Sign in to follow this  
Followers 0
Mujtaba

امام احمد رضا کے القاب و آداب

12 posts in this topic

امام احمد رضا کے القاب و آداب

از: ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی بریلی شریف

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

 

بعض دانشور اور اہل علم حکومت کی خوشنودی حاصل کرکے لقب و خطاب حاصل کرتے ہیں اور بعض حکومتی علمی، ادبی، اور سماجی ادارے ان کے کارناموں کی وجہ سے لقب وخطاب عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی طرح لقب و خطاب یا نام و نمود کی پرواہ نہیں کرتے ، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بے نام و نشان سمجھتےہیں، انہیں مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اور جن کے عشق میں یہ بے نام و نشان لوگ مٹ جاتے ہیں وہ انہیں ایسا چمکاتے ہیں اور ایسا نام و نشان عطا کرتے ہیں کہ انکی چمک اور ان سے ضیاء حاصل کرنے والے ذرے بھی آفتاب و ماہتاب بن جاتے ہیں اور ان کے نام لیوا شہرت و ناموری کے بام رفعت پر کمندیں ڈالتے ہیں اور آسمان شہرت پر اپنی عظمت کا پھریرہ لہراتے ہیں ۔

 

ایسی ہی شخصیتوں میں ایک شخصیت اسلامی چودھویں صدی کے عظیم مجدد، بریلی کے فاضل امام احمد رضا نور اللہ مرقدہ کی بھی ہے ان کی حیات ظاہری میں عجم ہی نہیں بلکہ عرب کے مشاہیر نے ایک سے بڑھکر ایک باوقار، پاکیزہ اور حسن القاب وآداب سے یاد کیا اور آج بھی ناموران زمانہ انہیں گراں قدر مطہر اور منور القاب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے خود کو سدا بے نام و نشان ہی سمجھا۔ لیکن یہ بھی یقین تھا کہ

 

بے نشانوں کا نشان مٹتا نہیں

 

مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

 

یہ تو امام احمد رضا کا انکسار تھا ورنہ امام کا نام تو حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا کرنے والی کسوٹی ہے، اگر امام احمد رضا کا نام سن کر چہرے پر خوشی طاری ہو جائے تو سمجھ لیجئے غلام مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور اگر پیشانی پر کوئی شکن آ جائے تو جان جائیے کہ بد مذہب اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور وہ امام ہیں ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

حاصل کلام

 

 

عرب عجم کے علماء، قلم کاروں اور دانشوروں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے فضائل و مناقب ایک سے بڑھ کر ایک حسین انداز میں بیان کئے ہیں اور بڑے ہی باوقار اور خوبصورت القاب وآداب سے یاد کیا ہے ۔ سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے ۔ امام کے ماننے چاہنے والے انہیں برابر بہتر سے بہتر القاب وآداب سے یاد کرتے چلے جا رہے ہیں۔ شعراء ان کے اوصاف کے بلیغ اظہار میں تراکیب سازی بھی کر رہے ہیں ۔ لیکن اب تک امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو جن القاب وآداب سے یاد کیا گیا ہے اور جو زیادہ مقبول ہیں ان کا ایک اجمال پیش کیا گیا ہے ۔ ذیل میں ہم حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز کے مختلف القاب کو مجموعی طور پر پیش کرتے ہیں !!!!!!!!!!!!!

 

اعلٰی حضرت ،

 

حجۃ اللہ فی الارض ،

 

علم و فضل کے دائرہ کا مرکز ،

 

صاحب تحقیق و تدقیق و تنقیح ،

 

فخر السلف ، بقیۃ الخلف،

 

اکابر اور عمائد علماء کی آنکھوں کی ٹھنڈک ،

 

زمانے کی برکت،

 

آفتاب معرفت محمود سیرت،

 

اسلام کی سعادت، دریائے بلند ہمت ،

 

اپنے زمانے اور اگلے وقتوں کا زر ،

 

نور کے اونچے ستون والا،

 

صاف ستھرا نہایت کرم والا ،

 

اللہ کی عطا کردہ اور سیراب ذہن والا ،

 

