہقہ لگا کر کہا کرو لو جی یہ حدیث کی پتہ نہیں کون سی کتاب لے آئے ، ہم تو صرف بخاری مسلم اور زیاده مجبوری ہوتو صحاح ستہ کومانتے  ہیں ، باقی حدیث کی سب کتابوں کا پوری ڈھٹائی سے نہ صرف انکارکرو  بلکہ استہزاء بھی کرو  اور اتنا  مذاق اڑاو کہ پیش کرنے والا ہی بے چاره شرمنده  ہوکر حدیث کی کتاب چھپالے اورآپ کی جان چھوٹ جائے۔
  4. 4.  اگربالفرض کوئی ( حنفی ) ان چھ کتابوں ( بخاری ، مسلم ، ابوداو ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، ) میں سے کوئی حدیث دکھا دے جوتمہارے خلاف ہو تو ” فورا ” کوئی شرط اپنی طرف سے لگا دو کہ فلاں لفظ دکھاو توایک لاکھ روپیہ انعام ، جیسے مرزائی کہتے  ہیں کہ ان الفاظ میں حدیث دکھاو کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام  اسی جسد عنصری ( اصلی ) کے ساتھ زنده آسمان پراٹھائے گئے اور حدیث صحیح صریح مرفوع غیرمرجوح  ہو ، یا ( نام نہاد ) غیرمقلد کہتے  ہیں کہ رفع یدین کے ساتھ منسوخ کا  لفظ ( حدیث ) میں دکھاؤ   اور اس اپنے لفظ پراتنا شور مچاؤ   کہ وه خود ہی خاموش ہوکر ره جائے ۔
  5. 5.  اگربالفرض وه لفظ ہی مل جائے اور مخالف ( حنفی ) دکھا دے کہ دیکھو جس لفظ کا تم نے مطالبہ کیا تھا ، توپورے زور سے تین مرتبہ اعلان کردو 
    ضعيف ہے ضعيف ہے ضعيف ہے 
    اب حدیث بھی نہ ماننی پڑے اور رعب بھی قائم ہوگیا کہ دیکھو ( حنفی ) مولوی صاحبان کو تحقیق ہی نہیں تھی ، اس ان پڑھ ( نام نہاد ) غیرمقلد کو پتہ چل گیا کہ حدیث ضعيف ہے ۔
  6. 6.  چھٹا اور آخری نمبر استاذجی تاکید فرماتے تھے کہ جو نماز نہیں پڑھتا اس کو نہیں کہنا کہ نماز پڑھو ، ہاں جو نماز پڑھ رہا ہو اس کو ضرور کہنا کہ تیری نماز نہیں ہوئی۔


بس یہ چھ نمبر ہمارے علم کلام کا محور ( دارو ومدار ) تھے ، والد صاحب رحمہ الله پابند صوم وصلوة تہجد گزار اور عابد زاہد آدمی تھے ،روز  ان سے جھگڑا  ہوتا کہ نہ تمہاری نماز ہے  نہ تمہارا دین ہے  نہ تمہاری تہجد مقبول ہے  نہ کوئی اور عبادت ، والد صاحب رحمہ الله فرماتے لڑا نہیں کرتے تیری نماز بھی ہوجاتی ہے اور ہماری بھی ، میں کہتا  کتنا  بڑا دھوکہ ہے کیا خدا نے دو نمازیں اتاری ہیں ، ایک مدینہ میں ، ایک کُوفہ میں ، ہماری نماز نبی ﷺ  والی ہے جو ہمیں جنت لے کرجائے گی ، تمہاری نماز کوفہ والی نمازہے یہ تمہیں سیدھا جہنم لے جائے گی ( والعياذ بالله ) الخ۔[نقلامن افادات الشيخ الأوكاروي المسماة   بـــمجموعه رسائل ، والعبارات بين القوسين من صنيع الراقم ]
یقینا حضرت کے بیان کرده ان چھ نمبروں میں اس فرقہ جدید نام نہاد اہل حدیث کی سچی تصویر نمایاں ہے ، اور وه لوگ جو ان کے وساوس میں مبتلا ہیں ان کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے ، اور یہ بھی یاد رہے کہ الحمد لله ہمارا اور ہمارے اکابر  ومشائخ  کا  اس فرقہ جدید یا دیگر فرق باطلہ کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا وتعصب نہیں ہے ، بلکہ ہمارا مقصد وحید تو یہ ہے کہ از  اول تا آخر فرقہ ناجیہ اہل سنت والجماعت کے ساتھ تمام اصول وفروع میں سختی کے ساتھ پابند وقائم رہنا ہے ، اورجوشخص یا جماعت اہل سنت والجماعت سے کسی بھی اعتبارسےانحراف کرے یا عوام کو مختلف وساوس اور حیلوں بہانوں سے گمراه کرے اور ائمہ اسلام سے متنفر کرے تو دلیل وبرهان کےساتھ اس کا رد وتعاقب کرنا  ہمارا اور جمیع اہل سنت اور بالخصوص علماء حق علماء دیوبند کا شیوه ہے ، باقی حق بات قبول کروانا  اور منوانا  توہم اس کے مکلف نہیں ہیں ۔
إن أريدُ إلا الإصْــلاحَ مـَا استطعتُ وَمَاتوفـِيـقـي إلابالله ۰

 

Edited by yousaf
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

دیوبندیوں کا امین صفدر اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کر رہا ہے۔ حوالہ وغیرہ نہیں دے رہا۔ اس لئے کچھ کہا نہیں جا سکتا البتہ  چھ نمبرز وغیرہ کے بغیر، یہی کام دونوں وہابی ٹولے غیرمقلد اور دیوبندی کرتے ہیں۔ ہم سے جو ہربات پر دیوبندی حدیث کا مطالبہ کرتے ہیں اور پھرضعیف ضعیف اور بدعت بدعت کی رٹ لگاتے ہیں۔ مثلاً مولود، گیارہویں، تیجہ، چالیسواں وغیرہ جیسے مسائل پر۔ اور پھر حوالہ دیکھ کر بھی مکر جاتے ہیں اور ڈھیٹائی سے کام لیتے ہیں،تو یہی کام تو غیر مقلد کرتے ہیں، جس کا ذکر کیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ غیر مقلد امام کعبہ کا دیوبندیوں نے بڑی دھوم دھام سے استقبال کیا اور اس نے غیر مقلدین کے مدرسے میں جا کر غیرمقلد اہلحدیث کو حق اور باقیوں کو باطل  کہہ دیا۔ تو یہاں دیوبندیوں کو فرقہ جدیدیہ، باطلہ، ضالہ یاد نہ رہا۔بلکہ آج تک ہم پر اعتراض کرتے ہیں امام کعبہ کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا۔دیوبندی پہلے اپنا قبلہ تو درست کریں ۔


  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

Loading...
Sign in to follow this  

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

×
×
  • Create New...