بلند معنوں باریک فہموں والا ،

 

فخروں اور منقبتوں والا ،

 

مشکلات علم کا کشادہ کرنے والا ،

 

علموں کی مشکلات ظاہر و باطن کو کھولنے والا،

 

طاقتور قلم اور زبان والا،

 

دین کا نشان و ستون ،

 

جامع علوم و فنون ،

 

عالم جمیل و جلیل ،

 

فاضل نبیل ،

 

عالم باعمل ،

 

صاحب عدل ،

 

مینار فضل ،

 

علامہ فاضل و کامل ،

 

پر ہیز گار فاضل ،

 

محیط کامل، امام کامل،

 

ولی کامل، قبلہ اہل دل قطب ارشاد،

 

فاضلوں کا مایہ افتخار ،

 

علمائے مشاہیر کا سردار ،

 

ذہین اور دانشمند عالم یگانہ استاذ ماہر ،

 

فخر اکابر ، شیوہ بیان شاعر،

 

یکتائے روزگارنادر روزگار ،

 

خلاصہ لیل و نہار،

 

دریائے ذخار،

 

چراغ خاندان برکاتیہ ،

 

امام الائمہ،

 

نور یقین،

 

شیخ الاسلام والمسلمین ،

 

استاذ معظم ،

 

مجدد اعظم ،

 

شاہ ملک سخن ،

 

امام اہلسنت، عظیم العلم ،

 

موئید ملت طاہرہ، مجدد ملت ،

 

حاضرہ ( ماضیہ) محدث بریلوی ،

 

امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ

 

Source:Monthly Jehan e Raza

 

Vol#2 Rajab & Shaban 1418 Hijri / November & December 1997

 

http://www.nooremadinah.net/Urdu/Documents...qaabWoAdaab.asp

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہر حال اگر امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو اعلٰی حضرت کہا گیا تو 1388ھ کے بعد ہی کہا گیا ۔ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے لئے اعلٰی حضرت کہے جانےپر حاسدین و اعدائے دین کو سخت اعتراض ہے ۔ حالانکہ ظالمان زمانہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو اعلٰی حضرت کہا اور لکھا ہے۔ اور عاشق الہٰی میرٹھی نے اپنی تالیف تذکرۃ الخلیل میں مولوی خلیل احمد انبیٹھوی کو اعلٰی حضرت لکھا ہے۔ یہی دنیا ساز دین کے دشمن رام پور اور حیدر آباد کے نوابین کو تو بڑے فخر سے اعلٰی حضرت کہا کرتے تھے۔ لیکن جب ایک غیرت مند عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ایک غلام مصطفٰٰی، عبد المصطفٰی امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کو

Share this post


Link to post
Share on other sites

Great Source Mujtaba...!

bohot Aalaa... Keep on..

__________________________

 

and Humaira..!

cool to know your sprit about Syedi Aalahazrat...

Maa Shaa Allaah..

(saw) ڈال دی قلب میں عظمت مصطفٰی

سیدی اعلٰیحضرت (ra) پہ لاکھوں سلام

Edited by Qaseem

Share this post


Link to post
Share on other sites

Humaira...

it is recommended to read rapidly...

that please keep the size of unicode text over 2, and 4 is best...

and dont forget to give it any dark color...

 

thanks..

Edited by Qaseem

Share this post


Link to post
Share on other sites

(salam)

 

Humaira sister aap iss book ko parh lain aur agar ho sakay tau apnay deobundi mamoon ko iss ka print day dain ya unn ko parhwa dain.

 

Insha ALLAH (azw) unn ka yeh aiteraz door ho jaye ga aur woh apnay dhair saaray Aa'lahazrats daikh lain

 

http://www.alahazratnetwork.org/modules/sm....php?itemid=375

 

u can download it here

 

http://www.alahazratnetwork.org/dlibrary/o...hazrat_Kaun.chm

 

http://www.alahazratnetwork.org/pdf/otherb...hazrat_Kaun.pdf

Share this post


Link to post
Share on other sites

Jazak Allah azawajal ---------- Nice sharing..

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!


Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.


Sign In Now
Sign in to follow this  
Followers 0

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.